اٹک Attock کی سڑکیں
کالم نگار: سید حبدار قائم
کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی سڑکوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ سڑکیں محض راستے نہیں ہوتیں بلکہ یہ معیشت کی دھڑکن اور تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہیں انہی راستوں پر تجارت کے قافلے چلتے ہیں انہی پر خوابوں کی منزلیں آباد ہوتی ہیں اور انہی سے سیاحت کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر جب یہی سڑکیں زخم خوردہ ہو جائیں تو ترقی کے سارے خواب بھی دھندلا جاتے ہیں۔
ضلع اٹک کی سڑکیں آج ایک ایسی ہی کہانی سنا رہی ہیں جو درد سے لبریز ہے اٹک سے فتح جنگ، اٹک سے بسال چوک اور فتح جنگ سے پنڈیگھیب تک کے راستے کسی شکستہ دل کی طرح جگہ جگہ سے ٹوٹے ہوئے ہیں گڑھوں سے بھری یہ سڑکیں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے وقت نے ان پر بے رحمی سے اپنے نشانات ثبت کر دیے ہوں سفر اب سہولت نہیں بلکہ ایک آزمائش بن چکا ہے، جہاں ہر موڑ ایک نئی تکلیف کا پیامبر ہے
گرمی کی جھلسا دینے والی دوپہریں اور خشک ہوائیں اس کرب کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ سڑکوں سے اٹھنے والی گرد یوں فضا میں بکھرتی ہے جیسے کسی اداس داستان کا دھواں ہو جو ہر سانس کے ساتھ سینے میں اتر کر بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ دمہ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس خاموش آلودگی کی گواہ ہے اور جب بادل برستے ہیں تو یہی سڑکیں کیچڑ اور پانی کا دلدل بن کر زندگی کو مزید اجیرن کر دیتی ہیں
عجب تضاد ہے کہ حکومت جدیدیت کے خواب دکھاتی ہے الیکٹرک بسوں کے منصوبوں کے چرچے ہوتے ہیں مگر جن راستوں پر یہ بسیں چلنی ہیں وہی ناپید ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے بغیر بنیاد کے محل تعمیر کرنے کی خواہش کی جائے ترقی کے دعوے تبھی معتبر ہوتے ہیں جب زمین پر ان کے نقوش بھی نظر آئیں
گلگت میں سڑکوں کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنما نواز شریف اگر کبھی اٹک کا رخ کریں تو شاید انہیں یہاں کی مٹی میں اٹے ہوئے مسائل بھی دکھائی دیں۔ یہاں کے لوگ بھی توجہ کے منتظر ہیں یہاں کی سڑکیں بھی مرہم کی طالب ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ یہ خاموش چیخ ایوانوں تک پہنچے اور کسی دل کو جھنجھوڑ دے
یہ سڑکیں صرف راستے نہیں عوام کے صبر کا امتحان بن چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان زخموں پر مرہم رکھا جائے ورنہ یہ خاموش چیخ کبھی نہ کبھی ایک بلند صدا میں بدل جائے گی۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |