بچپن سے ابتک یہی دیکھتا آیا کہ کھانا چائے وغیرہ ہاتھوں سے ہی بنتی ہے اور بنائی جاتی ہے۔ معلوم تاریخ سے بھی یہی شواہد ملے کہ ہر دور میں یہ کام ہاتھوں سے ہی ہوتے رہے۔ ٹی وی دیکھنے کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ لیکن چند ڈراموں کی جھلک دیکھنے کے بعد ایک الجھن سی ہے کہ شاید ہاتھوں کے استعمال کے بغیر بھی ایسا ممکن ہے۔ وگرنہ آج کا ڈرامہ نویس اتنی وضاحت سے یہ نہ لکھ رہا ہوتا ‘ یہ چائے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی، آج میں کھانا اپنے ہاتھوں سے بناؤنگی، تم اپنے ہاتھوں سے چائے بنا دو’ وغیرہ۔ گویا یہ کہنا کافی نہ تھا کہ آج کھانا میں نے خود بنایا، تم خود مجھے چائے بنا دو۔ اگر یوں لفظ لفظ دورانیےکو طول دیا جاتا رہا تو کل یہ بھی لکھا جائیگا۔ آج کھانا میں نے اپنے دانتوں سے چبایا پانی اپنے منہ سے پیا۔ خُوشبواپنی ناک سے سونگھی۔ وغیرہ و غیرھا. . . .
سخن کے دھنک رنگ جب اہل قلم بُنتے ہیں تو دل و نگاہ کی دنیا کو تیرہ نہیں رہنے دیتے بلکہ ایک بے کراں نور سے آشنا کر دیتے ہیں جو دلوں کو اک نئی فرحت اور ضیا بخشتے ہیں خدا نے جس کو سخن کی دولت سے نوازا ہے وہ بندہ مرتا نہیں بلکہ دلوں میں زندہ رہتا ہے گویا زندگی کا دوام سخن کے نایاب گوہر سے جنم لیتا ہے ۔حضرت علی مولا کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ ” گفتگو کرو تا کہ تم پہچانے جاؤ”
کتاب زیست میں ہزاروں ادیب لکھنے کے لیے آئے اور اپنی پہچان بنا کر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ اب تک دلوں میں زندہ اور راج کر رہے ہیں ہر تحریر منبر سے ہونے والی تقریر میں ضیا کے موتی بکھیرتی نظر آتی ہے۔
وجود کیا حباب کا از مشبر حسین سید
سوشل میڈیا پر ایک دن میری نظر ایک کتاب”وجود کیا حباب کا” کے ٹائیٹل پر پڑی تو میں نے اس پر فورا کومنٹ کیا کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی شاہ صاحب نے جواب دیا کہ اپنا ایڈریس انباکس کریں تو کتاب آپ کو مل جائے گی میں نے اپنا ایڈریس اور فون نمبر انباکس کیا تو دوسرے دن میرے آفس کے باہر محبتوں اور شفقتوں کی پیکر شخصیت پروفیسر مشبر حسین سید موجود تھے میں کتاب اور مصنف باہم دیکھ کر حیران رہ گیا وہ دن اور آج کا دن ملاقات ہوتی رہتی ہے انتہائی مہربان، مہمان نواز، نرم خو اور گرم دم جستجو مشبر حسین سید ہمیشہ اپنی محبتوں میں یاد رکھتے ہیں۔ میں کتاب کو پڑھتا گیا اور ایک نہ ختم ہونے والی طمانیت سے آشنا ہوتا گیا
کتاب کا ٹائیٹل الفاظ کے بے تاج بادشاہ صدارتی ایوارڈ یافتہ سید شاکر القادری کی تخلیق ہے مشبر حسین سید کا لکھا ہر لفظ ان کی فکری نظافت اور بالیدگی ء فکر کا آئینہ دار ہے وہ الفاظ کی صوتی ترنم سے کماحقہ آشنا ہیں میرے لیے اشعار کا چناو خاصا مشکل ہو گیا کیونکہ جن اشعار پر میں تبصرہ کرنا چاہتا ہوں وہ بہت زیادہ ہیں بلکہ ساری کتاب ہی تبصرے کے قابل ہے آیئے ان کے سخن کی فکری عفت پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں :۔
جدا صدمے جدا ہیں غم مسافر
مگر آنکھیں سبھی پر نم مسافر
لہو کی بوند کانٹوں کی زبان پر
گلوں کی آنکھ میں شبنم مسافر
اگر شعر فکر رسا کے حسیاتی دھنک رنگوں میں رنگے ہوئے ہوں تو کس کو اچھے نہیں لگتے روداد غم پرانی ہو تو درد سہنے کی عادت ہو جاتی ہے لیکن شاہ صاحب ایسی حالت میں بھی اپنے مقدر کے تارے تلاش کرتے ہیں:۔
خبریں وہی دردوغم کی پرانی
گو زیست کے ہم ہیں تازہ شمارے
دل کے نگر میں اندھیرا بہت ہے
جانے کہاں ہیں؟ مرے چاند تارے
راہ شوق میں آشفتگی جزبے کی صداقت کا مظہر ہے کانٹے اور دھول راہ شوق میں چارسو بکھرے ہوتے ہیں لیکن جستجو کا عالم رکنے نہیں دیتا مشبر صاحب نے ان کو روند کر منزل کو دیکھا تو سارے در بند دیکھے لیکن دل میں یہ بھی کہا کہ اگر میرے لیے در بند ہیں تو کوئی اور آشفتہ سر راہ شوق میں سرگرداں ہو جائے جسے منزل خوش آمدید کہے جس کا اظہار یوں کرتے ہیں:۔
الیاسؑ کہیں ملے’ نہ کہیں پر خضرؑ ملے
مجھ کو تو جستجو کے سبھی بند در ملے
کوئی تو بڑھتے قدموں کی ہو دھول سے اٹا
کوئی تو راہ شوق میں آشفتہ سر ملے
مادیت پرستی کے دور میں غرور اور تکبر نسلیں بگاڑ رہا ہے آپ تکبر کرنے والے سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:۔
اتنا مت اترا کے چل یہ دیکھ لے
تو گرے گا منہ کے بل یہ دیکھ لے
خواب بھی تو دیکھ پائے گا نہ پھر
آنے والی ہے وہ کل یہ دیکھ لے
سیرت نبویؐ سے دوری موجودہ نسل کا ایک بہت بڑا روگ ہے موجودہ معاشرے میں بڑوں کا احترام ،بھائی چارہ اور برداشت کے سبھی در بند نظر آتے ہیں ایسے حالات میں خون سفید ہو گیا ہے جس کا عملی نمونہ جائیداد کی تقسیم میں دیکھا گیا ہے مشبر صاحب نے ان اشعار میں ماں کی دعا اور مکان کو ٹکڑوں میں منقسم ہوتے ہوئے منظر کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے کہ معاشرے کی بے حسی پر دل کے ساتھ قلم بھی روتا ہے:۔
کیوں نہیں برداشت ہم میں اب رہی
کیوں ہمارے لفظ تیکھے ہو گئے
ماں نے بیٹو ں کو دعا رو رو کے دی
جب مکاں کے چار ٹکڑے ہو گئے
مشبر حسین سید تصوف کے آدمی ہیں آپ جانتے ہیں کہ انسان کی صورت میں کون ہے تلاش خودی میں سرگرداں ہر مسافر جب اپنا بھید پا لیتا ہے تو اسے رب مل جاتا ہے اس خوبصورت احساس کو شعر کے رنگ میں یوں تراشتے ہیں :۔
اپنی خبر ہے مجھ کو نہ اپنا ہے ہوش کچھ
چپکے سے کون یہ مرے اندر اتر گیا
خودی کی تلاش میں شب خیزیاں انسان کو معراج سے ہمکنار کرتی ہیں لیکن تدبر کون کرے روحوں پر چھا جانے والی سوچ کہاں سے آئے انسان کی بے بسی کے تار چھیڑ کر اسے یہ باور کراتے ہیں کہ تیرا چہرہ اسم اعظم "اللہ” سے منور تو ہے لیکن دل کی حالت بت پرستی میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے تجھے اپنی سمجھ کیسے آئے اگر خود شناسی چاہتا ہے تو دل کے مندر کو مسجد بنا تو معراج دور نہیں ہے سہل ممتنع میں اتنی بڑی بات کو کس سادگی سے قاری کی روح میں اتارتے ہیں ملاحظہ کیجیئے:۔
گہری نیندیں تان کے جب سو جاتے ہیں
میں پلکوں پر بھاری رات لیے پھرتا ہوں
چہرے پر تو رونق اسم اعظم کی ہے
دل میں لیکن لات و منات لیے پھرتا ہوں
یہاں شاہ صاحب لفظ کاری کو اعجاز کہہ کر لفظوں کی اہمیت تسلیم کر کے رب سے مناجات کرتے ہیں جس میں اٹک کی محبت بھی یوں چھلکتی ہے:۔
لفظ کاری کا سلیقہ دے مجھے
مجھ کو بھی تو کچھ عطا اعجاز ہو
ہر جگہ تو ساتھ رہتا ہے مرے
شہر اٹک ہو یا کہ وہ شیراز ہو
آخر میں دعاگو ہوں کہ مشبر حسین سید کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے اور وہ اپنی فکری عفت اور ندرت سے اردو ادب سیراب کرتے رہیں
سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت سر کولن کیمپبل ( Sir Colin Campbell) برطانوی افواج کے سربراہ تھے ، ان ہی کی سوچ اور منصوبے کے مطابق ، ھندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے یعنی موجودہ خیبر پختونخواہ سے اٹھنے والی شورشوں اور اس علاقے میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے ، تاریخی مقام اٹک اور دریائے اٹک ( سندھ) سے کچھ فاصلے پر ایک فوجی چھاونی قائم کی گئی ، جسے آج ہم آرٹلری سینٹر اور اس کی ملحقات کے نام سے جانتے ہیں ۔ چونکہ اس علاقے میں یہ ایک اہم آبادی تھی لھذا لینڈ مارک (ؒLand Mark)یا شناخت کی حیثیت اختیار کرگئی اور ہمارے بچپن تک ، ہم سے پہلی نسل کے افراد ( بزرگ ) کیمبل پور کو فقط ” چھاونی ” یا چھونڑیں کے نام سے پکارتے تھے ۔
یہ بات یاد رکھیں کہ چھاونی بہت پہلے قائم ہوئی اور پھر 1908 کے لگ بھگ جانب مغرب ، ایک شھر کی بنیاد رکھی گئی ، جسے برطانوی فوجی کمانڈر سر کولن کیمبل کے نام کی مناسبت سے کیمبل پور کا نام دیا گیا ۔
اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔
1970 میں ، بحیثیت طالب علم سال چہارم ، گورنمنٹ کالج کیمبل پور ، میرا ایک مضمون ، کالج کے مجلہ ” مشعل ” میں چھپا ، جس کا عنوان تھا ” کیمبل پور کا جغرافیہ ” ، یہ عنوان میں نے ، استاد محترم پروفیسر محمد انور جلال صاحب کی مشاورت سے ، پطرس بخاری کے مضمون
” لاھور کا جغرافیہ ” سے متاثر ہوکر منتخب کیا۔ چونکہ کیمبل پور اس وقت تک اپنی اصلی عمرانی حالت میں موجود تھا لھذا شھر اور گردونواع کی حقیقی تصویر میرے اس مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
شھر کی گلیوں کو اس وقت کے معروف خشت ساز ، جوالا رام سنگھ، آف جسیاں ، کے بھٹے کی اینٹوں سے پختہ کیا گیا ۔ میں نے اپنے مضمون میں طنزا لکھا تھا کہ بلدیہ والے ، گلیوں کی مرمت کے نام پہ اینٹوں کی کروٹ بدل دیتے ہیں یعنی جب اینٹ گھس جاتی ہے تو سال دو سال بعد اسی کو الٹ کر لگادیتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا بچپن ، ٹانگہ ، ریڑھہ ، اونٹ گاڑی ، بیل گاڑی اور سائیکل کا زمانہ تھا ، موٹر کار اور موٹر سائیکل خال خال نظر آتی تھی ، ٹریکٹر ٹرالی ، سوذوکی ، ویگن اور چنچی کا جنم نہیں ہوا تھا پھر بھی ، شھر کا نقشہ بنانے والوں نے حادثات کی روک تھام کے لئے ، گلیوں کو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ڈیزائن کیا ، ہر گلی کی ایک سمت پہ قریبی پہاڑیوں سے پتھر تراش کر چھوٹے چھوٹے ستونوں کی شکل میں گاڑ دئے گئے تاکہ پیدل افراد تو گزر سکیں لیکن کسی سواری کا گزر نہ ہوسکے ۔
پلیڈر لائن سے شروع ہونے والا شھر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ چھوٹا سا شھر ، کم کم آبادی ، صاف ستھرا اور پرامن ماحول ، شروع سے آخر تک ایک ہی بازار جسے انگریز سول بازار کا نام دے گئے تھے ، سر شام بند ہوجاتا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ایک ھائی اسکول ، ایک گورنمنٹ کالج جہاں ہمارے دور تک مخلوط تعلیم تھی ۔ چند پرائمری اسکول اور جہاں اب لڑکیوں کا کالج ہے کامل پور سیداں کے پاس ، یہ شھر کا پہلا سرکاری ھسپتال تھا ۔ موجودہ ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹرز ھسپتال ہمارے بچپن میں تعمیر ہوا ۔
کھیلوں کے لئے ایک وسیع میدان ” کرشنا گراونڈ ” کے نام سے موجود تھا ، جسے اب لالہ زار یا کسی اور نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ھائی اسکول ( موجودہ پائیلٹ ) ، گورنمنٹ کالج کا گراونڈ اور ایک قیدی گراونڈ تھا جہاں آجکل لاری اڈے کے قریب جوڈیشیل کمپلیکس اور ٹیلیفون ایکسچینج ہے ۔ سیرو تفریح کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پہ کمپنی باغ تھا ( موجودہ جناح پارک ) متصل ڈپٹی کمشنر ھاوس ۔
چھوئی روڈ کے جنوب میں شھر کا پہلا بجلی گھر تعمیر کیا گیا ، ہم نے ہوش سنبھالی تو یہ ادارہ سردار ممتاذ علی خان کی ملکیت میں تھا ، پرانے شھر کے علاوہ بجلی کی ترسیل کہیں نہ تھی لھذا ہم امین آباد اور ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کا لڑکپن لالٹین کی روشنی میں پروان چڑھا ۔ میرا ایک ہم جماعت
محمد زمان قریشی سکنہ گل آباد حاجی شاہ ، جو آجکل اٹک کے نامور وکیل ہیں ، اور میں جب بی اے کے امتحان کی تیاری کررہے تھے توایک مشترکہ لالٹین جلاکر آس پاس بیٹھ جاتے اور رات بھر پڑھتے رہتے ۔
ہمارے محلے امین آباد کے قریب ویرانے میں محلہ شاہ آباد کی حدود میں ھندووں کا شمشان گھاٹ تھا ، جہاں شھر کے آخری ھندو وکیل لالہ فقیر چند کا کریا کرم کیا گیا ۔
مجھے یاد ہے لالہ فقیرچند ایڈووکیٹ نابینا تھے ۔ بار روم کے برآمدے میں ایک ستون کے قریب ھندو پگڑی باندھ کر بیٹھے نظر آتے ، ان کا منشی انہیں اخبار پڑھ کر سناتا اور وہ چپ چاپ سنتے رھتے ۔
اخبار سے یاد آیا ، خزینہء علم و ادب ، کچہری روڈ پر اخبارات ، رسائل اور کتابوں کا مرکز تھا ۔ اس زمانے کے اخبار ، کوھستان ، امروز ، نوائے وقت اور تعمیر نمایاں تھے ، بعد میں جنگ اور مشرق اس قافلے میں شامل ہوگئے ۔ جو لوگ اخبار خرید کر نہیں پڑھ سکتے تھے ان کے لئے بلدیہ کی لائیبریری میں اخبار مہیاء کئے جاتے تھے ۔
معروف ریستورانوں میں ماسٹر فضل دین کا ھمدرد ، یہ اٹک کا پاک ٹی ھاوس تھا جہاں شاعر اور ادیب جمع ہوتے تھے ، چوک کے اندر تاج اور حبیب معروف ریستوران تھے ۔
انسان کی قدر و منزلت عمل کے حُسن سے ہے , فرد ہو یا قوم , جس کی زندگی عمل کے سوز سے خالی ہو , وہ ایک لفظِ بے معنی ہے , ایک جسم ہے جو بے رُوح ہے …… ایک گُفتار ہے جو کردار کی قوت سے خالی ہے…. کردار و عمل کی خُوبی کے بغیر پُرشِکوہ الفاظ کی شان اور گُفتار کا حُسن بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ,
عمل افراد اور قوموں کے اندر جوش اور ولولہ , آگے بڑھنے کا جذبہ اور لگن پیدا کرتا ہے , رواں دواں پانی تازہ رہتا ہے , ساکن پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے , عمل سیرت و کردار سے اُبھرتا اور نکھرتا ہے ,
جوشِ کردار سے کُھل جاتے ہیں تقدیر کے راز
اور کردار کے لئے اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کُچھ یُوں فرما دی ہے کہ
بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ,
مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ
جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی
اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو ان کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ ، اُسوہءِ حَسَنہ ہے کیا ؟
اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے :: عفو و درگزر ہے :: پیار و محبت ہے. ، شفقت و مہربانی ہے نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی
اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے :: اخلاص و تقویٰ ہے :: عدل و انصاف و احسان ہے :: خشتِ اِلٰہی ہے
اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے :: امر بِالمعروف ہے :: نہی عن المنکر ہے :: نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے :: اتحادِ مِلّی ہے
اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے :: کسبِ حلال ہے :: حرام سے اجتناب ہے :: گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے :: منافقت سے نفرت ہے :: عبادت و ریاضت ہے :: ریاکاری سے اجتناب ہے :: اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت ہے
دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ یٰسین میں قُرآن کی قسم کھا کر کہنا پڑا کہ
اِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں ,
اور کہا یہ جاتا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور پر نہیں لینا چاہیئے ؟ کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ ,
28 رجب , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسالت کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رہے تھے تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم , پر کاربند رہے ہیں
رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو مرعوب ہو کر تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ,نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ, کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول ,ص, کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم, آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں ؟ مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کیسے ہوئے ؟, جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہوں سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ہے کہ
پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,
بدلہ نہ لینے والے رسول ,ص, عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی کیا اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے ؟ , ذرا دیر کو رک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے
وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے اپنے گھر کے لیے ، اپنے محلے ، شہر ، وطن اور پوری دنیا کے لیے سراپا محبت و رحمت بن جائیں ، تا کہ بہترین اُمت قرار پائیں ، وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بروز محشر آقائے نامدار صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ہمارے بارے میں ہی فرما رہے ہوں کہ
آٹا مہنگا، بجلی، گیس، سبزی ہبا کج ای مہنگا ہوگیا اے سُنڑا اے کیں اَسّاں نے نائیں تے قرضہ گِھن کے کھادا تے وَت نس گئے۔ سچے نسڑیں تو یاد آیا ہک واری انج ہویا ہکی گراں دو بھرا رہنے ہئے تے بہوں وَڈے کَن کُترے ایڈے تِیرے ہئے بئی گِرائیں نے خان نی پَٹیِاں چوں کھکھڑیاں چھُپا چھُپا آپ کھانے ہئے تے چھِلاں کدی ہکی گھرے اگے کدی دُوے اگے۔ خان ہوراں کیں آکھا؛ خان جی ! تُڈی کھکھڑیاں پئی چوری ہونیاں-ن ادھی پَٹی گھِن گئے نے۔ خان آں ڈاڈھی کوڑ چڑھی نوکراں نال گِھن کے نکلا گرائیں-چ۔ پَینیاں پَٹ اِی گودڑ کُبہارے نے گھرے اگے جے تکیِاں-س ناں چھِلاں تے نوکراں آکھاس “ نپ آنڑوں او اِس گودڑ آں ، یا پیسے دیسی یا وَت مینڈی پَٹیاں چ کم کَرسی “۔ گودڑ شوہدے بہوُں زاریاں کِیتیاں باقی گِرائیں آلیاں بی سمجھایا، بئی خان جی ! جِنہاں کَھکھڑیاں کھادیاں ہَیاں اُن گئے نے نس ای شوہدا چِھلاں توں پھس گیا نے۔ برَے خان کیں نی نہ سُنڑی تے گودڑ ہنڑ بی خان نا ہل پیا واہنا اے۔ اُس ویلے توں ای مثل مشہور ہوگئی جنڑے کَھکھڑیاں آلے نس گئے تے چھِلاں آلے پھس گئے۔
تے گل ایجوں وے سنگیوں خان ہوراں دسو آ اَسی بی چھِلاں آلے آں نے ، کھکھڑیاں آلے گئے نے نس۔ اس واسے مہربانی کرو اساں غریباں تے کُج رحم چا کرو۔ ہاؤ
تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint) یا بھگت کہا جاتا ہے ، پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست . تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ قارئین کرام ، آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ، تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا ؟ پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ، یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ، کئی ایک جبلی خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ، پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ، بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔ بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔ آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ، یعنی درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ، نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔ اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ، کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct ) خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ، سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے : ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ، پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر علم ہوا ، کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے اس ایکسپریس کو دنیاء نے ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ، کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ، الا وہ محدودے چند افراد ، کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔ جب ایسا ہی ہے ، سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ مختلف کیوں ہیں ۔ ( بحث جاری ہے )
گداز حسین امجد کی مجھ تک پہنچنے والی پہلی کتاب ہے اس سے پہلے مشاعروں اور نجی محافل میں سننے کا اتفاق بہرحال رہا۔ جن میں نہ صرف کلام کی روانی بلکہ خوش الحانی کا بھی تجربہ رہا لیکن فی الوقت موضوع ہے اس کا تازہ مجموعہ کلام گداز جو14 دسمبر2019 ء کو مجھے عنایت کیا گیا، اسی پر کچھ سپرد قلم کرتا ہوں اور دیر کے لیے معذرت خواہ بھی ہوں۔
گداز – حسین امجد کا مجموعہ کلام
حمد سے آغاز کرتا امجد مجھے کسی فقیر جیسا لگا جو سب جہات سے بے خبر بس اُسی سے لو لگائے ہوئے ہے۔ جب وہ نعتِ سرور دو جہاں صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سعادت حاصل کرتا ہے تو بالکل اسی کیفیت اور عشق میں ڈوبا ہوا ہے جسے کسی شاعر نے نفس گُم کردہ کے الفاظ سے یاد کیا تھا۔ میں جہاں اسے مولائے کائنات علی المرتضیٰ علیہ السلام کی بارگاہ اقدس کے اندر قلندرانہ وجد میں دیکھتا ہوں وہیں وہ سیدۃ النساء العالمین سلام اللہ علیھا کی چوکھٹ کے باہر سر نیہوڑائے چُپ چاپ ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ امجد حسین امجد کی اس کتاب میں اس کا یہ روپ بھی نظر آتا ہے کہ وہ جاروب کش دربار بنائے لاالہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام بھی ہے میں نے اسے وارفتگی میں سلام پیش کرتے دیکھاہے۔
حسین امجد
حسین امجد ! ایک ساتھ اتنی ساری سعادتیں مبارک ہوں۔ وہ غزل کہتا ہے نظم کہتا ہے کچھ چھپانے کی کوشش کرتا ہے کچھ بتانے کو بیتاب ہے۔ سپنے بھی بنتا ہے اور حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھوں سے نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ نسل آئندہ تک پہنچانے کی سعی بھی کرتا ہے۔ اہم بات یہ کہ اس کا کلام اتنا لے میں ہے جیسے سرگم پر رکھ کے موزوں کیا گیا ہو۔ امجد کو پڑھتے ہوئے کہیں مجھے ناصر کاظمی کی جھلک سی محسوس ہوئی تو کہیں عدم کی بے ساختگی اور جابجا رنگ و خوشبو تو موجود ہے ہی۔ گداز اس کے فن کی پختگی اور شعر سے لگن کا ثبوت ہے۔
کھیڈاں تے کِھڈار ہر مُلکےاِچ ہونِن تے ان ای معاشرے اِچ چنگیاں تے بَھل مانڑُس رَویتاں نیں ایرے رَکھینِن ۔جہڑیاں کھیڈاں ناں ذکر میں کرن لگاں ضروری نیں جے ان پورے ضلعے اِچ کھیڈیاں وینیاں ہووُن اِنہاں وچ کُجھ جاکتِیاں کھیڈنِیان تے کُجھ جاکت شاکت شہراں اِچ تے کجھ گرانواں اِچ کھیڈنِن۔
اج کل نِکے جاکت پلاسٹک نیاں بنڑیاں ویاں تے موبائلاں اِچ کمپیوٹراں اِچ کھیڈاں نال کھیڈنِن جِنہاں نی وجہ توں ان مضبوط وی نئیں ہونِن تے بیمار وی راہنِن ۔جہڑے چُھہر چَھہر مِٹی اِچ ہتھ پیر مرینِن اُنھ تَکڑے وی ہونِن تے اس مٹی نی خوشبو کشید کر کے آپڑیں جُسےاِچ نالے ہی روح وچ وسا گھینِن تے وت سداں مُلکے نی مٹی نال جانی تے کھیڈ کے وفا کرینِن۔اس مٹی نی خشبو انہاں اِچ رچ وس وینی۔ ہر تَرِی تو پَینتی مِیلاں تو بعد جِنج پنجابی کیملپوری زبان لہجہ بدل کے کدرائیں چھاِچھی کدرائیں اٹکی کدرائیں جنڈالوی تے کدرائیں گھیبی بنڑ وینی انجے آونڑ کھیڈاں وچ وی تھوڑی بوہتی تبدیلی آ وینی بہرحال کجھ گھیبی کھیڈاں نا ذکر کریناں جہڑا تساں چنگا ، ودھیا تے نویکلا لگسی:۔
حبدار قائم
گُھرکُنڑ:۔
گُھرکُنڑ لوہے نی پتری ناں بنڑناں ۔جساں اسی لوہے ناں ٹین ڈبہ گول کٹ کے بنڑینیں اَیہاں اس وِچ دو موریاں کر کے سوترے ناں دھاگا پا کے بھکینے ایہاں۔ مزے نی گل ای وے کہ جواری نے گنے تروڑ کے وچ اسی باگُڑ تے تُر پتے اسی گُھرکُنڑ نال ہی چیر چار چھوڑینے ایہاں ۔جواری نے پتراں اِچ جہڑی چٹی لکیر ہونی ایہی اس نا گنا پِھکا ہونا ایہا تے اِساں اٙسی باگڑ گنا آکھنے ایہاں جنہاں پتراں نی درمیانی لکیر ساوی ہونی ایہی او گنا مٹھا ہونا ایہا اِساں اٙسی تُر آکھنے ایہاں ۔جس ویلے تیز گُھرکُنڑ بھیکنا ایہا جواری شواری نے پترے نال رکھڑیں نال ہی گُھرکُنڑ فٹو فٹ کپ چھوڑینا ایہا جہڑا اٙساں بہوں چَس دینا ایہا۔ کئی گُھرکُنڑ اِتنڑیں تیز ہونے اے جے انہاں بِھیکڑیں ناں پتہ ہی نئیں لگنا ایہا۔ تے اسی آکھنے ایاں ای تاں بالکل سیں بُھوک گیا اے۔
گُلی ڈنڈا:۔
گُلی ڈنڈا کسی درختے نی لکڑی ناں ڈنڈا کپ کے بنڑینے ایہاں ایجا درخت جس نی لکڑی پِیڈی ہونی اَیہی ۔جِنج کِکر ، کَوا یا ٹاہلی وغیرہ ۔ گُلی نی لمائی تقریبُن پونڑی گِٹھ اگوں چوماں گھڑ کے تے ڈنڈا سوا یا ڈیڈھ گز ناں عام طور تے ہونا ایہا ۔اس نی لمائی جاکتاں نے قدے بتے نے مطابق ہونی ایہی۔ گراں توں باہر زمیناں وچ ہک گٹھ شُنھ کھٹ کے گلی آں ڈنڈے نال اگاں وگا کے یعنی شُنھ دے کے مقابلہ شروع کرینے ایہاں۔ ڈنڈے تے گُلی نیں پاکے زیادہ لاونڑیں آلا بندہ چنگا کِھڈار مَنا وینا ایہا۔ حریفاں کئی کئی گھنٹے بَجھا بَجھا کے انہاں نی مَت مار دوینی ایہی۔ تھک تُرٹ کے گھر ویناں ایہے آں تے بُھک وی چنگی لگنی ایہی تے جُسہ وی پرسئے نال جھبہ پیا ہوناں ایہا کئی جاکت گلی جھڑَپڑیں اِچ زخمی بھی تھی وینے ایہے لیکن ای تاں ہر کھیڈاں ناں حصہ ہونا وے۔
ڈنڈ پاکی:۔
ڈنڈ پاکی وی گُلی ڈٙنڈے آونڑ ہونی بس گُلی نی جائی تے کھیندو یا گیند وغیرہ ورتنڑیں پونِن۔ ای بھی گراں تو باہر ونج کے کھیڈنی پونی اس وچ زمین تے پِڑی یعنی دارہ مار کے وچ شنھ کھٹنی پونی اگر گالف آلی گیند لبھ ونجے تے وت تے کھیڈڑیں ناں مزہ ای آ وینا کیونکہ اس گینداں ہواو وچ وگا کے ڈنڈ مریسو تے بہوں دور وینی۔ پُگاونڑیں واسے یعنی پِڑی وچ پانوڑیں واسے ترے یا دو واریاں رکھ سکنے او کیوں جے گالف نی گیند بہوں دور وینی تے ہک واری پِڑی تائیں نیں اپڑنی۔ جے پُگ ونجے تے دوئے نی واری تاں آنی ۔گینداں ڈنڈ مارو تے دوآ جھڑپ گھنے تے تاں وی اُو واری چا گھینا۔
کانا گڈی:۔
کانے گڈی نال اسی بڑے کھیڈے آں بڑی سستی تے سوکھی کھیڈ اے۔ اڈیاں گِرانواں اِچ بہوں سرُوٹ ہونِن جنہاں نِیاں چِکاں ، چَھتاں نے کِڑے،چَھج تے پنجرے وغیرہ بنڑنِن تے نالے اگ بھکھاونڑیں واسے چُلّہِی اِچ استمال ہونِن ۔کانیاں نی سَراں نال چھپر وی پونِن۔بہرحال اسی جاکت ہک لماں کانا سروٹے نے مڈھے چوں کپ کے جس نال بُمُل وی ہوناں ایہا اس نی کانا گڈی انج بنڑینے ایہاں جے بُملے آلے پلوں کانا بھن کے ہک تکون جئی بنڑا کے اُتاں بُمُل کر چُھڑینے ایہاں جنج ٹرائینگل یعنی تکون نے سرے تے جھنڈا بالکل 90 ڈگری نے زاویے اُتے لگا پیا ہونا ۔ دُوئے پَلوں کانا صاف کرکے ہتھی لا کے نپ گھینے ایہاں تے ساری دیہاڑ کچے راہاں اُتے نسنے بھجنے راہنے ایہاں ۔
بھمیری بھکاونی:۔
بھمیری بھکاونڑیں نی چس ہر کوئی گھینا ایہا۔ اصل وچ ای بالکل لٹو نی نسل دی کھیڈ اے بس اس وچ ہک کِکرے ناں کنڈا ہٙرملے نیں ساوے بِیں یا ہوائی چپلی نیں تھلوں ودرے نی گول بٹڑیں آوُنڑ ربڑ وچ پا کے بنڑائی وینی ایہی ۔ درمیانی انگلی تے انگوٹھے وچ کنڈے آلے پلو زمین اتے یا فرشے اتے بِھکا کے بڑی چس آنی ایہی ۔ مقابلے وچ جس نی بھمیری زیادہ بِھیکے آ اُوآ جِت وینا ایہا۔
لک ترُٹی:۔
لک تُرُٹی کھیڈ اسی استاداں نے آونڑیں توں پہلے یا سکول وچ تفریح نے ویلے کھیڈنے ایہاں اس وچ ہک گیند یا جالی آلا کھیندو بنڑا کے ہکی دوئے آں لک یا جسم نے کسی حصے اِچ زور نال مارنا ہونا ایہا ۔مانہہ یاد اے کہ ٹھڈی ٹھار پلو وچ جس ویلے کھینڈو سِج وینا ایہا تے او بہوں ڈاڈھا لگنا ایہا جہڑا واقعہ ای لک تروڑ دینا ایہا۔ لک ترٹی اِچ جان بچاون واسے نسنا بھجنا پونا ایہا نالے زور نال سنگیاں کُٹنا ہونا ایہا جس نال بہوں ورزش ہونی ایہی۔
سری گڈِیرن:۔
لوہے نی سری آپڑیں جُسے نے مطابق لمبائی رکھ کے اگو سرے اتوں انگریزی "لیٹر یو” آونڑ موڑ کے دوئے سرے اتے ہتھا لا کے سری بنڑنی ایہی ۔ تے گڈیرن سریے نا ٹہیہ نما بنڑا کے یا گڈی ناں کوئی بیرنگ وغیرہ جہڑا کڑے نی شکل نا ہونا ایہا اُس نی گڈیرن بنڑا کے گلیاں تے راہواں وچ روہڑ کے بڑی چَس آنی ایہی۔ گڈیرڑاں آپےچ بِھڑینے وی ہونے ایہاں۔ جس نی گڈیرن دوئے نا ٹکرا کے بھی نئیں ڈھانی ایہی او جاکت اِس کھیڈاں نا ماسٹر مَنَا وَینا ایہا۔
بارہ گِیٹ:۔
زمین یا فرشے اُتے ہک چوگھٹا یعنی مربع شکل بنڑا کے وچ پَنجی خانے بنڑا کے بارہ گِیٹیاں (گوٹیاں) ہک بندے نیاں تے بارہ گِیٹیاں دوئے بندے نیاں رکھ کے کھیڈنے ائے آں اس کھیڈاں وچ دو ہی کھلاڑی ہونِن جہڑے انتہائی سوچ وچار نال گیٹیاں ٹُرینِن تاں جی گِیٹی دوآ ناں مارے ۔جہڑا کھڈار مدمقابل ہونا اگر اس نے کونے اِچ دُوآ اپنی گِیٹی پہنچا گِھنے تے اس ناں ہک شیر بنڑ وینا ایہا ۔جِساں کوئی گِیٹی مار نہیں سکنی ایہی اور شیرے آں صرف شیر ہی مار سکنا ایہا۔شطرنج نما ای کھیڈ بہوں زبردست ایہی۔
مٹی نی گَڈیاں:۔
مٹی نیاں گَڈیاں بنڑا کے وچ ہک سوترے ناں دھاگا پا کے ریتو اِچ چلاونڑیں نی چَس اَساں بڑی گھدی۔ اڈا سنگی روفی بہوں مہارت نال ان گڈیاں بنڑینا ایہا۔ میں بھی بنڑا گھینا ایہاں لیکن روفی نے ہتھ نی صفائی ناں ہر سنگی معترف ایہا۔ اس واسے اسی مٹی بَنھی توں اَنڑینے ہونے ایہاں جہڑی چنگی چِیکڑیں ہونی ایہی۔ گَڈی نی باڈی پہلے بنڑا کے بعد وچ مٹی نے ٹائر وی اُساں لینے ہونے ایہاں۔ اُو مٹی نی خشبو ہُن وی دل دماغ وچ وسنی۔
ساہنا ریڑھی/جھلو ریڑھا:۔
مٹی نی یا لکڑی نی ریڑھی یا ٹرالی بنڑا کے اُساں ٹائر شائر لینے ایہاں۔ اسی باہر زمیناں اِچ پھاہیاں لا کے ساہنا نپینے ایہاں۔ ساہنے نے گلے چوں سوتر پا کے لکے نال بنھ کے پچھے ریڑھی بنھ کے گلیاں اِچ چھوڑ دینے ایہاں مزے نی گل ای وے کہ جس پاسے ساہنا نسنا ایہا ۔ریڑھی نال نال نسنی بھجنی ایہی۔ اسی پچھے ہانگرے مرینے ایہاں۔ اس کھیڈاں توں کئی وار گھروں مار وی کھاہدی۔
بنٹے:۔
بنٹے ہبڑاں (سارے) جاکت کھیڈ نے ایہے بنٹے کھیڈڑیں نی کئی قِسماں وُن ۔جنہاں وچوں دو تَرَے ناں ذکر کریساں:۔
1۔ پڑی :۔
پڑی زمی اتے ہک گول دارہ مار کے وچ ہک فُٹ نی لَمی لکیر مار کے اتے بنٹے رکھینے ایہاں۔ حصہ گھنڑیں آلیاں نے ٹیخے ہکی کھڈارے نی جھولی اتے مرینے ایہاں جہڑی اس دوہاں ہتھاں نال نپی ویہی ہونی ایہی جس نا ٹیخہ جھولی نال ٹکرا کےاگے وینا ایہا۔ اس نا پہلا لمَر ہونا ایہا۔ انجے آونڑ دوہے نے وی انجے نمبر لگنِن ۔کھڈار آپڑیں لمرے تے پڑی وچ پئے وے بنٹیاں انگلی نال چٹینا ایہا اور بنٹے پڑی وِچوں باہر کڈھینا ایہا۔ جِتڑیں دیر او بنٹے کڈنا راہنا ایہا انھ چِدے او جت گھینا ایہا۔ جس ویلے اُس ناں نشانہ گُھسنا ایہا دوئے جاکتاں نی واری تاں آنی ایہی۔ تے اُنھ وی انج ہی کرینے ایہے۔ اس کھیڈاں نے دو طریقےن۔ ہک اَینٹ رکھ کے تے دُوآ اَینٹ چا کے یعنی زمین اتے انگوٹھا رکھ کے اور زمی اتوں انگوٹھا چا کے۔بنٹے جت کے کئی کھڈار گھرے نے جگ تے ڈولیاں بھر چھوڑینے ایہے۔ جہڑا جِت گھینا ایہا ہرنے آلے آں ہک بنٹا جتلیلی دینا ایہا ۔کئی کھڈار جتلیلی منگنے نے باوجود شُدَھپ کرینے ایہے تے نئیں دینے ایہے۔
2۔ تنگہ:۔
تنگہ زمین وچ ادھی انچ ڈُوہگی تے نال ہی ادھ انچ چاڑی کُھڈ کَھٹ کے بنڑینے ایہاں ۔ جس وچ واری واسے جھولی اتے بنٹے مار کے لمّر لا کے جس نی پیل آنی ایہی او تنگے وچ بنٹا سٹنے توں پہلے دوئے کھڈارے نے ٹیخے آں چُٹ کے آپڑاں چِدا انگلی نال تنگے اِچ پینا ایہا ۔ای کھیڈ اَینٹ رکھ کے نالے اَینٹ چا کے کھیڈی وینی ایہی ۔ جس کھڈارے ناں بنٹا تنگے اِچ نئیں پونا ایہا دوآ کھڈار اس نے بنٹے آں چُٹینا ایہا۔ اگر بنٹے آں بنٹا مار گھنے آ وت تنگے وچ پلا دینا ایہا۔ جھول مارنے توں بعد ٹِیخے اگر نیڑے نیڑے ڈھانے ایہے تے وت ماسٹر کِھڈار اُوآ ہونا ایہا۔ جہڑا بنٹے نے سرے اتے بنٹا انج مرینا ایہا۔ کہ اس ناں آپڑاں بنٹا تنگے نے نیڑے ونج راہنا ایہا۔ جتھوں او آسانی نال تنگے وچ پا گھینا ایہا۔ جتنے بنٹیاں نی بازی لائی وئی ہونی ایہی۔ دوئے کھڈارے کولوں چا گھینا ایہا۔ بنٹے اتوں بنٹا ٹچ کر کے تنگے نے نیڑے پہنچاونڑیں آں "کتکالاں کڈڑاں ” آکھنے ایہے۔ ساری دیہاڑ کھیڈ کھیڈ کے انگلیاں تھک وینیاں ایہاں۔
3۔ گُتھی :۔
گُتھی زمی اِچ دو انچا ڈُوگا تے دو انچ چاڑا گولائی اِچ کھڈا لا کے کھڈِینا ایہا۔ جتنے بنٹیاں نی بازی لاونڑی ہونی ایہی اتنے بنٹے مد مقابل آں دے کے تے او آپڑیں وی اتنے ہی بنٹے پا کے گُتھی وچ سٹینا ایہا جہڑے بنٹے گُتھی وچ پے وینے ایہے اُس سٹنے آلے نے ہو وینے ایہے۔ جہڑے گُتھی توں باہر ہونے ایہے انہاں کھڈار ٹیخے نال چُٹ کے یعنی نشانہ مار کے جتینا ایہا۔ جس ویلے اُس ناں نشانہ گُھسنا ایہا تاں دُوجے ناں لمر آنا ایہا دوآ کھڈار وی ایہا کاروائی کر کے بنٹے جتنے نی کوشش کرینا ایہا۔اس کھیڈاں اِچ بنٹیاں نی جائی تے سِکلے ( بیٹری سیل چوں نکلی ویہی کالی دھات) ، چھوہارے ، اکھوڑ اور دھریکاں نے دِھرکانڑو وی پونے ایہے۔
تاش:۔
تاش کھیڈڑیں واسے کم توں کم دو بندے تے زیادہ توں زیادہ چار پنج بندے لوڑ پونے ایہے ۔ اسی سگریٹ نیاں ڈبیاں نی دوئیں سیڈاں پاڑ کے تاش بنڑا گھینے ایہاں۔ اڈے ویلے اِچ ڈبیاں اتے بگلے تے رنگ رنگ نیاں چیزیاں بنڑیاں ویہاں ہونیاں ایہاں۔ جہڑیاں اساں چنگیاں لگنی ایہاں ۔ہونا اِنج ایہا ۔ جے دوہیں کِھڈار پہلے تاش آں ترتیب دے گھینے اے کھیڈ شروع کرنے توں بعد ترتیب ہلاونڑیں نی اجازت نئیں ہونی ایہی ۔ ترتیب دیونڑیں توں بعد پہلا کھڈار تاش ناں ہک پتا تھلے زِمّیِ اتے سَٹینا ایہا۔ دُوآ کِھڈار اس نے اُتے آپڑاں پتا سَٹینا ایہا ۔ہِنجے پتے سٹینے راہنے اے جس ویلے ہِکا جیا پتے اتے پتا آ وینا ایہا ۔جس کھڈارے ناں پتا ہونا ایہا او سارے تاش جت وینا ایہا۔ تے زِمّیِ آلے سارے تاش نے پتے چاہ گھینا ایہا۔ آخر چے جس کول پتے مک وینے ایہے او ہِر وینا ایہا ۔
ڈِھنگر بَھیڑ :۔
زمراتی آلے دیہاڑے پی ٹی وی اُتے ہِک اردو فیچر فلم لگنی ایہی۔ جس وچ بھیڑ شیڑ ہونا ایہا۔ فلم راتی لیٹ ختم تھینی ایہی۔ فَدری اُٹھ کے اَسی سنگی کسی درختے توں ٹیانڑ بھن کے ہِکی دوئے آں مرینے ایہاں ۔جِنج فلماں اِچ لڑائی ہونی ایہی اسی وی اُنجے بِھڑنے ایہاں۔ تے ہِکی دُوئے آں ٹہڑیں نال رُمھ رٙمھ چھوڑینے ایہاں۔ جہڑا دوآں چوں جتنا ایہا اُوآ ہیرو ہونا ایہا۔ اس کھیڈاں اِچ کئی واری ہتھاں تے جُسے اتے جٙھرِیٹاں پے وینیاں ایہاں ۔لیکن لڑائی نی چس بڑی آنی ایہی۔ کئی کمزور جنہاں اسی تھن تُرُٹ ( جس ماؤُ نا ددھ نہ پیتا ہووے ) آکھنے ایہاں۔ گھر ونج کے اُن دَسینے ایہے تے وت اَساں بَھلی مار پَونی ایہی۔ کیونکہ ما پیو گلہ برداشت نئیں کرینے ایہے۔
کوکلے :۔
کوکلے نی تاریخ بہوں پرانی ایہی مانہہ آپڑیں والد صوبیدار میجر ریٹائرڈ سید کرم حسین شاہ نقوی مرحوم اراں دسا ایہا کہ اُنھ سن 1950 نے لگ بھگ ساری سنگی کوکلے کھیڈن گراں توں باہر وینے ایہے۔ تے ای کھیڈ انہاں توں وی پہلے نی ایہی ۔اس نی وٙلگُت اِنج ایہی۔ جے پَنجاں چھیاں جاکتاں نیاں دو ٹیماں بنڑ وینیاں ایہاں ۔جہڑیاں گرائیں توں دور ونج کے طرفین نی ٹاس کرینیاں ایہاں جے لاہنا چڑھنا تے دکھن وغیرہ کَینڈے ہوسُن۔ یعنی مشرق مغرب شمال جنوب ٹاس نال کڈ کھینے ایہے۔ وت ویلہ رکھ کے کہ کوکلے نیاں لیکاں کتنے وقت وچ پانوڑیاں۔ وقت ختم ہوونڑیں توں بعد نس کے ٹاس آلی جائی اتے آ وینے ایہے۔ وت لیکاں یا کوکلے ڈھوڈڑیں ناں وقت طے کر کے تلاش شروع تھی وینی ایہی۔ جساں کوکلے وٹیاں، ٹھیکریاں یا پڑاں توں لبھ وینے ایہے او انہاں اُتے کانٹا مار دینا ایہا۔ جہڑے کوکلے نئیں ڈھوڈ سکنے ایہے دوآں ٹیماں نے امپائر گنتی کر کے لکھنے اے جس ٹیماں نے زیادہ کوکلے کانٹے تو بچ وینے ایہے او جِت وینی ایہی ہِرڑیں آلی ٹیم وت کوئی دوپرا کر کے کوئی شے جس ناں وعدہ کیتا ویہا ہونا ایہا جتڑیں آلیاں جاکتاں پکا کے کھواونڑاں پونا ایہا۔ دوپرے کھانوڑیں آلا کم ہِس کھیڈاں اِچ اڈے ویلے اِچ نئیں ہویا۔ نالے اسی گراں وچ ہی کداں شداں یا وٹے ٹھیکریاں اتے ہی کوکلے پا کے کھیڈنے رئے آں۔
کھنڈُوری :۔
کھنڈُوری بنڑاونڑیں واسے ہک چادراں یا مفلر آں چوکھے وٹ پا کے رسی آونڑ وٹ گھنینی ایہی۔ جے بہوں سخت وڈے جاکتاں واسے بنڑاونڑیں ہووے آ ۔ تے وَت وِچ گَڈاں مار کے وَٹینی ایہی۔ جہڑی چنگی پِیڈی لگنی ایہی تے لک دوہرا کر دینی ایہی۔ وت کھیڈنڑیں واسے سارے جاکت ہِک دارے اِچ اٙجھ وینے ایہے ۔ ہِک کِھڈار کھنڈوری چا کے دارے ناں چکر لینے ایہا تے نال ہی آکھنا ایہا:۔
کوکلے چھپاکی زمرات آئی اے
جہڑا اگاں پچھاں تَکیسی اُس نی شامت آئی اے
ہنجے چکر لینے آں لینے آں کٙھنڈُوری کیں جاکتے نی کَنڈی پِچھے رکھ کے پورا چکر مکمل کرینا ایہا جے اگر او نئیں اٹھا جس نے پچھے کٙھنڈُوری زِمّیِ اتے پئی ویہی ہونی ایہی ۔ اور اُساں پتہ ناں لگے آ ۔ تے چکر مکمل کرنے توں بعد کٙھنڈُوری آلا کھڈار کٙھنڈُوری چا کے زورے نال اُساں لکے اِچ مرینا ایہا ۔اگر ایٹھے وئے آں پتہ لگ ونجے آ تے او چا کے پچھے رکھنے آلے کھڈارے آں مرینا ایہا۔ ہِنج ساریاں نے پچھے کٙھنڈُوری چلنی راہنی ایہی تے جاکت مرینے راہنے اے ۔جہڑے زہنی طور تے حاضر باش جاکت ہونے ایہے اُنھ ماراں تو بچ وینے ایہے۔ تے جہڑے ڈِھلے تے گِھیچُڑ ہونے ایہے انھ کوٹِینے راہنے ایہے۔ کٙھنڈُوری کھیڈنڑیں آلے جاکت بہوں تیز ، شاطر تے تِرِکھے ہونے ایہے۔ اِس کھیڈاں اِچ گھڑی گھڑی اُٹھڑیں اٙجنڑیں نال ڈِھلُڑ تے کوچَجے جاکت وی فٹ ہو وینے ایہے۔ جِتڑیں کھڈار زیادہ ہونے ایہے دارہ وڈا بنڑنا ایہا تے کھیڈاں نی چَس ودھنی ایہی۔ نَس نَس کے پَرسیو آنا ایہا۔
پیٹُو گرم :۔
پیٹُو گرم واسے کم تو کم دو تے زیادہ تو زیادہ چھ سَت جاکت ہِکی ٹیماں اِچ ہونے ایہے ۔گھڑے،ڈَولے،ٹاساں، کُوزیاں تے بھجے وے مَٹاں نے ٹکڑے نِکے نِکے کر کے ٹھیکریاں بنڑا گھینے ایہاں ۔ چھ چھ ست ست ٹھیکریاں ہکی دوئے اُتے جوڑ کے گیند یا جالی آلا کھینو یا کھیندو مارنے واسے ہکی لائنڑاں اُتے کھلو راہنے ایہاں تے دوئی ٹیم کھیندو جَھڑَپنڑیں واسے ہِکی لائنڑاں اِچ کھل وینی ایہی جہڑی گیند جَھڑَپی وینی ایہی کِھڈارے نی واری ختم ہو وینی ایہی۔ جہڑا زور نال ٹھیکریاں چُٹ کے ڈھا گھینا ایہا کھینڈو نپڑیں آلے مارڑیں آلیاں جاکتاں جوڑن نئیں دینے ایہے بلکہ کھیندو اے نال مرینے ایہے اگر کسی آں کھیندو لگ ونجے آ۔ تے دوئی ٹیماں نی واری آ وینی ایہی اس کھیڈاں اِچ وی دوڑ دھپ بہوں کرنی پونی ایہی۔ جہڑی صحت واسے چنگی ہونی ایہی۔
بَھمِیر گھمنڑ :۔
بَھمِیر دو قِسماں نے ہو نے ایہے۔ ہک ساوے پیلے پیلے تھماں آلے تے دُوئے جسامت وچ وڈے رَتےّ بَھمِیر جنہاں نے پَر رٙتے ،سر ساوا تھماں آلا تے تھلو سینہ ساوا سنہری جیہا ہوناں ایہا نیں۔ اِنھ زیادہ بیریاں اتے اَجنے ایہے۔ تے ساوے پتر کھینے ایہے اسی انہاں ڈبیاں اِچ بند کر کے ساوے پتر پَینے ایہاں تے اِنھ وچ انڈے بھی دینے ایہے۔ اسی انہاں پراں تھلوں دھاگا کَڈ کے مَنجاں اِچ پا کے زِمّیِ اُتے ہِک کِلی نال بَنھ کے چھوڑ دینے ایہاں ۔انھ وَت اُڈنے ایہے تے دھاگے نی مناسبت نال ہک گھیرے وچ اڈنے ایہے۔ اَسی تَک تَک کے خوش تھینے ایہے آں ۔ جس ناں بَھمِیر زیادہ اُڈنا ایہا او جِت وینا ایہا ۔رَتّہ بَھمِیر بہوں سونہڑاں ہونا ایہا جہڑا لمی اُڈاری مَرینا ایہا اج کل تاں بَھمِیر نظر ای نئیں آنے۔ پتہ نئیں انہاں نی نسل مُک گئی یا ہنڑ وی ایوے۔
بنڈے نپڑیں:۔
بنڈے ہاڑے نی گرمی اِچ درختاں نے مڈھاں اِچ تے ٹیانڑاں اتے اجنے ایہے۔ تے اِتڑیں چِیکنے ایہے جے بعض دفعہ کَنّاں اِچ بُجے دیونڑے پونے ایہے۔ بنڈے نپڑیں واسے بہوں پُلا جیا ہتھ دور رکھ کے انگلیاں بنڈے دئیں ٹور کے اتے انگلی رکھ گھنینی ایہی۔ وت انہاں نال بہوں شرارتاں کرینے ایہاں مثلاٙ دوئے سنگیاں نے چولے نےگلمے اِچ پا چھوڑینے ایہاں۔ بنڈا جس ویلے چولے نیں اندر ٹُرنا ایہا جاکت گھبرا کے چولا لاہ چھوڑینا ایہا باقی سنگی تک کے ہسنے ایہے تے مذاق اڈینے ایہے۔ بنڈے آں وی دھاگا پا کے اڈینے ایہاں تے وت تھلاں چھک گھینے ایہاں۔ ای بی اڈی کھیڈ ایہی۔
لُڈو:۔
لُڈو تے اج وی کھیڈی وینی اس نا طریقہ بھی ہکا جیا ہی ہوناں۔ ہاں البتہ کوئی شرط ورط لا کے دوپرا کر گھنینا ایہا۔
ہڈی ہڈی”۔
ہڈی ہڈی بہوں دلچسپ تے چُست کھیڈ ایہی۔ اڈے گراں چار بَنھیِاں، ہِک تَلاء تے ہِک چوا ایہا۔ بابا حضرت حاجی امامؒ آلا چوا جساں اسی پِینے بھی ایہاں تے بروڑیاں نکلنے تے اس نے پانڑی ایں نال نہانے بی ایہاں۔ جس نال بروڑیاں دانڑیں تے پھنسیاں وَل ہو وَینیاں ایہاں۔ ۔ہِک قبرستاں آلی بَنھ تے دُوئی بالکل اڈے نے کول آلی روڈی بنھ تے تَلاء پیوڑیں واسے استعمال ہونا ایہا۔ جبکہ موچیاں آلی نالے میالاں آلی بَنھ نہاونڑیں دھونڑیں واسے استعمال ہونی ایہی۔
سکولو مڑ کے کم شم کر کے گرمیاں اِچ سارے سنگی رل کے بنھی تے ونج کے ہڈی ہڈی کھیڈنے ایہاں۔ بنھی اِچ ہک دوئے آں نپڑنا چُبی مار کے دوئے آں ہتھ لاونڑاں بڑا اوکھا ہونا ایہا کیوں جے دوآ جتھے پانڑی اِچ کھلا ویہا ہوناں ایہا ۔او بی چُبی مار کے اُتھوں ہٹ کے چھپ وینا ایہا۔ تیراکی نیں ماہر جاکت ای اس کھیڈاں اِچ جت وینے ایہے باقی تاں انجے گوتے کھینے راہنے اے۔
چٙھپن چھوت :۔
چٙھپن چھوت بہوں ہُگی وٙگی ویہی کھیڈ ایہی۔ جساں جاکتِیاں جاکت ہَکَلے وی تے رَل کے وی کھیڈنے ایہے۔ گلیاں اِچ سارے جاکت اکھٹے تھینے ایہے ۔تے ہک جاکت کَداں دیں منہ کر کے کھلنا ایہا تے دوئے چھپڑیں واسے نس وینے ایہے ۔ ہِک جاکت اُچی آواز دے کے آکھنا ایہا آ ونج ۔تے کَداں دیں مونہے آلا جاکت پچھاں مُڑ کے ڈُھوڈڑاں شروع کر دینا ایہا جساں ڈھوڈ گھینا ایہا۔ وت او دوئے جاکتاں سد کے پہلے آونڑ کرینے ایہے۔ یا انج بھی ہونا ایہا جے ڈھونڈڑیں آلا ساریاں جاکتاں ڈھوڈینا ایہا تے ساریاں گلیاں اِچ دھربا دھربا نی آواز آنی ایہی۔ نَس نَس کے ساریاں نی کِھپ نکل وینی ایہی۔ تھک تَرُٹ کے گھار مُڑنے ایہاں۔
پٙنج گِیٹُر :۔
پٙنج گِیٹُر زیادہ تر کُڑیاں کھیڈنیاں ایہاں اس وچ پنج گیٹے یا پنج چِدے جنہاں بنٹے بی آکھنِن استمال ہونے ایہے ۔اس نا طریقہ بی ہر گراں اِچ وکھرا وکھرا ایہا۔ اڈے گراں اِچ جاکتِیاں دوآں ہتھاں استمال کرینِیاں ایہاں ہِکی ہتھے نی شہادت آلی انگلی تے انگوٹھا زِمّیِ اُتے ٹیک دوِینا ایہا تے وِچوں وِتھ رَکھ کے دُوئے ہتھے نال پٙنج گِیٹُر زِمّیِ تے سٹ دینیاں ایہاں۔ ہِک گیٹا ہواو اِچ اِچھال کے دوئے زِمّیِ آلے آں فٹو فٹ دُوئے ہتھے تھوں لگاونڑیں پونے ایہے ۔نالے ہواو آلا گیٹا جَھڑَپڑاں پَونا ایہا۔ ہِنج واری واری سارے گیٹے زِمّیِ آلے ہتھے تھلوں گڈڑیں پونے ایہے۔ اگر ہواو آلا گیٹا تھلے ڈھے پوے آ اور نہ جَھڑَپِیوے آ تے دوئی کُڑی نی واری آ وینی ایہی۔
کُکڑاں ناں بھیڑ:۔
کُکڑ بھیڑے واسے وی لوگ رکھینے ایہے۔ جنہاں چوں اصیل کُکڑ وڈیاں چھڑاں آلے بہوں تَکڑے تے ڈاہڈے ہونے ایہے ۔کولَنگی نسل وی گزارے لائق ول ہی ہونی ایہی۔لوگ ککڑ چُگڑیں واسے گھروں باہر کَڈ چھوڑینے ایہے ۔تے اسی جاکت جس ویلے تک گھینے ایہاں۔ تے اُنہاں آپےاِچ بھڑا دینے ایہاں۔ جہڑا نَس وینا ایہا اس تے ہانگرے لگ وینے ایہے۔ کُکڑاں نی لڑائی اِچ سر پاٹ وینے ایہے ۔وَت وی اُنھ لڑائی چھوڑ کے نئیں نسنے ایہے ۔جس ناں کُکڑ زخمی تھی وینا ایہا اُساں تیل یا گھیو ساڑ کے زخماں اُتے لینے ایہاں تاں کجھ عرصے توں بعد او ول ہو وینا ایہا۔
پاکڑ وٹے:۔
گِراں توں باہر پاکڑ وٹے آسانی نال مل وینے ایہے۔کیونکہ اڈے گراں پٙڑ بی ایہے۔ ہک ہک وٹا چُنڑ کے انہاں آپس وچ بھڑا دینے ایہاں ۔جس نی پہلے واری ہونی ایہی او اس وقت تک وٹے آں وٹا مرینا راہنا ایہا جس وقتے تک اس ناں نشانڑاں گُھس نیں وینا ایہا۔ تاں وت دوئے نی واری ہونی ایہی۔ دیگری توں بعد وٹے بھڑینیاں بھڑینیاں دیہوں لہہ وینا ایہا۔ شامی وٹا تے وٹا لگنا ایہا تے وچوں اگی نے شعلے نکلنے ایہے۔ جہڑا اساں بہوں چنگا لگنا ایہا۔ ہکی دوئے نیں وٹے بھن کے سُکھ آنا ایہا۔ اس کھیڈاں اِچ ماؤُ پیُو نی پابندی بی ہونی ایہی کیوں جے وٹے نے چھوڈے بعض دفعہ اکھی اِچ لگ ونجنے ناں ڈر بی ہونا ایہا۔ لیکن جاکت کدن باز آنِن۔
تیر اندازی:۔
دھاگے آلی نلکی نے ہک پاسے سائیکلاں نے ٹَیرے آلی ٹُوپَاں نی ربڑ کَتر کے چنگا پِیڈا بَنھ کے کمان بنڑینے ایہاں ۔تیر سرُوٹاں نے ٹانڈے کپ کے فُٹ ڈیڈھ فُٹے ناں بنڑناں ایہا۔ اس نی ہِک نوکاں اتے سڑکاں بنڑاوڑیں آلی لُکاں نا ہِک مکئی نیں دانڑیں جتنا گولا لا دینے ایہاں ۔اساں ہواو اِچ وگینے ایہاں تے بھلا اُچا وینا ایہا۔ نشانہ پکاونڑیں واسے اس نے اگے لُکاں اُتے سُوئی یا کِکرے ناں وڈا کنڈا لا گِھینے ایہاں ۔کَچیاں کَدھاں یا درختاں اتے نشان لا کے مرینے ایہاں ۔تیر نشانے اتے لگ کے جس جاکتے ناں وی کُھب وینا ایہا او ماسٹر منا وینا ایہا۔ اس تیرے نال محلے نیاں درختاں توں دَھبُوکاں نِیاں کَھکھراں ڈھا کے وِچوں چینی کڈ کے کھینے ایہاں۔ تے کئی واری گھار منہ سُجے وے گِھن کےوینے ایہاں تے اماں نی وی کُٹ کھینے ایہاں۔ کیونکہ سکول سُجے وے مونہے نال کور وینا ایہا۔
گُلیل :۔
گلیلاں نی کھیڈ اج وی جاکت گرانواں اِچ کھیڈنِن۔ گلیلاں نال پہلے نشانہ پکینے ایہاں وت چڑیاں،گُھگھیاں،گیلڑے،بُلبُلاں تے لالڑیاں نی شامت ہونی ایہی حلال پرندے یعنی گُھگھیاں تے گیلڑے نالے کالے کالے تِلیر مار کے ذبح کر کے گھر وی پکینے ایہاں تے باہر سنگیاں نال دوپرے وے کرینے ایہاں۔ بالکل چڑی ایڈی ہِک راول طوطی ساوے رنگے نی ہونی ایہی جہڑی زیادہ تر بجلی نے تاراں اُتے اَجنی ایہی۔ اُس تے نشانہ مار کے بڑی چس آنی ایہی کیونکہ ہک واری نشانہ گُھس وی ونجے آ ۔ تے او اڈنی نئیں ایہی بلکہ جدھر گیٹا لگنا ایہا ادھر تکن لگ پونی ایہی یا تھوڑا جیہا اُڈ کے وت اُتھے ای اَج راہنی ایہی۔
زیادہ جٙھکُڑ جُھلے آ تے نال اگر طُفان وی آوے آ تے وت شکار کرنے نی چس آ وینی ایہی کیونکہ تیز بارشاں اِچ پکھیرُو درختاں اِچ چھپ کے اج وینِن۔ انہاں گلیلاں نال اڈاو تے اُنھ اُڈنِن تے انہاں نیں پر مینہے اِچ سج وینِن تے اُنھ ڈھے پونِن ۔ تیز بارشاں اِچ انہاں نپڑاں بہوں سوکھا ہو وینا ایہا۔
دانداں نی دوڑ:۔
اڈیاں ِگرانواں اِچ ہُن وی میلے شیلے لگنِن تے انہاں اِچ دانداں نی دوڑ وچ جوان جاکت حصہ گھینِن ۔ جہڑا داند جت ونجے اُساں اِنام بی ملنا تے لوگ بھنگڑا وی پینِن۔
تختی دواتاں نی لڑائی :۔
مانہہ اج وی یاد اے جے تختیاں بِھڑا کے دو ٹوٹے کرا گِھینے ایہاں۔ جِنہاں جاکتاں گِراں نیاں لوہاراں کولوں تختیاں بنڑوائیاں ویاں ہونیاں ایہاں۔ اُنھ بہوں پیڈیاں ہونیاں ایہاں تختی اتے تختی مار کے بھن دینے ایہے۔ بزارے آلی تختی گھن کے سیڈاں تے ٹینے نی پتری ہر کوئی اسے واسے لینا ایہا جے جلدی ناں بجھے ترٹے۔ اڈی تاں ای کھیڈ ایہی پر ما پیو سخت ناراض تھینا ایہا۔ کیونکہ انہاں ویلیاں اِچ بہوں غریبی ایہی۔ کور روز گِھن سکنا ایہا۔
بالکل انجے ای دواتاں نی بی لڑائی ہونی ایہی ۔عموما تِبت کریماں آلی شیشی یا ڈالر شاہی آلی شیشی اِچ کپڑے نے بُڑے رکھ کے وچ موچیا رنگ تے پانڑِیں پا کے شاہی بنڑنی ایہی۔ دواتاں فرشے تے رکھ کے ہکی دوئے نال ٹکرا کے بھن دینے ایہاں۔ جس نی دوات بچ وینی ایہی او جِت وینا ایہا۔
تھباکی :۔
سکول ٹاٹاں اُتے اَجھ کے پڑھنے ایہاں پنج جماتاں نیں سکول وچ دو ماسٹر ہونے ایہے۔ جس دیہاڑے ہک چھٹی تے ہونا ایہا اس دیہاڑے اڈیاں موجاں تکڑیں آلیاں ہونیاں ایہاں ۔ سکول نا کُھلا میدان جاکتاں نال بھرا ویا ہوناں ایہا۔ ماسٹر اری جس ویلے آپڑیں اردگرد جاکت کھلے کرینے ایہے انہاں جاکتاں اِچ آپ چھپ وینے ایہے۔ تے اڈی کھیڈ اکھیاں بچا کے شروع تھی وینی ایہی ۔کلاساں نیں سرے اتے جہڑا جاکت ایٹھا ویا ہونا ایہا او آپڑیں نال آکے جاکتے آں ہک زور نال مُکا مار دینا ایہا۔ یا چُونڈی پا دینا ایہا۔ اگلا جاکت بغیر احتجاج نے اگلے آں مُکا ٹھوک دینا ایہا۔ تے ای سلسلہ آخری جاکتے تک وینا ایہا۔ بعض دفعہ سخت مُکا لگنے تے جاکتاں نی ہائے نکل وینی ایہی۔ جہڑی ماسٹر سُنڑ گھینا ایہا ۔تفتیش اتے سارے چپ کر وینے اے تے ساریاں جاکتاں ماسٹر اری کَن نَپا دینے ایہے۔ اتوں تُوتے نی چِھمُک وسا دینے ایہے۔ اسی سی سی کر کے ہسنے ایہاں جہڑا دھباکی نی شَکیت لینا ایہا چھٹی تے سارے جاکت اساں کُٹینے بی ایہے ۔نالے کَھچاں بی مرینے ایہے۔ زِمداراں نے جاکت تاں مُکے نال ساہ کڈ گھینے ایہے۔ لیکن اڈے ہتھ وی ایڈے کچے نئیں ایہے۔ عموما کمزور جاکت گھر ونج کے شکیت لا دینے ایہے دوئے دیہاڑے اس نی ما یا پیو سکول ماسٹر اگے شکیت واسے آنے ایہے وت دوبارے کَن نپڑیں پونے ایہے۔ لیکن مُکا مارنے تے مُکا جَھلڑیں نی چَس بڑی آنی ایہی۔ اِس کھیڈاں جوانمردی سمجھا وینا ایہا۔
ڈھذے:۔
ڈَھزہ لوہے نے ہِک نَٹے اِچ چھیگ کرا کے نَٹے آں ہِک سری نال ویلڈ کرا کے وِچ ہِک میکھ یا کِل لا کے بنڑینے ایہاں ۔ کِل نال ہِک رسی یا مضبوط تار لوا کے سری نال وَل دَوِینی ایہی۔ اس نے چھیگے اِچ گندرس پٹاس یا تِیلیِاں نالوں رنگ لاہ کے پا دینے ایہاں ۔اتے کِل چاڑ کے تاراں فُل ٹَیٹ کر کے وَل دے کے کسی پکی کَداں فرشے وٹے یا اِٹاں اُتے زور نال مرینے ایہاں ۔تے زور نال دھماکا ہونا ایہا تے اڈیاں دوڑاں لگ وینیاں ایہاں۔ کیوں جے جتھے ڈَھزہ لگنا ایہا۔ اُنھ گھر آلے باہر آ کے بِزتی کرینے ایہے نالے مرینے ایہے۔ اس واسے پیرے نیں تیز جاکت بہوں کامیاب ہونے ایہے۔
مانہہ یاد اے کی اسی ماِچساں ناں درجن درجن گِھن کے شبراتی آلی رات گرائیں توں باہر پڑاں اتے اجھ کے ڈھذے مرینے ایہاں ۔جس ناں آواز اُچا ہونا ایہا اُوہا جاکت کامیاب ہونا ایہا ۔راتی چائے، تے ساوے قہوے ناں وی بندوبست ہونا ایہا۔ شٙمشُرلی، ڈَھذے تے کھیندوآں اتے مٹی نال تیل پا کے نالے اگ لا کے شبراتی آلی راتی ہواو اِچ وگینے ایہاں۔ سارے سنگی راتی ہانگرے مرینے ایہے۔ تے مزے گھینے ایہے ۔ساری ساری رات دھماکیاں نی آواز کولوں گِدڑ ، لومڑ تے پَگھیاڑ وی ڈر کے دو ترے دیہاڑے گراں اِچ نیں وڑنے ایہے۔ ڈَھذے گرانواں اِچ ہن وی کدرے کدرے جاکت مرینِن۔ تے لوکاں ناں تراہ کڈھینِن۔ لیکن بہوں گھٹ ان کیونکہ آبادیاں ودھ گیاں تے لوگ وی چڑچڑے تھی گئے ان۔
نیزہ بازی:۔
نیزہ بازی امیراں نی کھیڈ ایہی۔ جہڑی گھوڑیاں اتے چَڑ کے گھوڑے نَسا کے کِلہ پٹڑاں پونا ایہا جس وچ ملک عطا خاں کُھنڈے گِراں آلا پوری دنیا تے مشہور ایہا۔ تے دُوآ نیزہ اپڑیں موڈھے تے رکھ کے نسنا پونا ایہا تے کجھ فاصلے توں سامنے زور نال وگاونڑاں ہونا ایہا جہڑا سکولاں اِچ سکھایا وینا ایہا۔ اڈے پنڈیگھیب نے ہائی سکوں وچ نیزہ بازی نی پریکٹس وچ ہک ڈُھلیاں نا جاکت نیزہ جَھڑَپ گِھینا ایہا ۔ہک دیہاڑے ہکی جاکتے نیزہ زور نال وگایا تے ڈُھلیاں نے جاکتے جھڑپڑاں کیتا تے نیزہ اس نے ہتھے چوں سلپ ہویا تے اس نی منجاں اِچ لگ کے دُوئے پلو نکل گیا اس نال اُو جاکت مر گیا ۔او نیزہ ہن وی پنڈی گھیب سکول وچ پیا وے۔ جس اُتے اس غریبے ناں خون لگا پیا۔ اس واقعے توں بعد والدین نے بچیاں تے نیزہ بازی کھیڈڑیں نی پابندی لا دتی ایہی۔
چار کانی:۔
چار کانی کھیڈ سرُوٹاں نے کانیاں نی بنڑنی ایہی۔ ہک گِٹھ لمے کانے آں وچوں چیر کے دو بنڑا گھنینے ایہاں۔ اِنج ہِک ہور کانا چِیر کے ٹوٹل چار کانے بنڑ وینے ایہے۔ ان چار کانے زِمّیِ اُتے سَٹینے ایہاں۔ جنہاں نیاں زِمّیِ اُتے مختلف شکلاں بنڑ وینیاں ایہاں ۔کُجھ کانے دُوئے کانیاں اتے چٙڑ وینے ایہے تے کجھ کانے اگوں تنگ تے پِچھوں کُھلے زِمّیِ اُتے ڈھانے ایہے ۔کجھ کانے بالکل برابر ڈھانے ایہے۔ اِنھ شکلاں ہی مختلف نمبر شو کرینیاں ایہاں۔ دو بندے اساں کھیڈنے ایہے۔ تے ای کھیڈ نِکیاں وڈیاں وچ بہوں مقبول ایہی۔
ایجیاں ہور وی کئی کھیڈاں اِوّن پر ہُن اتنیاں ہی کافی ن۔ کیونکہ مضمون بہوں لماں تھی گیا۔ اِنہاں کھیڈاں اِچ ہر علاقے نی مٹی ناں فرق بی ہونا۔ ہر گرائیں ناں تھوڑا بوہتا فرق کوئی مسئلہ نہیں اے۔ صرف ہیجے مضموناں اُتے بہوں گھٹ لکھا وینا جہڑا آنڑیں آلی نسل واسے کئی تحقیق نے راہ کُھلیسی۔