Tag: ڈاکٹر غلام جیلانی برق

  • ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    پروفیسر خواجہ سعید 1921میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ۔ان کے والد میونسپل کمیٹی کیمبلپور میں سینیٹری انسپیکٹر تھے اور 1953میں ریٹائر ہوئے ۔ خواجہ سعید کی ایف اے تک تعلیم کیمبلپور میں ہوئی۔1945 میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور میں فارسی کے لیکچرار لگ گئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تیس سال اردو پڑھانے کے بعد 1981میں ریٹائر ہوئے۔انہوں نے اسی مناسبت سے اپنی روداد حیات کا نام ” گورنمنٹ کالج اور میں ” رکھا۔

    کیمبلپور میں تعلیم تین اداروں میں حاصل کی،اور تینوں جگہ چارچار سال پڑھا۔ پرائمری سکول 1955 تک چوتھی جماعت تک تھے۔پھر مڈل آٹھویں تک۔

    1924میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور شروع ہوا۔ اس میں بھی چار کلاسیں تھیں۔نویں سے بارہویں تک، یعنی نویں جماعت میں کالجیٹ collegiate کا رتبہ مل جاتا تھا۔  یہی صورتحال اس وقت پنجاب کے آٹھ اور کالجوں میں بھی تھی۔

    کیمبلپور میں ایک ہی پرائمری سکول تھا۔1926 میں خواجہ سعید اس میں داخل ہوئے۔چوتھی میں وظیفے کا امتحان تھا۔ سارےضلعےسے لڑکے مڈل سکول میں امتحان دینے آئے۔حساب اور اردو کا تحریری ٹیسٹ تھا،جغرافیہ کا زبانی تھا ،پورا دن ٹیسٹ ہوتا رہا۔ سعید کو چار سال کے لئے چار روپے ماہوار سکالرشپ ملا۔

    ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    ساتویں کلاس میں استاد کمزور بچوں کو فارسی اور لائقوں کو عربی پڑھاتے تھے۔سعید کا نام عربی مضمون میں لکھا گیا۔پھر اس نے لڑجھگڑ کے فارسی کو لیا۔آٹھویں کلاس میں Tonsils کا آپریشن مشن ہسپتال ٹیکسلا سے کروایا۔  اورحسب دستور خوب آئس کریم کھائی۔

    نویں میں فارسی اور سائنس کے مضمون لئے اور تھرڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ ایف اے میں انگلش ، فارسی،تاریخ اور حساب پڑھا اور سیکنڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ فرسٹ ڈویژن بہت کم لوگوں کی آئی تھی۔

    کالج کی طرف سے لڑکوں کو ٹیکسلا اور اٹک قلعہ کی سیر کرائی گئی۔ ابیٹ آباد سے پیدل  مری کئی دنوں کا سفر کرایا گیا۔

    کیمبلپور میں صرف ایف اے تک کلاسیں تھیں ۔اس کے بعد لڑکے اسلامیہ کالج پشاور یا گارڈن کالج راولپنڈی چلے جاتے تھے۔ سعید کو آبائی شہر سیالکوٹ میں مرے کالج میں داخل کرا دیا گیا۔

    ایم اے فارسی کے بعد سعید صاحب نے زمیندارہ کالج گجرات بطور لکچرر جائن کرلیا.  1945 میں ڈاکٹر برق محکمہ سول سپلائی میں افسر تعلقات عامہ بن گئے۔انکی جگہ خواجہ سعید  1946 میں کیمبلپور کالج آ گئے۔اس وقت R.B.Seth رام بھیجا مل سیٹھ پرنسپل، مہاویر سنگھ  وائس پرنسپل اور مرزا انعام بیگ عربی کے استاد تھے۔ اجمل صاحب اردو ، صدیق کلیم اردو ، سید مختار حسین ریاضی۔سید فضل علی فزکس کے استاد تھے۔

    ایک موقع پر مرزا انعام نے کالج میں تقریر کی۔ اس کے بعد حسب سابق برق صاحب سٹیج پر پہنچ گئے اور اپنی جوابی تقریر میں مرزا صاحب کا خوب مذاق اڑایا۔ خواجہ سعید نے اجازت لے کر جوشیلی جوابی تقریر کی  ۔اس میں برق صاحب کے دلائل کا رد کیا اور ان کے انداز بیان کا مذاق اڑایا۔ کالج ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔کالج کے اساتذہ کو  برق صاحب کی طرف سے مرزا صاحب کا مذاق اڑانا پسند نہ تھا۔ لیکن سب خاموش تھے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے،ان سب کی طرف سے سعید صاحب نے جواب الجواب تقریر کرکے فرض کفایہ ادا کیا۔اس طرح مرزا صاحب کی جان چھوٹی۔

    پاکسان بننے کے بعد مرزا رشید انڈین ایجوکیشن سروسز IES پرنسپل بنے۔ وہ رہتک میں پرنسپل تھے۔ نومبر 1947  میں خالی ہاتھ ہوائی جہاز سے پاکستان آئے۔

    انہی دنوں ڈاکٹر برق کالج واپس آ گئے۔اس وجہ سے خواجہ سعید کو اٹک کالج چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے چند ماہ سنٹرل ماڈل سکول لاہور اور ہائی سکول کیمبلپور میں پڑھایا ۔1950 میں ان کو گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرر شپ مل گئی

  • اوراق انوار – اوّل

    اوراق انوار – اوّل

    شخصیات اٹک کے حوالے سے علماء و مشائخ اہلسنت کے احوال کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کا ایک باب اوراق انوار کے عنوان سے جناب حضرت علامہ قاضی انوار الحق رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں قائم کیا گیا ہے۔ اس میں ان کے احوال پرچیدہ و چنیدہ مضامین شائع کیے جائینگے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا مضمون ہے جو قبلہ نذر صابری مرحوم و مغفور کی تحریر ہے۔

    آغا جہانگیر بخاری

    مولانا قاضی انوار الحق رحمۃ اللہ تعالی

    تحریر : نذر صابری مرحوم

    میں 1948ء کے شروع میں ہی کیمبل پور آگیا تھا۔ راجہ نذیر کے پڑوس میں مکان تھا۔ کالج کو آتے جاتے ان کی دوکان کی طرف قدرتی طور پر نظر اُٹھ جاتی تھی، وہاں ایک شخص متناسب الاعضا، شلوار، اچکن اور طرہ دار پگڑی میں گاہے گاہے نظر آتا تھا۔ کچھ عرصے بعد تجسس یہ خبر لایا کہ شمس آباد کے ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ تقسیم ملک سے کچھ عرصہ قبل ریاست جونا گڑھ کے مفتی اعظم رہ چکے ہیں۔ ابھی جامعہ حنفیہ کا وجود عمل میں نہیں آیا تھا۔ میں نماز مرکزی جامع مسجد میں ادا کیا کرتا تھا۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ ان دنوں خطیب تھے اور یوں وہ اس مسجد کے پہلے پاکستانی خطیب ٹھہرے۔وہ پیشہ کے اعتبار سے طبیب تھے۔ بازار میں ان کو ایک دوکان الاٹ ہوگئی تھی۔ اہل درد میں سے تھے۔ حلیم الطبع، خوددار، متوکل، حق گو، نرم گفتار اور جوش محفل تھے۔ وعظ میں زیادہ تر مردانِ خدا کا ذکر اور ان کی سیرت و فضائل کا تذکرہ ہوتا تھا۔وہ زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکے، مسجد کی انتظامیہ سے بیزار ہوکر لاہور چلے گئے اور وہیں بیگم شاہی مسجد میں خطیب ہوگئے۔ ان کے بعد مولانا زاہد الحسینیؒ خطیب مقرر ہوئے۔ وہ دیوبند کے فاضل اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ اس نسبت سے حسینی کہلاتے تھے۔مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلیفہ مجاز تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی۔ وہ مقامی آدمی تھے ، مقامی سیاست کو اچھی طرح سمجھے ہوئے تھے، سنبھل کر چلتے رہے۔ دس جنوری 1953ء کو مولانا ایبٹ آباد میں پروفیسر ہو کر چلے گئے۔ اب مسجد کی انتظامیہ کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ نمازی واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے۔ خطیب کے انتخاب پر دونوں گروہوں میں ٹھن گئی اور یہ رسہ کشی دیر تک چلتی رہی۔ بظاہر اس کو مہاجروں کی شرارت قرار دیا گیا، مگر اصل میں اس کی بنیاد دیوبندی اور بریلوی عقائد کی دیرینہ کش مکش پر تھی۔ حالات کو ناقابل اصلاح پا کر بریلوی عقائد ولوں نے بازار والے مدرسے سے ملحقہ ‘جنج گھر’ میں نماز ادا کرنا شروع کردی۔ مرکزی مسجد والوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور شہر میں سرد جنگ شروع ہوگئی ۔کبھی کہتے مندر ہے, اس میں نماز نہیں ہو سکتی ,کبھی کہتے یہ مسجد ضرار ہے,کبھی مہاجروں کی مسجد کا نام دیتے اور ضلعی افسروں کے بھی کان بھرتے رہے۔

    Qazi Anwaar Ul Haq
    مولانا قاضی انوار الحق رحمۃ اللہ تعالی

        بالآخر فیروز خان نون کے دورِ اقتدار میں خواجہ محمد شریف کی مساعی جمیلہ سے یہ جگہ  مسجدکےطور پر الاٹ کر دی گئی ۔مولوی خوشی محمد اس کے پہلے خطیب ہوئے ۔وہ ایف ۔پی ۔ او میں ملازم تھے۔علوم دینی پر اچھا خاصا عبور رکھتے تھے اور اپنے عقائد کے اظہار میں ننگی تلوار کی طرح تھے۔مخالف گروہ اس قسم کےمتشدد کو کب برداشت کرتا تھا ۔افسرانِ بالا سے مل کر انکو یہاں سےبدلوا کرچھوڑا۔ان کے بعد مولانا قاضی انوارالحق ،وہی جن کو بار بار پہلے نذیر کی دوکان پر دیکھتا رہا تھا،حنفیہ کے خطیب مقرر ہو کر آئے۔

     مولانا انوارالحق کے دورِ خطابت کے شروع میں جب کہ وزیرِ اعلیٰ فیروز خان نون تھا ۔محکمہ آ باد کاری کے کمشنر شیخ منظور الہیٰ تھے۔یہ جگہ مسجد اور مدرسے کےلئے باقاعدہ طور پر الاٹ ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی مخالفت کا ایک دور اپنے اختتام کو پہنچا ،مگر اب ایک دوسرے محاذ پر لڑائی شروع ہو  گئی ۔مولانا کی ذات کو ہدفِ تنقید بنایا جانے  لگااور مختلف قسم کی الزام تراشی شروع کر دی۔

            میں نے گھر پر ایک خصوصی تقریب میں چند احباب کو شام کے کھانے پر دعوت دی,اس میں مولانا بطورِ خاص مدعو تھے۔ہمارے مکان کے ساتھ کوئی بیٹھک نہيں تھی,لہٰذا راجہ نذیر احمد (پڑوسی )کی بیٹھک میں اہتمام کیاگیا ۔میں مولانا کے پاس بیٹھا تھا ۔سید محمود کوثر بھی ساتھ تھے۔کھانے کے بعد کوثر نےمجھ کو ایک پان دیا ۔کھایا تو میرا سر چکرانے لگا,جیسے زلزلہ آ گیا ہو ۔میری سراسیمگی دیکھ کرمولانا نے پوچھا !میرے بتانے پر انہوں نےمسکرا کر فرمایا !کوثر نے شرارت کی ہے۔تمباکو والا پان کھلا دیا ہے،فکر نہ کریں ابھی تھوڑی دیر میں یہ کیفیت رفع ہو جائے گی۔میں نے شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اپنی کامیابی پر مسکرا رہے تھے ۔کوثر سے پہلی ملاقات 7,ستمبر 1953ء,(سعداللہ کلیم کی شادی کی تاریخ )کے کچھ بعد ہوئی ۔لہٰذا گمان غالب  ہے کہ مولانا کےساتھ اس سے پہلے  راہ ورسم آشنائی قائم ہو  چکے تھے۔

    علامہ قاضی انوار الحقؒ کی زمانہ طالب علمی  کی تصویر گورنمنٹ کالج کیمبل پور
    علامہ قاضی انوار الحقؒ کی زمانہ طالب علمی کی تصویر گورنمنٹ کالج کیمبل پور

    مولانا بالعموم  عصر کے وقت شہر  آتے تھے ۔ نماز  مغرب اور عشا پڑھ کر جاتے تھے،بار بار ایسا ہوا کہ نمازِ عشا سے فارغ ہو کر کچھ نمازی مشایعت کی خاطرمولانا کے ساتھ دور دور تک چلے جاتے تھے ۔مولانا کو معلوم تھا کہ میں چائے کا بڑا رسیا ہوں ۔راستے میں چائے کی کسی دوکان پر رک جاتےاور چائے کا دور چلتا ۔مٹھائی کا پوچھتے توبے تکلف ہاں کہہ دیتا۔میرے ساتھ والے اس پر مجھے کہنی مارتے،میں کہتا علماء کا رزق بہت بابرکت اور پر نور ہوتا ہے۔یہ نعمت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔کبھی چلتے چلتے ان کےگھر پہنچ جاتے۔وہاں خوب تواضع فرماتے ۔وہ کھلا پلا کر بہت خوش ہوتے تھے ۔

           جن دنوں مولانا نے عشا کے بعد مشکوٰۃ شریف کا درس دینا شروع کیا,میں نے بالالتزام درس میں شرکت شروع کر دی,مگر درس کے دوران اونگھتا اور سوتا رہتا,جی ہی جی میں شرمندہ تھا کہ کس درجے بد بخت ہوں ۔حدیث پاک کے درس میں سویا رہتا ہوں,اس سے بہتر ہے کہ آیا ہی نہ کروں۔آخر یہ کیا ہےاور کیوں ہے؟ایک روز میں نے مولانا سے اپنی ساری کیفیت کہہ ڈالی۔فرمانے لگے!حضور پاکﷺ کی حدیث ماں کی لوری کی طرح ہے۔تمہاری روح بہت پاکیزہ اور لطیف ہے,اس کو سن کر جھومتی رہتی ہے۔مجھے گمان تک بھی نہ تھا کہ مولانا میری اس بد بختی کوسعادت کا ایسا خوبصورت لباس پہنا دیں گے کہ کل قیامت میں سرور انبیاء ﷺ سے واسطہ پڑے گا تو نہ جانے وہ خطا پوش و کریم میری خطاؤں اور سیاہ کاریوں سے کیا معاملہ کریں گے۔یقیناً ان کی نگاہِ کرم بھی میری بدیوں کو نیکیوں کا لباس پہنا دے گی۔         ایک بار کالج میں تشریف لائے تو ایک ساتھ ہی اٹھے ،راستے میں,میں نے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص حضور ﷺ کو خواب میں دیکھے ,مگر صورت ایسی ہو کہ اس کی طبیعت مطمئن نہ ہو رہی ہو توکیا  ؟ارشاد فرمایا : اس نے خواب میں یقیناً حضور ﷺ کو دیکھا ہےالبتہ اس کے دل کا آئینہ گدلا اور نا صاف ہے ۔جس کی وجہ سےآپ ﷺ کی صورتِ زیبا اچھی طرح منعکس نہیں ہو پاتی۔

     5 اکتوبر 1957 ء کو مولانا کی صدارت  میں محفل شعر و ادب کا افتتاحی  اجلاس جامعہ حنفیہ میں میں منعقد ہوا۔ جو عرس نعتیہ مشاعرہ پر مبنی تھا۔ مولانا نے میری نعت کو خاص طور پر پسند کیا  اور اس کی ایک نقل طلب کی۔ایک دو بار بعد میں انہوں نے تقاضا کیا۔میں ہر بار کہتا رہا کہ خوش خط لکھوا کر آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ مگر افسوس یہ وعدہ کبھی پورا نہ کر سکا,اس لئے مجھے اپنی کم کوشی پر جس قدر بھی افسوس ہو کم ہےاس مشاعرے کے بارے میں بعض حلقوں میں یہ کہا جانے لگا کہ لو جی!اب تو مسجد میں بھی مشاعرے ہونے لگے ہیں۔ان کو مشاعرے کا لفظ تو یاد رہا، مگر نعتیہ کا سابقہ نظر انداز ہو گیا۔ہم خوش تھے کہ چلو کسی رنگ میں ہی سہی،مخالف نے اسے مسجد تو تسلیم کر لیا

            2نومبر 1957 ء کو سید کوثر کے گھر پر بابا بہرام چشتی کی صدارت میں بڑی گیارہویں شریف کا عرس ہوا۔ مضامین اور عربی مشاعرہ کے بعد قوالی کا پروگرام تھا۔مولانا مشاعرہ تک تشریف فرما رہےاور قوالی سے پہلے رخصت ہو گئے ۔گوانھوں نے کبھی سماع کی مخالفت نہیں کی,مگر خطیب شہر ہونے کے ناطےان کا اٹھ جانا بہتر تھا ۔ورنہ مخالفت کا ایک اور باب کھل جاتا۔5/فروری 1959ء مولانا ہی کی  صدارت میں جامعہ حنفیہ "میں ایک اور نعتیہ طرحی مشاعرہ ہوا۔اس اجلاس کے خلاف کوئی آواز سنائی نہیں دی۔شاید بات ان کو سمجھ آ گئی تھی ۔25 جنوری 1970ء کے جشنِ معراج اور 20 مارچ 1970ء کے یوم بو ترابؑ ” میں بھی وہ صدرِ محفل تھے۔ان دونوں مواقع پر انھوں نے خطبہ صدارت میں اپنے حکیمانہ افکار وتصورات سے نوازا۔

            13مئی 1970ءکو خاندانی منصوبہ بندی کے اہم مسئلے پر ایک مجلسِ مذاکرہ منعقد ہوئی ,اس کے صدر بھی مولانا ہی تھے۔شہر کے سر برآوردہ اہلِ علم نے اس میں بھر پور حصہ لیا۔یہ پوری کارروائی رقم الحروف نے ملک عنایت الہیٰ کی فرمائش پر مرتب کی اور ان کے مجلے "نئی کرن”میں شائع ہو کر دادوتحسین کا باعث ہوئی ۔شہر کے علمی وادبی حلقوں نے بڑا سراہا اور ساتھ ہی مولانا کی تجدد پسندی پر حیرت کا اظہار بھی کیا ۔ مذاکرہ سے چند روز قبل مولانا کو کالج لائبریری سے اس موضوع پر چند کتابیں فراہم کی گئی تھیں۔مجھے اچھی طرح یاد ان میں ایک کتاب مولانا مودودی کی اسلام اور ضبطِ  ولادت "بھی تھی اور دوسری  کے مصنف مولانا  جعفر شاہ پھلواری تھے۔

    یہ مولانا ایک  عظیم   علمی اور روحانی شخصیت (شاہ سلیمان پھلواری ؒ ) کے فرزند تھے مگر ان میں باپ کی عظمتوں کا کوئی رنگ نہ تھا ، تقسیم  سے قبل وہ کپور تھلہ کی شاہی مسجد کے خطیب رہے ہیں اور پاکستان بنا تو”ادارہ ثقافت اسلامیہ "کے رکن ہو گئے ،سرکاری مولوی ہونے کے ناطے ان کی تحریروں کا حکومتی پالیسی سے ہم آہنگ ہوناضروری تھا۔

            27نومبر 1972ء”یوم رومی و تبریزی ” منایا گیا تو اس کی صدارت برگیڈیئر گلزار  احمد نے کی۔صدر کے علاوہ دیگر مقررین میں مولانا محمد زاہد الحسینی ,ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور مولانا انوارالحق کے نام شامل تھے،اجلاس بہت بھرپور تھا۔محفل نے تمام تقاریر کو ایک کتابی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔صدر اور مولانا زاہد الحسینی کی تقریریں لکھی ہوئی تھیں ۔جب کہ ڈاکٹر برق اور مولانا کی تقاریر برجستہ تھیں ۔اشارات کی مدد سے میں نے ڈاکٹر کی تسویدکی اور پھر ان کو دکھانے کےلئے پبلک سکول گیا۔لطف کی بات ہے کہ انہوں نے میری کاوش کی بہت تعریف کی اور پوری تقریر میں صرف ایک جملے کو قلم زد کیا۔اس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ۔ایسی ہی تقریر لکھ کر مولانا  قاضی انوارالحق کے روبرو لے گیا تو ردِ عمل مختلف تھا۔انہوں نے میری تقریر رکھ لی اور چند روز کے بعد خود اپنی تقریر لکھ کر میرے حوالے کی اور میری لکھی ہوئی تقریر کو واپس نہیں کیا۔ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاہو گا,اگر وہ ساتھ میں لکھی ہوئی تقریر بھی واپس کر دیتے تو مجھے اپنی کاوش پہ نظر ثانی کا موقع ملتا۔جو شخص ڈاکٹر برق سے داد پا چکا ہو،مولانا کے رویے پر بگڑنے کےلئے اس کے پاس اچھا خاصا مواد ہو سکتا تھا،مگر سفرِ محبت اس پر بھی جاری وساری رہا۔

    اس کے بعد مولانا کچھ مدت کےلئے تبلیغی دورے پر جنوبی افریقہ تشریف لے گئے ۔ان کی عدم موجودگی میں راولپنڈی سے ہر جمعہ کو ڈاکٹر محمد یوسف نام کے ایک شخص آتے رہے ۔خوش الحان مگر ان کا مبلغ علم قصہ کہانیوں سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔داستان گومولوی تھے اگر ان کو مولوی  کہا جا سکتا ہے تو ۔تاہم ان کی ترنم اور داستان گوئی نے عوامی زخموں کو بہت متاثر کیا۔سالہاسال کی خطابت نے عوام   کے دلوں میں اگر کچھ دینی شعور پیدا بھی کیا تھا تو ایک قصہ خوان مولوی اس کو چند دنوں میں اپنے ترنم کے ساتھ بہا کر لے گیا۔خدا خدا کر کےاس واعظ سے نجات ملی اور مولانا دوبارہ اپنے منصب پر فائز ہو گئے ۔

         18مئی1979ء کو مولانا انوارالحق کے بڑے لڑکے محمد قاسم کی شادی تھی۔مجھے  دعوت تو تھی ,میں اس لیئے شامل نہیں ہوا کہ دو ماہ قبل میری بیٹی کی شادی میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔اور نہ بعد میں عذر و معذرت کسی قسم کا انکی زبان پر آیا۔اگلے روز مولانا زاہد الحسن کی زبانی معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ میں دو قسم  کا کھانا تھا ۔ایک عوام کے لیے اور دوسرا خواص کے لیے ۔       14/اپریل 1974ء کو کالج لائبریری میں سیرت النبی ﷺکے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس کا اہتمام کیا گیا تھا ۔مولانا عبدالرحمن طاہر سورتی ,رکن تحقیقات اسلامیہ ,اسلام آباد بطورِ خاص مدعو تھے۔طاہر سورتی کی تقریر اہلِ شہر کےلئے نہیں تھی ۔انہوں نے بڑی آزادی سے اسلامی معاشرے پر تنقید کی اور اسلامی اداروں کی روایت پرستی کو ہدفِ تنقید ٹھہرایا ۔اس کو ہمارے بعض دوستوں نے پسند نہیں کیا تھا۔مولانا انوارالحق کی تقریر ختمِ نبوت ﷺکے موضوع  پر تھی ۔لوگوں نے اسے بہت پسند کیا۔مولانا نے یہ دلائل اس گروہ کو خارج از اسلام قرار  دیا اور فتویٰ یہ دیا کہ :”جو حضور ﷺکو معروف معنوں میں آخری  نبی ﷺ نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہے "میرا اپنا بھی دل خوش  ہوا ,ایمان میں تازگی آئی ۔ہمارے اس اجلاس کے کچھ ماہ بعد ملک بھر میں تحریک ختمِ نبوت ﷺ زور پکڑ گئی اور ہر شہر اور قریہ میں قادیانیوں کے خلاف زبردست مظاہرے شروع ہو گئے ۔علما ہر اول دستوں میں تھے ۔شہر کی قیادت مرکزی جامع مسجد کے خطیب قاری خلیل کے ہاتھ میں تھی۔

    14دسمبر 1974ء میں غالباً قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا,تاہم تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ۔قادیانیوں کے بارے میں بعض اور مسائل بھی طے ہونا باقی تھے ۔غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کی زندگی کے مختلف  شعبوں پر اثرات مرتب ہوتے تھے ۔ لہٰذا  تحریک جاری رہی ۔۱۲/جنوری ۱۹۷۵ کو فوارہ چوک میں علماء کا ایک بڑا  اجتماع ہوا،ہر مکتبہ فکر کے عالم نے  شرکت کی۔

       14 ستمبر 1967ء مطابق  19/جمادی الثانی  1387ھ کو ساڑھےسات بجے شام حاجی عبدالعزیز کی دوکان پر مولانا انوارالحق کے ساتھ  ملاقات  ہوئی اور مختلف مسائل زیرِ بحث   رہے ۔پرنسپل   ظہور احمد, شیخ قبد الحمید سہروردی,ملک محمد اکرم(شمس آباد )ڈائریکٹرمحکمۂ تعلیمات راولپنڈی (ثریا سلیم )اور کمشنر پنڈی ڈویژن کا تذکرہ ہوتا رہا ۔میرے سر میں ہلکا ہلکا درد تھا،میں نے نگاہ کی کمزوری کا ذکر کیا تو انہوں نے عینک لگانے پر زور دیا اور ساتھ میں یہ بھی تجویز تھی کہ پرانے سے پرانا شہد اگر مل سکے تو دونوں آنکھوں میں اس کی ایک ایک سلائی ڈالیں ۔بصارت کےلئے بہت مفید ہے۔اس محفل میں میرے نبیﷺ کے معجزات کا بھی ذکر آیا۔سائنس کی طرف سے شق القمر کی تصدیق کا تذکرہ ہوا،یہ بھی ذکر آیا کہ نبیﷺ نور ہیں تو بھی اور اگر بشر ہیں تو بھی سراپا اعجاز ہیں ۔نور کھاتا پیتا نہیں اور بشر عرش پر جا نہیں سکتا ؛یہاں یہ دونوں اوصاف موجود ہیں۔

              پروفیسر اشفاق علی خان کو یہاں آئے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔پروفیسر محمد عثمان ،کالج میں اور کالج سے باہر بھی اکثر ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ایک  دن مولانا نے احتجاجاً پوچھاکہ تمہارا پرنسپل اور پروفیسر محمد عثمان ,شام کو خشک میوے کی دوکان کے سامنے سٹول پر بیٹھ کر چلغوزے وغيرہ کھاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔میں نے گزارش کی کہ پروفیسر اشفاق علی خان نیا آدمی ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ,ممکن وہ طبعاً عوام پسند ہو مگر,مگر پروفیسر عثمان کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں ,اس کا یہ اصلی رنگ نہیں۔یہ لوگ تو اپنے شاگردوں کو بھی ایک فاصلے پر رکھنے کے عادی ہیں۔اس کا کوئی مقصد ہے ,جس کی وجہ  سے وہ اشفاق علی خان کےاس درجے قریب نظر آتا ہے اوران کے ساتھ عوامی سطح پر اترنا بھی گوارا کر رہا ہے۔میرا اندازہ بالکل درست نکلااور جلد ہی پروفیسر عثمان یہاں سے تبدیل ہو کر گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے ۔یہ ان کی دیرینہ آذرش تھی۔

    شروع شروع میں ،جب میں چوبارہ میں رہا کرتا تھا ، بچے زیادہ تر بیمار رہتے تھے ۔بعض اوقات مولانا سے تعویذ لیتا تھا ۔ایک دفعہ تعویذ لیا،شفا ہو گئی ۔مگر کچھ دنوں  بعد شکایت عود کر آئی۔میں نے گزارش کی تو پوچھا:تعویذ کا کیا کیا تھا؟میں نے کہا گھر میں پڑا ہے فرمانے لگےکہ’اس کو شہر سے دور  کسی بیری کے بلند درخت کی بلند شاخوں  سے باندھنا تھا’۔میں نے ایسے  ہی کیا تو شکایت  دور ہو گئی ۔ایسے  ہی ایک اور موقع  پر  تعویذ  دیا  بیماری  سے صحت کے بعد اس کو بھی گھر میں رکھ چھوڑا ،شکایت  کا اعادہ ہوا تومولانا  سے ملاقات   پر معلوم  ہوا کہاسے صاف پانی کی کسی ندیا میں بہا دینا تھا۔,چنانچہ ایسا ہی کیا  تو آسیب رفع ہوگیا ۔ یہ ایک عام سا واقعہ ہے مگر اس کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مولانا عامل بھی تھے اور اس طریقہ  علاج میں کچھ رکھ رکھاؤ اور پرہیز ہوتی ہے، بلکہ زیادہ ہی ہوتی ہے,ورنہ سفلی الٹ بھی جاتی ہےاور شدید ردِ عمل رونما ہو سکتا ہے۔

          ایک دفعہ حاجی عبدالعزیز کک دوکان سے نمازِ ظہر کےلئے اکٹھے اٹھے۔فوارہ چوک سے مسجد کی طرف مڑے تو ایک شخص نے مولانا سے ملاقات کے دوران یہ سوال کیا کہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے ایک مرید نے خواب میں ان کو دیکھاہے کہ فلاں کلمہ پڑھ رہا ہے۔مرید نے مولانا سے اس پراگندہ خواب کا ذکر کیا تو مولانا تھانوی ؒ نے اس کی تردید نہیں کی ۔قاضی صاحب کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا کہ اس کو دیو بندی کی طرف لوٹا دیتے کہ ان سے جا کر پوچھو۔سائل سےفرمایا کہ’مرید اس وقت فنانی الشیخ کی منزل میں تھے۔خواب میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے’ ۔اس واقعہ سے مولانا کی سلامت روی کا پتا چلتا ہےکہ وہ علمی ذمہ داریوں کا کس درجہ تصور رکھتے تھےاور کس علمی دیانت داری سے لوگوں کی رہنمائی کا سامان فراہم کرتے تھے ،جو فتنہ فساد کا باعث ہو۔ممکن تھا کہ وہ آدمی امتحان لے رہا ہو یا اس کا تعلق کسی مخالف گروہ سے ہو ۔میں نے اس کو پہلی دفعہ دیکھا تھا۔

                17 مارچ 1963ءکو غلاف کعبہ کی زیارت کے لئے  چند دوستوں کے ساتھ  سٹیشن  کی طرف  گیا , بے پناہ  ہجوم تھا  ۔خلقِ خدا  ٹوٹی  پڑ رہی تھی ۔عورتیں اور  بچے بھی  اس سیلاب  میں پھولوں  کی طرح  تیرتے  نظر  آ رہے تھے  ۔ہر ایک کی یہی خواہش  تھی کہ دیدار  سے آگے بڑھ کر لمس کی سعادت بھی حاصل  کر لیں ۔میرے  دبلے  پتلے کمزور  جسم  نے اس کی اجازت  نہیں  دی کہ ہجوم  کو چیر لر غلافِ  کعبہ  تک پہنچوں  اور اس کے دامن کو آنکھوں  میں سرمے کی طرح  لگاؤں ۔ایک گروہ  نے ملک میں اس کی نمائش کی مخالفت کی  تھی اور اس کو توہینِ  شعائر  کے مترادف  قرار  دیا تھا ۔ اس موقع  پر مولانا  انوارالحق نے ہجو م سے خطاب  کیا اور زیارت غلافِ  کعبہ  کو سعادت مندی  کا بڑا نشان  ٹھہرایا ۔میں نے زیارت سے قبل  مولانا  سے مصافحہ کیا تھا۔ اور اس کو اپنے لیے نیک فال سمجھا تھا۔کیونکہ مولانا  غلافِ  کعبہ  کے بہت نزدیک  سے خطاب  فرما رہے تھے۔

    11 دسمبر 1981ء  کی صبح گھر پر ایک تنقیدی اجلاس منعقد ہوا,مولانا  اختر شادانی نے اس کی صدارت  فرمائی ۔مولوی فضل الہیٰ کا مضمون زیرِ بحث تھا ۔محفل کے یارانِ کہن سبھی شریکِ اجلاس تھے۔ گیارہ بجے محفل  برخاست ہوئی ۔سب لوگ اپنی اپنی منزل کےلئے روانہ ہوئے ۔میرے پاس صرف پروفیسر اشرف الحسینی رہ گئے تھے ۔ہم نے اسکول کی مسجد میں وضو کیا اور نماز کےلئے "جامعہ حنفیہ ” چلے گئے ۔تقریر روک کر خطیب نے یہ اعلان کیا کہ مولانا انوارالحق کا وصال ہو گیا ہےاور ان کی نماز جنازہ ساڑھے آٹھ بجے شام عید گاہ میں ادا کی جائے گی ۔اس کے ساتھ ہی ذہن اس بات کی طرف تیزی سے لوٹ گیا،جب کہ محفل "شعر و ادب ” کا پہلا اجلاس اسی مسجد میں مولانا کی صدارت میں ہوا تھا اور یہ کیسی اتفاق کی بات ہے کہ آج جب عالمِ نزع میں تھے تو محفل کا اجلاس جاری  تھا۔

    مرقد منوّر
    مرقد منوّر

              نمازِ جنازہ میں شامل ہوا چودھویں کا چاند مشرق میں کوئی دس درجہ کے زاویہ  پر چمک رہا تھا  اور کرنیں پورے منظر گاہ کو ایک ہالہ نور کی طرح اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھیں ،جیسا کہ ایک ایک سے گلے مل رہی ہوں اور مولانا سے مل رہی ہوں اور مولانا کے کفن سے لپٹ کر ان کو اپنا آخری سلام کہہ رہی ہوں ۔نہ جانے کیسے کیسے ، کون کون اور کہاں کہاں سے لوگ جنازہ میں شریک  تھے۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ آسمان سے قدسیوں کی ایک جماعت اتر آئی ہے اور ان کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔

              اس سیل ہجوم میں جو مولانا کا آخری دیدار کرتا ہوا گزر رہا تھا,وہ شخص بھی ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کےساتھ شامل تھا ،جو ان کو دیکھ کر رستہ بدل لیتا تھا،سامنے آتے تھے تو آنکھیں چراتا تھا ،آج وہ اپنی نظروں کو ان کے چہرے پر گاڑے ہوئے تھا ،مگر وہ آنکھ اٹھا  کر دیکھ نہیں رہے تھے ۔

    غلام محمد نذر صابری مرحوم

    سابق لائبریرین: گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

    بانی : محفل شعر ادب کیمبل پور

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کامل پور سیداں کے شرق میں ناز سینماء سے لیکر پولیس لائین تک اور اس کے عقب میں اسٹیڈیم تک ، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بلاک ، اعلی افسران کی رہائش گاہیں ، کمپنی باغ ، سروسز کلب ، ڈیپٹی کمشنر ہاوس اور دیگر سرکاری عمارات ہیں ۔ اسی طرح  سیشن کورٹ اور کچہری کے بیچ ، صدر پولیس اسٹیشن کے بالمقابل ، سادات کامل پور سیداں کا آبائی اور قدیمی قبرستان ہے ، جس کے اندر اپنے وقت کے ولی ، بابا توکل شاہ عرف کبوتراں والا بابا ، کا مزار ، مرجع خاص و عام ہے ۔

