ویل ڈن امارات – Well Done Emirates
ایران اسرائیل جنگ میں متحدہ عرب امارات نے غیر جارحانہ رہنے کا مثالی کردار ادا کیا ہے۔ ابوظہبی اور دبئی کا شمار دنیا کے ان محدود چند شہروں میں ہوتا ہے جہاں کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں زندگی کی ہر وہ سہولت موجود ہے جس کا ایک پرامن شہری خواب دیکھ سکتا ہے۔ خصوصی طور پر ریاست دبئی نے اپنے انفراسٹرکچر اور بہتر معیار زندگی کے حوالے سے چند ہی دہائیوں میں "میٹروپولیٹن سٹی” کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ دنیا کا ہر بڑا انویسٹر یہاں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتا ہے۔ دبئی پاکستان، انڈیا بنگلادیش، فلپائن اور نیپال جیسے غریب اور ترقی پذیر ملکوں کے افراد کو کھلے دل سے روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔ اس معیار کو قائم رکھنے اور لوگوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیئے حالیہ ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں متحدہ عرب امارات نے ایرانی بمباری کے ردعمل کا سردست کوئی جارحانہ جواب نہیں دیا ہے۔
ابوظہبی اور دبئی میں ایرانی اشتعال انگیز بمباری کی وجہ سے غیرملکیوں میں بے چینی ضرور پائی جا رہی ہے لیکن اس کو کم کرنے کے لیئے امارات کی قیادت بڑے شاپنگ مالز میں آ کر ان کے درمیان گھل مل رہی ہے۔ ایران کے ابوظہبی اور دبئی پر میزائل حملے جاری ہیں۔ خاص طور پر ایران دبئی کو روزانہ کی بنیادی پر ہٹ کر رہا ہے۔ لیکن اس کی پراہ نہ کرتے ہوئے چند روز پہلے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ زاید بن سلطان آل نہیان اور دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم، کو عوام کے درمیان دیکھا گیا، جنہوں نے راستے میں آنے والے غیرملکیوں کا حال احوال پوچھا۔
اس سے اگلے روز امارات کے وزیراعظم، نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو بھی عوام کے درمیان گشت کرتے دیکھا گیا۔ جنگ کے دوران مقامی اور غیر ملکیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کی یہ شاندار مثال ہے۔ امارات نے ایران کی جارحیت کے خلاف دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود امارات کی فضاؤں میں ایک درجن سے زیادہ لڑاکا طیارے چوبیس گھنٹے گشت پر رہتے ہیں۔ ایران کے زیادہ تر میزائلوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔ امارات نے ایران پر جوابی حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک انتہائی مستحسن اقدام ہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی جب دبئی اور ابوظہبی کی فلائٹس کینسل ہوئیں تو امارات نے فوری طور پر غیر ملکی مسافروں کو ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو لوگ امارات میں چھٹیاں منانے آئے تھے، پھر فضائی حدود بند ہو گئیں اور پروازیں منسوخ ہو گئیں، اب ائیر لائینز نے انکو ہوٹلوں میں قیام کروایا ہے۔ یو اے ای کی حکومت نے ہر ہوٹل کو ہدایت کی ہے کہ مہمانوں کو چیک آؤٹ نہ کریں۔ اخراجات ہم ادا کریں گے۔ ابوظہبی کے محکمۂ ثقافت و سیاحت نے امارات کے تمام ہوٹلز کو ہدایت نامہ بھیج دیا ہے کہ جو مسافر واپس نہیں جا سکتے، ان کا قیام بڑھا دیا جائے اور بل حکومت کو بھیج دیا جائے۔ چند گھنٹوں بعد دبئی نے بھی یہی حکم جاری کر دیا۔ یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی یے کہ حکومت تمام متاثرہ مسافروں کی رہائش اور کھانے کے اخراجات ادا کر رہی ہے۔ اماراتی حکومت کے اس اقدام کے بعد نجی کمپنیوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ دبئی کی ہالیڈے رینٹل کمپنیوں نے اپنے اپارٹمنٹس مفت کھول دیئے، اور چند گھنٹوں میں 250 سے زیادہ ہاسٹلز نے بھی ایسا ہی کیا جس کے بعد امارات میں نہ کوئی مہنگائی، نہ ہوائی اڈوں پر زمین پر سونے کی نوبت، اور نہ یہ کہا گیا کہ "اپنا مسئلہ خود حل کرو”۔ امارات ایک ایسی حکومت کا کردار ادا کر رہی ہے جو ہر پھنسے ہوئے مسافر کے گھر واپس جانے تک تمام اخراجات اٹھا رہی ہے۔ اسی دوران دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے عید سے پہلے تمام ملازمین کو عیدالفطر سے پہلے 17مارچ تک پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کریں۔
امارات نے علاقائی کشیدگی کے دوران یہ اقدامات اٹھا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ خطے کی صورتحال کے باوجود دبئی میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے اور وہاں کی رونقوں میں کوئی کمی نہیں آئی یے۔ امارات کے صدر مملکت، وزیراعظم اور دبئی کے ولی عہد کا دبئی مال میں موجود عام لوگوں اور سیاحوں سے ملاقاتیں کرنا اور ان کے ساتھ وقت گزارانا، واضح کرتا ہے کہ اماراتی قیادت پرسکون ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پر انہیں مکمل بھروسہ ہے۔
ان اچانک دوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی کافی وائرل ہو رہی ہیں جن میں عوام اپنے رہنماؤں کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |