چراغِ سخن بجھ گیا: آہ سید سلمان گیلانی
رات تھکن کے باعث جلدی آنکھ لگ گئی تھی۔ قریب رات بارہ بجے آنکھ کھلی تو یوں ہی موبائل فون اٹھایا۔ فیس بک کھولی تو عزیز دوست حسن ظہیر راجا کی یہ افسوس ناک خبر سامنے آئی کہ ہمارے پیارے شاہ جی، سید سلمان گیلانی صاحب رمضان کے اس تیسرے روزے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔ خبر پڑھ کر جیسے دل پر ایک گہرا صدمہ آن پڑا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ مسکراتا چہرہ، وہ مترنم آواز اور وہ محبت بھرا لہجہ اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے۔
میں سید سلمان گیلانی صاحب کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب عیدالاضحیٰ کے موقعے پر ٹی وی پر ان کی مزاحیہ شاعری سنا کرتا تھا۔ 2014ء سے موبائل فون پر رابطہ قائم ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ بڑے دل والے انسان بھی تھے۔ 2019ء میں جب ان کا نمبر مجھ سے ضائع ہو گیا اور میں نے فیس بُک میسنجر پر لکھا:
“السلام علیکم سر۔”
تو فوراً جواب آیا:
“وعلیکم السلام بردر”
نمبر مانگا تو برجستگی سے فرمایا: “جی کیوں نہیں” اور ساتھ دعا بھی دی کہ سلامتی ہو۔ اگر کبھی کال فوراً اٹینڈ نہ کر پاتے تو بعد میں ضرور واپس کال کرتے۔ یہ محبت ان کے مزاج کا حصہ تھی محض رسمی تعلق نہیں۔
2020ء میں جب میں گورنمنٹ کالج میرپورہ نیلم میں تعینات تھاایک روز سینئر مدرس سید نسیم شاہ صاحب اور دیگر احباب کے ساتھ شعروادب پر گفت گو ہو رہی تھی۔ نسیم شاہ صاحب ایک ایسے شاعر کا ذکر کر رہے تھے جو گا کر مزاحیہ شعر سناتے ہیں مگر نام یاد نہیں آ رہا تھا۔ میں فوراً بھانپ گیا کہ بات سلمان گیلانی صاحب کی ہو رہی ہے۔ میں نے پوچھا: “سلمان گیلانی کی بات تو نہیں کر رہے؟” ان کی آنکھیں چمک اٹھیں: “ہاں ہاں وہی!”
میں نے بنا کچھ بتائے موبائل نکالا اور گیلانی صاحب کا نمبر ملا دیا۔ حسبِ معمول انھوں نے فوراً کال اٹینڈ کی۔ سلام دعا کے بعد عرض کیا کہ آپ کے ایک چاہنے والے سید نسیم شاہ صاحب میرے پاس بیٹھے ہیں لیں بات کریں اور فون ان کے حوالے کر دیا۔ نسیم شاہ صاحب کی خوشی اور حیرت دیدنی تھی۔ بعد میں انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں میرپورہ کالج مدعو کیا جائے۔ میں نے ذکر کیا تو فرمایا: “کیوں نہیں آؤں گا۔”
اگرچہ یہ خواہش عملی صورت اختیار نہ کر سکی مگر نسیم شاہ صاحب اکثر ان کی سادگی اور محبت کا ذکر کرتے رہے۔ میرے لیے میرپورہ کالج کی وہ نشست آج بھی ان کے خلوص اور عظمت کا زندہ حوالہ ہے۔
7 ستمبر 1951ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے سید سلمان گیلانی نے اپنی زندگی ادب، دین اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے وقف رکھی۔ وہ تحریکِ ختمِ نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحب زادے تھے اور خود بھی عقیدۂ ختمِ نبوت کے بڑے داعی اور محافظ تھے۔ ان کی زندگی میں نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب سے عقیدت کا دیدنی وفور تھا۔ یہی عقیدت ان کی شاعری میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے۔
ان کی خودنوشت "میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی” جو کچھ عرصہ قبل شائع ہوئی، کے بارے میں روزنامہ نوائے وقت کے معروف کالم نگار اسد اللہ غالب لکھتے ہیں:
"سید سلمان گیلانی کی خود نوشت ’’میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘‘ ان کی یادداشتوں اور تجربات و مشاہدات کا ایسا حسین مرقع ہے جسے انھوں نے خونِ دل سے تحریر کیا ہے۔ یہ مشاہدات ناقابلِ فراموش واقعات کا انسائی کلوپیڈیا بھی کِہ سکتے ہیں۔ کوئی دو چار برس کی بات نہیں نصف صدی کا قصہ ہے۔ گزشتہ پچاس پچپن برس سے ہی انھوں نے ایک ایسی بھرپور زندگی گزاری اور بہت بڑی بڑی اور عظیم ہستیوں کی صحبت میں رہ کر زندگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا کہ ان کی یادوں کی زنبیل میں ایسے ایسے عجیب و غریب اور ناقابل فراموش واقعات جنھیں انسان کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔”
طویل علالت کے باوجود ان کا حوصلہ کم نہ ہوا۔ کچھ عرصہ شیخ زید اسپتال میں زیرِ علاج رہے مگر بیماری میں بھی دوستوں کو دلاسہ دیتے رہے۔ 25 دسمبر 2025ء کو انھوں نے لکھا:
"الحمدللہ”
دوست میری تیمارداری کرنے آتے ہیں تو مجھے دیکھ کر چہرے سے ان کا غم جھلک رہا ہوتا ہے دور والے الگ پریشان ہو رہے ہیں۔ سوچا ان کے درد کو ہلکا کیا جائے یعنی کوئی شوخ اور تازہ کلام پوسٹ کیا جائے تاکہ ان کو تسلی ہو۔ دعاؤں کی درخواست۔”
یہ ظرف اور حوصلہ ان کی شخصیت کا امتیاز تھا۔
سید سلمان گیلانی کی شاعری ان کی شخصیت کا آئینہ تھی۔ مزاح میں شائستگی، طنز میں تہذیب اور نعت و منقبت میں عقیدت کی گہرائی:
گر یوں نہ کیا نفس پہ میں جور کروں گا
اک بیوی ہے پہلے مری تین اور کروں گا
ہر صوبے سے لاؤں گا دلہن اپنے لیے میں
اس عزم کی تکمیل میں فی الفور کروں گا
اے میرے وطن میں تری یک جہتی کی خاطر
چاروں کو اکٹھا یہاں لاہور کروں گا
ان کے مزاح میں بھی بہت گہری حکمت دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح ان کی سنجیدہ غزل سے شعر دیکھیں:
اس نے مجھے سلام کیا لام کے بغیر
یہ بد دعا تھی مجھ کو مرے نام کے بغیر
ہر روز ماں کا چہرہ میں تکتا ہوں پیار سے
ہر روز حج میں کرتا ہوں احرام کے بغیر
اسی طرح نعتیہ رنگ میں عقیدت کا دیدنی جلوہ:
کاش مٹی مری ٹھکانے لگے
موت آئے مجھے مدینے میں
روضے کے متصل بقیع ہے جو
دفن ہو جاؤں اس دفینے میں
نا خدا جس کا ہے رسولِ خدا
عافیت ہے اسی سفینے میں
دل کو حاصل سکون گیلانی
یا ہے مکے میں یا مدینے میں
اور علالت کے عالم میں بھی یہ اعتراف:
اب بھی نغمات سے جو پُر ہو ، میں وہ ساز نہیں
گو پر و بال تَو ہیں قوتِ پرواز نہیں
اسپتال میں بھی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نعت پڑھنا اور مضبوط اعصاب کے ساتھ ہمت سے کام لینا ان کا تادم مرگ شیوہ رہا ۔ گیلانی صاحب کی صحابہ کرام اور اہلِ بیت سے محبت ان کے اشعار میں بھی عیاں تھی۔ درج ذیل اشعار اس بات کے غماز ہیں کہ ان کے دل میں صحابہ اور اہلِ بیت کے لیے کتنی عقیدت اور احترام تھا خلیفۂ دوم کی شان دیکھیں:
ہے روم کا میدان بھی میدان عمرؓ کا
ایران کی بھی فتح ہے فیضان عمرؓ کا
اب کعبے کے اندر ہی ادا ہوں گی نمازیں
روکے تو کوئی اب یہ ہے اعلان عمرؓ کا
یہ دیکھ علیؓ نے کسے داماد بنایا
اے دشمنِ دین نام تو پہچان عمرؓ کا
یا منقبت حیدر کرار سے یہ شعر:
علیؓ امام، علیؓ مرتضیٰ، علی کرّار
علیؓ ہے سلطنتِ فقر کا سپہ سالار
علیؓ نے کاٹ کے رکھ ڈالے مرحب و عنتر
علیؓ ہے رونقِ محراب و زینتِ منبر
علیؓ بہارِ گلستانِ علم و حکمت ہے
علیؓ ضیاءِ چراغِ کتاب و سنت ہے
علیؓ فقیہ علیؓ متقی علیؓ دانا
علیؓ نقیبِ رسالت علیؓ حبیبِ خدا
یہ اشعار سید سلمان گیلانی کی روحانی محبت، صحابہ و اہل بیت سے عقیدت اور دینی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔ شاعرِ اسلام سید سلمان گیلانی مرحوم کی نمازِ جنازہ 22 فروری 2026ء اتوار،بہ مطابق چار رمضان المبارک، بعد از نماز ظہر جامعہ اشرفیہ، لاہور میں ادا کی گئی۔
چراغِ سخن بجھ گیا مگر اس کی روشنی اور اسلام کے اس سپاہی کی محبت ہماری یادوں اور لفظوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلا مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
احقر: فرہاد احمد فگار

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |