محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور
شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جن کے کارنامے وقت کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار شخصیت جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کی تھی، جنہیں بجا طور پر “محسنِ پاکستان” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت، بے مثال سخاوت، حب الوطنی اور عوام دوستی سے نہ صرف ریاستِ بہاولپور کو ترقی و خوشحالی کی مثال بنایا بلکہ قیامِ پاکستان کے نازک ترین دور میں نوزائیدہ مملکتِ خداداد کو مالی، سیاسی اور اخلاقی سہارا دے کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام امر کردیا۔
نواب صادق محمد خان پنجم 29 ستمبر 1904 کو بہاولپور کے شاہی محل دولت خانہ میں پیدا ہوئے۔ وہ عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے، جو اپنی نسبت خلافتِ عباسیہ سے جوڑتا ہے اور صدیوں سے بہاولپور پر حکمرانی کرتا آرہا تھا۔ کم عمری میں ہی والد کے انتقال کے بعد 1907 میں وہ تخت نشین ہوئے۔ ابتدا میں ریاستی امور ایک کونسل کے ذریعے چلائے گئے، تاہم مارچ 1924 میں نور محل میں ایک عظیم الشان تقریبِ تاج پوشی منعقد ہوئی، جس میں وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ نے انہیں مکمل اختیارات سونپے۔ اس تقریب نے انہیں برصغیر کے ممتاز مسلم حکمرانوں کی صف میں نمایاں مقام عطا کیا۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے ایچی سن کالج سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ وہ نہایت ذہین، معاملہ فہم، باوقار اور دور اندیش حکمران تھے۔ ان کی شخصیت میں شرافت، انکساری، دینی رجحان اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔
ریاستِ بہاولپور برصغیر کی دوسری بڑی مسلم ریاست تھی، جس کا رقبہ کئی یورپی ممالک سے زیادہ تھا۔ نواب صادق کے دورِ حکومت میں یہ ریاست ترقی، امن، خوشحالی اور بہترین نظم و نسق کی مثال بن گئی۔ ریاست کا اپنا بینک، کرنسی، ڈاک کا نظام، ریلوے، فوج، عدلیہ اور کابینہ موجود تھی۔ بہاولپور کو ایک مکمل فلاحی ریاست کی حیثیت حاصل تھی جہاں عوام کو انصاف، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات میسر تھیں۔
انہوں نے ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ دریائے ستلج سے متعلق آبپاشی منصوبوں نے بنجر زمینوں کو سرسبز کھیتوں میں بدل دیا اور بہاولپور اناج کی پیداوار میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا گیا جبکہ عوامی بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے دور میں سڑکیں، اسپتال، نہریں، مساجد اور رفاہی ادارے قائم ہوئے۔
نواب صادق محمد خان پنجم کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی تعلیم دوستی تھی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ قوموں کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو اپنی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ریاستِ بہاولپور میں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم مفت تھی اور مستحق طلبہ کو وظائف دیے جاتے تھے۔ غریب اور نادار طلبہ کی مدد کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیے گئے۔
انہوں نے جامعہ عباسیہ قائم کی، جو بعد میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بنی۔ یہ ادارہ جامعہ الازہر کے طرز پر قائم کیا گیا اور جنوبی پنجاب میں علم و ادب کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ہزاروں طلبہ نے یہاں سے تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کی۔
1951 میں انہوں نے صادق پبلک اسکول کے قیام کے لیے پانچ سو ایکڑ زرخیز زمین عطیہ کی۔ یہ ادارہ آج بھی پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی سخاوت صرف بہاولپور تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ایچی سن کالج کی مسجد کے لیے بھی جائیدادیں اور خطیر رقوم عطیہ کیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال کی تعمیر میں بھی ان کی نمایاں مالی معاونت شامل تھی۔
تحریکِ پاکستان میں ان کا کردار نہایت اہم اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے محمد علی جناح سے قریبی تعلقات تھے اور وہ مسلم لیگ کے مخلص معاونین میں شمار ہوتے تھے۔ کراچی کے علاقے مالیر میں واقع ان کا محل “القمر” قائداعظم کی رہائش اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ علامہ محمد اقبال سے بھی ان کی خط و کتابت رہی اور وہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے تصور کے بھرپور حامی تھے۔
قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستانی قیادت نے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان سے دور رکھنے کے لیے مختلف کوششیں کیں۔ یہاں تک کہ نواب صادق کو ایک خالی چیک پیش کیا گیا تاکہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق پر آمادہ ہوجائیں، مگر انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ ان کا تاریخی جملہ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ:
“بہاولپور کے تیس لاکھ عوام میرے غلام نہیں، میں صرف ان کے حقوق کا محافظ ہوں۔”
5 اکتوبر 1947 کو انہوں نے “Instrument of Accession” پر دستخط کرکے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان کے ساتھ شامل کردیا۔ یوں بہاولپور پاکستان سے الحاق کرنے والی اولین ریاستوں میں شامل ہوگئی۔ اس فیصلے نے پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ مالی اور سیاسی طور پر بھی مضبوط کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد نواب صادق محمد خان پنجم نے نئی مملکت کی بے مثال مالی مدد کی۔ اس وقت پاکستان شدید مالی بحران کا شکار تھا اور سرکاری خزانہ تقریباً خالی تھا۔ ایسے نازک وقت میں انہوں نے پاکستان حکومت کو ستر ملین روپے یعنی سات کروڑ روپے عطیہ کیے۔ یہ رقم اتنی خطیر تھی کہ ایک اندازے کے مطابق آج اس کی مالیت سینکڑوں ارب روپے بنتی ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق پاکستان کے سرکاری ملازمین کی ابتدائی تنخواہیں بھی ایک ماہ تک ریاستِ بہاولپور کے خزانے سے ادا کی گئیں۔ قائداعظم نے ان خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا تھا:
“نواب صادق محمد خان عباسی نے ہمارے قلم کی روشنائی بھی عطیہ کی۔”
یہ جملہ ان کی بے مثال حب الوطنی اور ایثار کا سب سے بڑا اعتراف سمجھا جاتا ہے۔
نواب صادق محمد خان پنجم فوجی امور میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے ریاستی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ریاستِ بہاولپور کی فوج بعد میں پاک فوج کا حصہ بنی۔ دوسری جنگِ عظیم میں بہاولپور کی فوج نے برطانوی افواج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رحیم یار خان میں ایک ہوائی اڈہ بھی تعمیر کرایا جو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
ان کی شخصیت کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات بھی وابستہ ہیں۔ ایک مشہور واقعہ رولز روائس کمپنی سے متعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لندن میں ایک رولز روائس شو روم میں انہیں ان کے لباس اور رنگت کی وجہ سے مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اس پر انہوں نے کئی مہنگی گاڑیاں خریدیں اور بہاولپور واپس آکر انہیں گلیوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا۔ جب یہ خبر دنیا بھر میں پھیلی تو رولز روائس کمپنی کو باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔ یہ واقعہ ان کی خودداری اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یکم مئی 1946 کو ریاستِ بہاولپور کی جانب سے قیامِ امن کے سلسلے میں خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جبکہ 2013 میں پاکستان پوسٹ نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یہ ان کی قومی خدمات کا اعتراف تھا۔
1955 میں جب ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا تو انہوں نے قومی اتحاد اور پاکستان کے استحکام کی خاطر اپنی ریاست کو مغربی پاکستان میں ضم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ انہوں نے صرف چند لمحوں میں معاہدے پر دستخط کردیے اور کہا کہ وہ عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ یوں ایک خودمختار ریاست نے پاکستان کی وحدت کے لیے اپنی علیحدہ حیثیت قربان کردی۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں محمد ایوب خان نے انہیں “نشانِ قائداعظم” عطا کیا۔ روایت ہے کہ جب انہیں اسلام آباد آکر اعزاز وصول کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر حکومت انہیں اعزاز دینا چاہتی ہے تو صدرِ پاکستان خود بہاولپور آئیں۔ بعد ازاں ایوب خان بہاولپور تشریف لائے اور انہیں یہ اعزاز پیش کیا گیا۔
1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی انہوں نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور دفاعی فنڈ میں مالی عطیات دیے۔ وہ آخری وقت تک پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے سرگرم رہے۔
24 مئی 1966 کو لندن میں 62 برس کی عمر میں جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کی خبر پورے پاکستان خصوصاً بہاولپور میں غم کی لہر بن کر پھیلی۔ حکومتِ پاکستان نے سرکاری سوگ کا اعلان کیا، قومی پرچم سرنگوں کیے گئے، اور ان کی میت کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستان لایا گیا۔
کراچی ایئرپورٹ پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی میت وصول کی۔ بعد ازاں ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے ان کا جسدِ خاکی بہاولپور پہنچایا گیا، جہاں لاکھوں افراد اپنے محبوب حکمران کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ صادق گڑھ پیلس سے ان کا جنازہ توپ گاڑی پر نکالا گیا اور فوجی دستوں نے سلامی پیش کی۔ بعد ازاں انہیں قلعہ دراوڑ کے قریب اپنے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔
آج بھی بہاولپور کے عوام انہیں بے حد محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر مختلف تقریبات، سیمینار اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ان کی خدمات پر تحقیقی نشستیں منعقد ہوتی ہیں اور انہیں پاکستان کے عظیم محسنین میں شمار کیا جاتا ہے۔
نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجمؒ نے اپنی پوری زندگی اس حقیقت کو ثابت کیا کہ ایک حکمران کی اصل عظمت اس کے محلوں، خزانوں یا اقتدار میں نہیں بلکہ اس کی عوامی خدمت، عدل، تعلیم دوستی، فیاضی اور حب الوطنی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی دولت، اقتدار اور ریاست کو پاکستان کے لیے وقف کردیا۔ اگر پاکستان کی تاریخ کے محسنین کی فہرست مرتب کی جائے تو ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔
وہ صرف بہاولپور کے حکمران نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ، ایک کردار اور ایک ایسی تاریخ تھے جو آنے والی نسلوں کو حب الوطنی، خدمتِ خلق، علم دوستی اور قربانی کا درس دیتی رہے گی۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |