Tag: سعادت حسن آس

  • مودت اور آہِ رسا

    سعادت حسن آس بحرِ نعت میں رہنے والے عظیم شاعر ہیں جن کی فکری عفت ان کو اوجِ کلام کے گوہر عطا کرتی رہتی ہے اس دور میں ایسے لوگ نایاب ہیں جن کا سخن کے ساتھ ساتھ کردار بھی عظیم ہو اور ان کی تنہائی یاد الٰہی سے منور ہو یادِ الٰہی سے منور دل جب نعت رقم کرنے کے لیے بڑھتا ہے تو اسلوبیاتی صباحت،  تکنیکی جہت اور فنی صلاحیت خود بخود اُن کے قدم چومتی ہیں اور وہ نعت لکھتے جاتے ہیں میرے شہر کے بڑے بڑے نام اس فکری نظافت سے محروم ہیں اور ان  کے قدم لڑ کھڑا گئے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مودت جب عروج پر پہنچتی ہے تو آپؐ کی اہل بیتؑ کی مودت خود بخود الہام میں گُھل کر مقامِ عرفان کے زینے عبور کرتی ہے سعادت حسن آس جہاں نعت گوئی میں ندرت کی مہکتے پھول اپنی زنبیل میں ڈالے ہوئے ہیں وہاں ہی وہ سلام اور منقبت کے گلاب بھی رکھتے ہیں اور یہ گلاب جب خوشبو بکھیرتے ہیں تو وہ آہِ رسا کی صورت اختیار کر جاتے ہیں یہی آہِ رسا ان کو خیال ہی خیال میں کربلا و نجف سے مرجان و دُرِ نجف عطا کرتی ہے یہی گوہر لفظ لفظ بن کر کتابی صورت اختیار کرتے ہیں اور ہمیں "آہِ رسا” پڑھنے کو ملتی ہے "آہِ رسا” ہم سب کے دلوں کی آواز ہے جو قارئین کی سماعتوں میں رس گھولے گی۔ اس نئی تصنیف پر سعادت حسن آس کو بہت مبارک  ہو اور یہ عظیم کاوش اللہ تعالٰی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین

    hubdar qaim

    سید حبدار قائم

    سیکریٹری نشر و اشاعت 

    کاروان قلم اٹک

  • آس کی” آواز “

    آس کی” آواز "

    فطرت کا رنگ و نور جب الہام کے سمندر میں گُھلتا ہے تو لاکھوں آوازیں صوتی ترنگ کے ساتھ سماعتوں میں ریشمی تبسم کی طرح رس گھول دیتی ہیں جو آس کی "آواز”بن کر سخن شناس دلوں پر حسن و رعنائی کے دریچے کھولتی ہے اور صدائے واہ واہ  فضاوں میں شاعر کا درد جانے بنا بلند ہوتا ہے

    آس کی” آواز “

    دنیائے سخن میں ہزاروں ستم رسیدہ سخن دان آئے اور صدائے دل سنا کر وحدت کے پردوں میں غائب ہو گئے جن کی صدا ہر کرب اور ہر خوشی میں گونجتی رہی ایسی صدائیں کبھی مسرتوں کا روپ دھارتی ہیں تو کبھی غموں میں ہلکی ہلکی سسکیوں کا ۔ ابتدائے آفرِینِش سے ہی اظہار کے اسلوب وضع ہو گئے تھے بس اس کے رنگ مختلف تھے لیکن یہ طے ہے کہ سب رنگ ہی دھنک رنگ تھے صوتی ترنگ کے انہی دھنک رنگوں میں سعادت حسن آس کی ” آواز ” نے بھی فطرت کے رنگ کشید کیے جن میں سلاست و وارفتگی اور تنوع کی برکھا رت  نظر آتی ہے اگرچہ سعادت حسن آس نعت گو شاعر ہیں لیکن ان کے قلم کو قدرت نے سارے رنگوں سے مہمیز کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی غزل بھی آفاقی حسن رکھتی ہے آج ان کی کتاب "آواز” سے کچھ اشعار کی رفعتیں اور نکہتیں پرکھتے ہیں ایک اچھا شاعر چہرہ شناس بھی ہوتا ہے وہ چہروں کی تحریریں پڑھ پڑھ کر اپنی چہرہ شناس فکر جب قرطاس پر بکھیرتا ہے تو یوں اظہار کرتا ہے:۔

    کتابوں کی طرح چہرے ہیں سارے

    جسے کھولا اسی پر کچھ لکھا ہے

    خوشی میں آس وہ ملتا نہیں ہے

    جو غم کو سہہ کے جینے کا مزہ ہے

    نیرنگیء سخن جب سر چڑھ کر بولتا ہے تو قاری یا سامع کی فہم و ادراک پر ایک گہرا اثر ڈالتا ہے چاہے یہ سخن اس کے دکھوں اور سسکیوں سے منسلک ہو ، چاہے اس کی مسرتوں کے جشن استوار کرے چاہتوں کے سفر میں محبوب چراغ کی طرح ہوتا ہے جس کی روشنی سے دوسری چیزیں روشن نظر آتی ہیں سعادت حسن آس محبوب کی لو کے ساتھ جل کر دوسری نظروں پر محبت رنگ عیاں کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی ذات کے پندار سے نکل نہیں پاتے ان کے دل کی کیفیت شعر میں یوں ڈھلتی ہے:۔

    میں اپنی ذات کے پندار سے نکل نہ سکا

    وہ اک چراغ تھا میں اس کے ساتھ جل نہ سکا

    ہجوم شہر کا دستور ہی نرالا تھا

    جو ایک بار گرا گر کے سنبھل نہ سکا

    سعادت حسن آس زندگی کی تیرہ شبی میں بھی ایک درخشندہ سحر کے منتظر رہے ایسی سحر جس میں امید کی کرنیں روشن ہوں جہاں زندگی بندے کو نہ گزارے  بلکہ زندگی کو بندہ اپنی منشا کے مطابق بسر کرے جہاں زندگی کے ترنم کے گیت گائے جائیں جہاں ایک پالکی میں محبوب کے ساتھ بیٹھ کر  پھولوں کے حسین مناظر کا نظارہ کیا جائے لیکن جب زندگی کی تلخیاں ہی ماتھے پر لکھ دی جائیں تو تیرہ شبی میں سحر ایک خواب  کی طرح بن جاتی ہے جس پر اختیار نہیں ہوتا  اور یہ خواب صرف اپنی مرضی سے ہی آتا ہے لیکن آس کی آس اب بھی قائم ہے اور وہ ظلمتوں میں ایک تاباں سحر کے منتظر ہیں ایسی سحر جو شبنم کی شگفتہ بوندیں لے کر گلابوں کو تر و تازہ کرتی ہے سلگتی زندگی میں آس کے لبوں پر امیدیں یوں رقصِ جمیل کرتی ہیں:۔

    تا عمر بھٹکے رہے جس تیرہ شبی میں

    رخشندہ سحر اس کو بنانے لگا کوئی

    جس آگ میں ہم آس سلگتے رہے برسوں

    اس آگ کو گلزار بنانے لگا کوئی

    سرابِ زندگی جب بڑھتا چلا جائے تو امیدیں دم توڑ دیتی ہیں اور بندہ بکھرتا چلا جاتا ہے وہ سفر مکمل کرنے کی سعی تو کرتا ہے لیکن تھک کر ٹوٹ جاتا ہے سعادت حسن آس بھی زندگی سمیٹتے سمیٹتے خود بکھر گئے ہیں بچپن میں والدین نہ رہے زندگی دیکھ کر مسکراتی رہی اور آس زندگی کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے رہے لیکن امید کی چنگاری من میں روشن تھی اسی چنگاری نے آس کو بہت بڑا شاعر بنا دیا جن کا حوالہ یہ دنیا نعت گو کے مبارک نام سے جانتی ہے۔ لیکن زندگی کی بے اعتنائی کو شاعر کب جانے دیتے ہیں آس بھی زندگی بھر کا کھیل اس خوب صورت ردیف میں یوں ڈھالتے ہیں:۔

    لاکھ کیں کوششیں پر سمٹ نہ سکے

    ہم بکھرتے رہے کھیل ہی کھیل میں

    آس دامن وہی اب چھڑانے لگے

    جن پہ مرتے رہے کھیل ہی کھیل میں

    محبوب کے حسن کو بیان کرنا بہت مشکل کام ہے جہاں استعارے بھی دم توڑ جاتے ہیں جہاں قلم اپنی نوک کو پہلے حسنِ  تخیل سے رنگین کرتا ہے اور پھر قرطاس کے خوب صورت سینے پر ایسا رقصِ رعنائی کرتا ہے جس سے استعارے قلم کی نوک سے سرخرو ہونے کے لیے مسکراتے چلے آتے ہیں اور مہک افروز الفاظ  قلم کی زباں سے تخلیق ہوتے جاتے ہیں محبوب کی تعریف لکھنے کے لیے قلم کبھی زلف چومتا ہے اور کبھی آنکھوں کی جھیل میں گوہرِ وفا  تلاش کرتا ہے کبھی شرابی ہونٹوں کی یاقوتی ڈلیاں تو کبھی شگفتہ رخساروں کی رعنائی بیان کرتا ہے کبھی صراحی دار گردن تو کبھی محبوب کے گلابی آنچل سے صبا کی سرگوشاں سنتا ہے سعادت حسن آس نے بھی محبوب کی آنکھیں غزل کے رنگ سے رنگی ہیں :۔

    کائناتِ حسن میں تیرا بدل کوئی نہیں

    جس پہ میں لکھوں غزل جانِ غزل کوئی نہیں

    نیلے نیلے پانیوں میں یوں تو ہیں لاکھوں کنول

    تیرے نینوں سے مگر ان میں کنول کوئی نہیں

    قید خانہ میں خاموشی کا درد وہی محسوس کرتا ہے جو قفس میں تڑپتا رہا ہو یا اتنا حساس ہو کہ اسے قید تنہائی کی سسکیاں آہیں اور ہچکیاں سنائی دیتی ہوں تنہائی کے کرب ناب لمحے بھی جبرِ مسلسل کے سانپ کی طرح ڈستے ہیں اور اس کا زہر رگِ جاں میں سرایت کرتا چلا جاتا ہے سعادت حسن آس نے "راستہ کوئی نہیں ” کی عمیق ردیف کو کتنی خوب صورتی کے ساتھ نبھایا ہے ان اشعار میں شاعر کا حسنِ تخیل کیسے رقص کرتا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    رات کی گہری خموشی قید خانوں کی طرح

    موت دستک دے رہی ہے راستہ کوئی نہیں

    مفلسی سے جنگ کر کر کے تھکی ہاری ہوئی

    ایک دو شیزہ کھڑی ہے راستہ کوئی نہیں

    رودادِ عشق دو لفظوں میں بیان کرنا انتہائے سخن ہوتا ہے اور قدرت یہ عطیہ کسی کسی شاعر کی جھولی میں ڈالتی ہے سخن شناس لوگ ان دو لفظوں سے پوری کہانی کی لذت محسوس کر کے شاعر کی زندگی پر لکھ دیتے ہیں سعادت حسن آس وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی و کمال بھی عطا کیا ہے زیرِ نظر اشعار میں یہ روداد دل و نگاہ میں کیسے موتی بکھرتی ہے ملاحظہ فرمائیے:۔

    سرسری سی تیری اک آدھ ملاقات کے بعد

    کوئی نظروں میں سمایا نہ تیری ذات کے بعد

    ہمنشیں یاد تیری روح میں ایسی پھیلی

    جیسے ہلکی سی مہک اٹھتی ہے برسات کے بعد

    میں ذاتی طور پر سعادت حسن آس کی فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کا معترف ہوں ان کے کلام میں کلاسیکی روایت سلاست  اور بلاغت  کے ساتھ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں آسان لفظوں میں بہت بڑی بات بہت خوب صورتی سے ادا کر جاتے ہیں ۔ان کے قریب رہ کر  میں نے ان کو جتنا حساس پایا ہے اتنا کوئی اور کہاں ہو گا آس شیشے کا دل رکھنے والے انسان ہیں اور دنیا تو ہاتھوں میں سنگ لیے شیشہ صفات انسان کو کرچی کرچی کرنے کے لیے بے تاب بیٹھی ہوتی ہے لیکن سعادت حسن آس نے الفاظ کو ڈھال بنا کر اپنا دفاع کرنا سیکھ لیا ہے۔ اس غزل میں ردیف  ” پتھروں کے شہر میں”  کا استعمال اُن  کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے لیجیے آپ بھی نظریں سیراب کیجیے:۔

    ایک شیشے کا مکاں ہے پتھروں کے شہر میں

    اور دشمن سب جہاں ہے پتھروں کے شہر میں

    سسکیاں لے لے کے ساری آرزوئیں سو گئیں

    کوئی سنتا ہی کہاں ہے پتھروں کے شہر میں

    آخر میں دعا کرتا ہوں کہ سعادت حسن آس کا سایہ اردو ادب پر ہمیشہ قائم رہے اور وہ اسی طرح علم و ادب کے موتی بانٹتے رہیں۔ آمین

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • قائد اعظم

    قائد اعظم

     احسان ترا بھول نہ پائیں گے کبھی ہم , اے قائد اعظم

    تو نے ہمیں اک ارض وطن کا دیا پرچم , اے قائد اعظم

    اس ارض پہ کیا صورتیں قربان ہوئی ہیں ,شعلوں میں جلی ہیں

    اس ارض کے کنکر ہیں مرے واسطے نیلم , اے قائد اعظم

    یہ ارض تری جانفشانی کا ثمر ہے, نایاب نگر ہے

    اس ارض پہ اللہ کے انگنت ہیں انعم , اے قائد اعظم

    ہر وادی میں اس کی بڑی مسرور فضائیں , جو دل کو لبھائیں

    بہتے ہوئے دریاوں کا مسحور ترنم , اے قائد اعظم

    کشمیر میں زہریلی ہوا ایسی چلی ہے , ہر شاخ جلی ہے

    خوشیوں سے چہکتے ہوئے گھر بن گئے ماتم , اے قائد اعظم

    تو نے تو اسے امن کا گہوارہ بنایا , خوشبو میں بسایا

    غنچوں کو دیا تھا نیا انداز تبسم,  اے قائد اعظم

    ہم نے ترے گہوارے کے ہر پیڑ کو چھانٹا , پھر حصوں میں بانٹا

    اقرار ہے مجرم ترے افکار کے بھی ہم , اے قائد اعظم

    وہ نوٹ کہ جن پر تری تصویر بنی ہے , خاموش کھڑی ہے

    جیسے کہ تیری روح بھی ہم سے ہوئی برہم , اے قائداعظم

    ہر شخص ترے ملک کو کھانے پہ تلا ہے , ان داتا بنا ہے

    ہے کون جو اس ارض کے لٹنے کا کرے غم , اے قائد اعظم

    اب تو یہی اللہ سے  ہر روز دعا ہے , جو بار الہ ہے

    اس گھر کے دروبام کو رکھے سدا قائم , اے قائد اعظم

    ممکن ہے تری روح کو تسکین ملے گی , ہر آس بندھے گی

    ہر فرد اگر تھام لے گرتا ہوا پرچم ,اے قائد اعظم

    سعادت حسن آس آف اٹک

  • آپؐ بہت یاد آئے

    ہجر کی رات ڈھلی آپؐ بہت یاد آئے

    بات سے بات چلی آپؐ بہت یاد آئے

    آپؐ فرماتے کہ مشکل میں پکارو ربّ کو

    آج مشکل جو پڑی آپؐ بہت یاد آئے

    آپؐ فرماتے کہ بیٹی تو ہے ربّ کی رحمت

    گھر سے بیٹی جو گئی آپؐ بہت یاد آئے

    لوگ پوشاک میں اک روز برہنہ ہوں گے

    آ گئی ہے وہ گھڑی آپؐ بہت یاد آئے

    نصف ایمان کہا صاف صفا رہنے کو

    گرد زہنوں پہ جمی آپؐ بہت یاد آئے

    آپؐ نے غیبت و بہتان سے روکا تھا ہمیں

    بات سے آگ لگی آپؐ بہت یاد آئے

    چار جانب سے مسائل نے ہمیں گھیر لیا

    اے قریشی لقبی آپؐ بہت یاد آئے

    اپنے ماں باپ سے لہجے میں مروت رکھنا

    ایک ماں روتی رہی آپؐ بہت یاد آئے

    ماں کے قدموں میں ہے جنت یہ کہا آقاؐ نے

    ماں کی میّت جو اٹھی آپؐ بہت یاد آئے

    آپؐ کی سنت عالی میں فلاح داریں

    ہر گھڑی آس کو بھی آپؐ بہت یاد آئے

    سعادت حسن آس آف اٹک

  • جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

    جو بنی اس کو نبھایا آپؐ کومعلوم ہے

    کیا سے کیا صدمہ اٹھایا آپؐ  کو معلوم ہے

    آپؐ  کا دامن کبھی چھوڑا نہ اپنےہاتھ سے

    وقت نے کتنا رلایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    زندگی کی تلخیوں نے راستہ روکا بہت 

    دل نہ ہرگز ڈگمگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    آپؐ  کے ارشاد کو رکھا مقدم جان سے

    خود کو بھی خود سے چھپایا آپؐ  کومعلوم ہے

    آپؐ  کی مدحت  سرائی اپنے بس میں تھی کہاں

    کیا لکھا کس نے لکھایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    نفرتوں ہی نفرتوں کی بانجھ مٹی میں حضوؐر

    پیار کا پودا لگایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    جبر سہتے سہتے اب تو جسم شل ہونے لگا

    اس قدر جگ نے ستایا آپؐ  کومعلوم ہے

    کیسی کیسی صورتیں بے جرم جھولیں دار پر

    ساری دنیا کو بتایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    کیسے کیسے آس غنچے آگ میں جلتے رہے

    درد سینے پر سجایا  آپؐ  کومعلوم ہے

    سعادت حسن آسؔ آف اٹک

  • نگار ضو تر ے قدموں کا دھوون

    نگار ضو تر ے قدموں کا دھوون

    سعادت حسن آس کی نعتیہ کتاب”آپؐ سا کون ہے” کے نگار خانہء شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل قاری کے فہم و ادراک کو ایسی ضیا بخشتے ہیں کہ قاری پڑھتا جاتا ہے اور عشقِ چشمِ امواجِ بقا،سندِ امانت، غنچہء راز وحدت ،جوہرِ فردِ عزت ،ختمِ دور رسالت ،محبوبِ رب العزت ،مالکِ کوثر و جنت، مقطعءجاں فزا ،جانِ صبح مساء، روحِ ارض و سما، شارع لا الہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گرفتار ہو جاتا ہے اور وہ فخرِ کائنات، ارفع الدرجات،اکمل الرکات ،واصلِ ذات اور صاحبِ التاج والمعراج کی سیرت سے آشنائی حاصل کرتا ہے۔ سعادت حسن آس جدتِ خیال کے رنگ  دھنک میں پرو کر اس لطیف صورت کو کاغذ کے دل پر ایسے نقش کر دیتے ہیں :۔

    رنگ ہے تیری وفا کاسینہء پا تال میں

    کھل رہے ہیں گلستاں تیری نگاہ ناز سے

    چاہتوں نے سر بکھیرے زندگی کے گیت پر

    رقص میں ہے گل جہاں تیری نگاہ ناز سے

    الفاظ کی صوتی ترنگ جب بالیدگیء افکار پہ دستک دیتی ہے تو الفاظ کی رم جھم اشعار کی صورت میں ایک ریشمی تبسم لے کر شعر میں ڈھلتی ہے غم گسارِ دل فگاراں مدنی آقاؐ کاعشق اسے نعت کا  آہنگ عطا کرتا ہے جو اسلوبیاتی صباحت اور فکری نظافت کاآئینہ دار ہوتا ہے صنائع بدائع اور ندرت اس کلام کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ عاجزی و انکساری در رسولؐ پر جاکر آفتاب اور ماہتاب جیسے الفاظ دامن میں سمیٹ کر واپس پلٹتے ہیں۔ یہ الفاظ جب قارئین کی سماعتوں پہ دستک دیتے ہیں۔ تو ان کے وجدان پر دیدہ زیب آبشاروں اور گلرنگ برساتوں کی طرح فصلِ گلِ مدحت کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں۔ جو کہ قاری کی روح کو تقویت دیتے ہیں۔ اور اسے سیرتِ شمس الضحی، عشقِ نور خدا، بدر الدجی، آفتابِ ہدی، صدر العلی، نورالہدی ،کیف الوری ،صاحبِ جودو سخا سرورِ انبیاء حضرت  محمدؐ سے ایک خاص وارفتگی سے آراستہ کرتے ہیں جس سے ناعت منور ہو کر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ جیسی ضیا آفرینی کا باعث بنتا ہے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے مثلِ حضرت حسان رضی اللہ ایک درویش طبع انسان سعادت حسن آس سے نسبت ہے  ان کے اشعار میں صنعت تلمیح کا استعمال دیکھیئے کہ کس خوبی و کمال سے کرتے ہیں

    بند ہ تو بند ہ کنکر بھی بند مٹھی میں بولے

    ڈوبتے سورج کو پھر سے پلٹانے وا لا آیا

    براقِ مصطفےؐ کی برق رفتاری بتاوں کیا

    کہ جس کی جست سے پیچھے کئی سو کارواں ٹھہرے

    اللہ ستارالعیوب نے پوری کائنات انیسِ بے کساں، راحتِ قلب و جسم و جاں ،راحتِ رفتگاں،چارہ گرِ آزردگاں، سکونِ درد منداں ،غمسازِ غریباں ،نگاہِ بے نگاہاں اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خلق کی ہے یہ دھنک کے رنگ، چرند پرند، آبشاریں ،جھرنے، جنگل، بیل بوٹے اور کہکشائیں سب کچھ اور ان کی حقیقت کو سمجھ کر آپ نے کیا خوبصورت شعر خلق کیا ملاحظہ فرمائیے:۔

    دو جہانوں میں اجالا آپؐ کی تنویر سے

    میرے ہونے کا حوالہ آپؐ کی تنویر سے

    حضور انورؐ کے دردِ فرقت میں وصل کی مہک کو ایسے مہکا دیا ہے کہ والہانہ مودت کا اظہار انتہائی برجستگی اور شائستگی سے یوں کرتے ہیں :۔

    ان کی یادیں ہی تو ہیں من کے بدلنے کا سبب

    یاد ان کو جب کیا ان کا کرم ہونے لگا

    ستم کی دھوپ میں آقاؐ کا سائباں سر پہ محسوس کرنا سعادت حسن آس کی آس ہے جس کا اظہار یوں کرتے ہیں:۔

    ستم کی دھوپ سے ڈرتا نہیں ہوں

    میرے سر پر نبیؐ کا سائباں  ہے

    نگار ضو تیرے تلووں کا دھوون

    کمالِ فن تیرا حسن بیاں ہے

    اللہ تعالی نے اپنے نور سے حضورؐ کے نور کو خلق فرما کر پھر آپؐ کے نور سے پوری کائنات کے نور کو خلق فرمایا اسی نور کی خوشبو کو آس اپنے من کی دنیا میں اس طرح دیکھتے ہیں:۔

    خدا نے میری مٹی میں ملائی جب تریؐ خوشبو

    تو پھر احساس کا گل رنگ کر ڈالا جہاں تمؐ نے

    سعادت حسن آس کا حساس دل اللہ کی نعمتوں کا معترف ہے مگر یہ روشنی خوشبو محبتیں سب ایک طرف رکھ کر اپنے آقاؐ سے ملاقات کے اظہارِ شوق کو قلم سے قرطاس پر یوں منتقل کرتے ہیں:۔

    روشنی ‘خوشبو’ محبت’ ہمسفر تو ہے مگر

    دستِ قدرت سے مجھے خیرالامم بھی چاہیے

    آقا پاک کی تنویر سے جہانِ دل میں ضیا اور افکار کی بالیدگی جنم لیتی ہے یہ درد آشنائی اور لذت آشنائی تنویرِ صورتِ صبحِ درخشاں  آقا پاکؐ سے الفاظ کو یوں کشید کرتی ہے:۔

    جسم کی پاکیزگی ہے آپؐ کی تنویر سے

    روح میں بالیدگی ہے آپؐ کی تنویر سے

    جب کفر و شرک کی ژالہ باریاں محو رقص تھیں مظلوموں کو جبر سلطانی سے نجات دینے والا کوئی نہ تھا حق گوئی دنیا سے ناپید ہو چکی تھی دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی کا خونِ ناحق کر کے  سچ کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب کر چکے تھے اس وقت رحمتِ خدا وندی جوش میں آئی اور اس نے حضرت محمدؐ جیسے آفتابِ جہاں تاب کا نزول فرمایا جن کے خوبصورت احساس کو سعادت آس نے یوں اپنے قلم سے آراستہ کیا:۔

    پھیلی ہوئی تھی تیرگی بھٹکے ہوئے تھے راہ سے

    نور سحر کی رونقیں آپؐ کے دم قدم سے ہیں

    سحر خیزی کے اسرار اور لذت سے جو مومن آشنا ہوتا ہے وہ یہ بات ضرور کرتا ہے:۔

    چاند تاروں کو ضیاء ان کے توسل سے ملی

    حسنِ معصومؐ سے کلیوں نے چٹکنا سیکھا

    کوئی بھی سخنور اس وقت تک مدحت نگاری نہیں کر سکتا جب تک اس پر آقا پاکؐ کی مودت کی مہر نہ لگے بہت بڑے سخنور مدحت کی دولت سے محروم دیکھے گئے ہیں لیکن آقا پاکؐ نے آس کی آس کو ہمیشہ پزیرائی بخشی جس کا اظہار وہ یوں کرتے ہیں:۔