    اس سے ملحق جانب سڑک ، ایک تکونی قطعہ اراضی کو بلدیہ نے ، بچوں کی تفریح اور کھیل کود کے لئے ، جھولے اور کچھ پودے لگاکر ، زیارت پارک کے نام سے باغ میں تبدیل کردیا ہے ۔ یہ پہلے سے موجود نہ تھا ۔ اسی پارک کی شمالی سمت پہ ، سڑک کے ساتھ کبھی کیمبل پور کا اولیں اور اکلوتا پیٹرول پمپ ہوا کرتا تھا ، جو سیدن گاوں کی شیخ فیملی کی ملکیت میں رہا ، اب وہاں ایک کمرہ باقی ہے ، پیٹرول پمپ ندارد ۔  آجکل تو ڈیجیٹل کا زمانہ ہے ، اس وقت ہر شے مکینیکل ہوا کرتی تھی ، شیخوں کے اس پمپ پر گاڑیوں میں تیل ڈالنے کے لئے جو مشین لگی ہوئی تھی ، اس کے درمیان میں ڈیجیٹل میٹر کے بجائے ، شیشے کے دو گھڑے نصب تھے ۔ قریب ہی ایک ھینڈل لگا تھا جب تیل بھرنا مقصود ہو تو پمپ کا ورکر ،اس ہینڈل کو گھماتا تھا ، جس طرح جنریٹر یا کسی بھی  انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لئے ، ھینڈل گھمایا جاتا ہے ۔ اسطرح پیٹرول ، زیر زمین ٹینک سے ان گھڑوں میں بھر کر گاڑی کے پیٹرول ٹینک تک چلا جاتا ۔ یہ گھڑے پیمانہ تھا ، ایک خالی ہوتا تو دوسرا بھر جاتا اور بھرنے والا ان کا شمار کرتا رھتا کہ کتنے گھڑے یا گیلن پیٹرول ڈال دیا گیا ۔

    کچھ قارئین کو شاید یہ تفصیلات پسند نہیں ، لیکن تاریخ نویسی اور نقشہ نویسی میں فرق ہوتا ہے ، مجھے کسی گم شدہ فرد کو شہر سے نکلنے کا راستہ نہیں دکھانا بلکہ نئی نسل کو پرانے شہر اور اس وقت کے طرز زندگی سے روشناس کرانا ہے ، جو اب موجود نہیں ۔

    میرے خیال سے شہر کے گلی کوچوں ، اور محلوں کی ، اس وقت کی تصویر آپ پہ واضع ہوچکی ہوگی ۔ اگلے ابواب میں ، یہاں آباد لوگوں کے طرز زندگی ، مشاغل ،  سماجی روایات ، کھیل کود ، علمی ادبی، سیاسی و تجارتی سرگرمیوں اور اہم شخصیات پہ بات ہوگی ، لیکن اس سے پہلے شھر کے گرد و نواع کا ایک جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی آبادی ، اپنے گردونواع سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

    کیمبل پور کے شمال میں کامرہ ، پنڈ سلمان مکھن ،  مدروٹہ ، ٹھیکریاں اور حاجی شاہ وغیرہ کے مواضعات ہیں ، جنوب میں ماڑی ، کنجور اور دریائے ھرو ، ھرو پار شین باغ خورد ، ڈھیری لگال ، ڈھیری چوھان ، جنوب مشرق میں جبی اکھوڑی ، ہمک اور کئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں مشرق میں مرزا ، جسیاں ، ڈھوک پشوری اور ڈھوک شرفاء ، جبکہ مغرب میں شین باغ کلاں ، سروالہ ، شکردرہ ، پنڈوال ، ڈھوک گاما ، سالار  دکھنیر ، کرم علیاء ، جابہ ، بروٹھہ ، ڈھیر ، سوجھنڈا ، باٹا ، گھوڑے مار ، باغ نیلاب ، چھوئی اور مونگی والی  وغیرہ کے دیہات صدیوں سے آباد ہیں ۔ ان دیہات کا شہر کی تجارت ، ثقافت اور سماجی زندگی پہ گہرا اثر رہا ہے ۔

    کامرہ کلاں کا منظر
    کامرہ کلاں کا منظر

    یاد رہے ، مذکور بالا دیہات انتظامی اور تجارتی طور پر کیمبل پور شہر پہ ہی انحصار کرتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر آبادیوں کو پکی سڑک کی سہولت نصیب نہ تھی بلکہ کئی دیہات تک تو پگڈنڈیوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا ۔ دشوار گزار کچے راستے اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ، ہمیشہ سے ان کا مقدر رہا ۔

    جاری ہے ……..

  • کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    ہم بجلی گھر روڈ پر کھڑے ایک تعلیمی ادارے کی بات کررہے تھے ، جہاں اب غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں ۔ قصور کس کا ، مفاد پرست ، چور ، ڈاکو اور لٹیرے ، ہر سوسائیٹی میں ہوتے ہیں لیکن ، نیکی کی قوتوں کو متحرک رھنا چاھئے تاکہ معاشرہ ترقی کرتا رہے ۔

    آئیے آگے بڑھتے ہیں ، بجلی گھر موڑ سے گیدڑ چوک تک بیچ کی جگہ خالی تھی ، جو ملک شیراحمد خان کے خاندان کی ملکیت ہے ، بعد میں انہوں نے یہاں ایک تجارتی یارڈ قائم کیا جہاں اب بھی سیمنٹ سریا اور دیگر عمارتی سامان کا کاروبار ہوتا ہے ۔

    گیدڑ موڑ یا چوک : ( وجہ تسمیہ )

    یہ ، وہ جگہ ہے جہاں آکر حمام روڈ / برق روڈ ، چھوئی روڈ سے بغل گیر ہوتا ہے ، کارنر پر اسد سویٹ ہاوس ہے ۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں چین کے شہنشاہ چنچی نے ٹریفک پولیس کی مدد سے قبضہ جما رکھا ہے ۔

    ہمارے دور میں یہ ایک کھلا علاقہ تھا ۔ جہاں اب سروالہ کی طرف منہ کرکے چنچی کھڑے ملتے ہیں ، یہاں تقسیم سے پہلے کی چند دکانیں ، ان کے عقب میں چھوٹے چھوٹے کوارٹر اور پیچھے ایک آٹا چکی موجود تھی ، اس کے بعد کھلا میدان ۔ اسی طرح شرق میں  گندے نالے تک کھلا میدان تھا ۔ گندہ نالہ سول بازار کے اختتام اور ستار چوک ( شیرانوالہ) کے عین وسط میں آتا ہے ۔ اب اسے ڈھانپ دیا گیا ہے ، شروع میں یہ معلق نالہ تھا اور مولے والی گلی اس سے منسلک نہ تھی ۔

    اس سے پہلے کہ گورا قبرستان تک پہنچ جائیں ، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ گیدڑ موڑ کو یہ عوامی نام کیسے عطاء ہوا ۔

    جہاں اس وقت اسد سویٹ ہاوس ہے ، اسی عمارت میں ، جو قدرے اس سے بڑی تھی ، ہمارے گوانڈی میاں چاچا نے ، چائے کی دکان بنائی ، ان کے بڑے بیٹے کا نام فاروق تھا لیکن گھر والے بچپن سے اسے پیار سے گیدڑ کہ کر پکارتے تھے ۔ بڑا ملنسار اور ھنس مکھ انسان تھا ، اسی کی عرفیت نے اس ریستوران کو گیدڑ ہوٹل کا نام دیا اور ایک لمبے عرصے تک ہوٹل کی موجودگی سے یہ نام عوامی شہرت اختیار کرگیا ۔ جب ہوٹل ختم ہوگیا تو گیدڑ ہوٹل سے گیدڑ موڑ کہا جانے لگا ۔ ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ ” کیا یہ درست ہے کہ پرانے زمانے میں گیدڑ یہاں تک آجاتے تھے ، اس لئے اسے گیدڑ موڑ کہتے ہیں ، تو اسے یہی بتایا کہ یہ بات درست نہیں بلکہ فاروق عرف گدڑا لالہ کی وجہ سے ،اسے یہ نام نصیب ہوا ۔

    چونکہ وہ زمانہ تانگے اور بیل گاڑی کا تھا ، لھذا جسطرح آج یہاں چنچی اور سوزوکی نظر آتے ہیں ، اسی طرح گیدڑ ہوٹل کے سامنے اور اطراف بیل گاڑیاں اور تانگے پارک ہوتے تھے ۔ ایک تو یہ سروالے کی پرانا اڈہ تھا ، دوسرا گیدڑ ہوٹل کی چائے بہت لذیذ اور تھکن دور کرنے والی مشہور تھی ۔ بعض ماہرین چائے کی رائے تھی کہ گدڑ لالہ کے والد میاں چاچا چائے کو افیون کے ڈوڈے یا پوست کا تڑکا لگاتے ہیں ۔ بہرحال اس زمانے میں یہ ایک معروف اور عوامی چائے خانہ اور اڈہ تھا لیکن چند تانگے اور کچھ بیل گاڑیاں ، کوئی رش اور اژدھام نہیں کیونکہ موٹر سائیکل ، سوزوکی اور چنچی نام کی کوئی آفت موجود نہ تھی ۔

    اب آگےچلتے ہیں ، جہاں سول بازار آکر چھوئی روڈ سے ملتا ہے ، اس کے سامنے مشرق کی طرف میدان اور مغرب کی طرف گندے نالے کے ساتھ پرانی اور نئی لیکن بے ترتیب آبادی موجود تھی ۔ یہ آبادی سڑک کے ساتھ ساتھ گورا قبرستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔  گورا قبرستان کے عقب میں جنوب مغرب کی سمت کربلا محلہ جو دراصل کامل پور سیداں کی توسیع یا ایکسٹینشن ہے ، یہاں پرانے گھر موجود تھے لیکن قبرستان سے آگے فتح جنگ روڈ پر ،  تا ڈھوک فتح ، سڑک کی دونوں اطراف ، کوئی آبادی نہ تھی ۔ ڈھوک فتح بھی فتح جنگ روڈ سے شروع ہوکر ، صرف ایک دو گلیوں کی شکل میں جانب غرب ، پنڈ غلام خان کی سمت رواں تھی ۔ اس سے آگے دریائے ہرو تک مکمل ویرانہ تھا ۔

    کامل پور سیداں

    historic building in kaml pur saydan
    کامل پور سیدان میں واقع تقسیم ہند سے قبل کی ایک تاریخی عمارت| تصویر- سید مظاہر شاہ

    یہ گاوں قدیمی ہے اور شھر کے آباد ہونے سے بہت پہلے ، موجود تھا ۔ اس کا حدود اربعہ بڑا آسان ہے ، گورا قبرستان چوک سے ناز سینما ، وھاں سے نادرا آفس ، نیچے آجائیں امام بارگاہ کے آگے سے گزر کر فتح جنگ روڈ اور گورا قبرستان ۔ یہ تھا پرانا کامل پور سیداں ۔ جانب غرب ، کوچہ پریم نگر اسی کی توسیع اور نئی آبادی ہے ۔ یہاں کھیت ہوا کرتے تھے اور گندم بوئی جاتی تھی ۔ کامل پور سیداں کا ذکر ہورہا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ یہ چھوٹا سا گاوں ، کینٹ ایریا میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ صفائی کا نمونہ رھا ۔ اس کی تنگ مگر صاف ستھری گلیوں میں روشنی کے لئے پرانی طرز کے چراغدان ( Lamp Posts)نصب تھے ۔ یہاں شھر کی قدیمی امام بارگاہ واقع ہے ۔

    جاری ہے …….

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    چوتھی قسط میں ، ہم چھوئی روڈ کی جنوبی سمت کی آبادی کے تذکرے میں ریلوے پھاٹک سے ماڑی موڑ تک پہنچے تھے کہ موضوع سخن ھریالی اور شادابی کے نوحے پہ ختم ہوا ۔ فقط نوحہ ہی نہیں ، میرا جی تو ماتم کرنے کو چاھتا ہے ۔ چند ٹکوں کی خاطر اس علاقے کے ھزاروں درخت کاٹ دئے گئے تاکہ پلاٹ بیچ کر دولت جمع کی جاسکے ، سرسبز و شاداب کھیتوں کو صفحہ ھستی سے مٹادیا گیا ، زیر زمین میٹھے پانی کے جھرنوں کا نہ صرف گلا گھونٹا گیا بلکہ ، ان کی لاشوں کے اوپر ، گندے پانی کے نالے بنا دئے گئے ۔ محلہ امین آباد سے سیدھے ، شاہ آباد اور وھاں سے آگے محلہ بشیراعوان سے بائیں جانب والی گلی سے گزر کر باھر نکلیں تو سرور روڈ ، ڈھوک فتح سے گزر کر پنڈ غلام خان کے بعد کچی شکل میں ماڑی گاوں کی طرف رواں ہے لیکن ابھی اسے پختہ ہونے میں وقت لگے گا ۔ یہاں ایک مسجد اور کچھ گھر تعمیر ہوچکے ہیں ۔ اس کے بالکل سامنے جانب جنوب کبھی شھر کا معروف دھوبی گھاٹ تھا ، یہاں پر پانی کے قدرتی چشموں سے بلامعاوضہ فیضیاب ہوکر ، شھر کے دھوبی کپڑے دھویا کرتے تھے ، شھد جیسا میٹھا پانی ، پینے ، نہانے اور کپڑے دھونے کے کام آتا تھا ۔ اسی دھوبی گھاٹ کے قریب کم و بیش 20 فٹ اونچے ٹیلے سے ایک آبشار فوارے کی شکل میں ہر وقت رواں رہتی ، شھر بھر کے لڑکے ، گرمیوں میں اس سے لطف اندوز ہوتے ۔

    نئی نسل کے لئے یہ تاریخی حقیقتیں پڑھ کر یقین کرنا آسان نہ ہوگا لیکن یہی اصلی اور سچی تصویر ہے میرے کیمبل پور کی ، جہاں ہمارا بچپن ، لڑکپن اور جوانی پروان چڑھی ، جس کی صاف ستھری فضاء میں ہم کھیلے ، کودے ، دوڑے بھاگے ، شرارتیں کیں ، تعلیم کے مدارج طے کئے ، اتنا پرامن اور صاف ستھرا شھر ، پاکستان میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    چلئے ماڑی موڑ سے آگے بڑھتے ہیں ۔ یہاں سے لیکر سڑک کی چڑھائی کے آخری سرے تک میدان تھا ۔ مدرسہ اشاعت الاسلام ، مسجد اور اس کے آس پاس کی آبادی موجود نہ تھی ۔ جہاں چڑھائی ختم ہوتی ہے اس جگہ پر ریگل نام کا سینما ، شھر کی ابتداء سے برلب سڑک موجود تھا ۔ آپ نے شاید ریگل کا نام نہ سنا ہو ، جی ھاں ، جسے بعد میں محمود محل کا نام دیا گیا ، اس کا اصلی نام ریگل تھا ۔ جب نیلام ہوا تو بھی ریگل تھا ، قصور کے شیخ خاندان نے خریدا اور فلمیں چلانا شروع کیں ۔ ایک رات حضرو کے ایک فلم بین کی سینما کے مالک شیخ محمود سے کسی بات پہ تکرار ہوگئی ، تو تو میں میں سے بات ھاتھا پائی تک پہنچی اور باالآخر فلم بین نے محمودکو چھری ماردی ، محمود موقع پہ جاں بحق ہوگیا ۔ اس کی یاد میں سینماء کا نام ریگل سے محمود محل ہوا لیکن یہ تاریخی عمارت وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر باالآخر زمیں بوس ہوگئی ، اب ایک قطعہ زمین ہے جہاں پر کسی تاجر نے اینٹ بجری اور سیمنٹ کا یارڈ کھول رکھا ہے ۔ یہاں بتاتا چلوں کہ کیمبل پور میں 3 سینماء ھاوس تھے ۔ ایک ریگل ، جس کا ذکر ہوا اور جو اب فوت ہوچکا ہے ، دوسرا کینٹ ایریا میں کامل پور سیداں کے اس پار ، کارنر پر آج بھی ، ناگفتہ بہ اور ناقابل استعمال حالت میں ، اپنے ماتھے پر برائے فروخت کا سھرا سجائے ایستادہ ہے ۔

     اس کا بھی خاندانی اور ابتدائی نام لینسیڈاون تھا جسے بعد میں ناز کردیا گیا ۔ تیسرا اور آخری سینماء آرٹلری سینٹر کے اندر تھا ، جسے بعد میں مسجد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ، اب خدا جانے وھاں نماذ ادا ہوتی ہے یا جوانی پھر نہیں آنی کا شو چل رہا ہے کیونکہ اس کا استعمال کئی مرتبہ بدلا ۔ سینما سے مسجد اور مسجد سے سینماء ۔

    بات ہورہی تھی محمود محل کی تو اس سے آگے برلب سڑک گیدڑ موڑ تک پرانے گھر اور چند دوکانیں موجود تھیں ۔ البتہ سینماء سے لیکر گیدڑ موڑ تک سڑک کنارے گھروں کے عقب میں کھلا میدان اور کھیت تھے ۔ اس بیچ بجلی گھر موڑ آتا ہے ، یہ سڑک تقسیم سے پہلے کی ہے کیونکہ اسے بجلی گھر اور اس سے آگے محلہ امین آباد کے اختتام پہ واقع ھندووں کے شمشان گھاٹ تک لیجایا گیا تھا ۔ اس شمشان گھاٹ کا ذکر میں اس سے پہلے کرچکا ہوں ۔ بجلی گھر روڈ کی مغربی سمت پر چھوئی روڈ کے عقب سے لیکر امین آباد تک کھیت تھے اور ہمارے لڑکپن تک ان میں گندم بوئی جاتی تھی ۔ مشرقی سمت اکا دکا پرانے گھر موجود تھے ۔ یہاں ھندوں کے ایک اسکول کا ذکر بے جاء نہ ہوگا ۔

     جب آپ بجلی گھر روڈ پہ سفر کرتے ہیں تو بجلی گھر سے قبل ، روڈ کے ساتھ جانب شرق گلی بلال مسجد کے آغاذ میں ، ایک مستطیل نماء قطع اراضی کہ جس پر غلاظت کے انبار لگے ہوئے ہیں اور اب تو ایک کباڑیا بھی اس پہ قابض ہے ، یہاں ھندوں نے اسکول تعمیر کرنا شروع کیا تھا کہ انہیں ھجرت کرنا پڑی ۔ اس پورے پلاٹ پر ایک بہترین مکمل عمارت کھڑی تھی جسے اس شھر کے اولیں لٹیروں نے جڑوں تک اکھاڑ ڈالا ۔ آج کے دور میں اس کی تعمیر پہ 30 سے 40 کروڑ لاگت آسکتی ہے ۔ پہلے چھتیں اکھاڑی گئیں پھر ایک ایک اینٹ اکھاڑ کرلے گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے کوئی سنی سنائی بات نہیں ۔

    (جاری ہے )

    Title Image by Katrin from Pixabay

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    تیسری قسط میں ہم سول ھسپتال تک پہنچے تھے ، جسےشھر کے وسط سے بہت دور ، ویرانے میں تعمیر کیا گیا ، بڑے بوڑھے اور بزرگ اس بات پہ حکومت سے سخت نالاں تھے کہ مریضوں کا وھاں تک چل کر جانا ممکن نہیں ۔ یاد رہے ، یہ دور ، پیدل چلنے، جانوروں پہ اور سائیکل سواری کا تھا ، سب سے بڑی سواری تانگہ ہوا کرتا تھا لیکن تانگے کا کرایہ کون دے ۔عام آدمی کی تنخواہ 80 سے 100 روپے تک تھی ، اگرچہ اشیائے ضرورت کے نرخ بھی اسی حساب سے کم تھے ، تاھم تانگہ بک کرنا ، امارت، عیاشی یا مجبوری کے ذمرے میں آتا تھا ۔ عام حالات میں لوگ پیدل چلنےکو ترجیع دیتے تھے ۔ اس دور کی تصویر کشی میں نے اپنے مضامین بعنوان ” جو ہم نے دیکھا ” میں کرنے کی کوشش کی ہے ، چند قسطیں سوشل میڈیا کی نظر کرچکا ہوں ، بوجوہ جاری نہ رکھ سکا ، اب اس سیریل کی تکمیل کے بعد ، اسے بھی آگے بڑھانے کا ارادہ ہے ۔ واپس چلتے ہیں شھر کی ھیئت کی طرف ، چھوئی روڈ کے شمالی علاقے کی سیر آپ نے کرلی ، جو پرانے شھر سے عید گاہ تک تھا ، اب چلتے ہیں ، جنوب کی طرف ، مغرب میں ملٹری فارم المعروف ڈیری فارم سے لیکر گورا قبرستان یا فتح جنگ روڈ تک کی آبادی کا نقشہ کیا تھا ۔ یہاں اگر میں شھر کی اس وقت کی حدود کا تعین کردوں تو آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ شمال میں محلہ مہر پورہ کی مختصر آبادی سے شروع ہوکر ، جنوب میں محلہ امین آباد کی گنجی ، بے ترتیب اور بلدیاتی قوانین سے ماوراء آبادی ، مشرق میں آرٹلری سینٹر اور ایڈمنسٹریشن بلاک سے شروع ہوکر مغرب میں ریلوے لائین یا عیدگاہ محلہ تک کو شھر کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ چھوئی روڈ کا جنوب :شھر کی حدود میں قدرے اضافہ کرتے ہوئے ، عرض ہے کہ ریلوے لائین کی شین باغ سمت پہ ، سڑک کے جنوب میں جو فوجی احاطہ ہے ، یہاں انگریز کے زمانے میں کیمل کور Camel Core یا اونٹوں والی فوج مکین تھی ، جس کے پاس اونٹ گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ہمارے بچپن تک یہ اونٹ گاڑیاں سڑکوں پہ رواں دواں نظر آتی تھیں ۔ تقریبا15 یا 20 فٹ طویل لکڑی کی بنی ریڑھہ نماءگاڑی ، جس کے آگے اونٹ جوت کر ، غیر جنگی ساز و سامان ، مثلا راشن ، گھاس وغیرہ ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا تھا ۔ یہ کیمل کور انگریز دور کا تھا ، بعد میں اس کی نوعیت بدل گئی ، اونٹ رہے نہ اونٹ گاڑیاں ۔ اسی کیمل کور کی مخالف سمت پہ ایک دوسرا فوجی احاطہ اسلام لائن کے نام سے قائم ہے ۔ یہ بعد کی پیداوار ہے ۔ جس جگہ اسلام لائین ہے ، یہاں کبھی ، ہمارے لڑکپن میں ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا تمباکو خریداری مرکز تھا ۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ، اس زمانے میں ، شین باغ ، سروالہ ، ڈھیر ، جابہ ، بروٹھہ ، دکھنیر ، کرم علیا اور آس پاس کے دیہات میں کاشتکار ، اپنی چاھی زمینوں میں سگرٹی تمباکو کاشت کرتے تھے ، جسے اونٹوں ، خچروں ، بیل گاڑی اور دیگر جانوروں پہ لاد کر شین باغ کے نواع میں اس خریداری مرکز تک لایا جاتا تھا ۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ، وقت نے کروٹ لی ، کاشتکاروں نے تمباکو کاشت کرنا بند کردیا لھذا ، برطانوی مالکان پہ مشتمل ، پاکستان تمباکو کمپنی اس خریداری مرکز کو بند کرکے رخصت ہوگئی ۔ یہ زمین شین باغ کے حمید اکبرخان کے خاندان کی ملکیت تھی ، ایک عرصے تک بند رھنے کے بعد کیمل کور کی توسیعی ضرورت کے تحت ، فوج کو فروخت کردی گئی اور اب اسے اسلام لائین کے نام سے جانا جاتا ہے ، ورنہ شروع میں یہ تمباکو کمپنی کے نام سے مشھور تھی ۔ آئیے اب ریلوے لائن اور پھاٹک کراس کرکے چلتے ہیں ، ڈیری فارم کی طرف اور جائزہ لیتے ہیں کہ ڈیری فارم سے گورا قبرستان تک ، سڑک کی اس جانب کیا صورت حال تھی۔ ریلوے لائن کراس کرتے ہی جنوبی سمت پہ ایک مسجد ہے ، جو شھر کے معروف سنار مکھن نے ہمارے بچپن میں تعمیر کرائی ،کوئی نصف صدی کا قصہ ہے ، زیادہ پرانی بات نہیں ۔ اس سے آگے ڈیری فارم کی حدود شروع ہوتی ہے ،آرٹلری سینٹر وغیرہ کی دودھ دہی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ، یہ ملٹری فارم غالبا سن ساٹھ کی دھائی میں قائم کیا گیا ۔ اس کا صحیح سن تعمیر ، فارم کے میں گیٹ پہ لکھا ہے ، مجھے اس وقت یاد نہیں آرھا ، البتہ اس کی تعمیر سے پہلے ، ہم بچے اس جگہ کھیلا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے ، کبھی کبھی "کتوں کی لڑائی ” جسے ہم اپنی بولی میں "کتیاں نا بھیڑ ” کہتے ہیں ، اس خالی زمین پر منعقد ہوتا تھا ۔ ڈیری فارم کے عقب سے لیکر ماڑی گاوں تک کوئی آبادی نہ تھی البتہ بعد میں شھر کے معروف ٹھیکیدار میاں غلام ربانی نے فارم سے ھٹ کر ماڑی گاوں کی سمت ، ریلوے لائین سے متصل ایک وسیع رقبہ ، موضع ماڑی کے مالکان سے خرید کر ، زرعی فارم بنوایا ، جسے عرف عام میں ” ربانی نا کھوہ ” کہا جاتا تھا ۔ موجودہ ماڑی روڈ پہ جائیں تو سابقہ 7 نمبر چونگی کا علاقہ آتا ہے ۔ فارم کی دیوار کے ساتھ مغرب کی طرف جو آبادی ہے ، اس کا بیشتر حصہ ، ربانی کے کھوہ کی زمین پر مشتمل ہے ۔ ادھر آجائیں ، ماڑی موڑ کی طرف تو ، ماڑی موڑ نام کا کوئی موڑ کیمبل پور شھر میں موجود نہ تھا ۔ ماڑی گاوں جانے کے لئے تاریخی راستہ بجلی گھر روڈ تھا جو محلہ امین آباد سے ہوتا ہوا ، پگڈنڈیوں کی شکل میں ماڑی تک جاتا تھا ۔ ماڑی موڑ اور ماڑی گاوں کی سڑک نہ تھی لیکن اس راستے کی مشرقی سمت پہ ، طولا ، ایک پرانی بے ترتیب آبادی ٹوٹے پھوٹے گھروں پہ مشتمل ، موجود تھی ۔ آبادی کے ساتھ ساتھ زرعی زمینں اور کئی کھوہ تھے جو یہاں سے شروع ہوکر ، نشیب کی طرف سے ایک ھالہ بناتے ہوئے ، محلہ امین آباد ، شاہ آباد ، سمندر آباد ، کربلاء محلہ اور ڈھوک فتح تک ، ایک سرسبز و شاداب وادی کا نظارہ پیش کرتے تھے ۔ ” وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہااور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا”کیمبل پور کا یہ جنوبی حصہ ، علاقہ چھچھ جیسی شادابی اور خوبصورتی کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ، تاذہ اور صحت افزاء سبزیوں کا مرکز تھا ۔ شھر بھر کی سبزی کی ضروریات اس چھوٹے سے دائرے سے پوری ہوتی تھیں لیکن ، دولت کی حرص اور لالچ یا نادانی نے اسے ، اینٹ اور گارے کے بے ھنگم سمندر میں غرق کردیا ۔ کہاں گئے وہ لہلہاتے کھیت ، رھٹ کی آوازیں ، بیلوں کے گلوں میں معلق گھنٹیوں کی ٹناٹن ، بیل گاڑیاں ، محلہ شاہ آباد اور پنڈ غلام خان کے جھرنے ، سب کے سب بڑھتی آبادی کے بوجھ تلے دب گئے ۔

    (جاری ہے )

    iattock
    سیّدزادہ سخاوت بخاری
  • تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     تحریر کے عنوان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیمبل پور کیسا ہوگا ، جس کی شان میں میرے مانموں ، پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فرزند کیمبل پور ، مرحوم حکیم تائب رضوی نے اتنی پیاری نظم لکھی  ۔

    کیمبل پور کے عشق میں ڈوبی ان کی اس نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو

    ” سر چک کے ڈولا لسی دا

    نی اڑئیے انج نہیں نسی دا

    وچوں بھانویں دل پیا رووے

    اتوں کھڑ کھڑ ھسی دا

    ذرا ہولی ہولی تر کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    یہ نظم اس وقت لکھی گئی جب کیمبل پور ایک چھوٹا سا ، صاف ستھرا ، پرامن اور خالص کیمبلپوریوں کا شھر تھا ۔ ابھی دوسرے صوبوں اور شھروں سے نقل مکانی کرکے لوگ یہاں نہیں پہنچے تھے ۔ آبادی اتنی کم کہ شھر بھر کے لوگ ایک دوسرے سے شناسا ، خوشی اور غم میں شریک ، دکھ سکھ کے ساتھی ۔

    ؓانگریزوں اور ھندووں کے بسائے ہوئے اس شھر کے نقشہ نویس کا تو علم نہیں لیکن داد دینے کو جی چاھتا ہے ۔ ہر گلی سیدھی ، آبادی چھوٹے چھوٹے بلاکس میں تقسیم ، ہر بلاک کے مرکزی چوک میں پانی کا کنواں اور اس کے گرد سماجی تقریبات کے لئے چاروں طرف کشادہ جگہ ۔ تقریبا تمام گھروں کی اونچائی ایک جیسی ، پتھر کی سیڑھیاں اور مٹی کی اینٹوں سے پختہ کی گئیں گلیاں ، کسی فلم کا نظارہ پش کرتی تھیں ۔

    گزشتہ چند برسوں میں مجھے مشرقی یورپ کے ان چند ممالک میں جانے کا موقع ملا جو کبھی کمیونسٹ سوویٹ یونین کا حصہ تھے ۔ یقین جانئیے کئی شھروں کے نقشے ، گلیاں ، اینٹوں سے بنی عمارتیں ، ڈیوڑھیاں ، جھروکے ، کوکے دار دروازے ، پتھروں سے پختہ کی گئی سڑکیں اور راھداریاں دیکھ کر شک سا ہونے لگا کہ میں

    تبلیسی ، باکو ، یراوان اور اصحاب کہف کے شھر نخچیوان میں کھڑا ہوں یا کیمبل پور کی گلیوں میں گھوم رھا ہوں ۔ یہ گمان اور تصور اس لئے پیدا ہوا کہ جس کیمبلپور میں ، میں نے آنکھ کھولی ، بچپن اور لڑکپن گزارا وہ اپنی طرز تعمیر ، تصویر اور تطھیر کے اعتبار سے کسی قدیم یورپی شھر سے کم نہ تھا ۔

    کاش کوئی مجھے میرا کیمبل پور واپس لوٹادے ۔ اب تو یہاں تولہ رام بلڈنگ کے علاوہ کچھ بچا ہی نہیں ۔ سنا ہے اس تاریخی عمارت کو  زبح کرنے کے لئے بھی چھریاں اور ٹوکے تیز کئے جارہے ہیں ۔

    شھر کی اصلی اور مکمل تصویر

    ان شاء اللہ آپ میری زیر تکمیل کتاب

    ” کیمبل پور سے اٹک تک ” میں دیکھ سکیں گے جسے ابتک چھپ جانا چاھئیے تھا لیکن بیرون ملک اقامت اور کورونا کی وجہ سے سفر پر پابندیوں نے ایسا ہونے نہیں دیا ۔

    ۔

    آج کا مضمون اس خبر کے زیر اثر تحریر کررہا ہوں جس کے مطابق چند رکشا ڈرائیوروں اور دوکانداروں کے مابین ایک جھڑپ ہوئی اور نتیجتا کمیونٹی دو حصوں میں بٹ گئی ۔ کچھ لوگ رکشا والوں اور کچھ دوکانداروں کی حمائت میں سامنے آئے ، لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی ایک فرد بھی شھر کی حق میں بات نہیں کررہا ۔

    رکشا والوں اور دکانداروں کی باالآخر صلح ہوجائیگی ۔ دکاندار مال بنانے میں مصروف ہوجائینگے اور رکشاء والے حسب دستور شھر بھر کی ٹریفک میں خلل ڈالنے کا فریضہ انجام دیتے نظر آئینگے ۔ میں پورے یقین سے یہ بات کہ سکتا ہوں کہ اصلاح کا کوئی پہلو نہیں نکلے گا۔ یہ سب وقتی ابال اور باتیں ہیں ۔ شھر کے نظم و نسق پہ پہلے کسی نے توجہ دی اور نہ آئیندہ دے گا ۔ یہ لاوارث شھر ہے ۔ اس کا کوئی والی وارث نہیں ۔ اگر میری بات درست نہ لگے تو بتائیے  کیا اس شھر میں بلدیہ نام کا کوئی ادارہ نہیں ؟ کیا یہاں ٹریفک پولیس اور دیگر انتظامی محکمے موجود نہیں ۔ ایوب خان کے دور سے لیکر نوازشریف کے آخری دور تک بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ۔ لوگ ممبر ، کونسلر اور چیئرمین بنے لیکن شھر کی حالت سدھرنے کی بجائے بگڑتی ہی چلی گئی ۔

    جو آیا , تصویروں کے ساتھ ساتھ مال بنایا اور حاجی صاحب بن کر رخصت ہوگیا ۔ دنیاء کے ہر شھر کا ایک ماسٹر پلان ہوتا ہے جس کے مطابق اسے وسعت دی جاتی ہے لیکن یہاں تو ہر طرف خان ہی خان نظر آتا ہے ، پلان نام کی کوئی شے موجود نہیں ۔ مقامی نو دولتیوں کے ساتھ ساتھ غیر مقامی اور دور دراز سے آئے افراد نے اس کے تعمیراتی حسن کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی ۔ اور اگر کوئی کسر باقی تھی تو وہ افغانی پناہ گزینوں نے پوری کردی ۔ صاف ستھرا شھر غلاظت اور کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوگیا ۔

    ہم تاریخ کے جبر سے اپنے آپ کو آذاد نہیں کراسکتے ۔ وقت اور زمانہ بدلتا ہے تو ذرائع نقل و حمل بھی بدل جاتے ہیں ۔ بیل گاڑی اور تانگے سے  آٹو موبیل تک آنا وقت کی ضرورت تھی لیکن کیا کسی نے ان نئی ایجادات کے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پہ بھی توجہ دی ۔

    چھوٹا سا شھر ، مسافروں سے زیادہ رکشے ، موٹر سائیکلوں کا سونامی ، ریڑھی بانوں کے غول ، ٹریکٹر ٹرالیاں  اور اس بیچ ادھر ادھر بھاگتے افغانی ، کبھی کبھی تو یہ احساس دلاتے ہیں کہ شاید ہم کوئی بھیانک خواب یا کسی دست بہ دست جنگ کی ڈاکومینٹری دیکھ رہے ہیں ۔

    اگرچہ اس شھر کے بانی انگریز تھے اور آبادی کی اکثریت ھندووں پر مشتمل تھی لیکن جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو یہاں مقامی اور مہاجر مسلمانوں کا دور دورہ تھا ۔ پرانے شھر میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی مثلا اس مقام کو لے لیں جہاں رکشا اور دکاندار جھگڑا ہوا ۔ اسے صدیقی روڈ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ شرقا غربا سول بازار سے لیکر آخر تک شیخ صدیقی قبیلے کے لوگ آباد تھے جن میں اکثریت وکیل اور سول سروس سے وابستہ افراد کی تھی ۔ ہر دوسرے گھر پر آویزاں نام کی تختی پہ لفظ علیگ لکھا ہوتا تھا یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لیکن اتنے  سادہ لوگ کہ موسم گرما میں رات کو اسی  سڑک کنارے بان کی چارپائیاں بچھا کر سوجاتے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ شیخ فداحسین مرحوم نقشہ نویس کی چارپائی کی پائینتی کی طرف مٹی کا گھڑا مع پیالہ (بٹھل ) رکھا ہوتا تھا ۔ چونکہ اس وقت تک ٹی وی اور اس کے پوتے سوشل میڈیا نے جنم نہیں  لیا تھا لھذا چارپائیوں پر لیٹ کر گپ شپ اور دن بھر کی خبریں ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی تھیں ۔ ایک وہ زمانہ کہ لوگ سڑک کنارے چین کی نیند سوتے تھے اور اب گھر کے اندر بھی رکشاء ، سوزوکی اور موٹرسائیکل کا شور سکون سے سونے نہیں دیتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کسی کارخانے میں سورہے ہیں جہاں ہر طرف مشینیں ہی مشینیں اور ان کا شور ہے ۔ وہ صدیقی روڈ جو کبھی اھل علم و دانش اور شرفاء کا مرکز تھا آج رکشاوں کے شور اور دھوئیں تلے دب چکا ہے ۔

    سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہماری نئی نسل کے جوان سوشل ورک کی طرف راغب ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔ میری ان تاذہ دم نوجوانوں سے اپیل ہے کہ افراد کے ساتھ ساتھ اپنے شھر کیمبل پور کی شکل و صورت ، صحت و صفائی اور تاریخ کے تحفظ پہ بھی توجہ دیں ۔ پرانا شھر مٹ رہا ہے ۔ تاریخی عمارات پلازوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں ۔ مہذب قومیں پرائیویٹ تاریخی عمارات کو بھی خرید کر قومی اثاثے کے طور پر محفوظ کرلیتی ہیں تاکہ آنیوالی نسلیں اپنی تمدنی تاریخ سے آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت شھر میں دو عمارتیں تولہ رام بلڈنگ اور رئیس خانہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں مٹ جانے سے بچا لیا جائے ۔

    پلیڈر لائین میں تاریخی عمارت رئیس خانہ  ، ڈسٹرکٹ کونسل ، بلدیہ اور شھر کے سیاسی ذعماء کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں کھنڈر بن چکی ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ اس کی بحالی اور تزئین و آرائیش کے لئے آواز اٹھاکر اسے ایک کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کردیا جائے ۔ اس طرح عمارت بھی بچ جائیگی اور شھریوں کو ایک کمیونٹی سینٹر بھی دستیاب ہوگا ورنہ کچھ ہی عرصے میں سیاست دانوں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کی یہ عوامی  پراپرٹی اونے پونے فروخت ہوکر پلازہ میں تبدیل ہوجائیگی ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین
  • کیمبل پور سے اٹک تک – 3

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    ذکر ہورہا تھا تولہ رام بلڈنگ کا ، جو اس شھر کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جب بھی کیمبل پور جاتا ہوں ، آتے جاتے ، فن تعمیر کا یہ شاھکار مجھے ، ماضی کے جھروکوں میں لے جاتا ہے ، کیسا نقشہ نویس تھا ، کون تھے معمار ، کسے داد دوں ، تولہ رام کو ، آرکیٹیکٹ کو یا جس نے تیسی کرنڈی چلائی ، کہاں گئے یہ لوگ ، سنا تو یہ ہے کہ ہم علوم و فنون میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں لیکن اب ایسے شاھکار کیوں تخلیق نہیں ہوتے ، یہی سوچیں مجھے تاریخ کے وسیع و عریض میدانوں میں لے جاتی ہے ، وادئ بابل و نینواء کی سیر کو نکل جاتا ہوں ، جہاں تہذیب و تمدن نے جنم لیا ، منارہ بابل کی تعمیر ہوئی ، کہ جس پر بیٹھ کر بابلی لوگ ستاروں کا حساب کتاب کیا کرتے تھے ، یہ قصہ حضرت مسیح کی آمد سے بہت پہلے کا ہے، جب بابل شھر میں معلق باغات اگائے گئے ، چاہ بابل جس میں دو فرشتے ھاروت و ماروت آج بھی زنجیروں میں بندھے الٹے لٹکے ہوئے ہیں ، موجود ہے ، لیکن اس کے معمار نظر نہیں آتے ۔قارئین سوچ رہے ہونگے کہ شاہ جی آپ ہمیں کیمبل پور کی سیر کرانے نکلے تھے ، یہ بابل اور نینوا ، منارہ بابل اور ھاروت و ماروت کہاں سے آگئے ، ھاں بھئی صحیح کہ رہے ہیں آپ ، لیکن ، تاریخ کو ساتھ لیکر چلنا بھی ضروری ہے ۔

    اھل بابل نے تہذیب و تمدن کو جنم دیا ، فن تحریر اور علم نجوم کے موجد بھی یہی بابلی ہیں لیکن پھر کیا ہوا ، آج وہی عراق لخت لخت ہے ، نااھل حکمرانوں نے قوم کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ، جہاں منارہ بابل اور معلق باغات کے معمار پیدا ہوئے ، آج وھاں خودکش بمبار اور داعش کے پالتو درندے ، اپنے آباء کی لکھی ہوئی تاریخ کو اپنے ھاتھوں مٹانے میں مصروف ہیں ۔ یہی کام ہم نے کیمبل پور کے ساتھ کیا ، چھوٹا سا ، پرامن اور صاف ستھرا شھر ، افغان مہاجرین اور دیگر گھس بیٹھیوں کے در آنے سے ، غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے ، شھر کا دلکش آرکیٹیکچر بے ھنگم تعمیرات نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، اب بالکونیاں ہیں نہ جھروکے ، ڈیوڑیاں ہیں نہ چوبارے ، عمرانی حسن و خوبصورتی کی تباہی تو ایک طرف ، موٹر سائیکل ، سوزوکی ، ٹریکٹر ٹرالی ، پتھارے اور چنچی کی یلغار کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹڈی دل نے ھرے بھرے کھیتوں پہ حملہ کردیا ہو ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہم یا کوئی اور ؟ یہ کام بلدیہ اور بلدیاتی نمائندوں کا تھا کہ شھر کے تاریخی حسن کو برقرار رکھتے ۔ نئی تعمیر ہونیوالی عمارات کے لئے کوئی کوڈ آف آرکیٹیکٹ ہوتا ، پرانی تاریخی عمارتوں کو محفوظ کیا جاتا ، شھر کے بنیادی ماسٹر پلان کو سامنے رکھ کر تعمیرات کی اجازت دی جاتی لیکن نہائت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سب کے سب ڈنگ ٹپاو تھے ، اپنے عھدے اور سیٹ سے تو پیار تھا ، شھر کو لاوارث چھوڑ دیا ۔ باھر سے آنیوالے خودکش بمباروں نے کچھ مقامی مفاد پرستوں کے ساتھ مل کر میرے کیمبل پور کا حلیہ بگاڑ دیا ۔ معاف کیجئے فرط جذبات میں کہاں سے کہاں نکل گیا ، آئیے آپ کو کیمبل پور کی پرانی آبادی کی سیر کراوں ۔ یہ تو پہلے بیان کرچکا ہوں کہ پرانا شھر پلیڈر لائن سے شروع ہوکر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ مغرب کی طرف عیدگاہ محلہ ہے ، اسے ایک زمانے میں گڑیالہ محلہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ موضع گڑیالہ کے خوانین یہاں آباد تھے ۔ یہ آبادی بھی تقسیم سے پہلے کی ہے ۔ ماڑی موڑ کے سامنے سے لیکر پرانے قبرستان تک چند پرانے گھر طولا پھیلے ہوئے تھے ۔ اس کے عقب میں جانب ریلوے اسٹیشن کوئی آبادی نہ تھی بلکہ سفید ریت کا ایک چھوٹا سا صحراء تھا۔ ادھر آجائیں ، چھوئی روڈ کے ساتھ موجودہ کرسچین کالونی سے لیکر سڑک کے ساتھ ساتھ محلہ عید گاہ تک ، بیچ کا یہ علاقہ زرعی فارمز پہ مشتمل تھا جسے ہم اپنی زبان میں ” کھوہ ” کہتے ہیں ۔ کرسچین کالونی سے متصل پہلوان افضل خان مالک ناز ہوٹل کا کھوہ تھا ، اس سے آگے ملک امین اسلم آف شمس آباد کا کنواں اور تین اور کھوہ تھے ، جہاں سبزیاں اور دیگر اجناس اگائی جاتی تھیں ۔ اس طرح سے آخر میں محلہ عیدگاہ ایک الگ تھلگ آبادی تھی ، جہاں عیدگاہ اور ڈنگر ھسپتال انگریزوں نے تعمیر کرائے ۔ آخر میں بلدیہ کیمبل پور کی طرف سے انگریز دور میں منظور کیا گیا ، پہلا قبرستان ، جو ریلوے لائن پہ جاکر ختم ہوجاتا ہے ۔ ریلوے لائن کی پرلی طرف والا قبرستان بہت بعد میں قائم ہوا۔ شھر کا مشرقی حصہ یعنی محلہ مہر پورہ ، یہ آبادی بھی پرانی ہے ، ریلوے کی حدود کے ساتھ ساتھ ، کامرہ روڈ سے شروع ہوکر جانب مغرب ایک قطار کی شکل میں موجود تھی ۔اس سے آگے صرف زراعت فارم تھا جو آج بھی موجود ہے ، یہ شھر کی آخری آبادی تھی اس کے بعد کھیت کھلیان اور اجاڑ بیابان ۔کامرہ روڈ کے مغرب میں ریلوے لائین کے بعد بلدیہ کی محصول چونگی تھی جہاں باھر سے آنے والے مال اسباب اور سامان تجارت پہ محصول یا ٹیکس وصول کیا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ دوچار پرانے گھر تھے ، اس سے آگے اور پیچھے زرعی زمینیں ، جہاں گندم اور چنے کی فصلیں کاشت ہوتی تھیں ۔ سول ھسپتال ایوب خان کے دور میں تعمیر ہوئی اور شھر کے لوگ حکومت کو کوسنے دیتے تھے کہ کہاں جنگل میں شھر سے دور ھسپتال بنادی ۔کون جائیگا اتنے دور دواء لینے۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک -2

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری

    پہلی قسط میں بات ریستورانوں تک پہنچی تھی جنھیں ہم پاکستان میں ھوٹل کہتے ہیں ۔جب ہم نے ہوش سنبھالا تو پاکستان کو بنے ابھی سات آٹھ برس ہوئے تھے ، ھندو آبادی کےکیمبل پور سے ھجرت کرجانے کے بعد ، ھندوستان سے ھجرت کرکے آنیوالے اردو اور پنجابی بولنے والے ہمارے بھائی بہن ، خاندان اور کنبے ، ھندو متروکہ املاک میں جلوہ گر تھے ۔ پرانے شھر کے اکثر بلاک ان ہی کے حصے میں آئے ۔ مقامی قبیلوں اور مہاجرین پہ مشتمل کیمبل پور ، آبادی کے تنوع میں قوس قزح کے رنگ لئے ہوئے تھا ۔ کیمبل پوری شلوار قمیص کے ساتھ ساتھ دکنی اسٹائل کے کھلے پونچے والے اور چوڑی دار پائجاموں میں ملبوس مرد و خواتین ، شھر کے حسن میں اضافے کا سبب بنے ۔ نسوار اور چلم (دیسی حقہ ) تو پہلے سے موجود تھے ، پان کے اضافے نے شھر کے گالوں میں سرخی بھردی ۔ فوارہ چوک میں جہاں اب اسٹینڈرڈ بیکری ہے ، یہاں کبھی چاچا الف دین کی دکان ، کلکتہ بوٹ ھاوس ، ہوا کرتا تھا ، جس کے باہر کونے میں کالو پان والے کی کھوکھا نماء دکان تھی ۔ شام ہوتے ہی صاحبان ذوق وھاں پان کھانے پہنچ جاتے تھے۔ ہمارے دوست اور معروف صحافی مرحوم اکبر یوسف زئی ، جو پان کے رسیاء تھے ، اگر کہیں نہ ملیں تو کالو پان والے کے پاس کھڑے مل جاتے تھے ۔ بازاروں کا حال کچھ اسطرح تھا کہ کمیٹی چوک سے فوارہ چوک اور پھر نیچے ناز ہوٹل کی طرف مڑ جائیں تو موجودہ ملا کنڈ کباب ھاوس تک ، بس یہی بازار تھا ۔ چوک فوارہ سے اوپر پلیڈر لائین کی سمت اور مغرب کی طرف چند دکانیں تھیں ۔ جامع مسجد کے پچھواڑے سے لیکر سیدھا آئیں تو گیدڑ موڑ تک اکا دکا چھوٹی موٹی دکان نظر آتی تھی ۔ بلال میڈیکل اسٹور سے ذرا اوپر، غالبا تقسیم ھند سے پہلے کا ایک حمام تھا اور اسی حمام کی نسبت سے اسے حمام روڈ پکارا جانے لگا ۔ اب شاید سرکاری طور پر اسے برق روڈ کہا جاتا ہے اور ایک مصروف بازار کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ جس جگہ بلال میڈیکل اسٹور ہے ، یہ کسی ھندو کی وسیع و عریض حویلی تھی اور بازار کی طرف دیوار میں سنگ مرمر کے ٹکڑے پہ مالک مکان کا نام ھندی میں کندہ نظر آتا تھا ۔ ھندوں کے چلے جانے کے بعد یہاں خواتین کے لئے دستکاری اسکول قائم ہوا جو ماضی قریب تک موجود رھا ۔ شھر میں چونکہ ھندوں کی اکثریت آباد تھی لھذا کئی ایک مندر بھی تعمیر کئے گئے ، جو تقسیم کے بعد اسکولوں اور مساجد میں تبدیل کردئے گئے ۔ مثال کے طور پر صرافہ بازار سے مغرب کو صدیقی روڈ پر ، جو ڈاک خانہ ہے ، یہ ھندوں کی دھرم شالہ تھی ، سول بازار میں شھر کی معروف جامع مسجد حنفیہ بھی ایک مندر کی عمارت میں قائم ہے ۔ مجھے اسے اس کے اصلی روپ میں دیکھنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ صحن تھا اور دو کمرے ، ایک کمرے میں وہ چبوترا قائم تھا کہ جس پر مورتیاں سجائی جاتی ہونگی ۔ اس سے قبل شھر میں ایک ہی جامع مسجد تھی ، مسلمانان ھند کے ورود کے بعد ، ان ہی کی کوششوں سے اس مندر کو حنفیہ مسجد میں تبدیل کیا گیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ جامع مسجد شروع سے دیوبندی مکتب فکر کے پاس تھی لھذا بریلوی خیال کے لوگوں نے جامع حنفیہ قائم کی اور وہاں کے پہلے خطیب کے طور پر ، استادی المکرم مرحوم قاضی زاھد الحسینی کے بڑے بھائی مرحوم قاضی انوارالحق کو مقرر کیا گیا ۔ ۔ آپ زندگی کے آخری ایام تک یہاں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ مرحوم اپنے بھائی کے برعکس بریلوی مکتب فکر کے بے پایاں عالم اور خطیب تھے ۔ حسن اتفاق سے جہاں اس مسجد کے بانی ھندوستان سے ھجرت کرکے آئے تھے وہیں ان کو ایک ایسا عالم مل گیا ، جس نے ساری عمر ریاست جوناگڑھ میں قاضی اور خطیب بن کر گزاری ۔ تعلق علاقہ چھچھ کے گاوں شمس آباد سے تھا مگر ھندوستان میں اتنا لمباعرصہ گزارا کہ زبان ، لباس اور چال ڈھال سب یوپی اور بہار کے رنگ میں ڈھل گیا ۔ وہی چوڑی دار پاجامہ ، ھلکے سلیٹی رنگ کی شیروانی ، سر پہ قراقل اور پاوں میں کولہا پوری نرم و گداز کھسہ ۔آگے چل کر علماء و مشائخ کے باب میں ان کا مزید ذکر ہوگا ۔ اس کے علاوہ سول بازار ہی میں مولے والی گلی میں ایک مندر تھا جہاں بعد میں پرائمری اسکول قائم ہوا اور اسے مندر والا اسکول کہا جاتا تھا ۔ ایک اور مندر اے بلاک میں تھا جہاں اب غالبا لڑکیوں کا اسکول ہے ۔ کچہری بازار میں باٹا کی دکان کے سامنے ایک گلی اوپر جاتی ہے ، آگے جائیں تو بہت بڑا چوک ہے ، اس کے دائیں ھاتھ پہ کونے والی عمارت دھرم شالہ تھی ۔ ان سب عمارتوں کو ہم نے ان کی اصلی ھندوانہ مذھبی شکلوں میں دیکھا ۔کیمبل پور کی اکثر عمارات ھندوں کی تعمیر کردہ تھیں جن سے ان کا ذوق تعمیر جھلکتا تھا ، بغیر پلستر کے اینٹوں سے بنے گھر ، چوبارے ، ڈیوڑیاں ، اینٹوں ہی سے بنے نقش و نگار ، جھروکے ، کوکے دار دروازے اور کھڑکیاں ، روشن دان ، دروازوں کے اوپر چراغ دان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر گھر کی سیڑھی ، سلیٹی رنگ کے بڑے بڑے پتھر تراش کر بنائی جاتی تھی ۔ یوں تو شھر کی ہر عمارت فن تعمیر کا شاھکار تھی لیکن صرافہ بازار سے نیچے کی طرف جائیں تو معروف تولہ رام بلڈنگ ، جس کے سرخ رنگ کے برآمدے اور نقش و نگار آج بھی دعوت نظارہ دیتے نظر آتے ہیں ۔ میں تقریبا نصف صدی سے بیرون ملک آباد ہوں اور کئی ممالک گھوم چکا ہوں ، ایسا ذوق تعمیر بہت کم نظر آیا ۔ گزشتہ برس کوہ قاف کے دیس گیا تو وہاں کی قدیم عمارات میں ، اپنے شھر کی شبیہ نظر آئی ، اسقدر اپنائیت تھی کہ تین ماہ تک کوہ قاف کی گلیوں میں گھوم کر ان کے آرکیٹیکچر سے محظوظ ہوتا رہا ۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک -1

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت سر کولن کیمپبل ( Sir Colin Campbell) برطانوی افواج کے سربراہ تھے ، ان ہی کی سوچ اور منصوبے کے مطابق ، ھندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے یعنی موجودہ خیبر پختونخواہ سے اٹھنے والی شورشوں اور اس علاقے میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے ، تاریخی مقام اٹک اور دریائے اٹک ( سندھ) سے کچھ فاصلے پر ایک فوجی چھاونی قائم کی گئی ، جسے آج ہم آرٹلری سینٹر اور اس کی ملحقات کے نام سے جانتے ہیں ۔ چونکہ اس علاقے میں یہ ایک اہم آبادی تھی لھذا لینڈ مارک (ؒLand Mark)یا شناخت کی حیثیت اختیار کرگئی اور ہمارے بچپن تک ، ہم سے پہلی نسل کے افراد ( بزرگ ) کیمبل پور کو فقط ” چھاونی ” یا چھونڑیں کے نام سے پکارتے تھے ۔

    یہ بات یاد رکھیں کہ چھاونی بہت پہلے قائم ہوئی اور پھر 1908 کے لگ بھگ جانب مغرب ، ایک شھر کی بنیاد رکھی گئی ، جسے برطانوی فوجی کمانڈر سر کولن کیمبل کے نام کی مناسبت سے کیمبل پور کا نام دیا گیا ۔

    اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔

    سیدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری – سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

    1970 میں ، بحیثیت طالب علم سال چہارم ، گورنمنٹ کالج کیمبل پور ، میرا ایک مضمون ، کالج کے مجلہ ” مشعل ” میں چھپا ، جس کا عنوان تھا ” کیمبل پور کا جغرافیہ ” ، یہ عنوان میں نے ، استاد محترم پروفیسر محمد انور جلال صاحب کی مشاورت سے ، پطرس بخاری کے مضمون

    ” لاھور کا جغرافیہ ” سے متاثر ہوکر منتخب کیا۔ چونکہ کیمبل پور اس وقت تک اپنی اصلی عمرانی حالت میں موجود تھا لھذا شھر اور گردونواع کی حقیقی تصویر میرے اس مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

    شھر کی گلیوں کو اس وقت کے معروف خشت ساز ، جوالا رام سنگھ، آف جسیاں ، کے بھٹے کی اینٹوں سے پختہ کیا گیا ۔ میں نے اپنے مضمون میں طنزا لکھا تھا کہ بلدیہ والے ، گلیوں کی مرمت کے نام پہ اینٹوں کی کروٹ بدل دیتے ہیں یعنی جب اینٹ گھس جاتی ہے تو سال دو سال بعد اسی کو الٹ کر لگادیتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا بچپن ، ٹانگہ ، ریڑھہ ، اونٹ گاڑی ، بیل گاڑی اور سائیکل کا زمانہ تھا ، موٹر کار اور موٹر سائیکل خال خال نظر آتی تھی ، ٹریکٹر ٹرالی ، سوذوکی ، ویگن اور چنچی کا جنم نہیں ہوا تھا پھر بھی ، شھر کا نقشہ بنانے والوں نے حادثات کی روک تھام کے لئے ، گلیوں کو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ڈیزائن کیا ، ہر گلی کی ایک سمت پہ قریبی پہاڑیوں سے پتھر تراش کر چھوٹے چھوٹے ستونوں کی شکل میں گاڑ دئے گئے تاکہ پیدل افراد تو گزر سکیں لیکن کسی سواری کا گزر نہ ہوسکے ۔

    پلیڈر لائن سے شروع ہونے والا شھر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ چھوٹا سا شھر ، کم کم آبادی ، صاف ستھرا اور پرامن ماحول ، شروع سے آخر تک ایک ہی بازار جسے انگریز سول بازار کا نام دے گئے تھے ، سر شام بند ہوجاتا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ایک ھائی اسکول ، ایک گورنمنٹ کالج جہاں ہمارے دور تک مخلوط تعلیم تھی ۔ چند پرائمری اسکول اور جہاں اب لڑکیوں کا کالج ہے کامل پور سیداں کے پاس ، یہ شھر کا پہلا سرکاری ھسپتال تھا ۔ موجودہ ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹرز ھسپتال ہمارے بچپن میں تعمیر ہوا ۔

    کھیلوں کے لئے ایک وسیع میدان ” کرشنا گراونڈ ” کے نام سے موجود تھا ، جسے اب لالہ زار یا کسی اور نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ھائی اسکول ( موجودہ پائیلٹ ) ، گورنمنٹ کالج کا گراونڈ اور ایک قیدی گراونڈ تھا جہاں آجکل لاری اڈے کے قریب جوڈیشیل کمپلیکس اور ٹیلیفون ایکسچینج ہے ۔ سیرو تفریح کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پہ کمپنی باغ تھا ( موجودہ جناح پارک ) متصل ڈپٹی کمشنر ھاوس ۔

    چھوئی روڈ کے جنوب میں شھر کا پہلا بجلی گھر تعمیر کیا گیا ، ہم نے ہوش سنبھالی تو یہ ادارہ سردار ممتاذ علی خان کی ملکیت میں تھا ، پرانے شھر کے علاوہ بجلی کی ترسیل کہیں نہ تھی لھذا ہم امین آباد اور ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کا لڑکپن لالٹین کی روشنی میں پروان چڑھا ۔ میرا ایک ہم جماعت

    محمد زمان قریشی سکنہ گل آباد حاجی شاہ ، جو آجکل اٹک کے نامور وکیل ہیں ، اور میں جب بی اے کے امتحان کی تیاری کررہے تھے توایک مشترکہ لالٹین جلاکر آس پاس بیٹھ جاتے اور رات بھر پڑھتے رہتے ۔

    ہمارے محلے امین آباد کے قریب ویرانے میں محلہ شاہ آباد کی حدود میں ھندووں کا شمشان گھاٹ تھا ، جہاں شھر کے آخری ھندو وکیل لالہ فقیر چند کا کریا کرم کیا گیا ۔

    مجھے یاد ہے لالہ فقیرچند ایڈووکیٹ نابینا تھے ۔ بار روم کے برآمدے میں ایک ستون کے قریب ھندو پگڑی باندھ کر بیٹھے نظر آتے ، ان کا منشی انہیں اخبار پڑھ کر سناتا اور وہ چپ چاپ سنتے رھتے ۔

    اخبار سے یاد آیا ، خزینہء علم و ادب ، کچہری روڈ پر اخبارات ، رسائل اور کتابوں کا مرکز تھا ۔ اس زمانے کے اخبار ، کوھستان ، امروز ، نوائے وقت اور تعمیر نمایاں تھے ، بعد میں جنگ اور مشرق اس قافلے میں شامل ہوگئے ۔ جو لوگ اخبار خرید کر نہیں پڑھ سکتے تھے ان کے لئے بلدیہ کی لائیبریری میں اخبار مہیاء کئے جاتے تھے ۔

    معروف ریستورانوں میں ماسٹر فضل دین کا ھمدرد ، یہ اٹک کا پاک ٹی ھاوس تھا جہاں شاعر اور ادیب جمع ہوتے تھے ، چوک کے اندر تاج اور حبیب معروف ریستوران تھے ۔

    (جاری ہے )