فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی
بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کا پرچار کرتے ہیں۔ موصوف نے دنیا کی سات جنگیں بند کروانے کا دعوی کیا۔ وہ امن کا نوبل انعام لینے کے خواہش مند رہے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن بحالی کے لیئے "غزہ امن بورڈ” بھی بنایا، جس کے وہ تن تنہا تاحیات صدر بن بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی جنیوا میں ایران سے ہونے والے امن مذاکرات کے عین درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو نیتن یاہو سے مل کر ایران پر حملہ بھی کر دیا، اور موقف یہ اختیار کیا کہ وہ ایسا کر کے خطے میں امن بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر کے اس امن پسند چہرے کو دنیا نے اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ یہ کتنا حقیقی چہرہ ہے۔ کیا اس چہرے کے پیچھے خود ڈونلڈ ٹرمپ بولتے ہیں؟ ڈونلد ٹرمپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ شائد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جو اپنے چہرے پر امن کا ماسک چڑھائے بغیر دنیا میں امن بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کے ذریعے انسانی خون بہانے اور امن کے درمیان ایک مدھم اور بلکل نازک سی لکیر ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی موجودہ جنگ کی روشنی میں، اب یہ راز پوری دنیا پر کھل گیا ہے کہ امریکی صدر امن کی بحالی کی آڑ میں امن پسندی کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ اس جنگ کے بعد انہوں نے دنیا بھر کو ایک بڑی اور ہولناک تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے نام پر سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں حسب روایت ایک بار پھر جنگ بندی کو ویٹو بھی کیا۔ اس جنگی حکمت عملی کو ” عالمی دہشت گردی” کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کی سلامتی اور بقا چاہتے ہیں جس کا وزیراعظم نیتن یاہو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کا جنگی سزا یافتہ مفرور مجرم ہے۔ ایک سابق امریکی میرین کے بقول یہ جنگ ظلم، ناانصافی اور بربریت کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "اسکول پر پہلے حملے کے بعد، جو بچے بچ گئے تھے، ان کے ماں باپ کو بلایا گیا، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان پر بمباری کر دی گئی۔” ان کے مطابق، "امریکہ نے جنگ کے پہلے دن ایک ایسے مرکز پر چار کروز میزائل داغے تھے جسے انقلابی گارڈ کمانڈ نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے خالی کر دیا تھا۔ تین میزائل خالی گوداموں پر لگے، ان میزائلوں میں سے چوتھا میزائل اس مقام کے اوپر منڈلا رہا تھا، معلومات جمع کر رہا تھا اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات واپس بھیج رہا تھا۔ لیکن اسرائیل امریکہ نے جس مقام کو نشانہ بنایا تھا، انہوں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں، تو انہوں نے اس چوتھے میزائل کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ میزائل اوپر گیا، پھر نیچے آیا اور ان بچوں اور والدین کو جا لگا۔ اس میزائل میں ایک تھرمو بیریک ہتھیار، یعنی فیول ایئر ایکسپلوسیو تھا۔ چنانچہ انہوں نے بٹن دبایا اور اس اضافی ایندھن کو تھرمو بیریک ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ جن لوگوں کو وہ بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے، وہ دراصل وہ بچے تھے جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے۔ انہوں نے اس تھرمو بیریک کروز میزائل کو بم میں بدل دیا، اور ان بچوں جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں کو زندہ جلا دیا۔ اس سے 170 طالبات، بچے اور ان کے والدین قتل ہو گئے۔ یہ امریکی میرین کہتا ہے، "تم قاتل ہو اور جنگی مجرم ہو۔” لیکن امریکی صدر ٹرمپ اب بھی اپنے اوپر امن پسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر کی خواہش ہے کہ دنیا کے سارے ممالک ان کی مرضی کے مطابق چلیں, اسکے غلام بن کر رہیں,جو ملک اسکی غلامی سے انکار کر دے تو پھر وہ ایک دم امن کیلیے خطرہ بن جاتا ہے۔ عالی مقام، امریکی صدر کو بس یہی ایک بہانہ چایئے جس کے بعد وہ امن کے نام پر اس کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔
مشرق وسطی کے عرب مسلم ممالک ٹرمپ کا آسان ٹارگٹ ہیں جن کو قابو کرنے کے لیئے امن کی آڑ میں پہلے ٹرمپ نے ان ممالک سے اڈے لیئے اور انہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا اور اب ایران کے خلاف ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کو بچانے کے لیئے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ ایک عرب فیصل بن فرحان آل سعود نے اس صورتحال پر بڑی برمحل بات کہی کہ، "36 سال تک ہمیں یقین دلایا جاتا رہا کہ امریکی اڈے ہماری حفاظت کے لیے ہیں مگر پہلی جنگ میں ہی ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے۔”. ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ کی سیاست میں یہ جملہ میزائلوں سے زیادہ اثر رکھنے والا ہے، جو خلیجی ممالک کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے۔
کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی دفاعی اور سیاسی پالیسیوں پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کا بیان عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں کو امریکہ کے بارے اپنی پالیسیاں ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ اور ٹرمپ جیسے بے وفا صدر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی، اور جب خلیجی اتحادی ممالک کی حفاظت کا وقت آیا تو امریکی نے اس جنگ میں خطے میں امن قائم کرنے کے نام پر مسلم بردار ممالک کو آپس میں لڑانے کے لیئے اکیلا چھوڑ دیا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |