Tag: فتح جنگ

  • ذرا عمر رفته کو آواز دینا

    ذرا عمر رفته کو آواز دینا

    تحریر : آصف جہانگیر خان  فتح جنگ  

    مارچ  1962ء کو  رتہ سکول فتح جنگ میں  ہیڈ ماسٹر جناب قاضی محمد دین صاحب نے سکول کا 31 واں سالانہ نتیجہ سنایا۔ صرف پاس ہونے والے طلباء کے نام پکارے گئے۔ ان میں  میرا نام شامل نہیں تھا ۔میں گھر آکر خوش ہورہا تھا کہ  فیل ہوگیا ہوں۔ نئی کتابیں نہیں پڑھنی پڑیں گی۔ بعد میں پتہ چلا کہ ہم تو کچّی جماعت والے ہیں  اور کچّی جماعت والے بغیر امتحا ن کے ہی پّکی جماعت میں چلے جاتے ہیں۔اُس زمانے میں  پلے گروپ، نرسری اور مانٹیسوری نہیں ہوا کرتے تھے۔ ہمارا پہلی جماعت کا کمرہ  جنوبی دیوار کے ساتھ تھا اور جہازی سایٗز تھا۔

    ہمارے اوّلین مدّرس  محترم طالب حسین بھٹی صاحب تھے۔ وہ ہمارے مُرشد اوّل ہیں۔جنہو ں نے ہمیں قلم پکڑنا  اور الف، ب  اور پ لکھنا سکھایا۔آج ہم جو بھی حرف و حکایت یہاں بیان کررہے ہیں  وہ انہی کی دین ہے۔ہنسی خوشی  کے دن تھے۔لیکن سکول کے ماحول نے اوّلین عمر  سے ہی سنجیدہ کردیا۔سکول سے  عجب  طرح کا خوف آنے لگا۔مگر  کلاس کے اندر جب قاعدہ پڑھنا شروع  کرتے تو ساری کُلفت دُور ہوجاتی۔وہ دور تختی لکھنے کا تھا۔گاچی مٹی کے ساتھ تختی پر لیپ کیا جاتا۔کانے کے قلم کے ساتھ تاج روشنایٗ والی سیاہ سیاہی کے ساتھ لکھا جاتا۔الف انار، ب بکری، پ پنکھا اور ت تتلی لکھنے شروع کیے۔یہ گویا ہماری انشاء پردازی کی ابتداء تھی۔اور ساتھ اُردو گنتی کے حروف ۱،۲ اور ۳  بھی لکھنا شروع کیے۔ تختی پر پنسل سے لایٗن لگانا  اور دوسری طرف خانے بناکر اعداد لکھنا  ایک خوبصورت مشق تھی۔

    اُس زمانے میں  طالب  بھٹی صاحب، بہت دلفریب  انداز میں قاعدہ پڑھاتے اُن کی پڑھاییٗ ہوییٗ نظمیں ابھی تک یاد ہیں۔جن میں ایک مشہور زمانہ نظم یہ تھی

    چُو  چوُ   چاچا
    گھڑی پہ چوہا  ناچا
    گھڑی نے ایک بجایا
    چوہا نیچے آیا

    میری تو طالب حسین بھٹی صاحب کے قاعدہ پڑھانے کے انداز کی وجہ سے قاعدہ میں ہی جان اٹک گیٗ تھی۔تختی لکھنے کا اپنا مزا  تھا۔

    طالب حسین بھٹی صاحب بہت مشفق استاد تھے۔اس زمانے میں ان کے پاس چاقو رکھتے تھے۔جس سے وہ بچوں کو کانے کی قلمیں گھڑ کر دیتے۔اور درمیان میں ٹک لگاتے۔پھر اس قلم سے تاج روشنائی میں ڈبو کر تختی لکھی جاتی۔

    ایک دفعہ مجھ سے کوئی غلطی ہوگی تو کہنے لگے کہ ہاتھ نکالو۔میں نے نکال دیا اب انہوں نے ایک فٹا زور سے مارا۔تب مجھے احساس ہوا اچھا اس طرح بھی ہوتا ہے۔ان بزرگوں نے حرف کے ساتھ جو رشتہ جوڑا وہ ابھی بھی قائم ہے۔ان کا بیٹا افتخار میرا کلاس فیلو تھا۔تختی پر گاچی مٹی ملنے کے بعد لڑکے گھماگھما کر سکھایا کرتے تھے۔افتخار تختی گھمارہا تھا۔تختی میرے  اونٹ پر آکر لگی اور خون نکلنے لگا۔گھر آیا تو والدہ  بہت ناراض ہویں۔گلی میں ہی ماسٹر صاحب اور افتخار کو روک لیا۔ماسٹر صاحب نے بیٹے کو آگے کر دیااور کہا بہن بدلہ لے لو۔بس پھر کیا تھا معافی تلافی ہوگی۔

    ان دنوں ایسی ہی باتیں ہوا کرتی تھیں۔بھٹی صاحب سے محبت کا رشتہ میں بعد بھی قائم رہا۔پھر ماڑی والے سکول کے بانی اور پرنسپل بنے۔پھر ان کی ریٹائیر منٹ ہوئی۔پھر اچانک ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ہنستا مسکراتا شخص چار پائی کی زینت بن گیا۔وقت گزرتا گیا ۔پھر  طالب حسین بھٹی ویل چیئر پر آگے۔اور ایک دن ملک عدم کے سفر کوروانہ ہوگئے۔اس عرصے میں بھی ان سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوتا رہا۔ا نہیں لیٹا دیکھتا تو ان کا خوبصورت ماضی یاد آجاتا۔خوبصورت قد کاٹھ،گھیرے دار شیروانی پہنے اورسر پہ جناح کیپ ہوتی۔بڑی بڑی پر اثر آنکھیں۔میں ان کو دیکھتا تو مجھے  "دلا بھٹی "فلم کا ہیرو یاد آجاتا۔بچپن میں ہی دُلّا بھٹی کی فلم دیکھی اور اس کے دل فریب نغمے ریڈیو پر سنتے تھے۔

    میرے ان محترم استاد کا تعلق راجپوت بھٹی خاندان سے تھا۔وہ دریائے راوی اور چناب کی درمیانی وادی کا ذکر کرتے جوکہ ساندل بار کہلاتی ہے۔ساندل دُلّا بھٹی کا داداتھا جس کا دارالحکومت "پنڈں بھٹیاں ” تھا۔

    جب سکول میں تھوڑا دِل لگ گیا تو کلاس کے باقی ساتھیوں کی طرف بھی متوجہ ہونے لگا۔ سکول کے ابتداییٗ دوستوں میں سرِ فہرست   جاوید اقبال بھٹی تھا۔اُس کے بعد  اقبال دانتوں والا اور  ندیم تھے ۔جاوید بھٹی بہت  دِلکش شخصیت کا مالک تھا۔تمتماتے رُخسار  جِن پر فرط ِ جذبات  سے پسینہ آیا ہوتا۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ بکھری ہوتی۔سکول کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا بنہوڑہ( تالاب) تھ ،ہم اس سے تختیاں دھوتے۔ اگرچہ سکول میں چھوٹے بچوں کے لیے پانی والا ٹب بھی تھا۔ اب جب کہ میں  یہ لایٗنیں لکھ رہا ہوں تو مجھے جاوید بھٹی کا مسکراتا  چہرہ نظر آرہاہے۔

    ۔جاوید قبال کے ساتھ 1962ء دوستی  کا ابتداییٗ دور تھا۔پھر  وہ اپنے آباییٗ گاوٗں کوٹ فتح خان چلا گیا۔ لیکن دِل میں اُس کی یاد کی جوت جلتی رہی۔جاوید بھٹی دوبارہ 1967ء میں چھٹی جماعت میں داخل ہوا اور وہی مُسکراتا چہرہ لیے ہمارے ساتھ آن ملا۔ وہی تمتماتے رُخسار اور پسینے کے قطرے ماتھے پر چمک رہے ہوتے۔اور اُس نے اپنی دلفریب مسکراہٹ لیے دوبارہ اپنی دوستی کو وہیں سے جوڑا جہاں  وہ کوٹ  فتح خان جانے سے پہلے چھوڑ گیا تھا۔

    1967ء کے جاوید بھٹی سے تعلق کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ حقیقت میں ہنسنے مسکرانے کے دن  وہی تھے۔جاوید بہت صحت مند لڑکا تھا۔اُس نے اُسی زمانے میں فٹ بال کھیلنا  شروع کیا۔عجیب دلفریب  کسرتی جسم اور صحت مند جسم والا نوجوان تھا جاوید بھٹی۔اُ س کا صحت مند جسم  فٹ بال کِٹ میں نمایاں ہوتا۔اور لوگ اسُے رشک بھری نظروں سے دیکھتے۔اُس زمانے میں ظفر اللہ نیازی، مولوی سعید اور  مسعود  ہمارے  دوستوں میں شامل ہوتے تھے۔ہنستے مسکراتے ہم نویں جماعت میں آگےٗ۔اب اپنے ہونے کا شعور آنے لگا۔ نویں جماعت میں ہم فزیالوجی پڑھا کرتے۔ خان اقبال خان صاحب نوٹس  لکھانے کی ذمہ داری مجھے سُونپ دیتے تھے۔ہم سردیوں  میں کمرہ جماعت سے باہر دھوپ میں سیڑھیوں پر بیٹھ کر پڑھتے تھے

    میں جاوید بھتی کے ساتھ مسجد بی بی اناراں  کے محلہ کی تنگ گلیوں میں جایا کرتا۔اسی گلی میں ہمارا کلاس فیلوریاض بھی رہتا تھا۔جاوید بھٹی اُس زمانے میں نےٗ مکان بنوا رہے تھے۔پہروں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے۔اُن کی والدہ بہت  شفقت سے پیار کرتیں۔البتہ اُن کے والد بہت خاموش طبع انسان تھے۔میں اور جاوید بھٹی  سکول سے چُھٹی کے بعد  شہر کے  باہر دور تک  چہل قدمی کیا کرتے۔ریلوے سٹیشن سے جہازوں والے گراوٗنڈ تک کا فاصلہ طے کرتے لیکن باتوں کا سلسلہ ختم نہ ہوتا۔  پھر وقت تیزی سے  گذر گیا۔19 اپریل  1972ء  کو میٹرک کا امتحان شروع ہوا۔15 مئی کو فزیالوجی کا آخری پریٹیکل دیا۔ اُس دِن ہم شام  تک گھومتے رہے۔ پہلے ایٗرپورٹ گےٗ ۔پھر ڈھوکڑی روڈ سے ہوتے ہوےٗ بابا سایٗیں نور خان  کے ڈیرہ پر گےٗ اور   وہاں سے پنڈی روڈ پر  اعجاز کے والد  چوہدری غلام محمد مرحوم  کے فارم تک آےٗ۔ شاید یہ ہماری لمبی واک کا آخری دِن تھا۔

    اُس کے بعد ہماری راہیں جُدا ہوگیٗیں۔ جاوید بھٹی نیوی میں چلا گیا۔ اسے قسمت  ملکوں مُلکوں پھراتی  رہی۔اول عمر میں حج مبارک کی سعادت حاصل کرلی۔عرصے کے بعد کبھی ملاقات ہوجاتی تو جی بھر کر باتیں کیا کرتے۔ اور جاوید بھی دِل کھول کر ہنستا۔میں اُس کے بیرون ملک  سفر کے تذکرے سنتا۔پھر وہ ریٹایٗرڈ ہوکر متحدہ عرب امارات  چلا گیا۔واپس آیا تو جاوید پہلے والا جاوید بھٹی نہیں رہا۔ بلکہ ایک مسکین  طبع۔ لاغر  وجود  والا جاوید بن چکا تھا۔چہرے پر داڑھی سجا لی۔اللہ سے لو لگا لی۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ دوروں پر جانے لگا۔ واپس آیا تو  میری ملاقات ہوییٗ وہ آخری ملاقات تھی۔اُس کے بعد مَلاقات ہوییٗ تو جاوید بھٹی کا وجود کفن میں لپٹا ہوا ہی دیکھنے کو مِلا۔

    ہمارا ایک کلاس فیلو اقبال  تھا۔ جس کا باپ دندان ساز تھا۔ اُسی حوالے سے اسے سب بالا  دندوں والا کہتے تھے۔وہ انتہاییٗ  خوبصورتی سے ا، ب ، پ اور اعداد ۱،۲  اور ۳ لکھا کرتا۔ اُس کی لکھنے والی سیا ہی انتہاییٗ روشن ہوتی۔میری نظروں کے سامنے اُس کی لکھی تختی ابھی تک گھوم رہی ہے۔میری دّلی خواہش تھی کہ  کاش میں بھی اُسی طرح سے لکھ سکوں۔ وہ ابتداییٗ تعلیمی رشک تھا جبکہ یہ تشنگی تو مرتے دَم تک ختم نہیں ہوتی۔ ندیم  ہماری کلاس کا  صاف ستھرا لڑکا  تھا۔وہ  اُجلے کپڑے پہنا کرتا تھا۔ سکول یونیفارم ملیشیاء  سوٹ ہواکرتا تھا۔ سکول میں ہر سوموار کو ہیڈ ماسٹر صاحب  صبح اسمبلی میں  لڑکوں کا معایٗنہ کرتے  تھے اور سب سے زیادہ صاف ستھرے لڑکے کو ٹرافی انعام میں دی جاتی تھی اور وہ ٹرافی ہمیشہ ندیم ہی جیتا کرتا تھا۔ندیم ابتداییٗ دور میں ہی راولپنڈی چلا گیا۔پھر اُس سے ملاقات نہ ہوسکی۔

    دوسری جماعت کا واقعہ ھے  عبدالمالک عرف منو میرا کلاس فیلو تھا۔ وہ میری پٹی والی گرم ٹوپی لے کر بھاگ گیا  ۔ میں اس کے پیچھے   منّو مینڈی  ٹوپی  کا شور مچاتا ہوا بھاگا بھاگتے ہوئے وہ ٹوپی پتھروں پر پھینک گیا ۔ جہاں سے ٹوپی مجھے مل گئ عبدالمالک  ء1971 میں  چھمب جوڑیاں کے محاذ پر شہید ھوا ۔

    اے ہم نفسان محفل ما
    رفتید ولے نه از دل ما

    فیضی دکنی

    ذرا عمر رفته کو آواز دینا

  • بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ- حصہ اول

    بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ- حصہ اول

      تحریر :آصف جہانگیر خان ، فتح جنگ

    1-اگر ہم انتخابات کی تاریخ کا جایٗزہ لیں تو کیٗ سو سال پہلے بھی اسی طرح کا جوش و خروش انتخابات کے وقت ہوتا تھا لیکن حقیقی تبدیلی تب سے اب تک عوام کا مقدر نہ بن سکی۔اگر ہم اسلامی اصولوں کے مطابق غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ عوام کا لیڈر ان کا ہی عکاس ہوتا ہے اس لیے اب بحثیت عوام ہمیں بھی اپنے بارے میں غوروفکر کرنی چاہیے۔

    2-سمال ٹاؤن کمیٹی فتح جنگ  پندرہ نومبر 1923ء میں وجود میں آییٗ۔ اس کا ابتدایٗ نام  نوٹیفایٗیڈ ایریا-1910-  تھا۔ اس کا پہلا اجلاس پندرہ نومبر  1923میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے ممبران میں خان سمندر خان اور لالہ نہال شاہ شامل تھے۔
    اس اجلاس میں پہلی دفعہ..
      حیثیت ٹیکس  لگایا گیا تھا- ٹیکس ادا کرنے والوں  احمد ولد جیون تیلی، جوالا سنگھ، دھرم سنگھ اور رام سنگھ شامل تھے۔.

    3-سیکرٹری  سمال ٹاوٗن کمیٹی  نرایٗن داس کو انگریز سرکار کی پہلی چٹھی 11 اگست 1924ء کو موصول ہویٗ۔ اس چٹھی کے مضمون کے مطابق جملہ ممبرزمنتخب سمال ٹاوٗن کمیٹی کے لیے تاج برطانیہ کا حلف اٹھایا جانا تھا۔ اور تاج برطانیہ سے وفاداری اور اطاعت کا حلف تمام حاضرین اجلاس کے لیے ضروری تھا۔
    4- سمال ٹاوٗن کمیٹی کا افتتاحی اجلاس انتیس اگست 1924 کو  منعقد ہوا -اس اجلاس  میں  شرکت کرنے والے ممبران میں لالہ نہال چند، لالہ ارجن داس، خان محمد خان(ذیلدار) اور خان سمندر خان شامل تھے۔اس اجلاس میں تاج برطانیہ سے اطاعت کا حلف اٹھایا جانا ضروری تھا تو کچھ ممبران اجلاس میں شریک نہیں ہوےٗ جس کی وجہ سے اجلاس منسوخ کردیا گیا۔

    بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ- حصہ اول
    بلدیہ فتح جنگ – تصویر بشکریہ معروف شاعر طاہر اسیرؔ

    5-تین ستمبر 1924ء کو کمیٹی کا اگلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں سمال ٹاوٗن ایکٹ  کےتحت تحصیل دار صاٖحب کو بلدیہ کا پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔اور  تحت خان سمندر خان پہلے وایٗس پریذیڈنٹ مقرر ہوےٗ۔

    6- اس اجلاس میں میلہ سایٗں حاضرحضو ر کے ٹھیکے  کی منظوری دی گیٗ۔اس ٹھیکے کی مالیت ستانوے روپے تھے اور اس ٹھیکے کو عبداللہ ولد محمد تیلی نے لیا تھا۔
    اسی اجلا س میں تجویز پیش کی گیٗ کہ دفتر کے لیے مکان کرایہ پر لیا جاےٗ۔ ایک ممبر لالہ نہال شاہ نے تجویز دی کہ چار کے بجاےٗ تین روپے ماہوار پہ دفتر پرکرایہ پر لیا جاےٗ۔
    7-اس اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ شہر میں تنگ گلیوں کی وجہ سے آیئندہ کسی کو گلی میں پوڑھی یا تھلی بنانے کی اجازت نہ دی جاےٗ۔اور اس اجلاس میں ایک درخواست بھی زیر غور لایٗ گیٗ جو کہ  جو جے رام ولد لکھی رام (موجودہ گھر صفدر حسرت بامقابل ویٹرنری ہسپتال) نے پیش کی تھی۔
    8-سمال ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس ۵ فروری 1925ء کو منعقد کیا گیا۔اس اجلاس میں درخواست دی گیٗ کہ شہر کی چوکیداری کے لیے ایک گورکھا(نیپالی ہندو) کو بھرتی کیا جاےٗ۔ آج کل چوکیداری کے لیے پٹھان حضرات کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ان وقتوں میں گورکھا اس مقصد کے لیے رکھے جاتے تھے۔بہرحال کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ان کے پاس فنڈ نہیں اس لیے جنرل پبلک اپنی طرف سے کویٗ چوکیدار رکھ لے۔
    9-پانچ مارچ 1925ء کو ریزولوشن منظور ہوا۔ جس کے تحت کرانچیوں (بیل گاڑیاں) کا شہر میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے احکامات صادر کیے گےٗ جوکہ آج تک فتح جنگ شہر میں ایک سردردبنے ہوےٗ ہیں۔
    اس اجلاس میں کمیٹی کے پہلے بجٹ کی منظوری دی گیٗ جس کے لیے آمدن کا تخمینہ 446 روپے لگایا گیا۔
    10-ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس ۱۳میٗ 1925 کو منعقد ہوا۔اس اجلاس مں شوالہ کٹو شاہ مندر کے حوالے سے درخواست پیش کی گیٗ۔جس کا مضمون تھا کہ فتح جنگ سمال ٹاوٗن کمیٹی کوڑاکرکٹ جمع کرنے کی جگہ کا ایک ڈھیر متصل  شوالہ کٹو شاہ ہے۔اس کو ہٹانے کی منظوری دی جاے .
    اس کی زمین غیر متوازن ہے۔جانب شرق شوالہ کٹو شاہ اور جانب جنوب ڈھیری بابا گرمکھ سنگھ جہاں ہروقت اہل ہنود بغرض مذہبی پرستش جمع ہوتے ہیں۔ اس سے متصل کنوا ں شیواوالا ہے جہاں سے مسلمان اور ہندو پانی بھرتے ہیں۔اور ساتھ ہی تالاب ہردیال(بڑی بن) واقع ہے۔
    11-ٹاوٗن کمیٹی کا اگلا اجلاس تیس جون 1925 کو منعقد کیا گیا۔ جس میں خان سمندر خان، خان محمد خان، احمد خان، ولی داد خان، لالہ ارجن داس، لالہ ایشر داس اور لالہ نہال شاہ ممبران شامل تھے۔ اس اجلاس میں ممبرکمیٹی خان محمد خان نے تجویز پیش کی کہ وسط بازار میں ایک وسیع چوک ہے(موجودہ فاروق ہوٹل اور جامع مسجد مین بازار) جوکہ کمیٹی کی ملکیت ہے اگر اس کا ٹھیکہ دیا جاےٗ تو کمیٹی کو اچھا مفاد حاصل ہوسکتا ہے۔
    12-بلدیہ فتح جنگ کا اگلا اجلاس اٹھایٗس اگست 1930ء کو بمقام سرکاری بنگلہ (موجودہ ٹی ایم اے بلڈنگ)  منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت پیر حیدر شاہ صاحب نے کی۔ اس اجلاس میں افسر مال ، تحصیل دار فیض محمد خان، خان محمدخان،سردار نواب خان(دادا صبیح خان آف گڑھی حسو خان)اور خان لال خان نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا گیا۔
    13-اسی سال فتح جنگ میں امرتسر سے دو  ہندو موہن چند اور گوپال لکڑی کی بنی کنگھیاں خریدنے لے لیے آےٗ۔ یہ دونوں  کٹر کانگریسی تھے  – اس وقت پاکستان کی کھل کے  حمایت کرنے والوں میں فتح جنگ میں استاد محب النبی تھے جوکہ مسلم لیگ سے تعلق رکھتے تھے۔اس دور میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان یہاں بھی تنازعہ ہوا کرتا تھا۔ ایشر داس ممبر کمیٹی کا بیٹا بھگت رام کانگریس سے تعلق رکھتا تھا اور پاکستان کا سخت مخالف تھا۔
    14-بلدیہ کا اگلا اجلاس انتیس اگست 1933کو منعقد ہوا جس میں اتفاق راےٗ سے پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔اجلا س کی صدارت ملک محمد مراد بخش  افسر مال  نے کی۔ ممبران میں خان محمد خان، خان لال خان،خان نواب خان، سردار نواب خان، لالہ ایشرداس، لالہ نہال شاہاور لالہ جگدیش رام شامل تھے۔اس اجلاس میں پنجاب سمال ٹاوٗن ایکٹ اور تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا گیا۔
    اس اجلاس میں گودڑ سنگھ نامی سکھ کی طرف سے درخواست دی گیٗ کہ اسکو ٹیکس میں چھوٹ دی جاےٗ۔کہ اس نے سراےٗ لدھا رام کرایہ پر لی ہویٗ ہے۔جس کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے سالانہ ہے۔
    15-نوٹ۔موجودہ شیخ غلام قادر کی مارکیٹ  اس وقت ساری کی ساری سراےٗ تھی۔ موجودہ ریاض ہوٹل اور ملحقہ تمام دکانیں اس میں شامل ۔تھیں
    16-یکم دسمبر 1933ء کو ڈپٹی کمشنر نے بلدیہ کو ایک چٹھی بھیجی کہ کنگ ایڈورڈ کالج کو تعمیر کے لیے چندہ دیا جاےٗ۔ جس کے لیے بیس روپے چندہ دیا گیا۔دوبارہ کہنے پر حسن ابدال کمیٹی کی طرح چندہ دینے سے معذرت کرلی گیٗ۔
    17-موجودہ ٹی ایم اے کی بلڈنگ کی جگہ دفتر جولایٗ 1947ء کو قایٗم کیا گیا تھا۔یہ بنگلہ دوہندووٗں منوہر چند اور سندر شاہ ماٹا کی زیر ملکیت تھا ان کے چلے جانے کے بعد خورشید مہاجر کو الاٹ ہواتھا جنہوں نے بعد میں اسے بیچ دیا تھا۔ اور گورنمنٹ نے اسے خرید لیا تھا۔
    18-فتح جنگ کی ان وقتوں میں چلنے والی ٹرانسپورٹ کا نام نندہ ٹرانسپورٹ تھا۔جس کے مالک بالا، کرشن اور ہری چند تھے۔
    فتح جنگ کے دو سکھ حکیم  گورمکھ سنگھ اور بشن سنگھ بھی بہت مشہو رتھے  جن کی دوکانیں موجودہ حکیم اعظم شاہ اور پرانے بغدادی دواخانے جو کہ اب ختم ہوگیا ہے کی جگہ موجود تھیں۔
    19-ہندو ملکیت کی چند عمارتوں میں موجودہ چیف صاحب کی دوکان ایشر داس کی ملکیت تھی۔ جس  کے ساتھ بڑے بڑے لوہے والی دوکانیں ہواکرتی تھیں۔ادھر ہی تین ہندو بھایٗ مالک رام، پارس رام اور جے رام تھے جن کے والد کا نام لال شاہ تھا۔
    20-دس اگست 1934 کے ایک سرکاری ڈاکومنٹ کے مطابق فتح جنگ کی آبادی چار ہزار کے قریب تھی۔ جس کے لئے ایک سول ہسپتال تو موجود تھا لیکن اموات بچگان بہت زیادہ تھیں۔ اور ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور نرس کی سہولت دستاب نہیں تھی۔
    فتح جنگ کی پہلی واٹر سپلایٗ سکیم  10جولایٗ 1934ء کو منظور کی گیٗ۔جس کے لیے 2368روپے منظور کیے گےٗ۔
    19-پاکستان بننے کے بعد منعقدہ اجلاس:
    18 اگست کومنعقد ہونے والے اجلاس میں میلہ باباسایٗیں حاضر حضور کی منظوری مالیت 152 روپے میں دی گیٗ۔
    12 ستمبر 1948 کو قایٗداعظم کی وفات پر تعزیتی اجلا س منعقد کیا گیا۔17 اگست 1950 کو منعقدہ اجلاس میں مہاجرین میں سے سید منظور حسین شاہ  کو ممبر بلدیہ کمیٹی منتخب کیا گیا۔اور پھر قایٗد ملت لیاقت علی خان کی شہادت پر قرارداد منظور کی گیٗ۔
    20-انیس مارچ 1953کو  بلدیہ کے نےٗ الیکشن ہوے ٗ جن میں جو ممبران منتخب ہوےٗ ان میں قاضی محمد عبد الباری، فیروز سنبل، مولوی خیر محمد، غلام رسول، محمد اقبال خان، محمد یونس اور حیات محمد شامل تھے۔ پہلے منتخب پریذیڈنٹ محمد اقبال خان تھے جبکہ وایٗس پریذیڈنٹ قاضی عبدالباری تھے۔اس سے ایک سال بعد ایک سرکاری ملازم نے پریذیڈنٹ محمد اقبال خان پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔
    21-بلدیہ فتح جنگ کے اگلے انتخابات 1959ء میں ہوےٗ۔ جس میں چیٗرمین چودھری غلام محمد۔ عزیز احمد خان، چودھری نورمحمد، شیخ رحمت اللہ، عبدالحمید، صوبیدار سلطان خان، حسو خان، میاں غلام جیلانی، مولوی خیر محمد اور سیٹھ حیات محمد کامیاب ہوےٗ۔
    22-اکتیس دسمبر  1962عیسوی کو فتح جنگ میں بجلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے درخواست کی گیٗ – 1964میں فتح جنگ میں بجلی مہیا کی گیٗ۔
    23-سن 1964 میں بلدیہ کے اگلے الیکش ہوےٗ جن میں شیخ غلام فاروق چیٗرمین مقرر ہوےٗ۔اور اسی طرح 1979 میں ایک با ر پھر شیخ غلام فاروق چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
    24-سن  ,1983 کے ہونے والے الیکشن میں فضل کریم چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔ جبکہ1987 ء میں ملک اقبال چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
    –1991میں مولا بخش طاہر چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔بلدیہ فتح جنگ کی تاریخ میں شیخ غلام فاروق تین مرتبہ چیٗرمین جبکہ ایک دفعہ وایٗس چیٗرمین منتخب ہوےٗ۔
    25-سن 1991 کے بعد بلدیہ فتح جنگ کے الیکشن نہیں ہوےٗ اور پھر پرویز مشرف نے ایک نیابلدیاتی نظام متعارف کرایا جس میں سردار افتخار احمد خان(مٹھوخان) جو کہ فتح جنگ کی جانی پہچانی شخصیت عزیز احمد خا ن کے صاحبزادے ہیں،تحصیل ناظم کے طور پر منتخب ہوےٗ۔
    موجودہ چیٗرمین ملک عابد داود ہیں جوکہ فتح جنگ کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں

  • فتح جنگ کی بلدیاتی سیاست

    فتح جنگ کی بلدیاتی سیاست

    تحریر :آصف جہانگیر  ، فتح جنگ

    1-فتح جنگ شہر میں کھٹر خاندان کو مالکانہ حقوق حاصل رہے ہیں۔ کھٹڑ قوم کی تاریخ کے مطابق عبداللہ خان عرف کھٹڑ خان کے چھ بیٹے تھے۔جن میں سے فیروز خان کی اولاد کھٹڑ فیروزوال کہلاییٗ۔جوکہ فتح جنگ میں آکے آباد ہوےٗ۔

    2-فتح جنگ کا نام ان کے آنے سے پہلے سندر راکھی تھا۔جب فتح جنگ کا مورث اعلی فوت ہوا تو ان کے تین بیٹوں جلال خان، شیر خان اور علی محمد خان میں برابر حصہ کے مطابق تقسیم کیا گیا۔

    3-فتح جنگ شہر میں بلدیاتی اداروں کی داغ بیل ڈالی گیٗ تو نوٹیفایٗیڈ ایریا کی سیاست میں ایک نمایاں نام خان سمندر خان کا تھا۔

    پھر بعد میں جب 1924ء میں سمال ٹاوٗن کمیٹی بنی تو خان سمندر خان اس کے پہلے وایٗس پریذیڈنٹ بنے۔ان کے بعد سردار نواب خان آف گڑھی حسو خان کا دور شروع ہوا۔ اور ان کے بعد فتح جنگ کی مقتدر شخصیت ذیلدار محمد خان وایٗس پریذیڈنٹ رہے۔جبکہ سردار محمد نواز خان آف گڑھی حسو خان پریذیڈنٹ مقرر ہوےٗ۔

    4- سن1951ء میں پاکستان کے بننے کے بعد پہلے بلدیاتی انتخابات میں سردار محمد اقبال خان آف شہر راےٗ سعداللہ کامیاب ہوےٗ-,اور پھر 1956کے الیکشن میں سردار اقبال خان دوبارہ پریذیڈنٹ بنے۔سردار اقبال صاحب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سردار محمد علی خان کے دادا تھے ۔

    5-سن1958کے الیکشن صدر ایوب خان کے متعارف کردہ بی ڈی سسٹم کے تحت ہوےٗ۔ان الیکشنز میں ایک نمایاں نام جو ابھر کر سامنے آیا وہ سردار محمد عزیز خان کا تھا۔سردار عزیز احمد خان 1979کے بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ ممبر منتخب ہوےٗ۔ اس کے بعد 1987 کےالیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوےٗ۔21جنوری 1988 کو بلدیہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر عطاء اللہ خان سے چارج لے لیا گیا۔سردار عزیز احمد خان اس وقت مالیاتی کمیٹی کے سربراہ منتخب ہوےٗ تھے۔اس وقت بلدیہ کا بجٹ تقریبا 65 لاکھ کے قریب تھا۔

    فتح جنگ کی بلدیاتی سیاست
    فتح جنگ کے ایک سیاسی جلسے کی تصویر بشکریہ سردار ساجد محمود خان آف پنڈ فضل خان

    6-انیس سو اکانوے کے الیکشن میں سردار عزیز احمد خان ایک بار پھر ممبر منتخب ہوےٗ۔اس دور میں وزیر اعلی پنجاب غلام حیدر وایٗیں نے فتح جنگ شہر کے لیے واٹر سپلاییٗ سکیم منظور کی۔اس واٹر سپلاییٗ سکیم کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ کی گرانٹ منظور کی گیٗ۔اس سکیم کی منظوری کے بعد فتح جنگ شہر کے لیے پانی کی سپلاییٗ ممکن ہوییٗ- وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان صاحب کی خصوصی گرانٹ سے شہر میں مزید پایٗپ لایٗنز ڈالی گٗین 

    7-انیس سو اٹھانوے کے الیکشن سردار عزیز احمد خان کے ساتھ ان کے بیٹے سردار افتخار خان بھی کامیاب ہوےٗ۔سردار افتخار احمد خان انتہاییٗ ہونہار اور متحمل مزاج نوجوان ہیں۔جن کی تربیت سردار عزیزاحمد خان نے اپنے زیر سایہ کی۔سردار افتخار احمد خان نے سیاست کے اسرارورموز اپنے والد سردارعزیز احمد خان سے سیکھے۔1998 کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے ممبران کا اجلاس 4جنوری 1991 ء کو منعقد ہوا۔

    8-اسی سال وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اٹک تشریف لاےٗ تھے۔اور انہوں نے فتح جنگ شہر کے لیے شاہ پور ڈیم کے پانی کے لیے ایک کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی۔ 

    9-اکتوبر 1999 میں پاکستان میں ایک نےٗ دور کاآغاز ہوا۔جنرل پرویز مشرف ایک فوجی انقلاب کے ذریعے منظرعام پر آےٗ۔قومی و صوباییٗ اسمبلیاں اور تمام بلدیاتی ادارے ختم کردیے گےٗ۔اور کافی غوروغوض کے نےٗ بلدیاتی اداروں کا نظام منظر عام پر آیا جسے ضلعی حکومتوں کے نظام کا نام دیا گیا۔اس نظام میں ملک کے تمام شہری اور دیہی علاقوں کو یونین کونسلوں میں تقسیم کردیا گیا۔ہر یونین کونسل میں ناظم اور نایٗب ناظم نےٗ متعارف کراےٗ گےٗ۔تحصیل کی سطح پر تحصیل ناظم اور ضلع کی سطح پر ضلع ناظم اس دور میں ہی متعارف کراےٗ گےٗ۔

    تحصیل ناظم اور ضلع ناظم کے لیے ہر یونین کونسل کے ناظمین نے ووٹ ڈالنا تھا۔

    10-جولاییٗ 2001ء میں سردار افتخار احمد خان فتح جنگ میں تحصیل ناظم کے طور پر منتخب ہوےٗ۔سردار افتخار احمد خان 1969 میں پیدا ہوےٗ۔میٹرک1987 میں گورنمنٹ ہاییٗ سکول فتح جنگ سے کیا۔ 1989ء میں گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاک فوج میں بطور کمشن آفیسر شمولیت اختیار کرنے کے لیے پاکستان ملٹری اکیڈمی جایٗن کی۔لیکن سردارافتخار دل میں علاقے کی سیاست کا عزم رکھتے تھے۔اس لیے فوج کو خیر آباد کہہ دیا اور سیاست میں متحرک ہوگےٗ اور پہلی دفعہ 1998ء میں بلدیہ فتح جنگ کے ممبر منتخب ہوےٗ۔

    11-بعد میں جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ نےٗ بلدیاتی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں 2001ء میں سردار ممتا ز خان آف ماجھیا کے ساتھ ایک زبردست مقابلہ کے بعد تحصیل ناظم کا الیکشن جیتا اور 14اگست 2001ء کو حلف اٹھا کر بطور تحصیل ناظم فرایٗض سرانجام دینا شروع کردیے۔

    اختیارات اور عہدہ کے لحاظ سے بطور تحصیل ناظم کا گذشتہ ادوار کے کسی بھی بلدیاتی ادارے کے سربراہ سے تقابل نہیں کیا جاسکتا

    12- الیکشن 1918میں سردار افتخار مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 

  • بلبلِ رسولؐ محمد عرفان

    بلبلِ رسولؐ محمد عرفان

    اٹک کی سر زمین بہت زرخیز ہے اس زمین نے جہاں بہت بڑے شاعر اور ادیب جنم دیےوہاں فنکار ، موسیقار ،مصور، خطاط اور نعت خواں بھی روشناس کرائے جن میں ایک بلبلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محمد عرفان ہےمحمد عرفان 1978 میں تحصیل فتح جنگ سے ملحقہ گاوں کھرالہ کلاں میں حاجی محمد داود کے گھر میں پیدا ہوئے اور گونمنٹ ہائی سکول فتح جنگ سے میٹرک کی بچپن ہی سے انہیں موسیقی سے لگاو تھا اور اس  لگاو کو پایہءتکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے استاد غلام رضا خان قریشی مرحوم کی شاگردی اختیار  کی موسیقی سیکھنے کے بعد ان کا عشق بدلا دل طہارت سے مہمیز ہوا اور انہیں اس ذات سے مودت ہوئی کہ جس نے انسان کو جہالت و اوھام کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی سے ہمکنار کیا ۔ اور وہ کون تھے وہ شفیعِ اعظم وہ نبیِ مکرم وہ رسولِ معظم وہ پیغمبرِ حاکم وہ رہبرِ کامل وہ بدر و منیر وہ بشیر و نذیر وہ سراج منیر وہ سیدِ ابرار وہ احمد مختار وہ مدنی تاجدار وہ حبیبِ غفار وہ محبوبِ ستار وہ خاصہ کردگار وہ شافع یومِ قرار وہ صدرِ انجمن لیل و نہار وہ آفتابِ نو بہار وہ سرورِ عالم وہ مونسِ آدم وہ قبلہ ءعالم وہ کعبہ اعظم وہ جانِ مجسم وہ نورِ مجسم وہ فخرِ دو عالم  وہ مرسلِ خاتم  وہ خیرِ مجسم  وہ صدرِ مکرم  وہ نورِ مقدم وہ نیرِ اعظم  وہ مرکزِ عالم  وہ وارثِ زمزم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی طاہر اہل بیت عظام ہیں۔ اس عشق کو جلا بخشنے کے لیے انہوں نے فتح جنگ کے ادبی مجلہ "دھنک رنگ” کے مدیرِ اعلٰی حاجی محمد داود سے نعت خوانی سیکھنی شروع کر دی اور تھوڑے ہی عرصہ میں اپنی پہچان بنا لی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ٹھیکیداری کا پیشہ اختیار کیا جہاں تک محمد عرفان کی نعت خوانی کا تعلق ہے تو میں نے جتنی نعتیں سوشل میڈیا پر ان کی سنی ہیں ان میں سوز و گداز کی فراوانی ہے جب وہ ترنم سے نعت پڑھتے تھے تو سننے والوں پر رقت طاری ہو جاتی ۔ عاشقان رسولؐ کی آنکھوں میں آنسو ٹپک پڑھتے تھے اور سامعین کے دل ذکرِ مصطفیؐ سے منور و معنبر ہو جاتے تھے اُن کا لہجہ مثلِ لخلخہ ہے  جس کی بے مثل خوشبو دماغ کی نسوں میں تقویت کا باعث ہوتی ہےفتح جنگ کے ادبی حلقوں میں انہیں دعوت دی جاتی تو تلاوت کے بعد وہ اکثر نعت پڑھتے تھے تو اک سماں بندھ جاتا تھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد زبانوں کو معطر کرتا ہوا دلوں کی طہارت کا باعث بنتا تھا ان کی شخصیت جاذب نظر تھی لوگ نعت کے حوالے سے انہیں جانتے تھے کیونکہ یہ قبیلہ ء حسانؓی ہے جو تادم کائنات میں رہے گا اور جس کی آواز کائنات کی وسعتوں میں گونجتی رہے گی۔ اور نعت خوان کی کتنی باکمال پہچان ہے کہ لحد میں ،حشر میں اور جنت میں نعت خوانِ مصطفٰی پکارا جائے گا اور آقاؐ پاک کے علم کے سائے میں ہو گا جس دن لوگ پیاس اور گرمی کی شدت میں "نفسی نفسی” کہتے ہوں گے اور ہمارے آقاؐ "امتی امتی” کہتے ہوں گے۔
    محمد عرفان نعتیہ پارٹی "بزمِ حسانؓ” میں نئے آنے والے نعت خوان حضرات کا استاد تھا جس نے کئی نوجوانوں کو نعت خوانی کے نورانی زیور سے آراستہ کیا۔ وہ فروغ نعت کے لیے تحصیل فتح جنگ کی مختلف پارٹیوں کو نعت اور اس کے رموز سکھاتا تھا  اور اُس  نے کئی نو آموز ناعت اپنی مدبرانہ کاوش سے استاد بنا دیے تھے ۔ وہ اپنی نعتیہ پارٹی کو رات کے وقت ریہرسل کرا کے بقیہ رات میں دوسری پارٹیوں میں نعت خوانی کے رموز سکھانے کے لیے جاتا تھا اس لیے اُس کو سونے کا بہت کم وقت ملتا تھا ۔فروغ نعت اٹک کے حوالے سے جب بھی تاریخ لکھی جائے گی محمد عرفان کا نام اس میں ضرور شامل کیا جائے گا اور اس کے بغیر تاریخ نامکمل تصور کی جائے گی۔ وہ سادہ لباس پہنتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضورؐ کوسادگی پسند ہے اُسے کسی کھیل سے کوٸی دلچسپی نہیں تھی صوفیاء کرام کے کلام سننا اور پڑھنا پسند کرتا تھا کربلا معلٰی کی زیارات پر ابھی تک نہیں جا سکا تھا۔ آلام زمانہ میں گرفتار تھا گھر کے کچھ معاملات میں سخت پریشان تھا۔ انتہاٸی دلیر آدمی تھا دل کی سخت تکلیف کے باوجود اس نے کسی پر اپنے دکھ کا اظہار نہیں کیا تھا وہ ہر محفل کی جان تھا آخری وقت تک بیماری سے خاموشی کیساتھ لڑتا رہا صاف نیت انسان تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نیتوں کا دارومدار عملوں پر پر ہے اس لیے ہمیشہ اچھی سوچ رکھتا تھا اگر کسی بات پر غصہ آ جاتا تو جلد ہی معاف کر دیتا تھا وہ ہر کسی کے دکھ سکھ میں شامل ہوتا تھا اس میں کئی خوبیاں تھی جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگائے ہوئے تھیں۔

