Tag: بھکر

  • مقبول ذکی مقبول اور اس کی ادبی مقبولیت

    تحریر:
    پروفیسر عاصم بخاری میانوالی

    نذیر یاد کی نظم کی طرح مقبول ذکی مقبول کی مقبولیت بھی آۓ روز فزوں تر ہوتی چلی جارہی ہے ۔

    ہر دل عزیز شہر میں ، مقبول آج کل
    تم بھی” نزیریاد ” کی ہو نظم کی طرح

    بھلا کیوں نہ ہو۔
    ادب کے ساتھ محبت کا جو عملی اظہار مقبول ذکی مقبول کے ہاں ہمیں ملتا ہے آج کے شاعروں ادیبوں میں وہ جذبہ کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔اردو سرائیکی شاعر ہیں مگر ماں بولی میں شعر کہ کر تسکین ِ قلب محسوس کرتے ہیں۔آج کل نثر کے میدان میں بھی ان کا نام ِ نامی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کے تبصرے اور بہ طور ِ خاص انٹریوز کی آج کل دھوم ہے۔ادیبوں شاعروں کے انٹرویوز کے ذریعے ان کی شخصیت کے مختلف گوشے قارئین ِ ادب کی بارگاہ میں ایک مدت سے بہ صدق و خلوص تواتر سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
    بقول شاعر

    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب ِ منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

    بڑی بات ہے۔منکیرہ بھکر کے لق و دق صحرا میں ادب کے پودے لگانا اور ان کی خون ِ دل سے آبیاری کا عزم ِ صمیم اور وعدہ انھوں نے علی شاہ مرحوم کی روح سے کیا ۔۔۔۔کہ جس ادبی مشن کا آپ نے آغاز کیا تھا تادم آخر اس کو اپنی منزل تک پہچانے کی حتی المقدور کوشش کرتے رہیں گے سو وعدہ خوب نبھاۓ جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر ادبی سفروں میں رہتے ہیں۔آج جھنگ ہے تو کل ننکانہ صاحب ، کبھی گجرات کی تقریب میں ہیں تو کبھی ماجد مشرقی کے ہاں گجرانوالہ کبھی حفیظ جالندھری کی قبر پر فاتحہ خوانی کر رہے ہیں تو کبھی فیض اور اقبال کے شہرسیالکوٹ ملیں گے۔

    جھپٹا پلٹنا ،پلٹ کر جھٹنا
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

    maqbool zaki

    ان کانظریہ ہے حرکت ہی زندگی ہے۔
    مقبول ذکی شاعر ہیں ادیب ہیں محقق ہیں اور دنیاۓ تنقید کے نو وارد۔ان کی شاعری اور تحقیقی وادبی مضمون اور علمی و ادبی انٹرویوز آۓ روز اخبارات رسائل اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں جواں ہمت ہیں۔مجھے ان کی جس خوبی نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ان کی ایثار پسندی ہے۔ دوسروں کے لیے جگہ بناتے ہیں۔سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ان ہی کی کوششوں سے پاکستان بھر کے بہت سے شعرا ءادیب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔وسیع المطالعہ تو بہت سے لوگ ہوتے ہیں مگر یہ وسیع القلب بھی ہیں لوگوں کو متعارف کرا کے ادبی تسکین محسوس کرتے ہیں۔دوسروں کے لیے جینا اور کام آنا ان کی زندگی کا مقصد ومنشور ہے۔ناوسائلی کے باوجود بہت وسیع حلقہ ء احباب رکھتے ہیں۔ویسے حیرت کی بات ہے کہ آج کے لوگ تو ذات کی بات کرنے والے ہیں۔ہرایک کو اپنے ہی نام اور مقام کی پڑی ہے۔
    دو سرائیکی شعری مجموعوں "سجدہ ” اور ” منتہاۓ فکر کے خالق ہیں۔جن پر ان کی خوب حوصلہ افزائی اور پذیرائی ہو چکی ہے۔ملک کےطول و عرض سے اعتراف ِ فن کے اعزازات اور ایوارڈز سے انھیں نوازا گیا ہے۔جس پہ ہمہ وقت سراپا شکر دکھائی دیتے ہیں سادہ ہیں۔مزاج میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔آج کل ان کی علمی وادبی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل کتاب”مصاحبے” زیر ِ ترتیب ہے۔جس میں ادبی شخصیات کے بارے مکمل معلومات بڑے خوب صورت اور دل چسپ انداز میں فراہم کی گئی ہیں۔ان کا یہ بڑا یادگار اور قابلِ ذکر کارنامہ ہے۔جو کہ انھیں دنیاۓ نثر ، تحقیق و تنقید میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
    آخر میں ان کے چند بہ طور نمونہ شائقین ِ شعر وادب کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا

    سانس چلنے لگی حق کے پیغام کی
    ایسے دل میں عمل کو اتارا گیا

    خم کو جو بھولے ہیں وہ دشمن ہوئے ہیں آل(ع) کے
    اس کو نہ کوئی بھلائے ہے یہ نام کربلا

    نہ کہیں ایجھا کیتا سجدہ کوئی ایجھاں نہ کر سگسی
    اجاں توڑیں ہے سجدے وچ عبادت وی سمندر ہے

    عاشور دا ڈیہاڑا پیشیں نماز ویلا
    ساری خدائی اتے چھاونڑ لگا ہے سجدہ

    توں خالق مالک جانڑدا ہیں میڈی اکھیاں وچ برسات ہے کیوں

    ڈیکھوں در لاہندے اساں سیداں (ع)دے ہنڑ بھیج جہان تے حجت خدا

    pro asim

    پروفیسر عاصم بخاری

    میانوالی

  • مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    (تحریر۔پروفیسر ریٹائرڈ جاوید عباس جاوید)


    دنیا میں بہت سے لوگ اپنی ہمت اور شوق و جذبے کی بدولت اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے اظہار اور اپنے فن کی تکمیل میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ناممکن کو ممکن کر کے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ایسی ہی ایک کامیاب اور قابل ذکر شخصیت ضلع بھکر کے ابھرتے ہوئے شاعر اور نثر نگار جناب مقبول ذکی مقبول صاحب کی ہے۔1977میں بھکر کی پسماندہ تحصیل منکیرہ کے ایک غریب گھر میں جنم لینے والا یہ فنکار اپنی تعلیم کا سلسلہ مکمل نہ کر سکا لیکن زبان اور تخلیق ادب کا شوق اس کے ہمرکاب رہا۔سب سے پہلے اس نے سرائیکی زبان میں کربلائی منظومات،نعت اور منقبت سے آغاز کلام کیا ااور محکمہ صحت مین ملازمت بھی اختیار کر لی۔سب سے پہلے تحصیل منکیرہ کے معروف شاعر علی شاہ مرحوم نے اپنی کتاب ،ثنائے سبط رسول میں مقبول ذکی مقبول کو متعارف کرایا اور ان کے کلام سے ادبی حلقوں کو آگاہ کیا۔ مقبول ذکی منکیرہ میں بننے والی پہلی ادبی تنظیم،تھل ادبی سنجوک، کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔انہوں نے معروف سرائیکی شاعر جناب نذیر ڈھالہ خیلوی کی شاگردی اختیار کی اور ان کے حوالے سے منکیرہ میں بننے والی ادبی تنظیم ،بزم نذیر،میں بھی بھرپور کام کیا۔انہوں نے مختلف ادبی رسائل،اخبارات اور تنظیموں میں اپنے تعارف اور کلام کی اشاعت کے ذریعے اپنی اور منکیرہ کی شناخت کروائی۔۲۰۱۱ میں شائع ہونے والی علی شاہ کی تحقیقی کتاب ،تحصیل منکیرہ کا ادبی منظر نامہ میں مقبول ذکی کا تفصیلی تعارف سامنے آیا جس کے بعد ادبی حلقوں میں مقبول ذکی کی شناخت بڑھتی چلی گئی۔2017 میں ان کا پہلا سرائیکی مجموعہ کلام ،سجدہ،منظر عام پر آیاجس میں کربلائی منظومات موجود ہیں۔دوسرا مجموعہ کلام ،منتہائے فکر، 2020 میں شائع ہوا جس میں ان کی اردو شاعری موجود ہے۔


    مقبول ذکی کے دونوں مجموعہ ہائے کلام کو عوامی پسندیدگی اور پزیرایی ملی جس کے ساتھ ساتھ مقبول ذکی نے بہت سے ادب شناس اداروں اور ادب پرور شخصیات کے ساتھ اپنے روابط جاری رکھ کر اپنے ادبی ذوق اور تجربے کو وسعت دینے کا سلسلہ بھی برقرار رکھا۔ان کے اس حلقہ دوستی میں رائے عابد علی(طلوع اشک)حسن عباسی(ارژنگ)ظہور احمد فاتح(تونسہ شریف)جمشید اقبال(بھکر)ارشاد ڈیروی،گل بخشالوی،ابرار حنیف مغل(کاروان نعت،لاہور)نجف علی شاہ(بھکر)سید شبیر شاہ زاہد،اشتیاق احمد نوشاہی،حافظ شبیر احمد اویسی(خان پور)حکیم ناز جلالوی،عارف یار گجراتی،گلزار احمد نوشی(لالہ موسی) اورناصر ملک(چوک اعظم) جیسے لوگ شامل رہے ہیں۔اس کے بعد مقبول ذکی نے معروف ادبی شخصیات کے انٹرویوز کر کے انہیں اخبارات اور رسائل میں شائع کرانے کاسلسلہ شروع کی جو بہت کامیاب رہا انہوں نے نذیر ڈھالہ خیلوی،راقم الحروف پروفیسر جاوید عباس،پروفیسر عاصم بخاری،سید حبدار حسین شاہ،ڈاکٹر محمد ایوب،ڈاکٹر محسن مگھیانہ،ارشد حسین حیدری،اور دیگر اہم قلمکاروں کے کامیاب انٹر ویوز کئے،انکے مختلف کتابوں اور فن کاروں پر لکھے گئے تبصرے ماہنامہ فکر شعور(اسلام آباد)اتمام(اقبال حسین،بھکر)ماہنامہ سفید چھڑی سرگودھا،ہفت روزہ عہد وطن،لاہور،شہزاد افق۰روزنامہ افق،اسلام آباد)قمر عباس گل کے سفر نامے پر تبصرہ،ہمراز اچوی کی ادبی خدمات پر تبصرہ،فردیات(عوام کی عدالت ،بھکر،میگزین تھل،منزل کی طرف۔سحرش ناز(بھکر ٹوڈے،بھکر)نوید حضوری(ٹھنڈی آگ)حرف بقا،عاصم عاصی،خوشبو کا احساس(گستاخی معاف،اسلام آباد)روزنامہ تھل گزٹ لیہ،سنگ بے آب لیہ،مقبول ذکی کی ادبی وصحافیانہ خدمات جاری و ساری ہیں۔
    مقبول ذکی کو ان کی ادبی مساعی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز اور شیلڈز دی گئی ہیں جن میںبزم حسنی ادبی سنگت لیہ،بھیل ادبی سوسائٹی ننکانہ صاحبِ،کار خیر ادبی ایوارڈ ۲۰۲۱،گوجرانوالہ،خوشبوئے نعت ایوارڈ سرگودحا اور دیگر بہت سے اداروں کے اعزازات اور تعریفی اسناد و انعامات ان کو عطاء کئے گئے ہیں،مقبول ذکی مقبول اپنی گھریلو مصروفیات اور معاشی مسائل میں سے وقت نکال کر اپنی ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لانے اور علاقے میں علمی اور ادبی شعورکو اجاگر کرنے کا عزم اور ذوق و شوق رکھتے ہیں۔انہوں نے مذہبی شاعری میں بہت کام کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ مقبول ذکی نے علاقہ تھل لی ثقافت اور روایات کی ترجمانی کو اپنی شاعری اور نثر نگاری کے اہم موضوعات میں شامل کیا ہے۔ اللہ پاک مقبول ذکی کی اس ادبی جد وجید میں اسے مزید کامرانیاں نصیب کرے،آمین۔آخر پر مقبول ذکی کی ایک نعت اور ایک رباعی پیش خدمت ہے۔
    نعت شریف
    آپﷺ کے دم سے عالم سنوارا گیا
    ذکر سے کام بنتا ہمارا گیا
    یہ جو کون و مکاں ہیں سجائے گئے
    ہر طرف ہے یہ جلوہ تمہارا گیا
    پاک قرآن مدحت سرائی تیری
    اور ہر اک زمانہ نکھارا گیا
    اس قلم سے ہے مقبول عزت ملی
    نعت میں مصطفے کو پکارا گیا
    رباعی
    جس کا جھولا تھا جھلاتا آ کے جبریل امیں
    سربریدہ دھوپ میں دیکھا گیا عاشور کو
    اس امامت پر تو ہو گا ناز ہر انسان کو
    کر دیا مقبول جس نے حق ادا عاشور کو

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات بطور شاعر و نثر نگار

    پروفیسر ریٹائرڈ جاوید عباس جاوید

  • ہمرازاچوی کے ساتھ ایک شام

    ہمرازاچوی کے ساتھ ایک شام

    ہمرازاچوی کے ساتھ ایک شام
    رپورٹ:
    مقبول ذکی مقبول۔ بھکر
    15-12+2021
    سر زمین لیہ ۔ بزم حسنی ادبی سنگت ۔ بزم شفقت کے زیر اہتمام آج کی شام اردو اور سرائیکی کے معروف استادالشعراء ہمراز اچوی کے نام ادبی نشست منعقد کی گئی ۔ جس میں لیہ سرزمین کے اردو اور سرائیکی اعلیٰ پائے کے شعراء نے بھر پور شرکت کی
    جس میں صدارت سید رضا کاظمی پہاڑ پور ۔ مہمانان خصوصی ۔ سید عارش گیلانی ۔ عبدالقدوس ساجد ۔ یونس خان بزدار ۔شمشاد حسین سرائی ۔ محمد اشرف درپن ۔ اور مہمانان اعزاز ۔ شیخ خرم طارق سٹی صدر پپلر پارٹی لیہ ضیاء انجان سرائیکی ۔ ریاض ناطق ۔ عاشق حسین عاقب۔ سہیل کھوکھر ۔


    شعراء کرام
    سید رضا کاظمی ۔ ہمراز اچوی ۔ عبداعبدالقدوس ساجد۔ محمد اشرف درپن ۔ صادق حسنی ۔ عارش گیلانی ۔ شمشادسرائی ۔ یونس خان بزدار ۔ شفقت عابد ۔ضیاء انجان ۔ عاشق حسین عاقب ۔ محمد شفیع ۔ بلال بھٹی ۔ قمر جعفری ۔ ارجمند عاصی ۔ عرفان فانی ۔ سیف الله ماجد۔ ریاض ناطق ۔ جمیل احمد ۔ اور نظامت کے فرائض عبدالطیف قمر نے احسن طریقے سے ادا کی ۔ آخر میں بانی بزم حسنی ادبی سنگت ۔ صادق حسنی نے حسن کارکردگی اعزازی ایوارڈ صاحبء شام ہمراز اچوی قادری کو پیش کیا اور اس کے بعد خطبہ صدارت۔ صدر محفل سید رضا کاظمی نے بانی بزم صادق حسنی اور ان کے رفقاء کو خراج تحسین پیش کیا اور صاحب شام ہمراز اچوی کے اردو اور سرائیکی کلام کو سراہا ۔ شعراء کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کیا اور عوام الناس سے ڈھیروں داد وصول کی . آخر میں بانی بزم بزم حسنی ادبی سنگت صادق حسنی نے صدر محفل مہمانان خصوصی و مہمانان اعزاز اور شریک شعراء کرام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • حبدار قائم سے مکالمہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، اٹک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حبدار حسین شاہ المعروف سید حبدار قائم صاحب

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ کا مختصر تعارف؟
    جواب: میں نقوی سادات سے ہوں اور 38 ویں سلسلے کے بعد میرا سلسلہ شجرہء نسب جدالسادات امیر المومنین حضرت علیؑ کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ ہماری جد پاک مدینہ سے سامرہ اور سامرہ سے بخارا ہجرت کر کے آئے تھے ۔بخارا سے ہندوستان موجودہ پاکستان کے اُچ شریف میں ہمارے جد پاک حضرت جلال الدین شیر شاہ سرخ پوش بخاری رح ہجرت کر کے آئے اور اب ہم پاکستان کے کونے کونے میں بس رہے ہیں۔
    سوال : آپ بچپن کے بارے میں معلومات دیں ؟
    جواب: میرا بچپن بہت خوب صورت گزرا ہے جس میں محرومیاں بھی تھیں اور خوشیاں بھی تھیں ۔زیادہ گاوں میں ہی شرارتیں کرتے اپنے دیہاتی کھیل کھیلتے جن میں گلی ڈنڈا ڈنڈ پاکی وغیرہ شامل تھے کھیلتے تھے اور یہی خوشیوں کا باعث ہوتا تھا
    میرے والد صاحب چونکہ فوجی تھے اس لیے گاوں کے علاوہ میرا بچپن والد صاحب کے ساتھ مختلف شہروں میں بھی گزرا جن میں لاہور کینٹ، کھاریاں کینٹ ،راولپنڈی کینٹ اور ایبٹ آباد کینٹ شامل ہے۔
    سوال : آپ کی تعلیم کیا ہے ؟
    جواب: جی میں نے "ایف اے ” کیا ہوا ہے۔
    سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا؟
    جواب: اٹک شہر ،گوجرانوالا ،گلگت سیاچین گلیشیئرز ، منگلا ، مری ہلز، اور لاہور میں اپنی عسکری خدمات سر انجام دے چکا ہوں اور ستمبر 2015 کو لاہور سے ہی ریٹائر ہوا ہوں۔
    سوال : آپ دنیا ئے ادب میں کس طرح وارد ہوئے ؟
    جواب: میں پنڈیگھیب کالج میں پڑھتا تھا میرے گاوں کا ایک لڑکا علی احمد تبسم مرحوم مختلف رسالوں میں کہانیاں لکھتا تھا۔
    جس کو دیکھ کر مجھے بھی لکھنے کا شوق ہوا تو میں نے بھی 1987 میں ناقابل فراموش واقعات لکھنے شروع کر دیے۔ یوں دنیائے ادب میں داخل ہوا۔ ساتھ ہی پنڈی گھیب میں کرنل شیر محمد شاد مرحوم کے نام پر ایک ادبی "تنظیم حلقہ اربابِ شاد” بنی تو میں نے بھی اس کی رکنیت اختیار کی۔ اور شعر کہنا شروع کر دیا۔

    hubdar and zaki

حبدار قائم سے مکالمہ
    مقبول ذکی مقبول اور حبدار قائم


    سوال : آپ کا تخلیقی سفر ؟
    جواب: دیکھیے تخلیقی سفر میں نے 1987 میں چھوٹے رسالوں سے شروع کیا جن میں ماہنامہ سلام عرض، ماہنامہ جواب عرض اور سچی کہانی شامل تھے اور اب تو میری اپنی تین کتابیں ہیں جن میں :۔
    پہلی کتاب: نمازِ شب
    دوسری کتاب : چھانگلا ولی موجِ دریا
    تیسری کتاب : اکھیاں وچ زمانے (پنجابی)
    اس کے علاوہ کئی مضامین اور کتابوں پر تبصرے مختلف اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔
    سوال : اٹک کی ادبی فضا کے بارے میں آپ کیا کہنا پسند فرمائیں گے؟
    جواب: اٹک کی ادبی فضا سنگِ پارس کی طرح ہے اور اسی کا اثر ہے کہ میں نے ادبی رسالوں اور اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا ہے ان عظیم قلم کاروں کی راہنمائی نے مجھے نکھارا ہے جس کی وجہ سے ایک دنیا ہے جو مجھے جانتی ہے الحمد للہ۔
    سوال : آپ نے ملازمت کے دوران افسران سے انعامات وصول کئے ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گے ؟
    جواب: جی میں نے آرمی میں منعقد ہونے والے تقریری مقابلوں میں کئی انعامات جیتے ہیں ۔اور کئی مرتبہ بریگیڈ اور ڈویژن لیول پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ایک مرتبہ کور لیول کے تقریری مقابلے میں بھی ٹاپ کرنے پر جنرل صلاح الدین سے تعریفی سند اور کتابوں کا تحفہ حاصل کر چکا ہوں۔
    سوال : رثائی ادب پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں ؟
    جواب: مرثیہ گوئی کا آغاز 61ھ کربلا سے شروع ہوا۔عربی سے فارسی میں آیا ۔پھر بر صغیر پاک و ہند میں اِسے میر انیس اور مرزا دبیر جیسی شخصیات نے بامِ عروج تک پہنچا یا۔اس کے بعد مرثیہ جوش ملیح آبادی محسن نقوی ہلال نقوی سے ہوتا آج کے بہت سے نمائندہ نام لیے جاسکتے ہیں۔حب دار نقوی بھی اسی رثائی اور کربلائی ادب کی ایک کڑی ہیں۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ
    دنیا میں اس کے ماننے والے تو کم نہیں۔
    سوال : سوشل میڈیا نے کتاب بینی کو متاثر کیا ہے۔ آپ کیا کہیں گے ؟
    جواب: جی یہ بات سچ ہے لیکن سوشل میڈیا بہت طاقت ور میڈیا ہے اس نے مجھ جیسے کئی غیر معروف نام دنیا کو متعارف کرائے ہیں میں بھی اگر سوشل میڈیا کا سہارا نہ لیتا تو مجھے کوئی بھی نہ جانتا۔ سوشل میڈیا پر سیکھنے کے بہت مواقع ہیں اگر کوئی سیکھنا پسند فرمائے۔
    سوال : آج کل آپ کی
    مصروفیت کیا ہے ؟
    جواب: آج کل پی ٹی سی ایل ایکسچینجز پر سیکیورٹی سپروائیزر ہوں ڈیوٹی کے بعد صرف مطالعہ کرتا ہوں۔
    سوال : آپ کی تحریریں کون کون سے اخبارات رسائل و جرائد میں شائع ہوتی ہیں ؟
    جواب: پنجابی رسالہ لہراں، اردو رسالے "دھنک رنگ،جمالیات،الہام ،آئی اٹک اور اردو ڈائجسٹ سپین میں لکھ رہا ہوں۔
    اخبارات روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ اساس، روزنامہ پاکستان، روزنامہ جناح،ڈیلی گریٹ پاکستان اور ڈیلی کشمیر وغیرہ میں لکھ چکا ہوں
    سوال : ادب میں آپ کس شاعر، ادیب سے زیادہ متاثر ہیں اور کیوں؟
    جواب: ساغر صدیقی اور علامہ اقبال رح میرے پسندیدہ شاعر ہیں رہ گیا سوال ادیبوں کا تو ان میں احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور اٹک شہر کے سعادت حسن آس نمایاں ہیں۔ کسی بھی شخصیت سے متاثر اس کے اخلاق کردار یا اس کی تحاریر میں چھپے ہوئے خوب صورت پیغام کی وجہ سے ہوتا ہوں
    سوال : جدید ادب کے بارے میں آپ کی رائے ؟
    جواب: گلوبل ویلج نے ہر چیز بدل کے رکھ دی ہے شاعری سے لے کر نثر تک متاثر ہوئی ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان طبقہ اب بھی ادب سے وابستہ ہے اور کئی جوان ہم بوڑھوں سے آگے نکل گئے ہیں کیونکہ ان کو نیٹ پر پڑھنے کے سارے عوامل میسر ہیں۔ ہمارے پاس تو اتنی کتابیں ہی میسر نہیں تھیں
    سوال: اپنی نعوت سے کوئی اشعار سنا دیں؟
    جواب:

    ربِ کعبہ کی پھیلی ثنا روشنی
    کیسے کرتے گئے مصطفٰیؐ، روشنی

    تیرگی سے ہوئی ہے خفا روشنی
    ہر قدم پہ ہوئی جاں فزا روشنی

    سوال: شاعری پر تبصرہ کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھتے ہیں؟
    جواب: بہت خوب صورت سوال کیا ہے آپ نے !
    شاعری پر تبصرہ کرنے کے لیے پہلے خود صاحبِ مطالعہ ہونا چاہیے اور پھر جو اشعار اوزان میں پورے ہوں اور اُن میں کوئِی سقم نہ ہو اُن پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیے ہمیشہ مثبت رویہ اپنا کر تبصرہ کرتا ہوں تو اللہ تعالٰی مجھے عزت دیتا ہے۔
    سوال: شاعری میں کوئی ایسا لمحہ جس میں بہت زیادہ خوشی ہوئی ہو؟
    جواب: جب میری غزل معروف گلوکار نسیم علی صدیقی نے گائی تھی تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔
    سوال: شاعری میں کس شاعر سے باقاعدہ اصلاح لیتے رہے ہیں؟
    جواب: 1987 میں توکل سائل مرحوم سے اصلاح لیتا تھا اور اب فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد جب دوبارہ شعر کی طرف رجوع کیا تو معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس سے تبرکاً اصلاح لیتا ہوں۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • پروفیسر عاصم بخاری سے بات چیت

    پروفیسر عاصم بخاری سے بات چیت

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، میانوالی
    پروفیسر عاصم بخاری، میانوالی

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ کا مختصر تعارف۔۔۔۔۔؟
    جواب
    میرا خاندانی نام سید عاصم رضا اور ادبی نام عاصم بخاری ہے۔ خاندان سادات سے تعلق ہے۔ یونین کونسل پکی شاہ مردان میانوالی کے ریکارڈ کے مطابق میری تاریخ پیدائش 16 جولائی 1970ء ہے۔ جب کہ سرکاری ریکارڈ اور اسناد کے مطابق10جون1971ء ہے۔ میرے مطابق اول الذکر درست ہے۔ زندگی کی نصف صدی گزار چکا ہوں۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ سب پڑھنے پڑھانے میں گزری ،قرطاس و قلم سے رشتہ قائم ہے۔ یعنی بقول شاعر
    عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
    سوال : آج کل آپ کہاں ملازمت کررہے ہیں۔۔۔۔۔؟
    جواب : گورنمنٹ کالج کالا باغ میانوالی میں صدر شعبئہ اردو کی ذمےداریاں نبھا رہا ہوں۔
    سوال : آپ کی تعلیم کیا ہے؟
    جواب: طالب ِ علم ہوں۔
    ایم فل اردو ہوں۔ اور ڈاکٹریٹ کی منزل کی جانب عازمِ سفر ہوں۔ کیونکہ ہمیں یہی پڑھایا گیا ہے کہ "ازگہوارہ تابہ گور دانش رایجوئید "یعنی پنگوڑے سے قبر تک علم حاصل کرو۔
    سوال : ادبی حوالہ/ ادبی خدمات؟
    جواب : ادبی خدمات کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو علاقہ بھر میں فروغِ ادب کے لیے بزمِ ادراک و آگہی کا ادبی چراغ روشن کیا۔ جس پلیٹ فارم سے شائقین شعر و ادب کے ذوق کی تسکین کا سامان کرتے ہوئے دریائے سندھ کنارے چاندنی راتوں اور کوہستان نمک کے قدرتی ماحول میں مشاعروں، ادبی نشستوں اور تقاریب کا اہتمام کیا۔ اور آج الحمداللہ مطمئن ہیں کہ
    "ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے”
    سوال : طباعتی اور اشاعتی سلسلوں کے بارے آپ کیا کہیں گے۔؟
    جواب : ادبی تنظیم بزم ادراک و آگہی کے فورم سے فروغِ شعر و ادب کے لیے شعری انتخاب کا سلسلہ 2002ء سے جاری کیا جو کہ خالق لوح و قلم کے فضل سے تا حال جاری و ساری ہے۔ جس سے متعدد انتخاب مثلا ” قرطاس و قلم کی دنیا 2003ء
    سارے رنگ محبت کے 2004ء
    اشک اشک زندگی 2005ء
    شبیر علیہ السلام کربلا وچ2006ء
    نکلے تری تلاش میں 2009ءاور اردو کے اہل قلم شعراء 2017ء شامل ہیں۔
    ان شعری انتخابات کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں نوخیز، نوآموز شعراء کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا کلام بہ طور نمونہ شامل ہے۔ علاوہ گم نام اور غیر معروف شعراء کو منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گوشئہ رفتگاں بھی ہے۔ جس میں مرحوم شعراء کا کلام بہ طور یاد شامل کیا گیا ہے۔
    سوال : آپ نے تحقیقی و تنقیدی میدان میں بھی کا م کیے ہیں کچھ ان کی تفصیل بتائیں۔۔۔۔۔؟
    خواب : مختلف اخبارات رسائل و جرائد کے ساتھ ساتھ” ستار سید کی شخصیت اور فن "پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ راحت امیر نیازی شخصیت اور فن کے موضوع پر کتاب”
    سید عطا محمد شاہ کی علمی خدمات "پر کتاب تحریر کی ہے۔ علاوہ ازیں "ابوالمعانی عصری” کے ناول” شنوزہ” کا تجزیاتی مطالعہ کے موضوع پر کتاب لکھی ہے۔
    سوال : آپ کے شعری مجموعوں کے کیا نام ہیں۔۔۔۔۔؟
    جواب : پتے بکھر گئے۔ 2006ء
    ظلم عورت پہ ۔2007ء
    مدح ختم الرسل۔2017ء
    فردیات عاصم بخاری۔2019ء
    ریزہ ریزہ۔2021ء
    تم جو چاہو کر سکتے ہو۔2020ء
    سوال : نثری مجموعے کون کون سے ہیں۔۔۔۔۔؟
    جواب : چراغ جہد البقا۔2005 اور فسانہء محفل 2021ء جب کہ آپ بیتی” گردشِ ایام ” اور کلیات فردیا ت”کِرچیاں”غیر مطبوعہ ہیں۔
    سوال : آپ اس موجودہ دور کے تناظر میں کس بات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔۔۔۔۔؟
    جواب :
    واضح ہو مختصر ہو کرو بات کام کی
    عاصم بخاری دور ہے یہ اختصار کا
    شاعری ہو یا نثر۔۔۔ لفظی دولت کو کفایت شعاری اور اختصار نویسی کی کوشش رہتی ہے۔ کیوں کہ یہ وہ دور ہے ۔ جس میں سوشل میڈیا کی یلغار ہے۔ قاری کتاب سے بہت دور ہوتا جارہا ہے۔ بے جا طوالت کو ترک نہ کیا گیا تو کتاب بینی اور کتاب خوانی مزید کم سے کم ہوتی جائے گی۔

    zaki and asim
    مقبول ذکی مقبول پروفیسر عاصم بخاری سے محو گفتگو


    یہی وجہ ہے کہ مری نظم ہو یا غزل اختصار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔ نثر میں مضمون ہو یا کہانی افسانہ اس میں بھی اسی بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ آپ میرے افسانے کہانیاں پڑھ کر دیکھ لیں۔

    ہر اک صنف میں ہم نے عاصم بخاری
    کفایت شعاری سے لفظوں کو برتا

    ایک اور شعر دیکھیں

    نظم ہو کہ نثر، دونوں میں
    اپنے ہاں اختصار ، پاؤ گے

    اگر شاعری کی بات کی جائے تو میری شاعری میں آپ کو روایت کی پاسداری بھی ملے گی مگر اکثر جگہوں پر روایت سے انحراف بھی ملے گا۔ آپ کی مرضی آپ اسے مزاحمت کا نام دیں یا کوئی اور۔۔۔۔
    سوال : آپ کی شاعری کا زاویہ دیگر شعراء سے مختلف ہے کیا محبت کو بھی کبھی موضوع بنایا؟
    جواب : جی ہاں! محبت کے موضوع پر بھی بہت لکھا ہے۔ محبت ہی تو اس دنیا کی روح رواں ہے۔ مگر فیض احمد فیض نے کہا تھا
    اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    سو، میں نے بھی۔۔۔ غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کی بات کی ہے۔ چاہے وہ میری شاعری ہو یا میری نثر۔۔۔

    لفظی تصویر دور اپنے کی
    پیش شعروں کے روپ میں کر دی

    اسی ضمن ایک اور شعر دیکھئے گا۔
    جیسے محسوس مجھ کو ہوتا ہے
    ویسے شعروں میں ڈھال دیتا ہوں

    سوال : آپ کی شاعری میں طنز و مزاح کی چاشنی بھی ملتی ہے۔اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟
    جواب : جی! بقول شاعر

    ہر مسافر کی ایک منزل ہے
    راستے بے شمار ہوتے ہیں

    ہر فن کار، ہر شاعر، ہر ادیب ، ہر لکھاری ، ہر قلم کار ادب میں نظم ہو یا نثر کسی نہ کسی صنف کا انتخاب کر کے اپنے نکتہء نظر کے اظہار کا ذریعہ بناتا ہے۔ میں نے خود شناسی کی۔۔۔ خود کو کھنگالا ٹٹولا۔۔۔ تو مجھے لگا کہ میرے مزاج میں یہی چیز ہے۔ اسی کو استعمال میں لا کر بات کو خوبصورتی سے بیان کر سکتا ہوں۔ سو اسی کو اپنایا اور اسی کو ہی سراہا گیا۔ میں ادب کا طالب علم ہوں ادب میں مجھے ادیب کی یہی تعریف ملی ہے کہ وہ معاشرے میں قلمی جہاد کرتا ہے۔ اس کا کردار تہذیب و ثقافت کے کے لیے دریا کے کناروں کا سا ہوتا ہے۔ جو کہ ایک قوم اور نسل کو اپنی منزل کا راستہ دکھاتا ہے۔ اسے آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم نے جانا کدھر ہے اور جا کدھر رہے ہیں۔ اسی کے پیش نظر جہاں ناہمواری نظر آئی مزاح کے رنگ میں پیش کر دی مثلا”

    رشوت اک آدھ کوئی لیتا تھا
    شاید اک آدھ اب نہیں لیتا

    اسی مزاح کا ایک اور شعر دیکھئے گا۔

    کوشش کے باوجود عورت کے جسم پر
    ملبوس کو لباس کے معنی نہ مل سکے

    طنز کا ایک اور شعر دل چسپ انداز

    شعر تیرے بھی مختصر عاصم
    نسل نو کے لباس کے جیسے

    سوال : آپ نے فروغِ ادب کے لئے کون سا منفرد کام کیا؟
    جواب : میں نے ادب میں نظم و نثر دونوں میں اختصار نویسی کی راہ اپنائی ہے۔ جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی۔ اس تجربے میں کافی حد تک میں کامیابی محسوس کر رہا ہوں۔ اور اس کے کافی بہتر اور حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
    سوال : مشاعرہ کے بارے آپ کیا کہنا پسند کریں گے؟
    جواب : مشاعرہ کے اگر آغاز و ارتقا کی اگر بات کی جائے تو اساتذہ کے حوالے سے کسی شاعر کا خوبصورت شعر یاد آ رہا ہے۔

    ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئین گلستان میں
    ہمیں بھی یاد کر لیناچمن میں جب بہار آئے

    فروغِ زبان و ادب میں مشاعرے کا بہت اہم اور مرکزی کردار رہا ہے۔ اس کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں مختلف ادوار کی فضا اور ماحول اس پر اثر انداز ہوتا رہا۔
    اگر آج کے مشاعرے کی بات کی جائے تو آج کل کا مشاعرہ کل کے مشاعرے سے یکسر مختلف ہے۔ آج کے مشاعرے پر وقت تغیر و تبدل اور سوشل میڈیا کے گہرے اثرات ہیں۔ آج کے مشاعرے میں حوصلہ افزائی تو شاید ہو رہی ہو البتہ راہ نمائی کا فقدان ہے۔ حالانکہ مشاعرہ نوخیز اور نوآموزوں کے لیے ایک درس گاہ اور تربیت گاہ تھا۔ یہاں سے ادب سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا تھا۔
    مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ مقصد کم ہی پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ جس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ مشاعرہ پھر سے افادیت سے بھرپور ہو جائے۔ اور اس سے کسی کو کچھ حاصل ہوسکے۔
    سوال : آج تخلیق ہونے ادب کے بارے اپنی رائے دیں؟
    جواب : ادبی خلوص کم ہو تا جارہا ہےجس کے پڑھنے اور پڑھانے کی ضرورت ہے۔ ادب تو شفافیت کا متقاضی ہے۔ شاعروں ادیبوں کو اپنے منصب کا احساس اور پاس ضروری ہے کہ ان کا لقب تلمیذالرحمان ہے ۔ انھیں اپنے اس عظیم مقام و مرتبہ کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے اندھیری رات میں اپنے حصے کا ادبی چراغ ضرور روشن کرنا چاہیے۔ اپنے ماضی حال اور مستقبل پر غور کریں کہ ادب نے ہمیں کیا عزت اور مقام دیا ہے اور ہم سے ادب کے لیے کیا ہو سکا ہے؟
    کچھ نئے ادبی پودے ہر ادیب شاعر کو اس فانی دنیا میں لگا کر جانا چاہیے تاکہ بعد میں یادگار تو ہو۔ گلستان ادب سنسان و ویران اور اجاڑ نہ لگے بلکہ ہمارے بعد ہماری کی گئی کوشش کی ہریالیاں اور خوش حالیاں نظر آئیں۔
    بقول شاعر
    اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
    سوال : اعزازات کے بارے بھی بتائیے گا؟
    جواب : اللّٰہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اس نے بے شمار اعزازات سے نوازا ہے۔ متعدد ایوارڈز ملے ہیں۔ مختلف ادبی تنظیموں نے بہت عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ جو کہ خالق لوح و قلم کا انعام خاص ہے۔ جس پر سراپا شکر ہوں۔
    سوال : آپ کی ادارت میں کیا کوئی رسالہ یا جریدہ بھی نکل رہا ہے؟
    جواب :جی ہاں!
    بچوں کے رسالہ ماہنامہ شعور کالاباغ کا چیف ایڈیٹر ہوں گورنمنٹ کالج کالا باغ میانوالی کے کالج میگزین "وجدان "کا نگران اعلیٰ بھی ہوں۔
    اس کے علاوہ کافی رسائل و جرائد کی مجلسِ ادارت و مشاورت میں شمولیت کا اعزاز و افتخار بھی قدرت نے بخشا ہوا ہے۔
    سوال : آپ کے ادبی کام تو ماشاءاللہ بہت زیادہ ہیں کیا کوئی تحقیقی کام بھی آپ کی شخصیت فن پر ہوا؟
    جواب: جی ہاں!
    الحمدللہ! غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان نے ایم اے سطح کا تحقیقی مقالہ 2019ء میں لکھوایا ہے ۔ جب کہ قرطبہ یونیورسٹی پشاور نے عاصم بخاری کی ادبی جہات کے موضوع پر 2020ء میں تحقیقی مقالہ ایم فل سطح پر کرائی ہے۔ مزید یہ کہ عاصم بخاری نثر پر بھی یونیورسٹی سطح پر تحقیق جاری ہے۔
    سوال: آخر میں اگر آپ کوئی پیغام دینا چاہیں تو۔۔۔۔۔؟
    جواب : نوجوان نسل کے شاعروں و ادیبوں کو ادب برائے ادب کے ساتھ ساتھ ادب برائے زندگی بھی تخلیق کرنے کی طرف شعوری طور پر راغب ہونا چاہئیے۔ موضوع آج اور عصر مسائل کا شعور ہو نا چاہیے

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • باکمال شاعر و ادیب

    باکمال شاعر و ادیب

    تحریر : مقبول ذکی مقبول، بھکر
    پروفیسر عاصم بخاری صاحب کے گاؤں کا نام ۔۔۔۔۔ پکی شاہ مردان ہے۔ پکی شاہ مردان جناح بیراج کالا باغ کے دامن میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے آباد ہے۔ جس کی تحصیل بھی میانوالی ہے اور ضلع بھی میانوالی ۔ یہ گاؤں میانوالی سے شمال کی جانب 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ میانوالی کے لوگوں کی روایت پسندی اور اقدار کی پاسداری کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
    ایک شعر ملاحظہ فرمائیں

    یہاں عورت سے موٹر وے سا برتاؤ نہیں ہوتا
    میانوالی کی مٹی میں ،وفا بھی ہے حیا بھی بے

    پروفیسر عاصم بخاری صاحب، خوش خط، خوش گفتار، خوش مزاج۔ اخلاق المختصر خوش کے زیادہ تر سابقے ان کی شخصیت پر فائق آتے ہیں۔ ادبی تنظیم بزم ادراک و آگہی کا قیام عمل میں لایا تا حال جس کے صدر ہیں۔ اس بزم کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دریاۓ سندھ کنارے، چاندنی راتوں میں فطری اور کوہستان ِ نمک کے قدرتی ماحول میں مشاعروں کا اہتمام کیا فروغِ ادب کے لئے ساز گار فضا پیدا کی ۔

    pro asim


    شعری انتخابات کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ نوآموز شعراء کی راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کی۔ اساتذہ کا کلام بہ طور نمونہ شعری انتخابوں میں شامل کر کے نوخیز ادیبوں کو اچھا ادبی نمونہ پیش کیا۔ غیر معروف شاعروں ادیبوں کو منظر عام پر لایا۔ اپنے شعری انتخابات کے ذریعے یادرفتگاں کا گوشہ قائم کیا۔ جس سے مرحوم ادیبوں کے نام اور کام کو زندہ رکھنے کی عملی اور کامیاب کوشش کی۔ ایف۔ ایم ریڈیو میانوالی کے مشاعروں میں شرکت کی۔ بچوں کے رسالے ماہنامہ” شعور "کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کالا باغ میانوالی کالج میگزین”وجدان” کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ متعدد رسائل و جرائد کی مجلسِ ادارت ومشاورت میں شامل ہیں۔ ان کی شاعری ہو یا نثر اس میں وقت کے تقاضے کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ شاعری میں فردیات اور نثر میں بھی اختصار کا دامن نہیں چھوڑتے لفظی کفایت شعاری ان کا وصف ِ خاص ہے۔
    ان کی شاعری ہو یا نثر موضوع انسان اور انسان کے مسائل ہیں۔ اپنے مخصوص اور بر جستہ لہجہ کی وجہ سے ادبی تقریبات و نظامت بہت ہی دل فریب انداز میں کر تے ہیں۔ ان کی گفتگو سے ادب اور اردو کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
    پروفیسر عاصم بخاری صاحب، باغ وبہار شخصیت ہیں۔سندھ ساحل کے فطرتی اور قدرتی ماحول نےان کی سوچ میں وسعت اور نظر میں گہرائی پیدا کی۔ زمانہء طالب علمی یعنی اسکول زمانے سے ہی ادبی رجحان پایا جاتا تھا۔ ان کے اندر علم و ادب اور لفظ دوستی کا ذوق اور مطالعہ کا شوق پایا جاتا تھا۔ جیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید جلا ملی۔
    انہیں فطرت اور قدرتی مناظر کو دیکھنے اور اس پر غور و خوض کرنے کا خوب موقع ملا۔ پروفیسر عاصم بخاری صاحب وہ نثر نگار ہے جسے قدرت نے احساس کے ساتھ ساتھ ہر وقت اظہار کی صلاحیت بھی عطا کی ہے۔ شاعری کی طرح نثر نگاری میں بھی اختصار کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ ان کی نثر میں صرف” کل "ہی نہیں "آج” بھی ملتا ہے۔
    تخلیقی و تحقیقی سفر
    نمبر 1 پتے بکھر گئے (شعری مجموعہ کلام۔۔ 2006ء)
    نمبر 2
    ظلم عورت پہ (نظمیں۔۔2007ء)
    نمبر 3
    مدح ختم الرسل (ص) (نعتہ مجموعہ کلام۔۔۔2017ء)
    نمبر 4
    فردیات عاصم بخاری (فردیات۔۔۔2019ء)
    نثر
    نمبر 1
    چراغ جہد البقا۔ 2015ء
    نمبر 2
    فسانہء محفل۔2020ء
    تحقیق
    نمبر 1
    ستار سید شخصیت اور فن (غیر مطبوعہ۔ مقالہ ایم فل)2019ء
    نمبر 2
    شنوزہ ناول ابوالمعانی عصری (تحیقی و تنقیدی جائزہ۔2014ء)
    نمبر 3
    عطا محمد شاہ کی علمی خدمات (تحقیق۔ 2017ء)
    نمبر 4
    راحت امیر نیازی فن اور شخصیت (تحقیق۔ 2018ء)
    مرتبہ شعری انتخاب
    نمبر 1
    سانجھے ویہڑے۔2002ء
    نمبر 2
    قرطاس و قلم کی دنیا۔2003ء
    نمبر 3
    سارے رنگ محبت کے۔2004ء
    نمبر 4
    اشک اشک زندگی۔2005ء
    نمبر 5
    شبیر (ع) کربلا وچ۔2005ء
    نمبر 6
    نکلے تری تلاش میں۔2009ء
    نمبر 7
    اردو کے اہل قلم شعرا۔2017ء
    منتظر اشاعت
    گردشِ ایام آپ بیتی (حصہ اول)
    تخلیقی و تحقیقی سفر
    نمبر 1
    پتے بکھر گئے (شعری مجموعہ 2006ء
    نمبر 2
    ظلم عورت پہ (نظمیں 2007ء
    نمبر 3
    مدح ختم الرسل (ص) ( نعتیں۔ 2007ء)
    نمبر 4
    فردیات عاصم بخاری (فردیات 2019ء)
    نمبر 5
    ریزہ ریزہ (فردیات ۔2020ء)
    "تم جو چاہو کرسکتے ہو”(2020ء)
    آخر میں عاصم بخاری کے تروتازہ منفرد اور خوب صورت سوچ و فکر کے حامل چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر اک صنف میں ہم نے عاصم بخاری
    کفایت شعاری سے لفظوں کو برتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لفظی تصویر دور اپنے کی
    پیش لفظوں کے روپ میں کر دی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شعر تیرے بھی مختصر عاصم
    نسل ِ نو کے لباس کے جیسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا مسلک بھی شعر گوئی میں
    مِیر ، و ناصر ، و جون والا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رشتہ گاؤں سے اب بھی قائم ہے
    گاؤ ں جاتے ہیں دفن ، ہونے کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    جس کے ساۓ میں لوگ سستائیں
    ایسا پودا کوئی ، لگا جائیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فوٹو سیشن ” کا دور ، ہے عاصم
    اس میں باتیں عمل ،کی رہنے دے

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • سر زمینِ بھکر کا ایک اور اعزاز

    سر زمینِ بھکر کا ایک اور اعزاز

    میرے بہت ہی پیارے دوست مقبول ذکی مقبول ضلع بھکر میں 1977 کو پیدا ہوئے آپ دو کتابوں”سجدہ” اور ” منتہائے فکر ” کے مصنف ہیں  ان کو ادبی خدمات کے اعتراف میں "کار ِ خیر گوجرانوالہ  میں ایک عظیم الشان تقریب کے ایک ” انٹرنیشنل مقابلہ ء کتب ” میں ان کی کتاب” منتہاۓ فکر” کو کار ِ خیر انٹرنیشنل ادبی ایوارڈ "گولڈ میڈل” مع کیش اور دیگر تحائف سے 21 نومبر 2021ء کو نوازا گیا ہے۔ جس پر قلم قبیلہ بھکر نے انھیں مبارک باد پیش کی ہے۔

    maqbool award

    ان کی اس کامیابی پر ہم کاروان قلم اٹک والے بھی مبارک باد پیش کرتے ہیں مقبول ذکی مقبول کے لیے میرے دو شعر پیش خدمت ہیں:۔

    نویدِ خوشی ہو تجھے زندگی بھر

    تجھے کامیابی کا سہرا مبارک

    نبیؐ کی  مودت سے کھلتا رہے تو

    ترا اور نکھرے یہ چہرہ مبارک


    hubdar qaim

    رپورٹ:

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

  • پروفیسر جاوید عباس جاوید سے گفتگو

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے گفتگو

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، بھکر
    ۔۔۔۔۔
    ریٹائرڈ پروفیسر جاوید عباس جاوید
    انٹرویو کنندہ:
    مقبول ذکی مقبول، بھکر
    سوال: آپ کا نام پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں؟
    جواب: میرا نام جاوید عباس ولدیت ملک غلام محمد متین کوٹلہ جامی والد صاحب کلورکوٹ میں سیکرٹری تھے۔ میری پیدائش 1957ء کلورکوٹ کی ہے۔ ابتدائی تعلیم کلورکوٹ اور میٹرک بھی کلورکوٹ سے کیا۔ ولد صاحب اردو کے معروف شاعر تھے۔ جن کی شاعری کی کتابیں 1990ء کے عشرے میں شائع ہو چکی ہیں اور ان کی شاعری پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم فل ہو چکا ہے۔
    سوال: مزید اعلیٰ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
    جواب: میں نے میٹرک کے بعد پی ٹی سی کر کے محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور پرائیویٹ ایف اے، بی اے اور ایم اے اردو بی ایڈ کے امتحانات پاس کئے۔ 2003ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    سوال: ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا؟
    جواب: میں نے ابتدائی دس سال محکمہ تعلیم سکولز میں سروس کی۔ جس کے بعد لیکچرر سلیکٹ ہو کر کامرس کالج بھکر میں سولہ سال خدمات سر انجام دیں۔ اس کے بعد گریڈ 18 میں کامرس کالج منکیرہ میں دس سال ملازمت کی اور 2017ء میں گریڈ 19 میں گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ سے ریٹائرہوا اور آج کل ریٹائرمنٹ کی پر سکون زندگی بسررہا ہوں۔
    سوال: آپ اردو نثری اور شعری میدان میں کس طرح وارد ہوئے؟
    جواب: چونکہ والد صاحب شاعر تھے اور گھر کا ماحول بھی ادبی تھا۔ اس لیئے میں نے بچپن میں ہی اردو نثر اور نظم لکھنا شروع کر دی۔ میرے بڑے بھائی ظفر عباس اور پھوپھی زاد بھائی اسدجعفری صاحب بھی بھکر کے معروف اردو شاعر ہیں۔ چنانچہ مجھے اردو شاعری اور نثر وراثت میں ملی ہے۔
    سوال: آپ کی نثری خدمات کیا ہیں؟
    جواب: میں نے گورنمنٹ کامرس کالج بھکر سے میگزین سرمایہ کے چھ ایڈیشن شائع کئے۔ گورنمنٹ کامرس کالج منکیرہ سے میگزین "ریگزار "کے دو ایڈیشن شائع کئے۔ ابتدا میں میں نے بچوں کی کہانیاں لکھیں۔ پھر کئی اخبارات میں کالم لکھے جن میں روز نامہ مرکز اسلام آباد اور بھکر ودیگر اضلاع کے اخبارات شامل ہیں۔
    بہت سے رسائل میں میرے مضمون شائع ہو چکے ہیں۔ کئی کتابوں میں میرے مضامین اور تنقیدی تبصرے شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں سے چند من درجہ ذیل ہیں۔

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے گفتگو
    مقبول ذکی مقبول اور پروفیسر جاوید عباس جاوید محو گفتگو


    نمبر 1
    مشاہیر، میانوالی، بھکر، مؤلفین جمیل احمد رانا، محمد عارف قریشی،اس میں میرے 19 مضمون شامل ہیں۔
    نمبر 2
    شکیب جلالی شخصیت اور فن یہ کتاب ذوالفقار احسن صاحب نے شائع کی ہے۔ اس میں میرا مضمون شامل ہے۔
    نمبر 3
    بھکر میں رثائی ادب "یہ کتاب نجف علی شاہ صاحب نے لکھی ہے۔اس کتاب میں میرے مضامین شامل ہیں۔
    نمبر 4
    تحصیل منکیرہ کا ادبی منظر نامہ "یہ کتاب علی شاہ مرحوم کی لکھی ہوئی ہے۔اس میں بھی میری تحریریں شامل ہیں۔
    میرا لکھا ہوا ایم فل کا مقالہ اردو غزل گو شعراء 1947ء تاحال” اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کی ویپ سائٹ پر موجود ہے۔ جس میں بھکر کے تمام شعراء پر تحقیقی مضمون شامل ہے۔
    میری نثری خدمات پر قرطبہ یونیورسٹی پشاور سے تحقیقی مقالہ بعنوان "جاوید عباس کی نثر نگاری کا فنی و فکری جائزہ۔لکھا جا رہا ہے۔
    سوال: آپ کی شعری خدمات کیا ہیں؟
    جواب: میں نے تقریباً دو سو سے زائد غزلیات اور سو سے زائد نظمیں لکھیں ہیں۔جس کا مجموعہ عنقریب شائع ہونے والا ہے۔ جس کا نام راستے آساں ہوئے ہیں۔ میرا کلام ملک کے معروف رسائل میں شائع ہوتا ہے۔ جن میں ماہنامہ تخلیق، لاہور، ماہنامہ طلوعِ اشک، لاہور، ماہنامہ ارژنگ لاہور، ماہنامہ سالیف، سرگودھا اور ماہنامہ ماہ نو، لاہور، جیسے رسائل شامل ہیں۔ پانچ مجموعہ ہائے کلام کے انتخاب میں میرا کلام شائع ہو چکا ہے۔بھکر اور گردو نواح کے مشاعروں میں اردو کلام پیش کر چکا ہوں اور اردو شعری پر تحقیقی تبصرے بھی لکھتا ہوں۔
    سوال : منکیرہ قیام کے دوران آپ نے وہاں ادبی کام کیسا پایا؟
    جواب : میں 2006ء سے 2016ء تک منکیرہ کامرس کالج میں ادبی خدمات سر انجام دیتا رہا۔ اس دوران مجھے جن ادبی شخصیات سے ملنے کا شرف ہوا ان میں سب سے اہم مرحوم علی شاہ تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں شائع کیں۔ ان کی ادبی خدمات منکیرہ کی ادبی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ اس کے علاوہ محمد اقبال بالم صاحب، مقبول ذکی مقبول صاحب، محمد نواز عاصم، بلال مہدی، اور دیگر ادبی شخصیات سے رابط رہا۔ مرحوم علی شاہ، کے بعد منکیرہ میں ادبی فضا بہت سوگوار ہے۔
    سوال: آپ ضلع بھکر میں ادبی ماحول کو کیسا پاتے ہیں؟
    جواب : ضلع بھکر میں شاعری اور نثر کے حوالے سے کئی اعلٰی شخصیات ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ ایک دور میں اسے تھل کا لکھنؤ بھی کہتے تھے اور یہاں بڑے بڑے ملکی سطح کے مشاعرے بھی ہوتے تھے۔ تعلیم کے عام ہونے سے یہاں ادبی شعور اور شوق بڑھا ہے۔ نئی نسل میں بہت سے لوگ اردو میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور یہاں سے اچھے نوجوان شاعر سامنے آرہے ہیں۔ اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ بھکر سے شعری کا ایک جریدہ شائع کیا جائے تاکہ ادبی سرگرمیوں میں مزید ترقی ہو سکے۔