Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) 
    آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ  تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی  جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint)  یا بھگت کہا جاتا ہے ،  پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص  ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے  بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، 
    ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست .  تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” 
    یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ 
    قارئین کرام ،
    آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز  تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ  ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ،   تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا  عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ 
    مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا  ؟   پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے  جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور  آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے  تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر  نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو  کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل  چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا  رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا  لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی  رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ 
    دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ  مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو  بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔  اس کے ساتھ ساتھ ،  کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور  سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے  ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت  (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ،   یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ،  کئی ایک جبلی  خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ،  پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں  ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ،  بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔  بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔   آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ،  یعنی  درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ،  نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے  ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔  
    اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ،  کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct )  خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات  و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ،  سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے :
    ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” 
    اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ،  پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ 
     دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر  علم ہوا ،  کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے  اس ایکسپریس کو دنیاء نے  ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ 
    اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ،  کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ،  الا  وہ محدودے چند افراد ،  کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔  جب ایسا ہی ہے ،  سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ  مختلف کیوں ہیں ۔ 
    ( بحث جاری ہے )

  • گداز – حسین امجد کا مجوعہ کلام

    گداز – حسین امجد کا مجوعہ کلام

    گداز حسین امجد کی مجھ تک پہنچنے والی پہلی کتاب ہے اس سے پہلے مشاعروں اور نجی محافل میں سننے کا اتفاق بہرحال رہا۔ جن میں نہ صرف کلام کی روانی بلکہ خوش الحانی کا بھی تجربہ رہا لیکن فی الوقت موضوع ہے اس کا تازہ مجموعہ کلام گداز جو14 دسمبر2019 ء کو مجھے عنایت کیا گیا، اسی پر کچھ سپرد قلم کرتا ہوں اور دیر کے لیے معذرت خواہ بھی ہوں۔

    گداز – حسین امجد کا مجوعہ کلام
    گداز – حسین امجد کا مجموعہ کلام

    حمد سے آغاز کرتا امجد مجھے کسی فقیر جیسا لگا جو سب جہات سے بے خبر بس اُسی سے لو لگائے ہوئے ہے۔ جب وہ نعتِ سرور دو جہاں صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سعادت حاصل کرتا ہے تو بالکل اسی کیفیت اور عشق میں ڈوبا ہوا ہے جسے کسی شاعر نے نفس گُم کردہ کے الفاظ سے یاد کیا تھا۔ میں جہاں اسے مولائے کائنات علی المرتضیٰ علیہ السلام کی بارگاہ اقدس کے اندر قلندرانہ وجد میں دیکھتا ہوں وہیں وہ سیدۃ النساء العالمین سلام اللہ علیھا کی چوکھٹ کے باہر سر نیہوڑائے چُپ چاپ ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ امجد حسین امجد کی اس کتاب میں اس کا یہ روپ بھی نظر آتا ہے کہ وہ جاروب کش دربار بنائے لاالہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام بھی ہے میں نے اسے وارفتگی میں سلام پیش کرتے دیکھاہے۔

    حسین امجد
    حسین امجد

    حسین امجد ! ایک ساتھ اتنی ساری سعادتیں مبارک ہوں۔ وہ غزل کہتا ہے نظم کہتا ہے کچھ چھپانے کی کوشش کرتا ہے کچھ بتانے کو بیتاب ہے۔ سپنے بھی بنتا ہے اور حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھوں سے نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ نسل آئندہ تک پہنچانے کی سعی بھی کرتا ہے۔ اہم بات یہ کہ اس کا کلام اتنا لے میں ہے جیسے سرگم پر رکھ کے موزوں کیا گیا ہو۔ امجد کو پڑھتے ہوئے کہیں مجھے ناصر کاظمی کی جھلک سی محسوس ہوئی تو کہیں عدم کی بے ساختگی اور جابجا رنگ و خوشبو تو موجود ہے ہی۔ گداز اس کے فن کی پختگی اور شعر سے لگن کا ثبوت ہے۔

    ۔

    مخدوم آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری

    14 جمادی الاول 1441ھ

  • سجناں نی ہر گل مٹھیائی کولوں لگی  مِٹھی

    سجناں نی ہر گل مٹھیائی کولوں لگی مِٹھی

    باہر ا نھیرا ہونا،ہووے،اندر نہ لاوے ڈیرہ

    تھاں تھاں دِیوے بالنی رئی آں،سجناں پانڑاں پھیرا

    اَکھیاں نی چَیل اندر موڑی،دل نی بستی دَھوئی

    تاں سجناں نی صاف سواری بوئے آن کھلوئی

    دل وِچ یاداں میلہ لایا،میں بھی نَساں دوڑاں

    کِدرے پیاں گڈاں کھولاں،کِدرے کُھلیاں جوڑاں

    دل نا بکسا کھولا ،کھول کےوَت وَت ویکھاں چِٹھی

    سجناں نی ہر گل مٹھیائی کولوں لگی مِٹھی

    اِس ماروں میں رکھنی رئی آں،دیوے بال بنیرے

    باہر ا نھیرا ہونا،ہووے،اندر نہ لاوے ڈیرے

    پروفیسر نصرت بخاری
    پروفیسر نصرت بخاری

  • جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

    جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

    کیا سے کیا صدمہ اٹھایا آپؐ  کو معلوم ہے

    آپؐ  کا دامن کبھی چھوڑا نہ اپنےہاتھ سے

    وقت نے کتنا رلایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    زندگی کی تلخیوں نے راستہ روکا بہت 

    دل نہ ہرگز ڈگمگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    آپؐ  کے ارشاد کو رکھا مقدم جان سے

    خود کو بھی خود سے چھپایا آپؐ  کومعلوم ہے

    آپؐ  کی مدحت  سرائی اپنے بس میں تھی کہاں

    کیا لکھا کس نے لکھایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    نفرتوں ہی نفرتوں کی بانجھ مٹی میں حضوؐر

    پیار کا پودا لگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    جبر سہتے سہتے اب تو جسم شل ہونے لگا

    اس قدر جگ نے ستایا آپؐ  کومعلوم ہے

    کیسی کیسی صورتیں بے جرم جھولیں دار پر

    ساری دنیا کو بتایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    کیسے کیسے آس غنچے آگ میں جلتے رہے

    درد سینے پر سجایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    سعادت حسن آسؔ آف اٹک

  • ظرف پیمائی

    ظرف پیمائی

    بھتنوں کی طرح دائیں بائیں سے نکلتے موٹر سائیکل سوار، گاڑی کا ہارن بجا کر کسی کو مخاطب کرتے یا گھر کا پھاٹک کھلوانے والے ، موبائل کا استعمال بشمول سوشلستان اور تا حد نظر پھیلے، بکھرے، پھنسے ہوئے شاپنگ بیگوں کو دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ

    دنیا کی بہترین ایجادات کم ظرفوں کے ہاتھ لگ گئیں۔

    #آغاجہانگیربخاری

    #توزک_جہانگیری

    1 شعبان المعظم 1438ھ

  • کیا عزت و ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں ؟

    کیا عزت اور ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں

    یہ ایک ایسا سوال ہے جو عموماً لوگوں کے ذہنوں میں اُبھرتا ہے، میرا ذہن بھی اکثر اُلجھ جاتا ہے میرا یہ کامل ایمان ہے کہ اللہ رَبُّ العِزَّت قادرِ مُطلِق ہے، یقیناً وہ کُن، فَیَکُون کا مالک ہے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک واحد اللہ ہدایت کا سرچشمہ بھی ہو اور ضلالت و گمراہی کا مبداء بھی؟ اور پھر یہ بھی کہ انسان کو گمراہی پر عذاب بھی دے؟ جبکہ وہ عادل بھی ہو

    اس تحقیق و تحریر کی وجہ سورۃ آل عمران کی 26 ویں آیۃ کے یہ الفاظ بنے

                   وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ ط 

    یعنی عزت اور ذلت تو بس اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت دے دے اور جسے چاہے ذلت دے دے  اور سُورۃ ابراہیم کی آیت 4 میں یُوں گویا ہے کہ

                 فَيُضِلُّ اللهُ مَنْ يَشَأءُ وَ يَھْدِیْ مَنْ يَّشَأءُ ط

    وہ اللہ جسے چاہتا ہے گُمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

    جو بھی انسان ظُلم و جبر اور طاقت کے بَل بوتے پر جب دولت و اقتدار حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ یہی استدلال پیش کرتا ہے جیسا کہ شام کے دربار میں اولادِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظلم کی انتہا کے بعد یزید لعین نے یہی آیات پڑھیں اکثر چور، ڈاکو لُٹیرے یہی حوالہ پیش کرتے ہیں، وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ یعنی عزت اور ذلت تو اللہ خُود بانٹتا ہے لہٰذا ہمیں بھی عزت اللہ نے ہی عطا کی ہے ؛

    تو پھرمعزز قاری ! کیا یہ سوال نہیں بنتا ؟ یقیناً آپ بھی ایسے ہی سوچتے ہوں گے، اور پھر قُرآن خُود ہمیں غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے، اور مندرجہ بالا طاغُوتی قوتوں سے یہ کہتا سنائی دیتا کہ

    وَ مِنَ الْنَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتَابٍ مُّنَيْرٍ *

    اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت ہے اور نہ روشن کتاب ہے، تو پھر آئیے قُرآن یعنی کتابِ روشن ہی سے اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں !

    ہم قُرآن حکیم کی حکمتوں پر جب غور و فکر کرنا شروع کرتے ہیں تو ہم پر یہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے کہ قُرآن کی ایک آیت کی تشریح و تفسیر دوسری آیت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو سورۃ نحل کی ٨٩ ویں آیت میں قُرآن کو واضح بیان کرنے والا تبیان فرماتا ہے

                         وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِّكُلِّ شَیءٍ 

    قُرآن جو تمام حقائق کو واضح کرنے والا ہے ہم نے آپ پر نازل کر دیا

    سب سے پہلی وضاحت سورۃ یونس کی آیت 108 سے لیتے ہیں

    قُلْ يٰاَيُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَأءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ج وَمَنِ اھْتَدیٰ فَاِنَّمَا يَھْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا  يُضِلُّ عَلَيْھَا ج وَمَأ اِنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ *

    اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کہہ دیجیئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق کی دعوت تمہاری طرف آ چکی ہے پس جو بھی اس ہدایت کو قبول کرے گا وہ اس کے اپنے نفع میں ہے، اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا اپنا نقصان ہے، اور مَیں (محمد ص) ہرگز تَم پر مسلط نہیں ہوں ، یہاں قُرآن ہمیں وسیع اور عمومی ہدایت و گمراہی کی خبر دیتا ہے، اور یہ ہدایت و گمراہی انسان کے اپنے اختیار میں دے کر اسے آزاد کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا

    وَھَدَینَاہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاکِراً وَّ اِمَّا کَفُوراً  ؛ ہماری طرف سے سیدھی راہ کی طرف انسان کو ہدایت کر دی گئی ہے اب اس کی مرضی ہے کہ عمل کر کے شکر گزار بندہ بنے یا انکار کر کے کُفرانِ نعمت کرے،

    معزز قاری ! یہاں ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء اور قُرآن کے ذریعے سے اچھائی اور برائی، نیکی اور بدی کی مکمل ہدایت کا بنیادی فریضہ ادا کر دیا ہے، اور تمام انسانوں کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے فرما دیا ہے کہ تمہارا نفع و نقصان یہ ہے ، اب یَھدِی مَنْ یَشَآءُ یعنی وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، کا مطلب سورۃ محمد کی ١٧ ویں آیت میں یُوں واضح ہوتا ہے کہ

    وَالَّذِینَ اھْتَدَوا ذَادَھُم ھُدًی  ، اور جنہوں نے اس عمومی ہدایت کو قبول کر لیا وہ (اللہ) اُن کی ہدایت (توفیق) میں اضافہ کر دیتا ہے اور سورۃ مؤمن کی آیت 34 میں ارشاد فرمایا کہ

    كَذَالِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ *

    حد سے گزر جانے والے اور شک کرنے والے کو اللہ گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور اسی سورۃ کی 74 ویں آیۃ میں فرمایا کہ یُضِلُّ اللهُ الکَافِرین ، اور اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ رہنے دیتا ہے، اور اسی طرح سورۃ ابراہیم کی آیت 27 میں ارشاد فرمایا

    يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَی الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِی الاٰخِرَةِ ج وَ

    يُضَلُّ اللهُ الظّٰلِمِيْنَ وَ يَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَأءُ *

    جو لوگ سچے قول (کلمہءِ توحید) پر ایمان لا چکے اُن کو اللہ دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا اور ظالموں (سرکشوں) کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور اللہ جیسے چاہتا ہے ویسے کرتا ہے، یہاں پر یُثَبِّتُ اللہُ کے الفاظ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ہدایت کے راستے پر رکاوٹیں ، مُصیبتیں ، اور پریشانیاں ضرور آئیں گی، شیطان بھی اپنا وعدہ شُدہ کردار ضرور ادا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ہدایت کے متمنی کو ثابت قدمی ضرور عطا فرمائے گا

    اب یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ کن لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور کن لوگوں کو ہدایت کرتا ہے، کن لوگوں کو عزت عطا کرتا ہے اور کن لوگوں کو ذلت و گُمرَہی میں چھوڑ دیتا ہے، جو لوگ عمومی ہدایت کی طرف آتے ہیں اُن مخصوص لوگوں کی مزید راہنمائی و ہدایت فرماتا ہے، یعنی وسائلِ سعادت میں اضافہ کیے جاتا ہے، اور جو لوگ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو جاتے ہیں اور یہی تو ظالم، مُسرف ، اور کافر ہیں تو اُن کو چھوڑ دیتا ہے تو پس یُوں اُن کی ضلالت و گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، گویا کہ اُن کے اپنے اعمال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ عزت و ذلت اور ہدایت و گمراہی تقسیم فرماتا ہے ،

    اب یہاں پر ضمناً یہ سوال بھی اُبھرتا ہے کہ عزت اور ذلت کا حقیقی معیار کیا ہے، اور نعمات و ہدایتِ حقیقی قُرآن کی رُو سے کیا ہیں اس کا جواب پھر کسی موقع پر بیان کروں گا،

    فی الوقت موجودہ بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض کروں گا کہ مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اَولاً تو قُرآن کی کوئی آیت متشابہ ہو، یعنی ہمارے ذہنوں میں سوال پیدا کرے تو قُرآن مجید کی دیگر آیات سے راہنمائی لے کر نتیجہ اخذ کیا جائے اللہ تعالیٰ کی کتاب خُود ہی راہنمائی فرمائے گی اور ثانیاً جو بھی ہدایتِ عمومی پر کاملاً عمل پیرا ہو کر عزت کا خواہشمند ہو گا اُسے عزت ملے گی اور جو بھی اللہ کی ہدایت سے روگردانی کرے گا ذلت و ضلالت و گمراہی اُس کا مقدر ٹھہرے گی، اللہ تعالیٰ ہماری راہنمائی فرمائے اور قُرآن حکیم کے مطابق سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے؛ آمین ثم آمین

    ازقلم :مُونِس رضا

    2 دسمبر 2020ء

  • اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    کالا چٹا سے جنوب اور تحصیل پنڈی گھیب کے جنوب مغرب میں نرڑہ مکھڈ کی پہاڑیاں واقع ھیں-دریائے سندھ کے کنارے سےبنی اونچی نیچی ڈٰؑھیریاں بمشکل ھی پہاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اونچا مقام سطح سمندر سے 1800 فٹ بلند ہے۔ انکی ڈھلانیں عموما” مشرق سے مغرب کی سمت میں ہیں۔ دریائے سندھ کی دوسری طرف خٹک علاقے میں ایک پہاڑی سلسلہ ہے لیکن اس طرف کم اونچائی کی چوٹیاں ہیں۔ نرڑہ کے علاقے میں کچھ زرخیز وادیاں بھی ہیں جن میں کم زرخیز اور ہلکی زمین ہے۔ پورے ضلع میں اُڑیال کا شکار یہاں اچھا ہوتا ہے۔ شمال کی طرف فتح جنگ اور کیمبلپور کے درمیان اسی طرح چونے کے پتھر کی پہاڑیاں چٹا پہاڑ بناتی ہیں۔ ضلع کے انتہائی شمال میں اونچی زمین اور لارنس پور (فقیر آباد) پرانی چٹانوں کے سلسلے سے بنا ہوا ہے۔ اسکا نام (اٹک سلیٹ) ہے۔ معدنیات یا جانوروں کی مدفون باقیات کی غیر موجودگی میں یہ چٹانیں بہت قدیم طبقاتی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ عام طور پر ان پہاڑوں کا پھیلاو شرقا” غربا” ہے اور ہمالیہ کے عام پھیلاو کے متوازی ہیں۔ اس سے مزید شمال کی طرف چھوٹی پہاڑیاں ان کی بیرونی فصیل ہیں۔ اس ضلع کی نباتات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ پورے ضلع میں کالا چٹا پہاڑ کا جنگل ہی قابل ذکر ہے۔ کچھ اور بھی محفوظ جنگلی علاقے ہیں مثلا” کھیری مورت (کھیری مار) کو اگر اور نرڑہ کے کچھ علاقے۔ اور اب کچھ اٹک کے مشہور درختوں کے بارے میں ۔

    پھلاہی: پُھلاہی کاعام درخت ہر جگہ موجود ہے۔ ان میں سے کچھ بڑے ہیں جن سے عمارتی لکڑی بنتی ہے اور بل کھاتی گانٹھوں والے ہیں۔ ضلع اٹک میں یہی ایک اہم درخت ہے جو کافی تعداد میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اور اونٹ اسکے پتے شوق سے کھاتے ہیں اسکی لکڑی کالی، مضبوط اور وزن میں بھاری ہے۔ بڑے درختوں سے پن چکیاں ہل اور تمام گھریلو زرعی اوزار و آلات بنائے جاتے ہیں۔ لہذا علاقے کے تمام دوسرے درختوں پر اس کو ترجیح ہے۔ یہ درخت آہستہ آہستہ پرورش پاتا ہے لیکن اسکی پوری عمر سے پہلے اسکو کاٹا جائے تو اسکی لکڑی خراب اور بے کار ہو جاتی ہے۔

    کیکر: بہت اونچا اور بڑا درخت ہے جو عام طور پر سڑکوں اور کھیتوں کے کنارے پایا جاتا ہے۔ وادی میں اچھی قسم کا کیکر ملتا ہے جسے خود لگایا جاتا ہے اور خود رکھوالی بھی کی جاتی ہے۔ یہ پہاڑ کے نزدیک یا پہاڑ کے اوپر نہیں ہے۔ جسکی وجہ پہاڑی علاقوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ یہ جہاں بھی اگتا ہے بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ اسکی لکڑی سخت اور مضبوط ہے اور ہل چلانے کے اوزار اور کنوئوں کے رہٹ بیل گاڑیوں کے پہیے اور دوسرے مقاصد میں استعمال ہوتی ہے۔ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ اسکی چھال اور بیج چمڑہ رنگنے کے کام آتے ہیں۔ اسکی پھلیاں بھیڑ بکریوں کی اچھی خوراک ہیں۔ اس سے نکلی ہوئی گوندقبض کی بیماری میں شفا ہے۔

    شیشم: شیشم ضلع اٹک کے زرخیز علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ کالا چٹا کے جنوب میں کم پایا جاتا ہے۔ ضلع کے مشرقی حصوں میں ندیوں اور نالوں کے کنارے عموما” ملتا ہے۔

    کاہو: سب سے اہم اور مفید درخت ہے۔ یہ جنگلی زیتون کا درخت ہے جو کالا چٹا ، کھیری مورت اور کواگر کی پہاڑیوں میں ملتا ہے۔ یہ ہمیشہ اچھی زمین اور چونے کے پتھر کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اسکے پتے کھاتی ہیں۔ اسکا پھل نہ تو کھایا جاتا ہے اور نہ اس سے تیل نکلتا ہے۔ البتہ لکڑی سخت ہے اور بہت اچھی ہے۔ چھڑیاں، کنگھیاں، گلے کے زیور اور مالائیں اس سے بنتی ہیں۔

  • دھیان ،  گیان اور نروان (قسط اوّل)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط اوّل)

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کبھی غور کیا ، زندگی کیا ہے ؟

    بہت کم لوگ دنیاء میں ایسے ہوئے کہ جنہوں نے اس موضوع پہ غور کیا ، اس کی حقیقت کو جانا اور پھر اس کے چھپے راز اور رموز اوروں تک پہنچائے ۔ یہ موضوع جسقدر دلچسپ ہے اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل بھی ۔ شاید اسی لئے چند گنے چنے لوگ ہی اس طرف متوجہ ہوئے جنھیں عالم مسیحیت میں سینٹ ( Saint ) یا مقدس شخص ، اسلام میں ولی اللہ ( Wali Allah )، یہودیت میں راھب ( Rahab ) اور کاھن ( Ka’han ) ، ھندو مت میں رشی ( Rashi) ، منی ( Muni ) ، یوگی ( Yogi ) اور سنیاسی ( Sanyasi ) ، بدھ مت میں ارہت ( Arhat ) اور مہاتما ( Muhatima ) ، جبکہ سکھ ایسے شخص کو بھگت ( Bhagtt )کہ کر پکارتے ہیں ۔ یہ القاب و خطابات انہیں اس لئے دئیے گئے کہ ان افراد نے زندگی کا راز پانے کی خاطر ، دنیاوی عیش و آرام ، مال و دولت اور ازدواجی زندگی تک کو ترک کرکے ، آبادیوں سے دور ، پہاڑوں ، جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنایا اور من کی جوت جگاکر اس حقیقت کا کھوج لگانے میں مشغول رہے جسے ہم عرف عام میں زندگی کہتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں موجود مختلف مذاھب کی خانقاھیں ، چلہ گاھیں ، مزار ، معبد اور متبرک مقامات آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، جنگلوں اور دشوار گزار مقامات پر پائے جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔

    عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ایسے افراد دراصل اللہ ، بھگوان ، یزدان ، خدا ، ایشور یا گاڈ (GOD) کی قربت حاصل کرنے کی خاطر اس

    ریاضت , تپسیا اور Exercise کو اپناتے ہیں , اگر ایسا ہے تو یہ قرب ، مسجد ، مندر ، دھرم شالا ، چرچ ، گوردوارے اور سینی گوک میں بیٹھ کر مالا جپنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے ترک دنیاء اور ویرانوں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    اس سوال کا عام فہم اور سادہ جواب یہ ہے کہ اللہ کا قرب آخری اسٹاپ ہے ۔ اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ قرب الہی حاصل کرنے سے پہلے ، عرفان زیست حاصل کرنا اولین شرط ہے ۔ جسطرح میٹرک کئے بغیر ایف اے ، ایف اے کئے بغیر بی اے اور بی اے کئے بغیر ایم اے کی سند حاصل نہیں ہوسکتی بعینہہ اسی طرح زندگی کو سمجھے بغیر ، زندگی پیدا کرنے والے خالق اور مالک تک رسائی ممکن نہیں ۔ پہلے مخلوق کو پہچانو ، اس کا شعور حاصل کرو تب جاکر کہیں خالق کے وجود سے آشنائی حاصل ہوگی ۔

    اگرچہ اسلامی دنیاء میں ، تصوف یا مسلک صوفیاء ، ایک متناذعہ موضوع ہے اور علماء اسلام کا ” ایک بڑا گروہ ” اس کی حقیقت اور ضرورت سے واضع طور پر انکار کرتا ہے لیکن جب ہم دیگر ادیان اور مذاھب پر نظر دوڑاتے ییں تو ہمیں ہر جگہ تصوف کی مختلف شکلیں موجود نظر آتی ہیں ۔

    میرے نزدیک تصوف ایک راستہ ہے ، کھوج لگانے کا ، تلاش کا ، حقیقت آشنائی کا ، حصول علم کا ، اس لئے اس کی مخالفت یا اسے کفر قرار دینا ، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ٹھہرتا ہے اور وہ اس لئے کہ خود قرآن نے کئی آیات میں غور و فکر کی بار بار دعوت دی ہے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ تصوف سے میری مراد پیری فقیری ، تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نہیں بلکہ غور و فکر اور تلاش حقیقت ہے ۔ مخلوقات پر غور و فکر سے منکشف ہونے والی ٹھوس حقیقتیں ہی آپ کے اندر خالق کائنات ( Creator of Universe ) کے تصور اور عقیدے کو مستحکم کرتی ہیں ۔

    اس راہ پر چلنے والوں کو تین مناذل سے گزرنا پڑتا ہے ،

    1۔ دھیان – ( غور و فکر )

    2۔ گیان – ( آگہی )

    3۔ نروان – ( نجات یا چھٹکارہ )

    دھیان کی منزل کیا ہے ؟

    اس سے قبل اولیاء اللہ ، سنیاسیوں اور بھگتوں کی بات ہورہی تھی کہ وہ کیوں سنیاس لیکر ویرانوں میں جابسے تو عرض ہے کہ ، انہوں نے زندگی کا گیان حاصل کرنے کی خاطر ویرانوں کا انتخاب کیا تاکہ روزمرہ کے ھنگاموں سے آذاد ہوکر اس مسئلے پر غور کیا جائے اور حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ یاد رہے دھیان یا غور و فکر کے لئے کامل ارتکاذ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جسکا حصول ھنگامہ خیز زندگی میں ممکن نہیں ۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر موجود ہوں اور فون کال آجائے تو وہ جگہ چھوڑ کر علیحدگی اور تنہائی میں جاکر بات سنتے ہیں تاکہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔ اس مثال سے اندازہ لگالیں کہ اگر ایک عام آدمی کی فون کال سننے کے لئے ھنگامے سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے تو زندگی کی حقیقت کو جاننے کے لئے کیا کیا ضروری ہوگا ۔ اگر یہاں تک میں اپنی بات واضع کرسکا ہوں تو اب یہ بھی جان لیجئیے کہ ابدی حقیقتوں کو پانے کے لئے عمومی شور و غل اور بھیڑ بھاڑ سے ہی بچنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مکمل یا موقت سنیاس لینا پڑتا ہے ۔ گھر بار ، بیوی بچے ، نفع نقصان اور دنیاوی لین دین ، سب کے سب ھنگامے ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ارتکاذ توجہ پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔

    ( جاری ہے )

  • اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر

    اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر

    اِترا نہ اس قدر بھی، تو جاہ و جلال پر
    رہتا نہیں سدا کوئی اوجِ کمال پر
    دینا پڑے گا ظالمو، ہر ظلم کا حساب
    تکیہ کرو نہ اتنا بھی تم اپنے مال پر
    پوچھے گی ایک دن یہ رعایا، جواب دو
    تب چونک چونک جاؤ گے اک اک سوال پر
    جن کے گَلے میں آج تکبر کا ہار ہے
    بیٹھے ہوئے ملیں گے وہ حسرت کے ٹال پر
    دیتا نہیں ہے ٹکِنے تجھے آج یہ غرور
    کل ڈالنا نگاہ تُو اپنے زوال پر
    اے دوستو میں ٹھیک ہوں بالکل ہی ٹھیک ہوں
    ضائع کرو نہ وقت مری دیکھ بھال پر
    ہم کو یہ اپنا آج بنانا ہے بے مثال
    کل ہر نظر پڑے گی ہماری مثال پر
    میرا بنا کے مقبرہ اسؔد وہ دل کے پاس
    رکھتا ہے پھر نگاہ وہ کیوں میری چال پر

    عمران اسد


    کلام: عمران اسؔد پنڈی گھیب حال مقیم مسقط عمان

  • اَجُّو ناں کَوشانگڑا تے موہلُو

    اَجُّو ناں کَوشانگڑا تے موہلُو

    اَجُّو ناں کَوشانگڑا تے موہلُو

    بُلبُلاں اَڈے علاقے وِچ دو قسم نِیاں ہونیان ہِک َرتّے پُوچھلے آلی جِساں اَسی ُبلبُل تے دُوئی پِیلے پُوچھلے آلی جِساں اَسی کَوشانگڑا آکھنے آں ۔کَوشانگڑے ہِک تاں کیِڑے کَھینِن تے نالے ای بیریاں نال پَّکے بیر وی اُنہاں چنگے لگنِن فروٹ وی کھینن پر اَڈے علاقے اِچ 1975 وچ کتھے فروٹ اَیہے۔

    1975 وِچ تَھٹِّی سیداں گِراں وَنجنڑیں واسے پنڈی گھیب توں بسال چوک آلیاں ویگناں تے پُرانڑیں وقتے اچ اَجنا پَونا ایہا۔ مِیانوالا توں اگے ڈھوک تمر آلے اَڈے تے لہہ کے بالکل لاہنے آلے پَلّے تقریبا ڈھائی کلو میٹر پیدل ٹُر کے ِہک واری میں جِس ویلے آپڑیں اَمّی جان نال تَھٹِّی سیداں نانکے گِراں پونچاں ساریاں توں پہلے ماسیاں مِلاں تے وت آپڑیں سَنگیے اجو کول پونچ گیا ۔

    اَجُّو نے ہتھےاِچ کَوشانگڑا اَیہا ۔ جیہڑا تَک کے میں بَھلا حیران تِھیاں کیونکہ اجو ہِک دھاگا کَوشانگڑے نے پرَّاں تَھلو کَڈ کے لَکے تے مَنجاں اِچ پایا ویہا اَیہا مانہہ تک کے کوشانگڑے ناں دھاگا کھولاس تے ہواوُ اچ اُڈایاس۔ کوشانگڑا اُڈ کے نال ہکی گھرے’چ بیری اُتے ونج ایٹھا اجو مانہہ جَپھی پا کے ملِا تے بَھلا خوش تِھیا۔ میں آکھا یَرا َکوشانگڑا کیوں اُڈا چھوڑا اِی مانہہ آکھنا یَرا تونڈے آونے نی خوشی چ اُڈایا۔ میں آکھا مانہہ دے دیاں آں ہِتنا سونہڑاں ایہا تے اِنجے اُڈا چھوڑا اِی۔ اِی سُنڑنے نال ای اَجُّو بوہجے اِچ ہتھ پایا تے وچوں کالی پالشاں آلی ڈبی کڈِیس نال اِی مانہہ آکھنا۔ ہی تَک میں توہاں ہِک جادُو تَکیناں۔ میں آکھا یار کائیں نا جادُو ۔ اَگوں آکھنا ہِک منٹ صبر تاں کر۔ نال ای پالشاں آلی ڈبی کھولِیس جِس وِچ پِیلے رَنگے نا حلوہ ایہا ہنج ہِک ای واری ہتھے چ ڈبی نَپ کے اُتاں چَا کیتی’س کَوشانگڑے آں تَرَے واری ہو ہو ہو کیتاس تے کَوشانگڑا اُڈناں آیا تے اَجُّو نے ہتھے تے اَج کے حلوہ کھاوُن لگ پیا ۔ مینڈے واسے ای بالکل نویں گل اَیہی میں پُچھا یرا ای کِنج ہِلا گِھدا اِی تاں مانہہ اِس کَوشانگڑے آں ہِلاوَنڑے ناں طریقہ دَسا۔

    میں آکھا ای ہلایا جے وَئی تے وَت اِساں دھاگا کیوں پایا ویہا ای۔ اَگوں آکھنا، یار میں اِساں موہلُو بَنھیسَاں ۔ میں آکھا او کے ہوناں ۔ اگو آکھنا دوئے کَوشانگڑے نَپنڑیں واسے اِساں کوڑَکّیِ نال بَنھ چھوڑیساں دُویِاں بُلبُلاں تے کَوشانگڑے اِساں تَک کے آسُن تے بَھنڈی پیَسُن وِچوں کوئی کوڑَکّیِ اِچ کنکرڑ تَک کے چوہنگ مَریسی تے پَھس وَیسی۔ میں ہنے بکریاں بِھڈاں تے کھوتی کھولیناں تے مینڈے نال آویں تے تماشا تکیں اَجُّو اِنجے کِیتا نالے اِی کھوتی تے جَندرِی رَکھی’س اَتے گَھے آلے چار ٹِین لَدے-س جے مُڑیاں بَنھی توں پانی وی گِھدی اَنڑَیسی ۔ اَسّی دوہیں ٹُر پے آں کھیترے اچ مال ڈنگر چھوڑا-س تے پَڑے توں وَٹّے پَٹُن لگ پیا میں آکھا ای کے کریناں پیاں تے اگوں آکھنا جے کن کرڑ نَپُن لگاں میں آکھا اسے آں کے کرَیسیں تے مانہہ دسا-س جے کوڑَکّیِ تے لَیساں اِس تے کَوشانگڑے بہوں تیز پھسنے-ن ،جے نال موہلُو وی بَدھا وِیہا ہوسی۔مانہہ اِنہاں گَلاں ناں نئیں پتہ ایہا سارے راہے تے کَوشانگڑا اَجُّو نے موڈھے تے اَج کے آیا جِساں تَک تَک میں حران تِھیناں رہیاں جِیوں اَجُّو ہِک بُھربَھڑاں وَڈا جیہا وَٹّا پَرَتّا تَھلو ِہک چنگی ڈوٹی کَنکرَڑ نکل آئی جِس نِیاں سواں نے حساب تے ٹَنگاں اَیہاں ۔اَجُّو اُساں نَپ کے اُس نال دھاگا بَدھا تے کوڑِکّیِ وِچ لا کے کوڑکی ہکی بیری تھلے پُلی جائی اِچ دَب چھوڑی نال ای ہِک لکڑی نی گُُلی ٹَھوک کے کَوشانگڑے آں موہلُو نیں طور تے بَنھ چھوڑاس تے آکھناں ہُن تماشا َتکینے آں اَسّیِ جِس ویلے تھوڑے جے فاصلے اتے وَنج کے اَیٹھے آں موہلُو آں بُلبُلاں تے کَوشانگڑے ویکھنیاں نال ای رولا پا دِتا آزاد کَوشانگڑے بیری توں تھلے لہہ آئے تے آپڑیں نالے آلے قیدی کوشانگڑے نال گلاں کرن لگ پئے نال بہوں ساریاں سَوہلڑاں وی اکھٹیاں ہو گئیاں تے بَھلا رولا پایا نے ۔ ہِکی کوشانگڑے نی نظر کنکرڑاں تے پیئی تے کھاونڑیں واسے چوہنگ مارِیس تے کوڑکی چھلڑ گئی تے بہوں ڈاہڈی وچ پھس گئی اَجُّو تتِرے آونڑ نَسا تے کوڑکی چوں ونج کڈاس نال پانی ناں کوئی حیلہ وسیلہ نئیں اَیہا تاں واسے گھابرے وے کوشانگڑے نی چونجااچ آپڑیں تُھک پا دِتی-س جہڑی فٹو فٹ کوشانگڑے چٹ گھدی اَجُّو اُساں ِپنجری اِچ پایا تے نال ای آپڑاں کوشانگڑا گُلی نالو کھول کے حلوہ کھوا کے پنجری اچ ڈَک سَٹاس۔

    میں اَجُّو نی جَودھی وی َتکی تے موہلُو نے بے وفائی وی َتکی جے او اَجُّو نال ہِلڑ گیا تے ہِک حلوے نی خاطر دوئے کوشانگڑے وی پَھسوَینا اج اَڈے ہر محکمے اِچ موہلُو بَدھے پیئن جہڑے دویے کوشانگڑے آں آپڑیں حلوے نی خاطر پَھسوَینن ۔جہڑی کوئی چنگی گل تے نئیں۔ اج کیوں رَت ِچٹی تھی گئی۔ جے اِنجے حال رہیا تے کِیہ بنَڑسی ۔ َاڈے اِچ تے کِراڑاں اچ کوئی فرق نئیں حالانکہ اسی سونہڑیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دے اُمتی آں۔

    مزہ تے تاں ایہا جے ناں ہی کوئی موہلُو بنھے آ تے ناں ہی کوئی موہلُو بنڑے آ تے ناں ہی کوئی موہلُو بنھنڑ دئے آ۔

    مانہہ اج وی اُن گلاں نئیں وِسَرنِیاں کیوں جے اُنھاں گلاں اچ کوئی ناں کوئی سبُق ہونا۔

    سید حبدار قائم آف اٹک

    Title Image by Rajesh Balouria from Pixabay