• گلابِ اسمِ نبیؐ کی خوشبو- تبصرہ کتاب

    گلابِ اسمِ نبیؐ کی خوشبو- تبصرہ کتاب

    نبیلِ فکر جب اوجِ مدحتِ غم گسارِ دل فگاراںؐ کی طرف سفر کرتی ہے تو ندرت ہر گام پر خیال و فکر کے نایاب گوہر دامن میں ڈال دیتی ہے خامہ ء توصیفِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرطاس کا سینہ چوم چوم کر الہام کی رم جھم کو ایک ریشمی تبسم سے لکھتا جاتا ہے جو درد آشنائی، لذت آشنائی اور حقائق آشنائی کے گلاب بانٹتا ہوا تاریخِ مدحت کا درخشاں باب مرتب کرتا جاتا ہے تاریخِ مدحت میں ایسے بہت سارے ناعت موجود ہیں جو بحرِ نعت سے مسلسل مستفید ہو کر دوسروں کو مستفید کرتے آئے ہیں ان میں سے ایک سید نورالحسن نور نوابی عزیزی بھی ہیں جو نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے ہیں آج مجھے ان کی کتاب "گلابِ اسمِ نبیؐ کی خوشبو” کی نسیمِ مدحت کے نشیلے جھونکوں میں ادراکیء پرواز کو لے کر جانا ہے جہاں پر سہل ممتنع بھی ہے سلاست و روانی بھی ہے اور فصاحت و بلاغت بھی ہے خوبصورت خیال کو حمد میں کتنی آسانی سے یوں رقم کرتے ہیں:-

    ماں سے زیادہ رب کریم

    ہم کو چاہنے والا تو

    کالی رات کے سینے پر

    جگنو رکھنے والا تو

    عاشق جب عشق کی معراج پر پہنچتا ہے تو اسے محبوب کے راستوں کے پتھر بھی گوہر لگتے ہیں اور وہ ان سے بھی عشق کرتا ہے جب سید محمد نور الحسن بھی راحتِ قلب و جسم و جاں،چارہ گرِ آزردگاں،نگاہِ بے نگاہاں حبیبِؐ خدا کے عشق سے آشنا ہوتے ہیں تو جدتِ خیال کے ریشمی تبسم کو لطیف حسن و رعنائی کے ساتھ قرطاس پر ایسے نقش کرتے ہیں:-

    تیرے راہی کو اگر دھوپ پریشان کرے

    سائبانی کے لیے مثلِ شجر ہو جاوں

    ہر گھڑی خوف ستاتا ہے فنا کا مجھ کو

    اپنے کوچے میں بلا لیں کہ امر ہو جاوں

    عشق جب مزید اوجِ ثریا کی طرف محو پرواز ہوتا ہے تو محبوب کے قدموں کی خاک عاشق کو پیاری لگتی ہے اور وہ اس سے بھی بہارِ ضو کشید کر کے شفا یاب ہوتا ہے چشمِ امواجِ بقا نبی اکرمؐ کے عشق پر سید محمد نور الحسن کا دعوی بھی مودت کی ایک کڑی ہے جسے انتہائی  شائستگی سے یوں بیاں کرتے ہیں :-

    ہے خاکِ مدینہ کا مری آنکھ میں سرمہ

    دعوی نہ کرے مجھ سے کوئی دیدہ وری کا

    سرکارؐ کے نعلین نے بدلا ہے ارادہ

    ورنہ ہے کسے شوق یہاں تاجوری کا

    گنبد خضری کا جمال و کمال تصورات کی کامل آنکھ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ مراقبہ سینکڑوں میلوں کا سفر منٹوں  میں طے کرا دیتا ہے بالیدگیءافکار کی کئی منزلیں مراقبے سے طے ہو جاتی ہیں اسرارِ مہ و نجوم کو باطنی آنکھیں دیکھتی ہیں جن کا ذکر شعر میں سید محمد نورالحسن نوابی یوں کرتے ہیں:-

    بکھرے ہیں میرے گرد ہزاروں مہ و نجوم

    بیٹھا ہوا ہوں گنبد خضری کی چھاوں میں

    دیدارِ نبیؐ کس کی حسرت نہیں ہے ؟ عاشقانِ نبیؐ دیدار کے لیے فرخندہ بخت اشعار لکھ کر اپنی حسرت کو یوں زینت دیتے ہیں:-

    آپؐ کی رحمت سے یوں تو سب میسر ہے حضورؐ

    بس مرا دامن ہے خالی دولت دیدار سے

    جہاں جہاں نبی اکرمؐ کے قدمین شریفین گئے زمین ،پہاڑ اور غار تک منور ہو گئے اور عزو شرف، دولتِ دیدار سے پاتے گئے شاہ صاحب نے ایک ایسا ہی بہار آفرین شعر رقم کیا ہے جس کی لذت روح کے تار تک ہلا دیتی ہے  ہزاروں کہکشائیں فکرو شعور سے ضیا کی بھیک مانگتی نظر آتی ہیں شعر میں فکری نظافت اور اسلوبیاتی صباحت یوں رقصِ جمیل  کرتی ہے:-

    آواز ان کی، نقش قدم ان کے، ان کی یاد

    کیا کیا حسیں خزانے ہیں غار حرا کے پاس

    آفتابِ ھدی، نور الہدی، صاحبِ جود و سخا سے مودت ایک عجیب کیف و طرب اور سر مستی عطا کرتا ہے مودت اور عشق جب باہم مل جاتے ہیں تو دست قدرت انیس بے کساںؐ سے روشنی،خوشبو، طمانیت، روح میں بالیدگی اور نہ جانے کیا کیا وصف عطا کرتا یے جس کا اظہار نگار خانہءشعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل سے یوں ظاہر ہوتا ہے:_

    میں ان کی یاد میں ڈوبا تو یہ ہوا محسوس

    سراپا کل مرا شہرِ تجلیات میں ہے

    قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورہ تکویر میں اللہ تعالی نے قیامت کے مناظر کو ایسے بیان فرمایا ہے”جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے”

    قاری پڑھتا ہے تو جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن عاشقوں کی دنیا میں حضورؐ جلوہ فرما ہوتے ہیں اس لیے ان کو شفاعت کی گھنی چھاوں دنیا میں ہی نصیب ہو جاتی ہے ان کی عقل و شعور پر قسیم و جسیمؐ، تسنیم و وسیمؐ، خلیل و حکیمؐ، روف و رحیمؐ مخزنِ رحمت مدنی آقاؐ کا تصور ایسے گل افشانی کرتا ہےکہ قیامت کی ہولناکیاں بھلی لگتی ہیں اور شرفِ زیارت لبوں پر یوں مچلتا ہے  :-

    قیامت کے بھیانک منظروں سے ہم نہیں ڈرتے

    شفیعِؐ حشر کا ہے چہرہءضو بار آنکھوں میں

    وہ انہی آنکھوں سے کائنات کے اسرار و رموز کو یوں دیکھنے کی تلقین کرتے ہیں:-

    سرمہ لگا لے آنکھ میں عشقِ رسولؐ کا

    پھر روئے کائنات کا پردہ پلٹ کے دیکھ

    جب جمال وخصالِ مصطفیؐ کی بات ہو تو آپ ہی سیدِ ابرارؐ، احمدِ مختارؐ، مدنی تاجدارؐ، حبیبِ غفارؐ، محبوبِ ستارؐ، خاصہ کردگارؐ، شافع یومِ قرارؐ، صدرِ انجمنِ لیل و نہارؐ، آفتابِ نو بہارؐ ہیں اور آپ کا نہ سایہ نہ ہی ثانی ہے آپ کے حسنِ بے مثال کی ایک جھلک سید محمد نورالحسن یوں بیان کرتے ہیں:-

    زبان ناخن پا کی ثنا سے قاصر ہے

    کہاں مجال کہ شرحِ صفات و ذات کرے

    حضورؐ سے عشق ہو اور اہل بیت عظام سے نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا شاہ صاحب اہل بیتؑ سے اپنی مودت کا اظہار یوں کرتے ہیں:-

    پاوں حسنینؑ کریمین جو آ کر رکھ دیں

    میرا چھوٹا سا مکاں باغِ ارم ہو جائے

    یا ایک اور جگہ پر حضرت حسینؑ کی عظمت یوں بیان کرتے ہیں :-

    حسینؑ کہتے ہیں پہچانو مرتبہ میرا

    رسول پاکؐ نے خود کی ہے تربیت میری

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر مبارک ،منور راستے، غار حرا،گنبد خضری، مکہ و مدینہ کی گلیاں اور خاکِ مدینہ جس پر آپؐ کے مبارک قدم آئے یا جہاں جہاں حضورؐ تشریف لے گئے یا سکونت اختیار کی اس کو تقریبا ہر نعت گو شاعر نے موضوعِ سخن بنا کر اپنی بے پناہ عقیدت کا اظہار کیا ہے شاہ صاحب نے بھی متعدد جگہ پر مختلف انداز سے ان کا ذکر کیا ہے لیکن طوالت کے ڈر سے بس یہ دو شعر پیش خدمت ہیں:-

    سبز گنبد میں جو اک شمع ضیا رکھی ہے

    ماہ و خورشید نے لو اس سے لگا رکھی ہے

    ہر وبا آ کے پلٹ جاتی ہے دروازے سے

    کیا کرے! گھر میں مرے خاکِ شفا رکھی ہے

    تبصرہ کے آخر میں سید محمد نورالحسن نور نوابی عزیزی کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ ستارالعیوب ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ان کے عقل و شعور پر نعتیہ الہام کی رم جھم جاری و ساری رہے۔آمین

    حبدار قائم
    حبدار قائم

    سید حبدار قائم آف اٹک

  • پاکستان کیوں ٹوٹا ؟

    پاکستان کیوں ٹوٹا ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    ہماری نئی نسل تاریخ سے آگاہ نہیں ۔ نصابی کتابوں میں بھی اس بات کی کوشش نہیں کی گئی کہ آنیوالی نسلوں کو حقائق سے روشناس کرایا جاسکے ۔ یہی نہیں بلکہ 1971 کے بعد سے پاکستان میں جس سیاسی طرز عمل اور سوچ نے اودھم مچایا ، اس کے نتیجے میں سچ اور جھوٹ گڈ مڈ ہوکر رہ گیا اور آج کا ہمارا نوجوان یہی سمجھتا ہے کہ جنرل نیازی ڈرپوک تھا ، اس نے ھتھیار ڈال دئے ۔ یحیی خان غدار تھا اس نے ڈھاکہ ڈبو دیا ۔ ہمارے 90 ھزار فوجی قید کرلئے گئے وغیرہ ، جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ 
    کہانی کو ٹاپ گئیر لگانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دسمبر 71 میں جب سقوط ڈھاکہ ( Fall of Dhaka )ہوا تو میں پنجاب یونیورسٹی سے  گریجویشن کرچکا تھا لھذا بہ قائمی ہوش و حواس اس سارے منظر کا چشم دید گواہ ہوں ۔ میری باتیں کتابی اور سنی سنائی نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے ۔ 
    آئیے تھوڑا سا پیچھے جاکر تاریخ سے پوچھتے ہیں کہ بنگال کی اصل کہانی ہے کیا ؟ اور وہ اس لئے کہ مغربی اور مشرقی پاکستان تو 1947 میں ، معرض وجود میں آئے جبکہ متحدہ بنگال کا  معاشرہ اور سیاست اس سے بہت پہلے سیاسی اتھل پتھل کا شکار ہوچکے تھے ۔
    برطانوی ھند میں بنگال سب سے بڑا صوبہ تھا ۔ تقریبا 2 لاکھ مربع میل رقبہ اور ساڑھے آٹھ کروڑ آبادی لھذا اس وقت کے وائسرائے ھند لارڈ کرزن کی سفارش پر اسے 1905 میں ،  دو انتظامی حصوں ،  یعنی مشرقی اور مغربی بنگال میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ اتنے بڑے علاقے اور آبادی کی صحیح طرح سے دیکھ بھال اور کنٹرول مشکل کام تھا ۔ یاد رہے متحدہ بنگال میں  عددی اکثریت ھندو ہی کی تھی لیکن مشرق میں مسلمان اکثریت میں آباد تھے لھذا جب مشرقی بنگال ( بعد میں مشرقی پاکستان ) وجود میں آیا تو مغربی بنگال / کلکتہ کا ھندو سٹپٹا اٹھا کیونکہ اس وقت صنعت ، تجارت ، وکالت اور صحافت پر ان کی مکمل اجارہ داری تھی لھذا انہیں خوف محسوس ہوا کہ اب مشرقی حصے کا مسلمان ، جو وھاں اکثریت میں تھا ،  ان تمام شعبوں میں آگے آکر ہمارے مالی مفادات کو نقصان پہنچائیگا ۔ ڈھاکہ ھائیکورٹ قائم ہوئی تو کلکتہ کے ھندو وکیل بے روزگار ہونگے ۔ نئے اخبارات شائع ہوئے تو کلکتہ کی صحافت گئی ۔ اسی طرح تجارت اور صنعت بھی الگ ہوگی تو ہم کہاں جائینگے ۔ ان سب عوامل کو لیکر بنگالی ھندو نے  واویلہ شروع کردیا اور انگریز کے اس فیصلے کے خلاف باقائدہ تحریک شروع ہوگئی جسے سودیشی تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تاکہ انگریزوں پر زور ڈال کر تقسیم کا فیصلہ منسوخ کرایا جاسکے ۔ مانچیسٹر چیمبر آف کامرس کو باقائدہ خط لکھ کر کہا گیا کہ اگر بنگال میں تجارت کرنی ہے تو برطانیہ اپنا یہ فیصلہ واپس لے ۔ جب اس پہ بھی بات نہ بنی تو ایک مذھبی کٹر پنتھی گروہ ، دھارمک چورن لیکر میدان میں آگیا کہ بنگال کی تقسیم دراصل ہماری ماں ” کالی ماتا ” کی تقسیم ہے جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ جانتے ہونگے کہ بنگال کا ھندو کالی ماتا ” کالی کلکتے والی ” کا پجاری ہے اور اس کے نزدیک سارا بنگال ماں کی سرزمین ہے ۔ قصہ مختصر مصنوعات کے بائیکاٹ اور ھنگاموں کے خوف سے انگریزوں کو  بالآخر 1911 میں تقسیم بنگال کا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔ اسی عرصے میں جب مسلمانوں نے ھندووں کا یہ رویہ دیکھا کہ وہ ہمیں خوشحال نہیں دیکھ سکتے تو 1906 میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے ، ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کے گھر پر جمع ہوکر مسلم لیگ کے نام سے ایک جماعت قائم کرلی ۔ اس جماعت کے تاسیسی صدر نواب وقار الملک اور باقائدہ صدر سر آغا خان سوئم ( شش امامی ، اسماعیلی شیعہ)  منتخب ہوئے ۔ 
    یہاں چند نکات قابل غور ہیں ۔
    1. کلکتہ کےھندو نے ، مسلم اکثریتی علاقے مشرقی بنگال کی خود مختاری کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہوئے قبول نہ کیا ۔
    2. مسلم لیگ بنگالیوں نے ڈھاکہ میں بنائی اگرچہ اس میں ملک بھر کے مسلم ذعماء شریک تھے لیکن ان میں قائد اعظم کا نام شامل نہیں کیونکہ وہ بعد میں اس جماعت کے رکن بنے ۔ 
    اوپر بیان کئے گئے تاریخی حقائق اور نکات کو ذھن میں رکھ کر آجائیے یوم آذادی 14 اگست 1947 تک ۔ پاکستان بن گیا لیکن زمینی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم اور ان دو ٹکڑوں کے درمیان ایک ھزار میل یا 1600 کلومیٹر کا فاصلہ ۔ ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ، زبان الگ ، کلچر الگ ، موسم الگ ، خوراک الگ اس کے باوجود اگر کوئی رابطہ یا رشتہ ڈھونڈا جاسکتا ہے تو وہ تھا اسلام ۔ میرے خیال سے یہی سب سے بڑا رشتہ تھا،  اور ہے ، لیکن اے کاش ہم سچے مسلمان بھی ہوتے تو وہ دن نہ دیکھنا پڑتا جس کی یاد میں مجھے یہ سطور لکھنا پڑرہی ہیں ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ تقسیم ھند کے فارمولے کو تسلیم کرتے وقت بعض مسلم ذعماء نے قائد اعظم سے کہا تھا کہ مشرقی بنگال کے بدلے دلی تک کا علاقہ لے لیں کیونکہ بنگال زمینی طور پر اس ٹکڑے سے جڑا ہوا نہیں جو مغرب میں ہمیں دیا جارھا ہے ، لیکن قائد کا جواب تھا کہ تحریک آذادی کی بنیاد بنگالی مسلمانوں  نے رکھی انہیں کس طرح چھوڑ دیا جائے ۔ 
    آذادی کے بعد پہلا اختلاف قومی زبان پر اٹھا ۔ جب قائداعظم نے اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا تو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے اس پر اعتراض اٹھادیا ۔ یاد رہے ان طلباء کی قیادت اس وقت کے طالب علم راھنماء اور بعد میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کررہے تھے ۔ 
    وجہء تناذعہ صرف زبان ہی نہ بنی بلکہ تقریبا پوری کی پوری بیوروکریسی ، تقسیم کے وقت وھاں مہاجر بن کر آنے والے بہاری اور اڑیسہ وغیرہ کے مسلمانوں سے لی جاتی یا مغربی پاکستان سے بھیجی جاتی رہی جن میں اردو اسپیکنگ اور پنجابی شامل ہوتے تھے ۔ اس بات کا برا نہ منایا جائے تو حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کے ابتدائی ایام میں سول افسران کی اکثریت ان ہی لوگوں پر مشتمل تھی جو یو پی ، بھوپال ، بہار ، دلی ، حیدر آباد دکن اور مشرقی پنجاب سے ھجرت کرکے اپنے نئے وطن پاکستان آئے تھے اور یہ رسم آخر تک جاری رہی ۔ اس صورت حال میں بنگالی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ سفید انگریز گئے اور کالے یا بھورے آگئے ۔ آخر آذادی کہاں ہے ؟  دارالحکومت پہلے کراچی اور پھر اسلام آباد ۔ یہاں اس بات کا بھی ذکر کردوں کہ ہمارے نوجوان جو آج صدیق سالک ، صفدر محمود  اور کئی دیگر لکھاریوں کی کتابوں کے حوالے دیکر مشرقی پاکستان کی محرومیوں کا ذکر کرتے ہیں انہیں ان لکھاریوں سے یہ بھی پوچھ لینا چاھئے تھا کہ آپ پنجابی اور اردو اسپیکنگ ہوکر وھاں کیا لینےگئے تھے ۔ 
    پنجابی اور اردو اسپیکنگ افسران کے بارے حقائق پیش کرتے ہوئے مجھے احساس ہے کہ بعض قارئین اس کا غلط مطلب بھی لے سکتے ہیں لیکن میں یہ بات بھی واضع کردینا چاھتا ہوں کہ ان ہی افسران نے اپنی قابلیت ، ذھانت اور تجربے کی بنیاد پر اس نوزائیداہ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا ۔ یہاں بات بنگال کی ہورہی ہے کیونکہ وہاں معاملہ الگ تھا ۔ ایک مکمل بنگالی معاشرے پر آپ نے سب کے سب یا بھاری اکثریت میں وہ لوگ بٹھا دئیے جو  ان کی زبان جانتے ہیں ، ثقافت سے واقف ہیں اور نہ ہی وھاں کے رسم و رواج کا علم رکھتے تھے ۔  اور کیا بنگالی اتنے گئے گزرے تھے کہ سول افسر تک نہ بن سکیں ۔ کیا آج وہی بنگالی بنگلہ دیش کو نہیں چلا رہے ؟ 
    اب آجائیں شروع میں بیان کی گئی تقسیم بنگال کی کہانی کی طرف ۔ جب بنگالیوں میں احساس محرومی بڑھنا شروع ہوا تو کالی ماتا کے پجاری جو انگریز کے زمانے سے تقسیم بنگال کے خلاف تھے ، بنگالیوں کے احساس محرومی کا ھتھیار لیکر  پروپیگنڈے کے میدان میں اتر آئے  ۔ انہوں نے پاکستانیت کے خلاف بنگالی نیشنل ازم کو ابھارا ، پیسے کے زور پر اپنے ایجنٹ پیدا کئے اور اس طرح علیحدگی پسندی پروان چڑھنا شروع ہوئی لیکن ہمارے سیاست دان خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے ۔ کسی نے بنگالیوں کے دکھوں کا مداوا نہ کیا ۔ یہ کہ دینا تو آسان ہے کہ بنگالی غدار تھے ، شیخ مجیب شروع سے علیحدگی پسند خیال کا حامی تھا لیکن کیا کسی نے ان کو برابر کا پاکستانی بنانے کی بھی کوئی کوشش کی ؟  
    یہ سچ ہے کہ شیخ مجیب الرحمان شروع سے بنگالی نیشنل ازم کے پرچارک تھے لیکن اگر انہیں قومی دھارے میں لے آیا جاتا تو وہ کبھی بھی علیحدگی کی طرف نہ جاتے ۔ ھندوستان  ابتداء  سے پاکستان کے وجود کے مخالف تھا اور اب بنگالیوں تئیں ہمارے غیر منصفانہ روئییے نے اس کے ھاتھ میں بنگالی کارڈ تھما دیا ،  جسے اس نے خوب خوب کھیلا ۔ اگرچہ ایوب خان کے دور میں ہماری خفیہ ایجنسی نے مغربی بنگال کے شھر اگر تلہ میں ایک پاکستان مخالف تحریک کا سراغ لگالیا جس کے نتیجے میں شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں گرفتار کرلیا گیا لیکن اس وقت کے تمام سیاست دانوں نے ایوب خان پر پریشر ڈال کر اسے رھائی دلادی ۔ اگر اس وقت شیخ مجیب کو رہا کرانے کی بجائے مشرقی پاکستان میں اصلاحات کی جاتیں , بنگالیوں کو سول سروس اور دیگر ذمہ داریوں پر بٹھا دیا جاتا ، ان کے جائز مطالبات مان لئے جاتے تو شیخ مجیب کے غبارے سے ہوا نکل جاتی اور آگے چل کر صورت حال مختلف ہوسکتی تھی ۔ 
    نہائت اختصار کے ساتھ لکھ رہا ہوں لیکن بات طویل ہوتی چلی جارہی ہے ۔ ایوب خان رخصت ہوئے ، جنرل یحیی خان تشریف لائے اور 1970 کے الیکشن میں شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان سے دو کے علاوہ تمام نشستیں جیت لیں ۔ مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ اب یہاں کل پاکستان کی سطح پر شیخ مجیب کی جماعت پہلے نمبر پر تھی اور پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر لیکن بھٹو مرحوم نے نعرہ لگایا ، ” ادھر ہم ادھر تم ” اور اسی ہم تم نے کام تمام کردیا ۔ 
    اس وقت کے تمام سیاسی تبصرہ نگاروں کا خیال تھا کہ اگر شیخ مجیب کو وزیراعظم بنا دیا جاتا تو سانحہ مشرقی پاکستان سے بچا جا سکتا تھا لیکن ہمارے یہاں کے سیاسی راھنماوں کو اس کے 6 نکات پر اعتراض تھا کہ اس سے فیڈریشن کمزور ہوجائیگی ۔ یہ الگ بات کہ بعد میں ملک ہی ٹوٹ گیا ۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ہم شیخ مجیب کو ساتھ رکھ کر ایک ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن بنالیتے تاکہ ہمارے دو قومی نظریئے کا بھرم قائم رھتا ۔ پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا اور اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ ، 
    ” آج ہم نے دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ” 
    قصہ کوتاہ ، فلم ” ادھرہم ادھر تم ” اور ہماری آپسی لڑائی کے  منظرنامے پر ھندوستان کی گہری نظر تھی لھذا انہوں نے پہلے سے اپنے زر خرید ھندو و مسلم بنگالیوں پر مشتمل جو خفیہ تنظیم ،  ” مکتی باھنی ” یا نجات دھندہ قائم کرکے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ شروع کررکھا تھا اسی کے ذریعے گوریلا وار کی ابتداء کردی ۔ ہماری فوج پر حملے ہونے لگے ۔ پلوں کو اڑایا جانے لگا ۔ اور بالآخر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی قیادت میں بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں داخل ہوگئی کیونکہ وہ زمینی طور پر جڑے ہوئے تھے جبکہ ہم 1000 میل دور بیٹھ کر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے ان حالات میں  جنرل نیاذی کے پاس ھتھیار پھینکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ۔ انہیں بزدل اور ڈرپوک کا طعنہ دینا اس لئے مناسب نہیں کہ ایک تو انڈیا کے مقابلے میں وھاں ہماری فوج بہت کم تھی دوسرا کمک پہنچانے کا کوئی راستہ نہ تھا تیسرا اور اہم عنصر یہ کہ بھٹو مرحوم نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگاکر بنگالیوں کو ،  جو الیکشن جیت چکے تھے ،  یہ پیغام دیدیا کہ تمہارا وزیر اعظم نہیں بن سکتا ۔ بنانا ہے تو وہیں بنالو ۔ اس بات پر بنگالی بپھر گئے ۔
    پیپلز پارٹی کے موجودہ جیالے اس بات کی نفی کرتے ہیں لیکن میں (راقم ) اس وقت پیپلز پارٹی کے بانی و متحرک اراکین میں شامل اور عھدیدار تھا اس لئے بھٹو مرحوم کا یہ بیان براہ راست ان کی زبان سے سنا ۔ یہی نہیں بلکہ جب یحیی خان نے منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں بلانے کا اعلان کیا تو یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے جلسہء عام میں کہا کہ جو ممبر ڈھاکہ جائیگا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائینگی ۔ رہی یحیی خان کی بات کہ وہ کیا کررہے تھے تو عرض ہے ایک تو سیاست دانوں نے ملکی حالات کو اس مقام پر پہنچادیا تھا کہ جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی دوسرا یہ ،  کہ ،  اس محمد شاہ رنگیلا ثانی کو گجرات کی حسینہ اقلیم اختر رانی عرف جنرل رانی سے فرصت ہی کب تھی کہ اس طرف توجہ دیتے ۔  یہاں آپ کے علم کے لئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ آج کا معروف گلوکار و اداکار فخر عالم ، اسی اقلیم اختر رانی کا نواسہ ہے ۔ 
    اس حقیقت کے باوجود کہ یحیی خان ، شراب اور شباب کا رسیا تھا ،  ایک فرد کی کوتاہی کو پوری پاک فوج کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا کیونکہ ہمارے بہادر افسروں اور سپاھئیوں نے مشرقی پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور زندہ بچ جانیوالوں نے دو سال تک  بحیثیت جنگی قیدی ، بھارت کے کیمپوں میں گزارے ۔ میرا تعلق فوجی خطے سے ہے اور میں ایسے متعدد فوجیوں کے بارے جانتا ہوں کہ جو مشرقی محاذ سے کبھی واپس نہ لوٹ سکے ۔ ان کی مائیں اپنے بیٹوں کا انتظار کرتے کرتے اس دنیاء سے رخصت ہوگئیں ۔ میرے دو چچا زاد بھائی  سرور حسین شاہ اور اصغر علی شاہ جو پاک نیوی میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔ مشرقی پاکستان کی فوجی بندرگاہ چاندپور سے گرفتار ہوکر جنگی قیدیوں کی حیثیت سے کیمپ نمبر 94 رام گڑھ بھارت پہنچ گئے ۔ مجھے وہ لمحات یاد ہیں جب ہمارے گھروں میں خواتین آہ و بکا کرتی تھیں ۔ 
    مختصرا یوں سمجھ لیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کی بنیادی وجوھات میں ، بھارت کا روز اول سے پاکستان کو توڑنے کا خواب ، شیخ مجیب کے اندر علیحدگی کے جراثیم ، جنہیں بنگالیوں کے ساتھ ہمارے روئیے نے توانائی بخشی ، اور ذولفقار علی بھٹو کی حوس اقتدار ، اس سانحےکو ، منطقی انجام تک لے گئی ۔ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کو توڑنے میں مددگار ثابت ہونے والے یہ تین کردار ، اندرا گاندھی ، شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو میں سے کوئی بھی طبعی موت نہیں مرا ، بلکہ شیخ مجیب کو خود بنگالی میجر ڈالم نے ، ان کی دھان منڈی ڈھاکہ والی ، رھائیش گاہ کے اندر گھس کر ، پورے خاندان سمیت گولیوں سے بھون ڈالا ۔صرف حسینہ واجد بیرون ملک ہونیکی وجہ سے بچ گئیں جو اب شیخ مجیب کی  اکلوتی بیٹی اور نشانی ہیں ۔ اندرا گاندھی کو ان کے سکھ باڈی گارڈز نے ،  دربار صاحب امرتسر پر فوج کشی کرنے کی پاداش میں ،  ان کی رھائیش گاہ صفدر جنگ روڈ دلی کے احاطے میں اسٹین گن سے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ذوالفقار علی بھٹو ، نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا حکم دینے کے الزام میں ، تارا مسیح کے ھاتھوں پنڈی جیل میں سولی پر لٹکا دئے گئے ۔ میں نہیں جانتا کہ ذوالفقار علی بھٹو گنہگار تھے یا بے گناہ لیکن تاریخ اسی طرح رقم ہوئی ۔ 
    یہاں ایک غلط فہمی کا اذالہ بھی کرتا چلوں ، کہ ، مشرقی پاکستان میں ہماری فوج کی تعداد  زیادہ نہ تھی . 90 ھزار قیدی ،  سویلین افسران ، ان کے اھلخانہ اور دیگر پاکستانیوں کو ملا کر بنتے ہے ، یہ سب لڑاکا فوجی نہ تھے ۔
    آخر میں اس طرف  اشارہ کرتا چلوں کہ ھندوستان یا کالی ماتا کے پجاری اب بلوچستان میں بھی وہی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ ہماری فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بھارت ہی کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ یہی کام انہوں نے مشرقی پاکستان میں کیا جو اب یہاں کیا جارہا ہے ۔ وھاں مکتی باھنی جیسی تنظیم قائم کی گئی اور بلوچستان میں BLA یا بلوچ لبریشن آرمی تشکیل پائی ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے لیکن ہم نادان بنے ہوئے ہیں ۔ خود ہمارے اپنے لوگ جرنیلوں کے نام لے لے کر عوام کو فوج کے خلاف گمراہ کررہے ہیں ۔ ہمیں جاگ جانا چاھئیے ورنہ کسی اور سانحے کا سامنا ہوسکتا ہے اور پھر ،  اللہ نہ کرے ، پوچھتے پھرینگے 
    ” پاکستان کیوں ٹوٹا "

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری ، سرپرست اعلی اٹک میگزین
  • رنگیں نہ اور قصّے یہاں کے سُنا مجھے

    رنگیں نہ اور قصّے یہاں کے سُنا مجھے

    رنگیں نہ اور قصٗے یہاں کے سُنا مجھے
    آئی نہ راس شہر تیرے کی ہوا مجھے
    دربار ِایزدی میں ہے ہر َپل یہی دُعا
    محفوظ مشکلات سے رکھے خدا مجھے
    پروانگی کا رنگ ہے شاید اسی سبب
    تکتا رہا تھا رات بھر تنہا دِیا مجھے
    خوش بختیاں ہمیشہ رہیں میرے پاؤں میں
    اک روز میری ماں نے یہ دی تھی دُعا مجھے
    میں نے ہمیشہ منہ پہ کھرا سچ ہی ہے کہا
    آتی نہیں ہے جھوٹ میں لپٹی ادا مجھے
    کل تک میں تیرا دیوتا تھا یاد کرذرا
    نظروں سے آج اپنی نہ اِتنا گِرا مجھے
    کلام عمران اسؔد

    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • مشترکہ چوہا

    مشترکہ چوہا

    تحریر: شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    گھنٹی بجی اور سامنے برابر والے مکان میں رہنے والے ہمارے الجیرین پڑوسی کھڑے تھے۔۔ ہاتھ سے کرونا کا متعارف کردہ سلام کیا اور کہا کہ آپ کا چوہا ہمارے گھر آیا تھا اور ٹیلیفون کی تار کاٹ دی ہے اس نے ۔۔ مجھے یہ بات سن کر تعجب ہوا کہ نا تو میرے پاس کوئی پالتو چوہا ہے اور نا میں نے کبھی اس علاقے میں کوئی چوہا دیکھا تو پھر یہ اتنے یقین سے اسے میرا چوہا کیوں کہ رہے ہیں ؟ کیا یہ چوہا فلمیں دیکھتا ہے ! جس میں ڈاکو جو کسی خاص گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مشہور ہونے کیلئیے واردات کے بعد جاتے ہوئے اپنا بزنس کارڈ وہاں پھینک گیا تھا ؟ یا انہوں نے اسے میرے ساتھ یا میرے گھر سے نکلتے اور آتے جاتے دیکھا ہے ؟ ان سب باتوں کا جواب انہوں نے نفی میں دیا لیکن اپنی بات پر ڈٹ گئے کے نہیں یہ آپ ہی کا چوہا ہے آپ اسے روکیں یا پھر میں شکایت درج کروں مجھے اس بات پر ہنسی آ گئی میں نے ان سے کہا اندر آئیے اور مجھے سمجھا ئیں کہ یہ چوہا اس سارے جہاں اور محلے میں میرا ہی کیوں ہوا تو انہوں نے کہا کی کیونکہ آپ میرے پڑوسی ہیں ، اور آپ کے باورچی خانے اور میرے باورچی خانے میں صرف ایک دیوار ہے اور چوہا کیونکہ میرے باورچی خانے میں دیکھا گیا تھا اور پھر اگلے دن ذائقہ بدلنے کیلئیے اس نے میرے ٹیلیفون کی تار چبا ڈالی تو ہو نا ہو وہ پہلے آپ کے گھر آتا تھا اب اس نے ہمارا گھر بھی دیکھ لیا ہے تو اب وہ یہاں بھی آتا ہے یہ عجیب و غریب منطق سن کر مجھے تعجب ہوا کہ جانے یہ کونسا نشا کرتے ہیں یا تو ان کی بیگم نے جو کہ دیا بس اسی لکیر کو پیٹ پیٹ کر سانپ بنانا چاہ رئے ہیں خیر میں نے ان سے کہا کہ گھر کا کیونکہ نقشہ قدرے ملتا جلتا ہے تو پھر تو یہ ہمارا مشترکہ چوہا ہوا جیسے آپ مجھ پر الزام لگا رئے ہیں وہی صورت حال میری طرف بھی ہو سکتی ہے تو ہوسکتا ہے چوہا آپ کا ہو لیکن دونوں طرف آتا جاتا ہو ۔۔ اس بات پر پڑوسی صاحب تذبذب کا شکار ہوگئے کیونکہ وہ گھر سے اتنا ہی مصالہ لے کر آئے تھے اور میرے اس جواب کی وہ توقع نہیں کر رئے تھے تو لا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس اپنے گھر چلے گئے اور یوں میں نے بنا اشتعال میں آ ئے ایک بچگانہ سے معاملہ کو سلجھایا اور اس سارے قصہ کے پیچھے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے حالات ہمارے اپنے فیصلوں اور اقدام کا نتیجہ ہوتے ہیں ان کو کسی سائے کسی کالی بلی یا کسی اور شخص پر نہیں تھوپنا چائیے اگر آپ سے کوئے غلطی ہو جائے تو اسے اپناہین اور اسے سدھاریں ورنہ وہ اس چوہے کی طرح پل کر اتنا موٹی تازہ ہوجائے گا کہ آپ کے گھر کو ہی کتر دے گا۔ اسی طرح اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھیں کوڑے دان میں ہی۔ کوڑا پھینکیں یہ سوچ کر نا چھوڑیں کہ محکمہ صفائی والے اٹھا لیں گے یہ ماحول اور معاشرہ ہم سب کا یکساں ہے اور ہم اس کے خراب یا خوشحال ہونے میں برابر کے شریک ہیں ۔

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری
  • عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    اَتھرو پِینا تے وَت جِینا اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    اگلی واری سوچساں مِلنے گِلنے نی

    اِس واری تے عید ورِہینا اوکھا اے

    گَل اے سنگیو گزرے ہوے کیں ویلے نی

    ہُن تاں اُس نا، ناں بی گِھینا اوکھا اے

    پُھلاں واسے کج تاں کرنا پینا اے

    جندڑی کَنڈیاں نال سلینا اوکھا اے

    انجمؔ اوکھا سچی گل تے اَڑ وینا

    زہر پیالہ ہس کے پینا اوکھا اے

    ثقلین انجم

عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے
    سیّد ثقلین انجمؔ

    ثقلین انجمؔ

    (سیّد ثقلین انجمؔ ، اٹک نے پہلے تے نویکلے پنجابی مجلے نے بانی اتے مدیر اعلی)

  • سام سنگ گلیکسی – Galaxy A32 5G

    سام سنگ گلیکسی – Galaxy A32 5G

    سام سنگ کا گلیکسی کا آنے والا موبائل فون اے 32 5 جی (Galaxy A32 5G) اس کمپنی کا پہلا 5 جی سستا ترین سمارٹ فون کہا جا رہا ہے۔

    اس موبائل فون کو ایف سی سی (FCC) نے سرٹیفیکیٹ بھی دے دیا ہے۔ اب ہمیں اس کے پرزہ جات اور کارکردگی مزید تفصیل سے جاننے کا موقع ملے گا۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اس نئے سمارٹ فون میں کیا کیا ہوگا۔

    اس کے ڈبے میں 15 واٹ (15W) کا چارجر ساتھ ہوگا۔ جس ماڈل کو سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے وہ ہے ایس ایم اے 326 جے(SM-A326J) ، اور یہ 5 جی کے 28/77/78 بینڈ سے مطابقت رکھے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں این ایف سی (NFC) کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔

    گلیکسی اے 32 5 جی (Galaxy A32 5G) کی واٹر ڈراپ ناچ (waterdrop notch)اسکرین 6.5 انچ کی ہوگی اور اس پر انتہائی روشن (glossy plastic finish) پلاسٹک کی تہہ ہوگی۔ اس کی پشت پر تین کیمرے ہونگے جن میں سے مرکزی کیمرہ 48 میگا پکسل (48 MP) کا ہوگا، ایک ایل ای ڈی فلیش روشنی (LED Flash ) اور ایک مزید سینسر یا ممکنہ طور پر چوتھا کیمرہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس موبائل فون کا حجم و جسامت 164.2 x 76.1 x 9.1 ملی میٹر() ہوگی اور اس کا مرکزی بٹن لمس انگشت (Finger Print Sensor) سے کام کرے گا۔ اس میں اینڈرائیڈ (Android 11) کا ورژن 11 موجود ہوگا۔

  • قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ*

    وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتیّٰ يَبْلُغَ اَشُدَّه، ج

    اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقہ کے کہ اس کے لیے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے ،

    یتیم کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قُرآن نے ہی ہمیں بتایا کہ گذشتہ تمام انبیاء اور شریعتوں میں بھی یہی قانونِ الٰہی تھا

    منشورِ حیات کے اس چھٹے اصول سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ بچہ انسانی معاشرے کی بنیاد کی خِشتِ اول ہے، بچے کی نگہداشت ، تربیت، درست بنیادوں پر پرورش بہترین اور توانا معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں یتیم کے حقوق اور کیفیات کے بیان میں لفظِ یتیم اپنے دیگر مُشتقات کے ساتھ 23 مرتبہ استعمال ہوا ہے

    بچہ دراصل اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے کسی ایسے ہمدرد سرپرست کا محتاج ہوتا ہے جو اتنی بڑی اور اجنبی دنیا میں اُس کا ساتھ دے اس کے مادی و روحانی حقوق کا محافظ ہو، باپ اس فطری ذمہ داری کو جتنا بھی اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہے وہ ایسا کر نہیں پاتا  اسی طرح یتیم بھی ایسی سرپرستی اور شفقت ، مادی حقوق کی حفاظت کا مکمل حق رکھتا ہے لہٰذا قرآن مجید اس اہم ترین حق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کے مادی و روحانی حقوق کے تحفظ کا حکم دے کر معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری کا تعین فرما رہا ہے کہ جو بچہ کسی بھی وجہ سے اپنے قدرتی و حقیقی سرپرست سے محروم ہو گیا ہو اُس کے قریبی اعزاء و اقارب اس کی سرپرستی و تربیت فریضے کی طرح ادا کریں، تاکہ بلوغت کے بعد وہ تمہارے معاشرے کا مفید فرد بن کر سامنے آئے،

    وَ اَوْفُواالْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج

    ناپ تول کا حق انصاف کے ساتھ پُورا کرو ؛

    عدل و قسط اپنے اندر بے شمار معانی و مفاہیم لیے ہوئے ہے، اس کی وضاحت اور سمجھنے کے لیے ایک الگ نشست اور مضمون کی ضرورت ہے، البتہ یہاں چونکہ موضوع ناپ تول میں عدل و قسط ہے لہٰذا اسی پر مختصر بات کرتے ہیں،

    قُرآن میں معاشی و اقتصادی انصاف معاشرے کا بنیادی ترین اصول قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی سے مراد اجناس کے علاوہ ہر طرح کی ثروت و دولت؛ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی تقسیم بھی ہے، ایک عام شہری سے حکمران تک اس آیت میں اور قُرآن میں مخاطب ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، کسی کے حق پر بےجا تصرف نہ کیا جائے، فقر و فاقہ اور طبقاتی امتیازات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے،

          لَا  نُکَلِّفُ  نَفساً  اِلَّا  وُسعَھَا ج

    ہم کسی انسان کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتے

    یہاں پر تو بظاہر ان الفاظ کا تعلق پچھلی بات سے بنتا ہے یعنی اقتصادی عدل؛ ناپ تول میں عدل و قسط یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ جسے تم کر نہ سکو لیکن یہی بات سُورۃ بقرۃ کی آیت 233؛ سُورۃ اعراف کی آیۃ 42 ؛ سُورۃ مومنون آیت 62 میں مختلف معانی میں کہی گئی ہے، جس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ اسلام بطورِ دین اپنے اندر انسانیت کے لیے آسانیاں سمیٹے ہوئے ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، اور اسلام کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس پر عمل  کرنے میں انسان کے لیے تنگی اور مشکل پیدا ہو،

    وَ اِذَا  قُلْتُم  فَاعدِلُوا  وَلَو کَانَ ذَا قُربی  ج

    اور جب بات کرو تو عدل کرو خواہ وہ قرابت دار کے بارے میں ہی ہو

    عدل ایک ایسا بنیادی منبع و ستون ہے کہ جس پر انسانی معاشرے کی بنیاد پُختہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ یہاں اور قُرآن میں دیگر مقامات پر یہ واضح اصول دے رہا ہے کہ جب تم فیصلہ کرنے لگو تو کوئی رشتہ کوئی لالچ، کوئی خوف تمہیں حق پر فیصلہ کرنے سے نہ روک پائے اور قُرآن نے متعدد مقامات پر ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو عدل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے،

    وَ بِعَھْدِ اللهِ اَوْفُوْا ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ * 

    اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرو ؛ اللہ نے تمہیں اس کی تاکید کی ہے تاکہ تم ذکر کرتے رہو،

    عہد و پیمان اور وعدہ وفائی ایک فطری خُوبصُورتی ہے، اخلاقی بلندی؛ اعتماد اور معاشرتی اعلیٰ ظرفی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ وعدہ و پیمان شکنی اخلاقی پستی کی مظہر ہے، وعدہ وفائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ قُرآن مجید میں اس کا ذکر 45 مرتبہ ہوا ہے، اور آیت کے آخری الفاظ تاکید کی گئی ہے کہ اس پر عمل کرو اور ان مندرجہ بالا امور کو دہراتے رہو، ذکر کرتے رہو،

    اور اس سے اگلی آیت 153 میں ارشاد رَبُّ العِزَّت ہو رہا ہے کہ

    وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوْهُ ط وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبَيْلِهٖ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  *

    یہ ہے ہمارا سیدھا راستہ اسی پر چلتے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو

    کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا کر متفرق کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے،

    صراطِ مستقیم کے متلاشیو! دنیا و آخرت کی کامیابی چاہنے والو ! قُرآن میں تلاش کرو تمہیں دنیا میں جنت مل جائے گی، مگر لالچ، ہوس ، بہتات کی حرص ، شہوت جیسے شیطان بھی تو صراطِ مستقیم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، جو انسانوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا تے ہیں اور انسان اپنے کریم رب سے دوری اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ وہ کریم رب قدم قدم پر انسانوں کی راہنمائی فرما رہا ہے،

    اس کے علاوہ بھی قُرآن نے چار مقامات پر تسلسل کے ساتھ اپنے منشور کو واضح بیان فرمایا ہے، یہ سُورۃ بنی اسرائیل کی 22 ویں آیہ سے 39 ویں آیۃ تک 18 آیات ہیں اور پھر سُورۃ مومنون یہلی 10 آیات میں سات 7 بنیادی اصول بیان کیئے گئے

    سُورۃ فُرقان کی آیت 63 تا 77 میں 14 اصول پیش ہوئے جبکہ سُورۃ لقمان آیات 13 تا 19 میں بھی 12 اخلاقی و معاشرتی اصول بیان کیئے گئے ہیں ؛ ان تمام مشترکہ نکات کو ایک جگہ جمع کر کے مطالعہ کیا جائے تو قُرآن مجید کی حقانیت و حکمت کے سارے راز کھلتے ہیں، وہ حکیمِ مطلق دراصل نوعِ بشر کو سعادت و خوش بختی کی کن منازلِ پر دیکھنا چاہتا ہے قُرآن کو بطورِ منشورِ حیات اگر پڑھا اور سمجھا جائے اور عمل کی کوشش کی جائے تو سب کچھ آشکار ہوتا چلا جاتا ہے،

    سُورۃ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39  میں بیان کردہ  منشورِ حیات کے 14 نکات یہ ہیں

    1 – لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً  آخَرَ

    اللہ کے ساتھ دوسرا شریک قرار نہ دیا جائے

    2  –  وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِيَّاهُ

    تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ عبادت فقط اسی کی کرو

    3  – وَ بَالوَالِدَینِ اِحْسَاناً

    اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو

    4  – وَاٰتِ ذَاالْقُرْبیٰ حَقَّه، وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنِ الْسَبِيْلِ

    اپنے قریبی رشتہ داروں؛ مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو

    5  – وَلَا تُبَذَِّر تَبذِیراً 

    اسراف اور فضول خرچی نہ کرو

    6 – وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اَلیٰ عُنُقِكَ  وَلَا تَبْسُطْھَا كُلَّ الْبَسْطِ

    نہ اپنے ہاتھوں کو بالکل گردن سے باندھ لو اور نہ ہی بالکل کُھلا چھوڑ دو (نہ کنجوسی؛ نہ فضول خرچی بلکہ میانہ روی)

    7 – وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشیَۃَ  اِمْلَاقٍ

    اور نہ بھوک کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرو

    8 –  وَلَا تَقْرَبُواالزِّنیٰ

    زنا (بدکاری) کے قریب مت جاؤ

    9  – وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقّ

    اللہ نے ناحق خون بہانے (قتل) کو حرام قرار دیا ہے

    10  – وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ

    احسن صورت کے علاوہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ

    11  – وَ اَوْفُوْا بِالعَھدِ

    اور اپنے وعدے ایفاء کیا کرو

    12  – وَ اَوْفُواالْكَيْلَ اِذَا کِلتُم وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ المُستَقِیمِ

    پیمانہ صحیح رکھو اور بالکل درست ترازو سے وزن کیا کرو

    13  – وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلَّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسئُولاً

    جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہو اُس کی پیروی نہ کرو، کان؛ آنکھ ؛ اور دل جواب دہ ہوں گے

    14  – وَلَا تَمْشِ فِی الاَرْضِ مَرَحاً

    اور تکبر و غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو

  • کتابیں چیختی دیکھیں

    کتابیں چیختی دیکھیں

     (16 دسمبر سانحہ ء پشاور)

    دسمبر کی وہ سولہ تھی

    پشاور پہ خموشی تھی

    سراسیمہ سی ماوں نے

    اٹھایا اپنے بچوں کو

    کھلایا وقت پر کھانا

    کتابیں ڈالیں بستے میں

    تیاری کے وہ عالم میں

    یہ بچوں کو بتاتی تھیں

    اگر تم کو کوئی مارے

    ستمگر آ کے گولی سے

    مرے بچو، نہ ڈرنا تم

    عدو کے سامنے جانا

    چھپانا نہ جگر اپنا

    کلیجہ سامنے رکھنا

    ڈرانا اس کو بستے سے

    قلم لہرا کے یہ کہنا

    وطن کا میں تو بیٹا ہوں

    عدو سے میں نہیں ڈرتا

    چلاو تم ذرا گولی

    دکھاو بزدلی اپنی

     بجھائے گی تری طاقت

    دیا کیسے پشاور کا

    یہ سن کر ماں کی سب باتیں

    گئے بچے سکولوں میں

    گرج اک پھر سنائی دی

    ہوا یوں کہ پشاور میں

    دھماکے کی صدا اٹھی

    سنی اک تڑتڑاہٹ جو

    تو مائیں دوڑتی آئیں

    جہاں پہ بچے بھیجے تھے

    وہاں بستے کتابیں سب

    قلم زخمی ہوئے ایسے

    کہ جن کی روشنی ہر سو

    مٹاتی تیرگی کو تھی

    وہاں پہ پھول چھلنی تھے

    کتابیں چیختی دیکھیں

    قلم روتے ہوئے دیکھے

    مگر بچے شہادت پہ

    بہت نازاں و فرحاں تھے

    سراسیمہ سی نظروں سے

    بتاتے تھے وہ ماوں کو

    کہ ہم نے لاج رکھ لی ہے

    وطن کی آبرو رکھ لی

    بتایا یہ بھی ماوں کو

    اگر دشمن کبھی آئے

    وہ پھر سے حملہ آور ہو

    اسے پیغام یہ دینا

    ہمارا دل ،جگر قرباں

    وطن پہ جان بھی قربان

    اسے کہنا کہ ہم اب بھی

    حسینی ہیں حسینی ہیں

    علی اصغؑر کے فوجی ہیں

    تو ڈر کیسا، نہیں ڈرتے

    نہیں ڈرتے،نہیں ڈرتے

    مقابل آ کے دشمن سے

    جگر کو زخمی کر کے ہم

    قلم سے اپنے لڑتے ہیں

    کتابیں ڈھال اپنی ہیں

    عدو ! تُو سوچ کر مر جا

    کہ تو بچوں کا قاتل ہے

    کہ تو بچوں سے ڈرتا ہے

    سید حبدار قائم آف غریبوال اٹک

  • سانحہ پشاور APS

    سانحہ پشاور APS

    16 دسمبر 2014 ہی کے دن جب میں اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ سے مسقط آنے کے لئے امیگریشن کلیر کرکے ڈیپارچر لاونج میں آیا تو دیوار پہ نصب ٹی وی اسکرین پر نظر پڑی ۔ قیامت صغری برپاء تھی ۔ کچھ سمجھ نہیں آرھا تھا ، کیا ہوا ۔ اپنے آپ کو سنبھالا اور غور سے دیکھا تو خبر چل رہی تھی کہ آرمی پبلک اسکول پیشاور میں معصوم بچوں پر دھشت گرد حملہ ہوگیا ہے ۔ ریسکیو آپریشن جاری تھا ، ابھی خبریں چل رہی تھیں کہ آواز آئی ،
    ” عمان ائر کی فلائٹ مسقط جانے کے لئے تیار ہے مسافروں سے التماس ہے کہ گیٹ پر تشریف لے جائیں ۔
    بوجھل قدموں کے ساتھ جہاذ تک گیا۔ مسقط پہنچ کر تفصیلات سنی تو کلیجہ منہ کو آرھا تھا ۔ ننھے پھولوں کو کلاشنکوف کی بے رحم گولیوں نے بھون ڈالا تھا ۔ مائیں بلبلا رہی تھیں ۔ پوری قوم غم سے نڈھال ۔
    ھلاکو اور چنگیز کے قتل عام کے قصے تو سن رکھے تھے لیکن تاریخ میں کہیں بھی ہمیں سوائے کربلاء کے ، ایسی بربریت کی مثال نہیں ملتی جہاں چھوٹے چھوٹے ، ننھے منے معصوم بچوں کو اتنی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہو ۔ وہ مائیں جن کے جگر گوشے اسکول سے واپس نہیں آئے ، آج تک ان کی راہ تک رہی ہیں ۔

    ” پھول تو کچھ دن بہار جاں فزاء دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھاء گئے "

    آئیے ، ہم سب مل کر اے پی ایس کے ان ننھے شہیدوں کو یاد کریں جنہوں نے اپنے خون سے اس وطن کو سرخ رو کیا ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائیندہ باد

  • سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم

    چڑیا ، جگنو  ، تتلی   سارے مرتے جاتے ہیں

    اک اک کر کے میرے پیارے مرتے جاتے ہیں

    بوڑھی مائیں دیکھ دیکھ کے جن کو جیتی تھیں

    کیسے   کیسے راج دُلارے  مرتے  جاتے  ہیں

    کس کس لاشے پر میں روؤں پیٹوں کس کس کو

    پھولوں  جیسے  لال  ہمارے  مرتے  جاتے ہیں

    موت نہ ہو کیوں رقص کناں میرے شہروں میں

    جتنے بھی  تھے آس  سہارے  مرتے  جاتے ہیں

    روشنی کا وہ قحط پڑا ہے دیس میں چاروں سمت

    تیرگیوں  کے خوف  سے تارے مرتے جاتے ہیں

    میرے سب رانجھوں کو اپنی خیر میں مولا رکھ

    اک اک  کر کے  تخت  ہزارے مرتے جاتے ہیں

    اپنے خدا سے مانگ اسد، لَو بہار ِ صبحِ نو کی

    زرد   رتوں  میں حُسن نظارے مرتے جاتے ہیں

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

    کلام: عمران اسؔد