رسول اللہ ﷺ کی نظافت پسندی
از پروفیسر محمد ارشد حسان ، میانوالی
رسالت مآب ﷺ انتہائی نظیف و مطہر طبیعت کے مالک تھے۔ آپؐ نے جہاں اپنی تعلیمات سے لوگوں کو شرک ،بے یقینی،تعصب اور تکبر جیسی باطنی بیماریوں سے نجات بخشی وہیں آپؐ نے انہیں جسمانی کدروتوں سے مصفا کرنے کی بھی راہ دکھائی۔ آپؐ نے جسم ،گھر ،ماحول حتیٰ کے اپنی سواری کو بھی چمکا کر رکھنے کی تعلیم دی ۔آپؐ نے امت پہ واضح کیا کہ دین اسلام کی بنیاد نظافت پر رکھی گئی ہے لہذا جو کوئی باطنی پاکیزگی کا خواہاں ہے اسے ظاہری طہارت کا بھی بھر پورا خیال رکھنا چاہیے ۔
آپؐ کا معمول تھا کہ آپؐ کھانے سے قبل اور کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ہاتھ دھوتے۔آپؐ کھانا تین انگلیوں سے کھاتے ،اپنی طرف سے کھاتے اور انگلیوں کو چاٹ لیتے ۔ آپؐ اصحاب کو فرماتے کہ سو کر اٹھنے کے بعد کسی برتن میں دھوئے بغیر ہاتھ نہ ڈالیں ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ رات بھر تمھارا ہاتھ کہاں کہاں مس ہوا ہو۔ آپؐ سونے سے قبل بھی وضو کرتے تھے۔آپؐ احرام باندھنے سے قبل بھی غسل فرماتے۔
جو شخص ایمان قبول کرتا آپؐ اسے غسل اور اچھے لباس کی ترغیب دیتے گویا آپؐ انہیں قبول اسلام کے ساتھ ہی نفاست پسندی اور طہارت شعاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تربیت فرماتے تھے۔آپؐ نے انصار کی تعریف فرمائی جو رفع حاجت کے بعد آب دست لیتے تھے۔آپؐ اصحاب کو جنابت کے غسل میں خوب مبالغہ کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔
آپؐ ہمیشہ ایسا لباس زیب تن فرماتے جو دیکھنے میں خوبصورت لگے مگر اس میں اسراف اور کبر نہ ہو ۔ آپؐ لباس میں جمال و جلال ، میانہ روی و اعتدال اور کامل و کمال غرض ہر پہلو اپنے لباس میں ملحوظ رکھتے ۔ ہجرت مدینہ کے سفر میں جب کئی دن کی مسافت کے بعد آپؐ مدینہ داخل ہونے لگے تو اپنے لیے اور جناب صدیقؓ کے لیے دو جوڑے منگوائے اور انہیں زیب تن فرمانے کے بعد مدینہ شریف داخل ہوئے۔آپؐ کا ارشاد ہے
” اپنے ملبوسات اور سواریوں کو صاف رکھو تمہارا حلیہ اور ظاہری شکل ایسی ہونے چاہیے کہ جب تم دوسروں سے ملو تو وہ تمھاری عزت کریں ۔” ( جامع الصغیر)
آپؐ سر پر درمیانے سائز کا سفید عمامہ باندھتے ۔ عمامہ عربوں کا تاج شمار ہوتا۔آپؐ سفید رنگ کو زیادہ پسند فرماتے تھے مگر دیگر رنگوں کے کپڑے بھی پہنتے تھے۔آپؐ کا لباس ہمیشہ اجلا اور صاف ستھرا ہوتا۔
حکماء کے نزدیک صاف لباس صفائے نفس کی علامت ہے اور بعضوں نے تو یہ لطیف نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ جس کا کپڑا میلا ہوگا اس کا نفس بھی مکدر ہوگا ۔ ایسے مکدر مزاج لوگوں کا گھر ،بیٹھک ،لائبریری الغرض پوری زندگی بے ترتیب و منتشر ہوتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس نظیف لوگوں کے مشاغل اور اوقات کار منظم ہوتے ہیں۔ صحیح مسلم میں تو آپؐ کاارشاد یہ ملتا ہے کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے جب کہ ترمذی کے الفاظ یوں ہیں:
ان اللہ نظیف یحب النظافہ یعنی اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے
ظاہر ہے جمال کہتے ہی اسے ہیں جس میں نظافت کمال درجے کی ہو۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ خوب صورتی اختیار کرو تاکہ لوگوں میں ممتاز نظر آؤ ۔ جمال اختیار کرنے کا پہلا مرحلہ جسم کو پاک صاف رکھنا ہے اور جس کے لیے غسل لازم ٹھہرایا گیا ہے ۔آپؐ پانی کی شدید کمی کے باوجود اکثر غسل فرماتے تھے اور اصحاب کو تلقین کرتے تھے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ غسل مومن کے لیے ضروری ہے۔( بخاری)۔ اور یہ کم از کم مقدار ہے ورنہ ہمارے اصحاب پانی کی شدید قلت کے باوجود روزانہ غسل فرماتے تھے ۔ جناب عثمانؓ بن عفان کے بارے میں عائض القرنی نے لکھا ہے کہ آپؐ روزانہ نہاتے تھے۔( لا تحزن)
ایک صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے پسند ہے کہ میرا لباس اجلا ہو ،میرے سر پر تیل لگا ہو، میرے جوتے کے تسمے بھی نئے ہوں حتیٰ کہ میری سواری کا کوڑا بھی عمدہ ہو تو کیا یہ تکبر تو نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا ،
لا ذاک الجمال – نہیں یہ تو جمال و زینت ہے۔( مسند احمد)
آپؐ نے اپنے ایک صحابی کو مال دار ہونے کے باوجود بھی صاف کپڑوں میں ملبوس نہ دیکھ کر فرمایا کہ تمھاری مالی حالت کیسی ہے تو انہوں نے اپنی خوش حالی کا ذکر کیا۔ جس پر آپؐ نے فرمایا ، اللہ کے انعام و احسان کا اثر تمھارے اوپر بھی نظر آنا چاہئے ۔( شامی)
آپؐ سر کے بالوں میں تیل لگاتے اور ٹوپی کا استعمال کرتے تاکہ تیل عمامہ شریف پر ظاہر نہ ہو۔ آپؐ بالوں کو کنگھی کرتے، انہیں سنوارتے اور مانگ میں خوشبو لگاتے ۔ ریش مبارک کو طول و عرض سے درست فرماتے اس کی تراش خراش کا خیال رکھتے اور کوئی ایک بال مبارک بھی اوپر نیچے زائد نہ ہوتا۔ آپؐ نے پانچ چیزوں کو انسان کی فطرت قرار دیا اور ان میں سے ہر چیز کا تعلق صفائی سے ہے ۔ ناخن کاٹنا ، مونچھیں کاٹنا ، زیر ناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا اور بغلوں کے بال صاف کرنا۔( صحیح ابن حبان)
امام غزالیؒ نے کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ سفر ہو یا حضر کنگھی کبھی آپؐ سے جدا نہ ہوئی۔پراگندہ۔بال اور پراگندہ جسم والے کو آپؐ نے ناپسند فرمایا ۔آپؐ نے فرمایا جس نے بال رکھے وہ ان کی تکریم کرے انہیں دھوئے ، کنگھی کرے اور خوش نما بنائے ۔جناب انس کے بیان کے مطابق آپؐ نے سفر و حضر میں درج ذیل چیزوں کو کبھی نہ چھوڑا ۔ آئینہ، سرمہ دانی،کنگھا ،مسواک ، کھجانے کی لکڑی جب کہ اماں عائشہ ؓ کی روایت میں درج ذیل چیزوں کا ذکر ملتا ہے۔ آئینہ ، سرمہ دانی ، کنگھی ، مسواک اور تیل ۔اماں عائشہؓ تو یہاں تک فرماتی ہیں کہ آپؐ سونے سے قبل بھی بال سنوارتے تاکہ سونے کی حالت بھی اچھی لگے ۔آپؐ اپنے بالوں کو گرد سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض اوقات بالوں کو چپکا دیتے تھے۔
آپؐ آئینہ میں خود کو دیکھتے اور دعا فرماتے کہ الٰہی تونے مجھے خوب صورت بنایا ہے میرے اخلاق کو سنوار دے۔ آپؐ نے شیطان کی طرح بکھرے ہوئے بالوں اور الجھی ہوئی داڑھی کے ساتھ عوامی مقامات پر داخل ہونے سے منع فرمایا ۔( ترمذی)
آج کی جدید میڈیکل سائنس دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتی ہے ۔ صبح و شام دو وقت دانتوں کی صفائی کو از حد ضروری قرار دیتی ہے۔لیکن آج سے پندرہ سو سال قبل آقا کریم ﷺ پانچوں نمازوں کے ساتھ دانت صاف کرنے کی تلقین کرتے تھے۔آپؐ مسواک کو منہ کی پاکیزگی اور الللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بتاتے تھے ۔آپؐ کا ارشاد ہے کہ اگر امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے مسواک کو واجب کر دیتا ۔( بخاری)
دانتوں کی صفائی کا آپؐ اس قدر اہتمام فرماتے کہ صحابہؓ اور امہات المومنینؓ کو حیرت ہوتی ۔ اماں عائشہؓ نے نے ایک بار پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ جبریل ؑنے مجھے مسواک کے بارے میں اتنی تاکید کی ہے کہ میں سمجھا کہ مسوڑھوں کا ہی خاتمہ نہ ہو جائے ۔ آپؐ کا دہن مبارک نہایت صاف ستھرا اور خوشبودار تھا ۔ آپؐ کے دانتوں کی سفیدی کو برف سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپؐ اس کی صفائی کے لیے مسواک اور کلی کا اہتمام فرماتے تھے ۔ آپؐ ناک مبارک کو بھی اچھی طرح جھاڑتے تھے ۔
اماں عائشہؓ کے بقول دانتوں کی صفائی کا یہ عالم تھا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کے ساتھ ساتھ جب کسی غزوہ پر جاتے تو مسواک کر کے جاتے ،جب گھر پلٹتے تو مسواک کرتے ، اصحاب کی محفل میں جانے لگتے تو مسواک کرتے ۔ایک بار اس قدر اہتمام کا پوچھا گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا میں چاہتا ہوں اتنے دانت صاف کروں کہ مسوڑھوں سے خون آنے لگے اور سیرت حلبیہ میں آیا ہے کہ بعض اوقات آپؐ کے مسوڑھے اس قدر صاف کرنے سے چھیل جاتے تھے ۔
آپؐ نے مسواک رکھنے کے لیے ایک تھیلا رکھا ہوا تھا تاکہ وہ صاف و محفوظ رہے ۔( دین فطرت از عرفان الحق)۔آپؐ کھانا کھانے کے بعد خلال کرنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔( سنن الدارمی)
آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتے ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جو ناخن تراشنے ،مونچھیں کٹوانے اور میل اتارنے اور مسواک کرنے میں سستی کرتے ہیں۔( تنبیہ الغافلین)
آپؐ نے لہسن پیاز وغیرہ کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے کہ ان کی بدبو سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ آپؐ نے ان چیزوں کے تناول نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے صحابی کو فرمایا
” الی انا جی من لا تناجی ” – یعنی بلاشبہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے سرگوشی نہیں کرتے ۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کو بدبو سے نفرت ہے ۔
آپؐ کو خوشبو بہت زیادہ پسند تھی ۔۔آپؐ کے جسم اطہر کی خوشبو سے بڑھ کر کائنات میں کوئی خوشبو نہیں تھی۔بلکہ آپؐ کا تو پسینہ مبارک عطر میں ملا کر دلہنوں کو تحفہ میں دیا جاتا تھا ۔ آپؐ کے جسم اقدس سے کستوری سے بڑھ کر خوشبو آتی تھی۔آپؐ جس راستے سے گزر جاتے تھے صحابہ آپؐ کی خوشبو سے آپؐ کو تلاش کر لیتے تھے ۔( مسند ابو یعلیٰ)۔لیکن اس سب کے باوجود آپؐ خوشبو کا استعمال کثرت سے کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عود کی خوشبو استعمال فرماتے جو سب سے مہنگی ہوتی اور آپؐ اس کے ساتھ کافور ملا لیتے جس سے اس کی مہک اور بڑھ جاتی۔( صحیح مسلم)
خوشبو سے آپؐ کو اس قدر محبت تھی کہ صحابہ فرماتے ہیں آپؐ خوشبو کو تحفہ میں دیتے اور خوشبو کا تحفہ کبھی رد نہ فرماتے ۔( بخاری) آپؐ غسل کے بعد ، وضو کے بعد ، احرام پہنتے وقت، قبل از طواف اور دیگر کئی مواقع پر خوشبو کا استعمال فرماتے ۔آپؐ سر کے بالوں کی مانگ میں بھی خوشبو استعمال فرماتے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ تمھاری دنیا سے مجھے تین چیزیں مرغوب ہیں عورت،خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔
آپؐ نے ایک خاتون کو گھر آباد رکھنے کے لیے خوشبو کے استعمال کا مشورہ بھی دیا۔جب اماں عائشہؓ سے ان کے بھانجے عروہ بن زبیر نے پوچھا کہ آپؐ کون سی خوشبو استعمال فرماتے تھے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ” اعلیٰ خوشبو”۔
آپؐ ناخن کاٹنے کا حکم دیتے اور موئے زیر ناف صاف کرنے کی تاکید فرماتے اور آپؐ نے ان کی آخری حد چالیس دن بتائی اس کے بعد وہ شخص گنہگار ٹھہرتا ہے ۔
آپؐ عوامی آمد و رفت کی جگہوں ، راستوں پر ، پانی میں اور سائے میں بول و براز کرنے سے منع کرتے ۔آپؐ لباس ، رہن سہن کی جگہ کو صاف رکھنے کی تاکید فرماتے ۔ آپؐ سفر کے جانوروں کو بھی صاف رکھنے کی تاکید کرتے۔ آپؐ گھروں کے سامنے والی گلی کے حصوں کو صاف رکھنا بھی پسند فرماتے۔( شفا شریف) آپؐ کو قبر میں رخنہ نظر آجاتا تو بھی اسے بند کرنے اور ہموار کرنے کا حکم دیتے ۔
آپؐ مسجد کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیتے اور جناب تمیم داری ؓکے اس غلام کو نہ صرف دعائیں دیں جنہوں نے مسجد کو چراغوں سے آراستہ کیا تھا بلکہ آپؐ نے فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسے اس کے عقد میں دے دیتا ۔آپؐ مسجد صاف کرنے والی حبشی خاتون کی وفات کی خبر پاکر صحابہ پر خفا ہوئے اور اس خاتون کی قبر پر جنازہ پڑھا اور اس کے لیے دعا فرمائی ۔( المعجم الاوسط)
مختصر یہ کہ آپؐ دنیا کے سب سے بڑھ کر نظیف و طیب انسان تھے۔ آپؐ کی نفاست پسندی اور نظافت شعاری آج مسلمان قوم کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کے پچاس صاف ترین ملکوں میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے۔ ہمارے محلے ، گلیاں، پارک اور بازار گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ ہمارے گھر ، اسکول ،مدارس اور پبلک مقامات اس قابل نہیں کہ ہم دنیا کی مہذب ،صفائی پسند قوموں کو فخر سے دکھا سکیں۔ ایریل شیرون کو بال ٹھاکرے نے دورہ بھارت کے دوران مسلمانوں کی آبادی کے استفسار پر کہا تھا کہ جہاں گندگی دیکھو وہاں مسلمان آباد ہوں گے۔ جسمانی صفائی میں اب بھی مسلمان دنیا کی سب سے صفائی پسند قوم ہے مگر جہاں گلی محلوں چوک بازاروں کی بات آتی ہے تو ہم میں civic sense معلوم نہیں کیوں ختم ہو جاتی یے۔سیرت النبی ﷺاور نبوی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہوکر دنیا کو باور کرائیں کی ہم سے بڑھ کر صفائی پسند قوم کوئی نہیں۔
Title Photo by Abdullah Öğük

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |