Blog

  • جمہوریت کی زلف گرہ گیر اور پانچواں درویش

    تحریر: ارشاد علی

    جمہوریت کی زلف گرہ گیر کے بد نصیب اسیروں نے جو خواب دیکھے ان کی اجاڑ بیاباں تعبیروں کے سوا ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں ہے۔ آتش انتظار نے ان کی رت جگوں کی ماری آنکھوں کو لال انگارہ کر دیا ہے بہ ظاہر یہ انگارے بے بسی کی علامت ہیں مگر اندیشہ ہائے دورو دراز کہے دیتے ہیں کہ جلد یا بہ دیر یہ بغاوت کا استعارہ بھی بن سکتے ہیں خواب دیکھنا تو ہر خطہ کے ہر بشر کا حق ہے لیکن خواب کی تعبیر پر غول بیاباں کا سایہ پڑ جائے گا یہ صرف ہم تہی دستوں کے لیے "توشہ ء خاص”ہے ناآسودگی کے لق ودق صحرا میں آبلہ پا مسافروں کو آسودگی کے نخلستاں ملا کرتے ہیں یہ محض دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ کے سوا کچھ نہیں کہ حزب اقتدار کو اپنی حیرت آگیں کامیابی راس نہیں آرہی اور وہ حزب اختلاف کا چولا بدلنے کی آرزو سے تہی داماں بھی ہے پرچی کے فسوں سے اپنی تقدیر بدلنے کے آرزو مندوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور اگر زندہ رہنے کے واسطے خاک میسر آسکتی ہے تو اسے پکانے کے لیے آگ کی تلاش میں ہلکان ہوتے پھر رہے ہیںڈری سہمی بستی پر جانے کس آسیب کا سایہ ہے کہ ایک پاوں آگے کو تو دس پیچھے پڑتے ہیں نتیجہ معلوم ماضی شرمندہ، حال بے حال اور مستقبل تمنائی کے سوا کچھ بھی نہیں قوم کا جسد واحد دکھ میں مبتلا ہے اور مصیبت میں تن کی جوئیں بھی ساتھ چھوڑا چاہتی ہیں پانچویں درویش کا کہنا ہے کہ یہی حال رہا تو اتحادیوں پر ہی کیا موقوف،جمہوریت کے شبستانوں میں ڈھلنے ولوں کے مزاروں پر چراغاں کی تمنا بھی کسی کی کسبت سے نہ نکل پائے گی۔یہ دیکھ کر دیدے ڈھلتے جا رہے ہیں کہ ایوانوں میں قانون سازی کے لیے منتخب ہو کر آنے والے اپنی جماعت اور حلقہ کے ہمنواوں کے اعلی عہدوں پر تقرر اور بے وسیلہ لوگوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے فرصت ہی حاصل نہیں کر پا رہے اور اوہر سے رشوت سفارش کا انکار، قانون کی عملداری اور غیر جانب داری کے نعرہ ہائے عجب کہ جن پر اپنے تو کیا بے گانے بھی زیر لب تبسم سے دو دھاری تلوار کا کام لے رہے ہیں۔ ادھر اپنی ہی صورت کے بگاڑ پر زمام اقتدار تھامنے والوں کو نگاہ درماں کی توفیق ہی نہیں۔سابقہ ادوار کو پار کرنے والوں کو کیا معلوم تھا کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا جو انہیں دست و پا کر کے رکھ دے گا۔آگ بگولہ صحرا کے بھٹکے ہوئے مسافروں کو ایک لمبی اور تھکا دینے والی مسافت کے بعد دکھائی پڑ رہا ہے کہ وہ گھوم پھر کر ادھر ہی آ نکلے ہیں جہاں سے سفر آغاز کیا تھا ان کے معصوم بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں بوڑھے بیمار دوائی کے لیے اور جوان روشنائی کی خاطر تڑپ رہے ہیں روزگار کے خواب تو تعبیر آشنا ہونے سے رہے پہلے سے میسر رزق بھی بند مٹھی سے ریت کی طرح سرک رہا ہے ان وحشت زدگاں کی دارو کسی طبیب کے ہاتھ میں ہے کون روشن دماغ سوچے گا کہ چہارسو خود غرضی کے اندھیروں کا راج ہے دھوپ کی تمازت میں موم کے مکانوں میں بلکتے حرماں نصیبوں کے سروں پر شیشوں کے سائباں ڈالنے کے اتائی بہت ہیں مگر مسیحا کوئی نہیں۔ لاکھوں نوکریاں،روزگار کی فراوانی، وظائف ،گھروں کی تعمیر، سستا انصاف ، محمود و ایاز کی یک جائی، ایک نصاب ،خواب در خواب کا یہ سفر بڑا ہی تھکا دینے والا ہے ۔اس خواب کی تعبیر میں غلطاں گھبرا کے مرنا چاہتے ہیں مگر مرنے کے بعد بھی چین نہ ملنے کے خوف سے ہراساں اس سنگ آستاں کی تلاش میں ہیں جو ان کے لیے شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتا ہےفریادی دہائی دے رے ہیں مگر محل نشیں کو اونچا سنائی دیتا ہے شہر سنسان میں بھٹکنے والوں کا خاک ہو کر بکھر جانا ہی مقدر ٹھہرا ہے جمہوریت کی رات اندھیری ہے اور پرچی کا فسوں ماننے والوں کو کنارا بہت ہی دور محسوس ہو رہا تھا ادھر سیاست کے ابر آلود مطلع نے جمہوریت کے ثمرات کے چاند کو گہنا دیا ہے وہ چاند جس کے نکلنے پر مایوسی کے دریا میں ڈوبتے ، حق رائے دہی کے حامل پار اتر سکیں۔ اندھیری رات میں ٹھاٹھیں مارتے دریا کی گھمن گھیری میں پھنسنے والوں کا حال،آسودگان ساحل کہاں جان سکتے ہیں۔عصر حاضر کے بطلیموس کو اپنے رائے دہندگان کی آسودگی کا نسخہ جاننا پڑے گا ورنہ جسد اقتدار کا ناسور جان لیوا اور بادشاہی کا خواب نوشین ٹوٹ کر بکھر جانے کا احتمال ہے۔اس لیے اپنے سورتنوں کو خوش کرنے کے بجائے بیس کروڑ عوام کے دکھوں کا ازالہ ضروری ہے ورنہ انجام نوشتہ ء دیوار ہے۔

