صدائے کُنْ فَیَکُون
کائنات کے روشنی کی تیزترین رفتاری سے پھیلنے کی بنیادی وجہ کائنات ہی میں خفیہ طور پر پائی جانے والی 68فیصد ڈارک انرجی اور تقریباً 27فیصد ڈارک میٹر ہے۔ کائنات کے یہ وہ حیرت انگیز وجود ہیں جنہں ہم ننگی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتے ہیں لیکن کشش ثقل سے ان کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے. ایک عام شخص کے لیئے یہ سوال تو بنتا ہے کہ جس چیز کو دیکھا ہی نہیں جا سکتا ہے وہ کائنات کے اتنے بڑے دیوہیکل ستاروں، سیاروں، چٹانوں، سمندروں، میدانوں اور ماحولیات کے وجود میں آنے کا کیسے سبب بن جاتے ہیں؟
اس حوالے سے علم کی بہترین تعریف ان معلومات کو جمع کرنا ہے جو تخلیق کا باعث بنتی ہیں۔ اس تناسب سے ظاہرہ کائنات صرف 5فیصد ہے اور بقیہ 95فیصد وہ آسمانی راز ہے جو چیزوں کو وجود میں لاتا ہے۔ یہ سائنسی علم ہی کا اعجاز ہے کہ۔جس کے ذریعے ہم چیزوں کی اس اصل حقیقت اور ان کے وجود میں آنے کے طریقہ کار جاننے اور سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ کائنات کی یہ 5فیصد کم مقدار بھی اتنی زیادہ مقدار ہے اور اس کا اس قدر تقریبا لامحدود حجم ہے کہ اس سے کائنات اربوں کھربوں میلوں کی دوری تک نہ صرف پھیلی ہوئی ہے بلکہ روشنی کی 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پھیل بھی رہی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے ایک سیکنڈ میں کائنات سے پرے تین لاکھ کلومیٹر سے زیادہ تک نئے ستارے اور سیارے بن جاتے ہیں جن کی تعداد اور مقدار اتنی زیادہ ہے کہ آپ ایک سیکنڈ میں نئے ستاروں اور سیاروں کے بننے کا تو چلو حساب لگا سکتے ہیں مگر اس کو کیلکولیٹ کرنا کہ ایک منٹ، ایک گھنٹے یا ایک دن، ہفتے، مہینے یا سال میں کتنے نئے ستارے اور سیارے بنتے ہیں اس آپ کا اندازہ یا حساب لگانا بلکل ناممکن ہے۔ حد نگاہ تک نظر آنے والے ستارے اور سیارے کائنات کا محض تقریباً 5فیصد ہیں۔ کائنات کے یہ وہ ستارے، سیارے، کہکشائیں اور گیسیں ہیں جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں.
اپنی اصل میں یہ ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کیا ہیں؟ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ روئے زمین پر عدم سے ہر لمحے نامیاتی مادوں کی بارش ہوتی رہتی ہے یعنی زمین پر زندگی بخش چیزیں "عدم” یعنی کسی نامعلوم جگہ سے آتی ہیں جس کے بارے سائنس دان ابھی تک یہ معلوم نہیں کر سکے ہیں کہ خود عدم کیا چیز ہے کہ وہ کچھ نہیں لیکن وہ "کچھ” کو تخلیق کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اگر صرف 5فیصد ظاہری کائنات اتنی بڑی ہے تو اگر ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کی 95فیصد دنیا بھی مادے کی طرح وجود میں آ جائے تو وہ کتنی بڑی ہو گی، اس کا نہ تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور پوری روئے زمین پر اس کے اعدادوشمار رکھے جا سکتے ہیں یعنی سوچیں کہ یہ 5فیصد ملا کر 100فیصد کائنات کس قدر بڑی ہو گی؟ یہ سوال ہمارے تصور سے باہر ہے مگر وہ بھی ڈارک میٹر یعنی سیاہ مادے اور سیاہ انرجی کے مقابلے میں اتنی بڑی ہو گی؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں ورطہ حیرت میں ڈالتا ہے اور ہم کائنات کے بارے سوچنے اور غوروفکر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی پہلی 2 دہائیوں کی سب سے بڑی سائنسی دریافت یہی ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر ہے۔ کائنات میں ہم جتنی بھی چیزیں دیکھتے ہیں وہ کائنات کے کُل مادے کا محض 5 فیصد سے بھی کم ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 95فیصد انرجی اور مادے میں قدرت کے کیا سے کیا راز مدفن ہیں اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ سوال سوچنے والوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان رازوں کی دریافت کرے جن سے یہ کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے "بگ بینگ” کے ذریعے وجود میں آئی، جس کے تقریباً ساڑھے 9 ارب سال بعد زمین کی تشکیل ہوئی.
سائنس دانوں کے مطابق ڈارک انرجی ایک "پراسرار توانائی” ہے جو کششِ ثقل (گریوٹی) کے اثرات کو توڑ کر کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور دھکیل رہی ہے۔ گو کہ یہ کائنات میں سب سے زیادہ پائی جانے والی چیز ہے مگر اس کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو کائنات کی توسیع کی رفتار میں اضافہ کر رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کہکشائیں پہلے سوچی گئی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے دور ہو رہی ہیں. کائنات بگ بینگ کے بعد پھیلنا شروع ہوئی، لیکن ڈارک انرجی نے اب اس پھیلاؤ کو تیز کر دیا ہے، جو کہ کہکشاؤں کے درمیان خلا کو بڑھا رہا ہے.
ڈارک میٹر یعنی نظر نہ آنے والا تاریک مادہ نظر آنے والے عام مادے سے مختلف ہے. ڈارک میٹر وہ مادہ ہے جو کہکشاؤں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھتا ہے، جبکہ ڈارک انرجی انہیں الگ کرتی ہے جو کائنات کا سب سے بڑا جزو ہے۔ سائنسدان ابھی تک اس کی اصل نوعیت نہیں سمجھ پائے ہیں، اس کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ خود خلا (سپیس ٹائم) کی ایک خاصیت ہے۔ مختصر یہ کہ ڈارک انرجی وہ غیرمرئی توانائی ہے جو کائنات کو مسلسل اور تیزی سے پھیلا رہی ہے، اور یہ کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے.
ماہرین فلکیات پہلے سمجھتے تھے کہ کائنات کی توسیع، جو تقریباً 13.8 ارب سال پہلے بگ بینگ سے شروع ہوئی تھی، کشش ثقل کی وجہ سے آہستہ آہستہ سست ہو رہی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی فطرت کے دو مختلف مظاہر ہیں۔ ان میں یکسانیت یا مشابہت بس یہی ہے کہ یہ دونوں براہ راست قابل مشاہدہ نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ڈارک وہ "چپکانے والا” والا مادہ ہے جو کہکشاؤں کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے۔ڈارک انرجی وہ جدید ترین دریافتہ وہ پراسرار قوت ہے جس نے البرٹ آئن سٹائن کے کائناتی نظریئے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کوانٹم سائنسدانوں کے مطابق کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے دور دھکیلنے اور نئی کائناتوں کو زندگی دینے والی قوت یہی "ڈارک انرجی” ہے، جبکہ تاریک مادہ کائنات میں موجود اس مادے کو کہا جاتا ہے کہ جس کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا:
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبُوں
حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگُوں
عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوق
نہ مال و دولتِ قاروں، نہ فکرِ افلاطوں
سبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ سے مجھے
کہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردُوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوں
علاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے ترا،
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن،
اُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |