Tag: نعت

  • "قصیدہ نور کا” (حصہ اول)

    "قصیدہ نور کا” (حصہ اول)

    عشقِ مصطفٰی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دھنک رنگ جب موجِ ادراک کے صحیفے کو گلریز کرتے ہیں تو الہام کا ریشمی تبسم الفاظ کی صوتی ترنگ میں ڈھل کر قرطاس کے سینہ پر بکھر جاتا ہے اور نعتیہ رنگ میں برجستگی اور روانی پیدا کرتا ہے اور اس میں لفظ لفظ کرن بنتا ہے ، مہک بنتا ہے ،گلرنگ سویرا بنتا ہے اردو کی کلاسیکی روایات کا گلریز اظہار قاری کے سینے میں اترتا چلا جاتا ہے

    "قصیدہ نور کا "نہ صرف شفیق رائے پوری کے عشق و وجدان کا مظہر بن کر ان کے حسیں جذبات کا عکاس ہے  بلکہ ان کے فنی، تکنیکی جہتوں اور نزاکتوں کا آئینہ دار بھی ہے۔ شفیق رائے پوری کا لکھا ہر لفظ ان کی فکری عفت اور بالیدگیءفکر کا آئینہ دار ہے میں نے جب ان کے نگار خانہء شعر میں ڈھلی صوتی ترنگ کو روح کے ساز پر پرکھا تو دل کے سارے تار رقصِ جمیل کرنے  لگے کیونکہ دل و نظر میں عشقِ حسنِ بیکراں ،انیس بے کساں، راحتِ قلب و جسم جاں، راحتِ رفتگاں،چارہ گرِ آزردگاں ، سکونِ درد منداں ،غمسازِ غریباں، نگاہِ بے نگاہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم موجزن ہے

     شفیق رائےپوری  کی بالیدگیء افکار پر الفاظ کی صوتی ترنگ جب دستک دیتی ہے تو مخزنِ اسرارِ ربانی، مرکزِ انوارِ رحمانی آقا پاک کے عشق سے مخمور قلبی راحت پا کر حمد کے ایسے فرخندہ بخت اشعار فکر و شعور پر برستے ییں:۔

    تجھے حمد زیبا  خدائے محمدؐ
    تو   بے مثل و یکتا خدائے محمدؐ
    تو    روزِ جزا کا ہے مالک خدایا
    تِرا سب پہ  قبضہ خدائے  محمدؐ

    زندگی کے آئینہ خانے میں عشقِ رسولؐ رنگ بکھیرتا چلا جاتا ہے جب آپ قلم ، اللہ ستارالعیوب کے حبیبؐ کی مدحت کے لیے اٹھاتے ییں تو فکری نظافت اسلوبیاتی صباحت کے ساتھ قلم پر الہامی کیفیت پیدا کرتی ہے  انابیبِ شعری اس وقت آپ پر کھلتے ہیں جب نوکِ قلم کو مشک و عنبر میں ڈبو کر لکھتے ہیں کیونکہ آقا محبوبِ ربِ دوجہاں، قاسمِ علم و عرفاں ،راحتِ قلوبِ عاشقاں، سرورِ کشوراں، راہبرِ انس و جاں،قرارِ بے قراراں، اور غم گسارِ دلفگاراں نعت گوئی میں خیالات کی منفرد فکر و ندرت کی سبیلیں تقسیم کرتے ہیں فکرِ رسا اس پاکیزہ سوچ اور مخمور رعنائی ء رسولؐ کو قلم پر ایسے آشکار کرتی ہے:۔

    نبی کے شایانِ شان کر لوں تو نعت لکھوں
    قلم کو میں عطر دان کرلوں تو نعت لکھوں
    درودِ اقدس کے پھول  اُن پر نثار کر کے
    معطر اپنی  زبان کر لوں تو  نعت لکھوں

    زیارتِ شاہِ جناں،جانِ جاناں،قبلہء زہراں، کعبہءقدسیاں، ہمدمِ نوحؑ، رہبرِ خضرؑ، ہادی ء عیسیٰؑ، عفتِ مریمؑ، حسنِ مجرد، دولتِ سرمد، ساقی ء کوثر، شافع ء محشر، روحِ مصوّر، مرسل داور اور زلفِ معنبر کرنے والی آنکھیں بتاتی ہیں کہ آج بھی خوشبو خضریٰ کا طواف کرتی ہے آج بھی حضورؐ کی زلفوں کی خوشبو مدینے کی فضاوں میں گھلی آپؐ کی موجودگی کا احساس دلا رہی ہے آج بھی غار حرا کے ذروں میں آپ کے قدموں کی حلاوت محسوس ہوتی ہے۔ آج بھی روشنی خضریٰ کے سامنے دست بستہ ہے۔

    قرآن میں "ورفعنا لک ذکرک "کی سندِ مبین عظیم نعت گوئی کو ظاہر کرتی ہے آپؐ کا ذکرِ مبین کتنا بلند ہے اس کی کوئی حد نہیں بتائی گئی خواہ یہ ذکر ممبر پر ہو یا فرشِ زمین پر ہو ،قاری کے لبوں پر درود و سلام کی صورت میں ہو ،نعت گوئی میں ہو یا نعت خوانی کی صورت میں ہو شفیق رائے پوری کا یہی گلرنگ اظہار ان کے اشعار کو عنبر کر رہا ہے :

    جب جب بھی حاضری ہوئی مہکا مشامِ جاں
    دربارِ مصطفیٰؐ میں ہے نکہت کمال کی
    نعتِ نبی کے  واسطے پڑھئے کلامِ پاک
    قرآں کی آیتوں میں ہے مدحت کمال کی

    ہمارے شہر میں نعت کے حوالے سے نذر صابری رحمتہ اللہ بہت بڑی شخصیت ہیں جنہوں نے فروغ نعت اور نعت آشنائی کے لیے اٹک میں ایک ادبی تنظیم ” محفل شعر و ادب ” بنائی اور آخر دم تک نعت کے لیے کام کیا ہے وہ سچے عاشقِ رسولؐ تھے ایک دفعہ جب حاجی مدینہ شریف کی تیاری کر رہے تھے تو آپ نے ایک حاجی صاحب سے نم دیدہ ہو کر کہا کہ حج سے واپسی پر مدینے کی گلیوں سے میرے لیے تھوڑی سی مٹی لے آنا اُس زمانے میں مدینے کی گلیاں کچی تھیں اس لیے واپسی پر خاکِ مدینہ نذر صابری  کو دی گئی تو آپ نے کانپتے ہاتھوں سے شیشی کھولی اور خاکِ مدینہ نکال کر بوسہ دیا آنکھوں سے لگائی اور آپ کے آنسو جاری ہو گئے ایک سال تک خاکِ مدینہ کی زیارت کرتے رہے دوبارہ جب حاجی حج کے لیے جانے لگے تو نذر صابری ؒ نے پھر ایک حاجی صاحب کو خاکِ مدینہ والی شیشی دی اور کہا کہ یار اس مقدس مٹی کو رکھنے کے لیے میرے پاس ایسی مقدس جگہ نہیں ہے اس کو مدینے پاک کی گلیوں میں پھر رکھ دینا۔ آپ نے مٹی واپس کی تو پھر آنسووں پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔

    آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مودت ہو اور مدینے سے نہ ہو یہ ناممکن ہے شہرِ مدینہ کی چاہت شفیق رائے پوری کے دل میں ہے اس کی آنکھیں بھی دیدار مصطفیٰؐ کی کوثر سے مستفید ہونا چاہتی ہیں تب ہی تو ان کے سخن میں ایسا اظہاریہ قاری کی نظروں میں حلاوت پیدا کرتا ہے:۔

    اضطراب کی رُت ہے  بے کلی کا موسم ہے
    شہرِ مصطفیٰؐ میں پھر حاضری کا موسم ہے
    یا نبیؐ  پلا  دیجے    اپنی  دید  کا شربت
    میری خشک آنکھوں میں تشنگی کا موسم ہے

    بحر نعت میں مسلسل رہنا عطائے رب العزت ہے ناعت اگر غزل کی کوشش بھی کرے گا تو اس کی غزل باوضو ہو گی یعنی اُس میں سارا ذکر آقائے دو جہاں کا ہو گا لیکن یہاں تو  شفیق رائے پوری کا عشق آفتاب نو بہار، شافع یوم قرار، انجمنِ لیل و نہار، محبوب ستار، خاصہء کردگار، حبیبِ غفار ، احمد مختار، مدنی تاجدار، سیدِ  ابرار حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ غزل دامن پھیلائے کھڑی ہے کہ مجھے بھی قلم کی زینت بناو اور ادبی جریدے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں کہ قرطاس کے گوشہ ء داماں کو الفاظ کے گوہر آ کر سجا دیں لیکن عشق بحر نعت سے گوہر نایاب کا متلاشی ہے اور حضورؐ کے معنبر پسینے کے خوشبو سے فیضِ خیر کا طالب ہے شعر کی نزاکت فصاحت کے قرینے سے کس طرح مملو ہے دیکھیے:۔

    شہرِ نعتِ شہِ کونین میں ہوں میں جب سے
    ڈھونڈتے رہتےہیں غزلوں کے رسالے مجھ کو
     جسمِ آقا کے پسینے کا بدل  نا ممکن
    آپ دیتے رہیں خوشبو  کے حوالے مجھ کو

    صبحِ درخشاں،فخرِ جہاں،نیرِ رخشاں، انجمِ تاباں ، ماہِ فیروزاں، نورِ بداماں، جلوہ ء ساماں، مونسِ دلِ شکستگاں، راحتِ قلوب عاشقاں، پشتِ پناہِ رفتگاں، موجبِ ناز عارفاں، فخرِ صادقاں پر جتنے بھی قلم اٹھیں جتنے بھی کاغذ درخشاں سینہ پھیلا کر توصیف مصطفیٰؐ کے لیے دست بستہ ہوں جائیں خامے تھک جائیں گے روشنائی کے سمندر بھی عالمِ تشنگی میں بلک پڑیں گے، کاغذ ختم ہو جائیں گے لیکن ثنائے دانشِ برہانی حضرت محمدؐ کی صفات، فضائل و خصائل مکمل نہیں لکھ پائیں گے کیونکہ اُس مظہرِ انوارِ حق کو کیسے بیاں کیا جا سکتا ہے جس کا عاشق خود اللہ رب العزت ہو۔ جس کے چہرے کی رب "والضحیٰ” کہہ کر قسم کھائے جس کی زلفوں کو ” والیل اذا سجیٰ” کی نوری قسم سے قرآن بیان کرے  شعر میں اس خیال کو ڈھالنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے کیونکہ مودت ہو تو لفظ توصیفِ رسولؐ کے لیے خود منتیں کرتے پھرتے ہیں جو لفظ نایاب ہوتے ہیں انہیں شاعر کا قلم بوسے دے کر قرطاس پر پھولوں کی طرح ایسے بکھیرتا ہے :۔

    پھر تو لازم ہے تجھے تنگئِ داماں کا ملال
    لکھنے بیٹھوں  جو کمالاتِ پیمبؐر، کاغذ
    کیا عجب ہے جو لکھوں نامِ نبی ؐپڑھ کے درود
    روشنائی  مہک اُٹّھے ہو منور،  کاغذ

    شفیق رائے پوری کی اُسلوبیاتی صباحت ان کو سلاست، تنوع ،جدت و ندرت میں ممتاز کر کے ان کے قلم کو جولانیاں بخشتی ہے  جو  دوسرے شعرا کو تموج خیز  کرتی ہے۔  ہمارے حضورؐ جو شفیع امم ہیں ، منیرِ جود و کرم ہیں، شہریارِ حرم ہیں ، سحابِ کرم ہیں ، مہرِ کرم ییں ،گنجِ نعم ہیں بلکہ شاہِ امم ہیں کا سراپا بیان کرتے ہیں تو اس امید پر کہ یوم حشر ہم بھی آقاؐ پاک کا دیدار کر کے سرکار کو سنائیں گے توحضرت حسان ؓہمارے راہنما ہوں گے آنحضورؐ کا سراپا حسن و جمال میں اس لیے بھی یکتا بیان کرتے ہیں کہ آپؐ کا سایہ نہیں تھا جو کہ تاریخِ انسانی میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے آپ سراجِ منیر ہیں جب آپؐ مجسم روح افزا و خوش ادا ہیں تو آپؐ کا ثانی کون ہو سکتا ہے یہی ادا سخن میں درد آشنائی، لذت آشنائی اور حقائق آشنائی کی خبرِ نور بن کر شعر میں یوں ڈھلتی ہے :۔

    سامنے اس پیکر بے مثل کے سب ہیچ ہیں
    غیر ممکن ہے نبیؐ کے جیسا پیکر دیکھنا
    حشر کے میدان میں بھی اے شفیقِ خوش نوا
    ہم   پڑھیں گے شان سے نعتِ پیمبؐر دیکھنا

    آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ایمان کا حصہ ہے ماں باپ عظمتوں کی معراج ہوتے ہیں لیکن حضورؐ ماں باپ کی بھی معراج ہیں حضور پر زمانے قربان ہو جائیں تو بھی آپؐ کے ایک مبارک ناخن کی قیمت نہیں ہو سکتے  چاند بھی آپ کے در سے روشنی کی خیرات مانگتا نظر آتا ہے سورج آپ کے ریشمی تبسم سے کرنیں چراتا ہے جس سے زمین پر فصلیں پکتی ہیں۔ صحابہ کرامؓ جب آپ سے متکلم ہوتے تھے تو پہلے یہ لفظ کہتے کہ "میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ”  یہی آج کے مسلمانوں کے لیے ادائے خاص ہے جس کی پیروی کی جانی چاہیے  تاکہ جب حضورؐ کی ناموس کی بات ہو تو ماں باپ اور جان و مال سب قربان کر دیے جائیں یہی عشقِ رسولؐ سکھاتا ہے ۔ عشقِ رسولؐ سے نعت گوئی ملتی ہے اور نعت گوئی ہر کسی کا مقدر نہیں ہے یہ تو فیض رسولؐ ہے مقدر والوں کو ملتا ہے ان اشعار میں اسی اظہاریے کو ملاحظہ فرمائیے:۔

    سرکار  ؐ پہ  ہو  جائے  فدا جان  مکمل
    تب  جا  کر کہیں ہوتا ہے ایمان  مکمل
    ہے   یہ   مِرے  سرکار   کا   فیضان مکمل
    رکھتا ہوں ثنا خوانوں میں پہچان مکمل

    میدان حشر کی حدت میں جہاں ” نفسی نفسی ” کی صدا ہو گی وہاں رحمت اللعالمین، مظہرِ اولین، حجت آخرین، آبروئے زمین، اکرم الاکرمین، مراد المشتاقین، شمس العارفین، محب الفقرا و الغربا، صادق و امین، مفسرِ قرآن مبین، رخشاں جبین، سلطانِ مبین، سید الثقلین جو مورث کمالاتِ آخرین ہیں اُن کی سجدہ ریز جبیں ہو گی اور کہہ رہے ہوں "امتی امتی ” تو رحمتِ خدا وندی جوش میں آئے گی تو امت کے کوہِ عصیاں ریزہ ریزہ ہوں گے غار حرا میں بہنے والے شگفتہ آنسو ہمارے گناہوں کو بہا کر لے جائیں گے ہم گناہ گار بخش دیے جائیں گے مقامِ محمود کے سلطانؐ ہمیں جہنم میں جاتا ہوا کب گوارا کریں گے بخشش کی سند عطا ہونے پر گناہگاروں کی کالی جبینیں پُر نور سحر کی طرح چمکیں گی فرشتے ان پر رشک کریں گے جنت کی حوریں ان پر فدا ہوں گی جب رحمت اللعالمین ؐ کو اختیار دے دیا جائے گا کہ اپنے خادموں کی شفاعت فرمائیے ۔کیا حسنِ شفاعت ہو گا ؟ کہ دوسری امتیں ترازو پر ہمیں سرخرو دیکھتی ہوں گی اور ہم ہیں کہ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے جنت میں کوثر  و تسنیم کے مزے لیتے ہوں گے۔ کیا لطف کا عالم ہو گا ان اشعار میں شاعر کے خوب صورت اور رخشاں اظہار کے عکس ہائے جمیل سے نظریں سیراب کیجیے:۔

    اُن  کی اُمت اور بن جائے جہنم کی غذا
    کب مِرے سرکار کو ہوگا گوارا حشر میں
    مجھ پہ جب ہوگی نبی کی چشمِ رحمت دیکھنا
    کوہِ عصیاں کیسے ہوگا پارہ پارہ  حشر میں

    رخِ انورِ مصطفیٰؐ کی تابانیوں سے گلوں کی پھبن، کلیوں کا بانکپن ،آفتاب سے پھوٹی ہوئی کرن، ماہتاب سے چھلکی ضیا، بلبل کا حسیں غل ، کوئل کی کو کو، حسین کہکشاوں کی ضو، دلآویز جھرنوں کا ترنم، گلرنگ برساتوں کا ریشمی تبسم اور ہر دلربا کی ادا حُسن و رعنائی کی خیرات مانگتی ہے اور جب یہ رعنائیاں در مصطفیٰ سے ضو کشید کرنے کے لیے حاضری نصیب ہوتی ہے تو دل کی دھڑکن رک جاتی ہے چراغِ عشق محمدؐ سے فصاحت و بلاغت کے چراغ جلتے ییں اور وہ نعت کی صورت میں کروڑوں دلوں کو منور کرتے ہیں۔ جب عاشق بھی رخِ انورؐ کو دیکھتے ہیں تو ان کی نظریں بھی نعلینِ پاک سے اوپر نہیں اٹھتیں کیونکہ رخِ انور کے جلوے کی تاب  آنکھوں کے بس میں کہاں۔

    شفیق رائے پوری کے ان اشعار کی ضیا پاشی سے بصارت منور کیجیے :۔

    بھول جائے ،   شہِ لولاکؐ !  دھڑکنا  در پر
    اس  قدر  کیجئے   احسان  دلِ مضطر پر
    روز ہم اُنکی عقیدت کے جلاتے ہیں چراغ
    روشنی   ہوتی ہے  ہر روز  ہمارے گھر پر
    تو نے دیکھا ہے انہیں شمس، بتا دے اتنا
    کیا  کبھی ٹھہری نظر تیری رخِ انور  پر
    شمس و قمر بھی   آگئے  خیرات   مانگنے  
    جب   آمنہ  کے   گھر  رخِ انور چمک  اٹھا
    گزرا  نبیؐ  کے  کوچۂِ عنبر  فشاں سے جو
    مہکا  سراپا  ،  خاک   کا  پیکر چمک اٹھا

     جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال، اٹک

  • ادبی دنیا کا گمنام روشن ستارہ ’’قمرالدین قمرؔ ‘‘جرولی

    ادبی دنیا کا گمنام روشن ستارہ ’’قمرالدین قمرؔ ‘‘جرولی

    گہوارۂ شعر و ادب مرکزِ علم و فن قصبہ جرول اپنی تاریخ کا مکمل باب ہے، جہاں کے علم و ہنر کی شمع سے قرب و جوار درخشاں نظر آتے ہیں ،یہاں کے مختلف شعرا و ادبا نے اس قصبے کی نمائندگی ہندوستان کے علاوہ بیرونِ ملک بھی کی ہے ،یہاں کی زرخیز مٹی نے شعرو ادب کو فروغ دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی ہے ، اور رئیس ؔجرولی ،قسیم جرولی ؔ،فہیم جرولیؔ، اثیم جرولیؔ،دل جرولی،ؔ قوی جرولی،ؔ شاکر جرولی،ؔ اقبال جرولیؔ ،اشعرنوری جرولیؔ، اورپیکرجرولیؔ وغیرہ جیسے قد آور شعراکو جنم دیا وہیںاس ادبی سلسلے کی آخری شمع نوے کی دہا ئی میںقمر جرولیؔ کی شکل میںٹمٹماتی نظر آرہی ہے، جس کی لویں تومدھم ہیں مگر شعری خیالات آسمانِ ادب کو آج بھی پوری استقامت کے ساتھ روشنی عطا کر رہے ہیں۔

    کئی زبانوں کے ماہر قمر جرولی ؔکی شاعری سماجی اور معاشرتی عکاس کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے ،کیونکہ ان کے یہاںاردو، اودھی اور ہندی کے کلام ان کے وقار میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔

    QAMAR JARWALI
    قمرالدین قمرؔ جرولی

    قمر جرولی ؔ کے یہاں شاعری کے سارے اصناف اور ہیئت میں اپنے وجود کا احساس بھی دلاتی ہیں جس سے ان کی شاعری ساحریبن کر ابھر تی ہے اور موصوف کی حیثیت چودھویں کی چاند سے کم نظر نہیں آتی ہے،کیونکہ ان کی شاعری اخلاق و کردار سے مزین ہے اور عادات واطوار میں بھی بڑی شائستگی ہے ،ان کے یہاں اگر کلاسیکی روایت کی  وضع داری موجودہے تو وہیں لہجے میں طرزِ قدیم کی پیروی بھی ملتی ہے۔

    انہوں نے شاعری کے ہر میدان میں اپنے نقوش قائم کئے ہیں اور ہر جگہ اپنے دیر پا اثرات چھوڑے ہیں مثلاً حمد، نعت، غزل ،نظم، قصیدہ ،مرثیہ،قطعہ، منقبت ،سلام وغیرہ کثرت سے ملتے ہیں، انہوں نے اپنی پوری حیات کتب بینی، کتب فروشی اور شاعری کے گہرہائے آبدار کو سنوار نے گزاری تو وہیں محبوب کی پیچیدہ زلفوں کو سلجھانے میں بھی بڑی مہارت سے کام لیا ہے،چھوٹی اور لمبی دونوں بحروں میں اشعار کہناان کا فطری امتیاز ہے۔ حمدِ باری تعالیٰ کے اشعار اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ خدا کی وحدانیت کی جلوہ گری کی غماز ہیں، ان کی حمد کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:۔

    بشر سے ہو ثنا تیرییہ بالکل غیر ممکن ہے
    فرشتے جب کہ رہتے ہر گھڑی حیران اے مولیٰ
    جسے چاہے تو عزت دے جسے چاہے تو ذلت دے
    جسے چاہے تو رحمت سے بنا سلطان، اے مولیٰ


    قمرجرولیؔ کے یہاں عوامی جذبات کی عکاسی ملتی ہے اور ان کی شاعری سہل اور سلیس لفظوں کا ایک حسین باب ہے، ان کے یہاں لفظوں کی عقدہ کشائی ہے اور نہ ہی معنوی الجھاؤ ہے ،جو کچھ کہنا چاہتے صاف اور سیدھے لفظوں میں کہہ دیتے ہیں تاکہ سامعین معنوی بھول بھلیوں میں گم ہوں نہ ہی لغت بینی کی ضرورت محسوس ہو، نعتِ رسولؐ میں اپنی صلاحیتوں کا سلیقے سے استعمال کرتے ہیںاوربڑے پرجوش ہو کر کچھ اس انداز سے لب کشا ہوتے ہیں کہ دل کی پژمردہ  دنیامیں سرورانبساط کی کلیاں کھل جاتی ہیں ،کہتے ہیں:۔

    نہ تلاشِ دیر و کعبہ نہ فراق طورِ سینا
    مری چشمِ تر کی حسرت، رہے سامنے مدینہ
    صفِ انبیاء میں ایسے نظر آتے ہیں محمدؐ
    کہ انگوٹھی میں ہو جیسے، کوئی قیمتی نگینہ
    چاہو قربِ رب کو، پکڑو بنیؐ کا دامن
    اُن سے قمر ملے گا، وحدانیت کا زینہ

    قمر جرولیؔ اپنی خوبصورت نعت ’’صحنِ محشر ‘‘کے ذریعے عوام کے دلوں میں دلکشی پیدا کردیتے ہیں جس سے خزاں رسیدہ چمن میں بہار، کمھلائے ہوئے پھولوں میں تازگی اور فضائے بسیط میں دلفریب و شادابی مناظر نمایاں ہوجاتے ہیں،جس کی ترجمانی ان کے اس شعر سے ہوتی ہے جو ان کی شاعری میں چمک بکھیرتی ہے:۔

    اے شفیع الاممؐ تاجدارِ حرم ،یوں نظر آپ کی مہرباں ہوگئی
    مٹ گئی ساری الجھن خدا کی قسم،دل کی کشتی بھنور سے رواں ہوگئی
    جب ملیں رفعتیںکیا سے کیا بن گئی، اوج پاکر کہاں سے کہاںہوگئی
    ان کے پیروں تلے آگئی جو زمیں،دیکھتے دیکھتے آسماں ہوگئی

    قمر جرولیؔ دربارِ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت بڑے انہماک سے پیش کرتے ہیں اور شرفِ حصولِ حاضری کے بعدکسی بھی دنیاوی امراء وسلاطین کو خاطر میں نہیں لاتے،محبت ِ رسولؐ میں کائنات کی ساری چیزوں کو نثارکرنے والے قمرصاحبؔ اس عالمِ فانی کی قیمتیسے قیمتی چیزوں کو اپنی ٹھوکر میں رکھتے ہیں اور جسے لذتِ عشقِ نبیؐ حاصل ہوجائے تو اس کاکہنا ہی کیا، اس کی ٹھوکر میں تو زمانہ رہتا ہی ہے جس کی ترجمانی ان کے اس شعر سے ہوتی ہے،کہتے ہیں:۔

    گدائے مصطفیؐ رکھتے ہیں ٹھوکر میں شہنشاہی
    کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے
    ٭٭٭

    رضواں ہمیں نہ چھیڑ، خدایا ہمیں نہ چھیڑ
    آغوشِ مدینہ میں ارم دیکھ رہے ہیں

    قمر جرولیؔ اپنی شاعری میں نعت کو مقدم رکھتے ہیں ، انہوں نے نعتیں کثرت سے کہیں ہیں، ان کی پوری شاعری کا  احاطہ کیا جائے تو ان کی شاعری کا بیشتر حصہ نعتِ نبیؐ پرہی مبنی ہے اور ان میں اودھی اور ہندی کے نعتوں کاایک طویل سلسلہ ہے جس سے قمر جرولیؔ کو اردو کے علاوہ اودھی اور ہندی کا بھی شاعر کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اردو شاعری میں ان کا تعارف ان کے ہندی اور اودھی کلام کی مقبولیت کے سبب ہوئی ہے،کیونکہ جرول اودھ کا ایک مستقل اورمستحکم علاقہ رہا ہے جہاں کی عوام اودھی کو اپنی روزمرہ کی زبان بنائے ہوئے ہے اسی وجہ سے ان کی مقبولیت میں دن بہ دن ترقی ہی ہوتی چلی گئی۔

    موصوف کا اودھی اور ہندی کلام اپنے اندرایک نادر اندازِ بیان اور زورِ کلام رکھتا ہے جہاں غنائیت اور موسیقیت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے اورسامعین پر ایک حال طاری ہوجاتا ہے یہ ان کا خاصہ ہیں، ان کی اودھی نعت کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں جو دل کے تاروں میں ایک مضرابی کیفیت چھیڑ دیتے ہیں:۔

    چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا
    جہاں نوری رحمت کی لاگی بجریا
    نور کے بادل جہواں بَرسے
    نین ہمارے دیکھن ترسے
    سُونی سُونی لاگت ہے من کی نگریا
    چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

    جن کے دوارے بھیک ملت ہے
    شاہ و گدا کی جھولی بھرت ہے
    بھر بھر لاویں سب اپنی گگریا
    چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

    دائی حلیمہ کی بکری چراویں
    ڑھون، غریبن کی گٹھری اٹھاویں
    شفاعت کے ہے جن کے ماتھے پگڑیا
    چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

    کھجورن کے چھیاّں ما ہم سُستیبے
    اپنے نبیؐ کا ہم دکھڑا سُنیبے
    جن کے کرم کی چلت ہے بَیریا
    چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

    قمر صاحب ؔنے نعت ومنقبت کے ساتھ ساتھ بہت سے سلام بھی تحریر کئے ہیںان میں ان کاایک بہت ہی مشہور سلام ہے جس میں ہندی ،عربی اور اردو کے جمالیاتی لفظوں کی آمیزش ہے ،جو سننے والوں کے دلوں میں اپنا مقام بنا لیتا ہے،اس کا جادوئی لب و لہجہ روحانی دنیا میں تازگی بخش دیتا ہے۔اس کی ایک مثال پیشِ نظر ہے:۔

    الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
    یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
    عبداللہ کے پوت سپوت، تمرے سیوک دَیو کے دوت
    تمرا سہارا ہے مضبوط، تم کا مانے چھوت اچھوت
    الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
    یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
    تمرا روپ رچس کرتار، تم پر موہا خود انہار
    راتن رات گیو ہردوار، لوٹ پڑیو ہوتے بھنسار
    الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
    یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
    امت کارن تجیو پران، حسنؓ حسینؓ کیہو قربان
    کربل بیچ مچی گھمسان، موڑن کاٹ کیہو کھریہان
    الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
    یا شافع الابطحی، وامحمد عربی

    قمر جرولیؔ جہاں ایک طرف محبوبِ حقیقی اور عشقِ رسول میں جنبشِ قلم ہوئے ہیں تو دوسری طرف محبوبِ مجازی کو بھی اپنی شاعری کا محور بنایا ہے ،کیونکہ عشقِ مجازی ہی عشقِ حقیقی کااول زینہ ہوتا ہے پھر آگے چل کر راستے مختلف سمت اختیار کر لیتے ہیں جس میں ایک حقیقی اور دوسرا مجازی ہوتا ہے ، اسی طر ح موصوف نے دونوں کا سفر بڑے پر سکون طریقے سے کیاہے اسی لئے ان کی شاعری میں بھی محبوب سے گلہ شکوہ اور ہجرو وصال کی کیفیات ملتیں ہیں جس کو موصوف نے برتا بھی ہے اور نبھایا بھی ہے۔

    قمر صاحبؔ بھی عارضی محبوب کے دامِ فریب سے خود کو بھی نہیں بچا سکے اور اس کی حسین یادوں میں کھو کرخیالات کے خوشنماوادیوں کی سیر بھی کرتے ہیں اور محبوب کی خوش گفتاری سے محظوظ بھی ہوتے ہیں ،مگر جب دل کی دنیا ظلمتِ شب کی کرب ناکیوں سے گزرنے لگتی ہے تو اپنے محبوب سے یو ںگویا ہوتے ہیں:۔

    سو بار رُلایا ہے اک بار ہنسا دیجئے
    جب آگ لگائی ہے شعلہ بھی بجھا دیجئے
    ٭٭٭

    مجھ پہ بھی ایک عنایت کی نظر ہوجائے
    آپ چاہیں تو شبِ غم کی سحر ہو جائے

    موصوف اپنے محبو ب کو چاند سے بھی زیادہ روشن مانتے ہیں،ا ور اس کو کسی اجنبی کے ساتھ دیکھنا پسندنہیں کرتے بلکہ ہر لمحہ اس کو اپنی یادوں میں بسانے کے خواہاں رہتے ہیںـ:۔

    ان کی زلفوں سے گھٹاؤں نے ہے مانگی خیرات
    دیکھ لے چہرہ تو شرمندہ قمر ہوجائے
    ٭٭٭

    نیندیں حرام ہوگئیں اس روز سے مری
    دیکھا ہے جب سے میں نے تمہیں اجنبی کے ساتھ

    ان کے یہاں رباعیوں کا بھی طویل سلسلہ ہے جس میںبہت ہی سہل اور سادے لفظوں میں اشعار ملتے ہیں جو ان کے تجربات اور پختگی کی دلیل ہیں۔ :

    جب ترے در پہ بندگی ہوگی
    تب مکمل یہ زندگی ہوگی
    رازِ دل مجھ سے کیوں چھپاتے ہو
    بات تو کچھ نہ کچھ ہوئی ہوگی
    ٭٭٭

    جو برباد گلشن ہمارے ہوئے ہیں
    کسی باغباں کے اشارے ہوئے ہیں
    ترے حسنِ جاناں کی خیرات لینے
    بہت لوگ دامن پسارے ہوئے ہیں
    قمرصاحب ؔحق بیانی اور غیر جانبدای سے کام لیتے ہیں اور سماج کی آئینہ داری بھی بڑے خلوص سے کرتے ہیں اور معاشرے میں پیش آنے والے واقعات کی منظر کشی اور منظر نگاری بڑے سلیقے سے کرتے ہیں مگر سیاست سے دور رہ کر، سن بیاسی۱۹۸۲ء؁میں اسی قصبے میں ایک سیلابی طوفان آیا تھا اور جرول کے قرب و اطراف کے ہر گھر میں پانی بھر گیا تھا اور حدِ نگاہ تک صرف پانی ہی پانی نظر آتا تھاجس کی قیامت خیزی سے بہت سے کچے و پکے مکانات زمیں بوس ہوگئے تھے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی تھیں گویا بہت زیادہ مالی نقصان ہوا تھا،اس کی عکاسی کچھ اس انداز سے پیش کی کہ یہ اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر رواں رہتے :۔

    جِیَرا کیسے ہم سمجھائی اب دوہائی رے اللہ
    کھیت گھر کی بھئی صفائی اب دوہائی رے اللہ
    سَن بیاسی نواں مہینہ آوا جب طوفان
    گَھرن گَھرن ما پانی بھر گا عقل بھئی حیران
    کَونَو رستہ نہیں سوجھائی اب دوہائی رے اللہ
    جرول کٹرہ اور چوہدی مچ گئی ہاہاکار
    جَہرے دیکھو وَہرے ہَلّہ ہر سو یہی پکار
    نیّا لاؤ جلدی بھائی اب دوہائی رے اللہ
    قمرؔجرولی کے یہاں شاعری کے مختلف اصناف و ہیئتوںپر طبع آزمائی ملتی ہے ،مگر ان کو نعتِ رسولؐ سے جو الفت وعقیدت ہے اور اس میں جو لذت ملتی ہے وہ شاید کسی دوسری اصناف میں نہیں، اسی لئے ان کا نعتیہ کلام بہ نسبت غزلوں کے زیادہ ہے۔

    انہوں نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ سیاسی ابتری کا دور تھااور قمر جرولیؔ نے اپنی آنکھوں سے بہت سے پُر آشوب ،پُر فتن اورخونی سیاسی مناظربھی دیکھے ہیں اور فرنگیوں کے ظلم وستم کے مشاہدے بھی بہت قریب سے کئے ہیں مگراس کے باوجود سیاسی مسائل سے خود کو مسثنیٰ رکھا اور خاموشی سے صرف ادبی معاملات سے ہی سروکار رکھا اسی لئے ان کی شاعری میں کوئی سیاسی پہلو نظر نہیں آتاہے ،جب کہ جرول ایک سرگرم اور فعال قصبہ تھا اور یہیں سے انگریزوں کے خلاف پریس’’ مطبع عین الفیوض‘‘(جو سید جعفر مہدی کے گھر میں تھا ) سے جنگِ آزادی کے مضامین شائع ہوتے تھے جس کے ضمن میں انگریزوں نے اس پریس کوضبط کرلیا تھا۔

    ان کے یہاں اضافتوں کا استعمال بہت عمدہ پیرائے میں ملتا ہے،لفظوں کی لطافت اور معنوی شائستگی ان کے یہاں بدرجۂ اتم موجود ہیں ،مگر موجودہ عوام کا خاص خیال کچھ یوں رکھتے ہیں کہ بہت پیچیدہ اور معنی آفرینی سے گریز کرتے ہیں ،صرف عوامی شاعری سے ہی اپنی شناخت قائم کرتے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر کلام عوامی نفسیات کی نباضی کرتاہے اور موجودہ دور کے مدِ نظر انہوں نے عوام کی بالکل حقیقی نمائندگی کی ہے۔

    ان کے چارنعتیہ مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور عوام میں ان کی کافی مقبولیت بھی رہی ہے ،پہلا مجموعہ’’نورِ عرفاں حصہ اول‘‘’’نورِ عرفاں حصہ دوم‘‘کلامِ قمر ’’اور عرفانِ محمدؐ ‘‘ان کی نعتیہ تصانیف ہیں جو مذکورہ زبانوں پر مبنی ہیں۔

    ان کی شاعری میں ان کی شخصیت کی پوری چھاپ نظر آتی ہے، خوش مزاجی اورخندہ پیشانی سے ملنا خاص وصف ہے جوان کو عوام میں ممتاز بناتا ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے اور اس میں اخلاص ومحبت کا ایسا جادو جگایا ہے جس کو پڑھ کر قاری یا سامعین بے ساختہ واہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ان کو لفظوں کے استعمال اور اس کو نبھانے کا جو فن معلوم ہے اس کی مثال قمر جرولیؔ خود ہیں۔ اس کے باوجود ادب کا یہ مایہ ناز شاعر اردو دنیا سے اس طرح گم ہے جیسے کہ دنیائے ادب سے نہ تو ا ن کا کوئی تعلق ہو اور نہ ہی ان کی کوئی شناخت۔اس کے باوجود وہ جرول قصبہ کے منعقدہ مشاعرے میں چاہے وہ طرحی ہوں یا غیر طرحی شرکت ضرور کرتے تھے،یہ ان کا اردو ادب پر بڑا احسان ہے۔

    ABDULLAH Hindi

    محمد عبداللہ

    مصطفی آباد،ضلع بہرائچ

    اترپردیش

  • مسعود چشتی کی خوشبو خوشبو

    مسعود چشتی کی خوشبو خوشبو

    ورق ہوا ہے خوشبو  خوشبو” میں مسعود چشتی کے فکرِ رسا کے حسیاتی موسموں میں نسیمِ حجاز کے نشیلے جھونکے رقص کناں دکھائی دیتے ہیں اور یہ نعتیہ کتاب ایک خوبصورت ردیف "خوشبو” کی مفید دنیائے بسیط کے شستہ مناظر کی تصویر کشی کرتی ہے مسعود چشتی کے نعتیہ کلام ان کی فکری نظافت اور وجدانِ قلب کی روداد ہیں  "ورق ہوا ہے خوشبو  خوشبو” میں لفظ لفظ گوہر ہے ،لفظ لفظ عنبر ہے ،لفظ لفظ خوشبو ہے جو سہل ممتنع اور ندرت کے ساتھ ساتھ  فکر و نظر کے جمالیاتی حسن کا آئینہ دار ہے آقائے دو جہاں کی نعت خصوصی فیض و کرم سے عطا ہوتی ہے ہر لفظ عطائے رب ذوالجلال کے ساتھ ساتھ عطائے امواجِ بقا، عطائے چشمہ ءعلم و حکمت نازش، عطائے سندِ امامت، عطائے غنچہ ء راز وحدت، عطائے جوہرِ فرد عزت، عطائے ختمِ دور رسالت، عطائے محبوبِ رب العزت، عطائے مالکِ کوثر و جنت، عطائے سلطانِ دینِ ملت، عطائے شمعِ بزم ہدایت، عطائے مخزنِ اسرارِ ربانی، عطائے مرکزِ انوار رحمانی،عطائے مصدرِ فیوضِ یزدانی ،عطائے قاسمِ برکاتِ حمدانی، عطائے دانشِ برہانی، عطائے صابر و شاکر، عطائے مدثر و مزمل، عطائے مزمل و مرسل، عطائے انتہائے کمال، عطائے منتہائے جمال، عطائے مبنع خوبی و کمال، عطائے بے نظیر و بے مثال، عطائے فخرِ جہاں ،عطائے نیرِ درخشاں،عطائے نجمِ تاباں، عطائے ماہِ فروزاں، عطائے صبحِ درخشاں، عطائے نورِ بداماں، عطائے مونسِ دلِ شکستگاں، عطائے راحتِ قلوب  عاشقاں، عطائے نورِ دیدہ ء مشتاقاں، عطائے موجبِ ناز عارفاں، عطائے باعثِ فخرِ صادقاں، عطائے رحیمِ بے کساں، عطائے حُبِ غریباں، عطائے شاہِ جناں، عطائے جانِ جاناں، عطائے قبلہ ء زہراں، عطائے کعبہء قدسیاں سے ظہور پزیر ہوتا ہے۔ ان الفاظ کی صوتی ترنگ آبشارِ الہام کے ساتھ جب مدحت کو گلریز کرتی ہے تو ردیف”خوشبو” جیسی کتاب منصہ ء شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے ۔

