Tag: شاعری

  • قیامت کے بعد لکھی گئی نظم

    قیامت کے بعد لکھی گئی نظم

    قیامت کے بعد لکھی گئی نظم

    خدا نے لاج جو رکھی مری سرِ محشر

    مرے زمانے کو حیرت تھی میری بخش پر

    کوئی کسی سے یہ کہتا تھا دیکھیے ایدھر

    اسے نہ دیکھا کسی نے کبھی خدا کے گھر

    یہاں پہ بیٹھے ہوئے ہیں جناب مسند پر

    اِک اور جاننے والا بھی تھا بہت ششدر

    وہ اس لیے کہ وہ رہتا تھا میرے ساتھ اکثر

    اور ایک دشمنِ جاں کو بھی اختلاف ہوا

    کہ یہ پلیدِ زمانۂ تھا کیسے صاف ہوا

    وہی پکارا پتا تو کرو یہ کیا ہےبات!

    جنابِ عالی کے دیکھے ہوئے ہیں معمولات

    کہیں فریب سے آئے نہ ہوں یہ عالی جناب

    وہاں بھی دنیا میں شہرت تھی اِن کی خاصی خراب

    چنانچہ ایک فرشتہ وہاں بلایا گیا

    او ر اُ س کے سامنے میرا سوال اُٹھایا گیا

    تو اس نے اُن کو بتا یا قصیدہ گو ہے یہ

    بہشت والے بھی سنتے تھے جس کو وہ ہے یہ

    رسول پاکؐ کے یاروں کی بات لکھتا تھا

    رسول زادیؑ کی ہر دم صفات لکھتا تھا

    حسن ؑحسینؑ کے نانا کی نعت لکھتا تھا

    اُنھیں کی لطف و عنایت کی اِس پہ بارش ہے

    اِسے نہ چھیڑیے اِس کی بڑی سفارش ہے

  • کیمبل پوری نظم

    کیمبل پوری نظم

    کیمبل پوری نظم

    شاعر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    مقیم : مسقط , سلطنت عمان

    ایتوار 8 نومبر 2020

    ہِک سنگی نے ناں :

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    چِلماں وِچ تَماکُو بھر کے

    لمے لمے سُوٹے لاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    موٹا گوش تے ٹِھپر پَکاساں

    روٹی اُتے مکھنڑ لاساں

    زِمّی اُتے پُھوھڑی ڈاہ کے

    توں تے میں وت روٹی کھاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    بیٹھک میں سجا کے رکھساں

    نَوِیاں مَنجِیاں ڈاہ کے رکھساں

    سنگی ساتھی سارے آسُن

    ڈھولک وَجسی لُڈیاں پاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    سِیہہ سیالا لَمِیاں راتاں

    مزہ کرسُن گلّاں باتاں

    وِسرِیاں گلّاں وِسرے ِقصّے

    توں ُسنڑاویں میں ُسنڑاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    فزری اُٹھ کے چاہ پکاساں

    ھٹی اُتوں رس منگاساں

    نِکی نِکی سُرکی بھَر کے

    توں تے میں وت چسکے لاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    توں آسیں تے میں بی آساں

    پَکّی گل اے چکر لاساں

    جینے رئے تے ملنے رھساں

    مر مُک گئے تے مُکسُن آساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

  • سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط

    محترم جناب حسین امجد صاحب! سرپرست سہ ماہی علمی و ادبی مجلّہ دھنک رنگ ، محترم مُدیرِ اعلیٰ جناب داؤد تابش صاحب، محترم مُدیر سجادحسین سرمد صاحب؛

    !السَّلَامُ علیکُم

    سب سے پہلی بات یہ کہ فتح جنگ سے اتنا خُوبصُورت، دلکش ادبی مجلّہ شائع کرنے پر مبارکباد؛ بلا شبہ یہ ایک نہایت معیاری کتابی سلسلہ ہے جو علم و ادب کے چاہنے والوں کے لیئے ایک قیمتی اضافہ ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے تیسرے ہی پڑاؤ میں آپ خُوبصُورت اور ضخیم نعت نمبر لے آئے، جس نے اس کتابی سلسلے کو بامِ اوج سے آشنا کر دیا،
    آپ تینوں ہی صاحبانِ بصیرت و بصارت، ادیب و ادب شناس و ادب پرور شخصیات ہیں، اور عقیدت وعشقِ محمد واہلبیتِ محمد علیہم السلام سے سرشار ہیں، اور بہترین نعت گو شاعر ہیں،

    سہ ماہی دھنک رنگ(فتح جنگ) کے مدیران کے نام خط


    میرے ذاتی خیال میں نعت اصنافِ شاعری میں مشکل اور نازک ترین صنف ہے، وجہ اُس کی یہ ہے کہ نعت کی صنف جس عظیم ہستی کے لیئے مختص ہو چکی ہے اُس کا پہلا نعت گو خُود خالقِ نورِ محمدی ص ہے، جس ہستی کی نعت میں قُرآن کی آیات کا نزول ہوا ہو، اُس ہستی کی شان میں عام خاکی انسان بھلا کس حد تک کچھ کہہ سکتا ہے،
    فنِ شاعری کی باریکیوں سے واقفیت تو ازبس لازم ٹھہرتی ہی ہے مگر نعت گوئی میں بنیادی ترین نُکتہ عشقِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا جذبہءِ صادق قرار پاتا ہے، اور جذبے کی صداقت کےلیئے حقیقی معرفت کے ساتھ کمالات و صفاتِ نبوت و رسالت سے کما حقہٗ واقفیت کی شدت کے ساتھ ضرورت ہے، جس ذاتِ والا صفات کی مدح و ثنا کو خُود رَبُّ الَاربَاب نے اعلیٰ و ارفع قرار دیا ہو، جِس کے کارِ رسالت و نبوت اور کمالِ عبدیت پر خالقِ ارض و سما بھی نازاں و فرحاں ہو، اُس کی نعت کو بھی فنِ شاعری کا نگینہ ہی ہونا چاہیئے، اور پھر ایسی نعت یقیناً بخشش کا سفینہ ہونا چاہیئے،


    بات زیادہ طویل نہ ہو جائے، نعتیہ شاعری کی صنف عربی زبان سے فارسی اور پھر اُردو زبان میں وارد ہوئی، اور عربی کے بعد اُردو زبان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں سب سے زیادہ نعت لکھی گئی، دھنک رنگ کے نعت نمبر میں بھی 300 سے زائد نعتیں جمع کی گئی ہیں، بلا شبہ یہ ایک مشکل و کٹھن کام تھا، پورے ملک کے شعرا سے رابطے کرنا، اُن سے کلام اکٹھا کرنا، اُسے پوری دقّت سے پڑھنا، انتخاب کرنا، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ، ایڈیٹننگ، سرورق اور پھر کتابی شکل میں اسے اشاعت آشنا کرنا واقعی جان جوکھوں کا کام تھا، مگر مدیران نے کامیابی اور خُوش اسلوبی سے سرانجام دیا جس کے لیئے آپ لوگ قابلِ ستائش و صد تحسین ہیں،
    اس میں کوئی شک نہیں کہ فروغِ نعت اور عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کےلیئے یہ خُوبصُورت اور نایاب گُلدستہ ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو گا،
    آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ پاک کے صدقے میں داؤد تابش صاحب اور ان کی پوری ٹیم کو اِس عملِ خیر کا اپنے اور اپنے حبیبِ پاک کے شایانِ شان اجر عطا فرمائے، اور جن مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئے یہ احسن عمل کیا گیا اُن کی منازلِ قبر و حشر آسان ہوں، بروزِ حشر ہم سب کو سایہءِ دامانِ رسالت عطا ہو، آمین ثم آمین یا ربَّ العَالَمِین
    وَ السَّلَام
    خیر اندیش
    مونس رضا
    2/10/2019 اٹک کینٹ

  • ذوق نصرت

    ذوق نصرت

    ذوق نصرت

    ادب کی آبیاری میں ضلع اٹک ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہے، میں یہاں آج ایک ایسے ادیب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نثر و نظم، اردو پنجابی خصوصاً کیمبلپوری لہجے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، تنقید و تحقیق نگاری ہو، مضمون نگاری ہو، افسانہ یا کہانی نویسی ہو، خاکہ نویسی ہو یا اصنافِ شاعری ہوں یکساں دسترس رکھتے ہیں،
    یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میری مراد جنابِ پروفیسر نُصرت بُخاری ہیں ، ان کے بارے میں آج کے دور کے تمام محققین نے مضامین لکھے ہیں، لہٰذا میرا موضوع پروفیسر صاحب پر مضمون لکھنا نہیں بلکہ اُن کی بے شمار ادبی خدمات میں سے ایک اہم باذوق کام علمی و ادبی مجلّہ ذوق کے چھٹے شمارے پر کچھ اظہار کرنا ہے،

    ذوق نصرت
    ذوق خواتین نمبر


    اس خُوبصُورت کتابی سلسلے کو چھپتے ایک سال بیت چکا ہے، اس کے مدیران پروفیسر نُصرت بُخاری صاحب اور ارشد سیماب ملک صاحب ہیں، اس کے ہر شمارے میں اہم، معیاری اور قاری کے لیئے سُود مند علمی و ادبی مواد ہوتا ہے، اور اسی کشش کے سبب مجھے اس سہماہی رسالے کا شدت سے انتظار رہتا ہے،
    جون 2020کا شمارہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ خواتین نمبر ہے، بابِ عقیدت سے آخر تک تمام اصنافِ ادب میں خواتین ہی چھائی ہوئی ہیں، انٹرویوز میں بعض جگہ اختلاف کے باوجود تمام کاوشیں قابلِ ستائش و تحسین ہیں اور کیوں نہ ہوں، بقول علامہ اقبال رح،
    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

    مقالات و مضامین کے باب میں صرف ایک خاتون کی تصنیف ہے، مگر عورتوں کی ادبی خدمات اور اہمیت کے حوالے سے مرد لکھاریوں کی تحقیقاتی تحریریں بہت ہی اعلیٰ و ارفع اور معیاری ہیں، مرد کے مُنہ سے عورت کی تعریف و تحسین زیادہ بھلی لگتی ہے؛ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ مولانا حالی نے فرمایا تھا ،
    ہم مائیں ، ہم بہنیں ، ہم بیٹیاں
    قوموں کی عزت ہم سے ہے
    نُصرت بُخاری اور ارشد سیماب ملک صاحبان کو اتنی عمدہ و اعلیٰ اور معیاری اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دونوں مدیر صاحبان کا شکرگزار ہوں کہ مجھے اتنے اعلیٰ و معیاری ادبی مجلّہ کو پڑھنے اور استفادہ کےلیئے باقائدگی سے عطا کرتے ہیں، میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے وقتوں میں اٹک کی علمی و ادبی تاریخ میں ذوق ایک اہم مقام پائے گا، ان شآء اللہ