    irfan


    اس کے والدین فوت ہو چکے تھے اس کا اوڑھنا بچھونا ہی نعت تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضورؐ ہی ہمارے وارث ہیں اور وہ ہی ایسی ذات ہیں جو خیرالورٰی ہیں ، جو محب الورٰی ہیں ، جو آخرِ زماں ہیں ، جو جمیل القسیم ہیں، جو شفیع الامم ہیں ، جو منبر جود الکرم ہیں، جو شہر یار حرم ہیں ، جو سحابِ کرم ہیں ، جو مہر کرم ہیں، جو گنج نعم ہیں ، جو شاہ امم ہیں ، جو سیدالطیبین ہیں  ، جو خطیب النبین ہیں ، جو امام المتقین ہیں ، جو امام العالمین ہیں، جو اول المسلمین ہیں ، جو محبوب رب العالمین ہیں ، جو سید المرسلین ہیں جو خاتم النبیبن ہیں ، جو نور مبین ہیں ، جو طہ و یسین ہیں ، جو رحمت اللعالمین ہیں ، جو مظہر اولین ہیں ، جو حجت آخرین ہیں ، جو آبروے زمین ہیں، جو اکرم الا کرمین ہیں ، جو مرادالمشتاقین ہیں ، جو شمس العارفین ہیں ، جو محب الفقراء و الغربا ہیں ، جو مورث کمالات آخرین ہیں ، جو صادق و امین ہیں ، جو مفسر قرآن مبین ہیں، جو روشن جبین ہیں ، جوسلطانِ دین ہیں ، جس سیدالثقلین ہیں ، جو نبی الحرمین ہیں  جو وسیلہ فی الدارین ہیں ، جو صاحب قاب قوسین ہیں ، جو سید الکونین ہیں ، جو سرورِ کونینِ ربِ رحمٰن ییں ، جو حبیب المشرقین  و رب المغربین ہیں ، جو محبوبِ رب دو جہاں ہیں ، جو قاسم علم و عرفاں ہیں ، جو راحتِ قلوبِ عاشقاں ہیں ، جو سرور کشوراں ہیں ، جو راحت عاصیاں ہیں ، جو کون و مکان ہیں ، جو شفقت پیکراں ہیں ، جو چارہ گر چارہ گراں ہیں  ، جو رہبر انس و جاں ہیں ، جو تاب جاں و ہادی ء گمراہاں ہیں ،جو شافع عاصیاں ہیں ، جو حامی ء بے کساں ہیں ، جو راحت قلب جسم  و جاں ہیں ، جو شاہ دوراں ہیں ، جو ہادی ء جہاں ہیں ، جو قرار بے قراراں ییں ، جو غم گسارِ  دل فگاراں ہیں ، جو انیس بے کساں ہیں ، جو چارہ گرِ آزدرگاں ہیں، جو سکونِ دردمنداں ہیں ، جو راحت رفتگاں ہیں ، جو پناہ بے پناہاں ہیں ، جو نگاہ بے نگاہاں ہیں، جو غم سازِ غریباں ہیں ، جو خیرالناس ہیں تو کیوں نہ ایسے کریم آقاؐ سے لو لگائی جائے جو دنیا و آخرت کے تمام خزانوں سے ارفع ہیں  اس لیے اُن کی خوشی میں خوشی اور اُن کے غم میں غم منانا چاہیے اسی لیے وہ کربلا والوں کا غم منانے والا جوان تھا وہ اہل بیت رسولؐ کا غم دل میں پوشیدہ بھی رکھتا تھا اور اس کو دل کے نہاں خانوں سے عیاں بھی کرتا تھا۔ وہ مختلف ٹی وی چینلز پر نعت پڑھنے جاتا تھا اے ٹی وی چینل پر اس کی نعت آج کل بھی  چل رہی ہے۔ اس کو دل کا عارضہ لاحق تھا اور اُس کے دل کا بائی پاس ہو چکا تھا اس لیے جب اس بار  اس کو دل کی تکلیف ہوئی تو اس کو راولپنڈی  آر آئی سی میں علاج کے لیے لے کر گئے جہاں ڈاکٹر نے اس کو بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا اور یہ بے ہوشی کے عالم میں  ہی 15 جنوری 2021  بروز ہفتہ اللہ کو پیارا ہو گیا مولانا عرفان القادری نے نماز جنازہ کی امامت کرائی جس میں تحصیل فتح جنگ کے  تقریبا تمام نعت خواں شریک ہوئے عاشقانِ مصطفٰی کا ایک بہت بڑا ہجوم شریکِ جنازہ تھا جس کے لبوں پر دعائیں تھیں۔ اللہ پاک اس کی قبر کو روشن فرمائے اور اس کی روح کو جنت الفردوس میں بلند مدارج پر فائز فرمائے ۔آمین

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    آف غریبوال، اٹک

  • ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    آبی

    اٹک کی وہ زمین جو دریائے ہرو میں سلطان پور سے نیچے کٹ لگا کر اور وہ زمین جو چشموں اور دوسرے ندی نالوں میں کٹاؤ ڈال کر سیراب کی جاتی ہے آبی کہلاتی ہے۔

    سب سے زیادہ مفید زمین وہ ہے جو واہ اور حسن ابدال کے چشموں سے سیراب ہوتی ہے، یہ بہت زیادہ اچھی ہے۔باقی کہیں کہیں ٹکڑوں میں بھی ایسی زمینیں ملتی ہیں لیکن زیادہ تر دیہات میں ایک ہی قسم کی زمین ہے۔

    پنڈی گھیب میں آبی سے مراد ہر جگہ چاہی زمین کو ہی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح علاقہ جندال میں بھی یہ بات اہم ہے اور وہاں بھی 200 ایکڑ سے کم ہے۔

    نہری۔

    آبی اور نہری میں فرق آبپاشی کی قسم پر ہوتا ہے جو کہ ہرو دریا سے کی جاتی ہے۔

    سلطان پور سے اوپر جہاں ندیاں زمین کے اوپر پھیل کر بہتی ہیں پنج کٹھ کے علاقے میں پانی کی فراہمی سال بھر نہیں رہتی۔

    iattock

    ہرو اپنے بہاؤ کے اس علاقے میں سال کے زیادہ حصہ میں خشک رہتی ہے۔

    اور آب پاشی ایک سیلابی نہر سے مختلف نہیں ہوتی۔

    ہر بارش کے ساتھ تازہ پانی دریا میں آتا ہے اور اسے روک کر زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔باقی آبپاشی سارا سال ہوتی رہتی ہے، وہ چشموں سے ہو یا ندی نالوں سے جو چشموں کے پانی کے بہاؤ سے وجود میں آتے ہیں یا پھر سلطان پور گاؤں سے نیچے جہاں ہرو سال بھر بہتی ہے۔

    تاہم یہاں دریا کے کنارے پر ہی تھوڑا علاقہ سیراب ہوتا ہے اور پانی بھی حقیقتاً ہرو کا پانی نہیں ہوتا بلکہ یہ ان چشموں سے آتا ہے جو ہرو کے دامن میں تھوڑی اونچائی سے آ کر ہرو میں شامل ہوتا ہے۔

    لہزا نہری کی اصطلاح صرف اس زمین پر پنج کٹھ میں یا ایک اور دو دیہات جو سلطان پور سے نیچے آتے ہیں میں شامل ہوتی ہے باقی ہر قسم کی آبپاشی ابی کہلاتی ہے۔

    حسن ابدال اور واہ کے دیہات میں آبی زمینوں سے بعض اوقات دو کے بجائے تین فصلیں لی جاتی ہیں۔

    کئی ایک دیہات کی اعلیٰ نہری زمینوں سے جب کے اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے۔

    اور جو آبپاشی کے راستوں نزدیک ہوں سے ششماہیوں میں چھ فصلیں بھی لی جا سکتی ہیں۔

    ایسی زمین "دو فصلی نہری کہلاتی ہے”.

    1907 میں کل رقبہ 1٫702 ایکڑ تھا جو 1925 میں بڑھ کر 1٫788 ایکڑ ہو گیا۔

    سلطان پور کی نہری زمینیں مختلف زرخیزی کی اہمیت کی حامل ہیں۔

    نہری زمینیں صرف اٹک تحصیل میں ہیں جو تحصیل کے اندر نلہ سرکل کے شمال مشرقی کونے میں ہیں، سارا پانی تقریباً ہرو سے حاصل ہوتا ہے۔

    نہروں کے سرے زیادہ تر ہزارہ کی ہری پور تحصیل میں ہیں اور اٹک کے مالکان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ خانپور کے گکھڑ خاندان سے پانی کی فراہمی کی خاطر اچھے تعلقات استوار رکھیں۔سیلابی زمینیں اٹک اور فتح جنگ تحصیلوں میں اہم ہیں۔(پنڈی گھیب میں 400 ایکڑ سے کم ہیں)۔

    فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں گندم بڑی فصل ہے پورے ضلع میں مزروعہ رقبہ کا 74٪ رقبہ قابل کاشت ہے۔اٹک کی لپاڑہ زمین کو جب بھی وسائل اجازت دیں تو چاہی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، ان پر زراعت ہمیشہ احتیاط سے کی جاتی ہے، اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے اور زیادہ تر دوہری فصل نہیں لی جاتی۔پنڈی گھیب میں مٹی بہت حساس قسم کی ہے۔

    سخت گرمی یا دیر سے بارش ہونے پر لپاڑہ کی فصلیں سب سے پہلے بکھر جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں احتیاط سے اس زمیں پر حل چلایا جاتا ہے یہاں یہ زمین بہت قیمتی ہے۔چھچھ میں لس سے مراد وہ زمینیں ہیں جو گندھ گڑ کے پہاڑوں سے آنے والے پانی سے سیراب ہوتی ہیں قیمتی تہہ نشین مادوں جو کہ زمین کو بار بار زرخیز کرتے رہتے ہیں اس کے علاؤہ زمین نیچے ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلابی پانی سے بھی سیراب ہوتی ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی نسبت جن پر سیلابی پانی نہیں پہنچتا یہ زمینیں زیادہ تر نمی کو اپنے اندر سہارتی ہیں۔

    جب کے دوسری زمین خشک ہو جاتی ہیں لہذا وہ دیہات جن کی زمینیں "لس” ہیں بہت محفوظ ہیں اور قحط سالی کے دنوں میں بھی کم متاثر ہوتے ہیں جب کہ عام سالوں میں زمین کی پیداوار "میرا” سے کافی ہوتی ہے (Mr Tailor کی رپورٹ کے مطابق پیراگراف 4) کے مطابق آخری بندوبست کے دوران "لس” چھچھ کے آبی دیہات میں ریکارڈ کی گئی اور اس وقت کی درجہ بندی اب تک موجود ہے۔

    باقی ہر جگہ "لس” کا مطلب ایسی زمینیں ہیں جن کے گرد بند باندھے جاتے ہیں۔ عموماً یہ گہری ندیوں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔

    جہاں ندیوں کا پانی اوپر چڑھتا ہے اور اونچائی والی زمینوں سے رسنے والے پانی یعنی نمی کی وجہ سے بھی زیادہ دیر تک نمی کو سہار سکتی ہیں۔ زیادہ بارشوں کے دوران کافی ساری دریائی مٹی ان زمینوں کے اوپر ا جاتی ہیں جو انھیں مزید زرخیز بناتی ہیں۔

    البتہ پانی کو روکنے کے لیئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

    جب ایسا کٹاؤ ہو جائے تو زمین بے کار ہو جاتی ہے کہ پانی زمین کی زرخیز مٹی کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے اور اس میں نمی بھی نہیں رہتی۔ جب تک بند موجود رہتے ہیں تو یہ زمین ایک اچھے "میرا” سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

    لیکن چھچھ کے مرکز کی "لس” کے برابر نہیں ہو سکتی۔

    بند باندھنے سے اور ہمیشہ ان کی مرمت کرتے رہنے سے جو اخراجات اور محنت ہوتی ہے اس کی وجہ سے عام طور پر اس زمین کا تخمینہ (مالیہ) ایک اچھی "میرا” زمین کے نرخ پر کیا جاتا ہے۔ خصوصیات کے لحاظ سے میرا کی کئی اقسام ہیں۔ ایسے جہاں یہ ریتلا اور نرم ہے وہاں صرف ربیع کی فصل اگائی جاتی ہے جہاں یہ اونچی سطح پر ہو تو مٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔یہ کچی زمین خریف کی فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہے تاہم بعض اوقات یہ ربیع کے لیئے بھی استعمال ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کسان اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ربیع کی فصل زیادہ قیمتی اور منافع بخش ہوتی ہے۔

    بارانی زمینوں میں زراعت کے دو ہی طریقے استعمال ہوتے ہیں ایک "دو فصلی/دو سالہ” طریقہ ہے جس میں عموماً ربیع کی فصلیں گندم اور چنا کے بعد خریف کی فصل باجرہ اور جوار بوئی جاتی ہے یہ زمینیں اس طرح دو فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہیں اور اچھے طریقے سے باقائدگی کے ساتھ ہل چلایا جاتا ہے۔

    دوسرا نظام جو کہ زیادہ عام ہے وہ یہ ہے کہ ربیع اور خریف کے لیئے الگ الگ زمینیں چھوڑی جاتی ہیں، ہلکی زمین ربیع کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اور سخت مضبوط خریف کے لیئے چھوڑی جاتی ہے۔

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک یا زیادہ سالوں گندم بوئی جاتی ہے اور اس کے بعد چنا کاشت کیا جاتا ہے۔

    تارا میرا اکثر خریف کی فصل کے بعد بو دیا جاتا ہے جب خریف کی فصل ناکام ہو تو وہ زمین جو خریف کی فصل کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اس پر باجرہ بویا جاتا ہے۔

    ہلکی ربیع والی زمین پر عموماً گندم کے لیئے دو دفعہ ہل چلایا جاتا ہے اور چنے کی فصل کے لیئے ایک ہی دفعہ ہل چلاتے ہیں۔

    مضبوط اور پکی زمینیں زیادہ توجہ چاہتی ہیں۔

    اوسطاً 100 ایکڑ میرا زمین پر 61 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 25 فی صد ہے۔

    100 ایکڑ مزروعہ راکڑ زمین پر سالانہ اوسطاً 52 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 32 فی صد ہے۔

    ایسی زمینوں پر صرف بارشوں والے سال ہی بیجائی ہوتی ہے اور اس زمین کی فصلوں سے عموماً تارا میرا یا بعض اوقات پھلی دار اجناس کے ساتھ کبھی کبھار گندم بھی بوئی جاتی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔

  • اٹک نلہ

    اٹک نلہ

    مرزا گاؤں سے مشرق "ہزارہ کی حدود تک بھیڈیاں گاؤں کے نزدیک ہرو کے داہنے کنارے والی زمینیں سوائے چند ایک مزروعہ کھیتوں کے جو ندی کے نزدیک ہیں گہری ندیوں اور نالوں کا ایک لا متناعی سلسلہ اٹک نلہ کا علاقہ ہے”.

    اونچی زمین میں پانی میں لڑھکنے والے پتھر یا مٹی کے بنے سخت کنکر بکھرے پڑے ہیں۔

    کہیں کہیں کوئی چوٹی بھی بلند ہو جاتی ہے۔زراعت کہیں کہیں ہے کیونکہ مٹی برابر نہیں ہے اور کم خاصیت کی حامل ہے۔

    پہاڑیوں سے تھوڑی دور تک پتھریلی ہے اور پھر مٹی بھی نرم سے سخت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کوا گر کے پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بڑی زمینیں ہیں۔

    کوا گر کھیری مار کا درمیانی علاقہ کم زرخیز ہے۔

    یہ بلند علاقہ اور مٹی کے لحاظ کے کمزور ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔ چٹانیں اکثر نظر آ جاتی ہیں جو کہ زمین کے نزدیک ہی ہیں۔

    کٹاریاں سے مغرب تحصیل کی حدود تک اور شمال کی طرف جرنیلی سڑک تک کے دیہات کو ہرو کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

    یہ علاقہ بہترین بارانی علاقوں میں شامل ہے خاصیت میں ایسی چکنی مٹی کا علاقہ ہے جس پر آسانی سے کام ہو سکتا ہے۔

    اچھی بارشوں کے سلسلے میں یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں۔

    iattock
    ااٹک کا جغرافیہ- تصویر :سردار ساجد محمود خان

    ہرو کے ساتھ ساتھ بارشی پانی والی زمین جہاں ہرو جنوب کی طرف رخ کرتا ہے بہت بیکار زمینیں ہیں، مشکل سے ہی کوئی ہموار زمین ملتی ہے۔اچھی زمینیں وہی ہیں جو ندی اور نالوں کے کناروں پر ہیں۔زمین کی خاصیت کی وجہ سے جو بھی تبدیلیاں ہیں سب کا انحصار بارش ہر ہے۔

    اس علاقے کے مغرب میں اچھی زمین ہونے کے باوجود ایک سال وہاں فصل نہیں ہوئی دوسرے سال فصل اتنی تھی کہ سنبھالنی مشکل ہو گئی۔

    فتح جنگ نلہ

    فتح جنگ نلہ چونے کے پتھر کی ان چٹانوں کی خاصیت کا حامل ہے جو زمین کے نیچے موجود ہے۔

    یہ زمین جو چونے کے پتھر سے بنی ہے اس زمین سے جو کالا چٹا کے جنوب میں ہے بدرجہا بہتر ہے۔

    یہ علاقہ ہر جگہ ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔مغرب کے طرف کنکریلی ٹیکریاں ابھرتی نظر آتی ہیں۔

    بے شمار ندیوں کی بدولت اس علاقے میں آبپاشی اچھی ہوتی ہے اگرچہ یہ ندی نالے کم بارش کے موسم میں خشک رہتے ہیں پھر بھی ان میں گہرے جوہڑ تالاب اِدھر اْدھر مل جاتے ہیں۔

    اپنے کناروں کے اوپر والی زمین کے لیئے بہت کار آمد ہیں جب کے نالوں کے اندر جگہ جگہ کنوئیں بھی موجود ہیں۔

    اس علاقے کا مرکز باہتر کے ارد گرد ہے۔یہ ضلع کا زرخیز ترقی والا علاقہ ہے جو کالا چٹا سے جنوب کی طرف واقع ہے۔

    مشرق کی طرف یہ راولپنڈی کے کھروڑا سرکل کی طرح خشک ہوتا ہوا ختم ہو جاتا ہے جو کہ عام سی بات ہے۔

    گھیپ کا علاقہ۔

    کھیری مورت اور کالا چٹا کے درمیانی علاقہ کو گھیپ کا علاقہ کہتے ہیں۔

    راولپنڈی کے کھروڑا کی طرح اس کی زمین خشک اور پتھریلی ہے جس کا مشرقی حصہ ریتلا  مگر زرخیز ہے۔

    جب کہ مغرب کی طرف سخت اور خشک ہو جاتی ہے۔ عام طور پر زمین بہت اچھی ہے اور صرف معمولی بارش میں بھی زیادہ فصل دیتی ہے لیکن خشک سالی اور تیز گرم دھوپ کو برداشت نہیں کر سکتی۔

    گھیپ میں پانی کی کمی ہے چند ایک دیہات میں تو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔

    جندال کا علاقہ۔

    جندال کے دیہات باقی ضلع کے دیہات سے بہت مختلف ہیں۔

    چٹانیں کہیں کہیں نظر آتی ہیں علاقہ کا زیادہ حصہ ایک گھومتی ہوئی ریت کا میدان ہے۔کنوئوں اور چشموں سے بہت کم آبپاشی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر چنے کی کاشت کا وسیع علاقہ ہے۔

    خریف کی فصل کی اہمیت کم ہے گندم اگائی جاتی ہے لیکن اہم پیداوار چنا ہے۔

    ضلع کا بقیہ علاقہ۔

    جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو باقی ماندہ کی تمام زمین ایک ہی قسم کی ہے ہلکی چکنی مٹی ہے جس میں زمین کے اندر کی ریتلی چٹانوں کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    جو تمام علاقے میں کہیں کہیں ابھری ہوئی نظر آ جاتی ہے۔گہری جگہوں پر زمین بھی گہری ہے۔

    علاقہ کی سطح پر بے شمار ندیاں اور نالے بہتے ہیں۔بڑی ندی کے اکثر بہت چوڑے اور ریتلے پارٹ ہوتے ہیں جو چپٹی یا تنگ پٹیوں میں پھیلے ہوتے ہیں ان کی مٹی زیادہ زرخیز ہوتی ہے ان پٹیوں پر کنوئیں کھودے جاتے ہیں۔

    ندیوں کے پاٹوں سے زمین خشک اور کٹی پھٹی ڈھلانوں کی شکل میں ابھرتی ہے جس کی مٹی ہلکی ہلکی چکنی ہوتی ہے۔

    اکثر جگہوں پر پانی کا بہاؤ انھیں بہا لے جاتا ہے اور نیچے سے چٹان نکل آتی ہے۔بناوٹ میں مکھڈ کا علاقہ باقی علاقوں سے مختلف ہے۔علاقہ جنگلی اور پہاڑی ہے زمین ریتلی ہے زراعت کے لیئے بہت گہری جگہوں پر موجود ہے۔

    صرف پتھریلی چٹانوں کی ٹیکریوں پر یا ان گہری وادیوں میں جہاں بند باندھ کر دریائی مٹی روک کر زمین بنائی گئی ہو وہاں زراعت ہوتی ہے۔

    زمین کی اقسام.

    (آبپاشی والی زمینیں)

    چاہی-

    تمام وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں سے کیجاتی ہے۔

    آبی-

    وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں یا نہروں کے علاؤہ کی جاتی ہو۔

    نہری-

    نہروں سے آبپاشی والی زمینیں ان تحصیلوں میں کوئی نہیں۔

    سیلابی-

    وہ زمینیں جن پر ندی نالوں کا پانی چڑھتا ہے یا وہ جن میں پانی کی زیادتی کی وجہ سے ہمیشہ نمی رہتی ہے۔

    لپاڑہ-

    وہ زمین جو دیہات کے ارد گرد ہوتی ہے گاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے اور قدرتی کھاد ڈالنے کی وجہ سے زرخیز ہوتی ہیں اور ایسی زمینیں دوہری فصلیں حاصل کرنے کے لیئے استعمال ہوتی ہیں۔

    لس-

    ایسی گہری زمینیں جو زمینوں سے پانی حاصل کرتی ہیں یا وہ زمینیں جن کے کنارے اونچے کیئے گئے ہوں تا کہ وہ بہنے والے پانی کو محفوظ کر سکیں، ایسی زمینیں اکثر اچھی صفات کی حامل ہوتی ہیں۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • زراعت و آب رسانی

    زراعت و آب رسانی

    زمین کو ضلع کے تمام رقبے کی 1927 میں اس طرح درجہ بندی کی گئی،

    1-مزروعہ 978, 1049 ایکڑ۔

    2-قابل زراعت بنجر 947, 1625 ایکڑ۔

    3-سرکاری جنگلات 958, 0٫201 ایکڑ۔

    4-دوسرے ناقابلِ زراعت علاقے 1, 361, 517 ایکڑ۔

    آخری علاقہ زیادہ تر ندی نالوں، دریا اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔

    زمین کی مٹی:

    عام طور پر ضلع کی تمام زمینوں کی اہمیت ان چٹانوں کی خاصیت کی حامل ہے جو اس زمین کے نیچے تہہ در تہہ موجود ہیں۔

    اٹک کے زمیندار جناب سردار ساجد محمود خان آف پنڈ فضل خان

    اس طرح یا تو چونے کے پتھر کی چٹانوں یا ریتلے پتھروں والی چٹانوں کی مٹی کہلاتی ہے لیکن اس اصول میں بھی کئی قسم کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں لہذا ایک یا دو علاقوں کی زمینوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔چھچھ کا وہ حصہ جو چیل ندی کے شمال میں ہے وہ ضلع کے تمام دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔دریائے سندھ کی نزدیکی زمینیں اچھی خاصیت کی حامل نہیں، یہ بے حد ریتلی اور پتھریلی ہیں لیکن اس علاقے کا باقی ماندہ علاقہ چھچھ کا دل کہلاتا ہے۔یہ بہت زرخیز علاقہ ہے اس کی چکنی مٹی دریائی ہے جو دریائے سندھ اور مقامی پہاڑوں سے بہہ کر آتی ہے۔یہاں پانی سطحِ زمین کے نزدیک ہے۔ کنویں زیادہ ہیں عام کھیتی باڑی کے علاؤہ کنوؤں کی زمین پر بھی کھیتی باڑی اچھی ہے۔ کنوؤں کی زمینوں پر گنا, تمباکو، مکئی اور بارانی زمینوں میں گندم کی فصل ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔

    ایک عام ضرب المثل مشہور ہے "چھچھ آباد تے ملک غیر آباد” جس کا مطلب ہے کہ چھچھ اس وقت بھی اچھی پیداوار دیتا ہے جب کم بارشوں کی وجہ سے باقی ملک میں اچھی فصل نہ ہو کیونکہ مٹی میں قدرتی نمی موجود ہے اور سخت بارشوں میں بھی اس کی پیداوار پر زیادہ خراب اثر نہیں پڑتا اگرچہ غلہ کی مقدار کچھ گھٹ جاتی ہے۔

    آبپاشی کا منظر

    چیل کی زمین چیل ندی کے اطراف میں واقعہ ہے جو خاکوانی سے شمس آباد تک پھیلی ہوئی ہے۔ان زمینوں میں پانی کی زیادتی درج ذیل وجہ سے ہے:

    چھچھ کا میدان اس سطح زمین سے تقریباً تین سو فٹ نیچے ہے (جس پر وہ ندی جو لارنس پور سے اٹک کی پہاڑیوں کی سمت بہہ رہی ہے) کا پانی سطحِ زمین کے بہت قریب ہے اور نیچے ہر وقت موجود ہے جس کی وجہ دریائے سندھ والا پانی ہے۔وہ بارش جو اونچے "میرا” پر ہوتی ہے اس کا پانی بھی زمین میں جذب ہو کر اس نچلے میدان کی طرف آ جاتا ہے اور ان دو پانیوں کے ملاپ سے اس میدان میں پانی اُوپر کی طرف اور "میرا” کی نچلی سطح تک آ جاتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ پانی پھر "میرا” کی بنیادوں سے کیوں نہیں رستا،

    اول تو یہ وجہ ہے کی پانی "میرا” کی نچلی سطح سے چیل کی زمین کی طرف رخ کر لیتا ہے جس کے ایک طرف کامرہ پہاڑی ہے اور دوسری طرف گند گڑھ کی پہاڑی شاخ ہے اور دوئم یہ کہ شمس آباد سے پانی سطحِ زمین سے دور ہے اور یہاں چیل گہرائی میں چلتی ہے لہذا وہ زمینیں جو چیل ندی اور "میرا” کے درمیان ہیں دائیں کنارے کی نسبت زیادہ نمدار ہیں۔

    زمین پانی کے باوجود بھی بہت اچھی ہے ایسی چکنی مٹی ہے جو سوائے چند جگہوں کے سخت مٹی سے نہیں ملتی۔سردیوں میں پانی سطحِ زمین کے برابر ہو گیا اور چیل ندی تک محدود ہو گیا تو حکومت بھی مدد کو پہنچی اور ایک مکمل نکاسی آب کا منصوبہ تیار کیا گیا جو حضرو، موسیٰ اور کولتھی سے شروع ہو کر شمس آباد تک بنایا گیا۔

    1925 میں حریف کی فصل بلکل ناکام ہو گئی تھی لیکن ایک سال بعد یعنی 1926 میں نکاسیِ آب کے منصوبے کی وجہ سے مکئی اور چری کی بے شمار فصل ہوئی۔1904 میں "ہٹی جھیل” تقریباً 1607 ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھی۔1924 میں یہ بڑھ کر 1767 ایکڑ ہو گئی تھی۔

    سروالہ کی ناہموار زمین.

    چیل کہ کنارے سے زمین ایک اونچے ٹیلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، یہ علاقہ چیل اور ہرو کے درمیان بہنے والے پانی کا نظام گند گڑھ پہاڑوں کے دامن سے قبلہ بانڈی کے جنوب مشرق تک مالا گاؤں سے رومیا گاؤں اور پھر اٹک کی پہاڑیوں کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔

    مغربی کنارہ ایک پتھریلی چٹان بناتی ہے جو گند گڑھ پہاڑوں سے نیچے کی طرف آئی ہوئی فٹ کی بلندی تک پہنچی ہے اور تحصیل کی حدود تک ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد چٹانی بناوٹ کا علاقہ ختم ہو جاتا ہے اور مٹی کی کٹی پھٹی چوٹیاں بن جاتی ہیں پھر ان کی جگہ ریتلی مٹی ڈھیریاں لے لیتی ہیں۔

    اس وادی کی شمالی ڈھلان چیل کے کنارے تک زیادہ تر کمزور مٹی کی ہے اور آہستہ آہستہ نیچے کی سمت میں پھیل جاتی ہے۔ادھر ادھر کہیں کہیں چکنی مٹی کی زمین بھی نظر آتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ ڈھلان ختم ہو جاتی ہے یہ سطح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے جس میں ندیاں اور نالے بن جاتے ہیں جن کے کنارے اونچے اور مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔

    قبلہ بانڈی سے پرے اس ڈھلان کی خاصیت بلکل مختلف ہے۔میدانی علاقے کے نزدیک زمین سخت چکنی مٹی کی ہے لیکن جونہی گند گڑھ کی شاخ نظر آتی ہے تو زمین پتھریلی ہو جاتی ہے اور پھر پہاڑی شروع ہو جاتی ہے۔

    گندم کی کٹائی

    پانی کے نالے کٹے پھٹے اور اونچے کھڑے کناروں والے بے ترتیبی سے بہتے ہیں ان کی تہوں میں موٹی ریت اور گند گڑھ کے چٹانی پتھر ہوتے ہیں "میرا” ہرو اور چیل کے نالوں کے درمیان نزدیکی علاقہ اور سندھ سے چند میل مرزا گاؤں سے اوپر ایک گول مول ریتلی زمین پھیلی ہوئی ہے جو مقامی زبان میں "میرا” کہلاتی ہے۔ دریائے سندھ کے نزدیک کچھ علاقہ پہاڑی اور ندی نالوں والا ہے۔

    لیکن باقی ہر جگہ زمین قدرے ہموار ہے۔اس کے پانی کے نالے کم گہرائی کے نالے ہیں۔خشک سالی میں یہ علاقہ زیادہ تر نقصان اٹھاتا ہے اور کئی فصلوں کی اس میں بیجائی نہیں ہو سکتی۔اچھی بارشوں کے سال میں ساری زمین کو ہل کے نیچے لانا مشکل نہیں ہوتا، یہاں کم قیمت فصلیں بوئی جاتی ہیں اور اکثر ناکام ہوتی ہیں۔

    ہرو کے نزدیک مٹی کی ریتلی خاصیت کم ہو جاتی ہے اور کچھ پتھریلی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ علاقہ اکثر ٹوٹا پھوٹا ہے کیونکہ یہاں بہنے والے نالے اچانک گہرے ہو جاتے ہیں اور ان میں ملنے والی چھوٹی ندیاں بھی ناقابلِ گزر ہو جاتی ہیں سوائے چند ایک مقامات کے۔ ہرو کے جنوب میں زمین بہتر ہوتی جاتی ہے اور زمین آہستہ آہستہ نرم مٹی سے چکنی مٹی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کے اوپر برسنے والے پانی کے بند باندھ کر زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔

    جاری ہے …..

    تصاویر کے لئے ہم سردار ساجد محمود خان آف پند فضل خان کے شکر گزار ہیں

  • اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    کالا چٹا سے جنوب اور تحصیل پنڈی گھیب کے جنوب مغرب میں نرڑہ مکھڈ کی پہاڑیاں واقع ھیں-دریائے سندھ کے کنارے سےبنی اونچی نیچی ڈٰؑھیریاں بمشکل ھی پہاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اونچا مقام سطح سمندر سے 1800 فٹ بلند ہے۔ انکی ڈھلانیں عموما” مشرق سے مغرب کی سمت میں ہیں۔ دریائے سندھ کی دوسری طرف خٹک علاقے میں ایک پہاڑی سلسلہ ہے لیکن اس طرف کم اونچائی کی چوٹیاں ہیں۔ نرڑہ کے علاقے میں کچھ زرخیز وادیاں بھی ہیں جن میں کم زرخیز اور ہلکی زمین ہے۔ پورے ضلع میں اُڑیال کا شکار یہاں اچھا ہوتا ہے۔ شمال کی طرف فتح جنگ اور کیمبلپور کے درمیان اسی طرح چونے کے پتھر کی پہاڑیاں چٹا پہاڑ بناتی ہیں۔ ضلع کے انتہائی شمال میں اونچی زمین اور لارنس پور (فقیر آباد) پرانی چٹانوں کے سلسلے سے بنا ہوا ہے۔ اسکا نام (اٹک سلیٹ) ہے۔ معدنیات یا جانوروں کی مدفون باقیات کی غیر موجودگی میں یہ چٹانیں بہت قدیم طبقاتی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ عام طور پر ان پہاڑوں کا پھیلاو شرقا” غربا” ہے اور ہمالیہ کے عام پھیلاو کے متوازی ہیں۔ اس سے مزید شمال کی طرف چھوٹی پہاڑیاں ان کی بیرونی فصیل ہیں۔ اس ضلع کی نباتات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ پورے ضلع میں کالا چٹا پہاڑ کا جنگل ہی قابل ذکر ہے۔ کچھ اور بھی محفوظ جنگلی علاقے ہیں مثلا” کھیری مورت (کھیری مار) کو اگر اور نرڑہ کے کچھ علاقے۔ اور اب کچھ اٹک کے مشہور درختوں کے بارے میں ۔

    پھلاہی: پُھلاہی کاعام درخت ہر جگہ موجود ہے۔ ان میں سے کچھ بڑے ہیں جن سے عمارتی لکڑی بنتی ہے اور بل کھاتی گانٹھوں والے ہیں۔ ضلع اٹک میں یہی ایک اہم درخت ہے جو کافی تعداد میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اور اونٹ اسکے پتے شوق سے کھاتے ہیں اسکی لکڑی کالی، مضبوط اور وزن میں بھاری ہے۔ بڑے درختوں سے پن چکیاں ہل اور تمام گھریلو زرعی اوزار و آلات بنائے جاتے ہیں۔ لہذا علاقے کے تمام دوسرے درختوں پر اس کو ترجیح ہے۔ یہ درخت آہستہ آہستہ پرورش پاتا ہے لیکن اسکی پوری عمر سے پہلے اسکو کاٹا جائے تو اسکی لکڑی خراب اور بے کار ہو جاتی ہے۔

    کیکر: بہت اونچا اور بڑا درخت ہے جو عام طور پر سڑکوں اور کھیتوں کے کنارے پایا جاتا ہے۔ وادی میں اچھی قسم کا کیکر ملتا ہے جسے خود لگایا جاتا ہے اور خود رکھوالی بھی کی جاتی ہے۔ یہ پہاڑ کے نزدیک یا پہاڑ کے اوپر نہیں ہے۔ جسکی وجہ پہاڑی علاقوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ یہ جہاں بھی اگتا ہے بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ اسکی لکڑی سخت اور مضبوط ہے اور ہل چلانے کے اوزار اور کنوئوں کے رہٹ بیل گاڑیوں کے پہیے اور دوسرے مقاصد میں استعمال ہوتی ہے۔ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ اسکی چھال اور بیج چمڑہ رنگنے کے کام آتے ہیں۔ اسکی پھلیاں بھیڑ بکریوں کی اچھی خوراک ہیں۔ اس سے نکلی ہوئی گوندقبض کی بیماری میں شفا ہے۔

    شیشم: شیشم ضلع اٹک کے زرخیز علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ کالا چٹا کے جنوب میں کم پایا جاتا ہے۔ ضلع کے مشرقی حصوں میں ندیوں اور نالوں کے کنارے عموما” ملتا ہے۔

    کاہو: سب سے اہم اور مفید درخت ہے۔ یہ جنگلی زیتون کا درخت ہے جو کالا چٹا ، کھیری مورت اور کواگر کی پہاڑیوں میں ملتا ہے۔ یہ ہمیشہ اچھی زمین اور چونے کے پتھر کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اسکے پتے کھاتی ہیں۔ اسکا پھل نہ تو کھایا جاتا ہے اور نہ اس سے تیل نکلتا ہے۔ البتہ لکڑی سخت ہے اور بہت اچھی ہے۔ چھڑیاں، کنگھیاں، گلے کے زیور اور مالائیں اس سے بنتی ہیں۔

  • سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    محترم جناب حسین امجد صاحب! سرپرست سہ ماہی علمی و ادبی مجلّہ دھنک رنگ ، محترم مُدیرِ اعلیٰ جناب داؤد تابش صاحب، محترم مُدیر سجادحسین سرمد صاحب؛

    !السَّلَامُ علیکُم

    سب سے پہلی بات یہ کہ فتح جنگ سے اتنا خُوبصُورت، دلکش ادبی مجلّہ شائع کرنے پر مبارکباد؛ بلا شبہ یہ ایک نہایت معیاری کتابی سلسلہ ہے جو علم و ادب کے چاہنے والوں کے لیئے ایک قیمتی اضافہ ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے تیسرے ہی پڑاؤ میں آپ خُوبصُورت اور ضخیم نعت نمبر لے آئے، جس نے اس کتابی سلسلے کو بامِ اوج سے آشنا کر دیا،
    آپ تینوں ہی صاحبانِ بصیرت و بصارت، ادیب و ادب شناس و ادب پرور شخصیات ہیں، اور عقیدت وعشقِ محمد واہلبیتِ محمد علیہم السلام سے سرشار ہیں، اور بہترین نعت گو شاعر ہیں،

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط


    میرے ذاتی خیال میں نعت اصنافِ شاعری میں مشکل اور نازک ترین صنف ہے، وجہ اُس کی یہ ہے کہ نعت کی صنف جس عظیم ہستی کے لیئے مختص ہو چکی ہے اُس کا پہلا نعت گو خُود خالقِ نورِ محمدی ص ہے، جس ہستی کی نعت میں قُرآن کی آیات کا نزول ہوا ہو، اُس ہستی کی شان میں عام خاکی انسان بھلا کس حد تک کچھ کہہ سکتا ہے،
    فنِ شاعری کی باریکیوں سے واقفیت تو ازبس لازم ٹھہرتی ہی ہے مگر نعت گوئی میں بنیادی ترین نُکتہ عشقِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہءِ صادق قرار پاتا ہے، اور جذبے کی صداقت کےلیئے حقیقی معرفت کے ساتھ کمالات و صفاتِ نبوت و رسالت سے کما حقہٗ واقفیت کی شدت کے ساتھ ضرورت ہے، جس ذاتِ والا صفات کی مدح و ثنا کو خُود رَبُّ الَاربَاب نے اعلیٰ و ارفع قرار دیا ہو، جِس کے کارِ رسالت و نبوت اور کمالِ عبدیت پر خالقِ ارض و سما بھی نازاں و فرحاں ہو، اُس کی نعت کو بھی فنِ شاعری کا نگینہ ہی ہونا چاہیئے، اور پھر ایسی نعت یقیناً بخشش کا سفینہ ہونا چاہیئے،


    بات زیادہ طویل نہ ہو جائے، نعتیہ شاعری کی صنف عربی زبان سے فارسی اور پھر اُردو زبان میں وارد ہوئی، اور عربی کے بعد اُردو زبان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں سب سے زیادہ نعت لکھی گئی، دھنک رنگ کے نعت نمبر میں بھی 300 سے زائد نعتیں جمع کی گئی ہیں، بلا شبہ یہ ایک مشکل و کٹھن کام تھا، پورے ملک کے شعرا سے رابطے کرنا، اُن سے کلام اکٹھا کرنا، اُسے پوری دقّت سے پڑھنا، انتخاب کرنا، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، ایڈیٹننگ، سرورق اور پھر کتابی شکل میں اسے اشاعت آشنا کرنا واقعی جان جوکھوں کا کام تھا، مگر مدیران نے کامیابی اور خُوش اسلوبی سے سرانجام دیا جس کے لیئے آپ لوگ قابلِ ستائش و صد تحسین ہیں،
    اس میں کوئی شک نہیں کہ فروغِ نعت اور عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کےلیئے یہ خُوبصُورت اور نایاب گُلدستہ ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو گا،
    آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک کے صدقے میں داؤد تابش صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو اِس عملِ خیر کا اپنے اور اپنے حبیبِ پاک کے شایانِ شان اجر عطا فرمائے، اور جن مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئے یہ احسن عمل کیا گیا اُن کی منازلِ قبر و حشر آسان ہوں، بروزِ حشر ہم سب کو سایہءِ دامانِ رسالت عطا ہو، آمین ثم آمین یا ربَّ العَالَمِین
    وَ السَّلَام
    خیر اندیش
    مونس رضا
    2/10/2019 اٹک کینٹ