دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیر کا باہمی ارتباط
از: شہرِ خواب … صفدر علی حیدری
اسلامی تاریخ میں بعض واقعات محض زمانی حادثات نہیں ہیں بلکہ ایک فکری تسلسل اور نظریاتی تشکیل کے مراحل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں دو واقعات خاص طور پر انتہائی اہم ہیں: دعوتِ ذوالعشیرہ اور واقعۂ غدیرِ خم۔ یہ دونوں نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم سنگ میل ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری تاریخ میں بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
زیرِ نظر سطور ان دونوں واقعات کے درمیان موجود تعلق کو ایک مربوط علمی، تاریخی اور تجزیاتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔
جب سر زمین عرب میں ظہورِ اسلام ہوا تو وہ ابتدا میں ایک محدود مگر نہایت مؤثر پیغام کی صورت میں سامنے آیا۔ ابتدائی تین سال دعوتِ خفیہ کے بعد حکمِ الٰہی کے تحت علانیہ دعوت کا آغاز ہوا۔ اس دور میں رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت، سماجی دباؤ اور قبائلی مزاحمت کا سامنا تھا۔
اسی پس منظر میں دعوتِ ذوالعشیرہ پیش آئی، جب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بنی ہاشم کو جمع کیا اور فرمایا:
"میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس دین کی دعوت دوں۔ تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے، تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا جانشین ہو؟”
زیادہ تر افراد خاموش رہے، مگر حضرت علیؓ — جو مجلس میں سب سے کم عمر تھے — کھڑے ہوئے اور اعلانِ نصرت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:
"یہ علی میرے بھائی، میرے وصی اور میرے بعد تمہارے درمیان میرے جانشین ہیں۔ پس ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔”
یہ سن کر لوگ ہنستے ہوئے اٹھے اور کہنے لگے: "ابو طالب! تمہیں تمہارے بیٹے کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔”
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ تاریخی واقعہ کا ثبوت اور اس سے اخذ کردہ نتائج دو الگ چیزیں ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر نے اس واقعے کی مختلف تشریحات کی ہیں، مگر خود واقعے کے وقوع پر عمومی اتفاق ہے۔
حضرت علیؓ کا کردار بعد کے تمام مراحل میں اسی ابتدائی وابستگی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے:
· شعبِ ابی طالب کے کٹھن ایام
· ہجرت کی رات رسول اللہ ﷺ کے بستر پر آرام کرنا
· مکی زندگی کے دیگر آزمائشی مراحل
ان کی وفاداری، جرأت اور قربانی محض ایک وقتی جذبہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عملی رویہ تھا۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں جب اسلام ایک منظم معاشرتی اور ریاستی نظام کی شکل اختیار کر گیا، تو حضرت علیؓ کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ علم، قضاوت، شجاعت، تقویٰ اور قربِ نبوی ﷺ نے انہیں اسلامی معاشرے کی مرکزی شخصیت بنا دیا۔
حجۃ الوداع کے بعد غدیرِ خم کا واقعہ پیش آیا، جو اسلامی تاریخ کے اہم ترین اجتماعات میں سے ہے۔ یہ آخری موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ نے اتنے بڑے مجمع سے خطاب فرمایا۔
اعلان ولایت سے پہلے آپ ﷺ نے حاضرین سے دریافت فرمایا:
"کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق (اولیٰ بالتصرف) نہیں رکھتا؟”
تمام صحابہ ؓ نے کہا: "کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ ہم پر ہماری جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔”
اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مَن کُنتُ مَولَاہُ فَہٰذَا عَلِیٌّ مَولَاہُ”
"جس کا میں مولا ہوں، اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔”
اس موقع پر شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس واقعے کو یوں نظم کیا:
” غدیر کے دن ان کے نبی ﷺ انھیں پکار رہے تھے
اور وہ خم کے میدان میں یہ ندا سن رہے تھے
آپ ﷺ نے فرمایا: تمھارا مولا اور ولی کون ہے؟
صحابہؓ کہنے لگے: آپ ﷺ کے سوا کوئی نہیں
آپ کا پروردگار ہمارا مولا ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یا علی! کھڑے ہو جائیے
میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بعد امام اور ہادی ہوں
پس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ ولی ہیں
لہٰذا ان کے سچے مددگار اور حامی بنو "
اور آپ ﷺ نے دعا مانگی:
"اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے، تو اس سے محبت رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ۔”
—
اب صورت حال یہ ہے کہ
لفظ "مولا” عربی میں متعدد معانی رکھتا ہے:
· دوست
· مددگار
· سرپرست
· آقا
· صاحبِ اختیار
اسی وجہ سے اس جملے کی تعبیر میں علمی اختلاف پایا جاتا ہے:
بعض اہلِ سنت محبت، قربت اور فضیلت کا اعلان
بعض دیگر ایک مخصوص اعتراض کے ازالے کا موقع
اہلِ تشیع دینی اور اجتماعی قیادت (امامت و خلافت) کا اعلان
صوفیانہ روایت ولایت اور روحانی رہبری کا اعلان
حجۃ الاسلام امام غزالی ؒنے بھی تسلیم کیا کہ یہاں مولا سے مراد آقا و سرپرست ہیں۔
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں:
"بلاشبہ علیؓ تمام کمالاتِ ولایت کے مرکزی نکتہ اور قطبِ ولایت تھے۔ تمام اولیائے کرام، حتیٰ کہ تمام صحابہ کرامؓ، مقامِ ولایت میں آپ کے تابع ہیں۔”
پہلو دعوتِ ذوالعشیرہ غدیرِ خم
دور بعثت کے ابتدائی سال حیاتِ نبوی کے آخری ایام
دائرہ محدود خاندانی حلقہ وسیع اجتماعی اجتماع
نوعیت ابتدائی حمایت کا اعلان حتمی قیادت کا اعلان
پیغام وصایت و جانشینی ولایت و مولیٰ
· آغاز (ذوالعشیرہ) میں ایک محدود حلقے میں وفاداری کا اظہار ہوا
· انجام (غدیر) میں اسی وفاداری کو امت کے سامنے عالمگیر اصول کی شکل میں رکھ دیا گیا
"اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔”
(سورۃ المائدہ: 67)
بعض مفسرین اسے غدیر سے مربوط کرتے ہیں، جبکہ بعض اسے عمومی تبلیغی حکم سمجھتے ہیں۔
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
اگر غدیر کا اعلان اتنا اہم تھا تو حجۃ الوداع کے عمومی خطبے میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟
بعض اوقات کسی موضوع کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر اسے الگ موقع اور الگ خطاب میں بیان کیا جاتا ہے، تاکہ وہ دیگر امور کے درمیان گم نہ ہو جائے اور اس کی اہمیت نمایاں رہے۔
بعض روایات میں ہے کہ ایک شخص حارث بن نعمان فہری نے غدیر کے اعلان کا انکار کیا، تو راستے میں اسے عذاب آ گیا۔
دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیرِ خم ایک ہی فکری سلسلے کی دو کڑیاں ہیں
· پہلا مرحلہ: محدود خاندانی حلقے میں وصایت کا اعلان
· دوسرا مرحلہ: وسیع اجتماعی مجمع میں ولایت کا اعلان
اسلام کی دعوت ایک محدود دائرے سے شروع ہوئی، پھر ایک عالمی پیغام میں تبدیل ہوئی، اور اپنے آخری مراحل میں ایسے اعلانات کے ساتھ سامنے آئی جنہوں نے بعد کی اسلامی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
مختلف مکاتبِ فکر نے ان واقعات کی مختلف تعبیرات کی ہیں، لیکن اس امر پر عمومی اتفاق ہے کہ یہ دونوں واقعات سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم ترین مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔
چودہ صدیوں کے بعد بھی یہ واقعات علمی مباحث، فکری گفتگو اور مذہبی مطالعات کا حصہ ہیں۔ ان کی تعبیرات خواہ مختلف ہوں، مگر ان کی تاریخی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
یہ دونوں واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام کی تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری سفر ہے جس کے مختلف مراحل آج بھی غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
والحمد للہ رب العالمین
۔۔۔
· ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3
· ترمذی، سنن ترمذی، کتاب المناقب
· حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین
· امام غزالی، سر العالمین
· قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسیر مظہری
—

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |