اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔

دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے ۔

شاعر : سیدزادہ سخاوت بخاری مقیم : مسقط ، سلطنت عمان 21 نومبر 2020 بروز ھفتہ اٹکاں ناں میلہ ہووے کفتاں ناں ویلہ ہووے ھتے وچ چُکاّ رکھاں کَچھاں وِچ تھیلہ ہووے اٹکاں ناں میلہ ہووے موھڈے اتے شال ہووے نِکی نِکی چال ہووے مِنّا مینڈھے نال ہووے کھانا پیا […]