    مسعود چشتی کتاب کی ابتدا حمد سے کرتے ہیں اور مالک دو جہاں سے یوں دعا کرتے ہیں:۔

    میرے کلام کو مہکائے تسمیہ خوشبو

    مرے خدا ہو عطا مجھ کو نعتیہ خوشبو

    میں نے اپنی کتاب "نماز شب” میں بھی یہ سطریں رقم کی ہیں ۔ کہ آج سے چودہ سو سال قبل کائنات جب کفر و شر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مستور تھی زندگی کے آئینہ خانے میں کہیں وحدت کے رنگ نظر نہیں آتے تھے۔ جابر حکمرانوں کے ہاتھوں میں وقت کی طنابیں تھیں۔ شبِ سیاہ نے پر نور سحر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ عرب کے دروغ گوئی کے رسیا جہالت کی وادی میں بھٹک رہے تھے۔ کمزوروں، یتیموں اور بے بسوں کو نویدِ حیات کا  مژدہ سنانے والا کوئی نہ تھا۔

    khushboo khushboo

    نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ مئے نوشی ان کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایسے حالات میں رحمت ستارالعیوب نے جوش میں آکر رنگ بدلا اور کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نئی ضیا عطا کر کے حضرت بی بی آمنہ سلام اللہ علیہا کے پاک آشیاں پر ایک  شفیعِ معظم ﷺ کی آمد سے حالات کو یوں بدلا کہ عرب میں دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بے باکی کے علمبردار بن گئے جو شتربان تھے جہاں باں بن گئے ۔ آپؐ کی طاہر مجلس نے عرب کے لوگوں کو یکسر بدل ڈالا جسے مسعود چشتی کی بصیرت یوں دیکھتی ہے:۔

    جن کو حاصل ہوئی سرکار کی صحبت،سارے

    بن گئے فضلِ خدا سے وہ امام خوشبو

    شعورِ آدمی جانتا ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم پر آپؐ نے گامزن کیا

     بے نواؤں اور بے کسوں کی حالتِ زار پر آپ رحم بن کر برسے اور ان کو عزت و ناموس کے قیمتی زیور سے آراستہ کیا۔ اور یہ سب عزتیں اور عظمتیں آقا پاکؐ  کے دم سے ظہور پزیر ہوئیں۔ مسعود چشتی کے الہام پر ان عظمتوں کی آمد یوں مشکِ عنبر بن کر اتری:۔

    بے نواوں،بے کسوں کو بخش دے جو عزتیں

    دیتی ہے وہ عظمتیں گلزارِ طیبہ کی مہک

    اس میں کوئی شک نہیں کہ صبحِ درخشاں دلوں کو ایک کیف عطا کرتی ہے اور یہ کیف ایک عجیب طمانیت بن کر وجدانِ روح میں اترتا ہے کیونکہ کائنات کی یہ حسن و رعنائی آپؐ کے ہی دم قدم سے ہے گلابوں کی شائستگی اور خوشبو سب آقا پاک ؐکی خوشبو سے کشید کی گئی ہیں اور یہ سب آپؐ کے نعلین کا صدقہ ہیں یہی اظہاریہ اس شعر کے حسن کا باعث ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    جمالِ صبحِ ازل میں جناب کی خوشبو

    ہے صدقہ آپ کا عطر و گلاب کی خوشبو

    سفید سیاہ زرد اور زمردی رنگ کی ایک خوشبو دار لکڑی کو "عود” کہا جاتا ہے کہتے ہیں ان میں جو سب سے عمدہ لکڑی ہوتی ہے وہ پانی میں ڈوب جاتی ہے اسے عودِ غرقی   کہتے ہیں ۔  عود کی خوشبو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند تھی صاحبِ مطالعہ شاعر مسعود چشتی جب

    ” عود کی خوشبو” کو ردیف میں استعمال کرتے ہیں  تو یہ اُن کے اوجِ خیال کو ایک نئی رعنائی عطا کرتی ہے جو کلام کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔ اس نعت میں ہر شعر فکری ندرت کا آئینہ دار ہے ایک شعر ملاحظہ کیجیے:۔

    میرے حضور کی چاہت ہے عود کی خوشبو

    ہوئی ہمیں بھی عنایت ہے عود کی خوشبو

    ساری کائنات میں آپ کا نور اور خوشبو رچی ہوئی ہے تخیل کی ادراکی ء پرواز میں انہی کا ریشمی تبسم رچا ہوا ہے جو مرکزِ عالم ہیں ،جو وارثِ زمزم ہیں ،جو مبداء کائنات ہیں جو مخزنِ کائنات ہیں، جو منشائے کائنات ہیں، جو مقصودِ کائنات ہیں ، جو سیدِ کائنات ہیں ، جو سرور کائنات ہیں ، جو مقصدِ حیات ہیں، جو منبع ء فیوضات ہیں جو افضل الصلوات ہیں، جو خلاصہء موجودات ہیں ، جو صاحبِ آیات ہیں ، جوصاحبِ معجزات ہیں، جو باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں، جو جامع صفات ہیں ، جو اصلِ کائنات ہیں ،جو فخرِ موجودات ہیں ، جو ارفع الدرجات ہیں ،جو اکمل الرکات ہیں بلکہ جو واصلِ ذات ہیں

    انہی کا احساسِ تخیل شاعر کو جلا بخشتا ہے جس کا نورانی اظہاریہ نوکِ قلم یوں اگلتا ہے:۔

    میرے احساسِ تخیل کو جو مہکاتی ہے

     سوچوں کی جلاوں میں ہے ان کی خوشبو

    مشکِ عنبر اور مشک عود وغیرہ کو ملانے سے لخلخہ بنتا ہے جو دماغ کی قوت میں اضافے کے لیے سونگھایا جاتا ہے ایسے الفاظ استعمال کرنا مسعود چشتی کا خاصا ہیں ۔ فکری عفت، ندرتِ خیال اور  اسلوبیاتی صباحت سے مزین یہ شعر ملاحظہ کیجیے:۔

    رہے معطر و پرنور جس سے دل کا حرم

    رہے نصیب میں ہر دم وہ لخلخہ خوشبو

    مسعود چشتی اپنے کلام پر اس لیے نازاں ہیں کہ وہ ارفع ذکر کرتے ہیں جسے قرآن نے

    "ورفعنا لک ذکرک ” کی سندِ جمیل سے نوازا ہے۔

    مسعود چشتی کے نگارخانہء شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل قاری کے فہم و ادراک کو ایسا نور بخشتے ہیں جن کو قاری پڑھتا جاتا ہے اور عشقِ رسولؐ میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ جدتِ خیال کے رنگ،دھنک میں پرو کر اس لطیف صورت کو قرطاس کے سینہ پر ایسے نقش کرتے ہیں:۔

    کروں گا ناز بہ فضلِ خدا نصیبوں پر

    ملے جو طیبہ کی بس ایک ثانیہ خوشبو

    انہی الفاظ کو اس دعا کے ساتھ سمیٹتا ہوں کہ اللہ پاک مسعود چشتی کو تا زیست آسمانِ ادب پر متمکن رکھ کر ستاروں کی طرح چمکتا دمکتا رکھے اور ہمیں نعت نئے اسلوب کے ساتھ پڑھنے کو ملتی رہے۔آمین۔

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

    اٹک

  • "صراطِ مودت” کے پھول

    "صراطِ مودت” کے پھول

    نیرنگیء سخن ،خیالات کے دھنک رنگ اور انابیبِ شعری جب مزین ہو کر سید مبارک علی شمسی کے موجِ ادراک پر برستے ہیں تو موجِ سخن ایک درخشاں صورت لے کر چشمِ امواجِ بقا، سندِ امانت، غنچہء رازِ وحدت،جوہرِ فردِ عزت،مخزنِ اسرارِ ربانی حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت کی صورت اختیار کر کے "صراط مودت "کی رخشاں صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ نعت اللہ ستار العیوب کی ایک خاص عنایت کا نام ہے جو مخصوص افراد کے فکرو شعور پر الہام کی صورت میں نازل ہوتی ہے اور یہ الہام  الفاظ کی گلرنگ برساتیں بن کر قارئین کے فہم و ادراک میں اضافہ کرتے ہیں۔

    صراط مودت میں سید مبارک علی شمسی کے عشقِ مصطفیٰؐ کے جام جگہ جگہ پر چھلکتے ہوئے نظر آتے ہیں آپ نثر نگار بھی ہیں شاعر بھی اور ایک معروف صحافی بھی ہیں جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں سادات کا چشم و چراغ ہونے کی وجہ سے سادات سے گہری محبت رکھتے ہیں اور سادات کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

    sirat e mawaddat

    "صراطِ مودت” میں اللہ رب العزت کی حمد میں کائنات کی ضیا پاشیاں، رنگ و نور اور قرینہء خلق دیکھتے ہیں تو بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں :۔

    منحرف ہو نہیں سکتا کوئی شمسی اس سے

    مہر و ماہ ایسے قرینے سے سجائے تُو نے

     منتہائے جمال، منبعء خوبی و کمال حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سیرت کا نگینہ جب دل کے صدف میں اتارتے ہیں تو غم گسارِ دل فگاراں آقاؐ پاک کی حمد و ثنا اور اللہ ستارالعیوب کے فرمانِ ذیشان دیکھ کر دونوں سے حسنِ شعر کشید کرتے ہیں اور کہتے ہیں  :۔

    حامد بھی ہے اور محمود ہے

    اے رسولِؐ خدا تیری کیا بات ہے

     آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے عشق ہو اور مدینے سے نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے جن خاک کے ذروں پر مبارک نعلین پڑے وہ نگیں ہو گئے ۔جس خاکِ طیبہ پر آپ تشریف فرما ہوئے وہ خاک خاک نہ رہی خاکِ شفا بن گئی

    جس شجر کی طرف آپ نے نظر کرم فرمائی وہ شجر پھلوں سے سرفراز ہوا مدینے کے اطراف آپ کے خوشبو دار سانسوں سے عنبر ہو گئے آپؐ کی برکات اب بھی مدینے میں قائم دائم ہیں۔ شاعر کی فکر رسا ان لطافتوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتی ہے جو اس کی فرخندہ بخت نظریں دیکھتی ہیں اوجِ فکر حسن مدینہ کو ایسے بیان کرتی ہے :۔

    سنگ ریزے بھی مدینے کے لگیں

    مجھ کو جنت کے نگیں،تجھ پر سلام

    جب ناعت مونس آدم، قبلہء عالم، کعبہءاعظم، جان مجسم، نور مجسم،   انجمن لیل و نہار، شافع یوم قرار، آفتاب نو بہار، سرور عالم فخرِ دو عالم، مرسلِ خاتم، خیرِ مجسم، صدرِ مکرم، نورِ مقدم، نیرِ اعظم، مرکزِ عالم، وارثِ زمزم، کی ثنا لکھتا ہے تو آپ کے صحابہؓ پر نظر پڑتی ہے اس کو آقا پاک کی تربیت پر فخر محسوس ہوتا ہے اس فخر کے احساس سے قلب و نظر میں محبت کے پھول  قلم کی نوک چومتے ہیں تو ایسے گلرنگ اشعار موتیوں کی طرح کاغذ کے سینے پر بکھرتے چلے جاتے ہیں:۔

    آقاؐ تو آقاؐ ہیں کیا بات کروں ان کی

    آقا کے صحابہ کا کردار مثالی ہے

    مدینے کی فضاوں میں آقاؐ پاک کی خوشبو  آتی ہے جس کو عاشق اب بھی محسوس کرتے ہیں غارِ حرا ہو یا غارِ ثور جہاں بھی آقا پاک تشریف لے گئے وہاں پر جانا مسلمانوں کے لیے خیرو برکت کا باعث ہے یہی احساس مدینے کی محبت میں اضافہ کرتا ہے اور شاعر فرطِ جزبات سے کہہ اٹھتا ہے:۔

    دل جو طیبہ کا مکیں ہو جائے

    زندگی پھر تو حسیں ہو جائے

    رخِ انورِ مصطفیٰؐ کی تابانیوں کو جس نے بھی دیکھا ہے وہ خوش نصیب ہے حضرت یوسفؑ کے حسن و جمال پر زنانِ مصر نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے یہاں تو عاشقان رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر تک کٹوا دیے تھے اور اب بھی عشقِ مصطفیٰؐ میں لوگ جان دینا اپنی سعادت سمجھتے ہیں سید مبارک علی شمسی بھی اسی حضوری کیفیت کا ذکر کر کے یوں اظہارِ عشق کرتے ہیں:۔

    ہو جان فدا آپ پہ اے سیّدِ لولاکؐ

    ہے دل کی صدا آپ پہ اے سیّدِ لولاکؐ

    ” والضحیٰ” کی تابانیوں سے گلوں کا شگفتہ پن، کلیوں کا بانکپن ،آفتاب سے پھوٹی ہوئی کرن، ماہتاب کی پرنور ضیا، بلبل کا مترنم غل ، کوئل کی سریلی ادا ، حسین کہکشاوں کی ضیا، دلآویز جھرنوں کا ترنم، گلرنگ برساتوں کا ریشمی تبسم اور ہر دلربا کی ادائے حُسن و رعنائی کی خیرات مانگتی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی صورت قرآن میں بیاں کر دی ہے آپ کی سیرت اور صورت دونوں قرآن میں ہیں حُسنِ محمدؐ کی قسمیں رب کھا کر نعت کہتا ہے ۔شاہ جی بھی خوش قسمت ہیں جو نعتیہ دیوان رکھتے ہیں اور حضورؐ کا حسن و جمال قرآن کے حوالے سے یوں بیان کرتے ہیں :۔

    کس طور میرے آقاؐ ہیں اللہ کو پیارے

    قرآن میں ہم رب کی قسم دیکھ رہے ہیں

    آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اخلاقِ حسنہ سے لوگوں کے دل جیت لیے یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا غریبوں، مسکینوں اور بے آسرا افراد کو سہارا دیا اور ان کی اخلاقی و معاشی مدد کی۔ آپ کے فضائل،خصائل دشمنوں نے بھی تسلیم کیے اور آپ کی دیانت اور صداقت کے گرویدہ ہو گئے جس کا خوب صورت اظہار اس شعر میں ملاحظہ فرمائیے:۔

    اعتراف دشمنوں  کو  ہے

    ایسے خوش خصال ہیں حضورؐ

    درود و سلام کے نذرانے، نعت مصطفیٰؐ کی حلاوتیں زندگی میں رنگ بھر دیتی ہیں کیونکہ ذکر مصطفیٰؐ اللہ جل شانہ کو بھی پسند ہے اسی لیے قرآن میں اللہ رب العزت نے ” ورفعنا لک ذکرک” کی سندِ مبین عطا کر کے پوری انسانیت کو بتا دیا کہ اس ذکر کی بلندیاں اور رفعتیں صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اجر بھی وہی دے گا سرکار کا ذکر دلوں کو جوڑتا ہے مدحت سننے سے آپؐ کی سیرت سے آشنائی ہوتی ہے اور ذاکر ثواب کی ان گنت تعداد سے نوازا جاتا ہے "صراط مودت ” میں شاعر کا یہ خوب صورت شعر ان کے اعلیٰ ذوق کا آئینہ دار ہے  ملاحظہ کیجیے :۔

    چھڑے نہ سازِ دل پر ذکرِ احمدؐ

    تو ایسی صبح  نہ کوئی شام آئے

    زمانے کو عشقِ سکونِ درد منداں ،غمسازِ غریباں، نگاہِ بے نگاہاں

    حسنِ بیکراں ،انیس بے کساں، راحتِ قلب و جسم جاں، راحتِ رفتگاں،چارہ گرِ آزردگاں  حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ہی شفاعت نصیب ہو گی اور پروانہ ء نجات ملے گا اس لیے اب شاہ گدا سب آپ کے درِ اقدس پر ہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کیونکہ گناہگاروں کی آسِ شفاعت حقیقی ہے جو مقامِ محمود پر ہونی ہے اسی خیال کو شعر سے یوں رعنائی دیتے ہیں :۔

    آپؐ کے در پر ہی جھکتے ہیں سبھی شاہ و گدا

    آپؐ کے در سے ہی ملتی ہے زمانے کو اماں

    نعت کی حُسنِ گفتگو اُس وقت ہی مکمل ہوتی ہے جب وہ معراجِ مصطفیٰؐ کا ذکر کرتا ہے ۔شاعری کی زینت نعت ہے اور نعت کی زینت معراجِ مصطفیٰؐ ہے کیونکہ آپؐ دنیائے خدا کے واحد انسان ہیں جو عرش پر تشریف لے گئے اور واپس تشریف لے آئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آسمان کی طرف اٹھایا گیا لیکن ان کا سفر الگ نوعیت کا ہے آپؐ کو دیدار نورِ خدا کی سعادت سے نوازا گیا اور آپ سدرہ سے آگے تک تشریف لے گئے یعنی آپ کی رسائی قاب و قوسین تک تھی اسی خوب صورت سفر کو شاہ جی مخفی الفاظ سے یوں زیبِ قلم کرتے ہیں:۔

    عظمتوں کی حد ہوئی شک ہی نہیں اس بات پر

    عرش تک جن کی رسا وہ آپ ہیں بس آپ ہیں

    شق القمر کا واقعہ پوری دنیا نے دیکھا ہے جس کا انکار آج تک کسی نے بھی نہیں کیا ہے  حضورؐ کا یہ معجزہ زمین سے ہٹ کر الگ تھلگ تھا جس کو کتنی خوب صورتی سے شاہ جی نے صنعت تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے بیاں کیا ہے :۔

    اک اشارے سے ہوا ہے معجزہ شق القمر

    کس قدر اعلیٰ و ارفع ہے یہ شانِ مصطفیٰؐ

    عشقِ رسولؐ کے دھنک رنگ نصیب والوں کو ہی میسر ہوتے ہیں صورتِ صبحِ درخشاں ایسے انسان کائنات کا حسن ہوتے ہیں زندگی انہی لوگوں کی وجہ سے قائم ہوتی ہے لیکن عشقِ رسولؐ کی دولت کو چھپایا جاتا ہے کیونکہ یہ عاجزی سے پنپتا ہے فخر اور تکبر اس کو ماند کر دیتے ہیں۔ شاعر کی فکری نظافت کے رنگ اس شعر میں ملاحظہ فرمائیے :۔

    جو عشقِ آقا ہے طاہر سا اک نگینہ ہے

    بڑا سنبھال کے رکھنا ہے اس نگینے کو

    ملائک کی در سرکار پر آمد ہمارے لیے تسکین روح کا باعث ہے جس کو بیاں کر کے ہم اپنے آقاؐ شاہِ جناں،جانِ جاناں،قبلہء زہراں، کعبہءقدسیاں، ہمدمِ نوحؑ، رہبرِ خضرؑ، ہادی ء عیسیٰؑ، عفتِ مریمؑ، حسنِ مجرد، دولتِ سرمد، ساقی ء کوثر، شافع ء محشر، روحِ مصور، مرسل داور سے اپنے عشق و وارفتگی کا اظہار کرتے ہیں شاعر بھی اپنی عقیدتوں کا سفر اسی حقیقت کے سفینے پر طے کرتا ہے شاعر کا مودت بھرا اظہاریہ اس شعر میں دیکھیے :۔

    دروازہء محبوبِ خدا ایسا ہے اک در

    جس در پہ میں قدسی بھی گدا دیکھ رہا ہوں

    اہل بیت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال سفینہ ء نوح علیہ السلام کی مانند ہے جو بیٹھ گیا بچ گیا اور جو اس سفینے پر نہ بیٹھا وہ عذابِ الٰہی میں غرقاب ہوا۔ اہلِ بیت رسولؐ کے طفیل خطائیں معاف ہوتی ہیں فطرس فرشتے کی سزا حضرت حسینؑ کے جھولے  سے مس کرنے سے ختم ہو گئی تھی جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حسنینؑ کریمین کے صدقے خطائیں معاف ہوتی ہیں اور بلائیں ٹلتی ہیں سید مبارک علی شمسی بھی اپنی امیدیں حسنینؑ کریمین سے لگائے بیٹھے ہیں اُن کے حسنِ تخیل میں اظہارِ دعا دیکھیے :۔

    حسنینؑ کے صدقے، ہوں میری معاف خطائیں

    سامانِ توکل لیے نکلا ہوں میں گھر سے

    تبصرہ طوالت اختیار کر رہا ہے آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ پاک شاہ جی کے علم و عمل میں وسعت عطا فرمائے۔آمین

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف اٹک

  • بیاں کیا ہو وصف جمال محمدؐ

    بیاں کیا ہو وصف جمال محمدؐ

    اپنے پرنانا الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی ایک نعت رسول مقبول ﷺ آپ کی خدمت میں

    بیاں کیا ہو وصف جمال محمدؐ
    ثنا خواں ہے خود ذوالجال محمدؐ
    عطا کر مجھے معرفت اپنی یا رب
    بسا دل میں حْب و خیالِ محمدؐ
    اشارے سے ان کے ہوا چاند ٹکڑے
    یہ ہے ایک ادنیٰ کمالِ محمدؐ
    سکون دل کو آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے
    نظر آیا جس دم جمالِ محمدؐ
    خدا کا جو پیارا ہے روزِ ازل سے
    وہ ہے ذات اک بے مثالِ محمد
    خدا فضل سے اپنے وہ دن دکھائے
    شفیعؔ آپ ہو اور جمالِ محمدؐ

    الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی

    الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی


  • خزینہء رحمت- سمیعہ ناز کی کتاب

    خزینہء رحمت- سمیعہ ناز کی کتاب

    خزینہء رحمت- سمیعہ ناز کی کتاب

    الفاظ کی صوتی ترنگ جب الہام کے ساتھ ملتی ہے تو فکر و نظر کے پھول حبیبِؐ کبریا کی مدحت سرائی میں خوشبووں کے نشیلے جھونکے لے کر آتے ہیں۔ مدحت سرائی ذاتی کاوش سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ یہ غمگسارِ دل فگاران مدنی تاجدار حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہِ کرم سے ظہور پزیر ہوتی ہے۔ اس میں خیال کو لفظوں کی خوشبو میں ڈھالنا شاعر کا کمال ہوتا ہے جو کہ عطائے ربِ کریم ہوتا ہے۔ نعت گوئی زیارت رسولؐ کا باعث بنتی ہے جب ناعت نعت لکھتے وقت آنکھوں سے نایاب گوہر بیج کی صورت میں اپنے رخساروں کی شگفتہ زمین پر بوتا ہے تو یہ عمل آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں منظورِ نظر ہوجاتا ہے اور الہام کی رم جھم عشقِ رسولؐ میں خامے پر موتیوں کی طرح برستی ہے۔ مجھے نعت گوئی نے کیا کچھ دیا ہے اس کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ میرا موضوع ہے۔ مدحت کے دروازے پر آواز نیچی، آنکھیں جھکی ہوئی، گردن خم اور ہاتھ باندھ کر باوضو جانے سے جو سکون و طمانیت حاصل ہوتی ہے وہ شاعری کی دوسری اصناف کے شعرا کے نصیبوں میں کہاں ہے۔

     محترمہ سمیعہ ناز کی نعت نگاری سے میری شناسائی اُن کی کتاب "خزینہ رحمت ” سے ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر ان کی سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے والہانہ مودت نعت کے مختلف گروپوں میں عیاں ہوتی ہے شاعرانہ صلاحیتوں سے مزین دل اور قلم رکھنے والی شاعرہ نہ صرف خود شعر کہتی ہیں بلکہ ان کا سوشل میڈیا پر اپنا نعتیہ گروپ بھی ہے جس میں نو وارد شعرا کی پزیرائی کرتی ہیں جو ان کا ایک بہت اعلیٰ وصف ہے ۔ مجھے جب سید شاکر القادری جو اٹک میں نعت گوئی کا ایک بہت نام ہے انہوں نے کمالِ شفقت سے  ” خزینہء رحمت ” کا تحفہ عطا کیا تو پڑھ کر میں سمیعہ ناز کی شاعری اور صلاحیتوں کا معترف ہو گیا

    سید شاکرالقادری  نے محترمہ سمیعہ ناز کے ادبی سفر کا تعارف جس خوبصورت انداز میں کرایا ہے اسے پڑھ کر قاری کو نعت گو خواتین کی تاریخ اور مودتوں کے سفر کا اندازہ ہوتا ہے  ۔ اللہ ربّ العزت نے سمیعہ ناز کو  لیڈز ( یو کے ) کی ” یارکشائر ادبی فورم ” میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بھرپور موقع دیا ہے جس میں خواتین شعرا  کے لیے وہ ایک متحرک عاشقِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوب صورت اور خوب سیرت روپ میں جلوہ گر ہیں، انہوں نے اس تنطیم کو اردو ادب کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ  فروغ نعت کا ایک بہترین پلیٹ فارم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے  "خزینہء رحمت” میں شامل کلاموں پر جب عشاق مصطفیٰٰؐ کی نظریں نورانی نکہت و رفعت کی تلاش میں پڑتی ہیں تو ایمان و ایقان منور و معنبر ہو جاتے ہیں جس سے سیرت کے کئی باب اذہان و قلوب پر نقش ہوجاتے ہیں اور قاری معاشرے کا ایک بہترین رکن بنتا چلا جاتا ہے جو کدورت کے جنگل سے نکل کر محبت اور نرم دلی کے گلستان میں داخل ہوتا ہے ۔

    خزینہء رحمت- سمیعہ ناز کی کتاب

            سمیعہ ناز کی نعتیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اُن کے قلب و نظر کی روحانی واردات  ہیں جو کہ الہام کا ایک نہ ختم ہونے والا مہک افروز سلسلہ ہے

            محترمہ سمیعہ ناز کی نعتوں میں ندرت ، سلاست ، بلاغت ،اوجِ خیال ، شوکتِ الہام کی فراوانی ، مضمون آفرینی اور عشقِ رسولؐ کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ایسے ایسے گوہرِ نایاب رکھتا ہے جس کو دیکھ کر قاری حیران رہ جاتا ہے۔  لیجیے آپ بھی ان اشعار کے موضوعات اور اسالیب کی خوب صورتی سے ذہنوں کو معنبر کیجیے :۔

    نبی کی نعت رقم کی ہے جب بھی کاغذ پر

    تو  اس  دیار  کی  تصویر چشمِ تر میں رہی

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن راستوں پر چلتے تھے اُن پر آنے جانے والے جان جاتے تھے کہ یہاں سے حضرت  بی بی آمنہ ؑ کے چاند کی سواری گزری ہے اور صحابہ کرام ؓ     آپ کا یہ اعجاز بھی دیکھتے تھے کہ جب کسی غزوہ میں جاتے تو سفر کا پتہ ہی نہ چلتا اور فاصلے سمٹ جاتے۔جیسے محترمہ سمیعہ ناز نے اس شعر میں بیان کیا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    چلیں جس راہ پر آقا ﷺوہاں کے فاصلے کم ہوں

    زمیں  جیسے  سمٹ  جائے  مرے  آقاؐ کی عظمت سے

    تاریخ شاہد ہے کہ آج تک جتنے لوگوں نے فنا سے بقا تک کے سفر طے کیے ہیں وہ درود پاک اور سلام کے اوراد کا وظیفہ کر کے یہ سارے زینے چڑھے ہیں ان اوراد کی برکات اتنی زیادہ ہیں کہ کئی کتابیں لائبریریوں میں ان اوراد  سے بھری پڑی  ہیں مسلسل بحرِ درود میں رہنے والا شخص زیارتِ رسول ﷺ سے بھی فیض یاب ہوتا ہے اور دنیاوی و آخری مشکلات سے بھی بچتا ہے درود پاک کی عظمت سے سمیعہ ناز یوں معترف ہیں:۔

    درود  پاک پڑھنے کا ثمر یہ خواب میں دیکھا

    گلاب آکاش سے برسے عجب رنگیں رداوں میں

    اعجازِ نعت اور عشقِ رسولؐ کا فیضان ان کو اشعار میں ایسے عنایت ہوتا ہے ملاحظہ فرمایے:۔

    نبیؐ کی نعت رقم کی ہے جب بھی کاغذ پر

    تو اس دیار کی تصویر چشمِ تر میں رہی

    فکرِ رسا جب فکری نظافت کے ساتھ مل جائے تو شعر کی اسلوبیاتی صباحت یوں سماعتوں کو مستنیر کرتی ہے:۔

    میرے منہ میں حلاوت سی گھلنے لگی

    نام کس کا لبوں پر مرے  آ گیا

    عاشقانِ رسولؐ تنہائی میں آنحضورؐ سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور دل کے سارے معاملات پیش کرتے ہیں اس خوب صورت کیفیت میں ان کی سسکیاں اور آہیں رقصِ بسمل کی طرح ہوتی ہیں جو تڑپ اور کسک دل کے دریچوں کو چھوتی ہے وہ ایسا اظہارِ خیال بنتی ہے:۔

    دل کے دکھڑے انہی کو سناتے ہوئے

    آنکھوں  سے  موتیوں  کو بہایا کرو

    یہ نہیں ہو سکتا کہ آنحضورؐ سے تو عشق ہو اور ان کے شہر کی گلیوں، درو دیوار،پہاڑوں اور خاک شفا سے محبت نہ ہو ہر عاشق حضورؐ کے شہر کی مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہے سمیعہ ناز بھی اسی خواہش کا اظہار یوں کرتی ہیں :۔

    چمکے  گا مقدر کا ستارہ مرا اس دن

    جب خاک میں مل جاوں گی گلزار نبیؐ میں

    آنحضور ؐ کی سیرت و کردار پر عمل پیرا ہونا ہی عظمت و رفعت کی دلیل ہے کیونکہ آپؐ کا اُسوہءحسنہ ہی بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ اس شعر میں سمیعہ ناز کی فکری عفت دیکھیے:۔

    حریم جاں میں بس جائے اسی کردار کی خوشبو

    نبی کے عشق میں کچھ اس طرح مجھ کو فنا کر دے

    زیارتِ رسولؐ سے سرفراز ناعت آنحضور کے شمائل و فضائل بھی لکھتا ہے اور ان کا سراپاءحُسن پیکر بھی نوکِ قلم کی سجدہ ریزیوں میں شامل کرتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پر زنانِ مصر کی انگلیاں کٹی تھیں لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو کئی مبارک سر کٹے ہیں اور آج تک کٹ رہے ہیں اور کٹتے رہیں گے حسنِ مصطفیٰ  ﷺکا عاشق تو خود خدا ہے بندوں کی مودت بھی دیدنی ہے سمیعہ ناز بھی اپنا حسنِ عقیدت یوں لکھتی ہیں:۔

    نگاہوں میں مری کوئی حسیں چہرہ نہیں جچتا

    زیارت  خواب میں جب  سے ہوئی  یا مصطفیٰؐ تیری

    آنحضور ؐ کے در پر پہنچنے والا عاشق ہی مقدر کا دھنی ہوتا ہے کیونکہ آپؐ کے در سے بڑا در اللہ پاک نے خلق ہی نہیں کیا۔ یہی منزلِ مقصود ہے اور یہی کامیابی کی دلیل ہے جس نی یہاں تک رسائی حاصل کر لی وہ مقبولِ نظر ہو گیا۔ اس شعر میں اظہار خیال سے لطف لیجیے:۔

    وہی منزل کو پہنچا ہے ، اسی نے پائی ہے رحمت

    محبت جس نے بھی دل میں بسائی آپؐ کے در کی

    نبیلِ فکر جب اوجِ مدحتِ مظہرِ انوارِ حق ، مصدرِ اسرارِ حق اور صاحب قاب و قوسین کے عشق میں بقا پاتی ہے تو جدتِ خیال کے ریشمی تبسم کو لطیف حسن و رعنائی کے ساتھ قرطاس کے سینہ پر یوں گلابوں کے ہار کی طرح سجاتی ہیں:۔

    خاورِ دل سے ہوا نعت کا خورشید طلوع

    نا امیدی میں ہوئی صبح کی امید طلوع

    الفاظ کی گلرنگ برساتیں قاری کے قلب و نظر کو ایسا زرخیز بناتی ہیں کہ علم و ادب کے کئی نئے در وا ہوتے ہیں اور ایک شعر پورے ایک واقعہ کو بیان کر دیتا ہے سرکارِ دو جہاں کا ناعت ہونا بہت بڑا اعزاز ہے چونکہ نعت ” ورفعنا لک ذکرک ” کے فصیح و بلیغ ذکر کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے اس لیے خوش بختی اُس کے قلب و نظر پر  خدا کی طرف سے ایک خصوصی عنایت ہوتی ہے جو کہ ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتی ۔ مدحت کی عنایت سمیعہ ناز کو دوسرے شعرا سے ممتاز کرتی ہے اس لیے اُس کے نگار خانہ ء شعر میں  اظہار شوق کی شائستگی یوں مسکراتی ہے :۔

    مدحت کا یہ صلہ مرے مالک نے دے دیا

    محفل میں نعت خوان پکاری گئی ہوں میں

    اظہاراتی عفت میں جب انابیبِ شعری اور اسلوبیاتی صباحت مل جائیں تو خیالات میں برجستگی اور سلاست پیدا ہوتی ہے اور روح کو ایک نادیدہ ناہیدِ ارم سے ملاتے ہیں اور شاعر دل ہی دل میں سیدِ ابرار، حبیبِ غفار، محبوب ستار، خاصہء کردگار، شافع یوم قرار، اور آفتابِ نو بہار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مودت میں علم و آگہی کے موتی سمیٹتا جاتا ہے اور دل میں خیالات کے دھنک رنگ اور اشعار میں دعا ایک لطیف صورت لے کر لبوں پر رقصِ رعنائی کرتی ہے جس کو اس شعر میں دیکھیے  :۔

    یہی ہے آرزوئے ناز بس اب اپنے مولا سے

    لوائے حمد کا سایہ میسر روزِ محشر ہو

    شاعری کے معیار میں خیال، وزن ،بحر، قافیہ، ردیف استعارہ ،کنایہ وغیرہ کے علاوہ صنعتوں کا استعمال دیکھا جاتا ہے سمیعہ ناز کو قدرت نے اس فن سے بھی مالا مال کیا ہے سمیعہ ناز کے نگار خانہء شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل کی ضیا آفرینی کو چھانا جائے تو صنعت تلمیح مسکرا مسکرا کر قاری کی توجہ حاصل کرتی ہے درج زیل اشعار میں صنعت تلمیح کا حُسن آفریں استعمال دیکھیے:۔

     لگے دینے رسالت کی شہادت بند مٹھی میں

    ملا جب اذن گویائی تو کنکر بھی صراحت سے

    وہ چشمہ آب کا آقاؐ کی انگلی سے ہوا جاری

    کیا جس کو سبھی لوگوں نے نوشِ جاں محبت سے

    چلیں جس راہ پر آقا وہاں کے فاصلے کم ہوں

    زمیں جیسے سمٹ جائے مرے آقاؐ کی عظمت سے

    مرے آقاؐ ہی لائے ہیں یہ عرشِ پاک کا تحفہ

    جو پانچوں وقت کی معراج ملتی ہے عبادت سے

    وہ رستے بھی معطر ہوں جہاں سے ہو گزر اُن کا

    کریں وہ ناز قسمت پر مرے آقاؐ کی نسبت سے

    آخر میں سمیعہ ناز کے لیے میری ڈھیر ساری دعائیں ہیں کہ اللہ پاک ان کے ذوق و شوق میں مزید اضافہ فرمائے۔

  • جس کو حاصل تری چوکھٹ کی جبیں سائی ہو

    جس کو حاصل تری چوکھٹ کی جبیں سائی ہو

    جس کو حاصل تری چوکھٹ کی جبیں سائی ہو

    اگرچہ1906ء میں ضلع اٹک میں رہنمائے تعلیم کی اشاعت سے رسائل و اخبارات کے اجرا کی روایت قائم ہو چکی تھی لیکن کئی سالوں تک نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے رسائل کے حوالے سے اٹک کا دامن تہی نظر آتا تھا؛البتہ نذر صابری صاحب مرحوم کے زیرِنگرانی محفلِ شعر و ادب کے زیرِ اہتمام نعت کا چلن عام ہوتا رہا؛اس کے علاوہ صابر حسین شاہ نے بھی ضلع اٹک کے نعت گو شعرا پر کچھ کام کیا تھا لیکن انھیں بھی اپنی تحقیقی کاوش کی اشاعت کے لیے دسمبر 1996ء میں ماہ نامہ ’’نعت‘‘لاہور کا منت پزیر ہونا پڑا۔ لیکن 2013 کا سال ادبی تاریخ مرتب کرنے والوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہاں اٹک سے یکے بعد دیگرے دو رسائل نعتیہ ادب کی ترویج و فروغ کے لیے میدانِ عمل میں نکلے ۔سب سے پہلے مجلہ’’ فروغ ادب‘‘کا قافلہ روانہ ہوا اور پھر اس کے فوراََ بعداسی مہینے میں ’’نعتیہ ادب‘‘ کا چراغ روشن کیا گیا اور یوں یہ دونوں رسائل اٹک میں نعتیہ ادب کی مجلاتی روایت کا نقطہ ٔ آغاز ہیں۔آنے والے وقتوں میں اٹک میں ادب سے وابستہ لوگ نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ان رسائل کے ممنون ہوں گے ۔ شاکر القادری صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ اچھوتے کام کا انتخاب کرتے ہیں۔مجلہ فروغ نعت کا اجرا بھی ان کے اچھوتے کاموں میں شمار ہو گا۔کیونکہ اس سے پہلے ضلع اٹک میں نعت کے حوالے سے کسی مجلے ،کتابچے یا اخبار کونعت کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا ۔ جولائی2013ء مجلے کی اشاعت کا نکتہ آغاز ہے اورمجلہ 112 صفحات پرمشتمل ہے؛ ڈاکٹر ریاض مجید،ڈاکٹر عزیز احسن،ڈاکٹر شہزاد احمد،ڈاکٹر احسان اکبر،ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر،ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اور ڈاکٹر طاہر مسعود قاضی جیسی معروف اور قد آور علمی شخصیات کو مجلس میں شامل کیا گیا ہے ۔اس کے مدیر سید شاکر القادری چشتی نظامی ہیں؛اس سے پہلے وہ ضلع کونسل کے مجلے اٹک فیسٹول سے وابستہ رہ چکے تھے اور اورمجلہ ن والقلم کی ادارت کا تجربہ بھی ان کے پاس ہے۔حسین امجد ،سید فیضان الحسن گیلانی،سید ریحان الحسن گیلانی اور جنید نسیم سیٹھی مجلس مشاورت کے رکن رہے ہیں۔مجلے کے اجرا کے متعلق مدیر نے لکھا ہے کہ:’’مجھے ابتدا ہی سے نعت گوئی سے شغف رہا ہے اور میں اپنے شعری سفر کے آغاز سے ہی اپنی تمام تر عجز بیانی اور فنی بے مائیگی کے باوجودنعت لکھتا رہا۔اس تخلیقی عمل کے دوران [میں]کئی ایسے لمحات نصیب ہوئے جنھوں نے قلب کو گداز بخشا اور گوشہ چشم کونمی عطا کی ؛بس ایسا ہی کوئی لمحہ تھاجو بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں باریاب ہوااور دوری کو حضوری میں بدلنے کا باعث بن گیا۔[مدینہ سے]وطن واپسی پر یہ خیال دل و دماغ میں جاگزیں ہو گیا کہ اب فروغِ نعت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لینا چاہیے۔سو اس سلسلہ میں چند دوستوں سے مشاورت کے ساتھ اکادمی فروغِ نعت کا قیام عمل میں لا کر اس کا الحاق پاکستان قرآت ونعت کونسل سے کیا گیا۔اس اکادمی کے مقاصد میں ماہانہ محافلِ نعت کا قیام،نعت خوانی کی تربیت کا اہتمام ،نعت خوانی اور نعت گوئی میں در آنے والی بے احتیاطیوں کی نشان دہی اور ان سے اجتناب کی دعوت ساتھ ساتھ معیاری نعتیہ ادب کی ترویج کے لیے سہ ماہی مجلہ فروغِ نعت کا اجرا شامل ہیں [ہے]‘ ‘ ۔ (1)

    quarterly farogh e naat attock

جس کو حاصل تری چوکھٹ کی جبیں سائی ہو

    ایک اور جگہ فروغِ نعت کے آغاز و اجرا کے متعلق لکھتے ہیں:’’اُن[ابولبابہ]کی آنکھوں میں پیہم آنسو جاری تھے۔۔۔دخترِ نیک اختر سے فرمانے لگے[کہ]مجھے مسجد میں چوبیں ستون سے باندھ دو۔۔۔وہ اپنی فطری رحم دلی سے مجبور ہو کر اپنے آقا سے ذرہ بھر خیانت کر بیٹھے تھے۔۔اس پر نادم تھے۔۔۔آخر ابولبابہ کی آہ و زاری بارگاہ رحمن میں قبول ہوئی۔۔۔ابو لبابہ نے آزاد ہونے انکار کردیا۔۔۔کہ دیا کہ جب تک آقا اپنے دستِ اقدس سے نہ کھولیں گے۔آزادی قبول نہیں کروں گا۔۔۔نبی رحمت ﷺ نے ۔۔۔اپنے دستِ اقدس سے انھیں آزاد فرماکر ان کی دل داری فرمائی۔۔۔میں نے بھی مواجہہ شریف کے کے سامنے کھڑے ہو کربادیدۂ تر ایک عرض[فروغ نعت] کی تھی۔وہ بارگاۂ نبوی میں کیسے باریاب نہ ہوتی‘‘۔(2)

    رسالے کی بنیادی ذمہ داری نعت کا فروغ ہے لیکن نعت میں راہ پانے والے فنی سقم،نادانستہ طور پراشعار کے مضمون میں موجود گستاخیاں،کوتاہیاں،ذو معنی،کم زور اور لایعنی اشعار پرتنقید، گرفت اور نشان دہی بھی رسالے کے مقاصد میں شامل ہے۔کیونکہ : ’’یہ صنف ِ سخن بہت زیادہ حزم و احتیاط کی متقاضی ہے کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی خیروبرکت کے اس عمل کو اپنے مقصد سے دورلے جا سکتی ہے ۔ا س میں شبہ نہیں کہ نعت کا بیج دل میں پھوٹتا ہے۔عقیدت و مودت کی فضا میں پلتا اور جذب و کیف کے ساتھ حسن ادا کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔تا ہم فن کے تقاضوں کا احترام اور التزام بھی ضروری ہے۔کوئی بھی شہ پارہ محض خیال کی ندرت یا پاکیزگی سے کامل صورت اختیار نہیں کر سکتا۔اسی طرح محض فنی عناصر کا مؤثر استعمال بھی فن پارے کی بقا کا ضامن نہیں۔شہ پارہ فکر و فن کے کامل اشتراک سے وجود میں آتا ہے ‘‘۔(3)

    اسی حوالے سے ثاقب علوی "فروغِ نعت”کی انتظامیہ کو یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں : ” ایک عرصے سے یہ فکر دامن گیر تھی کہ نعتیہ ادب میںایسا کوئی باقاعدہ ادارہ ہونا چاہیے جو مستقل نعتیہ ادب پر چیک اینڈ بیلنس کے فرائض انجام دے۔۔۔”فروغِ نعت”نے اس بہت بڑے خلا کو پر کر دیا ہے”۔(4)

    رسالے میں اس وقت تک جو مضامین ،مقالات اور خطوط شایع ہوئے ہیں،ان سے بھی یہ بات مترشح ہے کہ رسالہ نعت گوئی اور نعت خوانی میں فکرو فن کے اظہار واستعمال میں احترام ، سنجیدگی، احتیاط اور حدِ ادب کا قائل ہے۔مدیرِ اعلیٰ کی تنقیدی بصیرت ،فنِ نعت میں مہارت،جمالیاتی ذوق ،سنجیدگی،نعت سے محبت اور اخلاص کی بدولت رسالے کا شمار ملک کے ان چند معروف رسائل میں ہونے لگا ہے جو نعتیہ ادب کی ترویج و ترقی کا سامان کرتے رہتے ہیں۔جاوید رسول کہتے ہیں کہ ’’بہت عرصے بعد اس نوعیت کا خوب صورت اور روح پرور شمارہ دستیاب ہوا‘‘۔(5)

    "فروغِ نعت”کی کئی اشاعتیں قابلِ ذکر ہیں ،مثلاََ:تیسری اشاعت جو جنوری ۲۰۱۴ میں سامنے آئی،اس لحاظ سے اہم ہے کہ معروف نعت گو نذر صابری صاحب سے متعلق گوشہ شامل ہے۔یہ شمارہ نہ صرف نذر صابری مرحوم کے شب و روز کے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی علمی و ادبی خصوصاََ نعتیہ خدمات کا اعتراف بھی ہے۔چوتھے شمارے (اپریل تا جون2014)میں شوکت محمود شوکت کے لیے خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا گیا ہے؛پانچویں شمارے میں "محفلِ نعت "اسلام آباد کے لیے صفحات مختص ہیں۔:”محفلِ نعت اسلام آباد گذشتہ پچیس سال سےمصروفِ عمل ہے ۔اس عرصے میں اس کے زیرِ اہتمام حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ ہر ماہ نعتیہ مشاعروں کا انعقاد ہو رہا ہے”۔(6)

    چھٹا شمارہ ’’قصیدہ بردہ شریف نمبر ‘‘ہے288صفحات پر مشتمل اس شمارے کا غالب حصہ قصیدہ بردہ کے متعلق منظومات اور شرح کے لیے مخصوص ہے۔قصیدے کے منظوم ترجمے کی سعادت سجاد حسین ساجد اور منظوم پنجابی ترجمے کی برکات ڈاکٹر حامد احمد کے حصے میں آئیں۔سید مہر حسین بخاری نے قصیدے کی مبسوط شرح لکھی۔ساتویں شمارے کی خصوصیت یہ ہے اس میں نذر صابری مرحوم کی نعت کے مصرعے”جس کو حاصل تری چوکھٹ کی جبیں سائی ہو”پر لکھنے کی دعوت دی گئی اور اس مصرعےپر لکھی جانے والی نعتوں کو فروغِ نعت میں شامل کیا گیا اور اول ،دوم ،سوم آنے والی نعتوں کو ایوارڈ دیے گئے۔ فروغِ نعت میں نعت،طرحی نعت،تنقید اور شرح کے جو رنگ نظر آتے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مدیراعلیٰ اس مجلے میں نعت کے متعلق تمام ذائقے یک جا کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں اور نت نئے موضوعات کی تلاش اور جستجو انھیں نچلا نہیں بیٹھنے دیتی۔قصیدہ بردہ شریف کی اشاعت بھی ان کی جستجو کا ثمرہے ۔ مہر حسین بخاری ایک عرصے سے شرح لکھ رہے تھے اس کی تکمیل کی خبر ہوتے ہی مدیر اعلیٰ کی جودت اس کو کتابی صورت یا کہیں اور شایع ہونے سے پہلے ہی فروغِ نعت کے لیے منتخب کر چکی تھی۔معراج النبی ﷺنمبر کی اشاعت سے فروغِ نعت کو ایک اوراعزاز حاصل ہوا۔اس سے پہلے صرف تخلیقی و تحقیقی مضامین ہی شایع ہوتے تھے؛لیکن معراج النبیﷺ نمبر میں سید بلاقی کے ایک نادر و نایاب قلمی نسخے کو پہلی بار متعارف کروا کر ادبی دنیا میں اپنی جودت اورانفرادیت کا سکہ بٹھا دیا۔اس قلمی نسخے کی کیفیت کے متعلق ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد لکھتے ہیں:’’معراج نامہ کا زیرِ نظر مخطوطہ ایک جلد میں ہے۔اس جلد میں معراج نامہ سید بلاقی کے علاوہ قدیم اردو کا ایک اور پنجابی کے چار رسائل شامل ہیں۔جلد میں شامل تمام رسائل کا کاتب ایک ہے مگر کہیں بھی اس نے اپنا نام نہیں لکھا۔اکثر رسائل ترقیمے سے عاری ہیں،اگر کہیں ہے تو صرف رسالے کا نام اور تمت تمام کے الفاظ ہیں۔کاتب فنِ کتابت کے اسرار و رموز کا شناسا ہے اور اس فن میں مہارت رکھتا ہے۔خطِ نستعلیق اور نسخ دونوں میں اس کا قلم رواں اور خوش نویس ہے۔اردو،عربی،فارسی،پنجابی زبانوں سے اس کی شناسائی ظاہر ہوتی ہے کیوں کہ ان زبانوں کے الفاظ اس نے درست نقل کیے ہیں اور اکثر الفاظ کا املا درست ہے ۔ ۔ ۔ ترقیمہ کی ناموجودگی کے باعث عرصۂ کتابت کا علم نہیں تاہم طرزِ املا اور کاغذ کی کہنگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نسخہ انیسویں صدی کے ابتدائی زمانے کا مکتوبہ ہے۔۔۔معراج نامہ کا زیرِ نظر مخطوطہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔معراج نامہ سید بلاقی کے ہندوستان سے شایع ہونے کی اطلاع اگرچہ بعض کتب سے ملتی ہے تاہم اس کا انتقادی متن ابھی تک منظرِ عام پر نہ آ سکا۔معلوم نسخوں کی مدد سے جب معراج نامہ بلاقی کا انتقادی متن تیار ہو گا تو زیرِ نظر نسخہ بھی مددگار ہو گا‘‘۔(7)

    شمارہ نمبر 10 (اکتوبر تا دسمبر 2015) ، شمارہ نمبر 11(جنوری تا مارچ 2016) اور شمارہ نمبر 12(اپریل تا مئی2016)سہ ماہی”فروغ نعت” کے ارتقا کا عملی مظاہرہ ہے۔ان شماروں کو گوجرانوالہ نمبر کہنا زیادہ مناسب ہے۔پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ طاہرکو مہمان مدیر کے طور پر فروغ نعت کی ٹیم میں شامل کیا گیا جنھوں نے گوجرانوالہ میں نعت کی روایت کے حوالے سے فروغ نعت کوعمدہ مواد فراہم کیا۔وہ اداریے میں لکھتے ہیں:”جناب شاکر القادری نے جب۔۔۔گوجرانوالہ نمبر کی ذمہ داری دی تو دل روحانی خوشی سے مہک مہک اٹھا۔۔۔ہماری ٹیم نے لگن اور محنت کے ساتھ دن رات کام کر کے شعرا سے نعتیہ کلام اکٹھا کیے[کیا]مضامین لکھوائے اور لکھے ۔ہم نے مقدور بھر کوشش کی ہے کہ گوجرانوالہ ،حافظ آباد ،کامونکی،سیالکوٹ،گجرات اور مضافات میں بسنے والےشعرا کی کتابوں پر مختصر جائزہ لکھا جائے۔تعارف اور نمونہ کلام کے ساتھ ساتھ مذکورہ شہروں کی نعتیہ تاریخی روایات پر بھی تبصرہ کیا جائے”۔(8)

    یہ شمارے گوجرانوالہ میں نعتیہ ادب پر کام کرنے والوں کے کام آتے رہیں گے۔

    جولائی تا ستمبر”فروغِ نعت "کےبارہ شماروں کا اشاریہ ہے؛جسے جمیل حیات نے مرتب کیا ہے۔اشاریے کو شمارہ وار مرتب کرنے کی بجائےادیبوں کے نام پیشِ نظر رکھ کر الف بائی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے؛جس کی وجہ سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اس شمارے میں لکھنے والوں کی تعداد محدود ہے اور بار بار چند ادیبوں کی نگارشات شایع کی جاتی ہیں۔مزید یہ کہ اس مواد کو اشاریہ نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ اس میں مرتب نے جا بہ جا اپنا تنقیدی شعور بھی آزمایا ہے اور تنقیدی بصیرت کی صورتِ حال یہ ہے کہ لکھتے ہیں::”تمام قافیے ہم آواز ہیں جب کہ ردیف بھی ایک ہی استعمال کی گئی ہے۔نعت کے آخری دو شعر مطلع ہیں”۔(9)

    اس شمارے کی ایک اور خصوصیت بھی ہے،اور وہ یہ کہ مدیر اعلیٰ نے معمول سے ہٹ کر چوبیس صفحات کا مضمون نمادیباچہ لکھا ہے؛جس میں عہد نبوی کی نعت کے اسالیب پر بھرپور اور سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اس کے علاوہ مسجدِ نبوی پرخود کش حملے کی مذمت اور امتِ مسلمہ کی بے حسی کا رونا رویا گیا ہے ۔”فروغِ نعت "میں اس کے علاوہ :چہرہ نما”کے عنوان سے کسی ایک شاعر کا تعارف اور نمونۂ کلام درج کیا جاتا ہے۔اب تک "چہرہ نما”میں شرف الدین مصلح شامی،جمیل حیات،ندیم فاروق اور حسین امجد کو شایع کیا جا چکا ہے۔شمارہ نمبر 14(ستمبر تا اکتوبر)سے”نعت گویانِ اٹک”کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے،جس میں ضلع اٹک کے نعت لکھنے والے شعرا کا تعارف اور نعتیہ کلام شایع ہو رہا ہے۔اس سلسلےکے متعلق شاکر القادری لکھتے ہیں:”موجودہ شمارے سے ہم نے "تذکرہ نعت گویانِ اٹک”کے نام سےایک سلسلہ آغاز کیا ہے،جس میں ہم ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والےنعت گو شعرا کا تعارف اور ان کا نعتیہ کلام بہ طور نمونہ پیش کریں گے۔۔۔اس طرح نہ صرف نعت گویانِ اٹک کا ایک مبسوط تذکرہ مرتب ہوتا چلاجائے گا بلکہ ان کا نعتیہ کلام بھی کسی حد تک محفوظ ہو جائے گا”۔(10)

    فی الوقت فروغِ نعت میں راقم،سجاد حسین ساجد،سردار ظہیر احمد خان ظہیر اور دلاور علی آزر ،نادر وحید اور سعادت حسن آس کا نعتیہ کلام شایع کیا جا چکا ہے۔”سہ ماہی فروغِ نعت دیدہ زیب ہے۔نعتیہ ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔۔۔اس میں مدیر کی شعوری کوشش اور بالغ نظری کا بہت دخل ہے۔سہ ماہی فروغِ نعت اسمِ با مسمٰی ہے۔۔۔شعبۂ نعت کے زروجواہر کواپنے حصار میں لے رہا ہے۔۔۔اس میں شامل بلند پایہ اور معیاری وتحقیقی مضامین عوام و خواص کے لیے مفید اضافہ ہیں۔۔۔اتنی توجہ اور اس قدر اہتمام سے بہت کم نعتیہ رسالے شایع ہوتے ہیں‘‘۔(11)

    "آج اردو ادب میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے نام پر بہت کچھ لکھا جارہاہے مگر عہد حاضر میں نسل نو کو جس صنف کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،ہمارے بچوں میں تدریسی ،علمی،ادبی اور نصابی حوالے سےجس چیز کو سب سے زیادہ نمایاں ہونا چاہیے وہ نعت ہے اور نعت بھی ایسی جو مبالغے اور مصنوعی خیالات و الفاظ سے اٹی ہوئی نہ ہو۔فروغ نعت ان تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھ کرمختلف شہروں میں اپنی علمی و فکری بساط کے مطابق تخلیقی ،تنقیدی اور تحقیقی کام سر انجام دے رہا ہے”۔(12)

    ڈاکٹر عزیز احسن نے شاکر القادری کی نعتیہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بالکل درست لکھا ہے کہ:”فروغِ نعت۔۔۔بڑی اچھی کاوش ہے جس میں آپ[مدیر] کا مدبرانہ سلیقہ،جمالیاتی احساس،سخن فہمی کا ملکہ اور علمی مزاج منعکس ہے۔نعتیہ ادب کو جس سنجیدگی علمی مزاج رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے،آپ ان میں سے ایک ہیں‘‘۔(13)

    اور محمد الطاف آزرزو کے الفاظ میں ’’فروغِ نعت کا اجرارسول پاک ﷺ سے محبت کاعملی ثبوت ہے ‘‘۔(14)

    "حمدیہ و نعتیہ شاعری ،تحقیقی و تنقیدی مضامین،خاص موضوعات اور طرعی مشاعروں کی شاعری سے سجی خوب صورت کہکشاں سجانے پر سید شاکر القادری مبارک باد کے مستحق ہیں”۔(15)

    مجلے میں "حرفِ تمنا” کےعنوان سے اداریہ مستقل لکھا جارہا ہے۔خواتین شاعرات کے لیے الگ باب قائم کیاجاتا ہے۔صرف نعتیہ ادب اور سیرت النبی سے متعلق کتب پر تبصرے شایع کیے جاتے ہیں۔ اس وقت اچھی نعت لکھنے ،پڑھنے والوں کے لیے یہ رسالہ بہت کشش رکھتا ہے۔اس مجلے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس کا ہر شمارہ انٹرنٹ پر بھی دستیاب ہوتا ہے ۔ہر دو صورتوں میں فروغ نعت کا ہر شمارہ پہلے سے بہتر نظر آتا ہے۔ یہ رسالہ اشاعت کی کئی منزلیں طے کر چکا ہے؛لیکن دم تحریر اس کی اشاعت میں باقاعدگی کا فقدان ہے۔

    حوالہ جات:۔

    (1)سید شاکرالقادری،مجلہ فروغ نعت ،القلم ادارہ مطبوعاتِ اٹک،شمارہ جولائی تا ستمبر 2013،ص7

    (2)شاکر القادری چشتی نظامی،فروغِ نعت معراج النبی نمبر،القلم مطبوعات اٹک،اپریل تا جون 2015ء ،ص5

    (3)ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد،،فروغ نعت،مدیر:شاکرالقادری چشتی نظامی،القلم ادارہ مطبوعات اٹک،شمارہ اکتوبر تادسمبر2013،ص188

    (4)ثاقب علوی،خط،سہ ماہی فروغِ نعت ،اٹک،القلم ادارہ مطبوعات اٹک،اپریل تا جون 2016،ص143

    (5)جاوید رسول جوہر(تبصرہ)،عالمی رنگِ ادب،کراچی،بزمِ رنگِ ادب کراچی،کتابی سلسلہ35،یکم جون تا دسمبر2014ء،ص305

    (6)شاکر القادری،سہ ماہی فروغِ نعت،القلم ادارہ مطبوعات اٹک،جولائی تا ستمبر 2014

    (7)ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد،فروغِ نعت معراج النبی نمبر،مدیر:شاکرالقادری چشتی نظامی،القلم ادارۂ مطبوعات اٹک،اپریل تا جون2015ء،ص16

    (8)ڈاکٹر احسان اللہ طاہر،اداریہ :فروغ نعت اٹک،اکتوبر تا دسمبر 2015،ص7

    (9)جمیل حیات،سہ ماہی فروغِ نعت،القلم ادارۂ مطبوعات اٹک،جولائی تا ستمبر 2016، ص96

    10)ّّ)”شاکر القادری،مجلہ فروغ نعت ،القلم ادارہ مطبوعاتِ اٹک،ستمبر تا اکتوبر 2016،ص5

    (11)ڈاکٹر شہزاد احمد،اردو نعت پاکستان میں،حمد نعت ریسرچ فائونڈیشن کراچی، 2014ء ، ص588

    (12)ڈاکٹر احسان اللہ طاہر،اداریہ :فروغ نعت اٹک،اکتوبر تا دسمبر 2015،ص7

    (13)ڈاکٹر عزیز احسن،فروغِ نعت،مدیر:شاکر القادری چشتی نظامی۔،القلم ادارۂ مطبوعات اٹک، اکتوبر تا دسمبر2013ء،ص116

    (14)محمد الطاف احمد آرزو،فروغ نعت،مدیر:شاکرالقادری چشتی نظامی،القلم ادارہ مطبوعات اٹک، شمارہ جنوری تا مارچ2014،ص160

  • محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    گِھناں داد ربّ توں میں جھولی اُٹھا کے

    رضاواں دا مالک ، خدا توں اَکھایا

    تُوں بستر تے اَپڑیں علیؑ نوں سُوا کے

    ہُنڑیں کوئی آکھے نبی پے سَدینن

    زمیناں تے بیٹھاں میں پلکاں وِچھا کے

    میں جالی بی چُمساں میں روضہ بی چُمساں

    کوئی گِھن تاں ونجے لُکا کے چھپا کے

    سُنڑاں وے کہ سرکار آپے بلینن

    میں تاں ای تاں بیٹھاں  نگاہاں جُھکا کے

    اے پُھلاں نے گجرے تے ہاراں نے تحفے

    میں خُش تھیساں سوہنڑیں نبیؐ نوں پوا کے

    کدائیں تے ہجراں دی سولی توں لِہسَن

    میں آہاں بھریساں نبیؐ نوں سُنڑا کے

    اکھیساں نبیؐ جی دے پیراں نوں چُم کے

    اے اَتھرُو ہی آندِن میں تحفہ بنڑا کے

     وچھوڑے غریباں دے قائم گھٹاونڑ

    او خاباں چے آسن فرشتے رَلا کے

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال ضلع اٹک

  • معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی

    پر نور ستاروں نے پُرکیف  ادا پائی

     جبریلؑ جہاں ڈر تے، سدرہ پہ کہا ربّ نے

    محبوبِ خدا آؤ، آقؐا نے صدا پائی

    آقؐا کی گزارش نے معراج کی شب! لوگو

    امت کی لیے ربّ سے بخشش کی عطا پائی

    اُڑتے ہوئے جنت کے دیکھے ہیں نظارے بھی

    آقاؐ سے سواری نے مہمیز ادا پائی

    بخشش میری امت کی کر دینا قیامت کو

    معراج کی شب، رب نے احمؐد کی دعا پائی

    بس دو ہی کمانوں پہ محبوب ملا ربّ سے

    قوسین کی قربت بھی آنکھیں نہ ہٹا پائی

    جب نور نظر آیا اُس نور کے پردے سے

    مازاغ بصارت نے اک لطفِ ضیا پائی

    سرکار نے امت کی رفعت کے لیے قائم

    بے مثل شفاعت سے بخشش کی ردا پائی

    سید حبدار قائم آف اٹک

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    تسخیرِ کائنات کا عنوان چل پڑا

    رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا

    بوسے سے جبرائیلؑ کے چشمِ کرم کھلی

     پچھلے پہر خدا کا وہ مہمان چل پڑا

    طائف کا غم بھلا کے قریب آئیے حبیبؐ

    وہ اپنے رب کا مان کے فرمان چل پڑا

    سدرہ کے پار اس کو بلایا کریم نے

    راضی رضا وہ صاحبِ قرآن چل پڑا

    تکتے ہی تکتے رُک گئی نبضِ حیات بھی

    جب فطرتِ حیات کی وہ جان چل پڑا

    امت کے غم سمیٹے ہوئے محسنِ امم

    دامن میں لے کے عجز کا سامان چل پڑا

    مہکی ہوئی فضا تھی درود و سلام سے

    جس وقت انبیاء کا وہ سلطان چل پڑا

    صدیوں کا فاصلہ کیا اک جست میں عبور

    تھامے ہوئے وہ حق کا قلمدان چل پڑا

    حاضر تھے ہر فلک پہ سلامی کو انبیاءؑ

    کیا آس آن بان سے ذیشان چل پڑا

    سعادت حسن آس آف اٹک

    سعادت حسن آسؔ

    اٹک شہر