پیسہ بولتا ہے
شام ڈھل رہی تھی مگر اُس کوٹھی کے اندر روشنی ابھی جاگ رہی تھی۔
سنہری۔
چمکتی ہوئی۔
آنکھوں کو خیرہ کرتی ہوئی۔
جیسے سورج غروب ہونے سے پہلے اپنی آخری دولت اسی گھر کے حوالے کر گیا ہو۔
مرینہ نے گاڑی کی کھڑکی سے گردن باہر نکال کر ایک بار پھر اُس عمارت کو دیکھا۔ لمبی سفید دیواریں، دیواروں پر بیلجیم کے چراغ، بھاری فولادی گیٹ، اور گیٹ کے دونوں طرف کھڑے دو محافظ جن کے چہروں پر وہ سرد مہری تھی جو صرف امیر گھروں کے ملازموں کے چہروں پر آتی ہے۔
گاڑی آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئی۔
ٹائروں کے نیچے بجری نے نرم سی آواز نکالی۔
سامنے ایک طویل راستہ تھا جس کے دونوں طرف کھجوروں کے درخت لگے ہوئے تھے۔ درختوں کے نیچے چھوٹی چھوٹی لائٹس روشن تھیں، جیسے زمین پر ستارے گاڑ دیے گئے ہوں۔
مرینہ خاموش تھی۔
اس کی سہیلی عائزہ مسکرا رہی تھی۔
وہ اُس خاموش مسکراہٹ کے ساتھ مرینہ کے چہرے پر پھیلتی حیرت دیکھ رہی تھی، جیسے اسے اس حیرت کی عادت ہو۔
“کیسا لگا؟”
عائزہ نے ہلکے فخر سے پوچھا۔
مرینہ نے دھیرے سے کہا:
“یہ… گھر ہے؟”
عائزہ ہنس پڑی۔
“ابھی تو تم نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔”
گاڑی آخرکار پورچ کے نیچے رکی۔
اوپر بہت بڑا فانوس جل رہا تھا۔
اتنا بڑا کہ مرینہ کو لگا اگر وہ اُن کے چھوٹے سے فلیٹ میں لگا دیا جائے تو پورا کمرہ اسی سے بھر جائے۔
ایک ملازم فوراً آگے بڑھا اور دروازہ کھولا۔
“السلام علیکم میڈم۔”
عائزہ نے بے پروائی سے سر ہلایا۔
وہ دونوں اندر داخل ہوئیں۔
مرینہ کے قدم خودبخود سست پڑ گئے۔
فرش سفید سنگِ مرمر کا تھا۔ اتنا شفاف کہ اُس میں روشنی تیرتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ دیواروں پر بڑی بڑی پینٹنگز تھیں۔ کہیں سمندر تھا، کہیں برفیلے پہاڑ، کہیں عورتوں کے اداس چہرے۔
ہوا میں ہلکی سی خوشبو تیر رہی تھی۔
کوئی مہنگا پرفیوم۔
کوئی ایسی خوشبو جو صرف بڑے شاپنگ مالز یا امیر عورتوں کے لباس سے آتی ہے۔
مرینہ نے اپنی سادہ سی چپلوں کی طرف دیکھا۔
اُسے پہلی بار لگا جیسے اُس کے قدم اس گھر کے قابل نہیں۔
عائزہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“ارے یار، ایسے کیوں چل رہی ہو؟ ریلیکس!”
مرینہ نے مصنوعی مسکراہٹ دی۔
مگر اُس کی نظریں مسلسل اِدھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی اُس کا سانس جیسے ایک لمحے کو رک گیا۔
اتنا بڑا کمرہ اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
لمبے مخملی صوفے۔
درمیان میں شیشے کی میز۔
دیوار پر بہت بڑی اسکرین۔
اور ایک طرف رکھا ہوا سیاہ پیانو۔
“یہ اصلی ہے؟”
مرینہ نے آہستہ سے پوچھا۔
عائزہ ہنس دی۔
“نقلی پیانو کون رکھتا ہے؟”
مرینہ شرمندہ سی ہو گئی۔
وہ ہر چیز کو چھو کر دیکھنا چاہتی تھی۔
جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ یہ سب حقیقت ہے۔
عائزہ نے الماری کھولی۔
اندر قطاروں میں پرس رکھے تھے۔
کچھ چمڑے کے، کچھ چمکتے ہوئے، کچھ پر سنہری زنجیریں۔
“یہ دبئی سے لیا تھا۔”
“یہ پیرس سے۔”
“یہ والا صرف ایک بار استعمال کیا۔”
مرینہ ہر پرس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی غریب بچہ کھلونوں کی دکان دیکھتا ہے۔
پھر عائزہ اسے اپنے ڈریسنگ روم میں لے گئی۔
وہ کمرہ کسی بوتیک جیسا تھا۔
چاروں طرف کپڑے۔
قیمتی ساڑھیاں۔
ریشمی فراکس۔
بھاری لہنگے۔
اونچی ہیلز۔
شیشوں کے اندر رکھے ہوئے زیورات۔
ہیروں کے سیٹ۔
زمرد۔
سونے کے کنگن۔
مرینہ کے ہونٹ خشک ہو گئے۔
“یہ… سب تمہارا ہے؟”
“ہاں۔”
“اتنا سب؟”
عائزہ نے کندھے اچکائے۔
“عادت ہو جاتی ہے۔”
مرینہ نے آئینے میں خود کو دیکھا۔
سادہ لان کا سوٹ۔
ہاتھ میں معمولی سی گھڑی۔
کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس۔
اور اُس کے پیچھے جگمگاتا ہوا وہ کمرہ۔
اُسے پہلی بار اپنا وجود چھوٹا لگا۔
بہت چھوٹا۔
وہ دونوں پھر باہر آئیں۔
اب عائزہ اسے گھر کا باقی حصہ دکھا رہی تھی۔
“یہ ہوم تھیٹر ہے۔”
“یہ جِم۔”
“یہ انڈور پول۔”
“یہ گیسٹ وِنگ۔”
“اور یہ…”
وہ رکی۔
“میرا فیورٹ حصہ۔”
سامنے شیشے کی دیواروں والا ایک بہت بڑا ہال تھا۔
اندر مصنوعی آبشار بہہ رہی تھی۔
چھوٹے پتھروں پر پانی پھسل رہا تھا۔
نیچے نیلی روشنی جل رہی تھی۔
مرینہ حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
“یا اللہ…”
عائزہ مسکرائی۔
“پیسہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔”
وہ دونوں باہر لان میں آ گئیں۔
وہ لان نہیں تھا، کسی ہوٹل کا باغ لگتا تھا۔
درمیان میں چھوٹا سا تالاب تھا۔
تالاب کے اندر رنگین مچھلیاں تیر رہی تھیں۔
کنارے پر سفید بتھیں۔
پانی میں روشنیوں کا عکس ہل رہا تھا۔
عائزہ نے فخر سے ہاتھ پھیلایا۔
“یہ دیکھو… میرا تالاب۔”
مرینہ خاموش رہی۔
“اور وہ سامنے جو شیشے والا حصہ ہے نا… وہاں سے رات کو چاند پانی میں نظر آتا ہے۔ بہت خوبصورت لگتا ہے۔”
مرینہ نے صرف “ہاں” کہا۔
مگر اُس کی آنکھوں میں حسرت تیر رہی تھی۔
وہ دونوں چلتی رہیں۔
ہر چند قدم بعد کوئی نئی چیز سامنے آ جاتی۔
کوئی نیا کمرہ۔
کوئی نئی آسائش۔
کوئی نئی چمک۔
اور مرینہ آہستہ آہستہ اندر سے تھکنے لگی۔
حیرت بھی انسان کو تھکا دیتی ہے۔
خاص طور پر وہ حیرت جس میں حسد شامل ہو۔
آخرکار وہ دونوں بیٹھ گئیں۔
نوکرانی چائے رکھ گئی۔
باریک چینی کے کپ۔
ہلکی بھاپ۔
مہنگی چائے کی خوشبو۔
مرینہ نے کپ ہاتھ میں لیا۔
پہلی بار اُس نے سکون کا سانس لیا۔
اُسے لگ رہا تھا جیسے وہ کئی گھنٹوں سے کسی جادوئی دنیا میں گھوم رہی ہو۔
ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز خوبصورت تھی۔
ہر چیز مکمل۔
ہر چیز چمکتی ہوئی۔
اُسی لمحے سامنے والے برآمدے میں کسی کے قدموں کی آواز آئی۔
بھاری۔
آہستہ۔
کسی عمر رسیدہ شخص کے قدم۔
مرینہ نے سر اٹھایا۔
اور پھر اُس کا چہرہ آہستہ آہستہ بدل گیا۔
سامنے ایک مرد آ رہا تھا۔
سفید بال۔
بھاری جسم۔
آنکھوں کے گرد جھریاں۔
پیٹ نکلا ہوا۔
چلتے ہوئے ہلکی سی سانس پھول رہی تھی۔
وہ کم از کم پچپن ساٹھ برس کا لگ رہا تھا۔
مرینہ نے بے اختیار عائزہ کی طرف دیکھا۔
عائزہ نے فوراً مسکرا کر کہا:
“یہ میرے شوہر ہیں۔”
ایک لمحے کے لیے مرینہ کو لگا جیسے کسی نے اُس کے سامنے رکھا ہوا شیشہ توڑ دیا ہو۔
وہ ساری چمک۔
سارا حسن۔
ساری جادوئی کیفیت۔
ایک دم سے بکھر گئی۔
اب اُسے وہ محل، وہ روشنی، وہ تالاب… سب عجیب لگنے لگا۔
جیسے کسی بہت مہنگے پردے کے پیچھے اچانک حقیقت کھڑی ہو گئی ہو۔
شوہر قریب آیا۔
“السلام علیکم۔”
آواز بھاری تھی۔
مرینہ نے بمشکل جواب دیا۔
“وعلیکم السلام…”
وہ شخص کچھ رسمی باتیں کر کے اندر چلا گیا۔
مگر اُس کے جانے کے بعد بھی اُس کی موجودگی وہیں رہ گئی۔
بھاری۔
تلخ۔
سچ کی طرح۔
مرینہ نے کپ میز پر رکھا۔
چائے اچانک پھیکی لگنے لگی تھی۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر اُس نے آہستہ سے پوچھا:
“یہ… تمہارے شوہر تھے؟”
“ہاں۔”
“وہ… تم سے بہت بڑے ہیں۔”
عائزہ خاموش رہی۔
مرینہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
“کتنے سال؟”
“تقریباً پچیس۔”
مرینہ نے بے اختیار اُس کی طرف دیکھا۔
“پچیس؟”
عائزہ نے سکون سے چائے کا گھونٹ لیا۔
“ہاں۔”
“لیکن… تم نے شادی کیسے کر لی؟”
عائزہ ہلکا سا مسکرائی۔
وہ مسکراہٹ عجیب تھی۔
آدھی تھکی ہوئی۔
آدھی فاتحانہ۔
مرینہ اب رک نہ سکی۔
“میرا مطلب… تم اتنی خوبصورت ہو۔ جوان ہو۔ زندگی ہے تمہارے اندر۔ اور وہ…”
وہ خاموش ہو گئی۔
عائزہ نے اُس کی بات مکمل کی۔
“بوڑھا ہے؟”
مرینہ شرمندہ ہو گئی۔
“میں نے ایسا مطلب نہیں…”
“مگر حقیقت یہی ہے۔”
ہوا آہستہ سے چل رہی تھی۔
تالاب کے پانی میں لہریں بن رہی تھیں۔
عائزہ کچھ دیر اُن لہروں کو دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی:
“شروع میں مجھے بھی عجیب لگتا تھا۔”
مرینہ خاموش سن رہی تھی۔
“جب شادی ہوئی تو میں بائیس سال کی تھی۔ مجھے لگتا تھا محبت ضروری ہوتی ہے۔ عمر ضروری ہوتی ہے۔ انسان کا دل ضروری ہوتا ہے۔”
وہ ہلکا سا ہنسی۔
“پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ دنیا میں سب سے ضروری چیز سکون ہے۔”
“اور سکون پیسے سے ملتا ہے؟”
مرینہ نے فوراً پوچھ لیا۔
عائزہ نے اُس کی طرف دیکھا۔
“زیادہ تر۔”
“مگر… جذبات؟”
“جذبات بہت مہنگی چیز ہیں مرینہ۔ غریب لوگ afford نہیں کر سکتے۔”
مرینہ چونک گئی۔
عائزہ اب مسلسل بول رہی تھی۔
“میں نے غربت دیکھی ہے۔ بہت بری غربت۔ ابو بیمار تھے۔ گھر میں راشن نہیں ہوتا تھا۔ امی زیور بیچتی تھیں۔ تب کوئی جذبات نہیں آتے تھے۔ تب صرف پیسہ یاد آتا تھا۔”
مرینہ نے آہستہ سے پوچھا:
“تو تم نے صرف پیسے کے لیے شادی کی؟”
عائزہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ کچھ دیر تالاب کو دیکھتی رہی۔
پھر دھیرے سے بولی:
“پیسہ صرف چیزیں نہیں خریدتا۔ خوف بھی خرید لیتا ہے۔”
“کیا مطلب؟”
“مجھے اب ڈر نہیں لگتا۔ بجلی کے بل سے نہیں۔ کرائے سے نہیں۔ بیماری سے نہیں۔ تنہائی سے بھی کم ڈر لگتا ہے جب بیڈ نرم ہو، کمرہ ٹھنڈا ہو، اور بینک اکاؤنٹ بھرا ہو۔”
مرینہ نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
وہ خوبصورت تھی۔
بہت خوبصورت۔
مگر اُس خوبصورتی کے نیچے کہیں کوئی تھکن تھی۔
کوئی خاموش سمجھوتہ۔
مرینہ نے دھیرے سے کہا:
“مگر انسان کے اندر کچھ خواہشیں بھی تو ہوتی ہیں۔”
عائزہ مسکرائی۔
“ہوتی ہیں۔”
“پھر؟”
“پھر انسان انہیں مار دیتا ہے۔”
ہوا ایک لمحے کو رک گئی۔
مرینہ نے پہلی بار اُس محل کو مختلف نظر سے دیکھا۔
اب وہ صرف خوبصورت نہیں لگ رہا تھا۔
کچھ سرد بھی لگ رہا تھا۔
کچھ بے جان۔
“تم خوش ہو؟”
یہ سوال اچانک اُس کے ہونٹوں سے نکل گیا۔
عائزہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ سگریٹ نکال رہی تھی۔
لائٹر جلایا۔
ایک لمبا کش لیا۔
پھر دھواں آہستہ سے ہوا میں چھوڑا۔
“خوشی…”
وہ ہلکے سے ہنسی۔
“یہ لفظ غریب لوگوں نے بنایا ہے۔ امیر لوگ comfort میں رہتے ہیں۔”
مرینہ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ آنکھیں خالی تھیں۔
بہت خالی۔
“مگر… تم گزارہ کیسے کرتی ہو؟”
عائزہ نے بھنویں اٹھائیں۔
“کس چیز کا؟”
“تمہارے شوہر کے ساتھ۔ میرا مطلب… وہ تم سے بیس پچیس سال بڑے ہیں۔ تم جوان ہو۔ تمہارے اندر جذبات ہوں گے۔ خواہشیں ہوں گی۔ انسان حسن بھی چاہتا ہے، قربت بھی، ہم عمری بھی…”
عائزہ نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا۔ پھر راکھ جھاڑی، ہلکا سا مسکرائی، اور نہایت سادہ لہجے میں کہا:
“پیسہ بہت کچھ لے جاتا ہے مرینہ… بہت کچھ۔
جذبے… خواہشیں… قربت کی طلب… سب۔
پھر انسان عادت ڈال لیتا ہے۔”
وہ ہنس دی۔
ایک ایسی ہنسی جو سننے میں ہلکی تھی مگر اندر کہیں بہت گہری اور بہت تھکی ہوئی۔
مرینہ اُس کے چہرے کو دیکھتی رہ گئی۔
اور اُسی لمحے… نہ جانے کیوں… اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اُس کے سامنے کھڑا یہ محل نما گھر اچانک اندر سے کھوکھلا ہو گیا ہو۔
جیسے دیواروں کے اندر دیمک لگی ہوئی ہو۔
جیسے ابھی یہ سفید سنگِ مرمر چٹخ جائے گا۔
فانوس ٹوٹ کر زمین پر بکھر جائیں گے۔
اور یہ ساری چمکتی ہوئی دیواریں بھربھرا کر اُس کے اوپر آ گریں گی۔
اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض اوقات دولت گھر کو بڑا تو بنا دیتی ہے… مگر زندگی کو تنگ کر دیتی ہے۔
اب وہ تالاب اُسے خوبصورت نہیں لگ رہا تھا۔
وہ صرف گہرا لگ رہا تھا۔
بہت گہرا۔
جیسے اُس میں کہیں کسی عورت کی دبی ہوئی خواہشیں ڈوبی پڑی ہوں۔
ہوا چل رہی تھی مگر مرینہ کو گھٹن محسوس ہونے لگی۔
اُسے لگا جیسے اس گھر میں ہر چیز خرید لی گئی ہے — سکون، خاموشی، عزت، آسائش — مگر ایک چیز کہیں نہیں تھی:
زندگی۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |