وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں

وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں
imran asad

وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں
انہیں سدھارنے کو لاؤ نبؐی کی امت میں
وہ نصف میرا اور آدھا جہاں بھر کا ہے
گھمائے رکھتا ہے وہ سب کو نصف عادت میں
وہ مصلحت کے تقاضوں کو جانتے ہی نہ ہو
گرفت ہوتی گئی ہر نئی وضاحت میں
اسے یہ دکھ نہ چاہا گیا اسے پورا
ہمیں یقین کی ڈوبے ہیں اس کی چاہت میں
کہا تھا طبع میں رکھو سدا میانہ روی
بالآخر ٹوٹ گیا ایک دن وہ شدت میں
اسد تمہاری زبان میں خدا نے دی تاثیر
عجب سرور خدا نے رکھا فصاحت میں
کلام- عمران اسؔد

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں