ہمارا ملک لاحاصل افواہوں، فضول بحثوں اور چٹخارے دار گپ شپ کا ٹی ہاوُس بنتا جا رہا ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کو عروج حاصل ہوا ہے ہر رائے دہندہ خود کو دانش و حکمت کا تیس مار خان سمجھنے لگا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ٹرینڈ چل جاتا ہے۔ پہلے پہل لگ حجاموں کے گرد جمع ہو کر ملکی صورتحال پر بحث کر کے دل ہلکا کرتے تھے، اب لوگ صبح سویرے سوشل میڈیا گروپس پر ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ فون پر روز ناپسندیدہ ویڈیوز اور منقول تحریں آتی ہیں۔ بعض دفعہ فون آن کرنے کے بعد انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کب میسجز آنے کا طوفان بند ہوں۔
ہماری نوجوان نسل کا بڑا حصہ اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا ایپس پر ضائع کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا میں اس وقت بھی ٹک ٹاک میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چند لوگوں نے ٹک ٹاک سے کروڑوں کمائے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں معاشرے کو کیا ملا ہے؟ ایک دو دفعہ ٹک ٹاک کھولنے پر اندازہ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل کی اجتماعی سوچ بیہودگی کے کس بدنما گٹر میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ غیر اخلاقی چیلنجز، فحش حرکات اور توجہ حاصل کرنے کے لیے شرمناک حرکتیں اب "کانٹینٹ” کا نام پا چکی ہیں۔
سوشل میڈیا برا نہیں، بلکہ معلومات کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ تعلیم، تحقیق اور آگاہی کے لیے اس سے بہتر پلیٹ فارم کوئی نہیں۔ لیکن ہم نے اس نعمت کو زحمت بنا لیا ہے۔ آج ہمارے ٹرینڈز میں سائنس، تاریخ یا فلسفے کا ذکر نہیں ملتا۔ اس کی جگہ سازشی تھیوریز، فرقہ وارانہ بحثیں اور ذاتی کردار کشی نے لے لی ہے۔ ایک دن کسی سیاسی لیڈر کی پرانی ویڈیو وائرل ہوتی ہے، دوسرے دن کسی اداکارہ کی ذاتی زندگی کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے۔ اس فضول بحث و تمحیص میں اصل مسائل مہنگائی، تعلیم، صحت اور روزگار وغیرہ کہیں پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس منفی رجحان کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ نئی نسل کی منفی ذہن سازی کر رہا ہے۔ جب بچہ روزانہ بیہودہ چیلنجز اور فحش مواد دیکھے گا تو اس کی سوچ، زبان اور کردار پر اس کا اثر پڑے گا۔ سائیکالوجی کے ماہرین بھی مانتے ہیں کہ جو کچھ ہم بار بار دیکھتے ہیں، لاشعوری طور پر ہم ویسا ہی بنتے چلے جاتے ہیں۔ یوں آج کے یہ ٹرینڈز کل کے کردار تشکیل دے رہے ہیں۔
اس کا سدباب کیسے ہو؟ سب سے پہلے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وہ بچوں کے موبائل پر نظر رکھیں، ان کو معیاری مواد کی طرف راغب کریں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں "ڈیجیٹل لٹریسی” کی کلاسز لازمی ہونی چاہییں تاکہ نوجوانوں کو سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا استعمال کیسے کرنا ہے، نہ کہ وہ سوشل میڈیا کے ہاتھوں استعمال ہونے لگیں۔
دوسرا، حکومت اور پیمرا کو چاہیے کہ غیر اخلاقی مواد پر سخت پابندی لگائیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک سے مطالبہ کیا جائے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق مواد فلٹر کریں۔ صرف پابندی کافی نہیں، اس کا متبادل بھی دینا ہو گا۔ سرکاری سطح پر تعلیمی، سائنسی اور فنی مواد کو پروموٹ کیا جائے۔ انعام، اسکالرشپ اور مقابلے رکھے جائیں تاکہ نوجوان علم اور ہنر کے ٹرینڈز بنائیں۔
ہم سب سوشل میڈیا پر تربیت اور اسکے بہتر استعمال کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی بھی تحریر، ویڈیو یا پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ معلومات مفید ہیں؟ کیا اس سے کسی کی اصلاح ہو گی یا اس کے معاشرے پر منفی اثرات پڑیں گے اور وقت بھی ضائع ہو گا؟ اگر ہر شخص یہ ایک سوال خود سے کر لے تو سوشل میڈیا کا رخ خود بخود تعمیری اور مثبت رخ اختیار کر لے گا۔سوشل میڈیا ہمارا دشمن نہیں، ہماری ہی سوچ کا آئینہ ہے۔ اس میں وہی چہرہ نظر آئے گا جس کا ماسک ہم نے چڑھا رکھا ہو گا۔ ہمیں اپنا چہرہ، عادات اور اپنا ماسک بدلنا ہو گا۔
یاد رکھیں، موبائل ہاتھ میں تلوار کی طرح ہے۔ نادان کے ہاتھ میں ہو تو وہ اپنا ہی پاؤں کاٹ لیتا ہے، اور دانا کے ہاتھ میں ہو تو وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ ڈیجیٹل لٹریسی کا مطلب صرف "ایپ چلانا” نہیں، بلکہ "سوچ بدلنا” ہے۔ جب ہم اپنی انگلی کی ایک جنبش سے دنیا بدل سکتے ہیں، تو کیوں نہ اسے گالی کی بجائے دعا، بحث کی بجائے علم، اور ٹرینڈ کی بجائے تربیت کے لیے استعمال کریں؟ آئیے عہد کریں کہ ہم اسکرین کے قیدی نہیں، اس کے خالق ہیں کیونکہ کل کی نسل آج کے ہمارے کلکس کی محتاج ہے۔
حیرانی کی بات ہے کہ وہ 97 سال کی عمر میں بھی ٹیک کانفرنسز میں لیکچر دیتے ہیں اور موبائل فون کے مستقبل کی وضاحت کرتے ہیں۔ انہوں نے مواصلات کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لیئے جو پودا لگایا، وہ اسے گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے پانی دے رہے ہیں۔ مارٹن کوپر 26 دسمبر 1928ء کو شکاگو میں پیدا ہوئے۔ 2026 میں دنیا کی کل آبادی 8 اشاریہ 3 ارب ہے لیکن استعمال ہونے والے موبائل فونز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مارٹن اپنی ایجاد کی کامیابی کا یہ عروج اپنی زندگی ہی میں دیکھ رہے ہیں۔ مارٹن دسمبر 2026 میں 98 برس کے ہو جائیں گے۔ اس بزرگی کے باوجود وہ آج بھی نئی چیزیں سیکھتے اور سکھاتے ہیں۔
موبائل فون ایجاد کرنے کے بعد انہوں نے اپنا پہلا انٹرویو اسی جگہ پر کھڑے ہو کر دیا تھا، جہاں سے انہوں نے 3 اپریل 1973ء کو اس سے لینڈ لائن فون پر دنیا کی پہلی موبائل کال کی تھی۔ وہ امریکی کمپنی موٹورولا (Motorola) کے سینئر انجینئر تھے۔ انہوں نے موٹورولا ڈائناٹیک نامی پروٹوٹائپ فون سے یہ پہلی تاریخی کال کی تھی۔ اس وقت موبائل فون کا وزن لگ بھگ 2 کلو گرام تھا اور اس کی لمبائی ایک فٹ سے زیادہ تھی۔ اسے مکمل چارج ہونے میں 10 گھنٹے لگتے تھے اور اس پر بمشکل 35 منٹ تک بات ہوتی تھی۔ مارٹن کی اس ایجاد نے جدید دور کے ٹیلی کمیونیکیشن اور اسمارٹ فونز کی بنیاد رکھی، جس کے بعد دنیا بھر میں پورٹیبل فون کا ایک انقلاب برپا ہو گیا۔
وائرلیس کو اطالوی سائنسدان گگلیلمو مارکونی (Guglielmo Marconi) نے 1895 میں ایجاد کیا۔ اس سے پہلی بار کامیابی سے ریڈیو لہروں کے ذریعے وائرلیس سگنل بھیج کر ریڈیو ایجاد ہوا، جس کے بعد 1901 میں انہوں نے پہلا ٹرانس اٹلانٹک وائرلیس رابطہ قائم کیا جبکہ 1893 میں نیکولا ٹیسلا نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر وائرلیس بجلی کی منتقلی کا نظریہ پیش کیا۔ 1895 میں گگلیلمو مارکونی نے ریڈیو لہروں کا استعمال کرتے ہوئے کامیاب وائرلیس ٹیلیگراف بنایا اور 1901 میں مارکونی نے ہی بحرِ اوقیانوس کے پار پہلا وائرلیس سگنل بھیجنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس وقت کسی کو اندازہ ہی نہ تھا کہ ستر کی دہائی کے آخر میں مارٹن کوپر نامی سائنس دان پہلا پورٹیبل موبائل فون ایجاد کریں گے۔
نیویارک کی ایک مصروف سڑک پر ایک دن وہ بھی آیا جب مارٹن کوپر اپنے ہاتھ میں ایک عجیب و غریب آلہ لے کر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک عجیب سا پہلا موبائل فون تھا، یہ بھاری تھا، بڑا تھا اور دیکھنے میں اتنا خوبصورت نہیں لگ رہا تھا۔ اس آلے کو راہگیر رک رک کر دیکھ رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے اور کچھ حیران تھے۔ لیکن مارٹن نے کسی کی پرواہ نہیں کی، اس نے وہ آلہ کان سے لگایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی اور تاریخ بدل گئی۔
مارٹن کوپر نے ایک یوکرینی تارکین وطن والدین کے ہاں جنم لیا جسے بچپن سے ہی ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے 1950 میں امریکہ شکاگو الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری لی اور پھر امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1954 میں موٹورولا کمپنی جوائن کی جہاں ان کی زندگی کا اصل سفر شروع ہوا۔ موٹورولا میں انہوں نے پولیس کے لیے پورٹیبل ریڈیو سسٹم بنائے اور یہیں ان کے ذہن میں وہ خیال آیا جس نے کمیونیکیشن کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ لیکن یہ فون عام لوگوں تک پہنچنے میں مزید 10 سال لگے۔ 1983 میں موٹورولا نے پہلا کمرشل موبائل فون مارکیٹ میں لایا جس کی قیمت 3995 ڈالر تھی جو آج کے حساب سے تقریباً 12000 ڈالر بنتی ہے۔ یعنی صرف امیر لوگ ہی یہ فون خرید سکتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، قیمتیں کم ہوئیں اور 1990 کی دہائی میں موبائل فون عام لوگوں تک پہنچنا شروع ہوا۔
1993 میں دنیا کا پہلا سمارٹ فون آیا جس میں ٹچ اسکرین تھی، ای میل تھی اور کیلنڈر تھا، 2007 میں ایپل کے سٹیو جابز نے آئی فون متعارف کروایا اور اس نے فون کو ایک بار پھر بالکل نئی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ مارٹن کوپر نے موبائل فون ایجاد کرنے کا جو خواب دیکھا تھا اب وہ اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور مسلسل پھیل رہا ہے۔ آج آپ جو کچھ بھی موبائل پر دیکھ رہے ہیں اور اس میں جتنے بھی فنکشنز ہیں ان کو ممکن بنانے کی ابتداء مارٹن کوپر نے کی تھی۔
ایک موبائل فون کتنی پیچیدہ ایجاد ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں الیکٹرانوں کی تعداد کھربوں (Trillions) میں ہوتی ہے، جو برقی رو اور ڈیٹا کی ترسیل کا کام کرتے ہیں۔ ایک عام موبائل فون بنیادی طور پر 75 مختلف کیمیائی عناصر پر مشتمل ہوتا ہے جن کے ایٹموں میں موجود الیکٹرانز موبائل فون کو قابل استعمال بنانے ہیں۔ موبائل فون کے الیکٹرانکس، سکرین، کیمرہ، چپس، وائرنگ، مائیکرو پروسیسرز اور بیٹریز وغیرہ میں سونا، سلیکون، کاپر، لیتھیم، کوبالٹ اور انڈیم وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سمارٹ فونز میں لاتعداد فنکشنز اور سینسرز ہوتے ہیں جس سے کمیونیکیشن اور ڈیٹا پر مبنی کالنگ، وائی فائی، بلوٹوتھ اور سیلولر نیٹ ورک اور دیگر سارے ایپس کام کرتے ہیں۔ سینٹرل پروسیسنگ یونٹ (CPU) فون کے تمام سافٹ ویئر اور ایپس چلاتا ہے اور ایک عام موبائل فون کی میموری 17 ہندسوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ون ٹیٹرا بلئین (1TB) یاداشت بنتی ہے، یہ میموری کا ایک خاص پیٹرن ہے۔
ایسی نئی تاریخ لکھنے کی ابتداء ایک شخص ہی کرتا ہے جس کے ذہن میں پہلا "اچھوتا” خیال آتا ہے۔ مارٹن کوپر سمیت دنیا کے تمام عظیم لوگ بھی ہم جیسے عام انسان ہوتے ہیں۔ ان میں اور ہمارے درمیان صرف سوچنے کے انداز کا فرق ہوتا ہے۔ جب موبائل فون سے اگلی ایجاد ہو گی تو تب بھی پہلے مارٹن کوپر کا نام لیا جائے گا۔ مارٹن کوپر کی موبائل فون ایجاد کا سارا کریڈت اس کی تخلیقی فکر اور سوچ کو جاتا ہے جو انسانی ترقی کی کنجی ہے۔
حکیم لقمان کا ایک قول پڑھا تھا کہ، "بیماری پہلے ہماری روح اور پھر جسم میں ظاہر ہوتی ہے،” جس کا عام فہم مطلب یہ ہے کہ بیمار ہونے سے پہلے ہمارا نظام مدافعت اور ہماری قوت ارادی کمزور پڑتی ہے جس کے بعد ہمارے جسم میں نقص آ جاتا ہے تو ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے خون کے سرخ جرثوموں کا کام بھی بیماری کے بیرونی حملہ آور بیکٹیریاز کے خلاف جنگ لڑنا ہوتا ہے اور جب وہ ان پر سبقت حاصل نہیں کر پاتے ہیں تو ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری ذہنی قوت ارادی ایسی طاقتور ترین "ادویہ” ہے کہ جو بہت ساری انگریزی ادویات سے زیادہ بہترین علاج ہے، جس کے بارے میرا ماننا ہے کہ اول تو ہم متوازن عذا کھائیں، ورزش کریں اور خود کو ارادی طور پر ہمیشہ مضبوط اور چاک و چوبند رکھیں تو ہم بیمار ہی نہیں ہوتے ہیں اور اگر ہو بھی جائیں تو احتیاطی تدابیر اور اپنی ہی قوت ارادی سے ہم مکمل طور پر دوبارہ صحت یاب ہو سکتے ہیں۔
حکیم لقمان کا ایک اور قول ہے کہ، "وہم کا کوئی علاج نہیں ہے۔” اگر ہمارے دماغ سے بیماری کا تصور نکال دیا جائے اور اس کی جگہ صحت و تندرستی کو جگہ دی جائے تو ہم معمولی ادویات سے بھی بہت جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم خود ہی اپنے آپ کو بیمار سمجھنے لگیں تو پھر ہماری سوچ "وہم” میں بدل جاتی ہے جس کا علاج انگریزی دوائیوں سے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عہد حاضر میں جتنی بھی انگریزی ادویات تیار کی جاتی ہیں پہلے انہیں "پلیسبو افیکٹ” سے گزارا جاتا ہے جو کہ ایک ذہنی طریقہ علاج ہے۔
ہمارے ہاں خواتین کے طرزِ زندگی میں "قوت ارادی” اور "پلیسبو افیکٹ” کے ذریعے ایک انقلابی صحت مند تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ پلیسبو کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟ پلیسبو دراصل ایک "ڈَمی دوا” ہوتی ہے۔ اکثر خواتین کی بیماریاں کچھ حقیقی اور کچھ ذہنی اختراع ہوتی ہیں۔ کچھ خواتین سوچتی ہیں کہ انہیں جو بیماری ہے وہ محض دوا کھانے ہی سے ٹھیک ہو گی اور وہ بے دریغ دوائیاں کھاتی ہیں جس کے اکثر نقصانات بھی سامنے آتے ہیں۔ اس تکنیک کا استعمال کر کے وہ کئی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ اس تکنیک کا استعمال کر کے دوا کی بجائے انسانی دماغ کو تبدیل یا گمراہ کر کے مرض کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ تصور کریں کہ ایک مریض کو ایک گولی دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سے اس کے درد کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور یہ دوا وہ ڈاکٹر دیتا ہے جس پر مریض کو پورا اعتماد ہوتا ہے۔ دراصل یہ گولی کوئی دوا نہیں ہوتی محض شکر کی گولی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بات مریض کو نہیں پتہ ہوتی، وہ اسے حقیقی دوا سمجھ کر کھاتا ہے اور صحت یاب ہو جاتا ہے۔ یوں بغیر دوا کے صحت یاب ہونے کے نفسیاتی عمل اور رجحان کو "پلیسبو افیکٹ” کہتے ہیں جس کے ذریعے ہمارے خیالات اور ہماری قوت ارادی ہماری صحت پر ایک انتہائی طاقتور طریقے سے براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
ذہنی قوت یا کمزوری دراصل پلیسیبو افیکٹ کا دوسرا نام ہے۔ اس سے مثبت اور منفی دونوں قسم کے نتائج نکل سکتے ہیں۔ جب آپ کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس دوا سے مَیں ٹھیک ہو جاؤں گی تو واقعی اس کا نتیجہ بھی مثبت نکلتا ہے، اور خدانخواستہ آپ یہ سوچیں کہ دوا سے بھی آپ ٹھیک نہیں ہوں گی تو پھر دوائی سے بھی آرام نہیں آتا ہے۔ یہ تکنیک دماغ اور جسم کے درمیان ایک مضبوط تعلق پیدا کرنے کے بارے میں ہے۔ اس کے نفسیات پر مثبت یا منفی اثرات تب پڑتے ہیں جب کسی مخصوص چیز کو کسی خاص ردعمل سے جوڑا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی مخصوص کھانا کھانے کے بعد بیمار ہو جاتی ہیں تو آپ اس کھانے کو اپنی بیماری کا سبب سمجھتی ہیں اور مستقبل میں اسے کھانے سے گریز کرتی ہیں۔ پلیسبو افیکٹ بھی اسی نہج پر کام کرتا ہے۔ اگر آپ سر درد کے لئے ایک مخصوص دوا لیتی ہیں تو آپ اس دوا کو درد سے نجات کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیتی ہیں اور اگر آپ کو سر درد کے لئے اس دوا جیسی نظر آنے والی "پلیسبو گولی” بھی دی جائے تو بھی آپ اس کو کھا کر درد میں کمی محسوس کریں گی، حالانکہ وہ محض آپ کی توقعات کا اثر ہوتا ہے۔
یہ ہمارے اندر موجود قوت مدافعت اور ہماری قوت ارادی کا ایک "ہارمونک رسپانس” ہے کہ آپ کو کسی چیز سے پہلے سے جو توقعات وابستہ ہوتی ہیں وہ اس کے بارے میں آپ کے تاثر کو متاثر کرتی ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو امید ہے کہ گولی آپ کو بہتر محسوس کروائے گی تو آپ اسے کھانے کے بعد بہتر محسوس کریں گی۔
ذہنی کمزوری اور ہارمونل رسپانس کی ایک منفی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں سزائے موت کے مجرموں کو زہر کا ٹیکا لگایا جاتا تھا۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک سزائے موت کے قیدی کو بتایا کہ فلاں تاریخ کو اسے زہر کا انجیکشن لگایا جائے گا۔ اس تاریخ کو قیدی کو زہر کی بجائے محض پانی کا ٹیکہ لگایا گیا اور وہ اسی پانی کے ٹیکے ہی سے ہلاک ہو گیا۔ جب ڈاکٹروں نے اس کے خون کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے خون میں واقعی زہر موجود تھا جس سے ڈاکٹروں کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ اس قیدی کے ذہنی خیالات اور وہم نے پانی کے اس ٹیکے کو زہر کے انجیکشن میں بدل دیا تھا۔
اللہ رب العزت نے ہمارے دماغ میں ایسی طاقت رکھی ہے کہ جو ہمارے خیالات کے ذریعے ہم پر مثبت اور منفی اثرات قائم کرتی ہے۔ اگر ہمیں راسخ اور کامل یقین ہو کہ ہم کبھی بیمار نہیں ہوں گے یا ہم ہر بیماری کا علاج احتیاطی تدابیر اور قوت ارادی سے کر سکتے ہیں تو ہم کسی بھی بیماری کے خلاف واقعی کسی حد تک تندرست ہو سکتے ہیں۔
ہماری روح ہماری سوچ، خیالات اور ہمارے طرز زندگی پر مبنی ہوتی ہے جسے ہم اگر مثبت قوت ارادی سے جوڑے رکھیں تو اللہ کے فضل و کرم سے ہم کبھی بیمار ہی نہ ہوں۔ پہلے پہل یہ انگریزی ادویات کہاں ہوتی تھیں۔ اس وقت لوگوں کی عمریں بھی لمبی ہوا کرتی تھیں اور وہ صحت مند بھی رہتے تھے کہ وہ اپنا علاج محض احتیاط، جڑی بوٹیوں اور اپنی ذہنی طاقت ہی سے کر لیا کرتے تھے۔
یہ ممکن ہے کہ چیزیں عین اسی طرح واقع ہوں جیسے آپ چاہتے ہیں۔ چیزوں کی وقوع پذیری اگرچہ انسانی ارادے کی مکمل طور پر محتاج نہیں ہے۔ لیکن ایک تو انسان احسن تقویم ہے اور دوسرا وہ کائنات کی تمام چیزوں کو اپنے مصرف میں لانے پر قادر ہے۔ لھذا وہ چیزوں کو جیسے چاہے ایک خاص حد تک بتدریج وقوع پذیر کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال کی زبان میں انسان نیا زمانہ اور نئے صبح و شام پیدا کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔
ایک بات نہیں بھولنی چایئے کہ بطور "بنی نوع انسان” اور "ابن آدم” ہمارے دماغ میں صرف وہی کچھ آتا ہے جس کے واقع ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں کیونکہ بطور خلیفتہ الارض ہمارے دماغ اور تخیل کی ساخت اور ماہیت کی تخلیق ہی کچھ ایسی کی گئی ہے کہ ہمارے دماغ میں چیزیں وقوع پذیر ہونے ہی کے لیئے آتی ہیں۔
اس بات کو سلیس اور سادہ زبان میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جن چیزوں کے واقع ہونے کا فطری امکان نہیں ہوتا ہے وہ ہمارے دماغ میں ہی نہیں آتی ہیں۔
انسان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ "افضل المخلوقات” ہے کہ جس وجہ سے قرآن مقدس نے اسے "خلیفتہ الارض” قرار دیاہے۔ انسان کی تخلیق کو دو مرحلوں میں اٹھایا گیا ہے کہ اول اس کی روح پیدا کیئے جانے کے بعد "عالم ارواح” میں رہی ہے اور کائنات بعد میں بنی ہے جس کو اس نے بنتے اور تخلیق ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ چیزوں کے بننے اور ان کے طبیعاتی (و سائنسی) طریقہ کار کو پہلے سے جانتا ہے اور دوم انسان کے جسم کو روئے زمین کی مٹی سے بنایا گیا ہے جس وجہ سے وہ "زمینی حقائق” اور اپنے گردونواح کے "ساختی علوم” سے پیدائشی طور پر آگاہ ہے اور وہ غوروخوض سے ان پر عبور حاصل کر سکتا ہے کہ دنیا کے ہم سارے انسانوں اور کائنات کا آغاز ایک ہی نکتہ و ابجد سے ہوا ہے۔
اس لحاظ سے کائنات اور عالم موجودات کے تمامتر علوم یعنی چیزوں کی ساخت اور کارکردگی کا سارا احوال ہماری "گھٹی” میں ہے۔ کائنات اور زمین و آسمان کی ہر چیز اور روئے زمین کی زندگی کے تمام حالات و واقعات سے بطور بنی نوع انسان اور ابن آدم ہم پہلے سے ہی گزر چکے ہیں اور ان سے واقف و آشنا ہیں۔ یہاں اس بات پر غور کریں کہ "علم کل” پہلے سے ہی ہمارے "تحت الشعور” میں موجود ہے یعنی اب چیزوں کو اپنے شعور میں لانا، واقع ہونے دینا، کرنا یا انہیں مفید انداز میں اپنے مصرف میں لانا ہماری عقل و شعور، ادراک اور عمل پر منحصر ہے۔ مایوسی کو اسی لیئے اسلام میں گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کو بے عمل بناتی ہے، حقیقی زندگی سے دور لے جاتی ہے اور بعض صورتوں میں موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔
علامہ محمد اقبال نے ارشاد فرمایا تھا کہ، "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی، یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔” زندگی اور کائنات پر غوروفکر کریں آپ پر زندگی کی ہر حقیقت اور کائنات کا ہر راز وا ہو سکتا ہے۔ زندگی کو جنت اور دوزخ بنانا انسان کے اعمال سے منسلک ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں میں مثبت اور منفی سوچ اور اعمال ہی کا فرق ہے۔ اسی لیئے ایک حدیث شریف میں ایک لمحے کی فکر کو دو جہانوں کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ آپ تعمیری طور پر سوچیں گے تو آپ پر بتدریج تمام اسرار و رموز کھلتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ آپ کے دماغ میں جو بھی خیال آئے اسے آپ مجسم کر سکتے یعنی "آپ جو سوچ سکتے ہیں وہ کر بھی سکتے ہیں۔” اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کے تمام ترین اسرار و رموز فطری طور پر آپ کے اندر رکھ دیئے گئے ہیں، اب ان کو کھوجنا اور ان کو عمل میں لانا آپ کا کام ہے۔
ایک جرمن فلاسفر کا قول ہے کہ، "جب میں رات کے اندھیرے میں سوچتا ہوں تو دنیا میرے سامنے ننگا ناچنے لگتی ہے۔” اندھیرا سوچنے اور تخیل کے گھوڑے دوڑانے کے لیئے ایک معنی خیز میدان ہے جس میں باطن کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اندھیرے میں آپ سوتے ہیں یا پھر سوچتے ہیں۔ یہ دونوں عمل اندھیرے میں تیز تر ہو جاتے ہیں۔ چونکہ اندھیرے میں ہم اپنے آپ تک کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم اپنے آپ کے علاوہ غیر مانوس عناصر کی موجودگی کو بھی اپنے آس پاس محسوس کر سکتے ہیں۔
اگر زندگی میں آپ کچھ بڑی کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں تو سوچنے کا فن سیکھیں۔ دنیا کا کوئی بھی کام اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب پہلے آپ اپنی سوچ اور خیالات سے اس کے ہر پہلو کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ غوروفکر زندگی میں ہر کامیابی کی بنیاد ہے کیونکہ پہلے چیزیں ہمارے دماغ میں واقع ہوتی ہیں، اشکال بتاتی ہیں اور اس کے بعد وہ مادی اور حقیقی دنیا میں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔
سوچ انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ ہی انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ سوچ انسانی زندگی کے ہر ایک پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ بات چیت ہو، فیصلہ سازی ہو، مسائل کا حل ہو، تخلیقیت و انویشن ہو، جزبات کا سامنا ہو یا اخلاقی استدلال ہو۔ آج تک جو بھی تخلیقات وجود میں آئی ہیں وہ سوچ کا ہی نتیجہ ہیں۔ یہ کالم سوچ کے عام تاثر اور حقیقی سوچ کے حصول پر مبنی ہے . ۔سوچ ایک دماغی حالت ہے جو آپ کو کیسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں تک پہنچاتی ہے۔تیسری دنیا کا المیہ یہ ہے کہ ان کی سوچ حیاتیاتی ضروریات کے گر ردا گرد گھوم رہی ہے۔ وہ اپنی خوراک کی ضروریاتِ کے پورا کرنے کو ہی حقیقی سوچ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس حصے کی طرف سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نظر نہیں آ تی۔ ان کی سوچ روٹی، کپڑا اور مکان تک ہی محدود ہے۔
(Needs of Hierarchy ( میزلو ایک ماہر نفسیات تھے جو اپنے زمانہ نظریے کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے1943 میں ضروریات کی درجِہ بندی ایک اہرام کی شکل میں کی ہے ۔ جس میں کھانے، پینے اور سوچنے ضروریات، اپنی حفاظت کی ضروریات، محبت کی ضروریات، عزت نفس کی ضرور یات اور حقیقت پسندی کی ضروریات بال ترتیب شامل ہیں۔ ان تمام درجات کو پار کر کے ہی انسان مفکر بن سکتا ہے ۔ سوچ کے حقیقی حصول کے لیے تعلیم واحد حل ہے ۔ تار یخ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیمی آزادی ہے ۔
چند سائنس دانوں کی مثالیں جنہوں نے اپنی سوچ سے دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا درج ذیل ہیں ۔ یہ سوچ ہی ہے جس کی وجہ سے آئن سٹائن ایک مشہور سائنس دان نے نظریہ اضافت، ماس انرجی مساوات ، براونین موشن اور کوانٹم فزکس کے نظریات دے کر فزکس کے بنیادی تصورات میں انقلابی تبدیلیاں کیں ۔جس سے آج بھی انسانیت کو فاہدہ پہنچ رہا ہے۔ان میں ج۔پی۔اس کا نظام، شمسی پینل، نیوکلیئر انرجی، ام۔ار۔ا اور پی۔ای۔ٹی سکین قابل ذکر ہیں۔
نکولا ٹیسلا ایک ماہر ایجادات تھے ۔ انہوں نے سوچ جیسی نعمت کو استعمال کرکے ایسی ایجادات کیں کہ جن کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی ایجادات میں ذیل شامل ہیں نظام اے سی، ٹیسال کوئل، انڈکشن موٹر، ریڈیو، وائرلیس بجلی کی فراہمی، ٹیسال ٹربائن، ریموٹ کنٹرول۔ان کے ساتھ ساتھ ماریہ کیوری جو ایک علمی ماہر فزکس اور کیمسٹ تھیں۔ ان کی سائنس، طب اور ریڈیولوجی میں لا تعداد خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت سے دو مرتبہ نوبل انعام حاصل کیا۔ ان کی خدمات میں ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت، ریڈیم کو پولونیم سے الگ کرنے کا کام ، سب سے بڑھ کر انہوں نے کینسر کے عالج کے لیے ریڈیو ایکٹیویٹی کے استعمال کو دریافت کیا ۔ نیز تعلیم کا حصول عام ہی ایک قوم میں سوچ کے فروغ کا باعث ہے ۔