کلاسیکل اور کوانٹم سائنس کا فرق
کوانٹم فزکس کے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک عام اینڈروئڈ فون ملیئنز آف مائیکرو پارٹیکلز کی کارکردگی سے چلتا ہے۔ اگر گوگل کے صرف ایک سرچ انجن کو دیکھیں تو اس کے پاس اربوں (ٹریلئنز) ٹیرا بائٹس سے زیادہ ڈیٹا ہوتا ہے۔ کوانٹم ایسا نظام زندگی ہے جس کے سامنے گوگل کی معلومات بھی پانی بھرتی نظر آئیں گی۔
کوانٹم فزکس سائنس کی وہ شاخ ہے جو ایٹم اور اس سے بھی چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹران، پروٹون، نیوٹران اور فوٹان وغیرہ) کی دنیا میں مادے اور توانائی کے رویوں کا مطالعہ کرتی ہے، جہاں کلاسیکی فزکس (طبیعات) کے قوانین لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ زمین پر رہنے والے ہم عام انسانوں کا واسطہ صرف ظاہری دنیا سے پڑتا ہے۔ کوانٹم فزکس اس فطری دنیا پر بحث کرتی ہے جو ہماری ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے۔ سائنس کی یہ شاخ بتاتی ہے کہ ایٹم کے یہ بنیادی اور داخلی ذرات لہروں اور ذرات دونوں کی طرح برتاؤ کر سکتے ہیں، ایک ہی وقت میں یہ کئی حالتوں میں موجود ہو سکتے ہیں، اور ان کی حرکات بھی غیر یقینی یعنی "رینڈم” ہوتی ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انہی موہوم اور نامعلوم زرات (یا لہروں) ہی سے کائنات کی "اصل” کا پتہ چلتا ہے، اور اسکے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے.
کوانٹم فزکس، ذرات کی دوہری فطرت کی بناء پر ایک نئی اور غیردریافتہ دنیا کا پتہ دیتی ہے جسے کسی طاقتور ترین خورد بین سے بھی دیکھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ البرٹ آئینسٹائن کو دنیا کا عظیم ترین سائنس دان اس لیئے مانا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے سائنسی نظریات میں مادے اور توانائی کے رویوں اور امکانات کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی تھیں وہ ان کی وفات کے 70 سال بعد بھی سچی ثابت ہو رہی ہیں۔ کوانٹم فزکس وہ جدید سائنس ہے جو آنے والی دنیاوں کے بارے ڈسکس کرتی ہے جن کو سائنس دان دوسری کائناتیں (پیرالیل یونیورسز) کہتے ہیں۔ ایٹم کے یہ داخلی ذرات ایک ہی وقت میں ذرات اور لہروں دونوں کی طرح عمل کر سکتے ہیں، جسے "ویو پارٹیکل ڈیوئیلٹی” یا "کوانٹائزیشن” کہتے ہیں۔
آج کی سائنسی دنیا میں غیر یقینیت کے اصول ("لاء آف ان سرٹینٹی”) کو سب سے مشہور اور معتبر ترین سائنسی تھیوری متصور کیا جاتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں کسی ذرے کا مقام اور اس کی رفتار (مومینٹم) کو درست طریقے سے نہیں جان سکتے ہیں۔ ذرات کی ایک ہی وقت میں ایسی کئی حالتوں کو سائنس کی زبان میں "سپر پوزیشن” کہتے ہیں یعنی ایک ہی ذرہ مشاہدے سے پہلے بیک وقت کئی حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے یعنی یہ زرات رکاوٹوں کو عبور کر سکتے ہیں جو کلاسیکی فزکس میں ناممکن ہے۔
کوانٹم فزکس میں زرات کے اس دہرے اور تہرے رویئے کو "کوانٹم ٹنلنگ کا عمل” کہتے ہیں جو کلاسیکل فزکس اور کوانٹم فزکس کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ نیوٹن کے قوانین یعنی کلاسیکل فزکس روزمرہ کی بڑی اشیاء اور حرکات کی وضاحت کرتی ہے (جیسے گیند یا سیارے) جبکہ کوانٹم فزکس بہت چھوٹی دنیا کے قوانین کی وضاحت کرتی ہے (مثلا ایٹم میں نیوکلئیس کے ذرات) جہاں اشیاء عجیب و غریب اور غیر متوقع انداز میں برتاؤ کرتی ہیں جس سے دنیا کے غیرحتمی ہونے کا اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات میں ایٹم کے چھوٹے پیمانے سے لے کر زندگی اور کائنات کے دیوہیکل ستاروں اور سیاروں میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہونا ممکن ہے۔ اس سے جہاں دنیا کی "غیرحتمیت” واضح ہوتی ہے وہاں انسانی ذہن کے لامحدود حد تک زندہ رہنے کا بھی امکان پیدا ہوتا ہے جو کوانٹم کی سطح تک اپنی کئی جہتوں میں "قائم ہونے اور رہنے” کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کوانٹم فزکس لیزرز، ٹرانسسٹرز اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی بنیاد ہے، اور کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے. بقول البرت آئینسٹائن، "فطرت نے انسان پر ابھی ایک فیصد کا ہزارواں حصہ بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔” یہ کوانٹم فزکس ہی ہے جس نے "ڈارک مادے” اور "ڈارک انرجی” جیسی دریافتوں کو انسان کے لیئے ممکن بنایا ہے۔ اس کے بارے میں سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ ظاہری کائنات حقیقی دنیا کا صرف 5 فیصد ہے۔ کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ڈارک میٹر (سیاہ مادہ) اور ڈارک انرجی (سیاہ توانائی) پر مشتمل ہے، جس میں سے ڈارک انرجی تقریباً 68 فیصد، ڈارک میٹر تقریباً 27 فیصد، اور باقی 5 فیصد عام مادہ ہے جو ہمیں ننگی آنکھ سے نظر آتا ہے.
کوانٹم سائنس انسانی تہذیب کے اگلے دور کی بنیاد اور تفہیم فراہم کرتی یے۔ کلاسیکل طبیعات میں نیوٹن کے قوانین حرکت ہیں جس میں کشش ثقل کو بھی زیربحث لایا گیا ہے اور کوانٹم سائنس میں تھرموڈائنامکس یا میکسویل کی برقی و مقناطیسی مساواتیں اور تھیوریز ہیں جو انتہائی دلچسپ اور پڑھنے کے قابل ہیں۔ کوانٹم فزکس کو سائنس دان اب بھی عجیب و غریب "جادو” کہتے ہیں۔ کوانٹم مکینکس کے عجیب پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ، کوئی چیز بیک وقت موجود اور غیر موجود ہو سکتی ہے۔ اس کے بارے مرزا اسد اللہ غالب نے ادبی اور شعری زبان میں کہا تھا کہ
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اب کچھ سائنس دان بھی کوانٹم سائنس کی اسی فلسفیانہ سوچ و کھوج کے ساتھ تھیوریز پیش کر رہے ہیں۔ یہ سائنس دانوں کا ایسا حیرت انگیز دعوی یے، جو کائنات اور زندگی کے پیچھے ایک عظیم الشان اور بے مثل قوت یعنی کسی "یونیورسل مائنڈ” کا پتہ دیتا ہے جسے اسلام (مذہب) کی زبان میں اللہ (یا خدا) کہا جاتا ہے۔
کوانٹم فزکس کو اردو زبان میں قدری میکانیات بھی کہتے ہیں جو زیریں جوہری پیمانے پر کلاسیکی میکانیات کا سائنسی علم ہے۔ انسان کا مستقبل دراصل کوانٹم فزکس ہی ہے جو روایتی فزکس میں "خلا” وغیرہ کے ماحول کو بھی زیربحث لاتی ہے، جہاں کسی شے کا وجود نہیں ہوتا ہے۔ لیکن کوانٹم تھیوری (نظریہِ مقادیر برقیات) میں خلا کی خفیف دنیا کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس سائنس کے لیئے لفظ "کوانٹم” اسی لئے چنا گیا ہے کہ "کوانٹم” یعنی ‘کوانٹا’ کسی شے کی وہ کم سے کم مقدار ہے جسے ناپا جا سکے۔ سنہ 1800ء کے اوائل میں تھامس ینگ نے ایک تجربہ کیا تھا جسے "ڈبل سلٹ ایکس پیریمنٹ” کہا جاتا جس سے "کوانٹم تھیوری” کا آغاز ہوا۔ کوانٹم تھیوری سے مراد ان پارٹیکلز کی توضیح و تشریح ہے جن سے مادہ بنا ہے جس کے زریعے یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ توانائی اور مادہ ایک دوسرے سے کیسے اور کس تناسب سے ملاپ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے طاقتور دور بینوں سے مشاہدے کے بعد یہ بھی دعوی کیا ہے کہ کائنات روشنی کی رفتار (جو کہ 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے) سے پھیل رہی ہے یعنی عدم سے مادے کے نئے ستارے اور سیارے وجود میں آ رہے ہیں۔ دوسری طرف سائنس دانوں ہی کا دعوی ہے کہ ہر لمحہ اربوں کھربوں پرانے ستارے اور سیارے اپنی عمر پوری کر کے فنا ہو جاتے ہیں جس کا بالواسطہ یہ مطلب ہے کہ ایک منٹ میں بقول سائنسی علماء، "اگر اربوں ستارے اور سیارے ہر لمحہ فنا ہوتے ہیں تو اتنے ہی نئے ستارے اور سیارے بھی وجود میں آ جاتے ہیں۔
اس الجھن کو سائنس کا "بقائے مادہ” کا قانون (لاء آف انرشیاء) ڈسکس کرتا ہے کہ توانائی (اور مادہ) کی مقدار کائنات میں مستقل رہتی ہے یعنی اسے نہ پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فنا کیا جا سکتا ہے جس سے ان کا ایک دوسرے میں بدلنا (یا کنورٹ ہونا) ثابت ہوتا ہے۔ کائنات کے اس فطری عمل کے سائنسی اصول و ضوابط اور مساوات وغیرہ کو "کوانٹم سائنس” زیر بحث لاتی ہے جو اس لیئے دلچسپ ترین سائنس ہے کہ یہ قدرت کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹاتی ہے جو انسانی بقید حیات اور محفوظ مستقبل کے لیئے بہترین سائنسی علم ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |