Tag: چترال

  • ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    عالمی ریکارڈ و اعزاز یافتہ ماہرِ لسانیات ، محقق ، کالم نگار اور ادیب ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے ایک تفصیلی مصاحبہ 

    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر 

    سوال : کچھ تعلیم کے اسفار کا احوال کہاں کہاں سے حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کا ذکر کریں ۔ ؟

     جواب : میری ابتدائی تعلیم وادی چترال کے مقامی مساجد اور سرکاری تعلیمی اداروں یعنی ٹاٹ کے سکول سے ہوئی ۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف شہروں کراچی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔، پہاڑی خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعلیم کے سفر میں کئی عملی مشکلات پیش آئیں ، جن میں طویل فاصلے، محدود وسائل اور جدید سہولیات کی کمی شامل تھیں ۔ مگر شوقِ علم نے ہمیشہ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ دیا ۔

    سوال : آپ اپنی ابتدائی ادبی زندگی کے بارے میں بتائیں ۔؟

    جواب : ادبی زندگی کا آغاز کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ہوا ۔  شروع میں کھوار زبان میں جذبات کا اظہار کیا ، پھر اُردُو کی طرف آیا ۔ ابتدائی دور میں فطرت۔، معاشرت ، امن کی حمایت ، جنگ سے نفرت اور مقامی چترالی ثقافت میرے پسندیدہ موضوعات رہے ، جو بعد میں فکری اور تحقیقی جہت اختیار کر گئے ۔

    سوال : آپ نے کس کس زبان میں اشعار کہے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میں نے کھوار اور اُردوُ اور کچھ حد تک انگریزی میں بھی شاعری کی ہے ۔ ہر زبان کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اظہار کی کوشش کی ہے ۔ میری طنزیہ و مزاحیہ کتابوں میں گلدان رحمت اور گلدستہء رحمت شامل ہیں جوکہ کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے 1996ء  میں شائع ہوئیں ۔ 

    سوال : قارئین کو بتائیں آپ کی شاعری کا نقطۂ نظر کیا ہے ۔ ؟

    جواب : میری شاعری کا بنیادی محور انسان ، امن ، محبت ، انسان کی شناخت اور اس کی تہذیبی جڑیں ہیں ۔ میں زبان کو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ سمجھتا ہوں ۔

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    سوال : قاری کتاب سے دُور کیوں ہوتا جا رہا ہے ، اس پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔ ؟

    جواب : دیکھئیے ڈیجیٹل دور میں قاری کی توجہ کتاب سے  بٹ گئی ہے ۔ مختصر اور فوری مواد نے گہرے مطالعے کی جگہ لے لی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو نئی نسل کے لیے زیادہ پرکشش اور قابلِ رسائی بنائیں ۔

    سوال : آج کا ادب اور ادیب دونوں پر روشنی ڈالیں ۔ نے؟

    جواب : گوکہ آج کا جدید ادب موضوعاتی لحاظ سے وسیع ضرور ہے مگر کہیں کہیں فکری گہرائی کم نظر آتی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرے ، نہ کہ صرف عکاسی تک محدود رہے ۔

    سوال : جدید ادب وقت کے تقاضے پورے کرنے میں کس مقام پر ہے ۔ ؟

    جواب  : جدید ادب نے نئے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھا ہے ، مگر اسے اپنی روایت سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔ توازن کے بغیر ترقی ادھوری رہتی ہے ۔

    سوال : آپ کے کالموں کی دھوم مچی ہوئی ہے ، یہ بتائیں گے کالم کی روح کیا ہے ۔؟

    جواب  : کالم کی روح سچائی ، مشاہدہ ، تحقیق ، سچ کا پرچار ، جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے پرہیز اور فکری دیانت ہے ۔ ایک اچھا کالم وہ ہوتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرے ۔

    سوال : کیا آپ نے ادبی کالم بھی لکھے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں، میں نے ادبی کالم بھی لکھے ہیں جن میں مختلف ادبی رجحانات ، شخصیات اور تخلیقات پر گفتگو کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ظرف ظرافت کے لوگوں سے مزاحیہ کالم بھی لکھے ہیں ۔ 

    سوال : چترال میں اُردو ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔ ؟

    جواب : چترال میں اُردو  ادب ترقی کی راہ پر ہے ۔ نئی نسل اُردو میں لکھ رہی ہے ، مگر کھوار ، کالاشہ۔، یدغہ ، پالولہ ، انڈس کوہستانی اور مقامی زبانوں کا اثر بھی نمایاں ہے ۔

    سوال۔: چترال میں شاعری زیادہ ہو رہی ہے یا نثر ۔؟

    جواب : چترال میں شاعری کا رجحان زیادہ ہے ، خاص طور پر کھوار اور اُردوُ  میں ، تاہم نثر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے ۔

    سوال۔: چترال میں کیا مشاعرے کا رواج ہے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں ، اُردو اور کھوار دونوں زبانوں میں مشاعرے چترال کی ادبی روایت کا حصّہ ہیں اور باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔

    سوال :  چترال میں اُردو زبان و ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔؟

    جواب : اُردو یہاں ایک مضبوط رابطے کی زبان ہے ، مگر تخلیقی سطح پر اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

    سوال : چترال کے معروف شعرا و ادبا کون سے ہیں ۔؟

    جواب : چترال میں کئی اہم ادبی شخصیات ہیں جنہوں نے کھوار ، انگریزی اور اُردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ ان میں سینئر اور نوجوان دونوں شامل ہیں۔

    سوال : چترالی ادب میں کس صنفِ شعر کا رواج اور چرچا ہے ۔؟

    جواب : غزل اور نظم دونوں مقبول ہیں ، مگر غزل کو زیادہ پذیرائی حاصل ہے ۔ اس کے ساتھ لوک شاعری بھی بہت مضبوط روایت رکھتی ہے ۔

    سوال : پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے ادبی کام پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔؟

    جواب : ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا کام تحقیقی اور ادبی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ وہ  ایک بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ماہر اقبالیات بھی تھے انہوں نے ادب میں سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھا ہے ۔ میں نے ان کی کئی کتابوں کے لیے دیباچے لکھے ہیں ۔ 

    سوال : آپ نے اُردو میں کیا کھویا کیا پایا ۔ ؟

    جواب : اُردو نے مجھے وسیع قارئین اور فکری وسعت دی۔ کھویا شاید یہ کہ مقامی زبانوں کے لیے وقت کم ہو جاتا ہے ، مگر حاصل کہیں زیادہ کیا ہے ۔ میں نے اُردو زبان کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹ ویر بھی بنایا ہے ۔

    سوال : آپ نے لسانیات اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ کیسے جوڑا ۔؟

    جواب : یہ دراصل ضرورت سے پیدا ہونے والا عمل تھا ۔ میں نے محسوس کیا کہ ہماری مقامی زبانیں ڈیجیٹل دُنیا میں موجود ہی نہیں۔ اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ ایسے آلات تیار کروں جن کے ذریعے لوگ اپنی مادری زبان میں لکھ سکیں۔

    سوال : چالیس زبانوں کے لیے کی بورڈ کی تیاری کا خیال کیسے آیا ۔ ؟

    جواب : یہ خیال ایک مشاہدے سے پیدا ہوا کہ ہر زبان کے لیے الگ الگ نظام بنانا مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی کہ ایک ایسا متحدہ نظام بنایا جائے جو بیک وقت کئی زبانوں کو سہولت دے سکے ۔

    سوال: آپ کے اس کام کی تاریخی اہمیت کیا ہے ۔؟

    جواب : اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو بہت سی زبانیں صرف اس لیے ختم ہو گئیں کہ وہ تحریری یا جدید ذرائع میں منتقل نہ ہو سکیں۔ میرا کام دراصل ان زبانوں کو ڈیجیٹل دور میں زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔

    سوال : مادری زبان میں تعلیم کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میری رائے میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے ۔ بچہ جس زبان میں سوچتا ہے ، اسی زبان میں بہتر سیکھ سکتا ہے ۔

    سوال : کھوار اور اُردو وکیپیڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آپ کی خدمات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ۔؟

    جواب  : یہ ایک اجتماعی علم کی خدمت ہے ۔ جب کوئی زبان وکیپیڈیا پر آتی ہے تو وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرتی ہے ۔

    سوال : آپ کی نظر میں مستقبل میں پاکستانی زبانوں کا کیا حال ہوگا ۔؟

    جواب : اگر ہم نے ان زبانوں کو تعلیم ، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے نہ جوڑا تو یہ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جائیں گی ۔ لیکن اگر سنجیدہ کوشش جاری رہی تو ان کا مستقبل روشن ہے ۔

    سوال  :  نئے شعرا ادبا  کے لیے کوئی پیغام ۔؟ 

    جواب  :  میرا پیغام محبّت ہے جہاں تک پہنچے ،  نئے ادبا مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں ۔  صبر کریں اور اپنی مادری زبان اور ثقافت سے جڑے رہیں ۔  جلدی شہرت کے بجائے پائیدار کام پر توجہ دیں ۔ 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ محض ایک شاعر یا محقق نہیں بلکہ زبان، ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک مضبوط سہارا ہیں ۔ ان کا کام نہ صرف ادبی دُنیا بلکہ قومی شناخت کے تحفظ میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔

  • خیبرپختونخوا:41 ویں کابینہ اجلاس کے چند اہم فیصلے

    خیبرپختونخوا:41 ویں کابینہ اجلاس کے چند اہم فیصلے

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    صوبہ خیبر پختونخوا کی سیاست ہمیشہ مرکز اور صوبے کے تعلقات کے گرد گردش کرتی رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری بڑھی، مگر وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی تناؤ ختم نہ ہو سکا۔ صوبہ خیبرپختونخوا خاص طور پر سیکیورٹی، مالی وسائل اور بارڈر مینجمنٹ کے سوالات کے ساتھ مرکز کی پالیسیوں کا اثر محسوس کرتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں وزیراعلیٰ کا 41 ویں کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے جاری کردہ پالیسی بیانات اہمیت رکھتے ہیں۔
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی قید و حبسِ تنہائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بڑے رہنماؤں کی نظربندی یا قید کوئی نئی بات نہیں۔ بھٹو سے لے کر مشرف دور کے سیاسی قیدیوں تک، ریاستی طاقت کا یہ استعمال بارہا موضوعِ بحث بنتا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا یہ موقف اختیار کر چکی ہیں کہ نظر بندی ہو یا قید، اس میں بنیادی انسانی عزت، صحت اور ملاقات کے حق کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
    اسی تناظر میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کا مؤقف اپنی جگہ ایک سیاسی ردعمل بھی رکھتا ہے اور انسانی حقوق کے اصولوں سے بھی جڑا ہے۔
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ پاکستان میں پریس کانفرنسیں اکثر سیاسی کشمکش میں جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ زبان کی سختی سیاسی دراڑوں کو مزید گہرا کرتی ہے۔ ایسے سیاسی اور غیر ذمہ فارانی بیانات عوامی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں اور سیاسی ڈائیلاگ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاسی محاذ آرائی جتنی بڑھے، انتظامی نظام اتنا متاثر ہوتا ہے۔ صوبائی و وفاقی ہم آہنگی کمزور ہو تو پالیسی عمل درآمد بھی متاثر ہوتا ہے۔

    خیبرپختونخوا:41 ویں کابینہ اجلاس کے چند اہم فیصلے


    صوبائی حکومت نے ایک بار پھر گڈ گورننس روڈ میپ پر زور دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری اجلاسوں میں آن لائن شرکت کی ہدایت ایک عملی اور وقت کی ضرورت کے مطابق فیصلہ ہے۔ دنیا بھر میں ای گورننس مؤثر انتظامی ماڈل کے طور پر اُبھر رہی ہے۔
    آن لائن اجلاسوں سے سفری اخراجات کم ہوتے ہیں، وقت کی بچت ہوتی ہے، دور دراز اضلاع کے افسران بہتر انداز میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ مجموعی طور پر ایک مثبت قدم کہا جا سکتا ہے۔
    خیبرپختونخوا میں صرف ایٹا کے ذریعے بھرتیاں کرنے کی ہدایت اس تناظر میں اہم ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں پر شکوک و شبہات کی تاریخ کافی لمبی ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں کئی نجی ٹیسٹنگ ادارے شفافیت کے سوالات کی زد میں رہے۔
    سرکاری بھرتیوں کو ایک ہی نظام کے تحت لانا، اگر سخت مانیٹرنگ ہو تو شفافیت بڑھا سکتا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ طریقہ کار کا سخت نفاذ ہے، ورنہ ادارہ بدلنے سے نتائج ہمیشہ نہیں بدلتے۔
    قومی مالیاتی کمیشن پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ خیبر پختونخوا کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کا حصہ این ایف سی میں شامل کیا جائے۔ 1375 ارب روپے کا حوالہ اسی اہم مسئلے سے جڑا ہے۔ اگر این ایف سی میں یہ حصہ شامل نہیں ہوتا تو صوبہ خیبرپختونخوا ترقیاتی منصوبوں، سیکیورٹی اخراجات اور قبائلی اضلاع کی بحالی میں ہمیشہ مشکلات محسوس کرے گا۔ یہ تاریخی مسئلہ آج بھی حل نہ ہو سکا۔
    طورخم بارڈر اور چترال کے آرندو بارڈر کی بندش سے انسانی اور معاشی بحران بھی جنم لے رہا ہے۔ طورخم بارڈر کا 55 روز بند رہنا ایک سنگین انتظامی، معاشی اور انسانی مسئلہ ہے۔ بارڈر بندش کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کا سب سے بڑا بوجھ عام لوگ اٹھاتے ہیں، چاہے وہ ڈرائیور ہوں یا خاندان والے جو بارڈر کے دونوں طرف پھنس جاتے ہیں۔
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ کو کھانے پینے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت یقیناً فوری ریلیف کا اہم اقدام ہے، مگر اصل حل بارڈر پالیسی میں دونوں حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی ہے۔
    خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی مسائل تاریخی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ حالات کے مطابق ہے، مگر اس کے ساتھ ایک یہ سوال بھی ضرور اٹھتا ہے کہ کیا یہ خرچ گڈ گورننس اور کفایت شعاری کے دعووں سے ہم آہنگ ہے؟
    اگر حالات واقعی ایسے ہیں کہ سول افسران کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، تو یہ اقدام ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ بہتر کمانڈ اینڈ کنٹرول، سیکیورٹی پلاننگ اور انٹیلیجنس نظام بھی ضروری ہیں۔
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات اور ہدایات سیاسی ردعمل، انتظامی اصصلاحات اور صوبائی حقوق کی لڑائی وفاق کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا کا سبب بننے کا خدشہ ہے۔
    یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں وفاق اور صوبے دونوں کو تحمل، مکالمے اور آئین کی روح کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
    گڈ گورننس، شفاف بھرتیاں، ٹیکنالوجی کا استعمال اور مالی حقوق کے مطالبات یہ سب درست فیصلے ہیں۔
    لیکن سیاسی ماحول کی کشیدگی اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ سب کام حقیقی اصلاحات امن، تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ امید ہے کہ وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا دونوں ملکی مفاد کی خاطر ایک میز پر بیٹھنے کے لیے رضامند ہونگے۔ ان شا الله

  • بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین

    بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترال*

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور طویل المیعاد انسانی و انتظامی چیلنجوں میں سے ایک رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف سرحدی نقل مکانی یا پناہ گزینی تک محدود نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے سماجی، معاشی، سکیورٹی اور شناختی نظام پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ حالیہ سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ بوگس شناختی کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے خلاف یکم ستمبر 2025 سے عملی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے، یہ حکم دراصل ایک تاریخی تسلسل کی کڑی ہے جو 1979ء کے افغان جہاد سے شروع ہو کر آج کے ڈیجیٹل شناختی عہد تک پہنچ چکی ہے۔

    1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغان شہری ہجرت کر کے براستہ آرندو چترال اور براستہ چمن بارڈر پاکستان آئے۔ اس وقت کی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت ان مہاجرین کو پناہ دی، مگر ان کی رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور واپسی کے مؤثر منصوبے پر کبھی جامع حکمتِ عملی نہ بن سکی۔ وقت کے ساتھ افغان مہاجرین پاکستانی شہروں، دیہاتوں، کاروباروں اور حتیٰ کہ سرکاری محکموں میں بھی ضم ہوتے چلے گئے۔
    1990ء کی دہائی میں جب نادرا کا قیام عمل میں آیا، تو شناختی نظام کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر کرپشن اور کمزور نگرانی نے کئی افغان شہریوں کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا موقع دیا۔ سیاسی سرپرستی، رشوت اور سفارش نے اس عمل کو مزید خطرناک بنا دیا۔
    آج نادرا کے ڈیٹا بیس میں ہزاروں ایسے ریکارڈ موجود ہیں جن میں افغان شہریوں نے خود کو پاکستانی ظاہر کیا ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے زمینیں خریدیں، کاروبار کیے اور کچھ نے سیاسی وابستگیاں بنا کر اثر و رسوخ حاصل کیا۔ رپورٹوں کے مطابق پشاور اور کوئٹہ جیسے علاقوں میں یہ رجحان سب سے زیادہ ہے، جہاں کئی افغان خاندانوں نے جعلی رشتہ داریوں (والد یا والدہ کا نام بدل کر) کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کیے۔
    حکومت پاکستان نے اب جو فیصلہ کیا ہے، وہ نہ صرف ایک انتظامی قدم ہے بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں ایک فیصلہ کن مرحلہ بھی ہے۔ ایسے تمام افراد کے لیے پیغام واضح ہے کہ جعلی شناخت یا غیرقانونی رہائش اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
    حکومت پاکستان کا یہ اعلان کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول یہ کہ کیا حکومت کے پاس وہ عملی صلاحیت موجود ہے کہ وہ لاکھوں مشتبہ ریکارڈز کو مکمل طور پر صاف کر سکے؟
    دوم یہ کہ ان جعلی کارڈز کے اجراء میں ملوث نادرا کے سرکاری اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی کیا واقعی کارروائی ہوگی؟


    سوم یہ کہ اگر یہ افغان مہاجرین واپس بھیجے گئے تو کیا افغانستان کی موجودہ غیر مستحکم صورت حال انہیں قبول کرنے کی پوزیشن میں ہے؟
    ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کئی افغان خاندان اب دوسری اور تیسری نسل میں پاکستان میں پیدا ہو چکے ہیں۔ ان کی سماجی و ثقافتی وابستگیاں پاکستانی معاشرے کے ساتھ جڑ چکی ہیں۔ ان کے لیے "ملک بدر” ہونا محض قانونی نہیں بلکہ انسانی المیہ بھی بن سکتا ہے۔
    یہ کہنا درست ہوگا کہ ریاست نے کئی دہائیوں تک اس مسئلے کو سیاسی مصلحتوں، انسانی ہمدردی اور وقتی انتظامات کے درمیان دبائے رکھا۔ اب جبکہ صورتحال ایک بحرانی شکل اختیار کر چکی ہے، حکومت کو سخت فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف افغان مہاجرین کو قصوروار ٹھہرانا انصاف ہے؟
    حقیقت یہ ہے کہ بوگس شناختی کارڈ کے اجراء میں ملوث نادرا اہلکار، بااثر سیاسی رہنما اور مافیا طرز کے دلال اصل ذمہ دار ہیں جنہوں نے چند ہزار روپے کے بدلے ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ اگر ان کے خلاف شفاف اور غیرجانبدار کارروائی نہیں کی گئی تو یہ مہم بھی محض ایک وقتی دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔
    پاکستان کی ریاست کے لیے اب یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ جعلی شناخت کا خاتمہ صرف افغان مہاجرین کے اخراج سے ممکن نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے دو سطحوں پر کام کرنا ہوگا جن میں سرفہرست قانونی و انتظامی سطح ہے۔ نادرا، ایف آئی اے اور داخلہ اداروں کو بااختیار بنا کر ملوث اہلکاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔
    ان افغان خاندانوں کے لیے باعزت واپسی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے بحالی کا پروگرام شروع کیا جائے۔
    پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے شناختی اور سلامتی کے ڈھانچے کو شفاف، مضبوط اور انسانی اصولوں کے مطابق بنائے۔ افغان مہاجرین کے بوگس شناختی کارڈ کا معاملہ دراصل ایک بڑے ریاستی امتحان کی علامت ہے جہاں قانون، انصاف اور انسانیت تینوں کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

  • مکتوب چترالی بنام اقبال

    مکتوب چترالی بنام اقبال

    (یوم اقبال پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    میراندھ وادی کھوت

    اپر چترال خیبرپختونخوا

    پاکستان

    مؤرخہ 8 نومبر 2025

    السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ

    شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال صاحب، امید ہے کہ آپ جنت الفردوس میں خیریت سے ہونگے،میں ایک چترالی اقبال شناس یہ مکتوب آپ کی خدمت میں ہندوکش اور تریچ میر کے پہاڑوں کے دامن میں واقع وادی چترال کے کھوت میراندھ سے لکھ رہا ہوں۔ اسے میں بذریعہ پاکستان پوسٹ بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ کا واٹس ایپ نمبر میرے پاس نہیں ہے۔ یہاں چترال میں ہوا اب بھی بہت ٹھنڈی ہے پہاڑوں پر برف کے اپنی بہادر بچھا دی ہے۔ وادی ویرمین کے اوشاک اوچ کے چشمے کا پانی اب بھی ٹھنڈا اور میٹھا ہے۔ مگر میرے محسن اقبال صاحب یہاں میرے گاؤں میراندھ میں ٹماٹر سات سو روپے کلو ہو گئے ہیں۔ اور چترالی عوام دیگر پاکستانی عوام کی طرح ٹماٹر خود خریدنے کی سکت نہیں رکھتا اس لیے سالن اور ترکاری میں ٹماٹر کی جگہ نیمبو اور دہی ڈال کر ذائقہ برابر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے جس ملک پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ ملک آپ کے بعد وجود میں آ گیا۔ پر اس ملک میں عام آدمی کے دن آج بھی آسان نہیں بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر میں نے یک مصرعی نظم لکھی ہے وہ یہ ہے کہ

    "غلامی ختم ہوئی پر صرف انگریز کی”۔

    اقبال صاحب اب ہم انگریزی کے غلام ہیں۔ اور اردو کو ہم نے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اقبال صاحب آپ نے یہ کہا تھا کہ

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    لیکن آپ کے ملک پاکستان میں معاملہ اب اس سے بھی زیادہ تلخ دکھائی دے رہا ہے۔ ایک اور میری یک مصرعی نظم ملاحظہ کیجیے:

    "میرے دیس میں چمن کے مالی کے بچے بھی ننگے پاؤں ہیں”۔

    اور دیدہ ور پاکستانی نوجوانوں کے ہاتھ میں اب موبائل ریچارج بھی نہیں ہوتا کیونکہ آپ کے جانے کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔ آپ تو جناح، سر سید اور غالب کے ساتھ جنت الفردوس میں آرام کر رہے ہوں گے۔ یہاں کا مزدور اب بھی تھکا ہارا شام ڈھلنے پر گھر آ کر کہتا ہے کہ واقعی اقبال نے سچ کہا تھا کہ

    "ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات”

    میرے پیارے علامہ صاحب، میں نے آپ کی فکر کو اس دیس کی پہاڑی زبان کھوار کے قالپ میں ڈھالا۔ یہ زبان ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں بولی جاتی ہے۔ میں نے آپ کی شخصیت و فن پر کھوار اور اردو دونوں زبانوں میں کتابیں لکھی ہیں جن میں

    فکر اقبال

    فلسفہ اقبال

    میرا اقبال

    پھوپھوکان اقبال

    اور آپ کی ذاتی ڈائری Stray Reflections کے اردو ترا جم شامل ہیں۔ ان سب کو کھوار اور اردو میں منتقل کیا ہے اب میں ان کتابوں کو آپ کو بھیجنا چاہتا ہوں لیکن میری والدہ اور والد صاحب کو جلدی جلدی تھی وہ دونوں جنت الفردوس چلے گئے ورنہ ان کے ہاتھ بھیج دیتا۔ میرے والدین جنت کے کسی اعلیٰ درجے پر فائز ہونگے ان کو میرا سلام کہئیے گا۔ اب میں آپ کے جناح صاحب کو لکھے گئے انگریزی خطوط کا اردو اور کھوار ترجمہ بھی کر رہا ہوں۔ میری یہ سب مزدوری دل سے ہے۔ میں زبانوں کے لیے سافٹویر بنا دیا ہے تاکہ کلام اقبال کے پاکستانی زبانوں میں تراجم ہو سکیں۔ اس اقبالیاتی خدمات پر مجھے چار علامہ اقبال گولڈ میڈلز بھی ملے ہیں۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ میں نے آپ کی بات ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کی زبانوں تک پہنچائی ہے جوکہ میری اقبال دوستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

    مکتوب چترالی بنام اقبال

    اقبال صاحب جنت الفردوس میں آپ کے رفیق کون کون ہیں وہاں مرزا غالب موجود ہیں؟ سر سید احمد خان؟، محمد علی جناح؟، چوہدری رحمت علی؟ اور وہ سردار عبدالرب نشتر؟ اگر ان سے ملاقات ہو تو ان سب کی طرف ایک چترالی سلام کہہ دیجئے یعنی سلامالیکو۔ اقبال صاحب آپ اور آپ کے وہ ساتھی جو مملکت خداداد پاکستان بنا گئے اور پھر خود جنت الفردوس میں جا بیٹھے۔ الله ان کے درجات بلند کرے۔ ابھی نومبر 2025 چل رہا ہے چند مہینے بعد 2026 کی عید آرہی ہے اس لیے عید کی پیشگی مبارک باد قبول کیجیئے۔

    اور ہاں اقبال صاحب ایک عرض ہے کہ راجستھان میں ایک صاحب ہیں سرفراز بزمی وہ اقبالیاتی بحر میں شعر لکھ رہے ہیں اور لوگ اسے فیس بک پر آپ سے جوڑ کر بیچ رہے ہیں یہ کاروبار بھی شروع ہو گیا ہے، حسد عجیب چیز ہے، اور کاروبار شاعری چوری تک جا پہنچا ہے۔ میں نے مارک زکربرگ کو خط بھیج دیا ہے کہ ہمارے اقبال سے منسوب غلط اشعار فیس بک پر شیئر ہو رہے ہیں ان پر کوئی ایکشن لیجئیے ورنہ ہم پاکستانی فیس بک یوز کرنا چھوڑ دینگے۔

    اقبال صاحب وہ پنجابی زبان میں کہتے ہیں کہ

    "کووں کے کہنے سے ڈھگے نہیں مرا کرتے”

    سو آپ ان اشعار کی فکر نہ کیجئے میں تو بس آپ کو اطلاع دے رہا ہوں۔ اور آخر میں

    آپ ہی کا ایک شعر دل میں لگا رہتا ہے کہ

    "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”

    ہم پاکستانی کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہاں مہنگائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ "اب تقدیر خود حساب کر کے بھاگ جاتی ہے”

    آپ کے اشعار کا عاشق

    ایک چترالی اقبال شناس

    رحمت عزیز خان چترالی

  • پیٹر ایگریٹ کی ریاست چترال پر تحقیقی کتاب موڑکھو تورکھو

    پیٹر ایگریٹ کی ریاست چترال پر تحقیقی کتاب موڑکھو تورکھو

    پیٹر ایگریٹ کی ریاست چترال پر تحقیقی کتاب موڑکھو تورکھو

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    ریاست  چترال  برصغیر کے شمالی کوہستانی علاقوں میں ایک ممتاز ریاست کی حیثیت رکھتا تھا  جو ۱۹ ویں صدی کے اواخر میں رفتہ رفتہ برطانوی ہندوستان کا حصہ بنی، لیکن اپنی اندرونی خودمختاری اور روایتی سماجی ڈھانچے کو کافی حد تک محفوظ رکھنے میں کامیاب رہی۔ ۱۹۵۴ میں چترال کو پاکستان میں ضم کر دیا گیا، اور باضابطہ طور پر ۱۹۶۹ میں اس کی ریاستی حیثیت ختم ہوئی۔ لیکن اس وقت تک چترال کی قدیم سماجی ساخت اپنی جڑوں سمیت قائم تھی، جو قبل از اسلام اور قبل از نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی تھی۔

    جرمن محقق پیٹر ایگریٹ کی تحقیقی دستاویز "مولکھوس اور تورکھوس (موڑکھو اور تورکھو)    چترال کی سماجی ساخت” ایک اہم تاریخی و سماجی تحقیق ہے جس میں چترال کے دو خطوں (موڑکھو  اور تورکھو) کی سماجی تنظیم، قبیلائی نظام، جاگیردارانہ ڈھانچہ  اور طبقاتی تقسیم کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    ایگریٹ نے  اپنی اس تھیسس میں یہ ثابت کیا ہے کہ چترال کا سماج "Segmentary State” کی خصوصیات رکھتا تھا۔ یہاں خاندان اور برادریوں کی بنیاد پر منظم قبیلے موجود تھے، جو پدرانہ اور پدرمحل نظام پر مبنی تھے۔ ان قبیلوں کا سائز چھوٹے (چند گھرانوں) سے لے کر بڑے (۳۶۰ گھرانوں یا ۲۸۱۰ افراد تک) تک ہوتا تھا۔ یہ قبیلے نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب آباد تھے بلکہ سماجی اور معاشی سطح پر ایک دوسرے کے مددگار بھی تھے۔

    ایگریٹ نے ایک اہم روایت کی طرف اشارہ کیا ہے، جسے "شِرموش”(چھیر موژ)   نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت حکمران طبقہ (خصوصاً تیموری سلسلہ) اپنے بچوں کو اعلیٰ ذات کی عورتوں کے پاس دودھ پلوانے یا علامتی پرورش کے لیے بھیجتا تھا تاکہ سیاسی وفاداری کا دائرہ وسیع ہو سکے۔ اس رسم کے سیاسی مفادات کو واضح کرتے ہوئے ایگریٹ نے یہ بتایا کہ کس طرح حکمران خاندان اپنے بچوں کو مختلف علاقوں میں رکھ کر مقامی حمایت حاصل کرتا تھا۔

    ایگریٹ کی تحقیق کے مطابق چترالی سماج میں درج ذیل طبقات موجود تھے جن  میں سرفہرست  آدمزادہ طبقہ تھا  جس میں حکمران طبقہ، جاگیردار اور اعلیٰ ذات والے شامل ہیں ۔ دوسرا طبقہ  یُفت کہلاتا تھا جو کہ  آزاد کسان اور   درمیانہ طبقہ تھا ۔ تیسرا طبقہ  بولدویو ہے جو کہ  تعمیراتی اور عوامی خدمات انجام دینے والا طبقہ تھا۔ چوتھا طبقہ شِرموش یعنی چھیر موژ تھا جن میں   خانا زاد کلاتا تھا۔ پانچواں طبقہ  رعیاد تھا جوکہ زرعی مزدور، غلام اور  کرائے دار تھے ۔ چھٹا طبقہ  مذہبی رہنما تھے  جو  محدود اثر و رسوخ اور کم عزت و مقام کے مالک تھے۔

    ایگریٹ کی تحقیق کے مطابق  صرف آدمزادہ، یُفت اور  بولدویو   قبیلائی تنظیم میں خود کو منظم کر سکتے تھے، جبکہ شِرموش(چھیر موژ)، رعیاد اور خانا زاد کو ایسے کسی اجتماعی شناخت کے حق سے محروم رکھا گیا۔

    پیٹر ایگریٹ کی ریاست چترال پر تحقیقی کتاب موڑکھو تورکھو

    پیٹر ایگریٹ نے   ریاست چترال  زمین اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی بھی نشاندہی کی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آدمزادہ آبادی کا صرف ۳۱ فیصد تھے لیکن زرعی زمین کا ۶۴ فیصد ان کی ملکیت میں تھا۔ ایک اوسط آدمزادہ خاندان کے پاس تقریباً دو ہیکٹر زمین تھی، جو یورپی معیار کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے، لیکن مقامی سماجی طاقت کے لحاظ سے بے حد اہم تھی۔

    پیٹر ایگریٹ نے کٹور خاندان کی مرکزی اور متعدد حکمرانی کی حکمت عملی کو بڑی باریکی سے بیان کیا ہے۔ چترال میں کئی مہتر بیک وقت مختلف علاقوں میں حکمرانی کرتے تھے، تاہم مہترِ اعظم (Mehtar of all Chitral) کو کچھ خصوصی اختیارات حاصل تھے جیسے جلاوطنی یا غلامی کا حکم دینا۔

    رشتہ داریاں، دودھ شریک تعلقات، سیاسی شادیاں  اور مقامی حکمرانوں کی تعیناتی کے ذریعے حکمران خاندان نے اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ ایگریٹ کے مطابق ان تمام سیاسی سرگرمیوں نے ایک جانب  ریاست  چترال کو خانہ جنگیوں کا شکار بنایا تو دوسری جانب اس کی سیاسی وحدت اور بیرونی آزادی کو طویل عرصے تک قائم رکھا۔

    برطانوی دور میں چترال کا روایتی نظام تبدیل ہوا۔ مرکزی حکمرانی، بیوروکریسی  اور مالیاتی ٹیکس کا نفاذ جیسے اقدامات سے مہترِ اعظم کی قوت میں بے حد اضافہ ہوا۔ عشر  اور "ساورنگ” جیسے نئے ٹیکسز متعارف ہوئے۔ ملیشیا کی تشکیل نے آدمزادہ طبقے کی عسکری اجارہ داری ختم کی اور یُفت و بولدویو  کی تعداد میں اضافہ ہوا، جو ایک نئی متوسط طبقاتی قوت کے طور پر ابھرا۔

    ایگریٹ کی تحقیق میں چترال کے سماجی نظام کو ایک "بند مگر متحرک سماج” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ طبقاتی حدود کے باوجود کچھ طبقات (مثلاً یُفت اور بولدویو) ترقی کی راہیں پا سکتے تھے۔ لیکن شِرموش (چھیرموژ) ، خانا زاد اور رعیاد  جیسی ذیلی جماعتیں سماجی سطح پر محدود اور جمود کا شکار رہیں۔

    البتہ ایگریٹ کی تحقیق پر یہ تنقید بھی  کی گئی   ہے کہ انہوں نے مقامی مذہبی قیادت کے اثر کو کافی کم کر کے پیش کیا ہے  حالانکہ چترال جیسے مذہبی سماج میں روحانی رہنماؤں کا کردار بعض اوقات مقامی حکمرانوں سے زیادہ مؤثر رہا ہے۔

    پیٹر ایگریٹ کا تحقیقی کام "موڑکھو  اور تورکھو” صرف  ریاست چترال کی سماجی تاریخ کا ایک خاکہ ہی  نہیں بلکہ برصغیر کے شمالی کوہستانی ریاستوں کے سماجی ارتقاء کا ایک مثالی تحقیقی و تنقیدی  مطالعہ  بھی ہے۔ ان کی تحقیق نہ صرف ریاست   چترال کے قبیلائی نظام، جاگیرداری تعلقات اور طبقاتی کشمکش کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس کی تاریخی خودمختاری، سیاسی حکمت عملی، اور سماجی تنوع کو بھی علمی سطح پر محفوظ کرتی ہے۔

    یہ تحقیقی مقالہ  نہ صرف محققین بلکہ مؤرخین، سماجی ماہرین اور ریاستی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک بے مثل علمی سرمایہ ہے۔

    Title Image by webcitestraffic from Pixabay

  • نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا دورۂ کابل

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا دورۂ کابل


    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا دورۂ کابل

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حالیہ دنوں میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان، سینیٹر اسحٰق ڈار کا دورہ نہ صرف دو طرفہ سفارتی تعلقات کی بحالی کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا بلکہ اس نے خطے میں ایک نئے علاقائی اور اقتصادی تعاون کے باب کی بنیاد بھی رکھ دی۔ اس دورے میں اسحٰق ڈار نے افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، وزیر خارجہ امیر خان متقی اور قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقاتیں کیں، جن میں تجارت، سلامتی، سرحدی تعاون، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطہ کاری جیسے کلیدی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔

    پاک افغان تعلقات تاریخی طور پر کئی اتار چڑھاؤ سے گزر چکے ہیں۔ قیام پاکستان کے فوری بعد ہی سے یہ تعلقات مختلف وجوہات کی بنا پر پیچیدگی کا شکار رہے۔ تاہم، اقتصادیات، جغرافیائی قربت، مشترکہ مذہبی و ثقافتی اقدار اور افغان عوام کی ضروریات نے دونوں ممالک کو بارہا ایک دوسرے کے قریب لایا۔ سابقہ سوویت حملہ ہو یا امریکہ کی زیرِ قیادت جنگ، پاکستان ہمیشہ افغان قوم کا پُرجوش مددگار رہا۔ اب جبکہ افغانستان ایک عبوری حکومت کے تحت استحکام کی طرف گامزن ہے، پاکستان کی جانب سے اس اہم دورے نے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کی جانب سے افغان قیادت کے ساتھ سکیورٹی اور امن کے معاملات پر گفتگو اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان افغانستان کو محض ایک ہمسایہ نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔ سراج الدین حقانی جیسے اہم شخصیت سے ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ فعال و براہ راست مکالمہ چاہتا ہے۔ اس ملاقات میں دہشت گردی، سرحدی خلاف ورزیوں، اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے اہم موضوعات پر بات ہوئی اور خطے کے خطرات کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    دورے کا سب سے اہم اور انقلابی پہلو ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے کوریڈور (UAP Railway Corridor) سے متعلق مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہے۔ نائب آباد تا خرلاچی ریلوے لنک نہ صرف پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑے گا بلکہ افغانستان کی داخلی معیشت کو بھی متحرک کرے گا۔ اس منصوبے کی قیادت سابقہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں اسحٰق ڈار کے ہاتھ میں دی گئی تھی  اور اس کا عملی جامہ اب اس دورے میں مکمل ہوا۔

    چترال کی سرحد متعدد مقامات پر افغانستان سے جاملتی ہے، خصوصاً لوئر چترال کے ارندو اور اپر چترال کے علاقوں تورکھو، زیوار گول اور اجنو گول میں کے مقامات افغانستان کے کافی قریب ہیں اور ریاست کے دور میں ان جگہوں سے افغانستان اور ریاست چترال کے درمیان تجارت ہوتی تھی۔ ان مقامات سے افغانستان کی سرحد نہ صرف زمینی فاصلہ کے اعتبار سے انتہائی قریب ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی یہ علاقے ریلوے ٹریک بچھانے کے لیے موزوں ترین گزرگاہیں فراہم کرتے ہیں۔ ان راستوں سے ریلوے لائن بچھانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت و ترسیل کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ خطے میں روزگار، سیاحت اور علاقائی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ لہٰذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر ان راستوں کا تفصیلی سروے کرائے تاکہ چترال سے افغانستان کی جانب ریلوے ٹریک بچھانے کا عمل جلد از جلد ممکن بنایا جا سکے۔ اس منصوبے پر لاگت بھی نسبتاً کم آئے گی اور یہ خطے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو گا، ان شاء اللہ۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا دورۂ کابل

    یہ معاہدہ نہ صرف تین برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہے بلکہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تناظر میں بھی جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے ایک متبادل تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ ازبکستان، جو زمینی طور پر محصور ملک ہے، اس منصوبے کی بدولت کراچی، گوادر اور بن قاسم کی بندرگاہوں سے جُڑ سکے گا، جو اس کی تجارتی ترجیحات کے لیے ایک نئی راہ ہموار کرے گا۔

    کابل میں ازبک، افغان اور پاکستانی وزرائے خارجہ کی سہ فریقی ملاقات میں باہمی عزم، تجارتی تعلقات اور علاقائی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔ تینوں ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ خطے کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے اور اپنے عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے دیرپا تعاون ناگزیر ہے۔

    یہ سہ فریقی میکانزم، مستقبل میں ایک مضبوط علاقائی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے جو نہ صرف باہمی اقتصادی ترقی بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی ایک متوازن قوت بنے گا۔

    اسحٰق ڈار کا دورہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف مغربی بلاک یا مشرقی شراکت داروں تک محدود خارجہ پالیسی کا حامی نہیں رہا، بلکہ وہ ایک فعال علاقائی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں، اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اور اس کی سیاسی قیادت کا وژن اب اس سمت میں گامزن ہے جہاں تجارت، رابطہ کاری، اور مشترکہ ترقی بنیادی ستون بنیں گے۔

    اسحٰق ڈار کا دورہ کابل صرف ایک رسمی سفارتی ملاقات نہیں تھا بلکہ یہ خطے کے مستقبل کے لیے ایک تزویراتی سنگِ میل ہے۔ اس نے پاک افغان تعلقات میں نئی روح پھونکی ہے، اور ازبکستان کو ساتھ ملا کر ایک وسیع اقتصادی وژن پیش کیا ہے۔ یو اے پی ریلوے منصوبہ ایک علامتی اور عملی قدم ہے جس سے خطے میں نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ معاشی انحصاری کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ بھی حاصل ہوگا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ تازہ اقدام اس امر کی دلیل ہے کہ اب اسلام آباد سفارتی بیانیے سے آگے بڑھ کر عملی علاقائی شراکت داری کی طرف گامزن ہے، جس کا محور امن، تجارت، رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی ہے۔

  • چترال تا روس سڑک منصوبہ: وقت کی اہم ضرورت

    چترال تا روس سڑک منصوبہ: وقت کی اہم ضرورت

    چترال تا روس سڑک منصوبہ: وقت کی اہم ضرورت


    رحمت عزیز خان چترالی

    دنیا کی سیاست، جغرافیہ اور معیشت کے دھارے وقت کے ساتھ ساتھ رخ بدلتے رہتے ہیں۔ آج جو علاقے دنیا سے کٹے ہوئے اور پسماندہ سمجھے جاتے ہیں، کل وہی علاقے عالمی سیاست اور تجارت کے اہم مراکز بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع خیبر  پختونخوا کا  ضلع چترال  اپنے محلِ وقوع کی بدولت اسی تغیر پذیر دنیا میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    سرد جنگ کے دوران، جب روس (سوویت یونین) نے افغانستان پر حملہ کیا تو مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ نے پاکستان کو اپنا مرکزی مورچہ بنایا تاکہ روس کو گرم پانیوں (بحیرہ عرب) تک رسائی سے روکا جا سکے۔ پاکستان نے اس جنگ میں اپنے لاکھوں شہریوں، معیشت اور سلامتی کو داؤ پر لگا کر مغرب کا ساتھ دیا۔ نتیجتاً  نہ صرف روس کو افغانستان سے نکلنا پڑا بلکہ خطہ کئی دہائیوں تک جنگ، انتہاپسندی اور بے یقینی کا شکار رہا۔

    لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ روس، چین اور وسط ایشیائی ممالک اب جنگ نہیں، تجارت کو اولیت دے رہے ہیں۔ اس بدلتے عالمی تناظر میں پاکستان، خصوصاً وادی  چترال، دوبارہ ایک جغرافیائی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    موجودہ حکومت  چترال سے روس تک سڑک کا خواب پورا کرے۔ چترال جو کہ پاکستان کا جغرافیائی لحاظ سے شمالی سرحدی ضلع ہے، افغانستان اور تاجکستان کی سرحدوں کے ساتھ متصل ہے۔ اس علاقے سے روس اور وسط ایشیا تک زمینی راستہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ چترال سے روس تک ممکنہ سڑک کے تین اہم راستے تجویز کیے جا سکتے ہیں جن میں سرفہرست  چترال – لوٹ کوہ – گرم چشمہ – افغان سرحد – روس تک سڑک اور ٹنل بنائے جائیں۔ اگر لوٹ کوہ اور گرم چشمہ سے سرنگ (ٹنل) کے ذریعے افغانستان کے اندر داخل ہوا جائے تو تاجکستان اور اس کے بعد روس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ راستہ قدرتی طور پر مختصر اور سٹریٹجک اعتبار سے موزوں بھی  ہے۔

    دوسرا راستہ  چترال – تورکھو – اجنو گول – زیوار گول – افغان سرحد – روس تک ٹنل والا راستہ ہے۔ یہ دوسرا متبادل راستہ ہے جو قدرتی درّوں سے گزرتا ہوا افغانستان کے بدخشاں علاقے سے ہوتا ہوا تاجکستان اور روس تک پہنچتا ہے۔ یہ راستہ ثقافتی و لسانی روابط کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ تیسراراستہ  چترال – بروغل پاس – واخان کاریڈور – تاجکستان – روس ٹنل کے زریعے بنایا جاسکتا ہے۔ بروغل پاس تاریخی راستہ ہے جو صدیوں تک مقامی کھوو  اور روسی  اقوام اور قافلوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ پاکستان کو افغانستان کے واخان کاریڈور کے ذریعے تاجکستان اور روس سے ملاتا ہے۔ اس راستے کی بحالی چترال اور گلگت بلتستان کے لیے ایک نیا معاشی در کھول سکتی ہے۔

    چترال تا روس سڑک منصوبہ: وقت کی اہم ضرورت

    حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور روس کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ کے درمیان زمینی روابط پر باقاعدہ مذاکرات ہوئے۔ اس کا مقصد پاکستان، روس اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان سڑکوں اور ریل نیٹ ورک کو فروغ دینا ہے۔ ان مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ علاقائی ممالک کے درمیان شاہراہوں کی تعمیر تیز کی جائے۔ جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے اور  پاکستان کو تجارتی گیٹ وے بنایا جائے۔

    پاکستان  خاص طور پر چترال جیسے سرحدی علاقے، اس سڑک منصوبے سے بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں جن میں سرفہرست  دوطرفہ تجارتی فروغ ہے۔ روس، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور قازقستان جیسے ممالک کو پاکستان کے گوادر اور کراچی بندرگاہوں تک رسائی ملے گی، جبکہ پاکستان کو وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی ملے گی۔

    سیاحت اور ثقافت کو فروع ملے گا۔ چترال کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثہ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بن سکتا ہے، جو زمینی راستے سے سفر کریں گے۔

    دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ شاہراہوں، سرنگوں اور پلوں کی تعمیر سے مقامی افراد کو روزگار اور کاروباری مواقع حاصل ہوں گے۔

    اس سڑک  کے سٹریٹجک فوائد بھی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر ایک "جیو اکنامک” ریاست کے طور پر ابھرے گا، جو اپنی جغرافیائی پوزیشن کو پرامن تجارت کے لیے استعمال کرے گا نہ کہ جنگ کے لیے۔

    چترال سے روس تک سڑک بنانے کا خواب اب محض ایک تصور نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے۔ آج کی دنیا اسلحے کی نہیں، تجارت کی دنیا ہے۔ اگر پاکستان اس وژن پر عمل کرے تو چترال صرف ایک سرحدی ضلع نہیں، بلکہ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پل بن سکتا ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اس منصوبے کو سنجیدگی سے لے، مقامی آبادی کو شامل کر کے سوشل استحکام کو یقینی بنائے اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک پرامن، باہمی فائدے پر مبنی سڑک ترقیاتی منصوبہ شروع کرے۔

    یوں چترال سے روس تک سڑک نہ صرف خطے میں ترقی و خوشحالی لائے گی بلکہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی جیو اکنامک منظرنامے میں مقام دلائے گی ان شاء اللہ۔

    Title Image by Damián Luzzi from Pixabay

  • پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت


    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان چترالی

    کھوار زبان میں "پتھرانزَک" ایک ایسا لفظ ہے جسے اردو میں "بِجوکا” یا "بِجھوکا” اور انگریزی میں "Scarecrow” کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا بنیادی تعلق زرعی تہذیب اور دیہی زندگی سے ہے، جہاں کھیتوں میں کسان فصلوں کو پرندوں اور آوارہ جانوروں سے بچانے کے لیے انسانی شکل کا ایک ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ اکثر گھاس، بھوسے، لکڑی یا کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور کھیت کے وسط یا کنارے نصب کیا جاتا ہے تاکہ پرندے اسے انسان سمجھ کر خوف کھائیں اور فصل کو نقصان نہ پہنچائیں۔

    "پتھرانزک” محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ کسان کی ذہانت، مشاہدے اور فطرت سے ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔ یہ کھوو تہذیب کی علامتی یادگار ہے، جو انسانی صورت میں غیر انسانی کردار نبھاتا ہے۔ بالائی چترال میں اب بھی کہیں کہیں ”پتھرانزک”  نظر آرہے ہیں لیکن  لوئر چترال میں اب یہ رسم معدوم ہوگئی ہے۔

    پتھرانزک” یعنی بجوکا کی انسانی شباہت اس کی افادیت کا بنیادی پہلو ہے۔پرانے زمانے میں چترال میں  اسے کبھی مٹی کا چہرہ دیا جاتا تھا، کبھی لکڑی کا، بعض اوقات پرانے کپڑے، ہیٹ یا چترالی کپھوڑ اور مفلر کے ذریعے اسے مکمل انسانی پیکر میں ڈھالا جاتا تھا۔ ”پتھرانزک”  یعنی  بجوکا دراصل خوف اور حفاظت کے بیچ ایک لطیف توازن کا نام ہے۔چترال کے  کسان ”پتھرانزک”  بناتے وقت جس انسان کی شبیہ تراشتا ہے، وہ گویا ایک "خاموش محافظ” بن جاتا ہے۔ ایک ایسا محافظ جو نہ بولتا ہے، نہ چلتا ہے، مگر اس کی موجودگی میں فصلیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ”پتھرانزک” کی موجودگی کو دیکھ کر  چور اور پرندے بھاگ جاتے ہیں۔

    شمالی یارک شائر (انگلینڈ) کے ماسٹن گاؤں میں ہر سال  ”پتھرانزک” یعنی”بجوکا فیسٹیول” منایا جاتا ہے جو ایک ثقافتی جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔”پتھرانزک”  انگلینڈ اور چترال کی مشترکہ علامت بن چکی ہے۔ اگرچہ انگلینڈ میں 1999ء سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا دیہی تہوار تھا، مگر اب یہ ایک بین الاقوامی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ یہاں رنگ برنگے بجوکے تیار کیے جاتے ہیں جو دیہی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ لیکن چترال میں ”پتھرانزک”  کااستعمال ریاست چترال سے پہلے  موجود تھا اور اب بھی  بالائی چترال میں موجود ہے۔

    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    اسی طرح جاپان کے ناگورو گاؤں میں، جہاں انسانی آبادی کم ہو چکی ہے، وہاں ”پتھرانزک”  کو زندگی کی نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ نہ صرف گاؤں کے خالی پن کو پر کرتے ہیں بلکہ تہذیبی یادداشت کا ایک متحرک استعارہ بھی بن چکے ہیں۔ ”پتھرانزک”  اب چترال اور جاپان میں بھی مشترک علامت بن گئی ہے۔  اردواور کھوار  ادب اور دیگر عالمی ادب   میں بھی  ”پتھرانزک”  کو محض ایک دیہی شے کی بجائے ایک علامتی پیکر کے طور پر اپنایا گیا ہے۔

    سعادت حسن منٹو نے 1954ء میں ہندوستان کے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک مشہور خط لکھا جس کا عنوان ہی "بجوکا” تھا۔ اس خط میں منٹو نے بجوکا کے ذریعے معاشرتی، سیاسی اور فکری زوال کی عکاسی کی۔ بجوکا یہاں خاموشی، لاچاری اور نمائشی پن کی علامت کے طور پر ابھرتا ہے۔

    اسی طرح سریندر پرکاش کا افسانہ "بجوکا" بھی بجوکے کو ایک تلخ حقیقت کے پیکر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہوری، ایک کسان، جو آزادی کے بعد اپنی زمین اور فصل کے مالک ہونے پر خوش ہے، اس وقت چونک جاتا ہے جب اس کی فصل کاٹنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہی بجوکا نکلتا ہے، جسے اس نے حفاظت کے لیے بنایا تھا۔ یہ ایک گہرا استعارہ ہے جس میں اقتدار، غداری اور استحصال جیسے عناصر پوشیدہ ہیں۔

    پتھرانزک یا بجوکا دراصل کھوو تہذیب کا  محض ایک زرعی آلہ ہی  نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی  ہے۔ جہاں ایک طرف یہ کسان کی ذہانت، مشاہدہ اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ بے جان انسانی شکل کی صورت میں ایک تلخ سماجی استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ ادب میں اس کا استعمال سماجی بے حسی، سیاسی استبداد اور عوامی استحصال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    سریندر پرکاش کے افسانے میں بجوکا ریاستی نمائندگی کا استعارہ ہے جو عوامی بھلائی کے لیے بنایا گیا تھا لیکن بالآخر وہی عوامی سرمائے پر قابض ہو گیا۔ اسی طرح منٹو کے خط میں بجوکا ایک ایسا معاشرہ ہے جو بول نہیں سکتا، احتجاج نہیں کر سکتا اور بس تماشا دیکھتا رہتا ہے۔

    کھوار زبان کا "پتھرانزک” یا "بجوکا” اپنی سادہ ساخت کے باوجود ایک کثیر المعنٰی علامت بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف دیہی زراعت کی علامت ہے بلکہ معاشرتی و ادبی اظہار کا ایک اہم استعارہ بھی بن چکا ہے۔ کھوار زبان سے اردو اور اردو سے عالمی ثقافت تک یہ لفظ اور اس کے تصور نے انسانی تخیل اور فکری دنیا میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ یہ محض کھیتوں کا محافظ نہیں، بلکہ تہذیبوں کا گواہ، معاشرت کا ناقد  اور سیاست کا بے زبان تماشائی بھی ہے۔

    Title Image by Tracia from Pixabay

  • پاکستان کی قومی زبان اُردو اور رحمت عزیز چترالی کی لسانیات خدمات

    پاکستان کی قومی زبان اُردو اور رحمت عزیز چترالی کی لسانیات خدمات

    پاکستان کی قومی زبان اُردو اور رحمت عزیز چترالی کی لسانیات خدمات

    محمد ظہیر الدین خان

    اردو زبان برصغیر پاک و ہند کی تہذیبی، ادبی اور فکری میراث کی امین ہے۔ اس کی ابتدا دکن کے علاقے سے ہوئی، لیکن جلد ہی یہ زبان شمالی ہند کے مختلف علاقوں میں بھی بولی اور سمجھی جانے لگی۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد بانیانِ پاکستان نے اردو کو قومی یکجہتی اور باہمی ربط کی علامت کے طور پر تسلیم کیا۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اردو کو تاحال سرکاری سطح پر مکمل طور پر نافذ نہ کیا جا سکا۔ اس کے باوجود اردو علمی، ادبی، صحافتی اور روزمرہ کے ابلاغ کی ایک اہم زبان کے طور پر موجود ہے۔

    اردو زبان کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کا چیلنج سب سے پہلے چترال سے تعلق رکھنے والے ماہر لسانیات رحمت عزیز خان چترالی نے قبول کیا۔ اکیسویں صدی میں زبانوں کی بقا کا انحصار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی پر ہے۔ اردو جیسی عظیم زبان کو اگر سائنس، ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، موبائل ایپلی کیشنز اور انٹرنیٹ کے میدان میں پیش رفت نہ دی جاتی تو یہ زبان جدید ابلاغی نظام میں پیچھے رہ جاتی۔ اسی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے پاکستان کے ممتاز لسانی ماہر، سافٹ ویئر ڈویلپر اور محقق رحمت عزیز خان چترالی نے اردو زبان کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یکساں طور پر قابلِ استعمال بنانے کے لیے انقلابی خدمات انجام دیں۔
    رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق پاکستان کے دور افتادہ اور لسانی لحاظ سے متنوع خطے چترال سے ہے، جہاں سے انھوں نے اردو، کھوار اور دیگر مقامی زبانوں کی ترقی کے لیے بے لوث اور غیرمعمولی کام کیا۔ ان کی نمایاں خدمات میں اردو کے لیے یونیورسل کی بورڈ سافٹ ویئر کی تخلیق شامل ہے، جو نہ صرف اردو زبان کی ڈیجیٹل شناخت کا اہم حوالہ ہے بلکہ قومی زبان کی ترویج و اشاعت میں بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    پاکستان کی قومی زبان اُردو اور رحمت عزیز چترالی کی لسانیات خدمات

    سات پلیٹ فارمز کے لیے اردو کی بورڈ سافٹ ویئر رحمت عزیز خان چترالی کا اردو سے محبت کا پہلا ثبوت ہے۔ رحمت عزیز چترالی نے اردو زبان کے لیے RAChitrali Urdu Keyboard (rac_urdu.kmp) کے نام سے سات اہم پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے کی بورڈز تیار کیے، جو درج ذیل ہیں:

    1. RAChitrali Urdu for Windows
    2. RAChitrali Urdu for macOS
    3. RAChitrali Urdu for Linux
    4. RAChitrali Urdu for Web
    5. RAChitrali Urdu for iPhone
    6. RAChitrali Urdu for iPad
    7. RAChitrali Urdu for Android
    8. RAChitrali Urdu for Mobile Web

    رحمت عزیز خان چترالی کے تیار کردہ یہ اردو کی بورڈز اب یونی کوڈز کے مکمل سپورٹ کے ساتھ دستیاب ہیں، یعنی اردو لکھنے کے بعد کسی قسم کی کنورژن کی ضرورت نہیں۔ یہ سہولت اردو کے لکھاریوں، صحافیوں، اساتذہ، طلبا اور عام صارفین کے لیے ایک انقلاب سے کم نہیں۔

    آر اے چترالی اردو سافٹ ویئر کی بین الاقوامی پر بھی مقبولیت ہوئی ہے ۔ رحمت عزیز چترالی کے اس سافٹ ویئر کو SIL Global، Keyman، Tavultesoft اور Khowar Academy کی منظوری حاصل ہے۔ خاص طور پر یہ اردو کی بورڈ سارے ونڈوز کے ورژنز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ڈاکیومنٹیشن اور ڈیزائن بین الاقوامی معیار پر مبنی ہے۔ یہ کی بورڈ کسی بھی توسیعی عربی رسم الخط کے فونٹس کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی تحقیقی و لسانی خدمات کا مرکز کھوار اکیڈمی ہے، جسے 1996ء میں ناپید ہوتی زبانوں کے تحفظ، تحقیق اور ڈیجیٹل یکجہتی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اسی ادارے کے زیرِ نگرانی اردو کی بورڈ پر جامع تحقیق، ڈیزائن، تجربات اور معیاری کاری (standardization) کے مراحل طے کیے گئے۔

    رحمت عزیز خان چترالی کا اردو کی بورڈ قومی زبان کی تکنیکی خودمختاری کی جانب پہلا بڑا قدم ہے۔ ان کی کوششوں سے اردو اب نہ صرف کمپیوٹر بلکہ اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور ویب پر باوقار انداز میں لکھی جا سکتی ہے۔ Facebook، Twitter اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اردو کی موجودگی ان کے کام کا عملی ثبوت ہے۔

    اردو زبان کی ترویج میں رحمت عزیز خان چترالی کی اردو زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔رحمت عزیز چترالی کے ایجاد کردہ سافٹ ویئر کو اردو زبان کے لیے وہی مقام حاصل ہے جو ڈاکٹر عبدالسلام کو طبیعیات میں یا فیض احمد فیض کو شاعری میں حاصل ہے۔ ان کے کام کی بدولت اردو زبان ایک عالمی ڈیجیٹل زبان کے طور پر ابھر رہی ہے۔
    اس شاندار قومی خدمت اور اردو کے لیے اس شاہکار سافٹویر کی تیاری پر حکومتِ پاکستان اور اداروں سے سفارش کی گئی ہے کہ رحمت عزیز خان چترالی کی اردو زبان کے لیے گراں قدر تکنیکی و تحقیقی خدمات کے پیش نظر یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان رحمت عزیز خان چترالی کو اس قومی خدمات پر تمغۂ حسن کارکردگی یا ستارۂ امتیاز جیسے اعزازات سے انہیں نوازے۔اردو سائنس بورڈ، نیشنل لینگویج اتھارٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چاہیے کہ ان کے سافٹ ویئر کو تعلیمی اداروں اور قومی دفاتر میں نافذ کرے۔صوبائی اور وفاقی سطح پر ان کی تحقیق کو شاملِ نصاب کیا جائے۔
    اردو زبان ایک زندہ، توانا اور ترقی پذیر زبان ہے، لیکن اس کی ترقی اب محض ادب یا شاعری تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔ رحمت عزیز خان چترالی نے اردو کو ڈیجیٹل میدان میں سربلند کرنے کا جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ قابلِ تقلید اور قابلِ تحسین ہے۔ ان کی خدمات اردو زبان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اردو کو اگر ڈیجیٹل دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل ہے تو اس میں رحمت عزیز چترالی کی خدمات کا بنیادی کردار ہے۔

  • چترالی ٹک ٹوکر ثناء یوسف کا قتل  ایک سانحہ، ایک سماجی نوحہ

    چترالی ٹک ٹوکر ثناء یوسف کا قتل  ایک سانحہ، ایک سماجی نوحہ


    چترالی ٹک ٹوکر ثناء یوسف کا قتل  ایک سانحہ، ایک سماجی نوحہ

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان چترالی

    پاکستان جیسے معاشروں میں خواتین کی خودمختاری، آزادیِ اظہار اور انکار کے حق کو صدیوں سے پدرشاہی نظام نے دبا رکھا ہے۔ جہاں عورت کے انکار کو توہین، اور اس کی شہرت کو غیرت کے منافی سمجھا جاتا ہے، وہاں انفرادی شناخت رکھنے والی خواتین اکثر نشانہ بنتی ہیں۔ ماضی میں قندیل بلوچ، نور مقدم، سائرہ بانو  اور حال ہی میں چترال کی  ثناء یوسف جیسے سانحات اسی معذور اور تنگ نظر  ذہنیت کی تسلسل ہیں۔

    29 مئی 2008 کو اسلام آباد میں پیدا ہونے والی ثناء یوسف نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر لاکھوں دل جیتے۔ وہ محض 17 برس کی کم عمر میں ایک معروف انفلوئنسر اور ایم بی بی ایس کی طالبہ تھیں۔ ان کی آواز، انداز  اور پختہ سوچ نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے متاثر کن تھی۔ وہ ایک ایسا چہرہ بن چکی تھیں جو پاکستان میں نئی نسل کی نمائندگی کرتا تھا ، وہ نسل جو سماجی حدود و قیود سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

    ٹک ٹوکر ثنا کا قتل  ایک غیرت نہیں بلکہ ناقابل معافی  جرم بھی ہے۔2 جون 2025 کو ان کی زندگی کا چراغ اسلام آباد میں گل کر دیا گیا۔ 22 سالہ عمر حیات نے، جو ان سے یک طرفہ جذبات رکھتا تھا، انکار کو برداشت نہ کرتے ہوئے ان کے گھر میں گھس کر انھیں گولیاں مار دیں۔ رپورٹ کے مطابق ثناء یوسف کو سینے اور پیٹ میں گولیاں لگیں اور وہ تقریباً ایک گھنٹے تک درد میں مبتلا رہیں۔ آخرکار وہ جان کی بازی ہار گئیں۔

    یہ صرف قتل نہیں تھا  یہ انکار کے حق کا قتل تھا، یہ ایک پدرشاہی مزاج کی سوچ کی فتح تھی  جس کے سامنے عورت کی خودمختاری ایک جرم ہے۔

    عمر حیات کو فی الفور گرفتار کیا گیا، اسلحہ اور مقتولہ کا فون اس سے برآمد ہوا۔ اس نے اعترافِ جرم کیا  اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔ عدالت نے شناختی پریڈ اور رپورٹ جمع کرانے کے احکامات جاری کیے۔

    چترالی ٹک ٹوکر ثناء یوسف کا قتل  ایک سانحہ، ایک سماجی نوحہ

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدالتی کارروائی کافی ہے؟ کیا یہ اس ذہنیت کا خاتمہ کر پائے گی جو روزانہ پاکستان میں درجنوں خواتین کو خاموشی سے نگل رہی ہے؟

    اسلام آباد میں عورت مارچ کی جانب سے 5 جون کو نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ "نہ کہنا میرا حق ہے”، "عزت کے نام پر قتل، سب سے بڑی بے غیرتی” جیسے نعرے بلند ہوئے۔ معاشرے کی باشعور اکثریت نے اس واقعے کو محض ایک شخص کا جرم نہیں، بلکہ پورے نظام کا استحصالی چہرہ قرار دیا۔

    معروف فنکاروں جیسے ماہرہ خان، صبا قمر اور آئمہ بیگ نے بھی آواز اٹھائی، جبکہ سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    ثناء یوسف کا قتل محض فردِ واحد کی سنگدلی نہیں بلکہ معاشرتی خاموشی، تماش بینی  اور بدترین  تربیت کا شاخسانہ ہے۔ اس واقعے نے پاکستانی میڈیا اور ڈرامہ انڈسٹری پر بھی سوال اٹھائے ،  جہاں خواتین کو مسلسل کمزور، مظلوم  اور مردوں کی ملکیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

    سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شہرت پانے والی خواتین کے لیے کوئی تحفظ موجود ہے؟ کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود خطرات کے خلاف کوئی ضابطہ کار ہے؟

    ثناء یوسف کی موت نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم محض قاتل کو سزا دینے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس ذہنیت کا قلع قمع کریں جو عورت کے انکار کو اپنی مردانگی کی تذلیل سمجھتی ہے۔

    اس کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں جنس، احترام  اور حد بندی پر مبنی تعلیمی نصاب رائج کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر ہراسانی کے خلاف قانونی تحفظات کو مؤثر بنایا جائے۔ عدالتی نظام کو بر وقت اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور کیا جائے۔ عوامی سطح پر خواتین کے حقوق اور خودمختاری کو تسلیم کرنے کی مہمات چلائی جائیں۔

    ثناء ایک فرد ہی نہیں بلکہ ایک علامت  بھی تھی، چترال کی علامت  اور امن کی علامت تھی۔ ثناء یوسف ایک نوجوان، باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور پرعزم لڑکی تھیں۔ ان کی زندگی روشنی تھی  اور ان کی موت ایک تیز تازی چنگاری بن گئی ہے۔ اگر ہم نے اس چنگاری سے انقلاب نہ پیدا کیا، تو آنے والی ثناء یوسفیں بھی اندھیرے میں گم ہو جائیں گی۔ میری پیاری ، میرے گاوں کی گڑیا ثناء یوسف نے اپنی کہانی ادھوری چھوڑ کر چلی گئی، مگر ان کے امن کا پیغام مکمل تھا ،  انکار عورت کا حق ہے  اور اسے سننا مرد کی ذمہ داری، اگر وہ مرد کا بچہ ہے تو، لیکن انکار پر کسی کی جان لینا  بزدلی ہے۔