دھوپ کا سایہ (افسانہ)
جب سے ہوش سنبھالا ابو کو ہمیشہ سنجیدگی میں دیکھا۔ طبیعت میں چستی تھی اور قدموں میں پھرتی مگر چہرہ ہمیشہ خاموش جیسے کسی نہ ختم ہونے والے غور و فکر میں ڈوبا ہوا ہو۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ان کی آنکھ کھل جاتی۔ وضو کر کے مسجد کی طرف روانہ ہوتے اور واپسی پر سورۂ یاسین کی تلاوت ان کا معمول تھا۔ ایک پیالی چائے اور ایک آدھ بسکٹ کے ساتھ دن کا آغاز کرتے اور ٹھیک پانچ بجے گھر سے نکل جاتے۔
چار گھنٹے کا روزانہ سفر وہ بھی عوامی بس میں جو ہر پانچ منٹ بعد رکتی۔ گرمی، سردی، ہجوم اور تھکن سب ان کے ساتھ سفر کرتے مگر کبھی لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ ذمہ داریوں کا بوجھ اور محنت کی لگن نے ان کے حوصلے کو کبھی پست نہ ہونے دیا۔
وقت گزرتا گیا۔ مہنگائی نے آہستہ آہستہ پنجے گاڑ لیے۔ آٹھ بیٹیاں اور ایک بیٹا جو بی ایس کا طالب علم تھا گھر کی ضروریات بڑھتی گئیں۔ گزارہ مشکل ہونے لگا۔ ایک دن ابو نے اچانک فیصلہ کیا کہ چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہو سکیں۔
گاؤں میں ہمارا واحد گھر تھا اور ابو کا سب سے بڑا شوق یہ تھا کہ ان کی بیٹیاں اعلا تعلیم حاصل کریں۔ معاشرے کی تنگ نظری، طعنوں اور رمزیہ باتوں کے باوجود انھوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ لوگ کہتے،
“ بیٹیوں کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے؟”
مگر ابو مسکرا دیتے۔
“علم کبھی ضائع نہیں جاتا۔” وہ مختصر جواب دیتے۔
انھوں نے نہ دن دیکھا نہ رات۔ رات کے دو بجے روزگار کی فکر میں نکل جانا اور اگلی رات دس بجے تھکے قدموں کے ساتھ لوٹنا یہ ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ گرمیوں کی جھلسا دینے والی لو ہو یا سردیوں کی یخ بستہ ہوا وہ اپنے سکون پر اولاد کے سکون کو ترجیح دیتے رہے۔
اکثر بھائی ان سے کہتے:
“ابو جان! آرام صحت کے لیے ضروری ہے۔ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جایا کریں۔ آپ کو دن بھر خون پسینہ بہاتے دیکھ کر دل دکھتا ہے۔”
بیٹے کے یہ الفاظ ان کے لیے مسکراہٹ کا باعث بنتے۔ ایک لمحے کو یوں لگتا جیسے برسوں کی تھکن کسی نرم ہوا میں بدل گئی ہو۔
وہ ہمیشہ کہتے،
“برے وقت کا کوئی علم نہیں ہوتا بیٹا! میانہ روی اختیار کرو اور کام جو بھی محنت سے کیا جائے اس کا ثمر ضرور ملتا ہے۔”
شاید زندگی کے تلخ تجربات نے انھیں سکھا دیا تھا کہ وقت کے ظالمانہ فیصلوں کے آگے کبھی کبھی سر جھکانا پڑتا ہے مگر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔
اللہ کا کرم ہوا جیسے جیسے تعلیم اور ضروریات بڑھتی گئیں کاروبار میں بھی برکت آنے لگی۔ ایک عام سا ملازم جو کل تک بسوں کی دھول کھاتا تھا اب اپنے کاروبار کا مالک بن چکا تھا۔ ابو کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون دکھائی دینے لگا۔ سنجیدہ آنکھوں کے پیچھے چھپا خواب اب حقیقت بنتا نظر آتا تھا۔
انھوں نے اپنی خواہشیں جلا کر بچوں کے خواب روشن کیے تھے۔ ان کے دیے کی روشنی کبھی مدھم نہ پڑی۔مگر شاید قسمت کی آزمائش ابھی باقی تھی۔
زندگی میں ایک ٹھہراؤ آیا ہی تھا کہ تقدیر نے نئی آزمائش کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ مالی خوش حالی کے بعد اب بیٹیوں کے نصیب امتحان میں ڈال دیے گئے۔ ابھی ماں باپ نے سکھ کا سانس لینا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دن اچانک شور برپا ہوا۔
“ابا! مرحا کا آنگن اجڑ گیا ہے…”
بھائی کی کپکپاتی آواز نے فضا کو چیر دیا۔ لمحہ بھر میں گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ابو کے چہرے کی چمک جیسے کسی نے چھین لی ہو۔ جوانی کی محنت سے کمائی ہوئی روشنی یک دم مدھم پڑ گئی۔
مرحا کی شادی کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔ ہم سب اسے ہنستا مسکراتا دیکھ کر مطمئن تھے۔ مگر قسمت نے اس کے حصے میں جدائی لکھ دی تھی۔ اس کا گھر ٹوٹ گیا تھا وہ خواب جو ابو نے اپنی ہتھیلیوں پر رکھ کر رخصت کیا تھابکھر چکا تھا۔
ابو خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھےلیکن آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ شاید آنسو بھی ان کی ہمت سے ڈر گئے تھے۔
“اللہ کے فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں…” انھوں نے دھیمی آواز میں کہا۔ان اس آواز میں برسوں کی تھکن چھپی تھی۔
آنگن کے پھول مرجھانے لگے تھے۔ وہ باپ جو دھوپ میں جل کر اولاد کے لیے سایہ بنا رہا آج خود بے سایہ محسوس ہو رہا تھا۔ اس دن پہلی بار لگا کہ ابو بھی انسان ہیں محض حوصلے کا استعارہ نہیں۔
باپ جیسی ہستی واقعی ان مول ہوتی ہے۔ ان کے قدموں کی دھول میں عجب سی خوش بو ہوتی ہے جو پورے آنگن کو مہکا دیتی ہے۔ ان کی موجودگی زندگی کے کڑے حالات کا مقابلہ آسان بنا دیتی ہے۔اس دن میں نے دیکھا کہ وہ مضبوط شجر بھی اندر سے زخمی ہو سکتا ہے۔
وقت گزرتا رہا۔ مرحا نے صبر کا دامن تھاما۔ ابو نے ایک بار پھر ہمت باندھی۔
“بیٹی کا گھر ٹوٹا ہے اس کی زندگی نہیں۔” انھوں نے کہا
اور یوں وہ پھر سے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔
اس واقعے کے بعد میں نے ابا کے چہرے پر وہ بے فکری والی مسکراہٹ کبھی نہ دیکھی۔ سنجیدگی پہلے سے گہری ہو گئی تھی جیسے آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے خزاں اتر آئی ہو۔
پھر بھی وہ ہر صبح فجر کی اذان پر اٹھتے ،وضو کرتے ، مسجد جاتے اور سورۂ یاسین کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ اب بھی چائے کے ساتھ ایک بسکٹ لے کر زندگی کی بس میں سوار ہو جاتے ہیں۔
فرق بس اتنا ہے کہ اب میں ان کے چہرے پر سنجیدگی کے پیچھے چھپی دعا کو پڑھ سکتی ہوں۔
وہ دعا جو ہر باپ اپنے بچوں کے لیے مانگتا ہے۔
“یا اللہ! میری اولاد کو دھوپ نہ دکھانا چاہے مجھے ساری عمر جلنا پڑے…”

جام پور
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |