پاکستان کی ترقی اور راز
پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے۔ جس کی آزادی کے پیچھے وجہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی خواہش ہی نہیں ، بلکہ پُرامن اور پُرسکون فضا کا حصول بھی تھا، جہاں ہم ان زیادتیوں اور مظالم سے بچ سکیں جو ہمیں آزادی سے قبل درپیش تھے۔ مگر کیا واقعی ایسا ممکن ہوا؟ یہ ایک عوامی مسئلے سے زیادہ سیاسی مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر ذکر کیا جائے تو عوامی فائدہ اور ذاتی نقصان، جبکہ نہ کرنا ذاتی گھٹن اور عوامی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مگر بیچ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے چند حقائق سے پردہ اٹھانا ہوگا۔
دنیا کے لیے تین سب سے ضروری شعبہ جات ہیں، جو انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات سمجھے جاتے ہیں:-
1- تعلیم
2- صحت
3- معیشت
پاکستانی عوام کے لیے باعث سرت ہے کہ ان کے ہاں ان تینوں شعبوں میں عروج کا دور دورہ رہا ہے۔ بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ آزادی سے آج تک عروج سے عروج تر کا سفر طے ہوتا آیا ہے۔ عوام میں جینے اور پھلنے پھولنے کی چاہت بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ یوتھ کا رجحان ملکی فلاح اور باگ ڈور سنبھالنے پر مرکوز ہے۔ ملک کے باشندوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ عید کا سماں محسوس ہوتا ہے۔
چلیں آج ان تین شعبہ جات کی رعنائیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
تعلیم:-
یہ دنیا میں کامیابی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند سمجھی جاتی ہے اور عوامی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان نے اس شعبے میں سب سے زیادہ اصلاحات کیں، جن کا ثمر آج عوام اطمینان اور چین کی نیند سو کر حاصل کر رہی ہے۔ یہاں ہمیں چند اقدامات کا ذکر لازم و ملزوم ہے، جیسے تعلیم تک ہر ایک کی رسائی، سکولوں میں تصوراتی (Conceptual) پڑھائی، رٹا سسٹم کا خاتمہ، نمبروں کی دوڑ کا خاتمہ، فیورٹ ازم سے دوری، بورڈ اور پریکٹیکل امتحانات میں شفافیت، میرٹ پر یونیورسٹیوں میں داخلے، ہنر سکھانے پر زور، اور نوکریوں و کاروبار کے اَن گنت مواقع شامل ہیں۔ اور ہمیں ان پر فخر ہے۔
صحت:-
تندرستی ہزاروں کیا لاکھوں نعمتوں سے بہتر نعمت ہے۔ اس رٹے رٹائے جملے نے انسان کو بیمار کر رکھا تھا۔ ہر شخص بہتر صحت کے حصول کے لیے جاں توڑ کوششیں کرتا رہتا تھا۔ مگر پاکستان کے جدید اصولوں نے بہترین نظام متعارف کروایا، جہاں عوام کے لیے صحت کا حصول ہی ناممکن بنا دیا گیا اور عوام کو صحت کی فکر سے آزاد کر دیا گیا۔
اس سنگِ میل کو عبور کرنے کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں:- صحت کے بجٹ میں اضافہ، میرٹ پر داخلے، پرائیویٹ کالجوں کا غریب عوام کو تحفہ، میڈیکل طلبہ کی ذہنی صحت پر زور، ایگزامینرز اور میرٹ کا میل، تربیت کے دوران طلبہ پر خصوصی توجہ، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا تسلی بخش علاج، اور پرائیویٹ اداروں میں عوام دوست فیسوں پر اتفاق۔ ایسے اَن گنت اقدامات نے ہمیں دنیا میں ایک مثال بننے کا موقع فراہم کیا۔
معیشت:-
ہماری معیشت ہمارا فخر ہے۔ ہماری کامیابیوں اور کامرانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زراعت جیسی نعمت سے نوازا ہے اور ہم اس سے بھرپور مستفید ہو رہے ہیں۔ کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی ان اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کسان دوست کھادوں کے نرخ اور جدید طریقۂ زراعت تک رسائی نے معیشت پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ حکومت کا کسانوں سے بہترین نرخوں پر فصلیں خریدنا کسانوں کی خوشحالی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
یہ تو صرف ایک مثال تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور دیگر شعبے بھی عوام کے لیے بہترین روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور معیشت کے پہیے کو چلانے میں مدد کر رہے ہیں۔
ان تمام مثالوں سے ہمیں اپنے پیارے ملک کی ترقی و خوشحالی کی وجوہات معلوم ہوتی ہیں کہ کس طرح ایک مقصد کے تحت بننے والا ملک اپنے مقاصد کو پورا کرتا جا رہا ہے۔ اللہ ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو۔
میرا نام ڈاکٹر حنان شیر ہے اور میرا تعلق چنیوٹ، پاکستان سے ہے۔ میں ایک گولڈ میڈلسٹ ایم بی بی ایس ڈاکٹر، دو لسانی (اردو و انگریزی) کالم نگار اور شاعر ہوں۔ طب کے شعبے سے وابستگی کے ساتھ ساتھ ادب اور تحریر میری شخصیت کا اہم حصہ ہیں۔ میری تحریریں انسانی احساسات، معاشرتی مسائل اور فکری موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں قلم کو آگہی، مثبت تبدیلی اور بامعنی مکالمے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہوں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |