Tag: فلسطین

  • فلسطین نوحہ کناں ہے

    فلسطین نوحہ کناں ہے

    فلسطین نوحہ کناں ہے


    کالم نگار: سید حبدار قائم

    غزہ کا ذرہ ذرہ لہو سے اٹا ہوا ہے فلسطین کی زمین آہیں بھرتی ہوئی ماوں کا گھر بن چکی ہے بچوں کے لاشے بکھرے پڑے ہیں جہادی تنظیم حماس اکیلی کب تک لڑے گی عورتوں کے اجسام کے چیتھڑے درختوں اور دیواروں پر ماتم کر رہے ہیں یہودی ستم گر ظلم کرتے کرتے تھک ہی نہیں رہے انسانی حقوق کے علمبر دار خاموش ہیں عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں بارود کی بدبو زندہ انسانوں کے پھیپھڑے خراب کر رہی ہے گولیوں کی سنسناہٹ بچوں کو خوف زدہ کیے ہوۓ ہے کربلا کا منظر پھر یاد آ رہا ہے حق تعداد میں بہت کم ہے لیکن ستم کے سامنے ڈٹا ہوا ہے پاکستان کے شیعہ سنی سارے علما و فضلا دبکے ہوۓ ہیں سیاستدان جانور کی طرح ووٹ کی راہ ہموار کر رہے ہیں فوج جمہوری حکم کا انتظار کر رہی ہے عوام کہیں کہیں جلوس نکال کا مسلمان ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں کچھ مسلمان اپنی جیب سے کپڑا لے کر اسراٸیل کا جھنڈا بنا کر اوپر پاؤں رکھ کر جہاد بالپاؤں کرتے نظر آ رہے ہیں اسرائیل کو کتا کتا کہہ کر زبانی جہاد بھی ہو رہا ہے بکاؤ میڈیا خاموش ہے امریکہ کے خلاف بول کر یہ مرنا نہیں چاہتا زندہ رہنے کا پروانہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے یہودی ہمارے دیس میں اپنی مصنوعات بیچ کر اسرائیل کو اسلحہ اور اشیاۓ خوردونوش پہنچا رہے ہیں جب کہ مسلمان بچے بارود سے اٹی ہوئی آنکھوں سے مسلمانوں کی مدد کے منتظر ہیں مسلمانوں کی دھماکے والی ٹیم مکمل خاموش ہے ان کا جہاد اپنے مسلمان مارنے تک جائز ہے لکھاری حضرات ڈر کے مارے دبکے ہوۓ ہیں کہیں ان کے الفاظ اور قلم پر یہودیوں کا کروز میزائل ہی آ کر نہ گر جائے امت صرف خاموش تماشائی کا کردار کر رہی ہے کسی مسلمان کو کوٸ درد نہیں ہے غزہ میں ظلم ہوتا ہے تو ہو جائے پانی اور خوراک ختم ہوتی ہے تو ہو جائے مسلمان بچوں کے ٹکڑے پرندے نوچتے ہیں تو نوچ لیں ہم تو پاکستانی ہیں ہم تو عراقی ہیں ہم تو افغانی ہیں ہمیں اپنے اپنے ملک کو بچانا ہے اس زبانی گردان کو سنتے سنتے کان پک گئے ہیں مجال ہے کہ کوٸ غیرت مند اٹھا ہو کسی نے کمر کسی ہو اور فلسطین کی مدد کے لیے تڑپا ہو لعنت ہے ایسی زندگیوں پر جس میں مسلمان بھائیوں کی مدد نہ ہو سکے یہ ٹینک گنیں جہاز اور میزائیل تو صرف دشمن کو ڈرانے کے لیے ہیں مفلسی کی چکی میں پسی ہوئی عوام دو روٹی کی تلاش میں پاگل پاگل ہے جہاد تو صرف فلسطینیوں پر واجب ہے باقی مسلمان اس سے مستثنٰی ہیں سعودی عرب کی خاموشی مذہب اسلام کا قتل ہے اور اسلام سے بیزاری کا اعلان ہے جب کہ باقی دنیا کے مسلمان صرف نماز روزے کو دین سمجھتے ہیں اور ایک خاص قسم دوسروں کو کافر کافر کہہ کر عوام کو بے وقوف بنانے کا ہنر جانتی ہے

    فلسطین نوحہ کناں ہے
    Image by hosny salah from Pixabay


    واہ مسلمانو واہ ! تم اتنے بزدل نکلو گے یہ کبھی سوچا ہی نہیں تھا اپنی تاریخ دیکھو وہ کشتیاں جلانے والے کہاں گئے وہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے کہنے والے کہاں گئے وہ عورت کی چیخ پر ہندوستاں کو تاراج کرنے والے کہاں گئے آج تو یہودی تمہارے بچوں کی چیخ نکلنے سے پہلے ہی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں فلسطین کا جسم چھلنی ہے اور کرچی کرچی ہے اس سے لہو ٹپک رہا ہے یہودی بربریت نے انسانیت کی دھجیاں اڑا دی ہیں کوٸ ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے تماشا دیکھ رہے ہیں اقوام متحدہ مر چکی ہے اس کے مردہ جسم سے بدبو نے گلوبل ویلج کے نعرے کو بدبودار کر دیا ہے مگر کون ہے جو اس بدبودار جسم کو جھنجھوڑے اور اس میں زندگی کے رنگ بھر کر اس کو انسانیت کی بقا کے لیے فعال کرے ایسا ہوتا نظر ہی نہیں آ رہا کیونکہ ہم ابھی علیزہ کی ویڈیو لیک ہو گئی ہے پر مکمل جہاد کر رہے ہیں ایک دوسرے کے اعمال پر ہماری کڑی نظر ہے باہر کیا ہو رہا ہے اس سے ہمیں کوٸ سروکار نہیں لیکن افسوس مجھ سمیت سارے مسلمانوں کو ایک دن موت جکڑ لے گی پھر امریکہ کا حکم نہیں بلکہ صرف میرے اللہ کا ہو گا اور وہ بہترین کارساز ہے

  • فلسطین لہو لہو ہے

    فلسطین لہو لہو ہے

    فلسطین لہو لہو ہے

    کالم نگار :۔ سید حبدار قائم آف غریبوال اٹک

    دیسِ شہیداں فلسطین بے اماں ہے اس میں انسانی لاشوں کے ڈھیر اقوام متحدہ پر لعنت کرتے ہوۓ دکھائی دیتے ہیں مروت کفن پوش ہے فلسطینی بچوں کے جسم کے ٹکڑے اتنے سستے نظر آتے ہیں کہ عمارتوں نے ابھی تک ان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور جہاں کہیں ان کے جسم کے لوتھڑے نظر آتے ہیں گوشت خور پرندے اور جانور ان کو للچائی  ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں عورتوں کے نازک بدن اسرائیلی بارود سے اٹے اور کٹے ہوۓ ہیں جوانوں کی لاشیں پورے ماحول کو سوگوار کر رہی ہیں ایسے حالات میں مسلمانوں کا کیا  فرض بنتا ہے اور انسانیت کے علمبرداروں اور منصفوں  کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ کوئی نہیں جانتا۔ اور شاید کوئی جاننا پسند بھی نہیں کرتا۔

    سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے جری جوان  ناپید ہو چکے ہیں یہاں صرف اداروں کے ڈنڈے کڑچھے ، سوشل میڈیا ٹیمیں ہیں جو پاکستان کی ناپاک سیاست میں حصہ لیتے ہیں یا چند نام نہاد سماجی اور مذہبی  معاملات  پر اپنا حق دکھا کر لوگوں سے نعرے مرواتے ہیں میلاد اور محرم کے پروگراموں پر کھلے عام خرچ بھی ہو رہا ہے اور قربانیاں بھی دی جا رہیں ہیں لیکن فلسطینی بہن کی لٹتی ہوئی عزتیں اور دریدہ لاشیں کسی کو بھی نظر نہیں آتیں۔ قوم ساری آٹے چینی دال اور پٹرول کو رو رہی ہے جب کہ دوسری طرف فلسطین میں عزت و ناموس لٹتی ہوئی ساری دنیا دیکھ رہی ہے سوشل میڈیا پر مسلمان لمبی لمبی دعائیں مانگ رہے ہیں جب کہ عمل سے کوسوں دور ہیں بغداد کے مسلمان بھی لمبی لمبی دعائیں مانگتے رہے اور ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آج وطن عزیز میں فلسطین کے حق میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جن کا مقصد دنیا کو باور کرانا ہے کہ فلسطین لہو لہو ہے لیکن اس کے باوجود جہادی تنظیمیں کیوں خاموش ہیں ہمارے وطن سے مجاہدین کے دستے کیوں نہیں گۓ مسجد اقصٰی کے میناروں کی صدائیں بلا رہی ہیں فلسطین کی فضا مسلمانوں کے لہو سے مہک رہی ہے لیکن اقوام متحدہ صرف چند ملکوں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے فلسطینی بچوں کی چیخیں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ اور سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ امداد کا تھوڑا سا سامان بھیج کر فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگانا ہی کافی نہیں مزہ تو جب ہے کہ پہلا میزائل ایٹمی طاقت پاکستان کی طرف سے اسرائیل پر داغا جاتا اور ٹینک توپیں اور تازہ فوجی دستے غزہ کی پٹی پر فلسطینی بھائییوں کی امداد کے لۓ پہنچ گۓ ہوتے یہودیوں کو پتہ چلتا کہ ہم مسلمانوں کے محافظ ہیں اور یہ مسلمانوں کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ہم نے اگر ایسا کیا تو ہمیں امداد کون دے گا ؟ کیونکہ ہمارا خزانہ تو شروع سے ہی خالی خالی ہے ہم تنخواہیں کہاں سے دیں گے وغیرہ وغیرہ۔

    فلسطین لہو لہو ہے
    Image by hosny salah from Pixabay

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو عطائے مخزنِ اسرارِ ربانی ہیں، جو عطائے مرکزِ انوار رحمانی ہیں، جو عطائے مصدرِ فیوضِ یزدانی ہیں ،جو عطائے قاسمِ برکاتِ حمدانی ہیں، جو عطائے دانشِ برہانی ہیں، جو عطائے مدثر و مزمل ہیں، جو عطائے امواجِ بقا ہیں ، جو عطائے چشمہ ءعلم و حکمت نازش ہیں ، جو عطائے سندِ امامت ہیں، جو عطائے غنچہ ء راز وحدت ہیں، جو عطائے جوہرِ فرد عزت ہیں، جو عطائے ختمِ دور رسالت ہیں، جو عطائے محبوبِ رب العزت ہیں، جو عطائے مالکِ کوثر و جنت ہیں، جو عطائے سلطانِ دینِ ملت ہیں، جو عطائے شمعِ بزم ہدایت ہیں ان کی سیرت کیا کہتی ہے سرکار ﷺ نے بھوک پیاس میں کتنے غزوے لڑے صحابہؓ کرام نے کتنی جنگیں لڑیں کسی جگہ مسلمانوں نے پیٹھ نہیں دکھائی کہیں ان کی معیشت کمزور نہ ہوٸ کیونکہ وہ اللہ کے لیے لڑتے تھے اور ہم ہیں کہ یہودیوں کے پیچھے پیچھے اپنے کندھوں پر "امن کی فاختہ” بٹھا کر امن کے گیت الاپ رہے ہیں یہودی تو شیر کے فولادی پنجے کا احترام کرتے ہیں انہیں امن کی فاختہ سر ڈر نہیں لگتا فلسطینی شہدا کی تعداد میں روز بروز اضافہ لمحہ ٕ فکریہ ہے دنیا کے مسلمان کہاں گۓ جو حضور ﷺ کی اس حدیث کو مانتے تھے

    ” تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہے اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے "

     بہت افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ فلسطینی مائیں نوحہ کناں ہیں فلسطینی بچے مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن سماعتوں سے عاری ابھی تک اکھٹے نہیں ہوۓ جو فلسطینی چیخوں پر لبیک کہہ سکیں چند فرقہ پرست تنظیمیں اور لوگ سوشل میڈیا پر فساد پھیلاتے نہیں تھکتے مسلمان راکھ کا ڈھیر ثابت ہو چکے ہیں ہو سکتا ہے میرے اس کالم پر کچھ لوگ اعتراض کریں لیکن سچی بات یہی ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں اور جس حالت میں بھی ہیں اسرائیلی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اپنے ہتھیاروں اور امداد سے لیس ہو کر فلسطینی بھائیوں کی مدد کریں میرے ملک کے شعرا اور ادیب بھی خاموش ہیں یہ طبقہ بھی اپنے قلم کی طاقت سے سوشل میڈیا اخبارات اور ٹی وی چینلز پر احتجاج کرے تاکہ کفار ستم کرنا چھوڑ دیں اور اقوام متحدہ اس ظلم و بربریت کو روکے اور مسلمانوں کا قبلہ آزاد ہو اور پاکستان کا منشور ہی مسلمانوں کا تحفظ ہے تو اسے تحفظ کرنا چاہیے۔

     سوشل میڈیا پر میں نے ایک شاعر رحمان فارس کا کلام پڑھا ہے جس نے مجھے رلا دیا ہے یہ کلام آپ سب قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے :۔

    بچّہ ہے، اس کو یُوں نہ اکیلے کفن میں ڈال

    ایک آدھ گُڑیا، چند کھلونے کفن میں ڈال

    نازک ہے کونپلوں کی طرح میرا شِیرخوار

    سردی بڑی شدید ہے، دُہرے کفن میں ڈال

    کپڑے اِسے پسند نہیں ہیں کُھلے کُھلے

    چھوٹی سی لاش ہے، اِسے چھوٹے کفن میں ڈال

    ننّھا سا ہے یہ پاؤں، وہ چھوٹا سا ہاتھ ہے

    میرے جگر کے ٹکڑوں کے ٹکڑے کفن میں ڈال

    مُجھ کو بھی گاڑ دے مرے لختِ جگر کے ساتھ

    سینے پہ میرے رکھ اِسے، میرے کفن میں ڈال

    ڈرتا بہت ہے کیڑے مکوڑوں سے اِس کا دل

    کاغذ پہ لکھ یہ بات اور اِس کے کفن میں ڈال

    مٹی میں کھیلنے سے لُتھڑ جائے گا سفید

    نیلا سجے گا اِس پہ سو نیلے کفن میں ڈال

    عیسٰیؑ کی طرح آج کوئی معجزہ دکھا

    یہ پھر سے جی اُٹھے، اِسے ایسے کفن میں ڈال

    سوتا نہیں ہے یہ مری آغوش کے بغیر

    فارس ! مُجھے بھی کاٹ کے اِس کے کفن میں ڈال

    اس کلام کے بعد کچھ لکھنا میری بساط سے باہر ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک فلسطینی مسلمانوں کی غائب سے مدد فرماۓ۔آمین

  • سلطان صلاح الدین ایوبی اور “یروشلم” کی تاریخ

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور "یروشلم” کی تاریخ

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور "یروشلم” کی تاریخ

    Dubai Naama

    کہتے ہیں کہ سچی تاریخ 100سال گزر جانے کے بعد لکھی جاتی ہے جب حالات و واقعات کے اصل کردار فوت ہو چکے ہوتے ہیں۔ بیت المقدس 583ہجری بمطابق 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا، جب صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کر کے یروشلم کو فتح کیا۔ تب اہل یورپ صلاح الدین ایوبی کو "خون کا پیاسہ” اور "شیطان” کہتے تھے۔ لیکن 20ویں اور 21ویں صدی میں یہی سلطان صلاح الدین ایوبی مسلمانوں کے لئے "ہیرو” کا درجہ اختیار کر گیا۔ یہ 2اکتوبر 1187ء کی تاریخ اور جمعہ کا دن تھا جب دنیا کے ‘مذہبی دارالحکومت’ اور سب سے ‘متنازع’ سمجھے جانے والے شہر "یروشلم” میں تقریباً 90سال کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں ایک بار پھر مسلمانوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوا تھا یعنی ٹھیک 833برس قبل جب 2اکتوبر کی رات نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد اقصی سے "معراج” پر تشریف لے گئے تھے۔

    دراصل یروشلم جنگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک محاصرے کے بعد فتح ہوا تھا جب شہر کے مسیحی منتظمین اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا تھا جس کے بعد شہر کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شہر کا ہر باسی معاہدے میں طے کی گئی رقم ادا کر کے آزادی سے کسی دوسرے مسیحی علاقے میں جا سکتا تھا۔ 2اکتوبر کے دن اور آنے والے کئی ہفتوں تک شہر سے لوگ رقم ادا کر کے جاتے رہے۔ جو لوگ رقم نہیں ادا کر سکتے تھے وہ مدد مانگتے رہے اور ان میں سے ہزاروں کی مدد خود سلطان صلاح الدین ایوبی اور ان کے بھائی سیف الدین نے کی تھی۔

    اسی بناء پر مؤرخ جانتھن فلپس نے سلطان صلاح الدین کی زندگی پر اپنی کتاب "دی لائف اینڈ لیجنڈ آف سلطان سلاڈن” (صلاح الدین) میں لکھا کہ "یروشلم کے مسیحی شہریوں کو کچھ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جس کی وہ توقع کر رہے تھے”۔ فلپس لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یروشلم کی خواتین نے اپنے بال کٹوا دیئے تھے کہ وہ فاتح فوج کے سپاہیوں کی نظروں میں نہ آئیں لیکن یروشلم پر قبضہ مکمل کرنے کا مرحلہ طے کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین نے خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں رحم دلی کا مظاہرہ کیا جس کے لئے وہ پہلے ہی مشہور تھے۔

    سلطان صلاح الدین ایوبی اور “یروشلم” کی تاریخ
    سلطان کو شہر کی چابی پیش کی گئی – تصویر بشکریہ سعید تحسین شام1904-1985

    یوں یروشلم کی فتح کے موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا جو شاید ماضی میں اس شہر میں ہونے والے ظالمانا واقعات کی بنیاد پر قائم کیئے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسی یورپ میں جہاں انھیں اپنے زمانے میں”خون کا پیاسا” اور ‘شیطان” کہا گیا تھا، وہاں 20ویں اور 21ویں صدی میں وہ "ہیرو” کا درجہ پا گیا۔ کیونکہ سنہ 1099 میں یروشلم کی فتح کے بعد صلیبیوں کے یروشلم میں داخلے کے وقت یہاں پر ہر طرف لاشیں تھیں اور مرد، عورتیں اور بچے کوئی بھی فاتحین کی تلواروں سے محفوظ نہیں تھا۔ سنہ 1187 میں یروشلم کی فتح سے تیسری صلیبی جنگ میں اس کے کامیاب دفاع کا باب تقریباً پانچ برسوں پر محیط تھا، وہ صلیبی جنگ جس میں مغربی یورپ کے بڑے بڑے بادشاہ خود شریک ہوئے اور یورپ بھر سے لوگوں کو جنگ میں شرکت پر مائل کرنے کے لیے سلطان کی بدترین سے بدترین شبیہ پیش کی لیکن جنگ کے لئے آنے والے نہ صرف یروشلم حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ سلطان کی ایک مختلف تصویر لے کر واپس گئے جو تمام تر پراپیگنڈے کے باوجود آج تک قائم ہے۔ مثال کے طور پر 2020ء کے بعد سے ناروے میں ‘سیلاڈن ڈے’ (یوم صلاح الدین) متواتر منایا جا رہا ہے۔

    آج یورپ میں اس شخص کو جس نے 800سال پہلے مغرب کو شکست دے کر یروشلم کو فتح کیا تھا ایک مثالی کردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر برطانیہ کی رائل نیوی نے پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک جنگی جہاز کو ’ایچ ایم ایس سیلاڈن‘ کا نام دیا اور پھر سنہ 1959 اور 1994 کے درمیان برطانوی فوج نے ’سیلاڈن‘ کے نام سے ایک بکتر بند گاڑی بھی بنائی جو انگلستان کے "نورفوک ٹینک میوزیم” میں آج بھی موجود ہے۔
    یہ وہی برطانیہ ہے جہاں سے انگلینڈ کے بادشاہ "رچرڈ شیر دل” نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف "تیسری صلیبی” جنگ میں مسیحی فوج کی قیادت کی تھی۔

    جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ "میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور وہ پھر بھی ان میں مقبول ہو گیا ہو”۔

    آج اسرائیل حماس کے حملے کو بہانا بنا کر فلسطینیوں کو جس طرح خاک و خون میں نہلا رہا یے اور امریکہ سمیت پورا یورپ اسرائیل کو "مظلوم” ثابت کرنے کے لئے اس کی پشت پر کھڑا ہے کل جب مورخ سچی تاریخ لکھے گا تو وہ اسی اسرائیل کو "خون کا پیاسا” اور "شیطان” جبکہ فلسطینی عوام کو "مظلوم” لکھے گا، جس کو اہل یورپ اور اہل امریکہ بھی ماننے پر مجبور ہونگے۔

  • نَصرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

    نَصرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

    نَصرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ

    Dubai Naama

    انسانی تاریخ نے کسی آقا و حکمران کی ایسی انوکھی مثال ابھی تک پیش نہیں کی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح کے موقع پر قائم کی تھی۔ روایات میں مذکور ہے کہ بیت المقدس کی فتح کے وقت جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ یروشلم کے شہر میں داخل ہو رہے تھے تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا غلام اونٹنی پر سوار تھا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی باری پر اونٹنی کی مہار پکڑ کر اس کے آگے آگے چل رہے تھے۔ اس وقت یروشلم دنیا کا اہم ترین شہر تھا جس کے حاکم کا فاتح فوج کے سپہ سالار سے معاہدہ یہ طے ہوا کہ شہر کا چارج سنبھالنے کے لئے شہر کی چابیاں فاتح فوج کے حکمران (یا خلیفہ) کو دی جائیں گی۔ اس وقت "خلافت راشدیہ” کے حکمران حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔
    چنانچہ حاکم وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی آمد کی اطلاع کر دی اور لوگ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔

    جس روز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شہر میں داخل ہونا تھا، اس دن صبح سویرے ہی لوگوں کا ایک جم غفیر استقبال کیلئے شہر کے باہر جمع ہونا شروع ہو گیا۔ جب سورج طلوع ہوا تو دور سے گرد کا غبار اٹھا اور لوگوں کو لگا کہ حاکم کی سواری آ رہی ہے۔ جونہی غبار چھٹی تو آسمان نے کیا دیکھا کہ ایک اونٹنی کی نکیل تھامے ایک شخص پیدل چلا آ رہا ہے اور دوسرا شخص اس اونٹنی پر سوار ہے۔ لوگوں نے دیکھا کہ پیدل چلنے والے شخص کے جسم پر جو پوشاک تھی، اس پر پیوند لگے ہوئے تھے، پاؤں پر دھول اور خشک کیچڑ جمی تھی۔ اس پیدل چلنے والے شخص نے اپنے ایک ہاتھ میں جوتے پکڑ رکھے تھے اور دوسرے ہاتھ سے وہ اونٹنی کو کھینچتا چلا آ رہا تھا۔

    اس کے برعکس اونٹنی پر سوار حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے غلام کا لباس بھی اچھا تھا اور وہ اونٹنی پر سواری کرتے ہوئے خوش باش بھی نظر آ رہا تھا۔

    یروشلم کے سپہ سالار نے جب اونٹنی کو آتے دیکھا تو وہ پکار اٹھا، "اے بیت المقدس کے لوگو، تیاری کر لو، ہمارا حاکم عمر فاروق پہنچنے والا ہے”۔

    بیت المقدس کے سابقہ حکمران رومی حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ سے واقف تھے۔ یہ منظر ان کے لئے قابل یقین نہیں تھا۔ انہوں نے اندازہ لگایا اور فاتح مجاہدین سے پوچھا کہ، "کیا عمر وہ ہے جو اونٹنی پر سوار ہے”؟ جواب ملا، "نہیں، اونٹنی پر سوار تو ان کا خادم ہے۔ عمر وہ ہے جو اونٹنی کی نکیل پکڑ کر پیدل چلا آ رہا ہے”۔

    نَصرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
    Image by Mike from Pixabay

    استقبالیہ ہجوم میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں، یروشلم کے سپہ سالار نے اپنے سامان سے قیمتی پوشاک نکالی اور گھوڑا دوڑا کر تصدیق کرنے کی غرض سے اونٹنی پر سوار شخص سے پوچھا، "عمر کون ہے۔” جب پتہ چلا کہ عمر پیدل چلنے والا شخص ہے تو اس نے عرض کی، "یہ پوشاک پہن لیں تاکہ شہر والوں پر رعب جم جائے”۔ اس پر آدھی دنیا کے فاتح حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے جواب دیا کہ "عزت کا معیار اس پوشاک میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے”۔

    جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ شہر میں داخل ہو چکے تو لوگوں نے پوچھا کہ غلام اونٹنی پر سوار کیوں تھا؟ جواب آیا کہ سفر طویل تھا، ہمارے پاس سامان کے کچھ تھیلے تھے جن میں ستو، پانی اور کھجوریں شامل تھیں، اونٹنی ایک تھی اور ہم مسافر دو تھے اور ایک وقت میں سامان کے ساتھ صرف ایک ہی بیٹھ سکتا تھا، اور ہم اونٹنی پر زیادہ بوجھ بھی نہیں لادنا چاہتے تھے۔ ہمارے درمیان یہ شرط طے پائی کہ ایک منزل ایک مسافر اونٹنی پر سوار ہو گا اور دوسری منزل دوسرا مسافر سوار ہو گا۔ اتفاق یہ ہوا کہ جب ہم بیت المقدس داخل ہونے لگے تو اونٹنی پر سوار ہونے کی باری غلام کی تھی، اس نے کہا بھی کہ وہ پیدل چل لے گا لیکن میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا کہ اس سے ناانصافی کی جائے۔

    یہ تھے بائیس لاکھ مربع میل پر پھیلے رقبے اور آدھی سے زیادہ دنیا کے فاتح و حکمران حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کی تربیت خود نبی پاک ﷺ نے فرمائی تھی۔ اللہ تعالی "حماس” کو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور طاقت عطا فرمائے، آمین!

  • جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    Dubai Naama

جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    گلوبل نیوز کے مطابق "طوفان الاقصی” اور "بیت المقدس” کے حصول کی جنگ میں حزب اللہ کے شہید علی علاوؑالدین کی والدہ اس وقت اظہار تشکر کے لئے سجدے میں گر گئیں جب انہیں بیٹے کی شہادت کی خبر ملی۔ علی علاوؑالدین کی والدہ ایک شہید خاوند کی بیوہ ہیں۔ ان کے خاوند اور علی علاوؑالدین کے والد یوسف علاوؑالدین 2006 میں "الفجر آپریشن” کے دوران شہید ہوئے تھے۔ ایسی کوئی ایک شہادت ہو یا ہزاروں لاکھوں شہادتیں ہوں، وہ اسلامی جہاد کی صورت میں افغانستان میں ہوں، کشمیر میں ہوں، مشرق وسطی میں فلسطین کی آزادی کے لئے ہوں یا یہود و نصاری کی طرف سے صلیبی جنگوں کی شکل میں ہوں، ان دونوں صورتوں میں خون "انسانیت” ہی کا بہتا ہے۔

    بیت المقدس دنیا کا وہ واحد مقام ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے "مقدس مقام” کا درجہ رکھتا ہے۔ ان تینوں مذاہب میں سے جس مذہب کے پاس بھی طاقت آتی ہے وہ بیت المقدس پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے عیسائی بادشاہتوں اور رومن ایمپائر کے بازنطینی دور میں عیسوی سال 638 میں بیت المقدس کو فتح کیا۔ 1099ء میں بیت المقدس دوبارہ صلیبیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے تقریبا 90سال بعد سلطان نورالدین زنگی کے وزیر اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اکتوبر 1187ء میں بیت المقدس کو آزاد کر کے اسلامی حکومت قائم کی۔ اس دوران بیت المقدس کے حصول کے لیئے 8بڑی مذہبی جنگیں لڑی گیئں جن میں پہلی صلیبی جنگ 1097ء تا 1145ء، دوسری 1144ء تا 1187ء، تیسری 1189ء تا 1192ء، چوتھی 1202ء تا 1204ء، پانچویں اور چھٹی 1227ء، ساتویں 1248ء اور آٹھویں 1268ء میں لڑی گئی۔ یہ وہ مذہبی جنگیں ہیں جو صلیبی جنگوں (Crusades) کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ یہ جنگیں بیت المقدس اور "یروشلم” کے زمینی خطہ پر قبضہ جمانے کے لئے محض "مذہب” کے نام پر لڑی گئی جنگیں تھیں۔

    افغانستان پر امریکی حملے کو "9نویں صلیبی جنگ” بھی کہا جاتا ہے جو 9/11 کے واقعہ کے بعد 2001ء میں "دہشت کے خلاف جنگ” (War On Terror) کے نام سے عراق پر امریکی حملے سے شروع ہوئی تھی جو 20سال گزرنے کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں تاحال جاری ہے۔ 11سمتبر 2001ء کو جب امریکہ کے شہر نیویارک اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پر اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے بالترتیب ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارات پر حملہ ہوا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے "قصر ابیض” میں 16سمبر 2001ء کے اپنے ایک خطاب کے دوران اسے "صلیبی جنگ” کا نام دیا تھا۔ اس کے بعد 2003ء میں امریکہ اور اتحادی افواج نے عراق کے ایٹمی ہتھیاروں کے نام سے عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 22اکتوبر 2012ء میں نیٹو افواج کی موجودگی میں کرنل قذافی کی ہلاکت ہوئی جسے بہت سے تجزیہ کار "قتل” قرار دیتے ہیں اور اسی طرح 2011ء میں شام کی خانہ جنگی شروع ہوئی جس سے شام ابھی تک سنبھل نہیں سکا ہے۔

    یہ ہے 7اکتوبر کے حماس کے طوفان الاقصی کا مختصر سا پس منظر، جس میں ایک فلسطینی خاتون اپنے خاوند اور بیٹے کو "شہادت” کے رتبہ پر متمکن دیکھ رہی ہیں۔ قرآن کریم میں جہاد پر زور دیا گیا ہے اور "یہود و نصاری” کے بارے میں بھی قرآن پاک میں آیات ضرور موجود ہیں۔ لیکن قرآن کی اجتماعی فکر اور اسوہ حسنہ حضرت محمد مصطفی رحمت العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم انسانیت افروزی پر مبنی ہیں۔ اس کے مطابق نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہودیوں کی خدمت مسجد نبوی میں ٹھہرا کر کرتے نظر آتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں، "کونو عباد اللہ اخوانا” کہ سب عبد (انسان) بھائی بھائی ہیں۔ اسلام ایسا دین نہیں جس طرح اس کی تشریح بعض مسلم مشاہرین قرب قیامت سے پہلے جنگ و جدل اور خون ریزی کا نمونہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح اصل الہامی مذاہب یہودیت اور عیسائیت بھی انسانی خون ریزی یا ایسی صلیبی جنگوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتے ہیں جس طرح صلیبی جنگوں کے دعوے دار اس کی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ جوں جوں اسرائیل فلسطین کی جنگ کے پھیلنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایران کی حماس کے لئے کھلم کھلا فوجی و انسانی حمایت اور امریکہ اسرائیل کی امداد کر رہا ہے اور امریکہ کا فائٹر طیاروں اور اسلحے سے لدا بحری بیڑا حماس کے 7اکتوبر کے حملے کے فورا بعد بحرالکاہل میں پہنچ گیا ہے۔ اگر جنگ نے ایران کو بھی لپیٹ لپیٹ میں لے لیا یا روس اور چین بھی جنگ میں کود پڑے تو بیت المقدس کے قبضے کی یہ جنگ "تیسری عالمی جنگ”  میں بھی بدل سکتی ہے۔ تب  امریکی صدر جوبائیڈن جو اسرائیل کے "فاسفورس” بم چلائے جانے، فلسطینی بچوں اور عورتوں سمیت ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ  کے ہسپتالوں کو "قبرستان” بنانے پر خوش نظر آ رہے ہیں اور اقوام  متحدہ بھی جنگ بندی نہ کروا سکا تو کچھ زیادہ بعید از قیاس نہیں کہ سابق امریکی صدر جارج بش کی طرح موجودہ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کو صلیبی جنگ (Crusade) کا نام دینے کی ناکام کوشش کریں گے۔

    صلیبی جنگوں یعنی مذہبی جنگوں کو سب سے پہلے قرون وسطی میں لاطینی کلیسا نے منظور کیا تھا۔ نومبر 1095ء میں پوپ اربن دوم نے اپنے خطبے میں کہا تھا کہ، "عیسائی دنیا یروشلم واپس لینے کے لئے اکٹھی ہو جائے”۔ خاص طور پر مشرقی بحیرہ روم کی مہمات کا مقصد "ارض مقدسہ” (موجودہ یروشلم) کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کرانا تھا۔ اگر الہامی مذاہب امن و سلامتی کا نظام ہیں (اور ہیں) تو اس بات کو اس کے تینوں پیروکار "یہودی”، "عیسائی” اور "مسلمان” کب سمجھیں گے؟ کیا اس وقت جب اللہ تعالی اس انسانی نسل کو چھوڑ کر یہاں ایک اور انسانی "مخلوق” آباد کرے گا؟

  • اسرائیل فلسطین کی غیراعلانیہ جنگ اور اسکا دو ریاستی حل

    اسرائیل فلسطین کی غیراعلانیہ جنگ اور اسکا دو ریاستی حل

    اسرائیل فلسطین کی غیراعلانیہ جنگ اور اسکا دو ریاستی حل

    Dubai Naama

اسرائیل فلسطین کی غیراعلانیہ جنگ اور اسکا دو ریاستی حل

    7اکتوبر ہفتہ کے روز فلسطین پر اسرائیلی حملے میں 200 سے 232فلسطینی شہادتوں کے بعد سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکانات پر اوس پڑ گئی ہے۔ اس سے قبل 26ستمبر کو اسرائیلی وزیر سیاحت ہائم کاٹز نے سعودی عرب کا اعلانیہ اور باضابطہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران سعودی عرب کا ایک وفد 30سال کے بعد پہلی بار  مقبوضہ ویسٹ بینک گیا تھا، جس کی قیادت فلسطینی علاقوں کے لئے سعودی عرب کے ‘غیر مقیم‘ سفیر نائف السدیری کر رہے تھے۔ اس پیش رفت سے پاکستان اور انٹرنیشنل میڈیا میں یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ شائد سعودی عرب بہت جلد اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے۔ اس موقع پر اسرائیل کے وزیرخارجہ ایلی کوہن نے بھی اپنے ایک چونکا دینے والے انٹرویو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد چھ یا سات دیگر مسلم ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے، جن کا تعلق ایشیاء اور افریقہ سے ہو گا۔ اس پس منظر میں پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے موضوع پر بھی بحث و مباحثہ ہوتا رہا تھا۔ لیکن اسرائیل کے اس حملے کے بعد خطے کی حالت انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق حماس کے مجاہدین نے حیران کن طور پر جنگی ہتھیاروں سے لیس ہو کر  پیدل، گاڑیوں اور پیراشوٹس کے زریعے اسرائیل کے اندر گھس کر مزاحمتی کاروائی کی اور اسرائیل کے شہروں پر راکٹوں سے حملے کیئے جس کے نتیجے میں 100اسرائیلیوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایک خبر کے مطابق حماس کے چھاپہ مار جنگجوو’ں نے کچھ اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بھی بنایا جس میں عرب میڈیا ایک اسرائیلی جرنیل کی گرفتاری کا دعوی بھی کر رہا ہے۔

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہ ایک مکمل جنگ کا آغاز دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ کے اسرائیل کی حمایت اور امداد کے اعلان، اور ایران کے فلسطین کی حمایت کے اعلان کے بعد ایران اسرائیل کی براہ راست جنگ کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں کیونکہ حماس کی اس کامیابی کو ایرانی پارلیمنٹ میں اور ایران کے "فلسطین سکوائر” میں نعروں کے ساتھ فلسطین کی فتح سے تعبیر کر کے جشن منایا گیا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر میجر جنرل صفوی نے کہا کہ "ایران اسرائیل کے خلاف فلسطینی آپریشن کی حمایت کرتا ہے اور ایران پورے فلسطین کی آزادی تک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔” جس کے بعد اسرائیلی اور ایرانی صدور میں سخت مخاصمانہ بیانات کا بھی تبادلہ ہوا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ حماس کے حالیہ حملے کو بھی ایران فنڈنگ کر رہا ہے جس وجہ سے اسرائیل ایران پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ملٹری آپریشن نہیں بلکہ "کھلی جنگ” ہے جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کے ریزرو فوجیوں کو بھی حکم دیا کہ اسرائیل حالت جنگ میں ہے اور وہ فوری طور پر میدان میں اتریں۔ اسرائیل کے اس حملے کی مذمت کرنے اور ملا جلا ردعمل دینے والے ملکوں میں روس مصر، قطر اور شام سرفہرست ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بیان دیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی جنگ ہوئی تو بھارت اسرائیل کا ساتھ دے گا۔ جبکہ یورپ کے اکثر ممالک نے غزہ کی پٹی سے حماس کی طرف سے اسرائیلی شہری آبادیوں پر حملے کی مذمت کی ہے جس میں یورپی کمیشن، فرانس، چیک ریپبلک، بیلجئیم اور برازیل وغیرہ شامل ہیں۔

    اسرائیل فلسطین کی غیراعلانیہ جنگ اور اسکا دو ریاستی حل
    Image by Rodolfo Quevenco from Pixabay

    19ستمبر کو اقوام متحدہ میں 70ممالک اور تنظیموں کا اجلاس سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں ہوا تھا، جس میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی بات کی گئی تھی۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے سفارتی سطح پر بحالی کے دوران یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان نے مذاکرات کے دوران اسرائیل کو واضح پیغام بھجوایا تھا کہ اسرائیل کو سعودی عرب اسی شرط پر قبول کرے گا جب اسرائیل 1967ء کے مقبوضہ علاقے عرب دنیا کو واپس کرے گا۔ پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بھی یہی بیان دیا ہے کہ، "مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن دو ریاستی حل میں موجود ہے”۔ یہ مشرق وسطی کے مسئلے کا واحد حقیقت پسندانہ حل ہے، کیونکہ جب تک فلسطین کی مکمل آزادی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، سعودی عرب اور پاکستان سمیت باقی ماندہ مسلم ممالک "صیہونی” ریاست اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

    سعودی عرب کو عالم اسلام میں ایک معتبر اور رہبر ملک کی حیثیت حاصل ہے۔ سعودی عرب کو پوری اسلامی دنیا "ارض مقدس” کا درجہ دیتی ہے کیونکہ یہ سعودی سرزمین اہل اسلام کے لئے عقیدتوں کا مرکز و محور ہے۔ اکثر مسلم ممالک اسی طرف دیکھتے ہیں جدھر "خادم حرمین شریفین” دیکھیں۔

    اسرائیل کے بارے سعودی عرب کی پالیسی میں تبدیلی بڑے غور و خوض کے بعد آئی تھی۔جنگ و جدل کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اب شاید امن کے ذریعے فلسطین کے حق میں معاملات استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہو رہے تھے۔ خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات، مراکش اور بحرین اسرائیل کو حالیہ ماہ و سال میں پہلے ہی تسلیم  کر چکے تھے۔ قریب تھا کہ اسرائیل کو سعودی عرب اور واحد مسلم "ایٹمی قوت” پاکستان بھی تسلیم کر لیتا مگر اسرائیل نے اچانک فلسطین پر حملہ کر کے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے امن کو داو’ پر لگا دیا۔

    اسرائیل کے اس حملے کے بعد اب سعودیہ عرب، جو ہمیشہ فلسطینی مجاہدین کی مالی معاونت کرتا رہا ہے، کے لئے یہ فیصلہ کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس حد تک آگے بڑھاتا ہے، یا سرے سے سعودی عرب کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ دوبارہ کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں۔

  • علماء و مشائخ کی فلسطینی سفیر سے ملاقات

    علماء و مشائخ کی فلسطینی سفیر سے ملاقات

    علماء و مشائخ کی فلسطینی سفیر سے ملاقات

    اسلام آباد(ڈاکٹر شجاع اختر اعوان) معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان و مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان صاحبزادہ شاہ اویس نورانی صدیقی کی قیادت میں علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی، ڈاکٹر جاوید اختر نورانی صوبائی جنرل سیکرٹری، حاجی فیاض خان صدر جمعیت علمائے پاکستان کے پی کے وجملہ15 علمائے کرام ومشائخ عظام کا وفد ترکی، لیبیا، سعودی عرب، قطر اور فلسطین کے سفیر سے ملاقات کی۔ عالم اسلام اور باہم ملکی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رجب طیب اردگان کی خدمات کو سراہا گیا۔

    علماء و مشائخ کی فلسطینی سفیر سے ملاقات

    فلسطین کے مسلمانوں کی آزادی اور قبلہ اول کی آزادی کے لیے علامہ نور احمد سیال صدر جمعیت علمائے پاکستان صوبہ پنجاب نے دعا کی ۔علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی صدر جمعیت علمائے پاکستان ضلع اٹک نے لیبیا کے سفیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ امام شاہ احمد نورانی صدیقی کے لیبیا کے صدر کرنل قذافی سے قریبی تعلقات تھے وہ امام نورانی سے دل وجان سے احترام کرتے تھے ۔ اس وقت امت مسلمہ کی رہنمائی کے لیے ترکی کے صدر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس وقت 57 اسلامی ممالک عالم کفر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو مسلمانوں کے وقار میں اضافہ ہو گا