Tag: حقیقت کی تلاش

  • نسلوں کا ادغام

    نسلوں کا ادغام

    نسلوں کا ادغام

    آخر کبھی تو ایسا ہونا ہے کہ اس دنیا سے ظلم و زیادتی ختم ہو جائے۔ حقوق کا غصب ہونا بند ہو جائے اور امتیازات مصنوعی جاتے رہیں کہ جن کی وجہ سے ہماری نوع انسانی یقینا تباہی کے آخری دہانے پر جا پہنچی ہے تو پھر اس کے لیے ہم سب کو قربانی دینا پڑے گی۔ اگر ہم قوم پرستی کے جذبہ کے تحت مغربی جرمنی کے خوشحال معیشت کے لوگوں کو مشرقی جرمنی کے بدحال لوگوں کے ساتھ امتیاز مٹا کر ایک کر سکتے ہیں کہ جس سے آج سب لوگ برابر ترقی کر رہے ہیں ”مرحبا“۔ اگر دنیا بھر سے یہودی نسل کے محروم اور لٹے پٹے طبقات کو اسرائیل میں عام آباد ہونے کی اجازت دے کر ان کی صدیوں کی محرومیوں کو مذہب اور نسل پرستی کے نام پر دور کرسکتے ہیں ”واہ“۔ اگر نیلسن منڈیلا اپنی قوم کو صدیوں کی غلامی سے آزادی دلا کر آزاد لوگوں کے جیسے حقوق دلا سکتے ہیں ”کیا کہنے“۔ اگر کچھ غلام کیے جانے والے قدیم امریکی باشندوں کو انگریزوں سے آزادی ملنے کے بعد امریکہ جیسا بڑا ملک وجود میں آ سکتا ہے ”بہت خوب“ اگر چین جیسی کاہل اور نشئی قوم ترقی کے بام عروج پر قومیت کے نام پر مناسب لیڈر شپ کے ذریعے پہنچ سکتی ہے ”سبحان اللہ“ اور اس کے علاوہ اگردرجنوں اقوام محض قوم پرستی، وطن پرستییا تہذیب کے نام پر ترقی کر سکتی ہیں تو کیا”انسانیت کے نام پر“ کہ جو سب سے افضل خوبی ہے انسان کی، اور ایک نوع آدم کے نام پر کہ سب کے باپ آدمؑ تھے، خدا کے نام پر کہ ہم شاید90% لوگ کسی نہ کسی شکل میں خدا کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی عبادت کرتے ہیں اس کی طاقت و قدرت کو ماننے اور اکثر جزا و سزاپہ بھییقین رکھتے ہیں سب انسان، سب قومیں، سب مذہب، سب مکتبہئ فکر، سب تہذیبیں ایک نہیں ہو سکتے۔آپ اس سوال کو بیچ میں نہ اٹھنے دیں کہ تہذیبیں کیا کہتی ہیںیا مذاہب کیا کہتے ہیں۔ بلکہ خالص انسانیت کے نام پر، ایک باپ آدمؑ ایکماں حوّا کے نام پر اور ایک خدا کے نام پر سب اکٹھے ہو جائیں۔ مل بیٹھ کر میری ان تجاویز کا جائزہ لیں اور اگر آپ کو یہ پسند آئیں، دل کو لگیں تو اس سلسلے میں کوئی بہت بڑی ملٹی نیشنل Organization بنائیں جسے تمام ممالک کی Supportحاصل ہواور اقوام متحدہ کے نہایت فعال ذیلی ادارے کی حیثیت رکھتی ہو۔ جسے امریکہ، چین اور تمام بڑے ممالک کی سرپرستی، آمادگی بلکہ ترجیحاتی آمادگی حاصل ہو اور یہ معاملہ اقوامِ عالم کے ایجنڈے میں سرفہرست ہو کہ:

    بین الاقوامی آرگنائزیشن جینز و صلاحیتوں کے کراس کے لیے قانوناً یہ رہنما اصول اپنائے تا کہ دنیا میں امن، خوشحالی اور تعمیر و ترقی اجتماعی طور پر ممکن ہو سکے۔ ظلم مٹ جائے:

    ۱……قریب کے رشتوں میں شادیوں پر پابندی لگا دی جائے مثلاً فرسٹ کزنز میں شادیاں نہ ہو سکیں بلکہ بعد میں درجہ بدرجہ سیکنڈ اور تھرڈ کزنز میں بھی شادیاں نہ ہو سکیں۔

    ۲……امیروں کی غربا کے ساتھ اور غریبوں کی امرا کے ساتھ شادیاں کروائی جائیں۔

    ۳……صلاحیتوں اور ذہانتوں کو Catagerizeکیا جائے اور ان کا باہم کراس کروایا جائے غبی اور کم ذہین لوگوں کی شادیاں ذہین اور ذہین ترین لوگوں سے کروائی جائیں۔

    ۴……سرمایہ داروں کو پابند کیا جائے کہ مزدوروں اور لیبر طبقہ سے رشتہ قائم کریںیعنی غریب لڑکیوں سے شادیاں کریں۔

    ۵……کوئی طبقہ محض اپنے طبقے میں شادی نہ کر سکے بلکہ کسی بھی لحاظ سے کمزور، محروم، کم صلاحیتیافتہ طبقہ میں شادی کرنے کی نہ صرف اجازت ہو، بلکہ پابند بنایا جائے۔

    ۶……خاندانوں کا خاندانوں سے کراس کروایا جائے مثلاً ہمارے ملک پاکستان میں صوبائی عصبیتوں کو کم کرنے اور صلاحیتیں تقسیم کرنے کے لیے پنجابیوں، پٹھانوں، سندھیوں اور بلوچیوں کی کراس شادیاں عام کر دی جائیں۔

    ۷……ایک نسل کو دوسری نسل میں مکس کیا جائے۔

    ۸…… یورپین اقوام، امریکہ، براعظم افریقہ، انٹارکٹیکا، ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر جزائر نیز مڈل ایسٹ کی مختلف نسلوں، گروہوں اور خاندانوں کو آپس میں مکس کر دیا جائے۔

    ۹……اگلی Stageپر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پہلے سے کسی قسم کا رشتہ جن دو اشخاص مرد و عورت میں اگر موجود ہو چاہے نزدیک کا یا دور کا تو ان کی شادی نہ ہو سکے۔

    ۰۱……چین، ہندوستان (مع پاکستان) اور یورپ و امریکہ و روس کی آبادی کو بشمول جاپان و کوریا وغیرہ خوب Well-Shakeکیا جائے

    ۱۱……ابتدا میں چند بڑی زبانیں دوسری Stage پر عربی، انگریزی اور چینی زبان آخر کار ایک زبان دنیا میں رائج کی جائے۔

    نوٹ:          اگر مذہب آڑے آئیں تو ان کی تعلیمات کو ملحوظ رکھا جاسکتا ہے مثلاً مسلمان ممالک اہل کتاب ممالک کی کثیر آبادی سے خواتین بیاہ کر لا سکتے ہیں۔ البتہ اس معاملہ میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ جہاں پر Dead Lockہو تو اسے ایمرجنسی قوانین کے ذریعے توڑا جائے کیونکہ ایمرجنسی میں نہایت ناگزیر حالات میں حرام بھی خلال ہو جاتا ہے (جب تک کہ ایمرجنسی قائم رہے) یہ سب مذاہب کا مشترکہ قانون ہے بھی اور بنایا بھی جا سکتا ہے اور اس وقت دنیا میں جتنا ظلم ہے، خون بہہ رہا ہے،

    انسانیت آہ و بقا کر رہی ہے اور ہر طرف چیخیں، سسکیاں، محرومیاں، بد معاشیاں، غنڈہ گردیاں ایک دوسرے کو صفحہئ ہستی سے مٹا دینے کے جذبات اور کرہئ ارض کواڑا دینے کی جتنی تیاریاں ہو چکی ہیں کہ بس کسی بھی وقت تھوڑی سی مضبوط غلط فہمی ٹکراؤ پیدا کر سکتی ہے پھر چند منٹوں میں اس زمین پر قیامت برپا ہو جائے گی کوئی ذی روح باقی نہیں بچے گا۔ تو بھلا اس سے بڑی ایمرجنسی اور کیا ہو سکتی ہے۔اس لیے جیسے تیسے ہو ان تجاویز پر عمل درآمد جلد از جلد ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کسی رکاوٹ کو کسی بھی صورت میں خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔

    ان شاء اللہ تعالیٰ نتائج:

                                                    جب ہم کوئی کام اللہ کا پاک نام لے کر اس ذات ِ قدیر سے تائید و حمایت کی بے پناہ دعائیں آنسو بہاتے ہوئے مانگ کر خلوص نیت سے شروع کر تے ہیں تو ہمیں امید ہوتی ہے کہ وہ ہستی لازوال ہمارے کام میں برکت ڈالے گی اور ہمیں اس یکتا کی حمایت حاصل رہے گی۔

                                                    چنانچہ اگر ہم ایسا سب کچھ کرنے میں کامیاب و کامران بفضلِ تعالیٰ ہو جاتے ہیں (چاہے اس پراجیکٹ کے مکمل ہونے پر کئی سال لگ جائیں) تو نتیجہیہ ہوگا کہ صلاحیت و ذہانت، دانش و آگہی، علم و فضل، فنون و مہارتیں، تہذیب و تمدن او ر رنگ و نسل سے متعلقہ جینز تقسیم در تقسیم در تقسیم کے عمل سے بار بار گزرتے رہنے کی وجہ سے ایسے افراد اور نسلِ انسانی بشرط ِ تائید ایزدی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ جن میں گو کہ کچھ نہ کچھ صلاحیتوں، ذہانتوں، میلانات، رجحانات اور ترجیہات کا فرق تو ہو گا لیکنیہ قابلِ لحاظ نہ ہو گا اور ہم صدیوں سے انسانیت کے لیے جس عدل و انصاف اور برابری کی تگ و دو میں لگے ہیں وہ قائم ہو جائے گا۔ کوئی کسی کے حقوق اس لیے غصب نہ کر سکے گا کہ صلاحیتیں اور ذہانتیں ہر جگہ موجود ہوں گی جو اپنے حقوق کی حفاظت خود Automaticطریقہ سے کریں گی۔

                                                    اس کے علاوہ Internationalism قائم کرنا ہو گا تاکہ تمام نوع انسانی کے لیے برابری کی سطح پر آگے بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے مواقع اور وسائل مہیا ہوں۔ نظریات، مذاہب اور تہذیبوں کو مدغم کر دیا جائے گا اور یقین جانیے کہ جب یہ مدغم ہو جائیں گے تو اصلی ازلی اور پائیدار دین خود بہ خود ابھر آئے گا۔ کیونکہ تمام ادیان کا مطمع نظر اور نکتہئ عروج یہی ہے۔ رہ گئی ایک خدا کی عبادت تو یہی ایک خدا کی عبادت کا صحیح راستہ ہے۔ پھر اگر کسی نے تعصب کی عینک اتار کر دیکھا تو اسے نظر آجائے گا کہ بائبل بھییہی کہتی ہے اور قرآن بھییہی کہتا ہے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ باطل تو تھا ہی مٹنے کے لیے۔ یہ حز ب اللہ ہو گی جس سے حز ب الشیطان ہمیشہ کی طرح ٹکراتی رہے گی لیکن دنیا میں دو گروہ رہ جائیں گے مندرجہ بالا۔ اور بالآخر حزب الشیطان کو شکست ہو گی اور دنیا دینِ الٰہی (قرآن خالص) کے قوانینسے جگمگا اٹھے گی۔ (ایمان کے اجزا الفاظ کے ہیر پھیر اور اصطلاحات کے الٹ پھیر سے نکل کر یہی ٹھہریں گے واحد خدا، فرشتوں، آسمانی کتابوں سب نبیوں اور روزِ آخرت پر ایمان)۔

    جب ہر طرف امن ہو گا توبنی نوع انسان ایک Teamبن کر اس کائنات کو فتح کرنے کے لیے نکلے گی:

                                                    جب دنیا سے جنگ و جدل کا خاتمہ ہو جائے گا تو جو اربوں ڈالر دفاع پر خرچ ہو رہے ہیں وہ تسخیر کائنات پر خرچ ہوں گے۔اللہ کی جو آیات کائنات میں بکھری پڑی ہیں ان کی Studyہو گی۔ ناکارہ انسان نہیں رہیں گے ہر انسان کار آمد ہو جائے گا تو وسائل میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ فیملی پلاننگ کی بجائے نسل انسانی کو بڑھانے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اتنی بڑی کائنات کو فتح کرنے کے لیے تو ہم بہت تھوڑے انسان ہیں۔ ابھی تو ہم نے زمین پوری فتح نہیں کی، سمندر کی سب گہرائیاں نہیں ناپی ہیں۔ دوسرے سیّارے اپنے قبضہئ قدرت میں نہیں کیے۔ ابھی تو ہم نے ستاروں کو سر کرنا ہے۔ جتنے انسان بڑھیں گے۔ اتنی صلاحیتیں بڑھیں گی۔ نئے نئے جینز عملی دنیا میں آئیں گے جو ابھی جینز کے بے انداز سٹور رومز میں محفوظ پڑے ہیں اور دنیا میں آکر اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بے چین ہیں اور ہم سب صرف ان کے کیریئر ہیں جو انھیں اگلی نسلوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یقین کیجیے بہتر ذہین اور باصلاحیت نسل کو جب خوب بڑھایا جائے گا تو اس میں جینیئس لوگ خوب زیادہ ابھریں گے کیونکہ کیا معلوم کہ کن جینز سے وابستہ انسان دنیا میں آکر کیاکیا ایجادات کر ماریں کہ عقلیں دنگ رہ جائیں۔ ابھی تو سائنس نے بہت ترقی کرنا ہے۔ محض یہ راکٹ لے کر تو ہم اپنی زمین کے سیاروں کو سر نہیں کر سکتے۔ ہمارے لیے روشنی کی رفتاربھیکم ہے، ہمیں خیال کی رفتار کی ضرورت ہے، ہم ماضی میں سفر کرنا چاہتے ہیں، مستقبل کے زمانے میں پل بھر میں پہنچ جانا چاہتے ہیں بلکہ ہم ماضی، حال اور مستقبل کو اکٹھا دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ہم زمان و مکان Time & Spaceسے باہر نکلنا چاہتے ہیں، ہم موت سے آگے جھانکنا چاہتے ہیں، ہم پیدائش سے پیچھے کی جانب سفر کرنا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہم ہزاروں سال پیچھے جا کر دیکھیں کہ ہمارا ماضی در حقیقت کیا تھا۔ یقین جانیے وہ وقت دور نہیں جب انسان ہزاروں سال پہلے گزرے زمانے میں جب چاہے چلا جائے گا یا اگر زندگی اور مہلت خداوندی ہو تو ہزاروں سال آگے کا سفر کر آیا کرے گا۔ ابھی تو ہم محض کنویں کے مینڈک ہیں ابھی ہم کنویں سے باہر کدھر نکلے ہیں کہ یہ حسین و جمیل اور محیر العقول کائنات مشاہدہ کر سکیںیہ تو محض ان حواس خمسہ کی دنیا ہے ابھی تو دیگر دنیائیں باقی ہیں۔ جہاں ہم ان حواس سے رابطہ کٹنے کے بعد جا سکتے ہیں کہ جب ہمارے خوابیدہ حواس فعال ہو جائیں گے اور ان حواس کے آگے مزید حواس ہیں۔ لیکنیہ باب Topicیہاں پر ختم ہو گیا ہے۔

    دعا:                       یا رب العزت تیرے پاک نام سے آغاز کیا اور اسی پر انجام کر رہا ہوں یا الٰہی اگر میری ان تجاویز کو تیری تائید حاصل ہے تو انھیں دنیا پر لاگو کرنے کے اسباب پیدا فرما دے اور اگر یہ تخریب لیے ہوئے ہیں اور تیری رضا و حکم ان کے ساتھ نہیں ہے تو انھیں شیطان اور اس کی ذرّیت سے محفوظ رکھنا اور ہمیشہ کے لیے مٹا دینا۔  آمین ثم آمین۔

    مضمون نمبر2

    روحانیات

    اس ایک لفظ کو لکھ دینا جتنا آسان ہے اس پہ بحث کرنا اتنا ہی زیادہ دقیق اور مشکل ہے کیونکہ اس میں اتنا تنوع، ابہام، پیچیدگیاں، گہرائیاں اور تہہ در تہہ انکشافات ہیں کہ یہ کثیر جہتی موضوع جتنا بھی پڑھا، سمجھا اور لکھا جائے، بات تشنہ ہی رہتی ہے اور کیوں نہ رہے جب میرے خالق و حکیم، اور مطلق صفات بے حدو کنار کے مالک رب کریم نے کہا کہ ”اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلمیں بن جائیں پھر اتنے اور بھی شامل کیے جائیں تو اللہ کے کلمات کا احاطہ نہیں کر سکتے“ سبحان اللہ۔

                                                    جب صور ت حال یہ ہے تو پھر کیوں کر روحانیات(جتنا علم انسان کو ملا ہے) کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کا علم محدود ہی ہو گا لیکن انسان کے اعتبار سے یہ اتنا لا محدود ہے کہ اس کا احاطہ کرنا بھی شاید ناممکن ہی ہے (واللہ اعلم)۔

                                                    سائنس دانوں نے جب مادے کا تجزیہ کرتے کرتے ایٹم کو توڑا تو محض توانائی، روشنییا نور (نور کی بھی اقسام ہیں) باقی بچا، اور انھیں کہنا پڑا کہ مادے کی بنیاد بھی درحقیقت غیر مادی ہے اور اس سے آگے ہم اپنے سائنسی آلات کو استعمال کرکے موجودہ ذہنی سطح پر نہیں بڑھ سکتے۔ دوسری طرف الفاظ کے ظاہری مطالب تو جو ہیں سو ہیں لیکن ان کے باطنی اثرات کیا ہیں؟ کیسے ہیں اور کیونکر اثر انداز ہوتے ہیںیہ کوئی نہیں جانتا۔ ہندوؤں کے تنتر، منتر اور جنتر بھی اپنے اندر اثرات رکھتے ہیں۔ معلوم نہیںیہ قدیم زمانے کی مذہبی کتب سے اخذ شدہ ہیںیا انسانی فن کاریوں کے ایجادکردہ لیکنیہ اپنے اندر اثرات رکھتے ہیں۔ جنات، بھوت، پریت، مختلف قسم کی ارواح، پریاں، ان انواع کی بہت سی قسمیں بھی مخلوقات خدا ہیں، نیک اور بد ہیں، ان کی اپنی دنیائیں ہیں اور یہ ہماری دنیا میں تصرف بھی رکھتے ہیں اور ہم اپنی محنت و کاوش اور علم کی بدولت ان کی دنیا میں دخل اندازیاں بھی کرتے ہیں، جس کی گواہی قرآن دیتا ہے۔ یہ ہماری روح،ہماری ذات، ہمارے ذہن اور ہمارے جسم پر قبضہ کر سکتے ہیں، بلکہ ہمارے اعمال میں دخل اندازیاں کرتے ہیں، ہماری جنسی زندگی میں بھی فعال ہو سکتے ہیں بلکہ ہماری اولاد ان چیزوں سے یوں پیدا ہو سکتی ہے کہ بظاہر انسان کے بچے ہوتے ہیں لیکن باطنی طور پر ان اشیا کے بچے ہوتے ہیں۔ عجب ماجرا ہے، یہ چونکہ لطیف اجسام ہیں ہمارے مادی جسم میں نظر نہیں آتے لیکن ہماری روح، ہماری ذات میں نسل در نسل چلتے ہیں۔ یعنی اگر یہ کسی مردیا عورت کے ساتھ موجود ہیں تو اس میں سے جو اولاد ہو گی وہ اس مرد یا عورت کے ساتھ ساتھ ان کی بھی اولاد ہو گی۔ جس طرح سے ہمارے سپرم اور بیضہ مل کر Zygote/Ovum بن جاتا ہے حمل ٹھہر جاتا ہے، اس حمل میں ان کا لطیف حمل بھی شامل ہوتا ہے یعنییہ باقاعدہ ہمارے ساتھ جنسی زندگی بسر کرتے اور ہمارے اندر حلول کر کے ہمارے جن و انس کے مشترکہ بچے جو بظاہر انسانی بچے ہوتے ہیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ کچھ بڑا ہی عجب معاملہ ہے ہم انھیں دیکھ نہیں سکتے لیکن

    محسوس کر سکتے ہیں وہ بھی اگر تحقیق کریں، غور کریں تب ہی ایسا ہو سکتا ہے اور ہمارے اصل جیون ساتھی کے ساتھ بسا اوقات انھیں چبھن، جلن اور رقابت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے حلول شدہ فرد (مرد ہو یا عورت) اپنے جیون ساتھی سے کھچا رہتا ہے اس سے لڑتا جھگڑتا ہے، زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اگر ان کی رقابت حد سے بڑھی ہوئی ہو تو گھر فساد کا مرکز بن جاتا ہے اور بسا اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ جس فرد سے متعلق ہوتے ہیں نہ اسے خبر ہوتی ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور نہ ہی فریق مخالف جانتا ہے کہ یہ شیطانی کھیل کون کھیل رہا ہے وہ دونوں ایک دوسرے کو الزام دیتے اور جھگڑ جھگڑ کر پاگل ہو جاتے ہیں بعض اوقات مار پیٹ اور جان لیوا حادثات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ آخر انسانی برداشت کی ایک حد ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کی علیحدگی ہو جاتی ہے، ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ یوں ہو بلکہ بعض مہذب جنات و پریاں، سائے اور بھوت اچھی فطرت کے مالک بھی ہوتے ہیں جو کسی قسم کی تکلیف نہیں دیتے بلکہ کبھی اپنے وجود کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے۔ ”علم“ کے ذریعے انسان ان کو کنٹرول کر سکتا ہے لیکن صرف وہ لوگ جو اس فن کے ماہر، چلہ کش اور نڈر قسم کے لوگ ہوں اور وہ لوگ انھیں حسبِ طاقت ِعلم کنٹرول کرنے کے بعد ان سے مختلف قسم کے کام بھی لیتے ہیں۔ یہ کالے جادو، سحر، منتر، کئی قسم کے کالے تعویذ اور درجنوں عجیب و غریب اعمال کرتے ہوئے اثرات پیدا کرنا ان کے ذریعے ہو سکتا ہے بلکہ سننے میں آیا ہے کہ انسان کی عملی زندگی کے ہر کام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں (چاہے مختصر عرصے کے لیے اثر ہو یا طویل المیعادی اثر ہو)۔ حتیٰ کہ صحت مند لوگوں کو بیمار کرنا، اذیت دینایا ہلاک تک کر دینا۔ ان ہی چیزوں کے توسط سے بے رحم لوگ اور درندہ صفت ہوس کے پجاری ایساکرتے ہیں۔ آج کل ہمارے جیسے ملکوں میں اس طرح کی بے شمار دکانداریاں ہیں اور کاروبار کھلے ہوئے ہیں۔ گو کہ ان میں 90% لوگ تو خالص فراڈ کر رہے ہیں لیکن باقی 10% لوگ ان کالے کرتوتوں کے ماہر بھییقینا موجود ہیں۔ یہ شیطان کی فوج کے سپاہی اور ہتھیار ہیں گو کہ شیطا ن کے پاس اس کے علاوہ بھیبے شمار، ہتھیار اور طریقے ہیں ان کو ورغلانے اور جہنم میں پہنچانے کے، لیکن ان میںیہ مندرجہ بالا صورتِ حال بھی شامل ہے۔ یہ سب کچھ تو اپنی جگہ ہے (اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے شیطانی خیالات و اعمال سے پناہ عطا فرمائے) لیکن اللہ کریم نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو میرے بندے ہوں گے شیطان ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شیطان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اب اس دور میں اس نوعیت کے ایماندار، متقی اور پرہیز گار لوگ کہ جن کا اللہ پہ نہ صرف کامل ایمان و بھروسہ ہو بلکہ زندگیاں بھی عین قرآن کی عملی تصویر ہوں شاید لاکھوں میں چند ایک ہوں۔ ہر کسی میں باوجود نیکی کا رجحان رکھنے کے بے شمار عیوب، خرابیاں اور کج عملیاں ہیں۔ کون ہے جس کا دامن گناہ سے پاک ہے۔ لہٰذا س سے شیطان کو کُھل کھیلنے کے عام مواقع میسر ہیں اور اسے روکنا یا بند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

    جنات کی دنیا:

                                                    یہاں اگر مزید بحث کرتے ہوئے یہ بتا دیا جائے کہ ان جنات کی دنیا کس نوعیت کی ہے تو یہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کی بھی اپنی ایک دنیا ہے بالکل ہماری دنیا کی طرح ان میں بھی مرد و خواتیں ہیں، شادیاں ہیں، بچے ہیں، کاروبارِ حیات ہے، کھانا پینا،اوڑھنا بچھونا، خوشی غم، زندگی موت، نیکی بدی، امارت غربت، طاقت کمزوری، صحت بیماری، ڈاکٹر طبیبیعنی تمام پیشے سے وابستہ لوگ، حادثات و آفات، جنگ و جدل اور امن و امان سبھی کچھ ہے حتیٰ کہ مختلف عقائد و مذاہب بھی موجود ہیں۔ بہت پرہیزگار اور عبادت گزار بھی ہیں اور شیطان کے ہاتھ میں آلہئ کار بھی ان کی انواع و اقسام بھی ہیں، کوئی دیو ہیکل اور عفریت نما ہیں تو کوئی پستہ قد اور بونے ہیں، کوئی نہایت بد صورت اور قبیح ہیں اور کوئی حسن کے شاہکار خصوصاً پریوں کے حسن کو تو بقول شاعر ”دیکھئے تو دیکھتے رہ جائیے“ کے مصداق مثالی حیثیت حاصل ہے۔ دیو، بھوت، پریت، ڈائنیں، سایہ، آسیب، پچھ پیری سمیت جنات کی درجنوں نسلیں اور ہزاروں قسمیں ہیں۔ان کی طاقت اور صلاحیت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ یہ اللہ معاف فرمائے معاملات خداوندی میں دخل اندازی کی کوشش بھی کرتے ہیں (کیونکہ انھیں قیامت تک مہلت دیگئی ہے) تاہم نبیئ کامل حضرت محمد ﷺ کے زمانے سے انھیں آسمانی معاملات میں کچھ حدود کا پابند کر دیا گیایہ اس سے بڑھتے ہیں تو خدائی لاٹھی ان کے سر پر پڑتی ہے اور یہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آپ اندازہ کیجیے کہ یہ ہمارے خیالات پر بھی اثر انداز ہو کر سو طرح کے وسوسے ڈال دیتے ہیں۔جن خیالات سے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیے جاتے ہیں اور ایجادات کی جاتی ہیںیہ انھیں منفی وساوس کے ذریعے تباہی و بربادی کا سامان بنا دیتے ہیں۔ ایٹم اگر تھیوری کی شکل میں ایجاد ہوا تو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے، ٹیلی فون سہولت کے لیے، ٹیلی ویژن و کمپیوٹر علم کے حصول اور صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے، دوائیاں بیماریوں سے شفاء کے لیے دانش و عقل دانشمندیاں اور ذہانتیں بکھیرنے کے لیے کہ یہ سب اور اس طرح کے بے شمار کام انسان کی زندگی کو جنت بنا دیں گے لیکن شیطان نے اپنی فوج ظفر موج کے ذریعے ہر پاک و نیک خیال میں مہلک وسوسوں اور اندیشوں کا زہر بھر کر سب کچھ کو زہریلا بنا دیا۔ (پھر یاد کر لیجیے کہ شیطان کے پاس ان کے علاوہ بھی بہت ہتھیار ہیں) تو یہ تو تھا جنوں کا استدراج جو کہ حقیقت کا عشر عشیر ہے جو محض مثال کے لیے بیان کیا گیا ہے اور اس بات کی گواہی بھی قرآن پاک دیتا ہے ”اے جنو اور انسانو تم نے دنیا میں ایک دوسرے سے بہت کام لیے اب حساب کا وقت ہے“۔ (خیال رہے کہ میں جو بھی قرآنی آیات کے تراجم پیش کر رہا ہوں، ماقبل یا مابعد پیش کروں ان کے الفاظ ہو بہو قرآن کے نہ ہونگے لیکن معنی و مطالب وہی ہونگے تاکہ قرآن کی بات سمجھ آ جائے)۔

    ایمان کیا ہے؟

                                                    لفظ ایمان کی بہت بہت شاندار، تفصیلی، دقیق اور لغوی و معنوی تعریفیں اور تحقیقات ہمارے علما نے اپنے علم اور زور قلم سے بلکہ جذبہئ ایمانی سے اپنے اپنے وقتوں میں کی ہیں، میں کوئی رسمی مذہبی عالم نہیں ہوں نہ لغت کا ماہر ہوں اور نہ عربی دانی

    کا دعویٰ ہے۔ لیکن علم میرا شوق ہے جو کسی نے لکھا اسے پڑھا اور اس میں سے کام کے نکتے الگ کر لیے۔ بس یہ صرف اور صرف اللہ کا فضل و کرم ہے کہ جو بات کی تہہ تک لے جاتا ہے ورنہ میرے اندر کوئی کمال نہیں ہے۔

                                                    جب ہم ایمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہو تا ہے یقینیایقینِ کامل، علما نے اس کے درجے بھی بیان کیے ہیں مثلاً  علم الیقین،حق الیقین اور عین الیقین وغیرہ، بہر حال اصل شے یقین ہے اب آئیے ذرا معلوم کریں کہ یقین کسے کہتے ہیں۔

    (i)               آپ کو دو آدمیوں نے پکڑ لیا وہ آپ کو بپھرے ہوئے دریا میں پھینکنا چاہتے ہیں جبکہ آپ تیرنا بالکل نہیں جانتے،  آپ خود کو چھڑانے اور صورتِ حال سے دور بھاگنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں کہ کاش آپ دریا میں نہ گریں کیوں؟ اس لیے کہ آپ کو یقین ہے کہ دریا میں گروں گا تو ڈوب کر ہلاک ہو جاؤں گا۔

    (ii)    آگ جل رہی ہے کوئی آپ کو ایک لاکھ ڈالر دیتا ہے کہ اس میں بیٹھ جاؤ لیکن آپ کو یقین ہے کہ ایک منٹ بھی اس میں گزرا تو جل کر خاک ہو جاؤں گا آپ بالکل نہیں مانتے کیوں؟ کیونکہ نتائج کا یقین ہے۔

    (iii)                                         آپ کو زہر دیا جاتا ہے کہ کھا لو بہت مزیدار ہے آپ جانتے ہیں کہ یہ مہلک ہے میرے خون میں ملتے ہی مجھے ہلاک کر ڈالے گا آپ انکار کر دیتے ہیں کبھی نہیں کھاتے یہیقین ہے۔ اسی طرح کی لاکھوں مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ آپ یقین کی موجودگی میں وہ کام نہ صرف یہ کہ کرتے نہیں ہیں بلکہ اپنی اولاد اور حلقہئ احباب کو بھی اس سے منع کرتے ہیں۔

    خدا پر یقین:

                                                    اب ذرا سوچیے کہ آج کل مسلمان کیا اور دیگر مذاہب کیا80%سے 90% لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں کم از کم اہل کتاب، یہودی و عیسائی اور مسلمانوں کے تو عقائد بھی اگر تعریف معنوی کی جائے تو ایک جیسے ہیں کہ خدا موجود ہے اس کے احکامات آسمانی کتب میں موجود ہیں۔ ہمیں اس دنیا میں کیسے زندگی گزارنے کے احکامات ملے ہیں۔ خدا کی خوشنودی و رضا کس بات میں ہے، اللہ کس شے میں انسانیت کی فلاح و بہبود کا حکم دیتا ہے اور کس بات سے سختی سے منع کرتا ہے۔ جنت کے مستحق کیسے لوگ ہونے چاہییں اور اہل دوزخ کن صفات کے مالک ہونگے۔ کیا بہت ہی تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات، طاقتیں، ہیبتیں، پکڑ و جکڑ اور رحمت و کرم کو بیان نہیں کیا گیا؟ اللہ تعالیٰ قرآن ِ خالص میں تو یوں کھول کھول کر انسان کی حقیقت اور اپنی بے شمار قدرتوں کو بیان کرتا ہے کہ انسان خوب جان لیتا ہے کہ اگر اس قادرِ مطلق کے حکم پر عمل نہ کیا تو اگلا سانس بھی اگر اللہ کو منظور نہ ہوا تو کیسے آئے گا، آخر وہ ہماری شاہ رگ (رگِ جاں) سے بھی زیادہ قریب ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس اور صد ہزار افسوس کہ ہمیں ایمان کے دعووں کے باوجود، مذہبی عبادات کرنے کے باوجود، داڑھیاں رکھنے کے باوجود اور نمازوں سے پیشانی پر محرابیں سجانے کے باوجود عمل بمطابق حکم ِ ربانی کی توفیق نہیں ہوتی، ایسا کیوںکبھی جھوٹ نہیں بولا ہے؟ کیا ہم نے کسی پر کبھی ظلم نہیں کیا ہے؟ کیا ہم نے کسی پر کبھی چھوٹی بڑی تہمت، الزام یا Blameنہیں لگایا ہے؟ کیا ہم نے ہمیشہ حلال رزق کمایا ہے؟ کیا ہم نے کبھی غیبت نہیں کی ہے، چغلی نہیں کھائی ہے، کسی کی ٹانگ نہیں کھینچی ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی کا مال یا حق نہیں کھایا ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی کو ظالم یا ظلم سے چھڑایا ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی غریب، محروم، دکھی، بیمار، مریض، بیوہ اور یتیم کی مدد کی ہے؟ کیا ہمارے اندر قربانی کا جذبہ ہے؟ کیا ہم لوگوں میں بیٹھ کر بہتر چیز اپنی پلیٹ میں نہیں انڈیللیتے؟ کیا ہم ویگنیا پبلک ٹرانسپورٹ پر بیٹھتے وقت اچھی، ہوادار اور دھوپ بارش سے محفوظ سیٹ تلاش نہیں کرتے؟ کیا ہم انتخاب کے وقت اچھی چیز نہیں چھانٹ لیتے؟ کیا ہم اپنے پیسوں کو تجوریوں میں محفوظ نہیں کرتے؟ مذہب زدہ طبقہ2.50فیصد زکوٰۃ وہ بھی ہیرا پھیری سے دے کر باقی سارے مال کو پاک سمجھ کر سرمایہ دار بننے کی کوشش نہیں کرتا؟ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ اپنی ضرورت سے زائد سب کا سب اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ کیا سرمایہ داری اسلام میں جائز ہے؟ کیا ہم رزق پر دسترس حاصل کرنے کے بعد یا وسائل پر قبضہ کرنے کے بعد انھیں عام لوگوں میں تقسیم ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری ایک فیکٹری، مل، کارخانہ، پٹرول پمپ، فرم، کمپنی، وسیع جائیداد، بینک بیلنسیا سونے چاندی ہیرے جواہرات کے ڈھیر ہیں تو کسی غریب کے پاس دو وقت کی روٹی کیوں نہیں ہے؟ اس کی بیٹی بیماری سے کیوں مر گئی؟ اس غریب کی بیوی کو ٹی بی کیوں ہو گئی؟ فلاں کا بچہ معذور کیوں ہو گیا؟ فلاں کے گھر میں فاقہ ہے؟میرے پڑوسی کا کیا حال ہے؟ فلاں کی بچیاں بن بیاہے کیوں بوڑھی ہو گئیں؟ فلاں کے جنازے میں چند لوگ بھی نہیں اور لاٹ صاحب کے جنازے میں اتنا جمِ غفیر کیوں ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ مزدور کڑی دھوپ میں کام کر کے بھوکا، حسرت زدہ،، محرومیوں کی ہزار داستان اور بیوی بچوں کے سامنے شرمندہ کیوں ہے؟ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ کسان کا جھونپڑا کچا کیوں ہے؟ کیا کبھی سوچا کہ محنت کش، ہنر مند اور چھوٹا پیشہ ور کیوں نسل در نسل حسرت کی تصویر ہے؟ کیا کبھی معلوم کیا کہ جرم کیوں ہوتے ہیں، چوریاں کیوں کی جاتی ہیں، ڈاکے کیوں پڑتے ہیں اور یہ کہ گناہ پہ کیسے مجبور کیا جاتا ہے؟ کیا کسی کو خیال آیا کہ غریبوں کو انصاف کیوں نہیں ملتا ہے، عوام کچہریوں میں دھکے کیوں کھاتے ہیں، پولیس غریبوں کو رگڑے کیوں لگاتی ہے اور یہ کہ غریب کی بیٹی کو غنڈے کیوں سر بازار اٹھا لے جاتے ہیں؟ کمزور کیبیوی پر ہر طاقت ور کی بدنگاہی کیوں ہے؟ بیمار بھائی کی بہن کیوں روزگار کی تلاش میں عزت گنوا بیٹھی؟ کیا سال بھر میں ایک بکرا ذبح کر دینے سے قربانی کے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں؟ کیا اس صورتِ حال میں حج قبول ہو جاتے ہیں؟ کیا روزے داروں کے روزے اس ظلم و بربریت کی دنیا میں رب کے ہاں پہنچ رہے ہیں کہ ادھر تو افطاری پہ انواع و اقسام کے کھانے اور پھل موجود ہیں کیونکہ 2.50فیصد زکوٰۃ دے کر بے غم ہیں اور اُدھر غریب کے دستر خوان پر بھوک بھنگڑے ڈال رہی ہے؟ غریب دال روٹی سے روزہ رکھتا اور اسی سے افطار کرتا ہے اور دن بھر جس سرمایہ دار، مالک یا آقا کے ہاں کام کرتا ہے وہ کئی قسم کے مرغوبات سے روزے کو سحرو افطار میں سیراب کرتا ہوتا ہے؟ کیا ہم نے

    ہے تو کیا خدا راضی ہو گیا؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ محنت کش کا بچہ کیوں تعلیم حاصل نہیں کرتا جبکہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں؟ کیا جو خدا کو مانتے ہیں ان کے ہاں تعلیمی نظام کے اتنے معیار ہو سکتے ہیں جو ہمارے ہاں ہیں؟ کیا ایمان رکھنے والوں کے معاشرے میں اتنی معاشی اور معاشرتی اونچ نیچ ہو سکتی ہے جتنی ہمارے معاشروں میں دیکھنے کو مل رہی ہے؟ کیا غلط سفارش جائز ہے؟ کیا رشوت لییا دی جا سکتی ہے؟ کیا محل اور جھونپڑے اللہ کی اس ایک زمین پر بن سکتے ہیں؟ کیایورپ کا خدا اور ہے؟ امریکہ کا خدا اور ہے؟ تھرڈ ورلڈ اور مشرق وسطیٰ کسی اور خدا کے پیدا کردہ خطہئ زمین ہیں؟ کیا افغانستان، کشمیر، فلسطین، ایتھوپیا، عراق، افریقہ اور دنیا بھر کے دیگر خطہئ ظلم و جبر کے باسیوں کی رگوں میں کوئی اور خدا خون دوڑا رہا ہے ان کے خون کی ندیاں اسی خداکے ماننے والے بہا رہے ہیں؟ اگر لکھتے جاؤ تو ایک خدا کو ماننے والوں کے ایمان کی مثالیں کبھی ختم نہ ہوں حتیٰ کہ ایک خدا اور ایک رسول ﷺ اور ایک کتاب ِ الٰہی کو ماننے والوں کی مثالیں بھی بے شمار ہیں، لیکن قلم کہاں تک لکھے اور دل کہاں تک ان ایمان داروں کے ایمان کو برداشت کرے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش : محمد رفیع صابر

  • گزشتہ سے پیوستہ ، کچھ مزید

    گزشتہ سے پیوستہ ، کچھ مزید

    کچھ مزید:

              یہ بات نہیں ہے کہ اگر بہت بڑی اکثریت اسی ڈگر پر چل رہی ہے اور ظلم زوروں پر ہے تو کوئی بھی اصلاح حال کے لیے کام نہیں کر رہا۔ نہیں بہت سی ایسی تنظیمیں، ادارے،NGOsاقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، ایسوسی ایشنز اور ٹرسٹ وغیرہ ہیں جو مختلف ممالک میں بے شمار کام کر رہے ہیں۔ بیماریوں کے خلاف کوشش جاری ہیں۔ غریبوں، معزوروں، عورتوں اور بچوں کے تحفظ نیز کم ترقی یافتہ ممالک کی ترقی و خوشحالی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں۔ جنگ و جدل کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے تنازعوں کو حل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ موسموں کی بے اعتدالی بوجہ(جدید صنعتی و ایٹمی ترقی) کے دور کرنے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح ارضی حیات اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں۔ مذہبی Negativeانتہا پسندی اور ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف کام ہو رہا ہے (یہ الگ بات کہ کہیں پہ قومی ہیروز دہشت گرد قرار دیئے جاتے ہیں اور کہیں پہ دہشت گرد قومی ہیروز قرار دیئے جاتے ہیں) زلزلوں، سمندری طوفانوں اور خلائی تباہ کاریوں کے سدباب کے لیے کام ہو رہا ہے مختلف طبقات اور اقسام کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ متعدد اقسام کے رفاعی ادارے بے شمار کام کر رہے ہیں غرض درد دل رکھنے والے اور انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ بہت سا اور  بے شمار کام دن رات کر رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سب ادارے مل کر   بھی کام بگاڑنے والوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے قابل لحاظ تعداد میں ایسے نجی، قومی اور بین الاقوامی ادارے اورOrganizationsہیں جو ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ کے مترادف صرف دکھاوے کا کام کر رہے ہیں یا اس کی آڑ میں کچھ اور ہی کر رہے ہیں اور اپنے اپنے قومی، انفرادی یا گروہی مفادات سمیٹنے کے چکر میں ہیں۔ بات آ جا کے پھر وہیں آجاتی ہے کہ ”مشتری ہوشیار باش“۔ جب تک فرد، گروہ، طبقہ، نسل، قوم اور معاشرے کی سطح پر اپنے حقوق کی حفاظت کی اہلیت پیدا نہیں ہو جاتی کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جن افراد و اقوام کو اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کا علم و اہلیت حاصل ہے تاریخ شاہد ہے کہ انھیں کوئی بھی غصب نہیں کر سکا اور نہ ہی صفحہئ ہستی سے مٹا سکا ہے۔ جرمنی و جاپان نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کہ جب ان کے ممالک کے بھی حصے بخرے کر دیئے گئے اور ان پر اتنا بھاری تاوان طویل مدت  کے لیے لاگو کر دیا گیا کہ جو وہ کبھی ادا نہ کر سکتے تھے۔ نیز سیاسی اور دفاعی پابندیاں اس کے علاوہ تھیں تو کیا ہوا؟ جرمن کوئی جاہل قوم نہ تھی، جاپانی نا اہل لوگ نہ تھے۔ زمین نے یہ عجب تماشہ دیکھا اور آسمان بھی یہ دیکھ کر جھوم جھوم گیا کہ ان دونوں اقوام نے محض چند سالوں یا دو تین دہائیوں میں نہ صرف تاوان کے بھاری بوجھ سے خود کو نکال لیا بلکہ اپنے ملکوں کے اندر تعمیر و ترقی اور خوشحالی کو بام عروج پر لے گئے ان ممالک کا جغرافیائی شیرازہ بھی سمٹ کر پھر ایک ہو گیا۔ بڑی طاقتوں کی بندر بانٹ سے نکل کر مغربی اور مشرقی جرمنی پھر ایک ہو گئے۔ جاپانیوں نے صنعت و حرفت میں وہ ترقی کی کہ انھیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ مزید کیا کریں۔ مجموعی قومی پیداوار کے انبار لگ گئے۔ یہی مفتوحہ ممالک فاتح ممالک کو قرض دینے لگے۔ اسی طرح برطانیہ بھی ظاہراً جیتا تھا۔ لیکن اس کی معیشت تباہ ہو گئی تھی اس کے شہر برباد ہو گئے تھے حتیٰ کہ لندن بھی70%تباہ ہو گیا تھا اسے تعمیر و ترقی کے لیے قرض درکار تھا جو اس نے امریکہ سے مانگا لیکن امریکہ نے توہین آمیز شرائط کے تحت اپنے اتحادی کو قرض دینا قبول کیا۔ جسے انگریزوں کی غیرت نے گوارہ نہ کیا اور انہوں نے قرض لینے سے انکار کر دیا۔ پھر کیا تھا محض اپنے زور ِ بازو لیکن صلاحیت سے کام لیتے ہوئے وہ بھی خوشحالی کی طرف جلد لوٹ آیا اور اگر پہلے نمبر پر نہیں تو پہلی پانچ ایٹمی طاقتوں میں شمار کیا جانے لگا۔

              حاصل بحث یہ کہ جہاں ذہانت ہے، صلاحیت اور بقا کے لیے زرخیز دماغ ہیں وہاں نہ صرف یہ کہ حقوق کوئی غصب نہیں کر سکتا بلکہ اگر شومئی قسمت یا کسی غلط فیصلے یا حادثے کی وجہ سے عارضی تباہی بھی پیدا ہو جائے تو صورتِ حال کو بہت جلد سنبھال لیا جاتا ہے۔لیکن جہاں صلاحیت کا فقدان ہے، زرخیز ذہن نہیں ہیں، ذہانت محدود یا مفقود ہے وہاں کیا کیا جائے؟؟؟

      جینز کو کراس (X)ہونے دیں،ہاں وہاں جیز کو کراس کروایا جائے تا کہ ذہانت اور صلاحیت تقسیم در تقسیم ہو کر بڑھے، پھیلے اور پھلے پھولے۔  

     علم پامسٹری سے کیا پتہ چلتا ہے؟

              اتفاق سے مجھے پامسٹری کا بھی شغف رہا ہے اور میں نے نہ صرف اس پر کتابیں پڑھی ہیں بلکہ لوگوں کے ہاتھ بھی دیکھے ہیں خصوصاً چونکہ میرا تعلق شعبہئ تعلیم کے سکول سیکشن سے ہے اور وہاں ہر سال سینکڑوں طلبہ سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے فارغ اوقات میں طلبہ کے ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے کا اتفاق بھی ہوتا رہا ہے۔ یقین جانیے آپ یہ سن کر حیران ہونگے کہ مقدر بھی انسان وراثت میں لیتا ہے یعنی جینز میں جب صلاحیتیں ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتی ہیں تو یہ نسل در نسل چلتی ہیں۔چونکہ غریب طبقات کی شادیاں باہم اپنے ہم پلہ گھرانوں ہی میں یا اپنے ہی خاندان میں ہوتی ہیں اس لیے ان کے مقدر بھی ہو بہو اپنے آباؤ اجداد ہی کی طرح کے ہوتے ہیں (ایک دفعہ پھر یاد رہے کہ مستشنیات ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن حکم اکثریت پر لگتا ہے) میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے کہ غریب گھرانوں کے بچے اپنے ہاتھوں پہ وہی سادہ سی لکیریں رکھتے تھے یا تو قسمت کی لکیرLuck Lineسرے سے ہوتی ہی نہ تھی یا ٹوٹی پھوٹی محدود سی لائن دیکھنے کو ملتی تھی۔ یہی حال ان کی دماغی لکیروں کا ہوتا تھا۔ اکثر غریب بچوں کی دماغی لکیر چھوٹی اور ناقص دماغی صلاحیت کو ظاہر کرتی تھی۔ شہرت کی لائن کا تو خیر وہاں ذکر ہی کیا۔ دل کی لکیر بہت جلد ان کے بہک جانے کو ظاہر کرتی تھی (یعنی وہ جذبانی طور پر فضولیات کی طرف اپنی کم عمریTeenageہی میں مائل ہو جاتے تھے)۔ خیر یہ وصف تو امرا کے بچوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ نیز ان غریب طبقے اورمحروم معاشرتی گروہ کے بچوں کے ہاتھ ابتدائی ہاتھ ہوتے تھے۔ سخت، بھدے، مضبوط، انگوٹھے چھوٹے مگر مضبوط جو صاف اس طرف اشارہ کرتے تھے کہ یہ لوگ گو کہ ذہانت اور ذہنی صلاحیتوں سے تہی دامن ہیں لیکن ہاتھ سے کام کرنے، مزدوری کرنے اور مختلف پیشوں کی ہنر مندیاں سیکھ کر معاشرے کا حصہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہاتھ دیکھتے دیکھتے جب کوئی اچھا ہاتھ نظر سے گزرتا جس کی بناوٹ اچھی ہوتی اور جس کی قسمت کی لکیر اس کے Statusکو ظاہر کر رہی ہوتی تو دوران انٹرویو معلوم ہوتا کہ وہ کسی قدر امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا باپ اچھا معاشرتی Statusرکھتا ہے اور یہ کہ وہ اچھے نامور خاندان کا فرد ہے۔

    نوٹ

              اب غور کیجیے کہ ایسا کیوں ہے؟ ظاہر ہے جو امیر خاندا ن سے ہے پڑھے لکھے گھرانے سے ہے اس کے باپ دادا نے بہتر جینز اسے ورثے میں دیے ہیں انہوں نے اپنی اولاد کو Establishکرنے کے لیے نہ صرف پڑھانا لکھانا ہے بلکہ انھیں اچھے بزنس میں بھی لگانا ہے یا اچھی پوسٹ پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پہنچا دینا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ اپنے طبقے میں عملاً شامل ہو جائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی اس لیے چلتا رہے گا کیونکہ کل وہ شادی بھی کسی Well Established اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان میں کرے گا۔ جس سے اس کی آنے والی نسل بھی ایسی ہی آنے کی امید ہے گو کہ شاہ سے گدا اور گدا سے شاہ بھی رب ِ کائنات بناتا رہتا ہے۔ لیکن یہ مستشنیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ صحیح سمت میں سفر اور محنت و کوشش  کا صلہ دیتا ہے اگر کوئی غریب محنت و کوشش کرے اور ہار نہ مانے تو اسے بھی ربِ عظیم ضرور کامیاب کرتا ہے لیکن ایسے لوگ بہت کم ہو تے ہیں۔ کیونکہ ماحول، وسائل اور حالات بھی بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

              آپ نے دیکھا ہو گا کہ کیوں امیر گھرانے امیر گھرانوں ہی میں شادیاں کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ تعلیم یافتہ اور خوشحال خاندانوں ہی میں شادیاں کرتے ہیں۔ سرمایہ دار اپنے سرمائے کو بڑھانے کے لیے سرمایہ داروں ہی میں شادیاں کرتے ہیں اور بادشاہ، بادشاہوں ہی میں رشتے کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے طبقے سے نیچے نہیں جانا چاہتے گو کہ یہ لوگ کوئی سائنسی اور جینیاتی نقطہئ نظر سے تو نہیں سوچتے لیکن Status کے نقطہئ نظر سے سوچ کر جب وہ ایسا کرتے یں تو نتائج جینز کے ایک طبقے تک محدود رہنے ہی کو ظاہر کرتے ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اپنے سے بہتر Statusکی طرف جانے کی کوشش میں یہ لوگ بسا اوقات اپنے سے بہتر جینز میں داخل ہو جاتے ہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔ لیکن Low Statusاور بے صلاحیت، غبی اور کم ذہانت والے طبقات یوں ہی محروم رہتے ہیں اور ان کے بچوں کا مقدر کبھی نہیں بدلتا۔ چونکہ اس طبقے سے بھی معدودے چند لوگ ترقی کر جاتے ہیں اس لیے یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی کے راستے کھلے ہیں لیکن وہ اپنی کوتاہی کی وجہ سے ترقی نہیں کر سکتے اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جب ان میں ذہانت ہی نہیں تو وہ اتنا بڑا فلسفیانہ یا دانش ورانہ و مدبرانہ تجزیہ کر کے آگے بڑھنے کی کیا کوشش کر سکتے ہیں۔

    ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے!ایک آدم و حوّا میں صلاحیتوں کا تفاوت کہاں سے پیدا ہو گیا؟؟

              آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم سب ایک ہی جوڑے آدم (باپ) اور حوا (ماں) کی اولاد ہیں تو پھر یہ صلاحیتوں اور ذہانتوں کا تفاوت کہاں سے پیدا ہو گیا۔           بات کچھ یوں ہے کہ ٹھیک ہے شروع میں ایسا ہی تھا اور ابتدائی انسانوں کی صلاحیتیں اور ذہانتیں بہت ملتی جلتی تھیں۔ اسی لیے اس دور میں شاید امن بھی تھا۔ لیکن جوں جوں آبادیاں بڑھتی گئیں انسانی نسل پھیلتی گئی۔ ہر انسان نے اپنی اپنی محنت و کوشش جاری رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں خام حالت میں صلاحیتیں اور ذہانتیں Feedکر دی تھیں جو اب بھی ہیں کسی میں فعال اور کسی میں خوابیدہ۔ تو جس جس انسان نے دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ اپنی ذہانتوں کو جتنا جتنا اور جس جس شعبہئ زندگی میں استعمال کیا وہ خام حالت سے اسی نسبت سے فعال ہو گئیں۔ جنہیں یہ اپنی اگلی نسل میں غیر شعوری طور پر منتقل کرتے رہے۔ یہ ایک دن کی بات نہیں صدیوں ہزاروں سال سے یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے یوں ہی ہوتا رہا ہے۔ پھر قطرہ قطرہ کر کے صلاحیت اور ذہانت خوابیدہ حالت سے فعال حالت میں آکر جینز میں محفوظ ہو کر آگے نسل در نسل بڑھتی گئی، کرتے کرتے صلاحیتوں اور ذہانتوں میں نکھار پیدا ہو تا چلا گیا کہ صورتِ حال آج کے دور تک پہنچ گئی۔ اب کچھ نسلیں اور قومیں دوسری قوموں سے محض اس لیے زیادہ ذہین ہیں کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ مکس (کراس) نہیں ہوئیں یہ ٹھیک ہے کہ ان کے آباؤ اجدا نے  زیادہ محنت و کاوش کی ہو گی جو بہتر جینز آگے منتقل ہو ئے۔ لیکن میرے خیال میں ہر انسانی صلاحیت اور ذہانت کی نمو تمام نوع انسانی کی ملکیت ہے کیوں کہ ہم اصل میں ایک نوع ہیں۔ ایک ہیں۔ ایک جسم ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس نظریہ کو عام کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش : محمد رفیع صابر

  • کامل ترین ولی کا ظہور(جو عظیم روحانی طاقتیں رکھتا ہو)

    کامل ترین ولی کا ظہور(جو عظیم روحانی طاقتیں رکھتا ہو)

    ہم خواہش ہی کر سکتے ہیں اور دعائیں اور التجائیں رب ِ کائنات کے حضور کہ وہ ہمارے گناہ، ہماری کج عملیاں،گستاخیاں اور ناقابل ِ معافی بغاوتوں کو محض اپنے عفوّ و درگزر اور شان رحیمی و کریمی اور بے پناہ محبت کی صفاتِ بے حدوکنار کے طفیل معاف کرتے ہوئے اور ہم سب نبی نوع انسانی پر رحم کھاتے ہوئے ایک ایسے کامل ترین ولی اللہ کو اسی دور یا مستقبل قریب میں پیدا فرمائے کہ جس پر اس ذات پاک و اعلیٰ صفات کا بے حد کرم ہو جسے ربِ عظیم اپنے پاس سے علم خالص عطا کرے، براہِ راست اس کی رہنمائی فرمائے جو عین اس کی منشائے ایزدی کے مطابق حق کو باطل سے جدا کر کے ہمیشہ کے لیے مٹا دے۔ اس کے پاسGreat Powersہوں، جو بڑی بڑی، ناممکن کرامات رب کے حکم سے دکھا سکے، جو اپنی روحانی طاقتوں سے دریاؤں کے رخ موڑ سکتا ہو، جدید ترین اسلحہ جات کی ہیتِ ترکیبی اور ہیتِ کیمیائی تبدیل کر سکتا ہو، جو ایٹمی میزائل جام اور ناکارہ کر سکتا ہو، جسے خدا عناصر پر اختیار محدو دے دے، جسے ہواؤں اور فضاؤں پر دسترس دے دے، جو      خلاؤں کو عبور کر جائے اور جو ایک ایسا روحانی سائنس دان ہو کہ کسی کو جرأت نہ ہواس کا سامنا کرنے کی (سوائے شیطان کے کیونکہ اسے خدا نے قیامت تک مہلت دے رکھی ہے) تو تب ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سب بنی نوع انسان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائے سوائے شیطانوں کے کیونکہ روحانی دنیا میں بھی شیطانوں کو محدود دسترس حاصل ہے۔ لیکن یوں کم از کم حز ب ُ اللہ اور حزبُ الشیطان دو گروہوں کی شکل میں تو سامنے آ جائیں گے۔ پھر ان کے درمیان جو بھی جنگ و جدل اور کش مکش ہو وہ بلا ٓخر حق کی فتح پر منتج ہو گی۔ کیوں کہ اللہ کافرمان ہے کہ حق جب آ جاتا ہے باطل فنا ہو جاتا ہے۔ نیز یہ کہ شیطانوں کو محدود کر دیا گیا ہے اب ان کی دسترس ان آسمانوں (یعنی ان وسائل یا Powersتک) نہیں ہو سکتی جن تک عاشقانِ حق پہنچ سکتے ہیں تو اس طرح سے بھی دنیا اپنے انجام ِ بد سے بچ سکتی ہے۔ بہر حال یہ تو محض میری دعائیں اور التجائیں ہیں۔ ربِ کائنات قادر ِ مطلق اور حکیم لا شریک ہے وہ اپنے کاموں کی حکمتوں کو خود بہتر جانتا ہے ہمارے ذہن محدود، ہماری عقلیں خام، ہماری طاقتیں برائے نام اور ہماری تجاویز بے شک بچگانہ ہیں۔ لیکن دعا کا حق خدا نے ہمیں دیا ہے کوشش ِ،حق کی تلاش اور جستجو سے عشق ہمیں ودیعت کیا گیا ہے اسی متاع بے بہا کے سہارے ہم بڑھتے جائیں گے۔کراس شادیاں ایک خاندان کی دوسرے خاندان کے ساتھ، ایک قوم کی دوسری اقوام کے ساتھ، ایک صلاحیت کیدوسری صلاحیت کے ساتھ۔ کراس در کراس در کراس حتیٰ کی انسانی صلاحیتیں مکمل طور پر تقسیم ہو جائیں

              میں اکثر سوچتا ہوں کہ دنیا میں یہ جو صلاحیتوں کا عدم توازن ہے۔بے شک اس عدم توازن اور تنوع ہی کی وجہ سے دنیا میں بے شمار قسم کے پیشے ہیں، کاروبار ہیں، ہنر مندیاں ہیں، ذہنی رجحانات ہیں، رنگارنگی ہے اور بے شمار قسم کی ترجیحات ہیں، جن کی وجہ سے مزدور سے لے کر بادشاہ تک لوگ اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں اور یہ کاروانِ حیات ایک دوسرے کے باہمی تعاون اور Give and Take سے چلتا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان اور سہل نہیں ہے۔ اس بے پناہ خوبصورتی کی تہوں میں بے شمار بدصورتیاں اور کرب، دکھ، درد، حسرتیں، آرزوئیں، سسکیاں، ظلم و ستم، محرومیاں، جگر پاش داستانیں، بوجھل سانسیں، خود کشیاں، حقوق غصبیاں، چشم پوشیاں، بے انصافیاں، بے مہاریاں اور انسانیت کی دبی چیخیں ہمارا منہ چڑا رہی ہیں۔ مزدور ہمیں پوچھتا ہے کہ میرا قصور کیا ہے کہ میں کام سب سے زیادہ سخت اور مشقت کا کرتا ہوں لیکن مجھے مشاہرہ اور سہولیات سب سے کم ملتے ہیں۔میرے بچے محرومیوں اور حسرتوں کی تصویر ہیں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں، سوکھی روٹی میرا نصیب ہے، بیماریاں میرا مقدر ہیں، عزت سے میں نا آشنا ہوں اور مستقبل میرا سوائے اندھیرے کے اور کچھ نہیں (یاد رہے کہ تمام جسمانی محنت مشقت کے کام اور چھوٹے چھوٹے کاروبار اور پیشے اسی مد میں آتے ہیں) کم ذہین لوگ پڑھ لکھ      کر بڑے افسر نہیں بن سکتے، سادہ ذہن کے لوگ مکاریاں نہیں کر سکتے، ملازمت پیشہ لوگ کاروباری ہیرا پھیری اور مہارت سے نوٹ نہیں چھاپ سکتے۔ غریبوں میں اگر کوئی اتفاق سے ذہین بچہ پیدا ہو جائے تو یا تو والدین اسے پڑھاتے نہیں اور بوجہ وسائل کی عدم دستیابی اس کی صلاحیت خاک میں مل جاتی ہے اور اگر کوئی غریب اپنا لہو کوڑیوں کے مول بیچ بیچ کر اپنے ذہین بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کامیاب ہو ہی جائے تو وسائل پر قابض مختلف  بے حد مضبوط گروہ اسے اپنے طبقے میں شامل نہیں ہونے دیتے۔ اس کے پاس نہ تو سفارش ہوتی ہے نہ رشوت لہٰذا وہ بلا ٓخر ایک پڑھا لکھا مزدور بن کر نفسیاتی مریض بن جاتا ہے اور اگر دیگر معاشرے کے سخت بے انصافی کا شکار اور باصلاحیت لوگوں کے ایک خاص گروہ کی طرح سوچے تو جرائم کی دنیا میں داخل ہو کر معاشرے سے اپنا حق زبردستی چھیننے کی خواہش میں یا تو جیلوں کی رونق بڑھاتا ہے یا گولی کی خوراک بن جاتا ہے۔

              دوسری طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اشخاص اگرچہ سفید پوشی کے ساتھ زندگی تو گزار لیتے ہیں لیکن ان کی قابلیت سے در حقیقت فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ اعلیٰ مہارتوں کے مالک کاریگروں کے ہنر کو کیش کون کرتا ہے؟ اساتذہ اور دانشوروں کی خدمات اور دانش کو خریدتا کون ہے؟ حسن بکتا ہے تو دام کون لگاتا ہے؟ ڈاکٹر، انجینئر، فنکار، ملازم کس کے ہیں؟ صرف اور صرف سرمایہ دارکے ہیں، چھوٹی سطح سے لے کر نہایت اعلیٰ سطح کی مہارتیں، فنکاریاں، ہنر مندیاں اور پیشہ ورانہ خدمات کو سرمایہ دار نہایت آسانی سے خرید کر انھیں اپنی آمدن کا عشر عشیر دیتا اور باقی سب خود ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس کا سرمایہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے یہ جمع اور ضرب ہوتے ہوتے اربوں کھربوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ بیوروکریسی پر سرمایہ دار کا قبضہ، پریس، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، یعنی تمام پبلک و سرکاری میڈیا پر اس کا قبضہ عدلیہ پر اس کا قبضہ (کیونکہ وکیل اور جج دونوں بک جاتے ہیں) انتظامیہ پر اس کا قبضہ کیونکہ یا تو وہاں سارے اس کے رشتہ دار ہیں، تعلق دار ہیں یا پھر سرمایہ کے غلام اور حاجت مند ہیں اور اسی طرح سے پارلیمنٹ پر اس کا قبضہ، کیونکہ الیکشن تو کھیل ہی خالص بڑے بڑے سرمایہ داروں اور مگر مچھوں کا ہے۔ حتیٰ کہ عزت بھی برائے فروخت ہے، حُسن بھی برائے فروخت ہے، اللہ معاف فرمائے90%علمائےِ دین بھی برائے فروخت ہیں (چاہے مذہب کوئی بھی ہو مرضی کے فتوے اور مذہبی سپورٹ برائے فروخت ہے) چونکہ تمام وسائلِ حیات پر، باعزت مراکز پر، اہم پوسٹوں پر بلکہ خاندان کے بنیادی یونٹ سے سیاست کے ایوانوں اور بادشاہوں کے محلوں تک ہر جگہ سرمایہ دار کا قبضہ ہے اس لیے ہر کوئی سرمایہ دار کے ہاتھ میں ناچنے والی پتلی ہے جو پتلی سرمائے کے دھاگے سے ہلنے کی بجائے اپنی مرضی سے ہلنا اور کام کرنا چاہے اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے کیونکہ جرائم کے بے تاج بادشاہ بھی تو آخر سرمایہ دار کے ہی تنخواہ دار ہیں سرمایہ دار ہی ان کے بھی باس ہیں۔

    مذہب کی انسانیت کو سدھارنے کی کوشش

              اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے ابتدائی تہذیبی ادوار ہی سے اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے اپنے برگزیدہ پیغمبر   علیہ السلام مبعوث فرمائے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں انسانوں کو خیر اور شر کے محاسن و نقصانات سے آگاہ کیا، سزا و جزا کے الٰہی فیصلے اور حسابِ آخرت سے ڈرایا۔ توحید و تقویٰ کے شاندار اور اعلیٰ مدارج اور مقامات سے آگاہ کیا۔ قربِ خداوندی کی لذّتِ بے مثل سے روشناس کروایا اور دوزخ کی اندوھناکیوں سے آگاہ کیا۔ نیز اِس دنیا اور اُس دنیا دونوں میں جنت و دوزخ کے معیارات اور طریقے و سلیقے سمجھائے۔ یہی وجہ سے کہ یہ دنیا اب تک مکمل تباہی سے بچی ہوئی ہے۔ جہاں شر اتنا بے مُہار ہے اور سر چڑھ کر بول رہا ہے وہاں خیر کے پیروکاراور ان کے مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے شیطان اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہے خیر کو شکست پہ شکست دی جا رہی ہے (کیونکہ اللہ نے تو خیر و شر دونوں کے راستے انسان کے سامنے رکھ دیئے ہیں اور شریروں سے دوزخ کو بھرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جبکہ اپنے بندوں کے لیے جنت کو آراستہ کر کے اختیار انسان کے حوالے کر دیا ہے چاہے تو ڈوبو چاہے تو منزل ِ مراد پر پہنچو)۔اب اگر اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر اپنے کسی ولی کامل کو بھیجنے پر راضی نہیں ہو تا کہ جو ہمیں کان سے پکڑ کر سیدھا کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں ہمارے مندرجہ بالا اختیار اور سابقہ تعلیماتِ آسمانی ہی میں آزمانا چاہتا ہے کہ ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں یا نہیں۔

              ظاہر ہے کہ انسان کو خود اس صورت حال کے کئی حلوں (Solutions)پر غور کرنا پڑے گا۔ جس میں کافی غور وخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چونکہ صلاحیتوں کے عدم توازن کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ اس لیے انسانی صلاحیتوں کو سب لوگوں میں کافی حد تک تقسیم ہو جانا چاہیے۔

    جینز اور پامسٹری

    (کیا جینز کو کراس ہونا چاہیے)

              جینز یا جینیٹک انجینئرنگ کے علم پر مجھے گو کہ نہ تو مکمل عبور حاصل ہے اور نہ میں سائنس دان ہوں لیکن ایک عام  فرد کی حیثیت سے اس پر جو کچھ پڑھنے سننے کا موقع ملا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ انسانی تاریخ جاننے  کے لیے اس کی صلاحیتیں معلوم کرنے کے لیے، اس کو درپیش بیماریاں دور کرنے کے لیے اور جدید ذہین ترین انسان پیدا کرنے کے لیے آج کل دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں جینیٹک انجینئرنگ کے لیے باقاعدہ ریسرچ سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں اس کی تعلیم پہ یونیورسٹیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں وہاں اس شعبے میں جدید ترین اور تیز ترین تحقیقاتی عمل بھی جاری ہے۔

              سائنس دانوں کے نظریات ِ ثابتہ کے مطابق جب کوئی نیا انسان پیدا ہوتا ہے بلکہ حمل قرار پانے ہی سے اس کے اندر اپنے آباؤ اجداد کے جینز محفوظ ہو جاتے ہیں، کچھ جینز ایکٹیو یٹ ہوتے چلے جاتے ہیں اور بقیہ بے شمار جینز غیر فعال شکل میں اس انسان کے اندر موجود رہتے ہیں جو اگلی نسلوں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ماں اور باپ کی نسلوں سے آنے والے جینز میں تاحیات کشمکش کا عمل جاری رہتا ہے جو جینز غالب آتے رہتے ہیں وہ اپنی صلاحیتیں فردِ متعلقہ میں ظاہر بھی کرتے   رہتے ہیں تاہم چونکہ ان کی کشمکش تاحیات جاری رہتی ہے اس لیے ان کا غالب و مغلوب ہونے کا عمل بھی تاحیات جاری رہتا ہے یعنی جو صلاحیت کسی فرد میں اتنی فعال نہ رہے بلکہ کوئی دیگر صلاحیت یا صلاحیتیں اس کی جگہ زیادہ فعال ہو جائیں اور اس کے کردار میں تبدیلی پیدا کر دیں۔ یہ عمل جہاں پر حیاتیاتی (بائیولاجیکل)طریق سے جاری و ساری رہتا ہے وہاں فرد کی کوششیں و کاوشیں بھی کسی صلاحیت کو نکھارنے،سنوارنے اور بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل یہ ہی انسانی صلاحیتوں کی تاریخ ہے جو جینز میں رقم ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عظیم و حکیم نے انسان میں متعدد، متنوع،بے شمار(Countless)،بے حد حیران کن، لمحہ بہ لمحہ بدلتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی، پست و بلند بلکہ بے حد بلند اور انتہائی کرشماتی بلکہ میں کہوں کہ موجودہ عقل و دانش سے بے حد ماوراء صلاحیتوں کو انہی جینز میں روز اول سے خام حالت میں اکٹھاFeedکر دیا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اور انسانی محنت و کوشش اور عرق ریزی سے نیز Practiceسے وجود میں آتی، بڑھتی اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی عروج یا زوال کی طرف رواں دواں رہتی ہیں۔

              تاہم! جدید تحقیق کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان نے اپنے ذہن کا ابھی صرف10سے 30فیصد حصہ استعمال کیا ہے اور اس عجیب و غریب دماغی مشینری کا70سے 90فیصد حصہ ابھی غیر فعال ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان دماغی آثار کا کیا کام ہے۔ نیز جن دماغی حصوں کو ہم جان پائے ہیں کہ وہ کیا کیا کام کرتے ہیں ہم قطعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صرف یہی کام کرتے ہیں یا اس کے علاوہ بھی متعدد کام ان کے ذمہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندرنئے نئے کمالات ظہور پذیر ہو رہے ہیں۔ عام ذہنی صلاحیتوں کی بڑھوتری کے نتیجے میں ذہانت جو کارنامے اور ایجادات کر رہی ہے اس کے علاوہ عجیب و غریب فنون اور علوم پیدا ہو رہے ہیں، مثلاً ہندو یوگیوں کا سانس بند کر کے کئی دنوں تک قبر میں اتر جانا اور پھر دل کا دھڑکنا دوبارہ شروع ہو جانا (یقینا دماغ تب تک زندہ رہتا ہو گا)۔ اسی طرح سانس کی بیماریوں کا علاج وغیرہ۔ اسی طرح خیال کی طاقت سے نئی نئی گل کاریاں، ہیپناٹزم، ٹیلی پیٹھی، مسمریزم، سحر، جادو (خالص روحانی علوم اس کے علاوہ ہیں)۔ اسی طرح جسمانی و روحانی یعنی سانس کی مشقوں سے جوڈو کراٹے کا فن جو اپنی تہہ میں بڑی محیّر العقول حقیقتیں رکھتا ہے یا ارتقازِتوجہ سے دیگر ذہنی فنون مگر حیرت ناک، نگاہ کی طاقت سے شے کو پاش پاش کر دینا یا ایسا یقین پیدا کر لینا کہ نا موجود آموجود ہو، ناممکن بالآخر ممکن ہو جائے وغیرہ یہ سب و ہ علوم و فنون ہیں جو ہمارے جینز کے اندر Feedہیں بلکہ ان سے لاکھوں گناہ زیادہ، مختلف اور متنوع قسم کی حیرت میں غرق کر دینے والی صلاحیتیں خدا نے انہی جینز کے ذریعے ہمیں ودیعت کی ہیں۔ (یاد رہے مذہب اور نور حق اس کے علاوہ ایک شے ہے اور اللہ کی ذات تو ہے ہی سب سے الگ، بے مثل، ممتاز اور وحدہٗ لاشریک

    میں کہنا کیا چاہتا ہوں

    (کچھ چالوں اور جالوں کا ذکرعام افراد اور اقوام پر ظلم و بربریت سے متعلق) 

    دراصل اس ساری تمہید اور بنیاد مہیا کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ جب صلاحیتوں کا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے تو یقینا بہتر صلاحیتوں کے مالک افراد بازی لے جاتے ہیں اور دوسرے مغلوب ہو جاتے ہیں، غالب لوگ درجہ بہ درجہ اور نسل در نسل ان پر حکومت کرتے ہیں۔ ان کا حق غصب کرتے ہیں، ان پر ظلم کر تے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے (آخر جانور بھی تو اسی ذہنی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ہمارے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں جنہیں ہم صرف چارہ دیتے ہیں اور ان کے مالک بن جاتے ہیں حتیٰ کہ انھیں مارتے پیٹتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں)۔ یہی معاملہ زیادہ ذہین اقوام کم ذہین اقوام یا جدید تعلیم سے آراستہ اقوام کم تعلیم یافتہ اقوام سے روا رکھتی ہیں۔ کم ذہانت والے معاشروں میں جو جوہر قابل گنے چنے افراد کا ہوتا ہے (کیونکہ مستشنیات تو ہر جگہ ہوتی ہیں) وہ خود بھی اپنے عوام کو غلام بنا کر وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے اور بیرونی ذہین اقوام چونکہ طاقتور ہوتی ہیں اس لیے یہ غریبوں اور کم ذہین اقوام کے جوہر قابل پر مبنی افراد کی اشرافیہ اُن طاقتور آقاؤں کی پروردہ غلام بن جاتی ہے جیسا کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک، ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک یا تھرڈ ورلڈ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ تیسری دنیا (Third World) سے متعلق  دو یا تین فیصد آبادی پر مبنی طبقہ اپنی تمام قومی پیداوار اور ملکی وسائل پر قابض ہو جاتا ہے یہ اپنے اپنے ممالک میں طاقت ور، ترقی یافتہ اور ذہین اقوام کے مفادات کا محافظ ہوتا ہے ان کے اور اُن آقاؤں کے درمیان میں غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے عوام کا استحصال کریں، ان کا خون چوسیں، جتنی مرضی دولت اکٹھی کریں اور عیاشی کریں لیکن فاضل سرمایہ کسی نہ کسی شکل اور بہانے سے ترقی یافتہ اقوام میں منتقل ہوتا رہے جس سے وہ اور بھی خوشحال اور ناقابل تسخیر ہو جائیں۔ اس اشرافیہ کے اپنے بھی بینک اکاؤنٹس اور اثاثے چونکہ بیرون ملک حفاظت کی غٖرض سے منتقل کر دیے جاتے ہیں اس لیے عملاً 90% سرمایہ اور وسائل وہ قومیں لے جاتی ہیں اور مقامی لوگوں کے پاس رہ جاتی ہے، بھوک، افلاس، محرومیاں، بیماریاں، آنسو اور آہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ کسی نجا ت دہندہ کی تلاش میں رہتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں لیکن ہوتا یہ ہے ہر آنے والا جس پر یہ بیچارے امید کرتے ہیں کہ ہمارانجات دہندہ ہے۔ اپنی فطرت کے مطابق انھیں دھوکا دے جاتا ہے اور اسی اشرافیہ میں شامل ہو کر اپنی اگلی کئی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے چکر میں لگا رہتا ہے۔ کیونکہ ان کی فطرت ہے کہ اگر کوئی Checkاوپر موجود نہ ہو تو وہ شتر بے مہار بن کر اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے اور اپنی ہوس کو بروئے کار لاتا ہے۔ یہ کم ذہین نسل در نسل غبی اور غریب، مفلوک الحال لوگ بھلا ان پر کیا Checkرکھیں گے کہ معاملات Balanceیا متوازن رہیں۔ لہٰذا وہ ظلم کی چکی میں نسل در نسل پستے رہتے ہیں۔ ذہین طبقہ اور سرمایہ پر قابض عناصر ان کی روحانی تسلی اور تشفی کے لیے مذہبی ٹھیکیداروں، لالچی علماء، مولویوں، پادریوں، گروؤں، پنڈتوں اور دیگر دینی پیشواؤں کو خرید لیتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق نہایت ہوشیاری، چالاقی، مکاری، ذہانت اور تحریفِ مجرمانہ بشکل اجتہاد و تشریحِ ادیان، اصل دین کی شکل بگاڑ دیتے ہیں اور عوام کو یہ درس دیتے ہیں کہ یہ دنیا تو دنیاداروں کے لیے ہے، کتوں کے لیے، اسے خداپسند نہیں کرتا بلکہ انھیں چاہیے کہ اس کی دوڑ     میں شریک نہ ہوں اور رضائے خداوندی کے لیے غربت میں زندگی گزاریں اور آخرت میں شاندار گھر جنت میں بنائیں۔ اللہ اللہ اور خیر سلا۔ نیز یہ کہ ہر اچھے مذہبی فرد کے لیے ضروری ہے کہ اپنی گورنمنٹ اور سربراہ مملکت کا وفادار رہے۔ کیونکہ اسے خدا نے مقرر کیا ہے اور جس طرح کوئی چیز حکم خداوندی کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح اگر خدا نہ چاہتا تو ہمارے یہ آقا ہمارے اوپر مقرر نہ کرتا۔ علاوہ ازیں ہر ہر معاملہ میں حکومت کو سہولتیں پہنچانا اور اشرافیہ کے عیش و آرام میں عوام کوخلل انداز نہ ہونے دینا ان مذہبی پیشواؤں کا فرض اولین ہوتا ہے۔ اس کے عوض انھیں اشرافیہ کی طرف سے حسب استطاعت وسائل، زر، مفادات، نوکریاں اور رعایتیں دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذہبی ٹھیکیداروں میں بھی درجے ہیں۔ غریب، متوسط اور امیر بلکہ اشرافیہ کے درجے کو پہنچے ہوئے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جو بڑے بڑے مذہبی گروہوں کے سربراہ اور لیڈران کہلاتے ہیں۔ (یا درہے کہ حکم ہمیشہ اکثریت پرہے ورنہ انہی علما میں اصل متقی، عبادت گزار اور عوام کو حق سے آگاہ کرنے والے خدا خوفی رکھنے والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں لیکن طاقت کے مراکز انھیں اوپر نہیں آنے دیتے اور اگر یہ عملی کوشش کریں تو پھر یہ باغی کہلاتے ہیں اور زیر عتاب رہتے ہیں۔) اسی طرح سے عوام بغاوت بھی نہیں کر سکتے اور ظلم کا کھیل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اگر حسن اتفاق سے کوئی اصل ہیرو پیدا ہو جائے تو اسے راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کروا دینا، پھانسی چڑھا دینا یا طاقت کے زور سے اس پاور گروپ یا ملک پر چڑھ دوڑنا کیا مشکل ہے۔ آج کل یہ مناظر بھی آسمان بڑی خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش: محمد رفیع صابر

  • اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ بازی

    اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ بازی

    اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں فرقہ بازی اور تفرقہ پسندی سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ صرف دو طرح کے انسان ہو سکتے ہیں ایک تو وہ جو اللہ کے احکام کو دل سے مانتے اور عملی زندگی پر ہر صورت لاگو کرتے ہیں انھیں حزب ُ اللہ کہا جائے گا اور ان کا دین اسلام ہو گا کیونکہ شروع سے ایک ہی دین چلا آرہا ہے اور وہ ہے ’اسلام‘ اس کے مختلف زبانوں اور زمانوں میں نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن معنی و مفہوم اللہ کے پیغام کو ماننا اور اس پر دل و جان سے عمل کرنا ہے۔ دوسری جماعت حز بُ الشیطان ہے جو اللہ کے پیغام کو نہیں مانتے، چاہے اس نہ ماننے کی کوئی بھی شکل ہو، اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں۔ اہل اسلام (جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں بشرطیکہ مذہب اپنی اصلی حالت پر ہو) دنیا کی تسخیر کرنے کے لیے اور اسے جنت بنانے کے لیے ہیں اور اللہ کو سجدہ کرتے، اس کی عبادت قولی اور فعلی کرنے والے ہیں۔ دوسرے حزب ُ الشیطان دنیا میں تخریب پیدا کرنے والے، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے اور اپنے مالک کے قطعی باغی ہیں۔ان دو گروہوں کے درمیان کوئی تیسرا فرقہ یا گروہ سرے سے ہے ہی نہیں (یہ الگ بات کہ ایمان اور کفر کے کئی درجات ہیں جو ہماری جاریہ بحث سے خارج ہیں)۔

    Haqeeqat ki Talash
    حقیقت کی تلاش میاں فاروق عنایت اٹک

    غور کیجئے اور سوچیے

              کہ جب حقیقت یہ ہے تو پھر یہ درجنوں مذاہب اور ہر مذہب کے متعدد فرقے کہاں سے وجود میں آگئے؟ ہوا یہ ہے کہ جو بھی مذہب اپنے زمانہ کے لوگوں کے لیے کوئی رسولؑ خدا لے کر آیا وہ برگزیدہ ہستی اپنی تعلیمات تفویض کر کے اور ایک قابل لحاظ گروہ کو ’مسلم‘ بنا کر چلی گئی لیکن اس کے پیرو کاروں نے اس کے بعد آنے والی ہستی یعنی اگلے نبی ؑ کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب ایک نبی ؑ کی تعلیمات سے لوگ برگشتہ ہو جاتے اور اسے گزرے ہوئے ایک مخصوص وقت گزر جاتا تو (گو کہ ایک ہی زمانہ میں مختلف علاقوں میں مختلف انبیا  ؑکے مبعوث ہونے کو بھی تاریخ ثابت کرتی ہے اور قرآن اس کی تائید کرتا ہے تاہم عام کلیہ کے تحت) کوئی دوسرا نبی ؑ اصلاح کار کے لیے رب تعالیٰ مبعوث فرما دیتے۔ کیونکہ دوسرے نبی ؑ اور پہلے نبیؑ کے درمیان بعض اوقات کئی سو سال کا وقفہ ہوتا اسلیے سابقہ نبی ؑ کی تعلیمات کا حلیہ اس وقت تک اتنا بگڑ چکا ہوتا کہ نئے آنے والے نبی ؑ کی تعلیمات گو کہ تقریباً وہی ہوتیں جو سابقہ نبی ؑ کی تھیں لیکن لوگ انھیں اپنے دین سے مختلف دیکھتے ہوئے ماننے سے صاف انکار کر دیتے۔ یہاں سے جنگ و جدل اور حق و باطل کے درمیان لامتناہی کش مکش شروع جا تی جو بعد میں آنے والے نبیوں ؑ کے ادوار میں پھر سے Rechargeہوتی رہتی۔ اس طرح سے مذاہب بھی وجود میں آئے اور لامتناہی کش مکش بھی وجود میں آئی۔ ہر مذہب کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ ہی سچا ہے کیوں سچا ہے؟ اس پر کوئی بھی غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں جو بات اسلاف کے ذریعے ان کے ذہنوں تک پیدائشی طور پر پہنچ گئی وہ لاشعور کی حدوں تک جذب ہو گئی۔

    کسی مذہب سے فرقے کیسے بنتے ہیں

              نیا آنے والا پیغمبر جب دین لے کر آتا تو نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ اس کے بعد بھی کچھ عرصے تک یہ دین اپنی تعلیمات میں یک سو رہتا لیکن جب وقت گزر جاتا اور دین کی تشریح علمائے وقت پر آتی تو فرق آنا شروع ہو جاتا۔ کبھی آسمانی کتب میں معنوی یا تشریحی تحریف کر دی جاتی (کیونکہ عوام الناس تو دین کو گہرائی سے نہیں جانتے نہ ان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے) کبھی اقوال نبی ؑ کے مجموعے بعد از نبی ؑ وجود میں آجاتے جن میں اختلافات مختلف گروہ پیدا کر دیتے اور کبھی تاریخی روایات کو مذہب میں گڈ مڈ کر کے دین کا حصہ بنا نے پر فرقے بنتے چلے جاتے۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ المیہ یہ کہ جوں جوں زمانہ گزرتا اگر کوئی عالم دین تخصیص کے ساتھ اپنے دین کا مطالعہ کرتا تو ظاہر ہے اس کے سامنے کوئی ایک ماڈل (دین کے لیے مخصوص) تو ہوتا نہ تھا اس کی اپنی تحقیق و کاوش ساری زندگی کی تگ و دو کے بعد جب کسی نتیجہ پر پہنچتی وہ اپنے نظریات دین کی چھان بین کے بعد قلم بند کرتا یا ان کی تبلیغ کرتا تو ظاہر ہے یہ دوسرے سے کچھ نہ کچھ یا بہت کچھ مختلف ہوتی اس طرح سے یہ ایک نیا فرقہ وجود میں آجاتا ہے۔ اس وقت تمام مذاہب کا یوں ہی بھرکس نکالا گیا ہے۔

    اس کا حل کیا ہے؟

              تمام دنیا کے مذاہب اٹھا کر دیکھ لیں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ الہامی کتب کی حفاظت اقوال نبی ؑ یا تاریخ مذہب سے زیادہ کی گئی ہو گی۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے تو سب مذاہب کے لوگ اپنی الہامی کتب (جن پر ان کا اجماع ہو کہ الہامی کتب ہیں صرف وہ) کو چھان بین کر دوسرے لٹریچر سے الگ کریں انھیں ان کی شفاف اور اصلی حالت پر لانے کی بڑی دقتِ نظر سے جاں گداز کوشش کریں اس کے بعد جب انھیں یقین ہو جائے کہ اب اس کتاب کے اندر خالص وحی الٰہی موجود ہے (وحی الٰہی کی ایک الگ شان ہے اللہ کے عاشقوں کو یہ موتی خدا کی قسم دل کی آنکھوں سے دیکھنے سے صاف کہیں کہیں بکھرے نظر آجاتے ہیں) تو اس کی روشنی میں باقی تمام دینی لٹریچر بشمول اقوال نبی ؑ کا جائزہ لیں جو اس کے مطابق پائیں اسے اجتماعی طور پر بحیثیت قوم (اُمت) قبول کر لیں باقی سب کو ہمیشہ کے لیے رد کر دیں بلکہ اسے ہر طرح کے ریکارڈ سے پوری تگ و دو اور کاوش سے محوْ کر دیں وہ پھر کبھی ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے اور دنیا سے مفقود ہو جائے تا کہ دوبارہ فرقہ بندی نہ ہو سکے اور تمام لوگ اس کتاب پر من و عن عمل کریں۔

    بین الاقوامی سطح پر مذاہب عالم کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ

              یہ تو تھا قومی یا انفرادی مذہبی سطح کی چھان بین اور تحقیق سے حق کو باطل سے چھانٹنا۔ لیکن یہ تو ابتدائی اور اہم کامیابی ہو گی۔ اس کے بعد اس سے اہم مرحلہ آئے گا۔ جان جوکھوں میں ڈالنے کا مرحلہ۔ جب ہم جانتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے جس نے یہ سب دنیا بنائی اور اسے چلا رہا ہے (میرے مخاطب رواں بحث میں مذہبی معاشرے ہیں دہرئیے نہیں) اور تمام ادیان اس کی ہی طرف سے اس کے نبی علیہ السلام اپنے اپنے ادوار اور علاقوں میں لے کر آتے رہے تو پھر لمحہ بھر کے لیے سوچئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے مختلف علاقوں کے لیے مختلف دین یا قوانین ربانی یا احکامات آسمانی بھیج دیئے ہوں تا کہ لوگ باہم کشت و خون کرتے رہیں اور یوں ہی ابدلآباد تک لڑتے بھڑتے، مرتے اور مارتے، خون کی ندیاں اور دریا بہاتے رہیں کیا ہمارے عظیم اللہ،God، خدا، بھگوان، یا اس کا کوئی بھی نام کسی مذہب میں ہو (بشرطیکہ اس کی شان کے قابل ہو) کی ایسی مرضی ہو سکتی ہے۔ کیا وہ ہمیں تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا اور قطعی طور پر ایسا نہیں ہے۔ تو پھر یقینا وہ رحیم و  کریم، قادر مطلق، رب العالمین اور وحدہٗ لا شریک ہستی بے مثل ہمارا بھلا چاہتا ہے، اس جہاں میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ جہاں ہم نے اپنے بال برابر عمل و ایمان کا اچھا یا برا صلہ پانا ہے۔

              جب صورتحال یہ ہے تو پھر تمام مذاہب ِ عالم کے جیّد، تسلیم شدہ اور محقق نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بیٹھنا پڑے گا۔ تمام آسمانی کتب کو اصلاح احوال کے بعد اپنے سامنے رکھنا پڑے گا، یہ تکرار چھوڑ کر کہ ہم سچے ہیں دوسرے گمراہ ہیں اور خدائی تعلیمات پر بہت عمیق، غیر جانب دارانہ اور مسلسل غورخوض کرنا پڑے گا ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر جب یہ اپنے پیدا کرنے والے کے عاشق لوگ اس بات پر اجتماعی غور و فکر فرمائیں گے کہ اللہ کی ہستی اپنی ذات و صفات اور اختیارات میں کیا حیثیت رکھتی ہے وہ شروع سے کس بات کی تعلیم دیتا آرہا ہے اور اس کی منشاء و مرضی کیا ہے؟ تو یقین جانیے کہ آپ کو 90%تعلیمات میں یکسانیت صاف نظر آئے گی اور جو 10% رہ جائیں فہم ربانی سے منسوب تعلیمات کی روشنی میں ان کا باہمی حل تلاش کر لیا جائے۔ تا کہ کُل جہان میں ایک ہی دین الٰہی کی تعلیمات کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔ (میرا ایمان ہے کہ یہ دین انتہائی خالص، اکمل اور مکمل ترین شکل میں قرآنِ حکیم میں موجود ہے جو دوسرے ادیان پر پڑی ہوئی گرد کو بھی صاف کر تا ہے)۔

    لیکن کاش یہ سب ممکن ہوتا

              یہ سب کہنا آسان لیکن کرنا اور ہونا انتہائی مشکل ہے بلکہ مجھے تو آج کے انسان میں یہ جو ہر ناپید نظر آتا ہے کہ وہ مندرجہ بالا سعی خالص کرتے ہوئے حق تک پہنچ جائے اوربنی نوع انسان اس جاری ظلم و بربریت سے، کشت و خون سے،ہوس بے حد و کنار سے اور شیطانی راگ و راگنیوں کے سحر انگیز منتروں سے کبھی از خود باہر نکل سکے۔ بلکہ ’نور جہاں‘ کے پنجابی گیت کہ (ایہ تے گنڈاں اونیاں ہون گیاں پکیاں،  وے جناں توں زور لائیں گا) کے مصداق معاملات اور بھی الجھتے جائیں گے۔ جب معاملہ یوں ہے تو پھر اور کیا طریقہ ممکن ہے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش :محمد رفیع صابر

  • انسانی سوچ کیا ہے؟

    انسانی سوچ کیا ہے؟

    ظلم و فساد کا خاتمہ اور دنیا میں امن، انصاف، خوشحالی، بین الاقوامی تعمیر و ترقی اور بین المذاہب اشتراک کیسے ممکن ہے؟

    Haqeeqat ki Talash
    حقیقت کی تلاش میاں فاروق عنایت اٹک

              انسان کی غلط سوچ نے اور انسان کے نفس کی بیماریوں نے انسان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اور کسی آفت نے شاید نہ پہنچایا ہو۔ آپ دیکھتے ہیں انسان نے اپنا مطمحِ نگاہ اچھا کھانا، پینا، پہننا اور اوڑھنا بچھونا، نیذ، عیش و عشرت کو قرار دے رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ افراد کی سطح پر جنگل کا قانون ہے مار دھاڑ، آپا دھاپی ہے، دوسروں کو روند کر چھین لینا طرہئ امتیاز ِ انسانیت ہے۔ یہی کچھ اقوام کی سطح پر ہے ہر قوم اپنی قومی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ ملکی و قومی دفاع کے نام پراربوں کھربوں ڈالر کی شکل میں مہلک ترین ہتھیاروں پر صرف کر رہی ہے۔ ایٹم بموں کی بھرمار ہے، نیوٹران بموں کا شمار نہیں، کیمیائی ہتھیاروں نے انت مچا رکھی ہے۔ جراثیمی ہتھیاروں کے ذریعے بھی آناً فاناً دنیا کی آبادی کو چٹ کر جانے کا پروگرام موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اس وقت جتنا مہلک کثیر الجہتی اور جتنی مقدار میں اسلحہ موجود ہے یہ دنیا کو سینکڑوں مرتبہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے لیے کافی ہے اور اگر کوئی متنفس زندہ بچ جائے گا تو وہ جسمانی، ذہنی اور جینیاتی طور پر معذور ہو گا تا کہ آئندہ انسانی نسل میں کوئی جوہر قابل موجود نہ رہے اور اس قسم کی جنگ دنیا میں کسی بھی وقت کسی اچانک شدید غلط فہمی کی وجہ سے چھڑ سکتی ہے کہ ایک دم دنیا نیست و نابود ہو جائے۔ زمین پر کوئی ذی روح نہ بچے، پہاڑ اڑ جائیں، جنگل جل جائیں، سمندر زہریلے ہو جائیں، دریا خشک ہو جائیں اور فضائیں زندگی   کے لیے اجنبی ہو جائیں۔ واہ رے انسان تو کتنا ذہین ہے تجھے کس لیے اس دنیا میں بھیجا گیا کیا چیلنج دیا گیا کہ ذہن کو ماؤف کر دینے والی وسعت کائنات کو بسیط ہو جا، تسخیر کر لے، خود کو اشرف المخلوقات ثابت کر (گوکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اکثر مخلوقات سے بہتر پیدا کیا ہے اس سے Superiorمخلوقات بھی کائنات میں موجود ہیں) لیکن تو نے عیش و عشرت کو زندگی بنا لیا اورہوس پرستی کی وجہ سے افراد نے معاشروں کو تباہ کر دیا اور معاشروں نے باہم ہاتھا پائی میں زمین سے زندگی ہی کو مفقود کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ (یاد رہے کہ میں ابھی تک صرف مادی دنیا اور زندگی پر بحث کر رہا ہوں جو صرف حواس خمسہ کے ذریعے محسوس کی جا سکتی ہے دوسرے حواس یا دوسری دنیائیں اس کے علاوہ ہیں، اس پر آگے چل کر بحث ہو گی)۔

              اس جنگ و جدل کی بنیادی وجوہات میں مختلف مذاہب، مکتبہئ فکر اور تہذیبوں کا ٹکراؤ ہی نہیں ہے بلکہ نفس اور قوم پرستی بھی ہے جس طرح سے کوئی فردِ واحد، اشرافیہ یا تنظیم دنیا کے تمام وسائل کو صرف اپنے قبضہ اور تصرف میں لے آنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح آگے بڑھیئے تو ہر جغرافیائی وحدت اور زبان و تہذیب و تمدن پہ مبنی قوم دوسری سب جغرافیائی وحدتوں اور اقوام کوغلام بنا لینا چاہتی ہے۔ اس چھینا جھپٹی اور خوشی کا نکتہئ ماسکہ کیا ہے؟ تعیش حیات کا لا متناہی سلسلہ اپنے لیے بھی اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بھی! اس سوچ اور اندازِ فکر نے انسان کو اس کے اصل مقصد ِ حیات سے بہکا دیا ہے۔ زمین تو زمین اب خلاؤں پر بھی قبضہ اور تصرف کی جنگ جاری ہے تاکہ وہاں سے بھی زمین بے چاری سے منسلک حیات کو کیسے بھسم کیا جا سکتا ہے۔ مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ انسانی ذہانت اگر اسی طرح اپنی بقا کے پیچھے پڑی رہی تو کہیں زمین (سیارہ) ہی بالا ٓخر بھک سے نہ اڑا دی جائے، کیا اسے ترقی کہتے ہیں؟ اسے بقاءِ حیات کا نام دیا جا سکتا ہے؟ یا یہ انسان کی بدترین تنزلی کی طرف تیز ترین سفر ہے۔ پھر سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسی گیسیں پیدا ہو رہی ہیں، ایسے کیمیائی ری ایکشن ہو رہے ہیں کہ زمین پر سورج کی مہلک شعائیں اوزون کی تہہ کو چیر کر پہنچنے ہی والی ہیں بلکہ ان کا پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔

    آئیے اس کا حل تلاش کریں

              جب صورت حال اس قدر گھمبیر ہے اور ہماری بقا ہی کو سخت خطرات لاحق ہیں تو ان کے حل کی طرف جلد از جلد پیش رفت ازحد ضروری ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ کس طرح ہم اس صورت حال سے نکل سکتے ہیں۔ کون سی چیز ہو کہ جو ہمیں باہم ایک نوع کے طور پر اکٹھا کر دے۔ قوم نہیں بلکہ نوع انسانی کی بقا، امن، خوشحالی، ترقی اور صحت حسن کس طرح ممکن ہے۔

              ہم جب مندرجہ بالا مسائل پر غور کرتے ہیں تو عقل گم ہو جاتی ہے کوئی خیال یا تجویز یاKeyاس عقدے کو کھولنے یا حل کرنے کے لیے قریب قریب نظر نہیں آتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مایوس ہو جائیں۔بلکہ Try Try Again کے مقولے کے تحت بار بار اور مسلسل سوچ بچار ہمیں کسی حل کے قریب ضرور لے آئے گی۔ ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں Negative اور Positive۔ جب Negativeہمیں اس نہج پر لے آیا ہے تو اسی کا Positiveبھی اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن میں ضرور Feed کر رکھا ہو گا۔

    شفافیت مذاہب کے ذریعے حل

              جب اصل اور حقیقی حل کے لیے ہم مذہب کی طرف نگا ہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ دنیا میں 90%افراد کے ایک خدا یا واحد کارساز طاقت پر ایمان و یقین رکھنے یا اسے تسلیم کرنے کے باوجود درجنوں مذاہب اور ان پر عمل کرنے والے شاید سینکڑوں یا ہزاروں فرقہ جات تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ موجود ہیں۔ کچھ میں بُعد المشرقین ہے تو کچھ ایک جیسے دکھنے کے باوجود باہم متضاد ہیں اور ہر کوئی اپنے ایمان عقیدے یا فلسفہئ مذہب پر نہ صرف پورے اعتماد کے ساتھ قائم ہے بلکہ دوسروں کو غلط سمجھتے ہوئے انھیں صفحہئ ہستی سے مٹا دینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے یا پھر انھیں صرف اپنا ہم خیال دیکھنا چاہتا ہے۔ جب صورتحال یہ ہے تو اس کا آخر حل کیا ہے؟

    قرآن مجید

    اسے آپ میرا مذہبی عقیدہ کہیے یا ہر مذہب کے پیروکاروں کی طرح ایمان کہیے میرا الحمدللہ اس کتاب اللہ پر بہت راسخ ایمان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری آسمانی کتابوں پر میرا ایمان نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کی طرح تمام آسمانی کتابوں پر اور تمام نبیوں پر، فرشتوں پر، رو ز آخرت پر اور اللہ تعالیٰ کی مکمل وحدانیت پر میرا ایمانِ کامل ہے۔ لیکن قرآن ایک ایسی مکمل کتاب ہے جس کے اندر تمام سابقہ ادیان مع دین ابراہیمی کامل اور لاریب شکل میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ یہ کتاب اپنے اصل عربی متن کے ساتھ موجود ہے ہو بہو وہی اللہ تعالیٰ کا تمام کلام ہر زِیر زَبر، پیش کے ساتھ آج بھی سینکڑوں سالوں بعد (یہاں  زِیر، زَبر، پیش سے مراد الفاظ، معنی و مفہوم بھی ہے)موجود ہے۔ جبکہ دوسری کتب تراجم کی وجہ سے اصلی الفاظ کو شاید ہو بہو برقرار نہ رکھ سکی ہوں۔ گو کہ یہ دعویٰ نہیں ہے، مختلف مکتبہئ فکر کا خیال ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں اہل ِ اسلام نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ بائیبل کو ترجمہ شدہ اور تحریف شدہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہاں اہل یسوع مسیح عیسائی اور یہودی حضرات نے (بنی اسرائیل نے) اسے اصلی متن اور تحریف سے پاک قرار دیا ہے۔ بہر کیف ہم یہاں صرف قرآن مجید پر چونکہ بحث کر رہے ہیں اس لیے لمحات موجودہ میں بحث کو یہیں تک محدود رکھتے ہیں۔

              قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرما تا ہے کہ میں نے تمام انسانوں کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس کا جوڑا بنا (آدم ؑ اور حواؑ) اور اس کے بعد ان ہی کی نسل سے تمام نوع انسانی کو بڑھایا اور پھیلایا ہے۔ کسی کو کسی پر کوئی بڑائی اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ماسوائے تقویٰ (پرہیزگاری) کے۔           تقویٰ کا مفہوم نیکی اور پرہیزگاری ہے اور قرآنی اصول و قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اس میں ابدی بنیادی اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور جن جزیات میں قرآن پاک نہیں گیا ان کو زمانہ کے تقاضوں کے مطابق علما کے اجماع سے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ یہ قوانین کیا ہیں کیونکہ کوئی بھی قرآن مجید کا نسخہئ کیمیا اٹھا کر انھیں پڑھا اور معلوم کیا جا سکتا ہے۔

    (جاری ہے)

    ترتیب و پیشکش :محمد رفیع صابر

  • آغاز بحث  (اپنی بات سے)

    آغاز بحث (اپنی بات سے)

    کتاب حقیقت کی تلاش

                                                    عرصہ ہوا سوچ رہا تھا کہ اپنے خیالات جو رہ رہ کر ذہن میں اٹھتے ہیں انھیں تحریر میں لاؤں اب جب کہ زندگی کے چوالیس (44) سالوں کے طلوع و غروب دیکھ چکا ہوں، جوانی بیت گئی ادھیڑ عمر آئی اور بڑھاپے کی طرف برق رفتاری سے جا رہا ہوں نہ جانے زندگی کی کتنی سانسیں باقی ہیں۔ کب ہارٹ اٹیک، کوئی اچانک حادثہ، بیماری، صدمہ یا المیہ زندگی کا خاتمہ کر دے یا عضو معطل بنا دے، ضروری ہے کہ جو پڑھا، سمجھا، جانا یا میرے دل میں جو رب ِ کریم نے علم و آگہی ڈالی اسے تحریر کر دوں۔شاید اس میں بنی نوع انسان کے لیے کوئی کام کی بات نکل آئے۔ مجھے اپنے عالم ہونے یا دانش ور ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں ہے میری تحریروں میں املا کی غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں، زباندانی میں سقم ہوں گے، علمی ٹھوکریں بھی ہوں گی،کچھ باتوں سے نابلد بھی ہوں گا۔ غرض پڑھنے والے اپنے اپنے غور و فکر اور قابلیت کے مطابق بے شمار طعن کر سکیں گے اور میرے اندر سو ہزار نقائص نکال سکیں گے مجھے اپنی بے شمار کوتاہیوں، کمزوریوں، نالائقیوں، جہالتوں اور حماقتوں کا اقرار ہے۔ اس لیے پڑھنے والے بجائے اس تنقید پر اپنا وقت ضائع کرنے کے اس میں سے کام کی باتیں ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ سمجھیں میری تحریر کباڑ ہے جس میں سے آپ نے کام کی چیزیں چھانٹ کر الگ کرنا ہیں، ریت سے موتی ڈھونڈنے ہیں یا جنگل میں دبا ہواخزانہ تلاش کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے خدا نہ ملا نہ ملا اس کے نشانات ضرور ملیں گے۔

    حقیقت کی تلاش

    ایک احساس:

                                                    اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیوں بچپن ہی سے ایک عجیب احساس میرے دل میں گھر کر گیا ہے میں اسے لاکھ جھٹکنا چاہتا ہوں اور حقیقت کی طرف خود کو مائل کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ چلیں آج اس کا اظہار آپ کے سامنے بھی کرتا ہوں۔ مجھے شروع عمر سے ہی احساس بلکہ یہ یقین کی حدود ں کو پہنچا ہوا احساس ہے کہ میں اس دنیا میں کوئی (ان شاء اللہ) بہت بڑا کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں اور یہ کہ میں نے اس دنیا کے لیے بفضل تعالیٰ کوئی بہت بڑا کام کرنا ہے۔معاف کیجیے گا یہ کوئی خودستائش اور دعویٰ نہیں ہے یہ ایک احساس ہے جو یقین کو نہ جانے کیوں پہنچا ہوا ہے۔جبکہ میں حقیقت میں ایک بہت معمولی سا اور عام سا آدمی ہوں۔

    میری سوچ کے زاویے:

                                                    میں شروع سے خود پر اور اس وسیع و عریض کائنات پر غور کرتا رہتا ہوں۔ میں کیا ہوں؟ یہ دنیا کیا شے ہے؟ یہ کائنات کیا ہے اس کی حقیقت، آغاز و انجام اور حدود کیا ہیں؟ یہ کیسے وجود میں آگئی؟ اس سے پہلے کیا تھا؟ اس کے بعد کیا ہو گا؟ علم کیا ہے؟ حقیقت کسے کہتے ہیں؟   اللہ پاک کی ہستی کیا ہے؟ ہم اسے کیسے جان اور پہچان سکتے ہیں؟ اللہ کے رسول ؑ کون لوگ ہوتے ہیں؟ یہ بے شمار مخلوقات کیا ہیں؟ ان کی الگ الگ دنیائیں کیسی ہیں کیا ہیں؟ ان کے کیا احساسات ہیں؟ دنیا میں امن کیوں ناممکن ہے؟ مذہب کیا شے ہے؟جب سب مذاہب اللہ کی جانب سے ہیں تو کیوں یہودی، عیسائی، مسلمان اور دیگر بے شمار مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹتے نہیں تھکتے؟ گناہ و ثواب کیا ہے؟ سچائی کسے کہتے ہیں؟

    حسن کیا شے ہے؟ محبت کیا ہے اور عشق کس جذبے کا نام ہے؟ کیا میں بے شمار انسانوں کی طرح پانی کا بلبلہ ہوں اور میری زندگی بس یہی ہے گنتی کے سانس اور گنے ہوئے ماہ و سال اور طلوع و غروب یا اس کے علاوہ بھی میری کوئی حقیقت ہے؟ میں جب سے باشعور ہوا ہوں مجھے یہی فکر دامن گیر ہے کہ میری زندگی کتنی تیزی سے گزر رہی ہے میں کل تو بچہ تھا، ابھی کل تو میں جوان تھا یہ ایک دم سے میں (44)کی عمر پر کیسے آ گیا ہوں میں تو اسی تیزی سے بوڑھا ہو کر مر جاؤں گا۔ تو پھر آخر میں اس دنیا میں آیا ہی کیوں؟ پیدا ہونا، کھانا پینا، بڑا ہونا، بوڑھا ہونا، پھر مر جانا، کیا یہی زندگی ہے؟ اگر یہی زندگی ہے تو پھر اس کی تو کوئی حقیقت نہ ہوئی، اس بے مقصد زندگی سے تو نہ ہونا بہتر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے!  ترجمہ ”ہم نے یہ زندگی (دنیا) یوں ہی کھیل تماشا کے طور پر پیدا نہیں فرمائی“۔ جب یہ کھیل تماشا بھی نہیں ہے تو پھر یہ کیا ہے؟ ہمیں یہ معلوم کرنا پڑے گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آسمانی صحائف کے ذریعے بتاتا ہے کہ زندگی کیسے گزارو۔ جب ہم اس طرح سے زندگی گزارتے ہیں تو یقینا فساد ختم ہو جاتا ہے زندگی پر سکون اور حسین ہو جاتی ہے لیکن جب زندگی پر سکون ہو جاتی ہے، رواں ہو جاتی ہے بے امنی اور فساد نہیں

    رہتا تو پھر اس وقت زندگی کا مقصد کیا ہے یہ سوچنا پڑتا ہے۔ ہاں یہاں یہ قرآن پاک رہنمائی فرماتا ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان جو کچھ ہے اسے تسخیر کرو، یہ تمہارے لیے ہے اس پر غور و فکر کرو۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی (نشانیاں) آیات ہیں، کلمات ہیں جن کا عشر عشیر بھی تمہیں معلوم نہیں ان پر غور کرو انھیں معلوم کرو۔ پھر جس نے صالح زندگی گزار ی اور اپنی صلاحیتوں کو ٹھیک سمت لگایا یا بھٹکا اس کے لیے جزاء و سزا ہے۔

                                                    سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ مادی کائنات جسے ہم اپنے پانچ حواس سے محسوس کر سکتے ہیں یہ بہت زیادہ وسیع و عریض ہے۔ اس خلائے بسیط میں کروڑوں نہیں اربوں ستارے ہیں۔ جو درحقیقت ہر ستارہ ایک سورج ہے اس کا اپنا نظام شمسی ہے یعنی ہر سورج کے گرد اس کے سیارے ہمارے سورج کے 9سیاروں کی طرح مختلف تعداد میں موجود ہین اور حرکت کر رہے ہیں۔ کروڑوں ستاروں پر مشتمل ایک ایک کہکشاں ہے اور کروڑوں کہکشائیں ہیں جو ایک دوسرے سے لاکھوں کروڑوں میل دور ہیں۔ ہر ستارہ (سورج) ایک دوسرے سے کروڑوں میل دور ہے ہر ستارے (سورج) کے گرد حرکت کرنے والے سیارے ایک دوسرے سے لاکھوں میل کے فاصلے پر ہیں۔ اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو ایک ایک ستارے (سورج) تک پہنچنے کے لیے کئی سال یا سینکڑوں سال یا شاید ہزاروں نوری سال لگ جائیں۔ اللہ! تیری قدرت! یہ کائنات اتنی زیادہ وسیع و عریض ہے تو پھر زمین بے چاری کی اس میں حیثیت ہی کیا ہے یوں لگتا ہے کہ جیسے سمندر میں ایک قطرے کی یا صحرا میں ایک ذرہ ریت کی۔ واہ ربّا! اگر یہ حیثیت زمین کی ہے تو آج ہم جس رفتار سے زمین کے خزائن معلوم کرنے میں لگے ہوئے ہیں (صرف غیر مسلم اقوام، مسلمان تو سوئے ہوئے ہیں) صرف زمین پر تحقیقات و تلاش کے لیے کئی دہائیاں بلکہ صدیاں درکار ہیں ابھی تو ہم نے سارے عناصر بھی معلوم نہیں کیے۔ ہم نہیں جانتے کہ حشرات الارض کی کل تعداد کیا ہے ان کے کام کیا کیا ہیں ان میں Life Chainمیں کیا کردار ہے، حیوانات، پرندے، درندے، وائرس اور جراثیم وغیرہ کے متعلق ہم نے گو کہ کافی زیادہ ترقی کی ہے لیکن ہم ان کی بہت کم حقیقت جانتے ہیں۔ ہر سال نئی نئی بیماریاں حملہ کر دیتی ہیں ظاہر ہے یہ نئی قسم کے وائرس یا جاندار مخلوقات ہوتی ہیں۔

    جب زمین سے متعلق ہماری جانکاری اور ترقی ء علم کی رفتار یہ ہے تو کائنات پر غور و تدبّر کس مقام پر ہو گا اس کااندازہ خودفرما لیجیے۔

    جاری ہے ….