بھاری پن : ایک تہہ دار افسانہ
صفدر علی حیدری
قربانی کے دنوں میں شہر ایک الگ ہی زبان بولنے لگتا ہے۔ ہوا میں گوشت کی خوشبو، مٹی کی نمی، دھوئیں کی ہلکی سی باس، اور تکبیر کی بازگشت—سب کچھ ایک دوسرے میں یوں گھل جاتا ہے جیسے زندگی اور عبادت کے درمیان کوئی باریک سا پردہ رہ گیا ہو۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جب خوشی صرف ہنسی میں نہیں، تقسیم میں بھی چھپی ہوتی ہے۔ اور عبادت صرف ذبح کرنے میں نہیں، اپنے حصے کو چھوڑ دینے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اسی شہر کے ایک درمیانے درجے کے گھر میں احسان بھائی رہتے تھے۔ نہ بہت امیر، نہ بالکل غریب—بس حساب کتاب میں جینے والے، ضرورت اور خواہش کے درمیان لکیر کھینچ کر چلنے والے انسان۔ اس بار ان کے گھر قربانی نہیں ہوئی تھی۔ نہ صحن میں جانور آیا، نہ بچوں نے قربانی کی تیاریوں کی کوئی خاص خوشی دیکھی۔ مگر اس کے باوجود گھر میں گوشت اتنا جمع ہو چکا تھا کہ اگر چاہیں تو کئی گھرانوں کی ضرورت پوری ہو سکتی تھی۔
یہ گوشت رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کی طرف سے آیا تھا۔ ہر کسی نے اپنے حصے سے کچھ نہ کچھ دیا تھا۔ مگر جب سب کچھ ایک جگہ اکٹھا ہوا تو وہ نعمت، ایک بوجھ بننے کے قریب آ گیا۔ احسان بھائی کو پچھلی عید اچھی طرح یاد تھی۔ اس وقت انہوں نے گوشت کو برکت سمجھ کر نہیں، ذخیرہ سمجھ کر سنبھالا تھا۔ فریج بھر گیا تھا، اور گوشت ایک مہینے نہیں، کئی مہینوں تک چلتا رہا تھا۔
ابتدا میں یہ سب خوشی تھی۔ بار بار گوشت نکالنا، پکانا، اور مہمانوں کو پیش کرنا ایک طرح کی آسائش لگتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ گھر کا مزاج بدلنے لگا۔ بھاری پن صرف معدے میں نہیں تھا… وہ مزاج میں اترنے لگا تھا۔ گھر کے افراد بار بار بیمار ہونے لگے۔ کسی کو بدہضمی، کسی کو سستی، کسی کو سر درد۔ ایسا لگتا تھا جیسے جسم تھک نہیں رہا بلکہ اندر سے کسی چیز سے تنگ آ رہا ہے۔
ایک دن کسی بزرگ نے سادگی سے کہا تھا:
“قربانی کا گوشت بھاری ہوتا ہے۔”
اس وقت کسی نے اس جملے کا مطلب نہیں سمجھا تھا۔ سب نے اسے صرف ایک روایتی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر وقت نے اس جملے کو حقیقت بنا کر دکھایا تھا اس بار حالات مختلف تھے۔ فریج کی کولنگ کمزور ہو چکی تھی۔ بجلی کی طویل بندش نے مسئلے کو اور گہرا کر دیا تھا۔ گوشت رکھنے کی گنجائش محدود تھی، اور جو تھی وہ بھی غیر یقینی۔
احسان بھائی نے دیر تک سوچا نہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ سب کچھ اپنے پاس رکھنا ضروری نہیں۔ انہوں نے صرف اتنا گوشت رکھا جو چند دن میں استعمال ہو سکتا تھا، اور باقی خاموشی سے محلے کے ضرورت مند گھروں میں تقسیم کر دیا۔ نہ کوئی اعلان، نہ کوئی نمائش۔ بس ایک سادہ سا عمل—دینا، اور آگے بڑھ جانا۔
کچھ دن بعد گھر میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس بار کسی کو بدہضمی نہیں ہوئی، نہ کوئی بیمار پڑا، نہ طبیعت میں وہ پرانی سی سستی تھی۔
ایک شام بیوی نے چائے رکھتے ہوئے اچانک کہا:
“آپ نے محسوس کیا؟ اس بار گھر میں چھینک تک نہیں آئی۔”
احسان بھائی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
بیوی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“مطلب یہ کہ اس بار ہم نے جمع نہیں کیا۔ اور شاید اصل مسئلہ یہی تھا۔ ہم سمجھتے رہے کہ گوشت بھاری ہوتا ہے… مگر اصل میں بھاری وہ طریقہ ہوتا ہے جس سے ہم چیزوں کو اپنے پاس روک لیتے ہیں۔”
وہ تھوڑا رکی، پھر آہستہ سے بولی:
“قربانی دینا ہے، جمع کرنا نہیں۔”
یہ جملہ کسی گونج کی طرح کمرے میں پھیل گیا۔
اس رات احسان بھائی دیر تک جاگتے رہے۔ گھر کی خاموشی انہیں غیر معمولی طور پر بولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ دیواریں جیسے سوال بن گئی تھیں، اور فریج جیسے ایک علامت۔ انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ زندگی صرف لینے کا نام نہیں۔ اصل زندگی دینے کے عمل میں چھپی ہوتی ہے۔
وہ سوچنے لگے کہ شاید بھاری پن کبھی گوشت میں نہیں تھا… وہ ہمیشہ انسان کے اندر تھا۔ اس کے خوف میں، اس کی جمع کرنے کی عادت میں، اور اس یقین میں کہ “میرے پاس زیادہ ہونا چاہیے۔”
اگلی صبح انہوں نے فریج کھولا۔ اندر زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مگر وہ خالی پن عجیب سا بھاری نہیں تھا—وہ ہلکا تھا، شفاف تھا، جیسے کسی نے اندر سے گرد صاف کر دی ہو۔ انہوں نے کچھ دیر دروازہ کھلا رکھا۔ ٹھنڈی ہوا ان کے چہرے سے ٹکراتی رہی، اور انہیں محسوس ہوا جیسے وہ پہلی بار سانس لے رہے ہوں۔
پھر انہوں نے ایک کاغذ لیا اور لکھا:
“یہاں وہی رکھو جو بانٹا جا سکے، ورنہ وہ تمہیں رکھ لے گا۔”
یہ ایک جملہ نہیں تھا… یہ ایک اصول بن چکا تھا۔
دن بدلنے لگے۔ اب گھر میں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں، گردش کرتی تھیں۔ گوشت ہو، کھانا ہو، یا کوئی بھی نعمت—پہلا سوال یہی ہوتا تھا: کیا یہ صرف ہمارے لیے ہے؟ اور حیرت یہ تھی کہ جتنا وہ بانٹتے گئے، اتنا ہی ان کے گھر کا بوجھ کم ہوتا گیا۔ نہ صرف جسمانی بوجھ، بلکہ ذہنی اور جذباتی بھی۔
احسان بھائی کو پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض اوقات کمی دراصل محرومی نہیں ہوتی… وہ رہائی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ بھاری پن کبھی گوشت میں نہیں تھا۔ نہ فریج میں، نہ کھانے میں۔ وہ ہمیشہ انسان کے اندر تھا—اس کے جمع کرنے والے ہاتھ میں، اس کے روک لینے والے دل میں، اور اس کے “میرے پاس کم نہ ہو جائے” والے خوف میں۔
اور جب انسان بانٹنا سیکھ لیتا ہے… تو صرف چیزیں نہیں بٹتیں، اس کا اپنا بوجھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اصل قربانی کسی جانور کی نہیں ہوتی… اصل قربانی اپنے اندر کے قبضے کی ہوتی ہے۔
اور جو یہ قربانی دے دے… وہ پھر کبھی بھاری نہیں رہتا۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |