سوچیں کہ آپ کیسے سوچ سکتے ہیں
تحریر : حنان شیر
سوچ انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ ہی انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ سوچ انسانی زندگی کے ہر ایک پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ بات چیت ہو، فیصلہ سازی ہو، مسائل کا حل ہو، تخلیقیت و انویشن ہو، جزبات کا سامنا ہو یا اخلاقی استدلال ہو۔ آج تک جو بھی تخلیقات وجود میں آئی ہیں وہ سوچ کا ہی نتیجہ ہیں۔
یہ کالم سوچ کے عام تاثر اور حقیقی سوچ کے حصول پر مبنی ہے . ۔سوچ ایک دماغی حالت ہے جو آپ کو کیسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں تک پہنچاتی ہے۔تیسری دنیا کا المیہ یہ ہے کہ ان کی سوچ حیاتیاتی ضروریات کے گر ردا گرد گھوم رہی ہے۔ وہ اپنی خوراک کی ضروریاتِ کے پورا کرنے کو ہی حقیقی سوچ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس حصے کی طرف سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نظر نہیں آ تی۔ ان کی سوچ روٹی، کپڑا اور مکان تک ہی محدود ہے۔
(Needs of Hierarchy ( میزلو ایک ماہر نفسیات تھے جو اپنے زمانہ نظریے کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے1943 میں ضروریات کی درجِہ بندی ایک اہرام کی شکل میں کی ہے ۔ جس میں کھانے، پینے اور سوچنے ضروریات، اپنی حفاظت کی ضروریات، محبت کی ضروریات، عزت نفس کی ضرور یات اور حقیقت پسندی کی ضروریات بال ترتیب شامل ہیں۔ ان تمام درجات کو پار کر کے ہی انسان مفکر بن سکتا ہے ۔ سوچ کے حقیقی حصول کے لیے تعلیم واحد حل ہے ۔ تار یخ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیمی آزادی ہے ۔
چند سائنس دانوں کی مثالیں جنہوں نے اپنی سوچ سے دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا درج ذیل ہیں ۔
یہ سوچ ہی ہے جس کی وجہ سے آئن سٹائن ایک مشہور سائنس دان نے نظریہ اضافت، ماس انرجی مساوات ، براونین موشن اور کوانٹم فزکس کے نظریات دے کر فزکس کے بنیادی تصورات میں انقلابی تبدیلیاں کیں ۔جس سے آج بھی انسانیت کو فاہدہ پہنچ رہا ہے۔ان میں ج۔پی۔اس کا نظام، شمسی پینل، نیوکلیئر انرجی، ام۔ار۔ا اور پی۔ای۔ٹی سکین قابل ذکر ہیں۔
نکولا ٹیسلا ایک ماہر ایجادات تھے ۔ انہوں نے سوچ جیسی نعمت کو استعمال کرکے ایسی ایجادات کیں کہ جن کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی ایجادات میں ذیل شامل ہیں نظام اے سی، ٹیسال کوئل، انڈکشن موٹر، ریڈیو، وائرلیس بجلی کی فراہمی، ٹیسال ٹربائن، ریموٹ کنٹرول۔ان کے ساتھ ساتھ ماریہ کیوری جو ایک علمی ماہر فزکس اور کیمسٹ تھیں۔ ان کی سائنس، طب اور ریڈیولوجی میں لا تعداد خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت سے دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔ ان کی خدمات میں ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت، ریڈیم کو پولونیم سے الگ کرنے کا کام ، سب سے بڑھ کر انہوں نے کینسر کے عالج کے لیے ریڈیو ایکٹیویٹی کے استعمال کو دریافت کیا ۔
نیز تعلیم کا حصول عام ہی ایک قوم میں سوچ کے فروغ کا باعث ہے ۔
Title Image by Alexander Belyaev from Pixabay
میرا نام ڈاکٹر حنان شیر ہے اور میرا تعلق چنیوٹ، پاکستان سے ہے۔ میں ایک گولڈ میڈلسٹ ایم بی بی ایس ڈاکٹر، دو لسانی (اردو و انگریزی) کالم نگار اور شاعر ہوں۔ طب کے شعبے سے وابستگی کے ساتھ ساتھ ادب اور تحریر میری شخصیت کا اہم حصہ ہیں۔ میری تحریریں انسانی احساسات، معاشرتی مسائل اور فکری موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں قلم کو آگہی، مثبت تبدیلی اور بامعنی مکالمے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہوں۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |