Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • خوشبو میں بسا نرم ہوا کا جھونکا

    صدیوں کی پیاسی، سسکتی اور خزان رسیدہ زمین جسے ساون رت کا انتظار رہتا ہے اس زمین کی تشنگی کا عذاب کیسا ہو گاواقف حال خوب جانتے ہوں گے، جس دھرتی کے بھاگ میں پسماندگی کے دکھ بھرے ہوئے تھے اسی دھرتی کا ایک ٹکڑا پنجاب کا آخری ضلع بھی تھا مگر پھر اچانک اس ٹکڑے کے مقدر کا ستار جگمگا اٹھا، نرم ہوا کے جھونکوں سے اس کا دامن اس وقت بھر گیا جب اس سرزمین پر ایک فرشتہ سیرت انسان علی عنان قمر نے اپنے قدم رکھے، اٹک کی پیاسی دھرتی پر بارش کا پہلا قطرہ ٹپکا اور پھر مسلسل بارش ہونے لگی۔

    علی عنان قمر نے ڈپٹی کمشنر اٹک کا چارج سنبھالتے ہی گراں فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا، پھلوں اور سبزیوں کے نرخ جو آسمانوں تک جا پہنچے تھے انہیں اعتدال پر لے آئے۔ علی الصبح منڈیوں کا دورہ کرنا، مختلف محکموں کے افسران کے ساتھ روزنانہ میٹنگز کرنا، صحت عامہ سے متعلق مسائل کو پیش نظر رکھنا اور ان کے حل کے لیے جان توڑ کوششیں کریں، متعدی خطرناک امراض کے خاتمے کی مہم میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لینا۔ اور رات گئے تک ایسے تمام امور کی نگرانی کرنا، یہ بہت مشکل کام ہے مگر سلام پیش کرتے ہیں تمام اہلیان اٹک اس فرشتہ صفت افسر کو جو درد دل رکھتا ہے اور ایسا کہ معذور اور نابینا بچوں اور خصوصی افراد کے پروگراموں میں بطور خاص شرکت فرماتے ہیں اور ایسے بے سہارا، مجبور، لاچار اور احساس محرومی میں جھکڑے ہوئے لوگوں کے سر پر دست شفقت بھی رکھتے ہیں۔

    علی عنان قمر
    ہمارا ملک ملکی بنیادوں پر اور فرقہ بازی کے حوالے سے لہو لہو رہا ہے۔ جناب علی عنان قمر صاحب کا اختصاص ہے کہ تمام مسالک کے سرکردہ رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں ضلع میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضاء کو فروغ دینے کے لیے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اس کے علاوہ مظلوموں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آپ مختلف تحصیلوں میں جاتے ہیں اور ہر تحصیل میں کھلی کچہری لگا کر نہ صرف عوام کے مسائل سنتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کرتے ہیں تاکہ کسی مظلوم کو ضلع کے مرکز میں آکر انصاف طلب نہ کرنا پڑے، سائلین کو ان کی دہلیز پر انصاف مہیا کرنے کا عزم رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اٹک ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔

    ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر ڈاکٹر اور دیگر سٹاف کی تعیناتی کا معاملہ ہو یا ترقیاتی سکیموں کی نگرانی ہو یا اراضی سنٹر میں عوامی مشکلات کی شکایات ہوں، ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر ایک مسیحا کی صورت میں موجود نظر آتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس، دفاتر کے دورے، پنشنرز کو درپیش مشکلات اور ایسے ہی امور کے حل کے لیے کوشاں رہنے میں ان کا کامل ملی جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں اعلی عہدوں پرکافی مدت تک اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اور پورے پنجاب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ علی عنان قمر اپنے دل میں غریب اور مظلوم طبقہ کے لیے بہت محبت رکھتے ہیں اور اہلیان اٹک پر امید ہیں کہ یہی مسیحا ہے جو انہیں مسائل کی دلدل سے نکالے گا۔ کیونکہ بقول شاعر۔

    چند گنتی کے افراد ہی ہیں سرمایہ زیست
    ویسے تو مخلوق خدا آٹھ ارب بنتی ہے

  • کالا چٹا پہاڑ

    کالا چٹا پہاڑ کے متعلق دلچسپ معلومات آج کا یہ مضمون عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خصوصی طور پر انکے لئے پیش کر رہی ہوں جو شدت سے اس کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی معزرت خواہ ہوں کہ آپکے بے حد اصرار کے باوجود تحریر کرنے میں تاخیر ہوئی۔ البتہ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ مضمون آپکی دلچسپی میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔ مندرجہ ذیل مضمون میں کالا چٹا پہاڑ کے متعلق انتہائی دلچسپ معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ شمالی میدان کے جنوب میں کالا چٹا کا سلسلہ ہے جو شرقا” غربا” پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کی چٹانیں اور پتھر دو رنگوں پر مشتمل ہے، سیاہی مائل / بھورے اور سفید، اسی وجہ سے اسکا نام کالا چٹا ہے۔ یہ سلسلہِ کوہ گھنے اور پستہ قد درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ لیکن کہیں کہیں سے سبزے سے بالکل محروم نظر آتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ میں مختلف درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے قابل ذکر "گنگھیر” یا "گنگھور” کا درخت ہے جس کے ساتھ کالے رنگ کا فالسے کے برابر پھل لگتا ہے، جو بے حد لذیذ لگتا ہے۔ یہ درخت پاکستان میں اور کہیں نہیں ہوتا۔ یہاں ایک اور درخت "کاہو” بھی پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اس کے پتوں کی چائے اور قہوہ بنا کر بھی استعمال کرتے ہیں۔ (کچھ لوگ اس درخت کا تعلق زیتون کے درخت کے خاندان سے بتاتے ہیں)۔ اس سلسلہِ کوہ میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ جن میں ہرن، ساہنبر، اڑیال وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پرندوں میں یہاں تیتر چکور اور باز ملتے ہیں۔ کالا چٹا پہاڑ کا نصف شمالی حصہ سوائے چند گاوں کے جو تحصیل فتح جنگ میں شامل ہیں اور ہزارہ کی پہاڑیوں کا تمام علاقہ اس تحصیل میں شامل ہے۔ سب سے اہم پہاڑی سلسلہ کالا چٹا پہاڑ ہے۔ پہاڑوں کی دیوار ضلع کے شمال کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور تحصیل اٹک کو دوسری تحصیلوں سے جدا کرتی ہے۔ جنوب مغربی حصہ کالا پہاڑ کہلاتا ہے جو کہ عام طور پر کالے ریتلے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ بعض جگہ پر سخت گرم موسم کی وجہ سے اسکا رنگ نارنجی اور کہیں کالا ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ خاکی رنگ کا ریتلا پتھر اور لال مٹی بھی پائی جاتی ہے۔ یہ حصہ دریائے سندھ سے جنوب کی طرف سے شروع ہوتا ہے اور تحصیل پنڈی گھیپ کی حدود سے گزرتا ہوا گگن گاؤں تک ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 35 میل اور چوڑائی 4 میل ہے۔ سفید یا چٹا پہاڑ جو کہ اس سلسلہ کا زیادہ حصہ ہے، پورے سلسلے میں شمال کی طرف لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ اس کی چوڑائی تقریبا” 8 میل ہے۔ یہ پہاڑ سفیدی مائل چونے کے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ اس لئے اسے چٹا پہاڑ کہتے ہیں۔ لیکن اسکے درمیانے حصہ میں کالے پتھروں کے کچھ حصے بھی ملتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ چونے کے پتھر سے چونا بنانے کی بھٹیاں موجود ہیں اور جنگلی پیداوار کے لحاظ سے کالے پہاڑ سے بدرجہا بہتر ہے۔ کالے پہاڑ میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ ریتلے پہاڑوں پر پھلاہی کے درختوں کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے، سوائے چند ایک غیر مفید جھاڑیوں کے۔ جبکہ گھاس بھی کہیں کہیں کم نظر آتی ہے۔ چونے کے پتھر کے پہاڑ یعنی چٹا پہاڑ کی شمالی ڈھلانوں پر بہت زیادہ مقدار میں پھلاہی کے درخت ہیں۔ علاوہ ازیں کاہو (جنگلی زیتون)، سنتھا اور دوسری جھاڑیاں بھی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ یہ سلسلہ چھوٹی پہاڑی ڈھلانوں سے بنا ہوا ہے جن کے درمیان بہت سی وادیاں ہیں۔ کچھ وادیاں کافی پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں کافی مزروعہ زمین بھی ہے۔ مشرقی طرف کی پہاڑیاں بہت کم اونچی ہیں۔ عام سطح بہت ہی کٹی پھٹی اور بنجر ہے۔ ان پہاڑوں کے درمیان ندیاں بھی ہیں جو ان ہی سے نکلتی ہیں لیکن کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ نندنہ، گڑھی حسو کی پہاڑیوں کو کاٹتا ہوا بہت گہرائی میں اور تیزی سے شمال کو بہتا ہے۔ کھیری مورت سے شروع ہوتا اور دریائے ہرو میں جا گرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عمارتی لکڑی نہیں ملتی لیکن یہ جنگلات ارد گرد کے علاقوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ کیمبل پور کا ریلوے اسٹیشن جو کہ شمال مغربی ریلوے لائن پر واقعہ ہے ان جنگلات سے حاصل شدہ لکڑی کو دوسرے علاقوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اٹک خورد ریلوے سٹیشن سے شروع ہونے والا یہ سفر کیمبل پور ریلوےاسٹیشن پر تمام ہوتا ہے۔ اس کے بعد ریلوے لائن کئی پہاڑی سلسلوں سے ہو کر گزرتی ہے جن میں 7 سرنگیں ریلوے انجنیرنگ کا عمدہ شاہکار ہے۔ ہمارا اگلا مضمون انہی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہوگا۔

  • اٹکاں نا میلہ ہووے

    اٹکاں نا میلہ ہووے

    شاعر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    مقیم : مسقط ، سلطنت عمان

    21 نومبر 2020 بروز ھفتہ

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    کفتاں ناں ویلہ ہووے

    ھتے وچ چُکاّ رکھاں

    کَچھاں وِچ تھیلہ ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    موھڈے اتے شال ہووے

    نِکی نِکی چال ہووے

    مِنّا مینڈھے نال ہووے

    کھانا پیا کیلا ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    جھڑی شڑی بنڑی ہووے

    ہک ادھی کنڑی ہووے

    تِکّے شِکےّ کھانے ہوواں

    کوھیا ہویا لیلا ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    ملنگاں نی دھمال ہووے

    ڈھول نال نال ہووے

    سُوٹا شُوٹا لایا ہووے

    سرگی ناں ویلا ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    مُکنی مُکاناں واں

    گل سمجھانا واں

    چِٹے چِیڑےپانڑیں ناں

    بودی شودی واھنڑیں ناں

    دسو کی فیدا وے

    دل جدوں میلا ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

    اٹکاں ناں میلہ ہووے

  • ڈاڈھے پھسے آں

    ڈاڈھے پھسے آں

    ڈاڈھے پھسے آں

    بندہ جمے پلے گراں تے وت آ روے شہر بالکل انج ای لگنا جئوں بندہ انہے کھوئے چ ڈھے پینا اے، نہ نکل سکنا اے نہ رہ اکنا اے تے نہ ای کیں آں آکھنڑے جو گا ہونا اے جے مانہہ اتھوں کڈھ۔ شہر نی گلیاں کولوں تے اساں نے گرائیں نے ڈنگے گیلے ن ، تے مکان ایجے بئی نہ دُھپ لگنی نہ مینہ نہ اسمان دسنا اے نہ چن نہ تارے نظری آنے ن تے نہ وڈے ایلے تریلاں نے موتی ، نہ پھُل نہ بُوٹا نہ کُکڑ نہ چُوچا بس وڈیائی اے جی اساں کوٹھی چاڑہی اے۔ مُڈھوں پنج مرلے جاء ہونی اے اس نا ویڑھا چھت گنوں تے کمریاں وچ ای حاجتاں نی جاگھ بنڑا گنوں، ای کی وے جی ای جی کوٹھی اے۔وت ہر شئے مُلے نی ، کدی بجلی نئیں تے کدی گیس نئیں ،اُتوں اُنہاں رکشے تے موٹر سیکل والیاں آخر آندی وئی اے۔ برے ہنڑ کراں کی رہنے پئے آں۔

    میں کدُر بہوں تنگ پے وینا تے پُلا جیا نکل کے حکیم صاب کول ونج بہناں۔ حکیم صاحب اے تاں شہر چ ای اُن برے ذرا جیا باہر کر کے کنال ہک نی حویلی بنڑائی نے جتھے ٹاویں ٹاویں مکان اُن تے آس پاس کنڑک سریوں لوک ہجا راہنے پئے ن۔ تے حکیم صاب نی حویلی چ بی تُوت دھریک تے بوٹے کج لگے پئے ن۔ کنال نی حویلی بنڑانڑیں آسے بی کُُشتیاں نی کمائی ہونڑی چاہئنی اے۔ ہماتُڑ تاں سوچ بی نئیں سکنا۔ خیر ایتھے بہہ کے کج ڈھل آپنڑے دلے آں گراں گراں کر گننا۔

    اَتروں ایجوں ای بیٹھیاں میں حکیم صاب آں آکھنا نظر بہوں کمزور ہوگئی اے کوئی خوراک دسو آ۔ حکیم صاب آکھا شاہ جی گاجراں کھادا کرو ایویں بی موسم اے، خوراک نی خوراک اے تے دوائی نی دوائی۔ جُلو ای مسئلہ تاں حل ہویا، ای آکھ کے حکیم صاب کولوں اجازت گھدی تے ٹُر پیاں۔ راہے تے ہک فقیر بابا جی مل گئے اُنہاں نال بی پرانڑی دعا سلام اے، خیر مل گِل کے چاء پانڑی نا ست کیتا۔ اُنہاں ذرا اُبال ہئی آکھنڑ لگے شاہ جی چاء وت کدُر پیساں۔ میں آکھا دعا کرے او تے کوئی سیانڑیاں بزرگاں نا اکھانڑ تاں دسی ونجو، ویکھو نا آج کل مُلک نے حالات کی ہوگئے ن ، بہوں سارے سیاسیاں اندُر کر چھوڑا نے۔ بابے ہوراں تھوڑا سوچا تے آکھنڑ لگے “ شاہ جی ! سیانڑیاں آکھا ہیا ؛ جنہاں کھادیاں گاجراں ،ڈھڈ اُنہاں دے پِیڑ “۔ بابا جی آکھ کے آپنڑی راہ ٹر گئے تے حکیم صاب دس کے آپنڑے کماں کاراں چ لگ گئے۔ میں اُنہاں ویلیاں نا پیا سوچنا ، کینڈی منّاں؟ حکیم صاب نی یا سیانڑیاں نی ؟

    تُسی ای کج فیصلہ کرو آ چا۔ کم مینڈے وسوں تاں باہر اے۔

    آغا بخاری

    ۲۵ مگھر ۲۰۷۵

    (چھ ماہی ونگاں چ چھپا ہیا)

  • صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

    صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

    صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

    انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور صلاحیت کی تقسیم میں اختلاف پیش نظر رکھا ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت کو پہچانے اور انھیں خلق خدا کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
    مخلوق خدا کی خدمت کرنے کے مختلف اسالیب ہیں؛ان میں سے ایک کا ہم نے انتخاب کیاہے؛اور سوچنے سمجھنے اور لکھنے والے احباب کو آئی اٹک کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ہماری ٹیم اس فورم کو مثالی اور کار آمد بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ہم اپنے دیگر با شعور احباب کو دعوت بھی دیتے ہیںاور توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ مہذب انداز میں اس پلیٹ فارم پر اپنے مافی الضمیر کا اظہار کریں گے۔
    ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ ہم اس فورم کو سنجیدہ موضوعات اور تحقیقی حوالے اور حیثیت سےپھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم تخلیق کاروں اور ناقدین کے لیے فورم کے دروازے بند کرنے لگے ہیں۔یہاں ہر ایک لکھاری کو دعوت عام ہے۔ہم اس فورم کو مو ضو عا ت ومعلومات کا سمندر بنانے نکلے ہیں؛آئیے اور اس میں اپنے حصے کا قطرہ ڈال دیجیے۔


  • کٹی آ

    کٹی آ

    کٹی آ

    ہم ‎چھاچھی بڑے پیارے اور سادہ لوح لوگ ہیں۔ ہمارے اکثر واقعات بھولے پن کا نادرنمونہ ہوتے ہیں۔ ہمیں گاڑیاں سجانے کا بھی بہت شوق ہے کسی زمانے میں تو ہم لوگ سائیکل کو بھی ٹرک کی طرح سجاتے تھے۔ آج کل ہماری مقبول ترین سواری سوزکی کیری ہے جسے ہم کیری ڈبہ کہتے ہیں۔ اُسے ہم دلہن کی طرح ایسے سجاتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ یہ واقعہ کیری ڈبے سے ہی متعلق ہے۔

    ‎کچھ دن پہلے میرے مسیروں کے گاؤں میں ایک بندہ گاڑی (کیری ڈبہ) پیچھے کرنے لگا تو دوسرے گرائیں سے جو قریب ہی بنِّے پر بیٹھا تھا سے کہنے کہ دیکھ کر بتاتے رہنا۔ اُس نے کہا فکر ہی نہ کر۔بس توں بہہ رہ سیٹاں تے ( فکر نہ کرو بس تم سیٹ پر بیٹھ جاؤ) اب وہ بیٹھ گیا ڈرائیونگ نشست پر اور آنے لگا پیچھے، ( یہاں یہ بھی بتا دوں کہ ہمارے علاقے میں کنڈکٹر یا گاڑی پارک کروانے والا سب اچھا کی صورت میں کہتا ہے کٹی آ ؛ یعنی آتے رہو)اسی دوران ایک کٹی ( بھینس کی دختر نیک اختر) بیچ میں آ گئی۔ اب بتانے والا چلا رہا ہے۔ ‘ کٹی آ، کٹی آ، کٹی آ’ ?۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا سمجھ رہا ہے کٹی آ ?اور اسی شور شرابے میں گاڑی کٹی سے جا ٹکرائی۔

    اب ڈرائیور نیچے اترا اور غصے سے بولا ‘ تم سے کہا جو تھا کہ بتانا’

    گرائیں نے کہا ‘ تو میں بتا جو رہا تھا کہ کٹی آ’

    گاڑی والا ‘ لیکن تم تو کہہ رہے تھے کٹی آ’

    گرائیں’ تو میں یہی بتا رہا تھا نا کہ کٹی آ’

    اس سے آگے غالبا بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

    روز بروز بڑھتی مہنگائی اور نافذ ہوتے نئے نئے ٹیکسوں کے حوالے سے بھی یہی صورت حال ہے۔ عوام کہے جا رہے ہیں کٹی آ، اور حکام سمجھ رہے ہیں کٹی آ۔

    ۲۲ ربیع الاول ۱۴۴۶ ھ

  • کیمبل پوری نظم

    کیمبل پوری نظم

    کیمبل پوری نظم

    شاعر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    مقیم : مسقط , سلطنت عمان

    ایتوار 8 نومبر 2020

    ہِک سنگی نے ناں :

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    چِلماں وِچ تَماکُو بھر کے

    لمے لمے سُوٹے لاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    موٹا گوش تے ٹِھپر پَکاساں

    روٹی اُتے مکھنڑ لاساں

    زِمّی اُتے پُھوھڑی ڈاہ کے

    توں تے میں وت روٹی کھاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    بیٹھک میں سجا کے رکھساں

    نَوِیاں مَنجِیاں ڈاہ کے رکھساں

    سنگی ساتھی سارے آسُن

    ڈھولک وَجسی لُڈیاں پاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    سِیہہ سیالا لَمِیاں راتاں

    مزہ کرسُن گلّاں باتاں

    وِسرِیاں گلّاں وِسرے ِقصّے

    توں ُسنڑاویں میں ُسنڑاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    فزری اُٹھ کے چاہ پکاساں

    ھٹی اُتوں رس منگاساں

    نِکی نِکی سُرکی بھَر کے

    توں تے میں وت چسکے لاساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

    توں آسیں تے میں بی آساں

    پَکّی گل اے چکر لاساں

    جینے رئے تے ملنے رھساں

    مر مُک گئے تے مُکسُن آساں

    توں بی آویں میں بی آساں

    رَل مِل گپّاں شپّاں لاساں

  • یوپی سے کیمبل پور

    یوپی سے کیمبل پور

    یوپی سے کیمبل پور

    کیمبل پور ذہین، طباع، باادب اور حاضر جواب لوگوں کی دھرتی ہے۔ ایسے ایسے نابغہ یہاں سے اُٹھے اور زمانے پر چھا گئے کہ دنیا دنگ رہی۔ آپ دیکھ لیجئے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کو ، کیا ہی شاہ دماغ شخصیت تھے۔ حکیم تائب رضوی ، نذر صابری ، رفیق بخاری ، سلطان محمود بسمل اور بیشمار ایسے نام جو علم و ادب کے روشن چراغ تھے۔ میرے دوست وقاص اسلم صاحب اکثر تشریف لاتے ہیں اور ہم کچھ گھڑیاں ان لوگوں کے تذکرے میں بِتاتے ہیں۔

    یوپی سے کیمبل پور
    Pixabay

    یہ واقعہ جو انہیں یاد تھا حاضر جوابی اور ادب کا خالص لکھنوی اور دہلوی انداز ہے جو کیمبل پور میں پیش آیا ۔ بابا اذکار عرف مولانا اختر شادانی مرحوم تقسیم ہند کے وقت یو پی سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو کیمبل پور کو اپنا مسکن بنایا۔ گویا اس مردم شناس دھرتی نے انہیں اپنی طرف کھینچ لیا۔ فارسی ، اردو کے استاد اور شاعر تھے سب سے بڑی بات یہ کہ انتہائی وضع دار اور نفیس شخص تھے۔ تب ٹیوشن کا رواج تو نہیں تھا لیکن بچے شام کو ان کے پاس پڑھنے آتے تھے ، اسے پچھلی پڑھائی کہا جاتا تھا۔ بچے تو ہر دور میں بچے ہی ہوتے ہیں ، ٹافی کے بہانے نکلتے اور گھنٹہ غائب۔ مولانا نے اس کا حل یہ نکالا کہ اپنے پاس ہی ٹافیاں رکھ لیں منافع کے لیے نہیں بلکہ بچوں کو قابو رکھنے کے لیے اب سب وہیں سے ٹافی لیتے تھے اور یوں آوارہ گردی بند ہوگئی۔ کچھ عرصے بعدایک دن ٹافیاں سپلائی کرنے والا رقم لینے آگیا اور مولانا سے کہا ،جناب ! آپ کے چار سو روپے ہوگئے ہیں، ادا کردیں تو مہربانی ہوگی۔ مولانا نے فورا جیب سے چار روپے نکالے اور اس کو تھما دیے ؛ اب وہ حیران و پریشان بولا مولانا چارسو بنتے ہیں۔ اس پر مولانا نے برجستہ کہا

    بنتے ہیں تیرے چارسو، فی الحال چار رکھ

    پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