Tag: شاعری

  • عاصم بخاری کی شاعری میں عصری شعور و اصلاح

    عاصم بخاری کی شاعری میں عصری شعور و اصلاح

    عاصم بخاری کی شاعری میں عصری شعور و اصلاح

    محقق
    (مقبول ذکی مقبول بھکر)
    میرا معمول ہے جب بھی کسی شخصیت کے فن پر بات کرنے لگتا ہوں تو اسی کی بات میں سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہوں
    عاصم بخاری کے فن پر بھی ان ہی کے ایک شعر سے بات کا آغاز کرتا ہوں۔ عصری شعور کے حوالے سے ان کا ایک بہت ہی پیارا شعر

    سنتے کان اور ، دیکھتی آنکھیں
    تیرے عاصم کو رب نے بخشی ہیں

    اگلے مرحلہ میں انھوں نے اپنی شعر گوئی کی غرض و غایت بھی بیان کر دی ہے۔دوسرے لفظوں میں اس شعر کو ہم ان کا نظریہ ء شعر کا بھی نام دے سکتے ہیں۔شعر دیکھیۓ

    اصلاح کی خاطر ہی قلم ، اٹھتا ہے اپنا
    مقصود نہ تذلیل ، نہ تحقیر کسی کی

    جیسا کہ میں قبل ازیں متعدد آرٹیکلز میں اس بات کا تحریری اظہار کر چکا ہوں کہ میں نے عاصم بخاری کو صرف پڑھا ہی نہیں سمجھا بھی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی شخصیت پہ لکھنا یا فن کے کسی ایک پہلو پر بات کرتے وقت مجھےکوئی مشکل پیش نہیں آتی۔عاصم بخاری کثیر الجہات شاعر و ادیب ہیں۔ان کا مطالعہ و مشاہدہ ء فطرت وسیع ہے ، بیدار مغز اور اور بیدار تخیل شاعر ہیں۔ہرموضوع کے ساتھ انصاف کی صلاحیت انہیں قدرت نے ودیعت کی ہے۔رومانویت بھی ان کے ہاں ہے مقامیت بھی ہے آفاقیت بھی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ عقلیت اور مقصدیت کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔شعر براۓ شعر کے فلسفہ سے بھی آشنا ہیں اور شعر برائے مقصد سے بھی بے خبر نہیں خود احتسابی کے حوالے سےایک شعر دیکھیۓ

    اوروں پہ تو انگشت نمائی سے پیش تر
    اپنے بھی گریباں میں کبھی جھانک لیا کر

    علم و ادب اور کتاب دوستی ہی ہمارے کمال اور عروج کا باعث رہی۔ جب سے علم و ادب اور کتاب و قلم ہمارے ہاتھ سے چھوٹا ہم زوال آمادہ ہو ئے عاصم بخاری کتاب کی وہی اہمیت و افادیت چاہتے ہیں اور ہمیں مطالعہ کی ترغیب دیتے ہیں اسی حوالے سے ایک شعر ملاحظہ ہو

    بِکنے فٹ پاتھ پر نہ آتیں یہ
    لوگ پڑھتے اگر ، کتابوں کو

    اِسی مزاج کا ان کا ایک اور شعر دیکھیۓجس میں بہ ظاہر کتاب دوست طبقے کو جھنجھوڑا گیا ہے

    الماریوں میں ہی پڑی رہتی ہیں یہ فقط
    پڑھتا نہیں کتاب کوئی المیہ ہے یہ

    ہمارے ہاں عملوں کا خلوص اب جانے لگا ہے جب سے یہ سوشل میڈیا اور فیس بک آئی اس نے ہمیں کچھ زیادہ ہی ریا کار بنا ڈالا جب کہ ہمارے مذہب ریا کاری کو پسند نہیں کرتا۔ یہ ہماری عادت ثانیہ بن چکی ہے اسی ضمن میں ان کا ایک حالات اور واقعات کی خوب عکاسی کرتا ہے

    حسب ِ عادت استعمال ہوتی رہی
    خانہ کعبہ میں بھی عاصم فیس بک

    نوجوان نسل کے بارے میں علامہ اقبال اور الطاف حسین حالی کی طرح متفکر دکھائی دیتے ہیں اس کیفیت کا احاطہ کرتا ایک قطعہ جس میں وہ نوجواں کو کام اور محنت کی طرف رغبت دیتے دکھائی دیتے ہیں۔عاصم بخاری کے انداز میں الطاف حسین حالی کی سی سادگی جھلکتی ہے
    شعر ملاحظہ ہو

    ہماری نسل ِ نو عاصم بخاری
    تَن آساں کچھ زیادہ ہو گئی ہے

    مشرقیت کا دامن مشرقیوں سے چھوٹتا دکھائی دے رہا مغربی ثقافتی یلغار تلوار سے بھی تیز دھار ہے اس نے قو م کے جسم کو نہیں روح کو بھی ہلا کے کھ دیا ہے۔ہم نے بڑی تیزی کے ساتھ مغربی ثقافت کو فیشن اور جدت کے نام پر اندھا دھند اپنایا ہے ۔ذہن سوچ سے عاری ہوگئے ہیں۔اسی بات کا آئینہ کچھ اس انداز میں دکھاتے ہیں۔
    شعر دیکھیں

    اور بڑھا دیتے ہیں عاصم عریانی
    آج کے ملبوسات نجانے کیسے ہیں

    اسی مزاج سے میل کھاتا ان کا ایک اور شعر دیکھیۓ گا جس میں لباس لفظ کو کس ذو معنویت سے انہوں نے برتا ہے

    کوشش کے باوجود بھی عورت کے جسم پر
    ملبوس کو لباس کے معنی نہ مل سکے

    عاصم بخاری کی شاعری میں عصری شعور و اصلاح

    ہم مسلمان ہیں اور ہماری اخلاقیات ہماری تعلیمات سے مل نہیں کھاتیں زمین آسمان کا تفاوت ہے۔ہمارا مذہب کچھ اور کہتا ہے اور ہماری خواہشات کچھ اور ہیں ۔رشوت کے بارے اسلام راشی و مرتشی دونوں کو جہنمی قرار دیتا ہے جب کہ ہمارے ہاں رشوت کی تصویر کشی انہوں نے خوب کی ہے جو کہ ہمارے لیے لمحہ ء فکریہ ہے
    شعر ملاحظہ ہو

    پہلے اک آدھ ، کوئی لیتا تھا
    رشوت اک آدھ اب نہیں لیتا

    عاصم بخاری ان شعرا میں سے نہیں جو ہمہ اوقات دنیا اور مافیہا سے بے خبر گل و بلبل اور لب و رخسار کے قصوں میں مشغول ہوں۔ان کی اپنے پس وپیش اور ارد گرد پر کڑی اور گہری نظر ہے
    قطعہ ملاحظہ ہو

    تِرے علم میں بات ہو یہ ، نہ شاید
    فقط صبر کے گھونٹ ہی، پی رہے ہیں
    نہیں ” پیناڈال ” اِن کو عاصم میسر
    ترے شہر میں لوگ ، یوں جی رہے ہیں

    ایسے بیسیوں اشعار سے عاصم بخاری کا گل دان ِ شاعری مزین ہے۔مگر قاری کی نازک کے پیش پیش ِ نظر چاول کی دیگ سے چند دانوں پر ہی ہم بطور نمونہ اکتفا کریں گے اس یقین کے ساتھ کہ ان کا ذائقہ تاخیر قاری کے ہاں رہے گا۔ ایسے بیسیوں اشعار سے عاصم بخاری کا گل دان ِ شاعری مزین ہے۔مگر قاری کی نازک کے پیش پیش ِ نظر چاول کی دیگ سے چند دانوں پر ہی ہم بطور نمونہ اکتفا کریں گے اس یقین کے ساتھ کہ ان کا ذائقہ تاخیر قاری کے ہاں رہے گا۔

  • عاصم بخاری کی رومانوی شاعری

    عاصم بخاری کی رومانوی شاعری

    عاصم بخاری کی رومانوی شاعری


    محقق۔۔۔مقبول ذکی مقبول بھکر

    سینے میں اسکے بھی ، دھڑکتا دل
    رو میں جذبات کی، بھی بہتا ہے
    تیرا شاعر بخاری ، یہ عاصم
    شعر رومانوی ، بھی کہتا ہے

    عاصم بخاری کی رومانوی شاعری

    عاصم بخاری کا غالب تعارف ان کے اسلوب ان کے شعری مزاج رویوں اصلاح اخلاق اور طنز وغیرہ کے حوالے سے زیادہ ہے لیکن ایک گوشہ جو کہ تاحال شعر و ادب کے شائقین کے سامنے لانا باقی تھا جو کہ پیش ِ خدمت ہے۔
    عاصم بخاری ذوق ِ لطیف کی مالک نستعلیق شخصیت ہیں ترنم و تغزل سے خوب آشنا ہیں۔زمانہ ء طالب علمی سے مترنم نعت کلام ِ اقبال ملی نغمے اور غزل وغیرہ پر اثر ترنم سے اپنے حصے میں رکھتے ہیں۔ان کے اندر بھی دھڑکتا دل موجود ہے۔ان کے اندر بھی فطرت مناظر وطن دیس علاقہ کی محبت کے جذبات اور خیالات پاۓ جاتے ہیں۔قدرتی مناظر انہیں متاثر کرتے ہیں اور اپنے جذبات کے اظہار کے لیے انہیں شعری اظہار کی دولت سے مالامال کیا ہے۔
    حسن کی تاثیر کی کس خوب صورت پیرائے میں تصویر پیش کرتے ہیں۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    یوں ہی بد نام ہیں ، فقط ڈاکو
    لوٹ لیتے ہیں حسن ، والے بھی
    پَلے ککھ بھی نہ چھوڑتے عاصم
    تِل یہ رخسار ، والے کالے بھی

    میانوالی کے قدرتی مناظر کابیان کن خوب صورت الفاظ میں کرتے ہیں۔شعر دیکھیۓ۔

    قدرتی حسن تیرا ” کالا باغ”
    تو میاں والی کا سوئٹزر لینڈ
    شاعر کا وجدان اوعر تخیل کی بلند پروازی قاری کو وہ کچھ محسوس کراتی ہے جس سے کہ وہ صرف ِ نظر کر چکا ہوتا ہے۔

    تتلیاں پھول کب سدا بھنورے
    جلوے رہتے نہیں ، اداؤں کے
    بات یہ ذہن میں ، مری رکھنا
    رخ بدلتے بھی ہیں ہواؤں کے

    گاؤں کا فطری حسن اور فضا بڑی مسحور کن ہے عاصم بخاری
    اس کی سادگی خلوص اور فطری و قدرتی فضا کو بہت پسند کرتا ہے۔گاؤں کی قناعت پسندی اور فرصت کا ذکر اچھے لفظوں میں کرتا ہے کہ گاؤں میں ابھی احترام ِ آدمیت و انسانیت باقی ہے جوکہ اس کا بہت بڑا وصف ہے۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    پیار الفت خلوص ، پائے گا
    فطری سب اہتمام ، گاؤں میں
    پیسہ شہروں میں ہے بہت مانا
    عزت و احترام ، گاؤں میں

    ماظر ِ فطرت میں دریا پہاڑ چاندنی بادل عاصم بخاری کے ذوق ِلطیف کو بہت متاثر کرتے ہیں۔جس پر ان کے دل کے تار فورا”چھڑ جاتے ہیں اور اس مضوع پر بے ساختہ شعر چھلک پڑتے ہیں

    دریا کنارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فردوس کی خوشبو ہے کہ ، جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور ، کھلے گیسو تمہارے
    بے تاب نہیں چاند ، فقط دید کی خاطر
    جھک جھک کے تجھے تکتے ہیں افلاک کے تارے
    اے حسن کی دیوی ، تری تعظیم کی خاطر
    دریا کی ہر اک لہر ، قدم چومے تمہارے
    قاتل ہیں مری جان ، تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ، ابرو کے اشارے
    اس دل نے تو ہر حال ، یہی ٹھان لیا ہے
    جینا ہے تو جینا ہے ، فقط تیرے سہارے
    دل کہتا ہے ساتھ ، اس کا ہو اور چاندنی راتیں
    آ عمر بِتا دیں سبھی اِس ” دریا کنارے”
    عاصم بخاری حسن اور اس چند روزہ پھول کے جیسی عارضی اور مختصر زندگی سے فنا کا کس چابک دستی سے درس دیتے دکھائی دیتے ہیں۔قطعہ ملاحظہ ہو

    یہ حسیں مَہ جبین، بھی عاصم
    دائمی نیند سو ، ہی جائیں گے
    ایک دن دودھیا ، بدن یہ بھی
    خاک میں خاک ہو ہی جائیں گے

    خاری کو فطرت سے پیار ہے۔موسم اسے بھاتے ہیں۔ ہر موسم میں یہ اپنے جذبات کر اظہار اپنے رنگ میں ہر بار نئے انداز سے کرتا دکھائی دیتا ہے۔بہار کاموسم کی مناسبت سے اشعار دیکھیۓ

    زندگی کا نکھار ، کا موسم
    تیرے جوبن سنگھار ، کا موسم
    ہرطرف سبزہ پھول خوشبوئیں
    کتنا پیارا بہار ، کا موسم
    ایک اور قطعہ اسی مزاج کا قارئین کی نذر

    ہے یہ فطری نکھار ، کا موسم
    تیرے جوبن سنگھار ، کا موسم
    ہرطرف سبزہ پھول خوشبوئیں
    کتنا پیارا بہار ، کا موسم

    محبوب کا سراپا حسن کا پیکر مجسم اور جزیات نگاری میں عاصم بخاری اوج ِ کمال پر دکھائی دیتے ہیں۔فظ مہ جبیں کو انھوں نے کس شاعرانہ قدرت سے فصاحت و بلاغت کا کیا خوب ذائقہ پیش کیا ہے

    یوں ہی پڑھتے رہے ، کتابوں سے
    معنی اس لفظ کے ، مرے بھائی
    تیری پیشانی جب سے دیکھی ہے
    مہ جبیں لفظ کی ، سمجھ آئی

    فطرت کا حسن چاہے جس صورت میں بھی ہو عاصم بخاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے اور پر آمد کاسلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔کیا دل کش منظر کشی اور محاکات نگری دیکھیں۔
    "دریا کنارے”
    ۔۔۔۔۔۔
    (عاصم بخاری میانوالی)

    فردوس کی خوشبو ہے کہ جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور ، کھلے گیسو تمہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بے تاب نہیں چاند ، فقط دید کی خاطر
    جھک جھک کے تجھے تکتے ہیں افلاک کے تارے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اے حسن کی دیوی ، تری تعظیم کی خاطر
    دریا کی ہر اک لہر ، قدم چومے تمہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قاتل ہیں مری جان ، تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ابرو کے اشارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اِس دل نے تو ہر حال ، یہی ٹھان لیا ہے
    جینا ہے تو جینا ہے ، فقط تیرے سہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل کہتا ہے ساتھ اس کا ہو اور چاندنی راتیں
    آ ، عمر بِتا دیں ، سبھی اس "دریا کنارے”

    Title Image by Melk Hagelslag from Pixabay

  • عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    مبصر
    (مقبول ذکی مقبول بھکر)

    عاصم بخاری کا غالب تعارف اگرچہ یہی ہے کہ انھوں نے صرف اخلاقی و اصلاحی ، معاشی و معاشرتی اور سماجی پہلووں کو موضوع شعر بنایا ہے۔ جب کہ عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم گوشہ جسے توصیف ِ جمال کا نام دوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔وہ قارئین ِ شعر و ادب کی نظروں سے اوجھل رہا۔اس کے مختلف پہلو وں پر بات مقصود ہے۔
    یہ بخاری صاحب کا وہ تازہ کلام ہے جو کہ گلزار احمد نوشی صاحب(چیف ایڈیٹر ، روز نامہ "ٹھنڈی آگ”۔گجرات) صاحب کی علم دوستی اور ادب نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کہ قطعات کی صورت تواتر سے ایک مدت سے روز نامہ” ٹھنڈی آگ” گجرات میں شائع ہوتا رہتا ہے۔

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو
    عاصم بخاری

    عاصم بخاری کے فن ، شخصیت اور ان کی شاعری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کے سینے میں بھی دھڑکتا اور تڑپتا دل موجود ہے۔ حساسیت شاعر کی صفت ِ اول ہوا کرتی ہے۔حسن اور فطرت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکنا شاعر کی تعریف میں شامل ہے۔
    عاصم بخاری کے فطرت سے متاثر ہوتے اشعار سے اپنے موضوع کو چھیڑتے ہیں

    عاصم محبتوں کے قبیلے کا اصول
    ہوتی نہیں ہے کوئی کبھی ذات چاند کی

    اپنے چمکتے چہرے سے زلفیں ہٹا بھی دو
    واضح کرو زمیں پہ علامات چاند کی

    عاصم بخاری کا تصور ِ محبوب بھی ولی دکنی کے جیسا ہی ہے۔کوئی ماورائی کردار نہیں بلکہ گوشت پوست کا انسان ہی ہے ۔عام معاشرے کا چلتا پھرتا اور بولتا چالتا کردار ہے۔
    قطعہ دیکھیۓ

    ہر ادا دل ربا ، تری قاتل
    تیرا دیوانہ ہو گیا ہوں میں
    لاکھوں دیکھی ہیں پر ،کشش لیکن
    تیری آنکھوں میں کھو ، گیا ہوں میں

    اس کے ساتھ ساتھ انہیں حسن کی ناپائیداری کا احساس بھی جاں گزیں ہے۔عبرت ناک اور سبق آموز قطعہ دیکھیئے۔

    یہ حسیں مہ جبین ، بھی عاصم
    دائمی نیند سو ، ہی جائیں گے
    ایک دن دودھیا ، بدن یہ بھی
    خاک میں خاک ہو ہی جائیں گے

    عاصم بخاری کے ہاں بھی ہمیں جمال پرستی بھی کہیں کہیں ملتی ہے اس سلسلہ ء جمال دوستی میں بھی ولی کے پیرو دکھائی دیتے ہیں۔حسن پرستی ان کی شاعری میں بہ درجہ ء اتم ملتی ہے۔قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔

    ہر ادا ، دل ربا ، تری قاتل
    تیرا دیوانہ ہو ، گیا ہوں میں
    لاکھوں دیکھی ہیں پر کشش لیکن
    تیری آنکھوں میں کھو گیا ہوں
    میں

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو
    Image by Sofia Iivarinen from Pixabay

    عاصم بخاری کے ہاں حسن پرستی میں پاکیزگی ملتی ہے ۔ہر حسین کی ہر ادا ان کے دل کو لبھاتی دکھائی دیتی ہے
    ایک اور قطعہ اِسی مزاج کا
    غماز ملاحظہ ہو۔

    دل سنبھالے سے بھی سنبھلتا کب
    چشم ِ مخمور وہ ، نہیں دیکھی
    تِل ہی رخسار کے ، فقط دیکھے
    تو نے وہ آنکھ جو ، نہیں دیکھی

    عاصم بخاری کے ہاں حب ِ جمال اور توصیف بڑے دبنگ انداز میں ملتی ہے قدرتی مناظر میں دریا کنارے محبوب کا سراپا کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں
    عاصم بخاری محبوب کے حسن و جمال میں سے آنکھوں سے بہ طور خاص متاثر دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ ان کا ذکر ان کے ہاں مختلف زاویوں سے اور بے ساختہ ملتا ہے
    قطعہ دیکھیۓ
    شوخ تیری ، شرارتی آنکھیں
    دل کو بھَاتی بجھارتی آنکھیں
    حسن پہلے بھی کم ، نہیں تیرا
    اور اِس کو نکھارتی ،آنکھیں

    محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پیشانی کا تذکرہ کس خوب صورت اور منفرد الفاظ میں کرتے ہیں
    قطعہ ملاحظہ ہو

    یوں ہی پڑھتے رہے ، کتابوں میں
    معنی اِس لفظ کے ، مرے بھائی
    اس کی پیشانی جب سے دیکھی ہے
    "مَہ جبیں ” لفظ کی ، سمجھ آئی

    محبوب کے رخسار کے تِل کا نقشہ اکثر شعرا نے کھینچا ہے مگر اس موضوع کی تصویر کشی اور ندرت عاصم بخاری کے لفظوں میں اپنی مثال آپ ہے۔
    قطعہ پیش ِ خدمت ہے
    مختلف پیراۓ میں اشعار دیکھیۓ

    تِل کیا دیکھا کسی رخسار کا
    یاد تیرے ہونٹ کا ، تِل آ گیا

    اِسی مضمون کو ایک اور زاویے سے کس کامیابی کے ساتھ باندھتے دکھائی دیتے ہیں۔
    شعر دیکھیۓ
    ہونٹ کے تِل۔۔۔۔ کو کس خوبصورتی سے باندھا گیا ہے

    جان ِ جاں ہر اک ادا ، قاتل تری
    ویسے تھوڑی تجھ پہ یہ دل آ گیا
    تِل کیا ، دیکھا کسی ، رخسار کا
    یاد تیرے ہونٹ کا ” تِل "آ گیا

    اِسی بات کے بیان کیا باکمال اور اچھوتے انداز میں ملاحظہ ہو

    تم نے رخسار کے ہی دیکھے ہیں
    ہونٹ کا تِل” ابھی، نہیں دیکھا

    آخر میں عاصم بخاری کی فطری و قدرتی مناظر اور محبوب کے حسن و جمال کی غمازی کرتی ایک خوب صورت غزل کے اشعار کے ساتھ اجازت

    فردوس کی خوشبو ہے کہ جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور کھلے گیسو تمہارے

    بے تاب نہیں چاند فقط دید کی خاطر
    جھک جھک کے تجھے تکتے ہیں افلاک کے تارے

    اے حسن کی دیوی تری تعظیم کی خاطر
    دریا کی ہر اک لہر قدم چومے تمہارے

    قاتل ہیں مری جان تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ابرو کے اشارے

    اس دل نے تو ہر حال یہی ٹھان ہی لی ہے
    جینا ہے تو جینا ہے فقط تیرے سہارے

    دل کہتا ہے ساتھ اس کا ہو اور چاندنی راتیں
    آ عمر بتا دیں سبھی اس دریا کنارے

  • صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    تحریر : مقبول ذکی مقبول                                بھکر پنجاب پاکستان

                                                    معاشرے میں رہن سہن کے لیے انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اسی لیے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو صدیوں سے رائج ہے ۔ اس نظام کو خاندان یا گھرانہ کہا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ خاندان کا آغاز و ارتقاء ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس میں ہر فرد دوسرے کا سہارا بن جاتا ہے ۔ خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جو انسانی رویے اور طرز عمل کی تشکیل کرتا ہے ۔ خاندان ہی وہ ادارہ ہے ۔ جس کے ذریعے معاشرتی تربیت ہوتی ہے اور خاندان ہی وہ ادارہ ہے جو فرد کو اپنے فرائض کا احساس دلاتا اور اسے فرق مراتب کا شعور بخشتا ہے اگر خاندان کا استحکام ختم ہوجائے تو انسانی طرز عمل معاشرتی فرائض کا شعور اور افراد معاشرہ کے مراتب کا تعین سب کچھ ختم ہوجائے ۔

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

                                                    صابر جاذب ایسے ہی مستحکم علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے پردادا احمد بخش بستی عظیم تحصیل کروڑ (لیہ) سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو اپنے وقت کے بڑے فن کار تھے ۔ جن کی سریلی آواز اور جگت بازی کی وجہ سے انھیں دعوتوں پر خصوصی طور پر بلایا جاتا تھا ۔ صابر جاذب کے دادا امیر محمد بھٹی باقائدہ شاعر تو نہیں تھے مگر شاعری کا ذوق رکھتے تھے ۔ موقع کی مناسبت سے فی البدیہہ اشعار سنا دیتے تھے ۔ لیکن صابر جاذب کے والد گرامی شعیب جاذب ایک کہنہ مشق اور پختہ شاعر تھے ۔ وہ اتنا پختہ کار شاعر تھے کہ غیر منقوط ، فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی مشکل ترین اصناف میں شعری مجموعے منصہ شہود پر لے آئے ۔ حالیہ کویت اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک انٹر نیشنل بزم نے انھیں فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی اصناف کا بانی قرار دیا ہے ۔ ان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کہ آئندہ جہاں پر بھی ان صنفوں پر کام کیا جائے گا تو بانی شعیب جاذب کا حوالہ لازمی دیا جائے گا ۔

                                                    صابر جاذب کا اصل نام صابر حسین اور قلمی نام صابر جاذب ہے جو ۱۵ فروری ۱۹۷۵ء کو لیہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایم سی پرائمری سکول نمبر۲ سے حاصل کی ۔ انھوں نے میڑک کا امتحان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول لیہ ۔ ایف ایس سی ، بی ۔ اے گورنمنٹ کالج لیہ سے پاس کیا ۔ بی ۔ ایڈ ور ایم ۔ اے کا امتحان بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد ۲۰۰۲ء میں ہی محکمہ تعلیم میں بہ طور مدرس بھرتی ہوگئے ۔ تال حال وہ بہ طور ہیڈ ٹیچر ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ بہ طور مدرس ان کو دیکھا جائے تو پچھلے سال ۲۰۲۲ء میں انھیں محکمہ تعلیم کی جانب سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں نعتیہ رنگ ملاحظہ کیا جائے تو ذکر رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نعت اور سیرت کی صورت میں دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ہوتا رہا ، ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ یہ روح پرور سلسبیل ہے جو لمحۂ اول فرشتوں اور خود ذاتِ باری تعالیٰ کے وردِ زبان ہے ۔ ان گنت زمانے بیت گئے اُدھر لبیک الٰھُمّ لبیک کی اعترافی صدائیں بندِگان خدا کا حرزِ جاں ہیں ۔ صابر جاذب کی نعوت عقیدتوں کے موتی پروتی ہیں اور قلم ہے کہ بے قرار ہو کر صفحہ قرطاس پر پھول کھلاتا نظر آتا ہے ۔ ان کی نعت رسول کریمؐ سے محبت کے اظہار کا خوبصورت پیرایہ ہے ۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں ۔

    نبیؐ کے چشمۂ رحمت نے دھو دیا صابرؔ
    بہت پڑی تھی گناہوں کی دھول آنکھوں میں

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایک معتبر حوالہ رکھتی ہے ۔ ان کا شاعرانہ انداز اور لب ولہجہ اپنے ہم عصر شعرا ء سے منفرد نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری میں مزاحمتی و احتجاجی انداز کا اپنا رنگ ہے ۔ وہ مزاحمت کو طنز کے زہر میں ڈبو کر جب وہ پیش کرتے ہیں تو انسان تڑپ اٹھتا ہے ۔ ان کی شاعری دو بنیادی جذبوں ، رویوں اور تیوروں سے مل کر تیار ہوتی ہے وہ احتجاج مزاحمت اور رومان ہیں ۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی ، ایک نوکلاسیکی ، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے ۔

                                                    صابر جاذب ایسے معاشرے میں رہنے والا فرد ہے جس میں ظلم و زیادتی ، معاشرتی ناہمواریوں غربت و افلاس اور تنگی کا بازار گرم رہتا ہے ۔ اس معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے زندگی کے ناگوار حقیقتوں درد مند دلوں ، جبر و ظلم ، معاشرتی ناہمواریوں نے ان کو انقلابی شاعر بنایا دیا ہے ۔ ان کا ایک انداز ملاحظہ کریں ۔

    ڈھونڈ کر ہر ایک خود سر دار پر لایا گیا
    ٹانک ڈالے دار پر شوریدہ سر جتنے بھی تھے

                                                    صابر جاذب کے کلام میں درد مندی کا عنصر بہت عیاں ہے ۔ وہ جس دور میں سانس لے رہا وہ نہایت ابتری کا دور ہے انسانی زندگی کی اقدار پامال ہو چکی ہیں ۔ انسانی خون ارزاں ہو چکا ہے ۔ اقتصادی ناہمواری نے لوگوں کو بد حال کر رکھا ہے ۔ ہر طرف ظلمت کا راج ہے ۔ تباہ حال معاشرہ میں ہمہ گیر انسانی تباہی نے ہر سوچنے والے کو متاثر کیا ہے تو ایسے میں ایک حساس اور باشعور شاعر کیسے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے ۔ سماج میں موجود بے ترتیبی صابر جاذب کے شعری وژن کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ پاتی ۔ زندگی سماج کے اندر ایک سیال حالت میں رہتی ہے ۔  سماج اور زندگی کا خالص تصور دو الگ الگ حالتیں بن جاتے ہیں ۔ سماج زندگی کو اپنی ہیئت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سماج کے پاس طاقت ہے ، زندگی خالص جذبوں کا بیرونی لبادہ کب تک اوڑھے رکھے ، اُسے سماج کی طاقت کے ہاتھوں شکست مل جاتی ہے ۔ صابر جاذب اس شکست ناروا کے حامی نہیں ۔ وہ اس شکست میں سماج کے غیر مرئی اور غیر متعین ہاتھوں کی نشان دہی کرتے ہیں ۔اس لیے وہ برملا کہتا ہے ۔

    دولت کی ہوس میں ہوئے ناموس گریزاں
    کب سے سرِ سردار پہ دستار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں فلسفہ زندگی کا پہلو بھی نمایاں ہے فلسفہ زندگی تقریباً ہر بڑے شاعر کے ہاں یہ مضمون پایا جاتا ہے جس میں ہر ایک شاعر نے زندگی کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ کوئی شاعر زندگی کو مخص ایک لمحہ قرار دیتا ہے کوئی کہتا ہے کہ زندگی مسلسل غم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ایک شاعر جس انداز سے زندگی دیکھتا ہے ممکن ہے ایک عام آدمی کا انداز نظر وہ نہ ہو ، چند قدریں تمام انسانوں کی زندگی میں یکساں ہوتی ہیں جو فطری ہوتی ہیں جن میں غم ، دکھ ، خوشی وغیرہ ۔ ایک شاعر کے ہاں قدرتی بصارت ہوتی ہے جو کائنات میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتی ہے شاعر کائنات کی باریکیوں کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے ۔صابر جاذب کا فلسفیانہ رنگ دیکھیں ۔

    وقت کی سازش سہی خون کی بارش سہی
    کون ہوگا سرخرو ایک میں ہوں ایک تو

                                                    صابر جاذب نے غربت ، بے روزگاری عدم استحکام ، انسانی بے توقیری ، انسانی استحصال اور ان جیسے دیگر مسائل کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے چابک دستی سے معاشرے کو در پیش تمام تر مسائل کو خوبصورت الفاظ کے پیکر میں اپنے قاری تک پہنچا کر اپنا فرض بھی ادا کیا اس بات کا اظہار وہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ۔

    حالات کا سورج تو سرِ بام ہے تاباں
    سستائیں کہاں سایۂ دیوار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کو شعرو ادب سے لگاؤ تو بچپن سے تھا مگر کالج علمی و ادبی ماحول نے اس کو مزید حسن آفریں بنایا ۔اُن کے ادبی ذوق کی تشکیل و تعمیر میں جہاں پر کلاسیکی شعریات کا اہم حصّہ ہے ۔وہیں پر رومانوی رحجان کے اثرات بھی شدت سے پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ اُن کے رومانی مزاج پر کلاسیکیت کی سخت گیری بے اثر ثابت ہوئی ۔

    کیسے تیروں کے احاطے سے نکل کر جاؤں
    کھا گئے ہیں ترے ابرو کے تناؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے ہاں غم جاناں کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنا غم دوراں کو دی گئی ہے ۔ وہ حسن وعشق کی بجائے بھوک افلاس کو بیان کرتے ہیں ۔ فکری اور جذباتی اضطراب بھی ہے نمایاں ہے ۔ ان کے ہاں غربت و افلاس کا نوحہ اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ بسا اوقات ان کے لیجے سے کڑواہٹ جھلکتی ہے ۔ ان کے قریب غربت انسان کا بڑادکھ ہے جو اکثر زندگی کو بھی کھا جاتا ہے ۔ صابر جاذب کی شاعری میں احساس محرومی کے اعلیٰ درجے پردکھائی دیتی ہے ۔

    کشت غربت میں بہت ٹوٹ کے بادل برسا
    سیمگوں کھیت میں پھر درد ہیں پھلنے والے

                                                    انسانیت کا سب سے بڑا المیہ طبقاتی امتیاز ہے ۔صرف شجرنسب ، خاندان اور دولت کی بنیاد پر انسانوں کو چھوٹے اور بڑے کی اکائی میں تقسیم کرنا، انسانیت کے منافی ہے ۔ ادب زندگی کا عکاس ہوا کرتا ہے ۔ سو سماج اور سماجی اقدار کا پورا عکس کسی نہ کسی طور سے ادب کا موضوع بن جایا کرتے ہیں ۔ معاشرے میں بسنے والے افراد فکری اور نظری طور پر مختلف خیالات کے حامل ہوا کرتے ہیں ۔ ادب نہ صرف ان خیالات کا احاطہ کرتا ہے بل کہ ان نظریات کے اظہار و ترویج میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ صابر جاذب طبقاتی امیتاز کو یوں پیش کرتے ہیں ۔

    اس بات پر نظروں سے گرایا گیا صابرؔ
    نوکر نہںں، کوٹھی نہیں، کار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایسی شاعری ہے جس میں زندگی صرف لذت کا نام نہیں بلکہ زندگی تلخیوں اور رکاوٹوں کا دوسرا نام ہے ۔ جس سے انسان مختلف تکالیف اور مشکلات کا ایک ایسا بھنور ہوتا ہے جس سے نکلنا کس قدر مشکل اور گراں کام سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے احساس نے اپنے کرب کے ساتھ دوسروں کے کرب اور اپنی الجھنوں کے ساتھ دوسروں کی الجھنوں کو بھی دیکھا ۔ جاذب کے ہاں اس کی انفرادی اور اچھوتا بیان ملتا ہے ۔

    آ ہی نکلے کوئی شاید مجھے پرسہ دینے
    صفِ ماتم ہوں درِ دل پہ بچھاؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں فرد سیاسی سماجی سطح پر حکمرانوں ، سماجی ٹھیکداروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ۔ بے بسیوں ، بے کسیوں اور مجبوریوں کی تاریک رات ہے کہ کٹنے کا نام نہیں لیتی ۔ نتیجتاً فرد کا اپنی ذات سے اعتبار و اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ اپنی انفردیت اور اعتماد ذات سے محروم ہو چکا ہے ۔ ایسے میں فرد سماجی معاملات سے بے گانہ ہو جاتا ہے اور ابن الوقتی کا رویہ جنم لیتاہے ۔ یہی رویہ آج ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے ۔ معاشرے کے کرب زدہ ماحول کو صابر جاذب کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں ۔

    اپنوں میں بھی اب جذبۂ ایثار نہیں ہے
    یہ غم ہے میرا کوئی غم خوار نہیں ہے

                                                    شاعری میں محبوب کے حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے ۔ غزل چونکہ معاملات مہر و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستان ہے شعراء حضرات ہمیشہ سے حسن فطرت کے ساتھ ساتھ اپنے مجازی محبوب کی تعریف میں رطب اللسان رہے ہیں ۔شعراء نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے ان کے اشعار سے محبوب کی ایک خوبصورت تصویریں بنتی ہیں ۔ شعراء کے لئے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے یہ مکھ حسن کا دریا ہے ۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے ۔اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ ، اور اب ، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ صابر جاذب کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے محبوب کی تعریف انفرادی انداز میں کی ہے ۔ ان کا انداز ملاحظہ کریں ۔

    حُسن اپنی سادگی سے آپ شرماتا رہا
    آئینے کو کیوں پسینہ مفت میں آتا رہا

                                                    صابر جاذب کا پیغام امن ، ترقی ، خوشحالی ، محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے ۔ ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے ، اگر یہ نسل تعلیم یافتہ ، باصلاحیت ، مہذب اور روشن دماغ ہوگی تو قوم کا مستقبل تابناک ہوگا بصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی ۔ گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ان کی آرزو ہے کہ نوجوانوں کے اندر احساس اور قوم کا درد پیدا ہو ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں ۔

    کبھی کا ہوگیا جل بجھ کے راکھ پروانہ
    اب اس کا دیپ کے نیزے پہ سر تلاش نہ کر

                                                    صابر جاذب ایک ایسے شاعر کا نام ہے جو اپنی خوب صورت شاعری اور تنقیدی نگاری کی وجہ سے سوشل میڈیا کے بین الاقومی تنقیدی گروپس میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری احساسات و جذبات اور تہذیب کے بکھراؤ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کشمکش اور دکھ کی امین ہے ، ان کا لہجہ ، ان کا اسلوب ، ان کا طرز ، ان کی فکر ، ان کا شعور ، اور ان کا تخیل ، صرف ہم عصروں میں سب سے انوکھا اور دل پزیر ہے ۔ ان کا جدت بھرا انداز ملاحظہ کریں ۔

    صحن میں جس نے اُگائے ہیں شجر شیشوں کے
    اس کی نسلیں بھی تو کھائیں گی ثمر شیشوں کے

                                                    المختصر صابر جاذب بنیادی طور پر ایک دردمند رومانی شاعر ہیں ۔ جذبوں کی شدت اور صداقت ، لہجے کی قوت اور تاثیر ، حسن و رومان کی فراوانی ، انقلاب اور شباب کا پر زور احوال ان کی شاعری کے امتیازی اوصاف سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کے اسلوب میں ندرت ، شگفتگی ، منظر نگاری اور محبت کے جذبات کی فراوانی قاری کو مسحور کر دیتی ہے ۔ زبان و بیان پر ان کی دسترس کا ایک عالم معترف ہے ۔ ان کی شاعری میں صنائع بدائع کا حسن دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔ حالات و واقعات کا لفظوں میں نقشہ کھینچ کر رکھ دینا ان کا خاصہ ہے ۔ اپنی شاعری سے انھوں نے اردو ادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا وہ تاریخِ ادب کا ایک اہم باب ہے ۔

  • عاصم بخاری کی شاعری میں انگریزی الفاظ کا برتاؤ

    عاصم بخاری کی شاعری میں انگریزی الفاظ

    عاصم بخاری کی شاعری میں انگریزی الفاظ کا برتاؤ

    تحقیق۔ مقبول ذکی مقبول

    حسب ِ معمول میں اپنی اِس تحریر کا آغاز بھی عاصم بخاری کے ہی ایک شعر سے کرنا چاہتا ہوں۔

    اپنا معمول ہے ، یہی عاصم
    نِت نئے تجربے میں کرتا ہوں

    عاصم بخاری کی شاعری کا اگر تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ان کے ہاں نِت نئے شعری تجربے ملتے ہیں۔کبھی یہ مقامی زبان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو کبھی موضوعاتی کسی نظم شعر میں ان کے ہاں موضوعاتی تجربے ہیں تو کبھی اسلوبیاتی تجربے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لسانی اور ہئیتی تجربہ کارے بھی ان کا روز کا معمول ہے۔اسی طرح ان کے ہاں جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ جدید الفاظ کا برتاؤ بھی ان کے وسیع ذخیرہ ء الفاظ اور فن ِ شعر پر ان کی مہارت کی خبر دیتا ہے۔عاصم بخاری بیدار تخیل اور روشن خیال شاعر ہیں۔جدید تقاضوں کے عین مطابق شعر کہتے ہیں۔
    شعر ملاحظہ ہو۔
    پَگلے” اِی ۔ لَو” کا دور ، ہے اِس میں
    کون جسموں کی بات ، کرتا ہے
    حالات سے بھی عاصم بخاری بے خبر نہیں ہوتے۔اور بدیسی زبان کے الفاظ کا بھی بڑی خوب صورتی سے برتاؤ کرتے ہیں۔

    یہ الگ کس، حوالے سے عاصم
    ذکر تو آیا ” ریڈیو ” کا بھی

    عصری شعور بھی عاصم بخاری کے ہاں دیکھیۓ دیدنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی الفاظ کا خوب صورتی سے استعمال بھی کیا خوب ہے۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    پڑھ سکیں جس میں پر سکوں رہ کے
    وہ علیحدہ نظام ، ممکن ہے ؟
    کیا ” خواتین یونی وسٹی ” کا
    دیس اپنے ” قیام ” ، ممکن ہے ؟

    شاعری میں انگریزی الفاظ

    اِسی مزاج کی نمائندگی کرتا ایک اور قطعہ پیش ِ خدمت ہے۔

    کیسے مناظر آئے ہیں ، آنکھوں کے سامنے
    آسیں ، امیدیں ، قوم کی ، سب خاک ہو گئیں
    بیٹی نے "یونی وسٹی” میں ، پڑھنے کی بات کی
    والد کی آنکھیں "خوف ” سے ، نمناک ہو گئیں
    اِسی طرح ایک اور شعر میں برجستگی مقامیت منظر کشی کے ساتھ ساتھ انگلش کا استعمال بھی خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔شعر ملاحظہ ہو

    دامن میں یہ کوہستاں کے،” ڈگری کالج کالاباغ”
    واقع پہلو میں چغلاں کے،” ڈگری کالج کالاباغ”

    عاصم بخاری اگرچہ مشرقی مزاج کے حامل ہیں اور مغرب پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔صرف نظر رکھنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس پر کڑی تنقید بھی کرتے ہیں۔
    قطعہ میں انگریزی لفظ کا روانی سے استعمال دیکھیۓ
    ہم مغرب کی اندھا پیروی میں کیوں پڑ گئے جب کہ ہمارے ہاں اسلامی روایت اور مشرقیت ہے جس میں ماں باپ کا ہر لمحہ خیال رکھنے کو کہا گیا ہے۔قطعہ ملاحظہ ہو۔
    ” یوم ِ فادر ” رواج ، مغرب کا
    ایسا مشرق میں تو ، نہیں ہوتا
    دین ِ فطرت میں سارے دن اسکے
    باپ کا ایک دن ، نہیں ہوتا

    عاصم بخاری کی نظر پوری دنیا پر ہے ۔اور کائناتی منظر نامے پر وہ اپنے رائے بھی دیتے ہیں تجزیہ بھی پیش کرتے ۔اشعار دیکھیں۔

    حادثے ذہن میں ، بری بحری
    ہر سو خوف و ہراس ، ایسا ہے
    ٹائی ٹینک کا ذکر ، بھی اب تو
    پر مکوڑے کو لگنے ،جیسا ہے

    عاصم بخاری رویوں پر غور کرتے ہیں۔مشرقیت تلاشتے ہیں آدمیوں میں انھیں آدمیت کم اور عہدے خود غرضیاں انھیں دکھائی دیتی ہیں کہ ہم انسان بننے کے لیے کوشش نہیں کرتے بلکہ عہدوں کے حصول کی تگ و دو میں زیادہ رہتے ہیں۔
    جاری ہے چار سو یہی ، بس اک مقابلہ
    دنیا کو ایک بار ، دکھانا ضرور ہے
    انساں اگر نہ بن سکے تو کوئی غم نہیں
    بیٹے کو ” ڈاکٹر ” تو ، بنانا ضرور ہے

    عاصم بخاری معاشرتی رویوں پر بھی کڑی نظررکھتے ہیں اور شعر کے راستے سماج کو خبردار کرتے رہتے ہیں۔یہی شعر گوئی کا منصب بھی یہی ہے

    فیس بکی ہے دوستی عاصم
    اس قدر اعتبار ، مت کرنا

    عاصم بخاری کے ہاں جدت و قدامت کا بڑا حسیں امتزاج پایا جاتا ہے۔بدیسی زبان کا لفظ کس نفاست سے سے استعمال کیا ہے۔ مگر قطعہ کے حسن کو بھی متاثر نہیں ہونے دیا بلکہ اس سے اس کا حسن اور دوبالا ہوا ہے۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    اچھی سروس ہے یہ مانا
    جس نے بھی یہ جاری کی ہے
    ہر اِک کے کام ، آنے والی
    شکرا” ون ون،ٹو ٹو "بھی ہے

    عاصم بخاری کا مشاہدہ منظر کشی مغربی طرز پر چوٹ اور
    انگریزی لفظوں کا استعمال نظم کے اس ٹکڑے میں دیکھیۓ۔

    ابھی یاں کوئی ” ممی ، ڈیڈی” نہیں
    ابھی کہنے والے ہیں سب بابا جان
    بزرگوں کا اس میں ابھی احترام
    وہی پہلے والا ، ابھی ہے مقام

    اسی طرح ایک اور نظم میں جدت اور اندھا دھند تقلید و ترقی پر بھی ایک اور کے ٹکڑے میں تنقید باۓ اصلاح غور و خوض اور انگریزی طرز و اصلاح کے انداز میں جدید انداز و موضوع دیکھیں۔
    نظم۔۔۔۔بیٹھکیں
    ابھی ” نیٹ ” یہ ” یوز” کرتے نہیں
    ابھی ایک دوجے سے ہیں باخبر
    ابھی تک ہیں آباد یاں بیٹھکیں
    ابھی لوگ مل بیٹھتے ہیں یہاں

    عاصم بخاری کی شاعری میں انگریزی الفاظ کا برتاؤ
    Image by Susanne Jutzeler, Schweiz 🇨🇭 suju-foto from Pixabay

    درج بالا نظم میں انگریزی الفاظ کا استعمال فطری قدرتی اور بے ساختہ انداز میں انھوں نے کچھ اس مہارت اور روانی سے کیا ہے کہ نامانوسیت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ یہ ان کی شاعرانہ مہارت ہے۔
    آخر پہ حالات ِ حاضرہ کے نمائندہ دو قطعات جن میں مہنگائی اور بجلی کے آئے روز بڑھتے نرخوں کے رونے کی تصویر کشی کے ساتھ انگریزی کے الفاظ کا غیر محسوس انداز میں برتاؤ بھی پڑھنے کے قابل ہے
    قطعات ملاحظہ ہوں۔
    دن بدن بڑھتے ریٹ ، یونٹ کے
    دل کو ہر ایک تھام ، لیتا ہے
    سب پہ بجلی سی ایک گرتی ہے
    "بِل” کا جب کوئی نام ، لیتا ہے

    اور نہیں بس اک ہی سب کے
    ارمانوں کا ، قاتل نکلا
    صدمے سے مرنے والے کی
    جیب سے "بجلی کا بل "نکلا

  • مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    (تحریر۔پروفیسر ریٹائرڈ جاوید عباس جاوید)


    دنیا میں بہت سے لوگ اپنی ہمت اور شوق و جذبے کی بدولت اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے اظہار اور اپنے فن کی تکمیل میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ناممکن کو ممکن کر کے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ایسی ہی ایک کامیاب اور قابل ذکر شخصیت ضلع بھکر کے ابھرتے ہوئے شاعر اور نثر نگار جناب مقبول ذکی مقبول صاحب کی ہے۔1977میں بھکر کی پسماندہ تحصیل منکیرہ کے ایک غریب گھر میں جنم لینے والا یہ فنکار اپنی تعلیم کا سلسلہ مکمل نہ کر سکا لیکن زبان اور تخلیق ادب کا شوق اس کے ہمرکاب رہا۔سب سے پہلے اس نے سرائیکی زبان میں کربلائی منظومات،نعت اور منقبت سے آغاز کلام کیا ااور محکمہ صحت مین ملازمت بھی اختیار کر لی۔سب سے پہلے تحصیل منکیرہ کے معروف شاعر علی شاہ مرحوم نے اپنی کتاب ،ثنائے سبط رسول میں مقبول ذکی مقبول کو متعارف کرایا اور ان کے کلام سے ادبی حلقوں کو آگاہ کیا۔ مقبول ذکی منکیرہ میں بننے والی پہلی ادبی تنظیم،تھل ادبی سنجوک، کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔انہوں نے معروف سرائیکی شاعر جناب نذیر ڈھالہ خیلوی کی شاگردی اختیار کی اور ان کے حوالے سے منکیرہ میں بننے والی ادبی تنظیم ،بزم نذیر،میں بھی بھرپور کام کیا۔انہوں نے مختلف ادبی رسائل،اخبارات اور تنظیموں میں اپنے تعارف اور کلام کی اشاعت کے ذریعے اپنی اور منکیرہ کی شناخت کروائی۔۲۰۱۱ میں شائع ہونے والی علی شاہ کی تحقیقی کتاب ،تحصیل منکیرہ کا ادبی منظر نامہ میں مقبول ذکی کا تفصیلی تعارف سامنے آیا جس کے بعد ادبی حلقوں میں مقبول ذکی کی شناخت بڑھتی چلی گئی۔2017 میں ان کا پہلا سرائیکی مجموعہ کلام ،سجدہ،منظر عام پر آیاجس میں کربلائی منظومات موجود ہیں۔دوسرا مجموعہ کلام ،منتہائے فکر، 2020 میں شائع ہوا جس میں ان کی اردو شاعری موجود ہے۔


    مقبول ذکی کے دونوں مجموعہ ہائے کلام کو عوامی پسندیدگی اور پزیرایی ملی جس کے ساتھ ساتھ مقبول ذکی نے بہت سے ادب شناس اداروں اور ادب پرور شخصیات کے ساتھ اپنے روابط جاری رکھ کر اپنے ادبی ذوق اور تجربے کو وسعت دینے کا سلسلہ بھی برقرار رکھا۔ان کے اس حلقہ دوستی میں رائے عابد علی(طلوع اشک)حسن عباسی(ارژنگ)ظہور احمد فاتح(تونسہ شریف)جمشید اقبال(بھکر)ارشاد ڈیروی،گل بخشالوی،ابرار حنیف مغل(کاروان نعت،لاہور)نجف علی شاہ(بھکر)سید شبیر شاہ زاہد،اشتیاق احمد نوشاہی،حافظ شبیر احمد اویسی(خان پور)حکیم ناز جلالوی،عارف یار گجراتی،گلزار احمد نوشی(لالہ موسی) اورناصر ملک(چوک اعظم) جیسے لوگ شامل رہے ہیں۔اس کے بعد مقبول ذکی نے معروف ادبی شخصیات کے انٹرویوز کر کے انہیں اخبارات اور رسائل میں شائع کرانے کاسلسلہ شروع کی جو بہت کامیاب رہا انہوں نے نذیر ڈھالہ خیلوی،راقم الحروف پروفیسر جاوید عباس،پروفیسر عاصم بخاری،سید حبدار حسین شاہ،ڈاکٹر محمد ایوب،ڈاکٹر محسن مگھیانہ،ارشد حسین حیدری،اور دیگر اہم قلمکاروں کے کامیاب انٹر ویوز کئے،انکے مختلف کتابوں اور فن کاروں پر لکھے گئے تبصرے ماہنامہ فکر شعور(اسلام آباد)اتمام(اقبال حسین،بھکر)ماہنامہ سفید چھڑی سرگودھا،ہفت روزہ عہد وطن،لاہور،شہزاد افق۰روزنامہ افق،اسلام آباد)قمر عباس گل کے سفر نامے پر تبصرہ،ہمراز اچوی کی ادبی خدمات پر تبصرہ،فردیات(عوام کی عدالت ،بھکر،میگزین تھل،منزل کی طرف۔سحرش ناز(بھکر ٹوڈے،بھکر)نوید حضوری(ٹھنڈی آگ)حرف بقا،عاصم عاصی،خوشبو کا احساس(گستاخی معاف،اسلام آباد)روزنامہ تھل گزٹ لیہ،سنگ بے آب لیہ،مقبول ذکی کی ادبی وصحافیانہ خدمات جاری و ساری ہیں۔
    مقبول ذکی کو ان کی ادبی مساعی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز اور شیلڈز دی گئی ہیں جن میںبزم حسنی ادبی سنگت لیہ،بھیل ادبی سوسائٹی ننکانہ صاحبِ،کار خیر ادبی ایوارڈ ۲۰۲۱،گوجرانوالہ،خوشبوئے نعت ایوارڈ سرگودحا اور دیگر بہت سے اداروں کے اعزازات اور تعریفی اسناد و انعامات ان کو عطاء کئے گئے ہیں،مقبول ذکی مقبول اپنی گھریلو مصروفیات اور معاشی مسائل میں سے وقت نکال کر اپنی ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لانے اور علاقے میں علمی اور ادبی شعورکو اجاگر کرنے کا عزم اور ذوق و شوق رکھتے ہیں۔انہوں نے مذہبی شاعری میں بہت کام کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مقبول ذکی نے علاقہ تھل لی ثقافت اور روایات کی ترجمانی کو اپنی شاعری اور نثر نگاری کے اہم موضوعات میں شامل کیا ہے۔ اللہ پاک مقبول ذکی کی اس ادبی جد وجید میں اسے مزید کامرانیاں نصیب کرے،آمین۔آخر پر مقبول ذکی کی ایک نعت اور ایک رباعی پیش خدمت ہے۔
    نعت شریف
    آپﷺ کے دم سے عالم سنوارا گیا
    ذکر سے کام بنتا ہمارا گیا
    یہ جو کون و مکاں ہیں سجائے گئے
    ہر طرف ہے یہ جلوہ تمہارا گیا
    پاک قرآن مدحت سرائی تیری
    اور ہر اک زمانہ نکھارا گیا
    اس قلم سے ہے مقبول عزت ملی
    نعت میں مصطفے کو پکارا گیا
    رباعی
    جس کا جھولا تھا جھلاتا آ کے جبریل امیں
    سربریدہ دھوپ میں دیکھا گیا عاشور کو
    اس امامت پر تو ہو گا ناز ہر انسان کو
    کر دیا مقبول جس نے حق ادا عاشور کو

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    پروفیسر ریٹائرڈ جاوید عباس جاوید

  • وصال یار پر تبصرہ

    وصال یار پر تبصرہ

    ایک ایسے معاشرے میں جہاں تہذیب کے سبھی دائرے زنجیریں بن کر صنف نازک کو جکڑ لیتے ہیں وہاں پر خواتین بھی ادب تخلیق کرتی ہیں لیکن معاشرتی حالات کے مطابق انکی آواز ایک سہمی ہوئی چڑیا کی آواز جیسی لگتی ہے۔ ہماری ادبی تاریخ میں بہت کم خواتین ایسی ہیں کہ جنہوں نے معاشرتی خوف کی چادر کو تار تار کر کے دلیرانہ ادب تخلیق کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عورت گوشت پوست کے ایک لوتڑے کا نام نہیں اسکے بھی احساسات ہیں ۔ زندگی کو دیکھنے کا اپنا ایک انداز ہے اور اسکی زندگی بھی جذبوں کے سبھی رنگوں میں گوندہی ہوتی ہے۔ 

    Yusra Wisal


    میرے سامنے نو آموز شاعرہ یسریٰ وصال کاپہلا شعری مجموعہ “وصالِ یار” موجود ہے ۔یسریٰ وصال کی پیدائش ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کی ہے۔ابتدائی تعلیم اسلام آباد سے حاصل کی ۔گریجویشن ایف جی کالج برائے خواتین ایف سیون ٹو سے حاصل کی ۔ایم ۔ اے انگریزی ادب و لسانیات نمل یورنیورسٹی سے کیا۔ایم اے کی تکمیل کے بعد وکالت کی ڈگری حاصل کی اور ڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی کی باقائدہ ممبر ہیں۔ان کی کتاب سے حاصل معلومات کے مطابق انہوں نے لکھنے کا باقائدہ آغاز افسانے سے کیا۔پھر نثر سے نظم کا رُخ کیا اور اب باقاعدہ غزل کہتی دکھتی ہیں۔ یسریٰ بھی اسی معاشرے کے رِیت رواجوں میں اُلجھی ہوئی ایک نازک اندام لڑکی ہے لیکن یسریٰ سے وصال تک کے سفر میں اُسے نہ صرف نوجوان لڑکیوں کے جذبات کی ترجمان بنا دیا ہے بلکہ انکی شاعری کا مطالعہ ہمیں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلاکر دیتا ہے۔ میں یسریٰ وصال سے کبھی نہیں ملا ۔ اُن سے میرا رشتہ صرف لفظوں تک ہے اور انکے یہ الفاظ میرے اُوپرانکی شخصیت کو کھول کر بیان کر رہے ہیں بلکہ یہ کہوں تو بے جانہ ہو گا کہ یسریٰ وصال نے جس دلیری کے ساتھ نسل نو کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اس نے اسے راتوں رات پروین شاکر کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔

    Yusra Wisal
    یسریٰ وصال

    وصال یار ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جو ہمیشہ اُردو شاعری کے ماتھے کا جھومر رہے گا کیونکہ یہ ایک ایسی نوجوان لڑکی کی شاعری ہے جسکی آنکھوں میں اتنے خوابوں نے آ بسیرا کیا ہے کہ وہ اسے ہر وقت بے کل رکھتے ہیں وہ آگے اور آگے بہت آگے جانے کی متمنی ہے اس کی فطرت میں قرار نہیں ہے۔

    ؂بدن دہکتے ہوئے سرد ہو بھی جاتے ہیں
    جلے تو اور کہا ں تک جلے شرارِ وصال

    یسریٰ ملا پ کی شاعرہ ہے اور وہ ایک نوجوان لڑکی کے من میں پلنے والے جذبوں کو اس خوبصورتی سے لفظوں کا پیرہن پہناتی ہے کہ دل سے بے اختیار واہ اور آہ کی صدائیں نکلتی یں ان کے یہ شعر دیکھیئے

    ؂مرے شباب کی دوشیزگی کی سن آواز
    کہ چاہتی ہے بدن سے بدن کے نیاز

    اسکے جذبات میں بانکپن ہے ۔ یوں دیکھائی دیتا ہے جیسے ایک الہڑ مٹیار تنہائی میں اپنے محبوب کو پکار رہی ہے۔

    ؂آمیرے پاس آ ، میرے رنگوں میں ڈوب جا
    رنگِ ہوس کو چھوڑ کے جیسے دھنک حلال

    Yusra Wisal at book shop
    یسریٰ وصال اپنی کتاب کے ساتھ

    لیکن وہ ایک مشرقی لڑکی ہے وہ اپنی حدود سے بھی واقف ہے وہ تتلیوں کی طرح ہرپھول پر نہیں منڈلا سکتی ۔ وقت کا اُبال اگر عشق کے خمار کو کچھ زیادہ ہی بھڑکا دے تو سپیڈ بریکر بھی ضروری ہیں۔

    ؂سگنل کو توڑتی ہوئی جانے لگی وصال 
    لازم ہے اب ٹرین کی زنجیر کھینچئے
    نمونہ کلام
    وہ میری نظروں سے نظریں ملا کے دیکھتا ہے 
    کہ جیسے بار میں ٹکرا رہے ہوں جام سے جام

    طرح طرح سے دھڑکتا رہا ہے چاہت میں 
    مگر وْہی دلِ ناداں ، وْہی دلِ ناکام

    دھرم ہے میرا تو صاحب کی بندگی کرنا 
    وہ دور ہو کہ وہ نزدیک ، دل اْسی کے نام

    تعارف اِتنا ہی یْسریٰ وِصال کا ہے بہت 
    وہ شعر کہتی ہے ، رکھتی ہے ، اپنے کام سے کام

    iattock

    شہزاد حسین بھٹی

    ایم ایس سی ماس کیمونیکشن، ایل ایل بی

    مصنف،صحافی و کالم نگار   لاہور

    سیکرٹری انفارمیشن، پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ,پنجاب،

    سابق ایڈیٹر ہفت روزہ “سین “

    مصنف  “کمرہ نمبر 109” کالموں کا مجموعہ ممبرنیشنل پریس کلب اسلام آباد،ممبرانٹرنیشنل پاور آف جرنلسٹس(آئی، پی، او ، جے)، ممبر آل پاکستان جرنلسٹس کونسل(اے پی جے سی)، ممبر ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی)

  • مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے

    مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے

    مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے

    جو قریب تھا وہ بعید ہے، جو بعید تھا وہ قریب ہے

    نہ امارت غم زندگی، نہ شکوہ فقر کی سادگی

    تو امیر شہر ضرور ہے، ترا مفلسی ہی نصیب ہے

    تری ملکیت میں ہیں سیم و زر پہ تو الفتوں سے ہے بے خبر

    تو ہی سب سے ظالم و کم نظر، تو ہی دل کا سب سے غریب ہے

    نہ ہو شوق جسکی نماز میں، نہ اثر ہو جس کے کلام میں

    وہ امام کوئ امام ہے، وہ خطیب کوئ خطیب ہے

    ہے عجیب دل کا معاملہ، کبھی مجھ سے خوش  تو کبھی خفا

    مری جلوتوں کا رفیق ہی مری خلوتوں کا رقیب ہے

    یہ جو نفرتوں کا حصار ہے ترے ارد گرد بنا ہوا

    یہی مقتل غم زیست ہے، یہی الفتوں کی صلیب ہے

    کبھی بن کے تیرا جو آ ئنہ، کرے تجھ کو تجھ سے ہی آ شنا

    وہی ہمنوا ہے ترا یہاں، وہی درد دل کا طبیب ہے

    ابھی نفرتوں کی نہ بات کر، کہیں جا کے اسکو تلاش کر

    وہی ایک اکملؔ در بدر جو محبتوں کا نقیب ہے

  • عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    اَتھرو پِینا تے وَت جِینا اوکھا اے

    عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے

    اگلی واری سوچساں مِلنے گِلنے نی

    اِس واری تے عید ورِہینا اوکھا اے

    گَل اے سنگیو گزرے ہوے کیں ویلے نی

    ہُن تاں اُس نا، ناں بی گِھینا اوکھا اے

    پُھلاں واسے کج تاں کرنا پینا اے

    جندڑی کَنڈیاں نال سلینا اوکھا اے

    انجمؔ اوکھا سچی گل تے اَڑ وینا

    زہر پیالہ ہس کے پینا اوکھا اے

    ثقلین انجم

عاشقاں واسے پوہ نا مہینہ اوکھا اے
    سیّد ثقلین انجمؔ

    ثقلین انجمؔ

    (سیّد ثقلین انجمؔ ، اٹک نے پہلے تے نویکلے پنجابی مجلے نے بانی اتے مدیر اعلی)

  • اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر

    اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر

    اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر
    رہتا نہیں سدا کوئی اوجِ کمال پر
    دینا پڑے گا ظالمو، ہر ظلم کا حساب
    تکیہ کرو نہ اتنا بھی تم اپنے مال پر
    پوچھے گی ایک دن یہ رعایا، جواب دو
    تب چونک چونک جاؤ گے اک اک سوال پر
    جن کے گَلے میں آج تکبر کا ہار ہے
    بیٹھے ہوئے ملیں گے وہ حسرت کے ٹال پر
    دیتا نہیں ہے ٹکِنے تجھے آج یہ غرور
    کل ڈالنا نگاہ تُو اپنے زوال پر
    اے دوستو میں ٹھیک ہوں بالکل ہی ٹھیک ہوں
    ضائع کرو نہ وقت مری دیکھ بھال پر
    ہم کو یہ اپنا آج بنانا ہے بے مثال
    کل ہر نظر پڑے گی ہماری مثال پر
    میرا بنا کے مقبرہ اسؔد وہ دل کے پاس
    رکھتا ہے پھر نگاہ وہ کیوں میری چال پر

    عمران اسد


    کلام: عمران اسؔد پنڈی گھیب حال مقیم مسقط عمان