Tag: فتح جنگ

  • جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    کھیری مورت ، کالا چٹا اور مکھڈ کے پہاڑوں میں اڑیال wild sheepہوتا ہے یہ مینڈھے سے ملتا جلتا ہے سر پر مڑے ہوئے دو مضبوط سینگ ہوتے ہیں۔

    سیہہ porcupine ضلع اٹک کے جنگلات میں عام ہے اس کے بدن پر لمبے لمبے نوکدار کانٹے ہوتے ہیں ۔ جنگلات میں بھیڑیئے بھی ہوتے ہیں۔چیتا کبھی کبھی کالا چٹا پہاڑ میں آنکلتا ہے۔

    مچھلیاں پکڑنے کے لیے لوگ حسن ابدال اور اٹک جاتے ہیں۔دریا ہرو کی رہو مچھلی بہت اچھی ہے دریائےسندھ میں میاشیر پائی جاتی ہے ۔سندھ ، ھرو اور سواں میں مچھلی کا شکار کرنے کے لئے لائیسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔

    اس ضلع میں پانچ لاکھ مسلمان ،ستر ہزار سکھ اور بیس ہزار ہندو  بستے ہی۔ ہندوؤں اور سکھوں میں برہمن ، کھتری ،اروڑے اور سنار ہیں ۔کھتری اروڑے دکانداری کرتے ہیں۔

     مسلمانوں میں سیّد ، پٹھان۔جودڑے ،گھیبے ،کھٹڑ،آوان پراچے اور ملیار ہیں ۔ضلع اٹک میں بائیس گاؤں سادات کے ہیں ۔پیر مکھڈ بڑے مذہبی پیشوا ہیں ۔

    پٹھانوں کی آبادی آوانوں سے دوسرے نمبر ہے یہ اٹک اور مکھڈ نرڑہ میں آباد ہیں ۔اٹک کے پٹھان زیادہ تر علی زئی قوم کے ہیں اٹک تحصیل کا تیسرا حصہ ان کی ملکیت ہے ۔کاشتکاری اور مویشیوں کی تجارت کرتے ہیں ۔بحری جہازوں کی نوکری اور غیر ممالک کی تجارت کو فوجی ملازمت پر ترجیح دیتے ہیں ۔امریکہ،افریقہ ، آسٹریلیا اور چین جاکر ملازمت اور تجارت کرتے ہیں۔

    ساغری خٹک مکھڈ اور نرڑہ میں آباد ہیں ۔سب فوج کی ملازمت کرتے ہیں ہر گاوں میں کئی پنشن یافتہ فوجی صوبیدار ہیں۔جنگ عظیم میں بہت بھرتی ہوئے ۔یہ لوگ چائے کے شیدائی ہیں۔

    پنڈی گھیب کا تیسرا حصہ جودڈا راجپوتوں کی ملکیت ہے نواب صاحب پنڈی گھیب اسی قوم کے بڑے زمیندار ہیں۔

    گھیبے سب فتح جنگ میں آباد ہیں اکثر مغل کہلاتے ہین۔سردارنواز کوٹ فتح خان کا تعلق اسی قوم سے ہے۔

    کھٹڑ کالا چٹا پہاڑ کے آس پاس آباد ہیں ۔تحصیل اٹک ،پنڈی گھیب اور فتح جنگ میں بہتر 72 گاؤں ان کی ملکیت ہیں۔اس علاقے کو  کھاٹڑی کہتے ہیں ۔سر سکندر حیات خان اسی قوم سے ہیں۔

    آوان ضلع اٹک کی آبادی کا ایک تہائی ہیں ۔تلہ گنگ کی کل تحصیل انہی  کی ملکیت ہے اور آوان کاری  کہلاتی ہے۔

    پراچے مسلمانوں کی سوداگر قوم ھے یہ زیادہ تر دریائے سندھ کے کنارے اٹک ، ملاحی ٹولہ اور مکھڈ میں پائے جاتے ہیں ۔افغانستان اور ترکستان سے تجارت کرتے ہیں۔

    چھچھ میں تمباکو کاشت ہوتا ہے اس سے حضرو میں منوں نسوار تیار کی جاتی ہے جو کشمیر اور پشاور بھیجی جاتی ہے ۔فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں بھیڑیں پالی  جاتی ہیں ان کی اون سے یہاں  کمبل تیار کئے جاتے ہیں۔

    چھچھ اور علاقہ سواں میں روئی کاشت ہوتی ہے اس سے ادھوال میں سوتی کپڑا  بنتا ہے ۔حضرو ،نڑتوپہ اور مرزا میں لنگیاں بنتی ہیں۔

    باہتر ، حسن ابدال اور اخلاص میں چاقو    چھری عمدہ تیار ہوتے ہیں ۔کئو کی لکڑی سے فتح جنگ میں کنگھیاں بنائی جاتی ہیں جو بڑے بڑے شہروں کو بھیجی جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں تارا میرا عام ہوتا ہے اس سے تیل نکالنے کے کولھو ہیں۔ حضرو میں جوتیوں پر زردوزی کا کام بہت اچھا ہوتا ہے۔

    ضلع اٹک میں حضرو ،انجرا،جنڈ ،حسن ابدال اور مکھڈ مشہور منڈیاں ہیں ان میں کپڑا،کھانڈ  ، چاول، نمک باہر سے بکنے آتا ہے ۔ہر ہفتے  گوندل ،حسن ابدال،کیمبلپور اور پنڈی گھیب میں مویشیوں کی منڈی لگتی ہے۔

    Title Image by Natalie Faulk from Pixabay

  •  جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط دوم  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط دوم  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط دوم  

    فتح جنگ کے شمال میں سدکال کے مقام پر مٹی کا تیل نکلتا ہے ۔کھوڑ سے نکلنے والا تیل نل کے ذریعے مورگاہ راولپنڈی صاف کرنے کے لیے بھجوا دیا ۔کھڑپا، ڈھلیاں اور جنڈ میں تیل کی تلاش جاری ہے ۔واہ کے پاس سیمنٹ بنانے کا کارخانہ ہے ۔

    سواں ،سیل اور سندھ کی ریت سے سونے کے ذرات نکلتے ہیں۔ سونا نکالنے کا ٹھیکہ مقرر ھے ۔نیاریے ریت دھو کر سونا نکالتے ہیں۔لیکن دو تین آنے روزانہ سے زیادہ نہیں کماتے ۔

    کاتک سے پھاگن تک جاڑا پڑتا ہے پوہ میں ٹھندی ہوا چلتی ہے ۔صبح کے وقت بڑی ٹھر (سردی) پڑتی ہے ۔چیت کے مہینے میں موسم خوش گوار اور کھلی بہار ہوتی ہے بساکھ سے اساڑھ  تک خوب گرمی پڑتی ہے ساون میں بارش ہوتی ہے ۔

    ضلع اٹک کے باشندے میانہ قد آور مضبوط ہیں تلہ گنگ کے باشندے زیادہ قدآور ہیں ۔علاقہ چھچھ میں ملیریا عام ہے ۔تلہ گنگ اور پنڈی گھیب کے جن علاقوں میں بنی / بنھ کا پانی پیتے ہیں۔

     ناروے (Dracunculus Medinensis) کی بیماری ہو جاتی ہے

    اسوج میں ہاڑی / ربیع کا بیج پڑتا ہے چیت میں فصل کٹنے لگتی ہے اس فصل میں گیہوں ، چنے ،جو، سرسوں تارامیرا اور تمباکو ہوتا ہے ۔

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط دوم  
    تمباکو کی فصل Image by Joachim Süß from Pixabay

    ساونی / خریف ساون میں بوتے ہیں اس میں باجرہ ،جوار ،مکی، تل, سن/ سنی اور کپاس ہوتی ہے ۔گنا صرف چھچھ میں بویا جاتا ہے ۔ اخلاص اور چھچھ میں تمباکو کی کاشت بہت ہوتی ہے

    اس ضلع میں قابل ذکر درخت یہ ہیں ۔پھلائی کیکر ،دھریک ،ٹاہلی ، پیلو / ون ،کئو  ، شہتوت ،بیری ، سرکنڈا ، آک ، کریر ، سنتھا ،ونا۔

    پھلاہی کے درخت تعداد میں سب درختوں سے زیادہ ہیں ۔سرکاری جنگل ان سے لدےپڑے ہیں خانقاہوں پر بھی پھلاہی عام ہے ۔بھیڑ بکریاں اس کو شوق سے کھاتے ہیں اس کی لکڑی سے ہل اور کولھو بنتے ہیں ۔

    کیکر کی لکڑی سے ہل ، رہٹ بنتے ہیں اس کی گوند سے حلوہ بنتا ہے اس کی چھال سے چمڑا رنگتے ہیں۔

    دھریک کے پتوں کو پیس کر ہرا رنگ نکالتے ہیں اس کے پتوں کے پانی سے زخم اور پھوڑے دھوتے ہیں ۔ٹاہلی کی لکڑی چکنی اور مضبوط ہوتی ہے بڑی مہنگی بکتی ہے۔اس کی لکڑی کے شہتیر ، پائے اور فرنیچر بنتا ہے ۔

    کئو کے درخت پہاڑ میں ہوتے ہیں یہ زیتون کی ایک قسم ہے اس سے کونڈیوں کے ڈنڈے ،سوٹیاں اور کنگھیاں بنتی ہیں ۔

    شہتوت سے بیٹ بنتے ہیں اس کا پھل بڑا مزیدار ہوتا ہے اس کے پتوں کو ریشم کے کیڑے کھاتے ہیں جس سے گلبدن ریشم اور دریائی ریشم کا کیڑا بنتا ہے گڑھی افغاناں میں یہ درخت خوب بہار دکھاتے ہیں۔

    بیری کے پتے جانور کھاتے ہیں اور اس کے بیر لڑکوں کو بہت بھاتے ہیں۔اسکی لکڑی سے چارپائی کی پٹیاں ، سیرو اور پائے بنتے ہیں ۔

    سرکنڈے کو پنجابی میں کانا کہتے ہیں اس  کی قلمیں اور چکیں بنتی ہیں ۔اس کی تیلیوں سے ٹوکریاں بنتی ہیں ۔سرکنڈے پر سے مونج اترتی ہے اس کا بان بنتا ہے

    کریر کانٹے دار جھاڑی ہے اس پر چھوٹے چھوٹے سرخ پھول لگتے ہیں جن سے ننھا ننھا گول بیج دار پھل لگتا ہے جس کو ڈیلا کہتے ہیں اس کا اچار پڑتا ہے اس کا پکا پھل مزیدار ہوتا ہے۔

    سنتھا دو گز اونچی سدا بہار جھاڑی ہے ( کالا چٹا پہاڑ میں عام ہے ) اسکو باغ کی روشوں میں لگاتے ہیں۔

    ونا کو گھوٹ کر دوا بناتے ہیں ۔کنیرا کے گلابی پھول نہایت بھلے لگتے ہیں ۔خاردار  پوہلی ، ہیازی اور بھکڑا خود رو پودے ہیں ۔

    خوب کلاں (Sisymbrium Irio) کا پھل / بیج تارے میرے کے برابر ہوتا ہے تلہ گنگ میں منوں پیدا ہوتا ہے اور دوائی کی خاطر امرتسر بھیجا جاتا ہے ۔

    بارش ہونے پر دب ، کھبل اور سوانک گھاس خوب اگتا ہے ۔کالا چٹا پہاڑ کے پاس ایک خوشبودار گھاس اگتا ہے اس کو ازخر یا کھوی کہتے ہیں ۔

    ضلع اٹک میں آٹھ سرکاری جنگلات ہیں ان کی حفاظت کے لیے کیمبلپور میں ایکسٹرا اسسٹنٹ کنزرویٹر رہتا ہے جس کے ماتحت جنگل کے داروغے اور سپاہی کام کرتے ہیں ۔جنگلات کی لکڑی جھلار اور کیمبلپور کے ریلوے اسٹیشنوں سے دوسرے شہروں کو بھیجی جاتی ہے۔

    حسن ابدال ،واہ اور چھچھ میں خرمانی ،ہاڑی اور کیلا پیدا  ہوتا ہے ۔نرڑہ کے علاقے کا نیبو مشہور ہے ۔علاقہ چھچھ میں کالو کلاں سبزی کی کاشت کے لیے مشہور ہے یہاں کی سبزی کیمبلپور اور حضرو جاتی ہے۔

  • حاصل پور سے امریکہ تک

    حاصل پور سے امریکہ تک

    حاصل پور سے امریکہ تک

    ماموں احسان (1950) حاصل پور (بہاولپور) میں پیدا ہوئے جہاں ان کا ننھیال رہتا تھا۔ وہ چھ بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا پہلا بیٹا تھا اسی لیے ان کا نام احسان الحق رکھا گیا۔ اللہ کے کرم سے اسکے بعد رضوان، غفران اور عرفان اوپر تلے پیدا ہوئے۔
    نانا جی 1962 میں نائب تحصیلدار کی حیثیت سے فتح جنگ سے ریٹائر ہوئے۔ تمام خاندان ملہو والا منتقل ہو گیا۔ ماموں نے چھٹی اور ساتویں جماعت کی تیاری گھر پر کی۔ 1964 میں ناناجی فتح جنگ پٹوار اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ احسان ان کے ساتھ فتح جنگ آ گئے اور آٹھویں کلاس میں پرائیویٹ طالب علم کے طور پر بیٹھ گئے انہوں نے پرائیویٹ امیدوار کے طور پر مڈل اسکول کا امتحان پاس کیا اور ہائی اسکول میں باقاعدہ طالب علم کے طور پر 9ویں جماعت میں بیٹھ گئے۔
    وہ اپنے پھوپھی زاد قاضی عبدالقدوس سے ملنے اور سیر کرنے کوہاٹ گئے اس وقت عبدالقدوس صاحب کی تبدیلی نوشہرہ ہونے کے آرڈر ہو چکے تھے۔ ماموں نے ان کی الوداعی پارٹیوں میں شرکت کی۔

    میٹرک میں انہوں نے اچھے نمبر لیے۔ نانا جی بہت خوش ہوئے اور اسے سیر کرانے نوشہرہ لے گئے۔ قاضی عبدالقدوس صاحب نے ان کو وادی سوات کی سیر کرائی ۔ ان دنوں میٹرک میں انہوں نے اچھے نمبر لیے۔ نانا جی بہت خوش ہوئے اور اسے سیر کرانے نوشہرہ لے گئے۔ قاضی عبدالقدوس صاحب نے ان کو وادی سوات کی سیر کرائی ۔ ان دنوں آرمی انجینر سوات گلگت روڈ بنا رہے تھے اور عبدالقدوس صاحب ملٹری اکاونٹس کی طرف سے ان کا آڈٹ کر رہے تھے۔آرمی انجینر سوات گلگت روڈ بنا رہے تھے اور عبدالقدوس صاحب ملٹری اکاونٹس کی طرف سے ان کا آڈٹ کر رہے تھے۔

    احسان صاحب نے اصغر مال راولپنڈی سے ایف ایس سی پاس کیا اور 1968 میں کے ای میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ راولپنڈی میں وہ اپنی بہن منیر صاحبہ کے پاس ٹھہرے۔ خالہ منیر کے پاس ایک کمرے والا کرائے کا مکان تھا اس لیے ماموں نے سکون سے پڑھائی کرنے کے لیے قریب ہی ایک بیٹھک کرائے پر لے لی۔
    کے ای میں ان کی کلاس میں 130 طلباء تھے ۔ انہوں نے 1974 میں ایم بی بی ایس کیا ۔کالج میں ان کے دوستوں میں بختیار، عبدالقیوم اور صلاح الدین شامل تھے۔ یہ دوست ایک دفعہ ملہو والا دیکھنے آئے . ایڈونچر کے لیے وہ پدھی سٹاپ پر بس سے اتر گئے اور کس سے ہوتے ہوئے پانچ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ملہو والا پہنچے۔
    1970 کی دہائی میں فون نہیں تھے اور خطوط لکھنا ہی رابطے کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ہاسٹل میں رہنے والے طالب علموں کے خط کا عام طور پر مطلب اخراجات کے لئے رقم کی درخواست ہوتا تھا۔ قاضی عبدالحق صاحب کو جب بھی لاہور سے ایسا خط ملتا تو وہ غفران کو غلام شاہ صاحب کے پاس قرض لینے کے لیے بھیجتے۔

    . ونج لالے غلام شِاہ کولوں پیسے گھن آ

    غلام شاہ صاحب نے کبھی بھی ادھار سے انکار نہیں کیا۔ وہ ملہو والا کے ایک معروف دکاندار اور قاضی عبدالحق صاحب کے پڑوسی تھے۔
    1975 میں راقم نے کے ای میں داخلہ لیا ۔ ماموں احسان اس وقت میو ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے ہاسٹل میں رہنے کے لئے کمرہ لے کر دیا۔ 1976 میں وہ USA چلے گئے .انہوں نے Pulmonoloy میں 4 سال کی تربیت حاصل کی اور امریکن بورڈ کوالیفائی کیا۔ وہ کیلیفورنیا میں چیری ویلی میں رہائش پذیر ہیں اور پرائیویٹ پریکٹس کر رہے ہیں۔
    1977 میں نانا جی کو جگر کی تکلیف ہوئی وہ اس کے علاج کے لئے لاہور تشریف لائے۔اس وقت مگھیاں اٹک کے میجر ڈاکٹر عبداللطیف صاحب میو ہسپتال میں ڈیوٹی کر رہے تھے۔انہوں نے علاج میں مدد کی۔ الٹراساؤنڈ سے اب کافی ساری بیماریاں بر وقت پکڑی جاتی ہیں۔اس وقت میو ہسپتال میں صرف ایک الٹراساؤنڈ مشین تھی جو پروفیسر آف میڈیسن انصاری صاحب کے پاس تھی اس مشین کی زیارت کا موقعہ نہیں ملا۔ جگر کی بیماریوں کی تشخیص آئیسوٹوپ سکین سے ہوتی تھی۔
    امریکہ سے ڈاکٹر احسان اپنے والد صاحب کی ںیماری کی خبر سن کر میو ہسپتال میں اپنے بیمار والد کو دیکھنے آئے۔ ان کے آنے کے کچھ دن بعد نانا جی کی طبیعت بہت بگڑ گئی اور ڈاکٹروں نے بےبسی اور مایوسی کا اعلان کردیا۔اس پر نانا جی کو لاہور سے راولپنڈی جنرل ہاسپیٹل بذریعہ ایمبولینس شفٹ کردیا۔ ایمبولینس کے ساتھ راقم، ماموں احسان،ماموں رضوان، خالو ریاض اور حاجی اقبال ترڈ تھے۔پنڈی پہنچ کر کچھ گھنٹوں میں ناناجی چل بسے۔ برسات کا موسم تھا کچی سڑک خراب تھی میت کو نانی بنی کے بیٹے رفیق کی ویگن میں کمڑیال تک لائے اس کے بعد دس کلومیٹر ملھوالے تک میت کندھوں پر اٹھا کے لائے ۔ جنازے کے بعد میرا لاھور واپسی کا سفر نیلہ،چکوال، جہلم کے رستے ہوا۔ اس وزٹ کے دوران ماموں جان نے مجھے ایک فینسی کوٹ تحفے میں دیا۔ اسے پہن کر خوشی ہوتی تھی۔ اس کی سلائی اتنی اچھی تھی کہ اکثر ساتھی طلباء پوچھتے کہ کوٹ کہاں سے لیا ہے۔
    1984 میں نانی جی احسان صاحب سے ملنے امریکہ گئیں ۔ انہوں نے وہاں قیام کے دوران 1984 کے لاس اینجلس سمر اولمپکس دیکھیں ،خاص کر ھاکی میچ دیکھا۔اس اولمپکس میں پاکستان نے مغربی جرمنی کو فائنل میں شکست دے کر ہاکی کا گولڈ میڈل 🏅 جیتا تھا۔ احسان صاحب کی کوششوں سے آہستہ آہستہ دو اور ماموں اور ایک خالہ خاندانوں کے ساتھ امریکہ شفٹ ہو گئے۔

    حاصل پور سے امریکہ تک
    Image by Pexels from Pixabay

    عرفان اور غفران 1985 میں امریکہ گئے۔ ڈاکٹر احسان نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ وہ انہیں ڈرائیونگ سکھائیں اور علاقے میں گھمائیں پھرائیں۔ اس بھائی صاحب نے ان کے سامنے شراب پی اور اس کے بعد نشے میں بکواس کرنے لگا۔ غفران نے زندگی میں پہلی بار کسی شرابی کو نشے کی حالت میں دیکھا ۔ان کو عین الیقین سے بڑھ کر حق الیقین حاصل ہو گیا کہ واقعی شراب بہت بری شے ہے ۔
    احسان ماموں نے اپنے بھائیوں کو کاروبار کرانے کا پروگرام / منصوبہ بنایا۔ ان کی ایک ہی ریزرویشن / خواہش تھی کہ ایسا کاروبار ہو جس میں شراب نہ بیچنی پڑے ۔ امریکہ میں جس چیز کی بھی دکان ہو اس میں شراب ایک ضروری آ ئیٹم ہوتا ہے ۔ کیتھی ڈاکٹر احسان کی اکاؤنٹنٹ تھیں۔ اس نے مشورہ دیا کہ گارمنٹس کی دکان ہی ایک ایسا بزنس ہے جس میں شراب دکان پر نہیں رکھنی پڑتی۔ چنانچہ غفران نے گارمنٹس کا کاروبار شروع کردیا۔
    نانی جان اور عرفان قاضی 1990 میں حج کے لئے امریکہ سے حاضر ہوئے۔ اسی سال راقم کو بھی اہلیہ اور خالو اختر سمیت حج کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ عرفان ماموں سے میری پہلی ملاقات مسجد حرام میں ہوئی ۔وہ پہلے عمرے سے فارغ ہوکر ابھی احرام میں تھے ۔میں نے حلق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ چند بال باربر نے قینچی سے کاٹ کر کہا ہے کہ اس سے گزارا ہو جائے گا۔ میں ان کو مدرسہ صولتیہ لے گیا ان سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا اس طرح چند بال کٹوانے سے حلق ہیں ہوتا ۔اس وقت مدرسہ صولتیہ باب عمرہ کے پاس محلہ حارت الباب میں تھا ۔اس مدرسے کی وساطت سے ہم نے بڑی نانی اور نانا جان کا حج بدل کرایا۔یہ حضرات فقہ حنفی کی رعایت رکھتے ہوئے پوری ذمیداری سے حج بدل کرتے تھے ا ب مسجد حرام کی توسیع کی وجہ سے یہ مدرسہ دور چلا گیا ہے. مدرسہ والے حج کی قربانی کا بندو بست بھی کرتے تھے ۔ان کا شعبہ امانت بھی تھا جس میں حاجی حضرات پیسے اور کاغذات جمع کرا دیتے اور ضرورت کے مطابق واپس لے لیتے تھے۔
    2005 میں ڈاکٹر احسان، غفران اور مسز غفران نے حج کیا 2008 میں اللہ نے ڈاکٹر احسان پر بڑا فضل کیا۔ انہوں نے جامع مسجد ملہو والا کے عظیم الشان مینار کی تعمیر کے لیے چندہ دیا۔ اکرام قاضی نے اس منصوبے کی نگرانی کی۔ ثاقب قاضی کہتے ہیں یہ مینار 300 فٹ بلند ہے۔ یہ اندرونی سیڑھیوں والا مینار میلوں سے نظر آتا ہے۔ گنڈاکس روڈ کی پدھی سے اسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ثاقب ریاض قاضی کہتے ہیں مسجد کا مینار 300 فٹ بلند ہے، یہ ایفل ٹاور پیرس کی اونچائی کا ایک تہائی ہے جو 300 میٹر بلند ہے۔ ثاقب کو دونوں پر چڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ راقم 2013 میں ملھوالہ مینار پر چڑھا۔ خالہ منیر بھی ساتھ تھیں ان کی وجہ سے یہ ایونٹ اور بھی گریس فل ہو گیا ۔
    2020 میں ڈاکٹر احسان نے اسلامک سینٹر Beaumont Ave، Beaumont Ca کے لیے عمارت کی خریداری کے لیے مالی اعانت فراہم کی۔ یہ جگہ ان کے گھر کے قریب ہے۔ اس اسلامی مرکز کی جگہ پر پہلے چرچ تھا New Creation Church۔
    من بنى لله مسجدا، بنى الله له قصرا في الجنة.‏ جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے جنت میں محل بنائے گا۔ (ابن ابی شیبہ)
    بیومونٹ مسجد کی لاگت تیرہ لاکھ ڈالر تھی۔ اس کے نمازیوں میں 80 فیصد مسلمان عرب ہیں اور مسجد کے لیے چندہ دینے کے لیے فراخ دل ہیں۔ رمضان 2021 میں اس مسجد میں پہلا رمضان تھا ایک صومالی حافظ صاحب نے تراویح پڑھائی۔ جمعۃ المبارک کا اجتماع 60 سے زیادہ ہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے مسجد میں سنڈے اسکول ہے اس میں پچاس کے قریب بچے آتے ہیں۔
    ساجد زین قاضی (1956-2021) نے 1987 میں خالہ معصوم قاضی سے شادی کی۔ وہ راولپنڈی کی عدالتوں میں ملازمت کرتے تھے۔ یہ فیملی 2000 میں انڈیو کیلیفورنیا میں جاکر آباد ہوئی۔
    اپریل 2017 میں ماموں رضوان کا برین ٹیومر کا آپریشن ہوا اس کے بعد ریڈیو تھیراپی ہوئی ۔پھر کیمو تھیراپی پر تھے ان کی وفات اگست 2018 میں ہوئی ۔غسل اور نماز جنازہ قاری سلیم جودڑا صاحب نے پڑھائی۔ رضوان صاحب کی بیماری کے آخری دنوں میں ساجد صاحب پاکستان آئے ہوئے تھے ۔
    ساجد صاحب کا جنوری 2021 میں آئزن ہاور ہسپتال رینچو میراج میں COVID-19 کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ انہیں مسلم قبرستان کورونا سٹی کیلیفورنیا میں دفن کیا گیا۔ کورونا سٹی ایک پرانا شہر ہے اور اس کا COVID-19 سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    کیلیفورنیا کے صوبے میں اندلسی / ہسپانوی لوگ آبادی کا بیس فیصد ہیں۔یعنی ہر پانچواں بندہ اندلسی ہے ۔ان کے بالوں /آ نکھوں کی رنگت اور انکی شکل و صورت پاکستانیوں سے ملتی جلتی ھے۔ خدا جانے ان میں سے کتنے اندلسی مسلمانوں کی اولاد ہیں
    جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا
    جن کے لہو کی طفیل آج بھی ہیں اُندلسی
    خوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیں
    آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال
    اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں

    ماموں لوگوں کو ناواقف بندے اندلسی سمجھتے ہیں۔ ایک دفعہ ماموں مامی نوازش کے ساتھ ہمارے گھر عسکری چودہ تشریف لائے۔ مسجد کے وضو خانے میں ان کا پاؤں پھسل گیا اور ان کا بایاں بازو متاثر ہوا۔
    امریکہ واپسی پر بازو کی سرجری ہوئی۔ سرجن آپریشن روم سے باہر ہسپتال کے لان میں آیا وہاں غفران کھڑا تھا۔وہ اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔کہنے لگا ڈاکٹر احسان ،میں ابھی آپ کو وارڈ میں دیکھ کر آیا ہوں آپ بےہوش تھے اور اب آپ یہاں سیر کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ غفران نے بتایا میں ڈاکٹر قاضی کا بھائی ہوں میری شکل اس سے ملتی جلتی ہے۔
    اسی طرح ایک عربی نے غفران کو کہا(Brother I saw your pic on the highway
    )اس پر غفران نے بتایا وہ میرے بھائی ڈاکٹر قاضی کی تصویر ہے۔
    ڈاکٹر احسان 2017 میں ماموں رضوان کی بیماری پر راولپنڈی آئے تھے۔ آمد پر وہ چکلالہ ہوائی اڈے پر اترے۔ روانگی کے وقت انہوں نے نیو ایئرپورٹ اسلام آباد سے اڑان بھری، اس وقت تک چکلالہ ایئرپورٹ سول ایوی ایشن کے لیے بند ہو چکا تھا۔
    ماموں احسان اور غفران مارچ 2022 میں امریکہ سے فیملی وزٹ پر G-15 اسلام آباد آئے ۔ خالہ معصوم ایک ماہ پہلے آئی تھیں۔ ہم لوگ 6 مارچ کو ان سے ملنے گیے۔ ماموں احسان نے میرے پوتے براہیم رافع اور میری بہو مسز عبداللہ کو سو سو ڈالر کا تحفہ دیا۔ وہ 8 مارچ کو ہمارے گھر ڈنرپر تشریف لائے۔ وسیم، ندیم اور ہاجرہ بتول کی فیملیز موجود تھیں۔ ایک غیر معمولی رونق اور گہما گہمی تھی تھا .ماموں احسان نے میرے نواسے / نواسی محمد اور حیا کو 100 ڈالر تحفے میں دیے۔
    نو مارچ کو غفران اور میں اپنے میٹرگ کے کلاس فیلو مرتضیٰ سے ملنے کے لیے دلہہ چکوال گئے ہم نے چار گھنٹے اکٹھے گزارے۔ غفران نے خوشی خوشی اپنی بیگم صاحبہ کے روزمرہ کے معمولات بتائے۔
    وہ تہجد اور دیگر نفل نمازیں باقاعدگی سے پڑھتی ھیں ۔روزانہ سورہ بقرہ پڑھتی ھیں۔ نماز تراویح کے لئے مسجد جاتی ہیں اور ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کون سی سورتوں کی تلاوت کی گئی ہے۔ہر مہینے تین یا چار نفل روزے رکھتی ہیں۔
    جب فرحان بچہ تھا تو بیگم اسے دس منٹ کی مسافت پر اسکول لے جاتی تھیں۔ ان کا معمول تھا کہ وہ بلند آواز سے سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص اور رب زدنی علما رستے میں پڑھتی جاتی تھیں۔
    ایک بار وہ مصروف تھیں انھوں نے غفران سے فرحان کو ڈراپ کرنے کو کہا۔ جب غفران نے گاڑی چلائی تو فرحان نے اسے یاد دلایا.( Let us start Bismillah and Dua) بابا بسم اللہ اور دعا شروع کریں۔ یہ سب ماں کی تربیت کی وجہ سے ہوا۔اللہ پاک ہمیں بھی ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    غفران ریور سائیڈ کاؤنٹی میں تین جگہوں پر گارمنٹس کا کاروبار کر رہا ہے۔ بیننگ، ہیمٹ اور پیریز چین کا نام ہے …. LA’s Nothing Over 9.99$ .ہر مال دس ڈالر۔
    کورونا نے امریکہ میں بڑے کاروباری اداروں کو متاثر کیا لیکن چھوٹے اسٹورز نے اس عرصے میں خوب کمائی کی ۔ ان کا بزنس تین گنا بڑھ گیا۔ غفران ہیمیٹ Hemet میں رہتا ہے۔ اس کا بیٹا فرحان قاضی سکرپ ھیلتھ سان ڈیگو Scripp Health San Diego.ca میں جاب کرتا ہے۔
    پہلے ہیمٹ مسجد سارے علاقے میں واحد مسجد تھی۔ لیکن ڈاکٹر قاضی نے بیومونٹ میں ایک چرچ کوخرید کر مسجد میں تبدیل کر دیا۔ اب اس نئی مسجد میں علاقے کے زیادہ تر مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔
    ہیمٹ مسجد غفران قاضی کے گھر کے قریب مسجد ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کم ہے۔ بہت سے لوگوں کے پاس اس کی چابیاں ہیں – انہوں نے آپس میں باریاں مقرر کی ہوئی ہیں۔ کچھ فجر لازمی پڑھتے ہیں ۔کچھ ظہر لازمی پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح باقی نمازوں کے لئے بندے مقرر ہیں ۔اس ترتیب سے مسجد تمام نمازوں میں آباد رہتی ہے۔ ورنہ یہ ممکن تھا کہ ایک نماز میں مسجد بھر جاتی اور دوسرے وقت بالکل بند رہتی۔ چند قریبی مسلمان اس مسجد میں صرف عشاء کے وقت آتے ہیں۔ جمعہ میں 50 افراد کا اجتماع ہوتا ہے۔غفران اکثر ڈاکٹر خیالی، ڈاکٹر اسلم اور ڈاکٹر عابد کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ تمام پاکستانی ساتھی ریور سائیڈ کاؤنٹی میں رہ رہے ہیں۔
    عرفان قاضی تھاؤزنڈ پام میں رہتے ہیں۔ ان کی بیٹی نے برکلے یونیورسٹی کے گولڈمین اسکول آف پبلک پالیسی (GSPP) سے تعلیم حاصل کی۔ اب وہ سیکرامینٹو کیلیفورنیا میں مالیاتی بجٹ کی تجزیہ کار ہیں۔عرفان قاضی کے بیٹےمحمد علی قاضی سان برناڈینو میں نیوٹریشنل سائنسز پڑھ رہے ہیں ۔حاثم قاضی ماموں عرفان کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کا نام امریکا کے مسلم باکسر Hasim کے نام پر رکھا گیا ہے وہ اسکول کی فٹ بال ٹیم کا ممبر ہے۔
    نانی جی ، عرفان ماموں اور ندیم السلام 1979 میں حاصل پور میں ماموں رضوان کی منگنی کے سلسلے میں ایک ہفتہ ٹھہرے۔ ندیم اس وقت چھٹی کلاس میں تھا۔ ندیم پھر ماموں کی بارات کے ساتھ حاصل پور گیا۔
    راقم کبھی حاصل پور نہیں گیا۔ 1996 میں جمیل کی شادی پر حاصلپور جانے کا بہترین موقع تھا لیکن مجھے راولپنڈی میں بخار ہو گیا ۔میری مسز اور عبداللہ سلام بارات کے ساتھ گئے۔

  • جن، مستری اور شہتیر

    جن، مستری اور شہتیر

    جن، مستری اور شہتیر

    1970 سے پہلے زمانہ سپیشلائیزیشن کا نہیں تھا۔ مستری نام کی ڈگری سے ایک ہی بندہ بیک وقت بطور لوہار( Black Smith)… ترکھان( Carpenter)اور
    راج ( Mason ) کام کرتا تھا۔ ملہووالا کے مستری صاحبان کی اصل ذمہ داری ، کاشتکاری کے آلات ( ھل ، داتری، کھرپہ) بنانا اور ان کی مرمت کرنا تھی ۔مکان بنانے اور اس کی مرمت میں مقامی ہنرمند حضرات صرف فرسٹ ایڈ بہم پہنچاتے

    مکانوں کی تعمیر کے لیے ہمارا واسطہ مصطفے و سخی ہر نو چ اور گنڈاکس کے بابا میاں محمد اور ان کے بیٹے حسین سے تھا ۔ان حضرات کے لمبے لمبے عرصے کے لئے کام اور قیام کی وجہ سے فیملی تعلقات بن گئے تھے ۔تعمیر میں لکڑی اور میسن کا کام دونوں ان کے ذمے تھے ۔لکڑی مقامی ہوتی۔ درخت کاٹنے کے بعد اس کے مناسب سائز کے بڑے ٹکڑے کئے جاتے ۔پھر زمین میں چھ فٹ گہرا کھڈا کھود کر یہ ٹکڑے اس میں دبا دیے جاتے ۔ مناسب وقت پر لکڑی کو زمین سے نکالا جاتا،یہ عمل Seasoning کہلاتا تھا۔ اس سے لکڑی پکی ہو جاتی۔

    جن، مستری اور شہتیر

    مشینی آرا (Saw) 1967 کے بعد نیلہ (چکوال) میں لگا ۔اس سے دستی آرے سے لکڑی کی چرائی کی جاتی تھی ۔لکڑی کوسپورٹ دے کر ترچھا کھڑا کیا جاتا۔ پھر اس پر نشان لگایا جاتا۔ بابے نیک کی آٹا مشین کا جلا ہوا کالا تیل ۔ سوتر بھگو کر نشان لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے بعد دو بندے آرا چلاتے تھے ۔ آری سے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ان کو تیسے سے شکل دی جاتی ۔پھر رندہ لگا کر سطح ہموار کی جاتی تھی ۔ ایک فقرہ یاد آگیا ۔
    I saw a saw which could not saw
    چھت کے لیے سب سے اچھا میٹریل اچھی نسل کی کڑی ( شہتیر) ،نفیس بالے اور ٹائلیں تھا۔شہتیر پر عمدہ انگریونگ نقش نگاری کی جاتی تھی ۔ مارچ 1947 میں گنڈاکس میں ہندو کش فسادات ہوئے۔ سامان لوٹا گیا۔گھر گرا کر بلڈنگ میٹیریل غائب کردیا گیا۔شہتیر بڑی چیز ہونے کی وجہ سے بادل ناخواستِہ چھوڑ دیے گئے ۔ شہتیروں کو حالات درست ہونے پر گورنمنٹ نے نیلام کر دیا۔ نانا جی نے دو شہتیر آکشن میں خریدے ۔ ان سے 1950 میں اباجی کا کمرہ نواں اندر بنوایا گیا۔ ستر سال ان کی آب و تاب میں فرق نہیں آیا۔
    کم خرچے والے مکان میں سادہ سا شہتیر جس کی صرف ایک خوبی ہو کہ وہ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک پہنچ جائے ۔اس کی شکل صورت کی خاص اہمیت نہیں ۔ اس کے بعد بجائے فیشنی بالے ڈالنے کے ورگے استعمال ہوتے تھے۔ اس کے اوپر نڑ ،یا ،کانے سب سے اوپر مٹی کی تہہ ڈال کر پرنالے کی طے شدہ پوزیشن کی طرف ڈھلوان بنائی جاتی۔
    گاڈر ( Girder اور ٹی۔آئرن ( T- Iron) کا استعمال بعد میں شروع ہوا
    کمرے کا سٹرکچر بن گیا اب اس میں درواز ے اور باریاں ( Windows) لگائی جاتیں۔ اندر پلستر ہوتا اور باہر ٹِیپ ہوتی۔ فتح جنگ میں چاچے مشتاق صاحب کے جاننے والے مستری کے بیٹے نے میٹرک کیا۔ مستری صاحب نے چاچا جی سے کہا کہ میرا بیٹا نوکر کرا دو۔چاچا جی نے کہا کہ بیٹا ٹائپ Type سیکھ لے تو نوکری ملنا آسان ہو گا ۔ مستری صاحب نے فرمایا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں میں خود اس کو ٹِیپ Teep کرنا سکھا دوں گا

    ٹِیپ Teep کا کام شروع ہوتے ہوتے گھر والوں کی جیب ہلکی ہو چکی ہوتی ۔ دو وقت مستری صاحبان کے لئے پرتکلف کھانا پکا پکا کر مستورات بھی تھک اور اَک جاتیں اب دعائیں شروع ہوجاتیں ۔ یا اللہ ان مستری حضرات سے جلدی نجات دلا۔ گھر سے جن اور مستری نکالنا دونوں مشکل کام ہیں۔اس میں علما کا اختلاف ہے کہ زیادہ مشکل کام کون سا ہے۔

  • چھوئی کے بیر اور فتح جنگ کی جلیبی

    چھوئی کے بیر اور فتح جنگ کی جلیبی

      1975 تک ملھووالا میں جلیبی نہیں بنتی تھی ۔اس کے لئے جٹوں کو فتح جنگ میلے کا انتظار ہوتا وہاں جا کر تسلی سے رج رج کے جلیبی بلکہ بگ سائز جلیب کھاتے ۔ ملھووالا میں جلیبی سموسے بنانے کا رواج بشیر صاحب نے ڈالا۔ جمعرات کی بابا جی کی زیارت پر میٹھی روٹی تقسیم ہوتی تھی۔ایک دفعہ بابا اولیاء پنہارا روٹی تقسیم کر رہا تھا ،میں نے ناناجی کی تربیت کی وجہ سے خورده نہیں لیا۔ میرے خیال میں روٹی تقسیم کی زیادہ مناسب جگہ سکول کا گیٹ یا مسجد کا دروازہ تھا۔

      1954 کا ذکر ہے کچھ خواتین اکٹھی تھیں۔شعر و شاعری شروع ہو گئی ۔خالہ عجائب نے یہ شعر پڑھا۔

    پَچھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اَملَوکاں نی

    میں دھی ۔۔۔تحصیلدارے نی

    تے نونہں۔۔۔۔۔۔وڈیاں لو کاں نی

    ان کی ساس بی بی خانم جی مشاعرے کی صدارت کر رہی تھیں ۔انہوں نے اس شعر سے خوش ہو کر اپنی بہو کو اوّل قرار دے دیا ۔

    املوک۔(۔diospyros Lotus) کو Date-Plum  بھی کہتے ہیں ۔اس میں کھجور اور آلو بخارہ دونوں کا ذائقہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو فارسی میں کہتے ہیں خرمالو۔ یعنی خرما کھجور پلس آلو بخارہ۔ افغانستان میں خوبانی کو پیلے رنگ کی وجہ سے  زرد آلو   کہتے ہیں۔

    آڑو کو   شفتالو کہتےہیں۔

     بیر  ملہووالا کا قومی فروٹ ہے۔ محکمہ زراعت کے فیلڈ افسر بابو اسرار اور ورکر حاجی غلام رسول صاحبان کی کوشش کے باوجود    پیندو بیر.ملہووالا میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے ۔ چھوئی کا علاقہ ملہو والا سے 2 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔ یہ بیری کے درختوں کے لیے مشہور تھا، جولائی اگست میں ہم گروپس میں وہاں جا کر بیر   کھاتے اور جمع کرکے گھرلاتے تھے،    عبدالسلام درختوں پر چڑھ کر اس کے پھل جھاڑتا،جھونینا  اور باقی پارٹی بیر چنتی آخر میں بیروں کی گنتی کی جاتی۔ عبدالسلام کو ہر بچہ آدھے بیر دیتا تھا۔ اس کا حصہ ساری پارٹی کے مشترکہ حصہ کے برابرہو جاتا تھا۔

    چھوئی کے بیر اور فتح جنگ کی جلیبی

    چھوئی جا نے کے 2 رستے تھے۔ ہم شمالی پہاڑی رستے سے جاتے۔ پڑے سے ہو کر جانے والا رستہ   ساھرہ ھموار  لیکن لمبا تھا۔ عطا کے والد قاضی عبدالعزیز   نے چھوئی میں ڈھوک بنائی ہوئی تھی چھوئی کے بعد ہم بعض اوقات مزید بیر اکھٹے کرنےکے لیے مغرب کی طرف کھدری جاتے تھے۔  رگڑی  بیر   وہ بیر ہے جو درخت پر سوکھ جاتے ہیں۔ ان کی جلد میں پھٹ جاتی۔ وہ میرے پسندیدہ بیر تھے۔ چر ی میں ایک بیر کا درخت ایسا تھا ۔وہاں اب حاجی زمرد کھوکھر کا گھر ہے۔جو بیر کھانے سے بچتے ان کو چھت پر سکھا لیا جاتا لیکن ان کا ذائقہ تازہ بیروں سے کم ہوتا۔

    سلسلہ خوراکاں کادسواں مضمون

  • خالد مصطفیٰ سے گفتگو

    خالد مصطفیٰ سے گفتگو

    خالد مصطفیٰ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، اسلام آباد

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    خالد مصطفیٰ کا اصل نام خالد محمود ہے جب کہ قلمی نام خالد مصطفیٰ ہے جو آپ کے دادا غلام مصطفیٰ کی نسبت سے انھوں نے اختیار کیا ۔ خالد مصطفیٰ 21 مئی 1966ء کو گاؤں حطار تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد عبدالخالق صاحب علاقے کی علمی شخصیت ہیں جو 40 برس تک درس وتدریس سے وابستہ رہے ۔ خالد مصطفیٰ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول حطار سے حاصل کی ۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 فتح جنگ سے کیا ۔ گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ راولپنڈی سے بی اے کرنے کے بعد پاک فوج میں بحیثیت کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کی ۔ تعلیم سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ملازمت کے دوران ایم اے اردو اور ایم ایس سی ابلاغیات کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ 2014 ء میں بحیثیت لیفٹیننٹ کرنل عساکر پاکستان سے ریٹائر ہوئے ۔ خالد مصطفیٰ بہت ساری خوبیوں کے حامل ہیں ۔ اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب ، محقق اور نقاد بھی ہیں ۔ ملازمت کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں رہ چکے ہیں تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ چند روز قبل خالد مصطفیٰ سے جو علمی و ادبی گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے ۔

    خالد مصطفیٰ سے گفتگو

    سوال : آپ دنیائے ادب میں کس طرح وارد ہوئے ۔؟
    جواب : شعر گوئی کا شوق تو شروع سے تھا مگر1981ء میں میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج اصغر مال روڈ راولپنڈی میں داخلہ ہوا تو وہاں پروفیسر یوسف حسن اور ماجد صدیقی جیسے ماہرین فن ہمارے اساتذہ میں سے تھے ۔ ان لوگوں کی تحریک سے شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ کالج کے رسالے "کوہسار” میں میری تخلیقات شائع ہوئیں تو حوصلہ بڑھا ۔ تو یوں ہم دنیائے ادب میں وارد ہوئے ۔
    سوال : کیا آپ کو یاد ہے پہلا شعر کب اور کہاں کہا تھا ۔؟
    جواب : پہلی غزل اس وقت کہی تھی جب میں کالج میں سال اول کا طالب علم تھا ۔
    سوال : آپ کا ادبی سفر ۔؟
    جواب : میرا شعری سفر میرے پہلے شعری مجموعے "خواب لہلہانے لگے” (2004) سے شروع ہوا ۔ تاہم بعد ازاں میں تحقیق کی طرف نکل گیا ۔
    سوال : آپ کی تحقیقی کتب کون کون سی ہیں ۔ ؟
    جواب : میرا پہلا تحقیقی کام "وفیات اہل قلم عساکر پاکستان” تھا ۔ میری یہ کتاب 2014ء میں شائع ہوئی ۔ "وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین” میری دوسری کتاب تھی جو ۔ 2016ء میں شائع ہوئی ۔
    "وفیات پاکستانی اہل قلم علماء” میری تیسری کتاب تھی جو 2018ء میں شائع ہوئی ۔
    2017 ء میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے میری تحقیقی کتاب "قابل اجمیری شخصیت اور فن” شائع ہوئی ۔ اسی سال یعنی 2017ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے میرا مرتب کردہ "منتخب کلام قابل اجمیری” شائع ہوا ۔
    سوال : شاعری کی نسبت آپ کا نثر میں کام زیادہ ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
    جواب : اچھا شعر تخلیق کرنا ایک مشکل کام ہے جب کہ نثر نگاری قدرے آسان ہے اس لئے نثر میں میرا کام زیادہ ہے ۔
    سوال : آپ کو اشعار کہنے میں لطف آتا ہے یا نثر نگاری میں ۔؟
    جواب : دونوں کا اپنا مزہ ہے مگر شعر گوئی کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جب کہ نثر کم وقت میں زیادہ لکھی جا سکتی ہے ۔ مزہ بہرحال شعر گوئی میں ہی آتا ہے ۔
    سوال : زیادہ تر نوجوان نسل کے اشعار شعریت سے خالی پائے جاتے ہیں ۔ اس پر کیا کہیں گے ۔؟
    جواب : مطالعہ کی کمی اور محنت سے جی چرانے کی وجہ سے ایسا ہے ۔
    سوال : فیس بُک اور گوگل کو تحقیق کے میدان میں حوالے کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے ۔؟
    جواب : تحقیقی حوالہ تو کتاب ہی ہے البتہ ان ذرائع سے مدد لی جا سکتی ہے ۔
    سوال : نثر میں آپ کس صنف میں لکھتے ہیں ۔؟
    جواب : نثر میں میرا اصل میدان تحقیق ہے اور تحقیقی کام میں وفیات نگاری میرا موضوع ہے جس پر کم لوگوں نے لکھا ہے ۔
    سوال : کیا نثر میں خیالات کا اظہار شعر کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔؟
    جواب : جی نثر میں اپنے خیالات کے اظہار کے لیے آپ پر پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جب کہ شعر گوئی میں آپ خیالات کو ردیف قافیہ اور دیگر شعری قواعد کی چھلنی سے گزار کر پیش کرتے ہیں جو کہ مشکل کام ہے ۔
    سوال : آپ کا پسندیدہ نثر نگار اور شاعر کون ہے ۔؟
    جواب : مختلف اصناف میں مختلف لوگ پسند ہیں جن کی اسم شماری مشکل ہے ۔
    سوال : آپ اپنی نثر کے ذریعے کیا پیغام قاری کو دینا چاہتے ہیں ۔؟
    جواب : ہر تخلیق کار چاہتا ہے کہ اس کے لکھے ہوئے ہر لفظ سے لوگ استفادہ کریں ۔ استفادہ حاصل کرنے کا طریقہ قاری پر منحصر ہے ۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ لوگ میرے لکھے گئے لفظوں سے حظ اُٹھائیں اور ان سے فیض یاب ہوں ۔

    maqbool

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • مارشل لاء، فتح جنگ کا بازار اور رمضان

    مارشل لاء، فتح جنگ کا بازار اور رمضان

    رمضان میں سحری گھی شکر کے ساتھ کی جاتی تھی۔دیسی گھی خریدنے کے لیے ایک دفعہ بچہ لوگ ہرنیاں والا گئے ۔ 1969 میں ہم لوگ اٹک تھے ۔ مجھے گھی لینے کے لئے  فتح جنگ بھیجا گیا ۔ تازہ تازہ یحیٰ خان کا  مارشل لا لگا تھا۔ اس کے مطابق بازار کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر تھے ۔ جب میں فتح جنگ پہنچا تو بازار بند تھا۔ نور عالم ، میر عالم باقی دکانداروں کی طرح دکان کے باہر بیٹھے بازار کھلنے کے فوجی وقت کا انتظار کر رہے تھے ۔نور عالم صاحب فرمانے لگے ۔ ماں ،بہن گھر کے کام میں مصروف ہی بھلی لگتی ہے۔ ہم دکاندار جس طرح بیکار بیٹھے فوجی وقت کا انتظار کر رہے ہیں یہ کوئی مناسب بات نہیں ۔ نور عالم صاحب ہول سیل، آڑھت اور نمک کی ایجینسی کے مالک تھے ۔ہم لوگ دیسی گھی اور راک سالٹ ان سے لیتے تھے ۔

    ghee

       لسی میں پتھر نمک کی کھٹی ڈالی جاتی اور مناسب وقت پر نکال لی جاتی۔ دکان پر پسا ہوا نمک نہیں ہوتا تھا ۔ گھر میں حسب ضرورت لنگری میں نمک میں پیس لیا جاتا ۔نمک ، مرچ رکھنے کے لئے چھ خانوں والا لکڑی کا باکس تھا اس کے اوپر سلائڈنگ کور تھا۔ اس باکس کا نام تھا "لونكي "۔

      چائے میں بھی نمک ڈالا جاتا اس کا مقصد گڑ کی بچت تھا۔ اب جا کر میڈیکل سائنس کو پتہ چلا ہے کہ نمک اور گڑ ایک دوسرے کے ہاضمے میں مدد کرتے ہیں ۔اس کی بنیاد پر  نمکول بنایا گیا ہے ۔بچی ہوئی لسی میں تیل ڈال کر نیچرل شیمپو بنا لیا جاتا ۔ اگر لسی کو بضرورت پھینکنا پڑتا تو اس کو ایسی جگہ ڈالتے جہاں اس کے اوپر پاؤں آکر بےادبی نہ ہو ،یہ تھا رزق کے ادب کا کمال۔

    مارشل لاء، فتح جنگ کا بازار اور رمضان
    لونكي

      کسی کی کھانے کی دعوت کا عجیب اسٹائل تھا۔اس کے گھر والوں کو جا کر کہتے ،”اج ۔ڈاکٹر صاحب نی روٹی نہ پکیسو "۔ اس کو آسان اردو میں  روٹی ہوڑنا / منع کرنا کہتے تھے ۔ ہمارے گھروں میں مستری حضرات ہرنیاں والا سے آتے اس نسبت سے ان کا نام  ہرنوچ  تھا۔ بچپن میں یہ نام بلوچ کی طرح رعب دار اور امپریسیو لگتا تھا۔ یہ حضرات تعمیری کام کے سلسلے میں ہفتوں قیام کرتے ۔ ان کے لیے کھانا بڑے اہتمام سے تیار ہوتا۔ دس بارہ سال پہلے قاضی طاہر اسحاق کے ساتھ  کھدری کے کھیتوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پٹواری صاحب وزٹ پر آئے ہوئے تھے۔ ہمارے سامنے دو خواتین کھاریاں بھر کے کھانا لائیں ۔ کھانے کے اہتمام اور ورایٹی دیکھ کر پٹواری صاحب کی قسمت پر رشک آیا۔

    rock salt
    Image by Pictavio from Pixabay

    جامع مسجد میں مسافر خانہ تھا۔ اس میں کپڑے بیچنے والے پٹھان قیام کرتے تھے ۔ وہ مغرب کے بعد اعلان کرتے ،”مسیتی ناں مسافر آں "،یہ اعلان سن کر لوگ ان کے لیے کھانا لے آتے۔ مغرب کی نماز میں اجنبی چہرہ دیکھ کر اسے مہمان سمجھا جاتا۔اس کے اعلان کے بغیر آہستہ سے اس کے کان میں کہہ دیتے , "آپ فکر مند نہ ہوں میں کھانا لا رہا ہوں”۔

    1985 کی بات ہے میں نے مغرب جامع مسجد میں پڑھی ۔ نماز کے بعد صوفی غلام حسین مجھے مسافر سمجھ کر میرے پاس آیا اور چپکے سے کہا ۔آپ فکر مند نہ ہوں میں کھانا لا رہا ہوں۔ میں نے تعارف کروایا اور عرض کی کہ میں   سسرائیل   کے سرکاری دورے پر ہوں ،میرے قیام و طعام کی آپ فکر نہ کریں۔

    سلسلہ خوراکاں کا آٹھواں مضمون

  • خالو شکاری اور شکار کا گوشت

    خالو شکاری اور شکار کا گوشت

    ہمارے ماسٹر بیڈ روم کی کھڑکیوں میں جالی لگی ہوئی تھیں ۔ کبھی کبھی دروازے سے چڑیاں اندر آجاتیں ۔ہم فٹافٹ دروازہ بند کردیتے ۔چڑیاں کھڑکیوں سے نکلنے کی کوشش کرتیں لیکن جالی کی وجہ سے پھنس جاتیں اور ہم ان کو پکڑ لیتے ۔۔ان کو ذبح کرکے شام کو پکا لیتے ۔ مُصَلِی فیملی بٹیرے فصلوں سے پکڑ کر بیچتے تھے ، کبھی ٹیسٹ چینج کرنے کے لیے ان سے بٹیرے خرید کر پکا لیتے۔

    بابے ملوں کی پڑی کو میں دو چار دن بعد وزٹ کرتا ۔ کبھی چوہنگیں ہاتھ آتیں اور کبھی سفید کھمیں (mushroom) مل جاتیں ۔ شام کو امی جان پکاتیں۔ کالی چھتری نما مشروم کھاد کی ڈھیروں پر عام ہوتیں۔ ان کو ۔۔پدبھیڑا۔۔کہتے ۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کو ہندو۔کھاتے ہیں ۔۔شاید وہ زہریلی مشروم ہوں گی ۔

    خالو اختر صاحب شکار کے شوقین تھے۔ وہ خرگوش، ہرنی اور کونج کا شکار کرتے تھے۔  ہمارے پڑوس کے دو گاؤں ہرنیاں والا اور ہر نیالی کے ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں آس پاس کے جنگلوں میں ہرن زیادہ ہوتے ہوں گے.خالو اختر صاحب کے گھر ہرن کی کھال کا مُصلّیٰ 1970 تک موجود تھا۔ شام کو جب خالو شکار سے واپس آتے تو خالہ جان  آڈٹ (Audit)  کے لیے تیار بیٹھی ہوتیں۔ پہلے گوشت کے وزن اور اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جاتا۔ پھر شکار کے دوران چلائے گئے کارتوسوں کی قیمت لگائی جاتی ، جمع تفریق کے بعد فیصلہ صادر ہوتا کہ سراسر نقصان ہوا ہے۔ کی فیدہ  اس شکارے ناں ۔  خالو جان نہایت خاموشی سے یہ تقریر دلپزیر سنتے اور مغرب کی نماز کے لیے مسجد چلے جاتے ۔خالہ کا اور ہمارا صحن کامن تھا۔اس لئے ہمیں بھی شکار کا گوشت مل جاتا تھا۔

    خالو شکاری اور شکار کا گوشت

    انڈے کے بارے میں پتہ نہیں تھا کہ یہ بھی کھانے کی چیز ہے ۔ہم اسے صرف چوزے نکالنے کا ذریعہ سمجھتے تھے. ٹماٹر کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے صرف فضول خرچ زنانیاں کٹوی پکانے کے لیے استعمال کرتی ہیں ۔

    سہ پہر کو بھٹیارن کے ہاں جا کر ہوئی مکئی یا چنے بُھنواتے .کھیتوں سے آئے ہوئے پتوں والے سبز چنے تنور میں رکھ دیے جاتے تھے کہ خستگی آ جائے- کبھی کبھی کالے چنے‘ جنہیں فارسی میں ’’نخودِ سیاہ‘‘ کہتے تھے‘ دوپہر کو تنور میں برتن بند کر کے رکھ دیے جاتے تھے .اس میں نمک ڈالا جاتا اور سہ پہر کو یہ گھگھنیاں بطور  چاٹ کھائی جاتی تھی ۔ جو آدمی ضروری بات بھی نہ کرے اس کو کہتے ہیں کہ  یہ منہ میں گھگھنیاں ڈالے بیٹھا ہے ۔ محکمہ زراعت میں شاید اب بھی کوئی پرانی فارسی دان روح بیٹھی ہوئی ہے جس کے حکم پر وال چاکنگ ہوتی ہے ،نخود کاشت کریں۔   کھوڑ فتح جنگ روڈ پر سرلا  پاس کے آس پاس یہ وال چاکنگ دیکھی تھی۔

    سلسلہ خوراکاں کاساتواں مضمون

  • ایک صدی کا قصہ،فتح جنگ ہائی اسکول

    ایک صدی کا قصہ،فتح جنگ ہائی اسکول

    گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر ۱ فتح جنگ

    ایک صدی کا قصہ ہے ،دو چار برس کی بات نہیں

    تحریر : آصف جہانگیر خان ، فتح جنگ

     ہمارے اردگرد کئی قابل فخر شخصیات اور ادارے موجود ہیں جن کے بارے میں جتنا بھی بتایا جائے اتنا ہی کم ہے۔فتح جنگ کی تاریخ اور شخصیات کے بارے میں ہمارے اس سفر کی آج کی منزل شہر کی قدیم درسگاہ گورنمنٹ بوائز ہائی ا سکول نمبر ا ہے۔ اس اسکول نے سینکڑوں لوگوں کی تقدیریں بدلی ہیں۔اسکول کی ابتداء 1920ء میں ہوئی۔ یہ ڈسٹرکٹ بورڈ کا اسکول تھا-اسکول کی عمارت پر سنگ مرمر کی تختی لگی ہے جس پر ڈی بی ہری چند اسکول کا نام درج ہے۔1928ء میں اسے ہائی ا سکول کا درجہ ملا۔اسکول سے مشرق کی جانب دو بڑے کمروں پر مشتمل ہوسٹل تھا۔ جسے بعد میں کلاس رومز بنا دیا گیا۔انہی میں سے ایک کمرہ اب ہائی اسکول کا مین ہال ہے جہاں تقریبات اور دیگر ایونٹس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اسکول کی عمارت کے نقشے کے مطابق اسکول کی مغرب جانب دسویں جماعتوں کے کلاس رومز ہیں۔ جبکہ مشرقی جانب دونوں طرف چار چار کمروں کے بلاک ہیں جن کے درمیان گیلریاں ہیں اور کھیل کی میدان کی طرف برآمدے بھی بنے ہوےٗ ہیں۔

    ایک صدی کا قصہ،فتح جنگ ہائی اسکول

    کسی زمانے میں ہال والی سائیڈ کی طرف دو کچن ہوا کرتے تھے۔جن کی عمارت ستر کی دہائی تک قائم رہی۔ان میں ایک ہندو کچن جبکہ دوسرا مسلم کچن تھا۔بعد میں ان دونوں کو سائنس روم اور ڈرائنگ روم میں تبدیل کردیا گیا۔دوکمرے جانب مغرب اور تین کمرے جانب مشرق ٹاوٗن کمیٹی نے بنوا کردیے تھے۔

    عجیب حسن اتفاق ہے کہ 1927ء سے 1947ء تک کے سارے وقت میں یہاں سارے ہیڈ ماسٹر صاحبان مسلمان ہی رہے۔اس سکول کے پہلے ہیڈ ماسٹر جناب ظفر احمد صاحب تھے۔ دوسرے ملک اگر خان، تیسرے مفتی محمد اسلم اور چوتھے خان غلام خان نیازی تھے جن کو آج تک لوگ یاد کرتے ہیں۔اسی اسکول میں ایک اور مشہور ہیڈماسٹر ملک فضل الہی بھی گزرے ہیں جوکہ پنڈ ی سرہال گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔انتہائی پڑھے لکھے اور اس زمانے میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا ہوا تھا۔جبکہ فارن کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہولڈر بھی تھے۔کلاہ باندھے ہوتے اور ان کے زمانے کے لوگوں کے مطابق سکول میں جمعہ کی نماز کی امامت بھی خود ہی کرایا کرتے تھے۔وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اٹک شہر میں وکالت کرتے رہے۔ اٹک بار میں ان کی تصویر آج بھی آویزاں ہے۔ان کے بیٹے عبدالروف ملک بھی اٹک کے چوٹی کے وکیل تھے۔اور ان کی بہو بیگم روف اٹک گرلز اسکول کی ہیڈمسٹریس رہیں۔اس اسکول کے پی ایچ ڈی ہیڈماسٹرز میں دوسرے تھٹی گجراں گاوٗں سے تعلق رکھنے والے چوہدری اجمل صاحب ہیں جوکہ ہمارے استاد محترم چوہدری محمد اعظم کے صاحبزادے ہیں۔حسن اتفاق ہے کہ والد کے بعد بیٹا بھی اسی اسکول میں ہیڈماسٹر کے طور پر فریضہ سرانجام دیتا رہا۔

    Asif Jahangir Group
    خان اقبال (درمیان )، آصف جہانگیر(سویٹر والے) اور عبدالعزیز 1968

    ملک فضل الہی صاحب کے بعد ایک طویل اور شاندار دور ملک نور زمان صاحب کا تھا۔ملک نور زمان صاحب 1938ء میں رنگلی تحصیل جنڈ میں پیدا ہوےٗ۔ابتداییٗ تعلیم سناتن دھرم سکول جنڈ سے حاصل کی۔ جہاں لالہ امرناتھ اور لالہ بھوانی داس ان کے استاد تھے۔ساتویں جماعت میں تھے کہ پاکستان بن گیا۔پھر انہوں نے سر اسکندر میموریل اسکول بسال میں داخلہ لیا اور نذیر قریشی کے شاگرد ہونے شرف حاصل کیا۔ سابق ISI چیف جنرل ر شجاع پاشا انہی نذیرقریشی صاحب کے بیٹے ہیں۔میٹرک اٹک اسکول سے 1950 میں کیا۔ شمس آباد کی سیاسی شخصیت ملک اسلم ان کے کلاس فیلو تھے۔ اٹک کالج میں پروفیسر سعادت علی خان۔کمانڈر ظہور اور پروفیسر عثمان کے شاگرد رہے۔وہ 1960 سے فتح جنگ اسکول کے سیکنڈ ہیڈماسٹر رہے۔

    12اپریل 1967ء کو میں چھٹی جماعت میں داخلے کے لیےوالد صاحب کےساتھ ہاییٗ اسکول گیا۔ اسکول کے دفتر میں ہیڈماسٹر فیض الحسن شاہ صاحب تھے۔ کے علاوہ خان محمد اقبال خان صاحب اور ملک نورزمان صاحب بھی موجود تھے۔

     ملک نورزمان صاحب اس وقت سیکنڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔لیکن اسکول پر رعب اور دبدبہ انہی کا چلتا تھا۔دبلا پتلا سمارٹ جسم، ہمیشہ صاف ستھرے پینٹ سوٹ میں ملبوس ہوتے۔۔تیز چلتے، تیز بولتے اور تیزی سے حکم چلاتے۔یوں محسوس ہوتا جیسے اس مختصر جسم میں بجلیاں بھری ہوییٗ ہیں ۔ ملک نور زمان صاحب 1975ء میں اسکول کے ہیڈماسٹر مقرر ہوےٗ۔اور 1993ء میں اسی اسکول سے بطور ہیڈماسٹر ریٹایٗرڈ ہوےٗ۔ ملک نورزمان صاحب ایک بہت ہی قابل استاد اور نہایت جرات مند منتظم رہے۔۔سکول کی 90 سالہ تاریخ میں ان کی ہیڈماسٹری کا دور سب سے طویل ہے۔ انہوں نے اس ادارے کو اپنی محنت، لگن اور جانفشانی سے چار چاند لگا دیے۔ -ملازمت کے بعد ملک نور زمان صاحب یاداللہ میں محو ہوگےٗ۔ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اب تک ماشاء اللہ اکیس حج کرچکے ہیں۔ان کے بعد مشتاق عاجز صاحب جیسے کہنہ مشق شاعر، فلاسفر اور درویش ہیڈماسٹر رہے۔

    خان محمد اقبال خان مقصود ہمیں چھٹی جماعت سے ہی انگریزی پڑھانے لگے۔ان کا تعلق ناڑہ تحصیل جنڈ سے تھا۔ آپ 1927ء کو اولیاء خان کھٹڑ کے گھر پیدا ہوےٗ۔ مقصود صاحب اپنے بچپن کے ہندو اساتذہ کو بہت یاد کرتے تھے۔انہوں نے عملی زندگی کا آغازپرایٗمری ٹیچر کے طورپرکیا۔ تعلیم ایم اے تک پرائیویٹ ہی رہی جب کہ ایم ایڈ انہوں نے لاہور سے کیا۔ حضرو سے ان کا تبادلہ فتح جنگ میں 1960ء میں ہوا۔ اور پھر وہ اسی شہرکے ہو کر رہ گےٗ۔ہایٗ اسکول فتح جنگ میں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ساری غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ سید فیض الحسن شاہ صاحب کے دور میں 1965ء میں اسکول کے ادبی مجلہ خورشید کا اجراء کیا۔ اسکول کے بچوں کی لکھی نظمیں اس میں شایع کیں۔اس مجلہ میں ایک مستقل کالم کیکروں کے ساےٗ میں سارے حالات لکھتے۔ خورشیدکا دوسرا شمارہ 1969 میں شایع ہوا جب ملک نور زمان ہیڈماسٹر تھے۔ میں اس وقت آٹھویں جما عت کا طالبعلم تھا۔ اس شمارہ میں میرا مضمون بھی شایع ہوا۔خان محمد اقبال صاحب بیک وقت شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس تھے۔۔انہوں نےا سکول میں کیٗ ڈرامے لکھے بھی اور انہیں سٹیج بھی کروایا۔ 1965ء کے دور میں جو پہلا ڈرامہ اسکول میں سٹیج کیا گیا تھا وہ ڈرامہ ہیرا پتھر تھا۔دوسرا ڈرامہ ٹیپو سلطان، پھر محمد بن قاسم، ضرب ابدالی، شیر خوارزم اور سنگ میل جیسے لازوال تاریخی ڈرامے سٹیج کیے گےٗ۔پس منظر میں ان کے بولے گےٗ ڈائیلاگ ابھی تک کانوں میں گونجتے ہیں۔ان کی لکھت کسی طرح بھی ناول نگار نسیم حجازی سے کم نہیں تھی۔اور پھر ان کے سٹیج کرنے کا فن اس ہنر کو دوآتشہ کردیتا تھا۔مجھے ساری زندگی حسرت رہی کہ کاش وہ مجھے بھی کسی ڈرامے میں کاسٹ کرتے۔حالانکہ انہی کی تربیت کی بدولت میں تقریری مقابلوں میں پیش پیش ہواکرتا تھا۔بزم ادب کا 1970ء میں جنرل سیکرٹری رہا۔اسی دور میں ایوب خان کا جشن صدسالہ بھی منایا گیا۔ اور جشن نزول قرآن پاک کی مبارک تقریب کا بھی انعقاد ہوا۔

    بقول ڈاکٹر عبدالسّلام

    میرے نانا جی فتح جنگ میں نائب تحصیلدار تھے اس لیے خاندان کے بچوں کے لیے اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یہ باسہولت مقام تھا۔ میرے والد قاضی عبدالقدوس (1928-2003) نے سن 1945ء میں پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی اسکول فتح جنگ سے پاس کیا۔ میرے پردادا کا نام محمد جان تھا۔ میٹرک کی سند میں (Mohd John) جبکہ انٹر کی سند میں اسے (Mohd John) لکھا گیا۔ اسکول اور دفاتر کے عملے نے یا تو آسانی کے لئے اور یا پھر برطانوی افسران کی خوشنودی کے لئے جان کو جون کر دیا ۔ اسی طرح سے کامل پور سیدان بہت پہلے کیمبل پور سیدان میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ جان سے جون کے بارے میں ایک اور قدرے پیچیدہ وضاحت یہ بھی ہو سکتی ہے ، شاید کہ وہ اسکاٹش نژاد تھا جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ لہذا مصنف ایک مستند اسکاٹ ہے۔   کی سمجھے او جناب  

    certificate of matriculation
    عبدالقدوس صاحب کی میٹرک کی سند 1945، پنجاب یونیورسٹی برطانوی ہند

    سن 1945 میں پنڈ ی سرہال کے ملک فضل الہی صاحب  میرے والد قاضی عبدالقدوس کے استاد تھے۔ جب ملک صاحب پہلی بار اسکول میں آئےتو انہوں نے تمام طلباء کو پگڑیاں پہنے دیکھا۔ ملک صاحب نے کہا "حضرات ، پگڑیاں اتاریں اور اپنے دماغوں کو تازہ ہوا لگوائیں”۔ طالب علموں نے ایسا ہی کیا، اگلے پیریڈ میں ایک اور استاد کمرہ جماعت میں داخل ہوئے، ننگے سر لڑکوں کو دیکھ کر  گھبرا کر بولے یہ کیا بکواس ہے؟ طلبہ نے ملک صاحب کا حکم سنایا۔ استاد نے کہا… ملک صاحب کی کلاس میں جیسا وہ چاہیں کریں، لیکن باقی کے پیریڈوں میں شرفاء کی طرح پگڑیاں پہن کر رکھیں۔

    ملک فضل الٰہی ایڈووکیٹ گورا قبرستان اٹک کے قریب رہتے تھے۔ان کے بیٹے ملک عبدالرؤف بھی وکیل تھے۔ لیکن اکثر لوگ انہیں بیگم  رؤف کے شوہر کے طور پر ہی جانتے تھے۔ وہ 1967 سے 1976 تک ہائی اسکول اٹک میں میری بیوی اور بہنوں کی استانی تھیں۔ بریگیڈیئر ڈاکٹر اعظم خان آئی سپیشلسٹ اور خاقان بیگم رؤف کے بیٹے ہیں۔

    میں نے انہیں آخری بار 1998 میں سی ایم ایچ کھاریاں میں دیکھا تھا جب ڈاکٹر اعظم وہاں تعینات تھے۔ میرے والد قاضی عبدالقدوس نے ملک فضل الٰہی کے بارے میں ایک پیشہ ورانہ لطیفہ سنایا۔ ملک صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد وکیل کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کیا۔ ہوا یوں کہ ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، اس کے اہل خانہ نے ملک صاحب سے ملاقات کی اور اس قتل کی المناک داستان سنائی۔ گداز دل  ملک صاحب یہ واقعہ سن کر باقاعدہ  رونے لگے۔ متاثرہ خاندان نے ملک صاحب کو تسلی دی اور کسی اور وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔

    magazine
    فتح جنگ ہائی اسکول کا مجلہ خورشید

    میرے چچا قاضی مشتاق (1934-2013) نے 1953 میں گورنمنٹ ہائی اسکول فتح جنگ سے مڈل اسکول کا امتحان پاس کیا۔ ان کے مضامین ریاضی، اردو، انگریزی، سائنس ، تاریخ اور اسلامیات تھے۔میرے ماموں احسن قاضی نے 1966 میں اس اسکول سے میٹرک پاس کیا۔  اس کی تصدیق مجھے فتح جنگ اسکول کے میگزین خورشید کے پہلے شمارے کی ورق گردانی کے دوران ہوئی، جو مجھے 1960 کی دہائی کے اواخر میں ماموں احسن کی کتابوں میں سے دستیاب ہوا۔ احسن قاضی ایم۔ ڈی  1980 سے کیلیفورنیا میں پلمونولوجسٹ ہیں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میں پڑھنے والے میرے خاندان کے آخری افراد میرے خالہ زاد ثاقب ریاض اور آصف ریاض تھے۔ ثاقب ریاض فتح جنگ میں بشیر خان (آصف جہانگیر کے بھائی) کے ہم جماعت تھے۔ بشیر خان پی ایچ ڈی ہیں اور ثاقب نے بلومنگٹن سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ کی ہے۔

  • پرانے فتح جنگ کی ایک جھلک

    پرانے فتح جنگ کی ایک جھلک

    تحریر : آصف جہانگیر خان فتح جنگ

    13 مارچ1927ء کو سمال ٹاوٗن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں میاں ریاض الدین خان تحصیلدار بطور پریذیڈنٹ شریک ہوےٗ۔  وایٗس پریذیڈنٹ خان سمندر خان بھی موجود تھے۔ ممبران میں خان محمد خان ذیلدار، خان احمد خان، خان ولی داد خان، لالہ نہال شاہ، ارجن داس  اور نرایٗن داس  موجود تھے۔

    تحصیلدار ریاض الدین خان کا فتح جنگ سے تبادلہ ہوچکا تھا۔ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے ایک ممبر کمیٹی  نے حرف ستایٗش کے لیے ایک قرارداد پیش کی۔

    یہ قراداد  بھی ایک دلچسپ مضمون تھا جس میں برسوں پرانے فتح جنگ کی معاشرت کی جھلک ملتی ہے وہیں اس کے مکینوں کی ذہنی اپروچ کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس تحریر کے آیٗنے میں ہم آج کے اپنے چہرے کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔

    اس وقت غلامی کا دور تھا اور قرارداد پیش کرنے والا ہندو تھا۔ حرف ستایئش ایک مسلمان کے لیے تھے  بلکہ ایک افسر کے لیے تھے  جس کی کرسی کو سلام کرنا  تھا۔آج ہم کہاں کھڑے ہیں یہ تو  لالہ ارجن داس کے خطبہ کو پڑھ کر ہی اپنے نہاں خانہ دل میں جھانک کر معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    لالہ ارجن داس نے اپنے خطبہ حرف ستایٗش میں کہا  کہ جناب میاں ریاض الدین صاحب تحصیلدار بہ عہدہ پریذیڈنٹ تخمینا دوسال سے ممتاز ہیں اور اب اس شہر سے تبدیل ہوکر تشریف لے جارہے ہیں۔اس عرصہ میں آپ نے سمال ٹاوُن کمیٹی فتح جنگ کے کام کو نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیا جن میں سے بعض کارنامے نہایت ہی قابل تعریف ہیں۔

    سب سے اول جب آپ نے کمیٹی مذکورہ کا چارج لیا تو دفتر کمیٹی میں جو عرصہ سے بے قاعدگیاں چلی آرہی تھی، ان کو رفع کیا۔دن رات محنت کرکے آڈیٹر صاحبان کے ہمراہ ہوکر دفتر کی پڑتال کی اور جملہ اعتراضات کو رفع کیا۔

    بوقت چارج عرصہ سال 1910ء سے جبکہ Notified Area کمیٹی مذکورہ کا انضباط ہوا۔ اس وقت کے بقایا جات اور ٹیکس کی طرف توجہ دی۔اور قلیل عرصہ میں جملہ بقایا جات کو نہایت جانفشانی سے صاف کیا اور فنڈ کمیٹی نے جلد ترقی کی۔

    کمیٹی مذکورہ کے آغاز سے 1925ء تک ماہ مئی یعنی جب آپ تشریف لاےٗ تو کمیٹی کی آمدنی صرف چار ہزار روپے تھی مگر آپ کے قدم مبارک سے آمدنی میں دن  دوگنی را ت چوگنی ترقی ہونا شروع ہوگیٗ۔آجکل تقریبا چھ ہزار روپے سالانہ آمدنی ہے۔ آمدن کے دو بڑے محاصل جو آپ کے حسن تدبیر اور عالی دماغ کے نتیجہ میں ہیں۔ درج ذیل ہیں

    ماہ جنوری  میں آپ نے گاڑیوں کے ٹیکس کا حسب ضابطہ اجراء کیا جس کی ماہوار آمدن شروع شروع میں دو صد رہی۔اس لافانی  یادگار کو سہرا آپ کے سر ہے، بعد ازاں فنڈ کمیٹی میں نہایت تیزی سے ترقی ہویٗ۔

    بعد ازاں آپ نے اپنا قیمتی صرف کرکے افسران بالا کی خدمت میں منڈی مویشیاں  ہفتہ وار ی کے انعقاد کے لیے کوشش کی۔آپ اس کوشش میں کامیاب ہوےٗ۔ فنڈ کمیٹی کی ترقی ہوییٗ۔قصبہ کی بہتری، رونق، تحصیل کی سہولت کے لیے ہفتہ وار منڈی مویشیاں کا پودا لگایا جو فروری سے شوع ہوییٗ۔اس بے نظیر یادگار کا جھنڈا تازیست آپ کے حسن تدبر سے لہراتا رہے گا۔

    بعد ازیں  آپ نے حفاظت کے لیے رخ تبدیل کیا۔بوقت خطرہ ڈکیتی آپ نے افسران بالا سے منظوری حاصل کرکے چوک بازار میں ایک پختہ مورچہ تعمیر کرایا۔اور قصبہ میں گورکھا کا انتظام کیا بلکہ پولیس کا پہرہ بھی آپ کے حسن تدبر کا نتیجہ ہے۔

    آپ نے قصبہ کی صفاییٗ کا انتظام نہایت اعلی پیمانے پر کیا۔گلیوں،سڑکوں اور بازاروں کی صفاییٗ آج کل آپ کے حسن انتظام سے نہایت عمدہ ہے۔رفاہ عامہ کے لیے آپ نے سڑک از تھانہ تا ہسپتال کو مرمت کرایا۔مذکورہ سڑکوں  کی حالت بہت خراب تھی۔مگر آپ کی کوشش سے آج کل موٹریں اور تانگے باآسانی چل رہے ہیں، پھر آپ نے بازار اور گلیوں کی طرف توجہ دی۔ جند ایک گلیو ں میں جہاں دن کے وقت بھی انسان کا گزرنا مشکل تھا اب لوگ آنکھیں بند کرکے گزر سکتے ہیں

    شہر میں عرصہ دوسال سے کوییٗ روشنی کا انتظام نہیں تھا۔آپ کے قدم رکھنے سے شہر کا کونہ کونہ پر لیمپ روشن ہے۔ سب قصبہ کی شب دن کی مانند روشن ہے(کتنا خوبصورت اور حسین تخیل ہے)

    آپ نے تالابوں اور کنووٗں کا انتظام  کرنے کے لیے اپنی کوشش خاص سے قواعد مرتب کیے۔قصبہ کے بدمعاشوں اور چورچکاروں کی خوب خبرلی اور اب کوییٗ چوری وغیرہ عرصہ دوسال سے شہر میں آپ کے رعب داب او رحسن انتظام کے باعث نہیں ہوییٗ۔

    یہ شہر کی قلمی تصویر تھی جو لالہ ارجن داس نے 1927 ء میں پیش کی تھی۔

    دراصل فتح جنگ میں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن معیشت کی رگوں پر ہندوٗں کا قبضہ تھا جس کے لیے ان اُن کی کاروباری صلاحیت کو سراہا بھی جانا چاہیے۔

    عددی اکثریت کے بل بوتے پر تقریبا چار مسلمان ممبر کمیٹی ہواکرتے تھے۔بلکہ آزادی تک وایٗس پریذیڈنٹ کا عہدہ مسلمانوں کے پاس تھا۔1910ء میں کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور 1924ء میں سمال کمیٹی کا درجہ ملا۔پہلے وایٗس پریذیڈنٹ خان سمندر خان تھے جبکہ میاں ریاض الدین پریذیڈنٹ تھے۔

    خان سمندر خان ہی کے دور میں فتح جنگ میں سٹریٹ لایٗٹ کا آغاز ہوا۔ ابتداء میں بیس لیمپ لگاےٗ گےٗ اور ساتھ ہی ان امور کا فیصلہ کیاگیاکہ چاندنی راتوں کے علاوہ روشنی کتنے وقت تک رہے گی۔تیل کا فی گھنٹہ خرچ، تیل کا اندراج براےٗ خرچ  اور چار ممبروں کی سب کمیٹی اس روشنی کے انتظام کے لیے مقرر کی گیٗ۔

    اس دوران بڑے دلچسب واقعات ہوےٗ جو اس دور کے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔لالہ ارجن داس ایک طرف تو پریذیڈنٹ کے لیے رطب اللسان تھے اور دوسری طر ف انکوایٗری کمیٹی کے ہیڈ تھے۔جو تحقیقی کررہی تھی کہ جو بیس لیمپ پنڈی سے بذریعہ ریل گاڑی منگواےٗ گےٗ، ان میں سے آٹھ لیمپ راستے ہی میں ٹیڑھے ہوگےٗ۔مستری شریف ولد کمال لوہار نے بیس لکڑی کے کھمبے لگاےٗ جن پر لیمپ فٹ کیے گےٗ۔ مستری شریف کو گیارہ روپے ان کھمبوں کی مزدوری ادا کی گیٗ۔پنڈت فرایٗن داس، نہال چند آیٗل مرچنٹ سے چار عدد ٹین تیل کے لیے گےٗ۔جن کی قیمت سولہ روپے بارہ آنے ادا کی گیٗ۔

    لالہ ارجن داس ایک طرف اپنے خطبہٗ ستایٗش میں کہتا ہے کہ فتح جنگ کی شب روز روشن کی طرح چمک رہی ہے۔جبکہ محر ر کمیٹی نے انوقتوں کے روزنامچہ میں لکھا تھا کہ شرقی محلہ میں واقع پرانا تھانہ (جہاں پروفیسر کاظمی صاحب کا گھر ہے) جہاں ستیا رام رہتا تھا اس لیمپ کو کسی نے مع کپی و شیشی کے اٹھالیا۔ اس کے علاوہ دو لیمپ چوک متصل دھرم سال نرنکاریاں میں رکھے گےٗ جوکہ مع چمنیوں کے اٹھالیے گےٗ۔فتح جنگ میں اس روشنی کا خرچ پورا کرنے کے لیے  شمع جدید  کا ٹیکس لگا دیا گیا۔جوکہ ایک نیٗ اختراع تھی آج کل کے مختلف قسم کے ٹیکسوں کی اقسام کی طرح۔

    لالہ ارجن داس نے اپنے خطاب میں شہر میں صفاییٗ کا ذکر بھی کیا تھا۔جبکہ اسی دور میں ایک اجلاس میں یہی لالہ ارجن داس شہر میں صفاییٗ کے حوالے سے لکھتے تھے کہ شہر کی گلیوں اور شاہراوٗں میں مٹی کے ڈھیر اور پتھروں کے ڈھیر لگے ہیں۔

    جن سے شہر میں صفاییٗ وغیرہ میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور راستہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے پبلک کو سخت دقت پہنچتی ہے۔(برسوں گزرنے کے باوجود ابھی تک انتظامیہ اور شہری صفاییٗ کا خاص نظام وضع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔اب تو سڑکوں کے کنارے کوڑے کے ڈھیر لگا دیے جاتے ہیں اور ان کی بدبو سے دل و دماغ شہری روشن کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کرے ہفتہ صفاییٗ منانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو مناسب طریقے سے کوڑا پھینکنے کا بھی کوییٰ نظام لایا جاےٗ)

    جہاں اب استاد ادریس کا مکان ہے  اس کے سامنے مندر تھا او ریہ گلی  (گلی مندر جوگیاں) کہلاتی تھی۔یہاں اردگرد ہندووٗں کی دوکانیں تھیں جہاں رات کو گیس کے ہنڈے جلتے۔ہندو بھگت گیر وے رنگ کی چادریں باندھے مندر جاتے۔ مندر میں بھجن کے گانے کی آوازیں آتیں  تاہم یہ آوازیں مسجد اندر کوٹ سے اللہ اکبر کی صدا سے دب جاتی۔اس گلی کے ہندو  بگلا بھگت گندگی پھیلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ ان میں مسلمانوں جیسی طہارت کا کوییٗ تصور نہیں تھا۔یہاں غلاظت کا بہت بڑا ڈھیر تھا جس کو لالہ ارجن داس نے ہی موقع پر آکر ملاحظہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ واقعی وہاں غلاظت کا بڑا ڈھیر ہے جبکہ اپنے خطبہٗ ستایٗش میں انہوں نے شہر کی صفاییٗ کے گن گاےٗ تھے۔

    یہ دوعملی کیسی تھی؟ کیا یہ اس دور کاخاصہ تھا؟ یا کیا ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ یہ سب ہندو کی نفسیات کا حصہ تھا۔

    جبکہ آج اگر دیکھا جاےٗ تو ایک صدی کے عرصے کے بعد بھی صورتحال ویسی ہی نظر آتی ہے۔

    چاپلوسی اور خوشامد کا میدان بہت سارے نےٗ لوگوں نے سنبھال لیا ہے

    انتخابات میں شہر کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے کوییٗ پلاننگ نظر نہیں آتی۔فنڈز کی کمی اور ترقیاتی کاموں سے بے اعتناییٗ آج بھی ویسی کی ویسی ہے۔

    آج کے ہمارے معاملات کیسے ہیں؟

    ان تمام سوالات کا جواب آپ پر ہی چھوڑتا ہوں۔