    Irshad Alii

    رائیٹر: ارشاد علی

    فون نمبر۔03005607303

    بہ مقام شکردرہ تحصیل و ضلع اٹک

  • 27 دسمبر 2007 ایک کرب ناک دن

    از قلم رضاسیّد

    آج سے تیرہ برس قبل اسی دن کی صبح بہت روشن اور سرد تھی کون جانتا تھا آج شہید بھٹو کی دختر سفر شہادت پر گامزن ہوجائے گی اپنے بابا جان کے تختہ دار پر جھول جانے کے بعد جلاوطنی اور پھر وطن واپسی پر انتہائی سخت سیاسی جہدوجہد بے نظیر بھٹو کو امر کرگئی ۔
    سیاسی انتقام اور جمہوری روایات کی بحالی کے لیے اس پر عزم اور دلیر لیڈر کی تحریک دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اپنے شہید والد کے بعد اس عظیم خاتون لیڈر نے دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا جس کو دنیائے سیاست میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے ۔
    اپنی سیاسی زندگی میں بطور خاتون اپنے حریف سیاسی زعماء کی جانب سے ہتک آمیز سیاست اور اخلاق باختہ رویوں کو برداشت کیا مگر اپنے عزم اور مقصد سے پیچھے نا ہٹی۔ شوہر کے پابند سلاسل ہونے کے بعد کئی سال اکیلے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی اور بہترین لیڈر ہونے کے ساتھ ایک مثالی ماں بھی ثابت ہوئی ۔
    لیاقت باغ ستائیس دسمبر کوایک اورآفتاب سیاست غروب ہوگیا وہ دن پوری پاکستانی قوم کے لیے کربناک دن تھا وہ دن جب خیبر تا کراچی پوری قوم روئی ہر ایک نے اپنے صحن میں بے جرم قتل محسوس کیا ۔ یہ اعزاز بھٹو اور بھٹو کی بیٹی کو رہا کہ سیاست میں اصول و جہدوجہد پر جان قربان کی مگر سر نگوں نا ہوئے ۔تاہم انکی نظریاتی سیاست انہی کے ساتھ دفن ہوگئی جو اس قوم کا حقیقی نقصان ثابت ہوا ۔
    اللہ تعالیٰ بحق سید الشھداء ع بے نظیر بھٹو شہید اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

    رضا سیّد
  • اگر فریج درست کام نہیں کر رہا تو کیا کریں ؟

    اگر فریج درست کام نہیں کر رہا تو کیا کریں ؟

    اگر فریج درست کام نہیں کر رہا تو کیا کریں ؟

    جب آپ محسوس کریں کہ آپ کا ریفریجریٹر پراپر کام نہیں کر رہا تو اس کی مندرجہ ذیل کام کریں۔ اپ کو اس کا پتا چل جائے گا کہ آپ کے ریفریجریٹر میں کیا پرابلم ہے۔

    1۔ سب سے پہلے یہ دیکھیں کا آپ کا ریفریجریٹر آن بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر وہ آن نیہں ہو رہا تو یہ چیک کریں کہ جس بورڈ میں اس کا سوئچ لگا ہوا ہے اس میں الیکٹرک سٹی بھی آرہی ہے یا نہیں۔

    2۔اگر اس میں الیکٹرک سٹی موجود ہے تو آپ کا ریفریجریٹر آن نہیں ہو رہا تو پھر آپ یہ چیک کریں کہ ریفریجریٹر کی مین وائر ٹھیک ہے یا نہیں۔ وہ وائر الیکٹرک سٹی پاس بھی کر رہی ہے یا نہیں۔

    3۔اگر الیکٹرک سٹی پاس ہو رہی ہے تو اس کا کمپریسر آن ہے یا نہیں۔

    اگر اس کا کمپریسر آن ہے تو اور کولنگ نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے ریفریجیٹر میں گیس نہیں ہے یا کم ہے۔

    4۔اور اگر آپ کی ریفریجریٹر کا کمپریسر آن نہیں ہورہا تو اس کی سٹارنگ ریلے یا اوور لوڈ ٹھیک نہیں ہے۔

    5۔یا اس کی تھرموسٹیٹ خراب ہے۔

    یہ تمام معلومات کرنے کے بعد اپنے میکینک سے رابطہ کریں

    Top Cool
    ٹاپ کول ریفریجرشن انجینیئرز
  • قائد اعظم

    قائد اعظم

     احسان ترا بھول نہ پائیں گے کبھی ہم , اے قائد اعظم

    تو نے ہمیں اک ارض وطن کا دیا پرچم , اے قائد اعظم

    اس ارض پہ کیا صورتیں قربان ہوئی ہیں ,شعلوں میں جلی ہیں

    اس ارض کے کنکر ہیں مرے واسطے نیلم , اے قائد اعظم

    یہ ارض تری جانفشانی کا ثمر ہے, نایاب نگر ہے

    اس ارض پہ اللہ کے انگنت ہیں انعم , اے قائد اعظم

    ہر وادی میں اس کی بڑی مسرور فضائیں , جو دل کو لبھائیں

    بہتے ہوئے دریاوں کا مسحور ترنم , اے قائد اعظم

    کشمیر میں زہریلی ہوا ایسی چلی ہے , ہر شاخ جلی ہے

    خوشیوں سے چہکتے ہوئے گھر بن گئے ماتم , اے قائد اعظم

    تو نے تو اسے امن کا گہوارہ بنایا , خوشبو میں بسایا

    غنچوں کو دیا تھا نیا انداز تبسم,  اے قائد اعظم

    ہم نے ترے گہوارے کے ہر پیڑ کو چھانٹا , پھر حصوں میں بانٹا

    اقرار ہے مجرم ترے افکار کے بھی ہم , اے قائد اعظم

    وہ نوٹ کہ جن پر تری تصویر بنی ہے , خاموش کھڑی ہے

    جیسے کہ تیری روح بھی ہم سے ہوئی برہم , اے قائداعظم

    ہر شخص ترے ملک کو کھانے پہ تلا ہے , ان داتا بنا ہے

    ہے کون جو اس ارض کے لٹنے کا کرے غم , اے قائد اعظم

    اب تو یہی اللہ سے  ہر روز دعا ہے , جو بار الہ ہے

    اس گھر کے دروبام کو رکھے سدا قائم , اے قائد اعظم

    ممکن ہے تری روح کو تسکین ملے گی , ہر آس بندھے گی

    ہر فرد اگر تھام لے گرتا ہوا پرچم ,اے قائد اعظم

    سعادت حسن آس آف اٹک

  • رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا

    رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا

    رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا

    دم الجھتا کارواں، فخرِ جہاں تو نے کیا

    بت پرستوں نے ہماری زندگی کو ڈس لیا

    تھی اجیرن زندگی ، زیر عِناں تو نے کیا

    بربریت کی فضا میں گُھٹ رہی تھی زندگی

    لا الہ کی موج سے سیلِ رواں تو نے کیا

    جب جہاں میں بے نشاں تھی امتِ فخرِ رسل

    نظریہ اجداد کا سب پر عیاں تو نے کیا

    زندگی کو ریشمی دے کر تبسم کی ادا

    ولولہ سب کے دلوں میں پھر جواں تو نے کیا

    دم بخود تھی زندگی جس میں نہیں تھی نغمگی

    زمزمے "حبدار” دے کر پھر رواں تو نے کیا

    سید حبدار قائم آف غریبوال اٹک

  • بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے حضور

    بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے حضور

    دشمنوں کو دی شکست حوصلے تدبیر سے
    تو نے جیتا ملک یہ عزم کی شمشیر سے
    تھا تدبر کا دھنی تو ،غنی تھا فہم میں
    روشنی لی ہم نے تیری سوچ کی تنویر سے
    کام اور کام بس یہ ضابطہ تھا روز کا
    اورتھی نفرت اُنھیں جھوٹ سے،تشہیر سے
    کیا خبر اب نسلِ نو کو تازگی ملنے لگے
    فوقِ تدبر کی مِثال عزم کے شِہتیر سے
    ہم میں تھا تو جب تلک تو رہنما تھا قوم کا
    پیار ہے ہر دل میں اب تیری ہی تصویر سے
    قوم کو ہے والہانہ ،عشق اے قائد میرے
    تیری ہر تحریر سے تیری ہر تقریر سے
    سوچ تیری ہے راہنما، ہر قدم ہر گھڑی
    کرنی ہے تعمیرِ وطن تیرے افکار کی توقیر سے
    شاعر-عمران اسدؔ

  • قائد ہم شرمندہ ہیں

    قائد ہم شرمندہ ہیں

    آج 25 دسمبر ہے , آج غُلامی کی شبِ تاریک کو صُبحِ آزادی کے انوار سے ہمکنار کرنے والے , ایک پراگندہ قوم کو بُنیَانُُ مَّرصُوص بنا کر اعدائے دین سے لڑانے والے , خیبر کی پہاڑیوں سے راج کُماری کی خلیجوں تک حق کا پرچم اُڑانے والے , اور شب گزیدوں کو پیغامِ سحر عطا کرنے والے , اور بنجر زمینوں میں پھول اُگا کر اُن کی خُوشبو سے مشامِ جاں کو معطر کرنے والے    قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش ہے ,,,,,,,, ابھی ابھی محترم افتخار عارف صاحب کا یہ دُکھ بھرا شعر پڑھا

        تُو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے

         ایسی بدلی تیرے کوچے کی فضا تیرے بعد

    اس شعر کو پڑھتے ہی قلم چل نکلا اور دل کے پھپھولے پھٹ پڑے ,,,,, ہر ایک قائد کا پاکستان بنانے کا دعویدار ہو کر بگاڑ کامُوجب بن رہا ہے

    قائد ہم شرمندہ ہیں

    قائد کے ملک پر گُفتار کے غازی قابض ہیں ,  یہاں سیاست منافقانہ ہے , معاشرت ہندوانہ ہے , یہاں تہذیب فرنگیانہ ہے , ہمارے علاوہ ہر دوسرے کی سوچ کافرانہ ہے ,

    اے قائد الفاظ شرمندہ ہیں کہ آپ کو کیسے , کیوں , اور کس مُنہ سے , مبارکباد دیں , ہم نے آپ کا وہ فرمان بھی بُھلا دیا ,,, ایمان ,,, اتحاد ,,, تنظیم ,,, آج اے قائد آپ کا پاکستان , علاقائی , لسانی , مسلکی , عصبیتوں کی آگ میں جل رہا ہے , ملتِ بیضاء کی عظمتوں کے امین اور رسولِ ھاشمیﷺ کے جانشین ممبر و محراب سے فرقہ پرستی کے گولے برسا رہے ہیں , زہریلے بیج بو رہے ہیں ,

    کیا کل یہی کچھ نہ کاٹیں گے جو کچھ آج بو رہے ہیں ؟

    monis raza

    مونس رضا

  • پنڈی گھیب کے آثار قدیمہ

    پنڈی گھیب کے آثار قدیمہ

    ضلع اٹک میں تحصیل پنڈی گھیپ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آج کے مضمون میں اس تحصیل کی تاریخی اہمیت پر کچھ نکات بیان کئے جایئں گے۔ پنڈی گھیب کی طرف "دو میل” اور "ڈھوک پٹھان” جانے والی سٹرک سے  تین چار میل کے فاصلے پر ایک چھو ٹی جھیل ھے۔ یہ ریتلے پتھروں کی سطع مرتفع پر بنی  ہوئی ھے ۔اس کی ڈھلانوں پر سنہری پتھروں میں چھپے ہوے آلات ملتے ہیں- جن میں چاقو،چھریاں ،سکریپر(جن کے دونوں سرے اور اطراف تیز تھیں-)مکمل حالت میں کلُؒہاڑیاں اور روز مرہ کے استمال ہونے والے آلات تھے-ان میں آخری ہتھیار ایک رسی سے بندھا ہواملا-اور ان پر موسمی اثرات کے نشان بھی کم تھے-بناوٹ میں یہ فرانس کے شہرMousti_middle_le”( یہ نام اس لۓ دیا گیا تھا کہ آثار قدیمہ تین حصوں میں دریافت ہوے تھے) کے ان آثار قدیمہ کے مُشابہ تھےجو کہ 40 ہزار سال پُرانے ہیں-اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پتھروں سے بنے ایسے اوزار پنجاب میں اور کہیں نہیں ملتے-کچھ آلات کے نمونے اور تفصیل درج ذیل ہے

     "چپٹے چاقو” ہلکے بھورے رنگ کے تھے۔جس کے تیز حصّے سرخی مائل سلیٹی رنگ کے تھےبائیں کنارے کی تہہ کو اُتار کر تیز کیا جاتا اور پھر چاروں طرف سے تراشا جاتا تھا کہ پچھلی طرف ایک اُبھری جگہ پکڑنے کے لیے ہوتی تھی-

    "پتلی گول پلیٹ یا پترا” بھورے مائل سلیٹی رنگ کی ایک پلیٹ جو چاروں طرف سے تیز ہوتی تھی جہاں اس کا رنگ سنہرا ہو جاتا یہ بلکل اُن کی مشابہ تھی جو مدارس کے صدر مقام سے ملے تھے۔

    سروں اور اطراف والے تھے (End & side scrapper)

    سنہری پتھروں سے بنے بھورے رنگ کےحامل یہ پترے چاروں اطراف سے چپٹے کیے ہوتے تھے- جس سے لمبی ہتھوڑے کی شکل بنتی تھی۔

     ( نا مکمل کلہاڑی) رنگ میں سفیدی مائل پیلے رنگ "3٭2/1” چوڑی، سنہرے پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔ اس کی ایک طرف مکمل چپٹیی ہوتی تھی اور دوسرے کناروں کو تیز کیا جاتا تھا۔

    Flaked Scrapper چپٹے پترے

    شکل میں لمبے اور بناوٹ کے لحاظ سے سنہری پتھروں سے بنے ہوئے تھے۔ اِن کے تین بڑے پترے تھے۔  جو پتھر کی اُوپری سطح سے گھڑے گئے تھے۔ اِس طرح کنارے گول تراشے گئے تھے اور سلیٹی مائل سفید تھے۔ اور اِن کی ناک پر جلد تھی۔ اس ضلع کے باسی آریاؤں کے بعد "ٹکے” تھے۔وہ دوسری صدی قبل مسیح کے وسط میں یہاں آئے تھے۔ سندھ اور جہلم کے درمیان کا علاقہ  (Summa)کہلاتا ہے جو تیموری خاندان کے "Anavas کے قبضے میں تھا- پشاور اور سندھ کا مغربی علاقہ گندھاروں کے پاس تھا۔ جنرل کنتگھم نے اس قبیلے کے نام سے ٹیکسلا کا نام دریافت کیا جو پہلے ٹیکشیلاز کے نام سے تھا پھر یہ جنرل کنتگھم ہی تھے جس نے سب سے پہلے ضلع اٹک کی آخری حدود میں شاہ ڈھیری کا مقام دریافت کیا در حقیقت یہ مقام ٹیکسلا کے قریب راولپنڈی ضلع میں شامل ہے اٹک ضلع کا شمالی حصہ جو علاقہ چھچھ کے نام سے پہچانا جاتا ہے ٹیکسلا کے قدیم حکمرانوں کی علمداری میں تھا اور اس بڑے شہر ٹیکسلا کی باقیات ضلع اٹک کی حدود میں دور تک ملتی ہیں ٹیکسلا کی کھدائی کے نتائج کا تعلق اس ضلع سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ تیرہویں صدی کے دوران غزنوی اور افغانیوں کے حملے جاری رہے اور چودھویں صدی میں مغلوں کی آمد ہوئی-آس وقت کی مغلوں کی باقیات اٹک اور فتح جنگ تحصیلوں میں موجود ہیں-اٹک تحصیل سے گزر کر تیمورنے پورے ہندوستان کو پریشان رکھا-1518عسیوی میں ظہیرالدین بابر اس ضلح میں داخل ہوا اور بھیرا،خوشاب اور چنیٹوٹ جانے کے لیے سواں کا راستہ اختیار کیا-اس کے بعد وہ ضلح میں کئ دفعہ آٰیا-1525 میں اپنے پانچویں حملے کے دوران ہرو سے سیالکوٹ تک پہاڑوں کے دامن میں سفر کیا،سخت سردی کی وجہ سے تالاب جم گۓ تھےاورغلے کا قحط بھی ختم ہو گیا تھا-علاقے کی تاریخ سے ان بہادر حملہ آورں کا بہت کم تعلق تھا-کالا چٹا سےجنوب کا سارا علاقہ ان حملہ آورں اور فوج کے راستے سے باہر تھا-بہت سے قبائل ان حملہ آورں کو اپنے اوپر حملہ کرنے سے باز رکھنے کے لیے گھوڑوں اور بازوں کے تحائف دے کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیتے تھے-چھچھ ایک ویران دلدل تھی اور ضلح کا کوئی علاقہ بھی اتنا امیر نہ تھا کہ مغلوں کی دلچسپی کی وجہ بن سکے-عہدِجدید میں ضلع اٹک کا علاقہ اپنے شاندار تہذیبی ،تمدنی اور آثاراتی پسِ منظر کی وجہ سے مورخین اور ماہرین آثاریات کے لیے اتنا ہی پر کشش ہے جتنا عہدِ قدیم میں تھا۔اٹک کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہی جتنی خود بنی نوع انسان کی۔ سرزمینِ اٹک صرف قدرتی حسن و جمال ہی کا شاہکار نہیں بلکہ خالق عرض و سماء نے اسے اشرف المخلوقات انسان کے ارتکائی سفر کے اولین مراکز میں بے مثال اہمیت بخشی ہے- اِس کا شمار دنیا کے اِن خوش ترین خطوں میں ہوتا ہے جہاں اِنسان کو اپنے اشراف المخلوقات ہونے کا ادراک ہوا۔ اِس علاقے کی تہذیب و ثقافت کو محتاط سائنسی اور تحقیقی اندازوں کے مطابق قدیم ترین انسانی تہذیب قرار دیا جاتا ہے۔

  • لکُوتاں

    لکُوتاں

    حریم زیست میں تمام تر رنگینی و رعنائی الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہے۔ انسانی جذبات کے اظہار میں الفاظ کے عمل دخل سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ انسانی نفسیات،  تہذیب اور تخیل کی اڑان سب الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہی وابستہ ہے۔خوشی، غم اور ان کا اظہار انہی الفاظ کا ہی مرہون منت ہے۔میرے گاوں غریبوال میں بزرگ لوگ "لکوت” اس مریل کتے کو کہتے تھے جو گلی کی کسی نکر میں بیٹھا ہوتا ہے اور اگر کوئی اس کو پتھر بھی مار دے تو وہ اپنی دم اپنی ٹانگوں میں دبا کر پتھر مارنے والے کو کاٹتا نہیں ہے بلکہ صرف دانت نکالتا ہے۔اس بار جب گاوں میں گیس لوڈ شیڈنگ ہوئی تو میں نے بابے جمالے کو کہا کہ جلانے کے لیے کوئی لکڑیاں ہی لا دیں ۔بابے جمالے نے حامی بھری اور اگلے روز کھپی ،ڈڈے  اور ٹانڈے لا کر دے دیے۔ہماری مادری زبان میں "کھپی ایک تیز جلنے والی بوٹی ہے اور ڈڈے کاٹے ہوئے درخت کی ادھ کٹی شاخیں اور زمین پر جڑ کے اوپر جو حصے رہ جائیں انکو کہتے ہیں ۔ ان کا کاٹنا اور زمین سے نکالنا بہت مشکل کام ہے۔ ٹانڈے سرکنڈے کی شاخوں کو کہتے ہیں۔  "بابا جمالا تھکا ہوا تھا۔ ایندھن گدھے سے اتار کر بیٹھ گیا ۔ میں نے پانی پلایا تو اس کی جان میں جان آئی۔ اور کہنے لگا۔شاہ جی اج کل ٹیلی فون اتے کیہ خبراں ون؟یعنی آج کل سوشل میڈیا پر کیا خبریں ہیں ؟میں یہ سن کر مسکرا دیا اور کہا۔بابا جی سوشل میڈیا پر سچ بہت کم ہے اور جھوٹ کا ایک بازار گرم ہے۔ بابے جمالے نے کہا ” او کنج؟ یعنی وہ کیسے؟میں نے بابے سے کہا کہ پہلے آپ کو اچھائی کی خبریں بتاتا ہوں اور وہ یہ ہیں کہ سوشل میڈیا پر نیک لوگوں نے قرآن مجید، احادیث اور ان کے تراجم ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ ،ان کے اہلبیت عظام، صحابہ کرام اور بزرگان دین کی سیرت و کردار اوراقوال لگائے ہوئے ہیں ۔ اور بہت زیادہ کام نعت پر بھی ہو رہا ہے۔ یہ سنتے ہی بابے جمالے کی آنکھوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چمک آئی اور اس کی آنکھوں سے دو شگفتہ موتی اس کی بے ترتیب داڑھی پر گر پڑے۔ اور اس کے منہ سے فورا دعا نکلی شالا ہیجے لوگ بہوں جیون جیہڑے سرکار نیاں جوہدیاں بندیاں  پئے دسینن۔یعنی ایسے لوگوں کی عمر دراز ہو جو آنحضورؐ کی انسانوں کے لئے کی گئی کوششیں لوگوں کو بتا رہے ہیں۔میں نے بابے جمالے کو جب تصویر کا دوسرا رخ بتایا کہ برائی اور بے حیائی میں خصوصا ہم اہل وطن بہت بڑھ چکے ہیں اور اس میں بری طرح گر چکے ہیں مثلا سیاسی لحاظ سے جو عمران خان کے حمایتی ہیں وہ نواز شریف کو گالی گلوچ اور اس کی توہین آمیز تصویریں کمپیوٹر سے بنا کر لگارہے ہیں اور جو نواز شریف کے حمایتی ہیں وہ عمران خان کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ججوں کے فیصلے بھی پارٹی کی بنیاد پر مانے جاتے ہیں اگر پارٹی کے خلاف فیصلہ ہو تو ججوں کو غلیظ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مزے کے بات یہ ہے جو "اندھی دولت” میں کھیل رہے ہیں وہ سوشل میڈیا پر یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ٹماٹر اگر پانچ سو روپے کلو بھی ہو جائے تو ہم پھر بھی ووٹ عمران خان کو ہی دیں گے۔ یہ سنتے ہی غریب بابا جمالا سیخ پا ہو گیا اور فوری کہنے لگا۔انہاں "لکوتاں "کولوں ڈڈے کپواو ۔ جے انہاں پتہ لگے۔یعنی ان سے لکڑی کے ڈڈے کٹوائیں تو ان کو پتہ چلے کہ غریب کا جینا کتنا مشکل ہوتا ہے۔پھر میں نے بابے جمالے کو بتایا کہ فرقہ پرست  ایک دوسرے پر لعنت کرتے رہتے ہیں اور جو ایسا ان کے ساتھ مل کر نہیں کرتا یہ اس پر بھی لعنت کرتے ہیں ۔ اور حیرت و غیرت کی بات یہ ہے کہ وہ کام جو آپ بزرگ لوگ سات پردوں میں چھپ کر  کرتے تھے وہ سرعام نوجواں نسل کر رہی ہے بلکہ ان کے ساتھ اس برائی میں کئی بابے بھی مل گئے ہیں ۔ بابے جمالے نے یہ سن کر فورا آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔ "شالا ملک نی خیر ہووے تے ربا تو ہی ہدیت دینے ” یعنییا رب میرے ملک کی خیر ہو اور تو ہی ان کو ہدایت دے۔پھر میں نے بابے جمالے کو فوج کے کارنامے اور پاک فوج کے خلاف سیاست دانوں کے بیان ، اور بزدل دہشت گردوں کے پاک فوج پر حملوں کی ویڈیوز کے متعلق بتایا تو بابے جمالے کو غصہ آگیا  اور کہہ اٹھا۔ انھ ساریاں "لکوتاں "کیوں مینڈے پتراں پچھے لگ پیئاں ون۔یعنی یہ سارے مریل کتے میرے فوجی بیٹوں کے پیچھے کیوں لگ گئے ہیں۔میں نے کہا کہ اس لیے کہ دشمن ممالک ان کو بہت پیسہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ملک کی سلامتی کو تہس نہس کر رہے ہیں اور یہ مسجوں، امام بارگوں اور مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنا کر دشمن  سے پیسہ لیتے ہیں   اور اس کام کے لیے وہ نوجوان نسل کو خریدتے ہیں اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش بمبار بناتے ہیں جو ان کے مذموم مقاصد پر عمل کر کے  وطن عزیز کی جڑیں کمزور کر رہے ہیں۔ یہ باتیں سن کر بابا جمالا اٹھا اور کھپی، ڈڈے اور خشک ٹانڈوں کی رسی کھولی اور ساتھ ہی بڑبڑایا کہ "انہاں لکوتاں آپڑیں گھراں ،محلیاں تے گرانواں اچ وڑن کیوں دینے او یعنی ان کو اپنے گھروں ،محلوں اور گاوں میں گھسنے کیوں دیتے ہو۔تو میں نے جواب دیا کہ بابا جی مجھے اس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں۔ یہ باتیں کرتے کرتے بابا چلا گیا اور میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گیا۔ مجھے بابے جمالے کا برے لوگوں کے متعلق یہ جملہ بہت پسند آیا کہ ” انھ ساریاں لکوتاں ون ” کیونکہ یہ بابے جمالے کا برائی سے نفرت کا بہترین اظہار ہے۔

    حبدار قائم
    حبدار قائم

    سید حبدار قائم آف اٹک
    (بابا جمالا ایک فرضی کردار ہے جس سے نام کی  مشابہت کا مصنف و ادارہ زمہ دار نہیں ہے)

  • آگئے تم

    آگئے تم

    تحریر : شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    کافی عرصے کے بعد اپنے پرانے محلے سے گزر ہوا اور ان راستوں پر جن پر سے میں اتنی مرتبہ گزرا ہوں کہ اگر کبھی دفتر سے آتے ہوئے دیر ہوجائے اور تھکن کے سبب آنکھیں بند بھی ہوتیں تو گھر تک پہنچ جاتا تھا ایک عجیب سی اپنائیت تھی ان بل کھاتے راستوں میں موڑ پر لگے پرانے لیٹر بکس ، ٹیکسی اسٹینڈ ، اور کافی شاپ سے اٹھتا ہوا بھاپ کا دھواں سبھی مسکراتے ہوئے لگے اور فضا میں ایک عجیب سی سوندھی سی خوشبو تھی جیسے گزرے وقتوں میں گھر لوٹنے پر کچن سے تازہ پکے کھانے کی مہک آتی تھی ۔۔ وہی راستے وہی کھڑکیاں وہی موڑ اور گلیاں اک عجب سا منظر تھا جو بیان کرنے سے عاجز ہوں ۔

    آگئے تم
    Image by Daniel Reche from Pixabay

    ایک عجیب سی کیفیت تھی جیسے خواب میں کسی مانوس سی طلسماتی دنیا میں آگیا ہوں اور اس کیفیت میں بہتا چلا جا رہا ہوں ۔

    میں ایک کونے میں دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا اور اس منظر کو اور اس کیفیت سے لطف اندوز ہونے لگا اور ایسا لگا جیسے ماضی کے دریچے کھل گئے جس میں کئی مانوس چہرے ، مسکراہٹیں ، گلے شکوے اور ایسے کئی لمحے لوٹ آئے اور اچانک کسی نے پیچھے سے میرے کاندھے کو تھپکی دی ! مُڑ کے دیکھا تو دیوار سے جھانکتی بوگن ولا کے پھولوں کی بیل تھی لیکن محسوس یوں ہوا جیسے کسی نے چپکے سے پکارا ہو ۔ ۔ آ گئے تم !

    shaandar

    شاندار بخاری