    آپؐ نے پیار مجھے سوچ سے بڑھ کر بخشا

    کیا بھلی بات لگی آپؐ کو  دیوانے  میں

     اور یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟  کہ کوئی بھی بندہ انتہائے کمال، منتہائے جمال، منبعءخوبی و کمال، بے نظیر و بے مثال حضرت محمدؐ سے عشق و محبت کا دعوی کرے لیکن اسے آپؐ کے اہل بیت عظامؑ سے مودت نہ ہو اور ان کے دشمن سے بےزاری اختیار نہ کرے آس بھی اپنی آنکھوں کو غم حسینؑ سے منور کر کے یوں کہتے ہوئے نظر آتے ہیں:۔

    خوش بخت ہوں کہ سینے میں غم ہے حسینؑ کا

    خوش بخت ہوں کہ دشمن آل عبا نہیں

    زندگی کی تلخیاں انسان کو بکھیر کے رکھ دیتی ہیں وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے اس کے اپنے پرائے سب اس کو چھوڑ دیتے ہیں جب حالات انسان کو کچے دھاگے کی طرح توڑ دیں تو اس کو غم گسارِ دل فگاراں حضرت محمدؐ سے ناطہ جوڑ دینا چاہیئے جو ایسا کرتا ہے اسی کو آس یہ نویدِ بقا سناتے ہیں:۔

    جو تنکوں کی طرح بکھر جائے آس

    اسے پھر سمیٹے سنوارے  نبیؐ

    شمع بزمِ ہدایت، مخزنِ اسرارِ ربانی اور مرکزِ انوارِ رحمانی آقا پاکؐ کے جمال و کمال دیکھ کر مخمور سی قلبی راحت پا کر فرخندہ بخت اشعار سعادت حسن آس کی فکر و شعور پر اس طرح دستک دیتے ہیں:۔

    اک سجیلا سفر اک حسیں راہ گزر آبجو چاندنی

    دیر تک نعت پر مجھ سے کرتی رہی گفتگو چاندنی

    جھلملا نے لگے مسکرانے لگے آس غنچے کئی

    آگئی ہے مرے جب سے پندار میں روبرو چاندنی

    خوبصورت اشعار کی کثرت میرا تبصرہ طول کر رہی ہے  اپنے الفاظ کو اس دعا کے ساتھ سمیٹتا ہوں  کہ اللہ پاک سعادت حسن آس کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازے تا کہ وہ آسمان ادب پر متمکن ہو کر ایسے اشعار رقم کرتے رییں:۔

    کبھی تو اترو شبستان دل میں جانِ جہاں

    سجائے بیٹھا ہوں بارہ دری تمہارےؐ لیے

    حبدار قائم
    حبدار قائم

    سید حبدار قائم آف اٹک

  • سعادت حسن آسؔ- اٹک کا درویش نعت گو

    سعادت حسن آسؔ صاحب سے میری پہلی ملاقات کچھ سال قبل 13 رجب کی ایک محفل میں ہوئی۔ میں کچھ تاخیر سے اُس مجلس میں پہنچا تھا، اس لیے خاموشی سے جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔شناساؤں میں کچھ نئے چہرے بھی تھے جن میں سے ایک آس صاحب بھی تھے۔ انہیں پہلی نظر دیکھ کر مجھے قطعا اندازہ نہ ہوا کہ یہ شاعر ہیں بلکہ میں انہیں کوئی درویش سمجھتا رہا تاوقتیکہ انہیں دعوت کلام دی گئی۔ لیکن جب تعارف ہوا اور اس کے بعد مزید ملاقاتیں ہوئیں تو مجھے یقین ہوگیا کہ میرا گمان درست تھا، آس صاحب واقعی درویش صفت اور صوفی منش انسان ہیں۔ میں نے اس دور میں ایسے نفیس اور عاجز طبع لوگ بہت ہی کم دیکھے ہیں ، ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم اور سعادت صاحب انہی میں سے ایک ہیں۔

    سعادت حسن آس
    سعادت حسن آسؔ

    سعادت حسن آسؔ 15 اکتوبر 1952ء کو اٹک شہر (کیمبل پور) کی ریلوے کالونی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیر محمد ریلوے میں گینگ میٹ تھے۔ آس صاحب کے اجداد کا تعلق گاؤں گگن تحصیل فتح جنگ سے ہے آپ کے دادا 1922ء میں اٹک آ کر آباد ہوگئے تھے۔
    والدین کا سایہ انتہائی بچپن میں سر سے اُٹھ گیا تو آپ کی پرورش کی ذمہ داری بڑی بہن نے اُٹھا لی۔ اُن کے خاوند آرمی میڈیکل کور میں صوبیدار تھے، اور اس وقت بنوں خیبر پختونخواہ میں تعینات تھے۔ آس صاحب نے ابتدائی تعلیم بنوں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی پھر چھٹی جماعت میں پائیلیٹ اسکول اٹک میں داخل ہوئے اور یہیں سے میٹرک کیا۔ 1973ء میں ریلوے کی ملازمت اختیار کی اور دوران ملازمت ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1979ء میں ریلوے کی نوکری چھوڑ کر واپڈا میں بھرتی ہوگئے اور واپڈا سے ہی ریٹائر ہوئے۔

    سعادت حسن آس
    سعادت حسن آس، مونس رضا صاحب کے پاس محو مطالعہ

    آس صاحب پیدائشی شاعر ہیں انہوں نے انتہائی بچپن میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور 1968-1969ء سے باقاعدہ شعر کہنے اور کلام لکھنے لگے۔ انہیں اُس دور کے نامور اہل قلم کی صحبت حاصل رہی جن میں نذر صابری، رفیق بخاری، حافظ مسکین،حکیم حیدر واسطی اور دیگر ادبی شخصیات شامل تھیں۔ 1986ء میں آس صاحب کا تبادلہ راولپنڈی ہوگیا ، اس شہر کی ادبی محافل میں آپ کو رشید نثار، پروفیسر کرم حیدری، منور ہاشمی اور سیّد ضمیر جعفری جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ نشست کا موقع ملا۔

    آسؔ صاحب کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ان کے ابتک 9 مجموعہ ہائے کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں جو بہر حال ان کے شاعرانہ وصف کا اظہار ہیں لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مدحِ خیرالوریٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی شاعری کا پہلا، مکمل اور مستند حوالہ ہے۔ آس صاحب کی نعت گوئی سے ہی میں ان کی شاعرانہ صفت اور ادبی قد سے واقف ہوا۔ اور نصف صدی سے نعت کہتے ہوئے اس کا اقرار وہ ان الفاظ میں خود بھی کررہے ہیں۔

    ؀ سخنوروں میں اگر ہے شمار، آپؐ سے ہے

    اس عہد کم ظرف میں جب کہ شعر کی تفہیم اور شاعر کی تکریم کے معانی ہی بدل چکے ہیں ؛ غیر معیاری اور بازاری ادب تخلیق ہورہا ہے۔ آسؔ صاحب نعت مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس جذبے، عقیدت اور عشق سے فروغ دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔  وہ جذب و کیف میں نعت کہتے ہوئے عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اعلی منازل پر نظر آتے ہیں۔

    آسؔ صاحب کے نو مجموعہ کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں
    1.آقا ہمارے 1982ء
    2.آس کے پھول 1990ء
    3.آدھا سورج 1996ء
    4.آسمان 2006ء
    5.آواز 2010ء
    6.آس 2017ء
    7.آپ بہت یاد آئے 2018ء
    8.آیات عجائب 2019ء
    9.آپؐ سا کون ہے 2020ء
    ان میں سے چھ نعتیہ ہیں۔

    اہل علم و صاحبان قلم نے بھی آپ کی پذیرائی خوب کی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ظہیر احمد صاحب نے “سعادت حسن آسؔ کی شاعری کا فنی اور فکری جائزہ” مقالہ لکھ کر ایم فل کیا جب کہ ایم فل کا ہی ایک اور مقالہ سعادت حسن آسؔ کا فن نادرن یونیورسٹی میں جمع کروایا گیا ہے۔

    جب ان کا نعتیہ مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں “ زیر طبع تھا تو انہوں نے مجھ سے پس ورق لکھنے کی فرمائش کی جو میں نے بصد ادب پوری کی۔ میرے لیے اعزاز کا مقام ہے کہ مدحِ شاہِ اُمم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں” کے پس ورق پر ہمیشہ موجود رہوں۔

    ؀ خوشبوُ کی کہانی میں میرا نام تو آیا

    آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری
    14 ربیع الآخر 1442 ھ