پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ
(شہرِ خواب — صفدر علی حیدری)
پروفیسر عاصم بخاری کا نام میں عرصۂ دراز سے سنتا آ رہا تھا اور ان کے ادبی کام سے بھی کسی حد تک آگاہ بھی تھا، لیکن بالمشافہ ملاقات کا موقع کبھی نہ ملا تھا۔
پھر اچانک اور اتفاقاً ان سے ملاقات کی ایک صورت نکل آئی۔ یہ واقعہ تقریباً ساڑھے تین سال پرانا ہے۔ میں اُس وقت قائم پور میں سید مبارک علی شمسی کے ہاں مقیم تھا جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات میرے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوئی۔
اس شب گفتگو کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ حیرت انگیز طور پر زیادہ تر میں ہی گفتگو کرتا رہا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے برسوں پرانا تعلق ہو۔ وہ بڑے اطمینان، تحمل اور شائستگی کے ساتھ سنتے رہے۔ کبھی مسکرا دیتے اور کبھی مختصر مگر بامعنی جملوں سے گفتگو کو آگے بڑھاتے رہے۔
ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی سادگی، کم گوئی اور شگفتگی ہے۔ وہ محض سننے والے نہیں بلکہ "اچھا سننے والے” ہیں، اور یہ وصف ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ مجھے ان کی یہی ادا اس لیے بھی متاثر کرتی ہے کہ میں خود نسبتاً زیادہ گفتگو کرنے والا آدمی ہوں، اور وہ خاموشی کو وقار کے ساتھ برتنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
پروفیسر عاصم بخاری ایک ایسے صاحبِ قلم ہیں جن کے پاس بیس سے زائد کتب کا سرمایہ ہے، مگر ان کے انداز میں اظہار سے زیادہ احتیاط اور شائستگی نمایاں ہے۔ وہ کم بولتے ہیں مگر جب بولتے ہیں تو نپا تلا اور بامعنی کلام کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی ایک معنی خیز اظہار بن جاتی ہے۔
وہ استاد بھی ہیں، شاعر بھی اور ادیب بھی۔ فردیات اور قطعات میں بھی ان کی ایک الگ شناخت موجود ہے۔
ان کی نظم و نثر میں اختصار ، ہئیتی و مضوعاتی جدت اور اصنافی تنوع ان کی پہچان کا خاص حوالہ ہے۔
ہماری ملاقات سے قبل بھی ان کی بعض تحریریں افسانچے کے ذیل میں سامنے آ چکی تھیں، مگر اس صنف میں ان کی باقاعدہ شناخت بعد میں ابھری۔
نظم و نثر دونوں پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ ہماری ملاقات کے بعد جب انہوں نے میرے افسانچے سنے تو ان کے اندر افسانچہ نگاری کی طرف ایک خاص دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا اور مختصر عرصے میں ان کی پہلی افسانچوں کی کتاب "اثاثہ” منظرِ عام پر آ گئی۔
اگر وہ اس ادبی رجحان کی تبدیلی کا کریڈٹ مجھے دیتے ہیں تو یہ ان کا حسنِ ظن اور انکسار ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ادب ہمیشہ داخلی تحریک سے جنم لیتا ہے، البتہ بعض ملاقاتیں اس تحریک کو ایک واضح سمت ضرور دے دیتی ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑا۔ ان کی دوسری کتاب "وارث” اس تسلسل کا ثبوت ہے، جس کا مسودہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس میں انہوں نے مختلف سماجی اور انسانی موضوعات پر افسانچے تحریر کیے ہیں۔
ان کے افسانچوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اختصار کے باوجود زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اردگرد کے حقیقی ماحول اور معاشرتی کرداروں سے اخذ شدہ ہیں۔ چونکہ وہ خود ایک ملازمت پیشہ فرد ہیں، اس لیے ان کے ہاں اسی طبقے کے مسائل، کردار اور رویے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
ان کا قلم ان چہروں سے نقاب اٹھاتا ہے جن کے ظاہر و باطن میں تضاد پایا جاتا ہے۔ معاشرتی منافقت جب ان کی نظر میں آتی ہے تو ان کا قلم خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے، اور وہ مختصر مگر اثر انگیز افسانچے تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں۔
گویا ان کے افسانچوں کا پہلا قاری بھی میں ہوں اور پہلا ناقد بھی۔ میں ہر تحریر پر دیانت داری کے ساتھ اپنی رائے دینے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ ادبی رشتہ صرف تحسین نہیں بلکہ رہنمائی کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔
مجھے ابتدا میں ان سے یہ شکوہ رہا کہ وہ زیادہ تر بیانیہ انداز اختیار کرتے تھے، جس سے افسانچے کی شدت کم ہو جاتی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اور مسلسل مکالمے کے نتیجے میں ان کے اسلوب میں واضح بہتری آئی ہے، جو ان کی موجودہ تحریروں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
افسانچہ ایک نہایت نازک، مشکل اور حساس صنفِ ادب ہے۔ اسے محض مختصر تحریر سمجھ لینا ایک عام غلط فہمی ہے۔ اس میں وحدتِ تاثر، برجستگی اور مؤثر اختتام بنیادی عناصر ہیں۔ اس کا اصل حسن کم لفظوں میں زیادہ معنویت پیدا کرنا ہے۔
ان کے افسانچوں میں یہ خوبیاں نمایاں طور پر موجود ہیں۔ وہ مختصر دائرے میں ایک مکمل فکری جھٹکا پیدا کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
میں افسانچہ نگار کو ایک ماہر نشانہ باز کی طرح دیکھتا ہوں جو لمحوں میں ہدف کو درست نشانے پر لگاتا ہے۔ اگر نشانہ درست ہو تو اثر بھی دیرپا ہوتا ہے۔
عاصم بخاری کے افسانچے بھی قاری کے ذہن میں ایک ہلکی سی چبھن، ایک سوال اور ایک فکری ارتعاش چھوڑ جاتے ہیں، اور یہی کسی بھی تخلیق کی کامیابی ہے۔
مجھے امید ہے کہ وہ اسی تسلسل کے ساتھ اس صنف میں مزید آگے بڑھیں گے اور اپنی ادبی پہچان کو مزید مستحکم کریں گے۔
اللہ کرے ان کا قلم اسی طرح نکھرتا رہے اور ان کی تحریر مزید حسن و معنویت سے مزین ہوتی جائے۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |