Tag: چترال

  • چترال اور گلگت بلتستان کے گلیشیرز

    چترال اور گلگت بلتستان کے گلیشیرز


    چترال اور گلگت بلتستان کے گلیشیرز

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    جہاں قدرت کی صناعی میں گلیشیرز کا ایک منفرد مقام ہے وہاں  چترال اور گلگت بلتستان کے گلیشرز  کے پھٹنے سے خطرناک سیلاب کی صورت میں تباہی بھی ہوتی ہے۔ ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشرز کے آہستہ آہستہ پگھلنے  سے ملک  کے پانی کا مسئلہ حل ہوتا ہے  لیکن ان کے پھٹنے سے سیلابی ریلے کی صورت میں تباہی سے ملک کو کافی نقصان بھی پہنچتا ہے۔ یہ گلیشرز نہ صرف زمین کے قدرتی حسن کو دوبالا کرتے ہیں بلکہ کرۂ ارض پر زندگی کے تسلسل کی ضمانت بھی ہیں۔ گلیشیرز دنیا کے ماحولیاتی نظام کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پانی کے سب سے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال دنیا بھر میں پہلی مرتبہ گلیشیرز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔

    قدرتی عوامل کے تحت بننے والے گلیشیرز صدیوں سے انسانی تہذیبوں پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں گلیشیرز کو چترال اور گلگت بلتستان کی دیومالائی کہانیوں اور روایات کا حصہ سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید سائنس نے ان کی حیاتیاتی اور ماحولیاتی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔

    پاکستان میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے دنیا کے چند بڑے گلیشیرز کا مسکن ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق  پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیرز موجود ہیں جو قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ گلیشیرز پاکستان کے دریاؤں کے بڑے ماخذ ہیں اور زراعت، توانائی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

    وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں شہباز شریف نے گلیشیرز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں گلیشیرز کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا بجا ہے کہ اگر یہ قدرتی خزانے ختم ہو گئے تو ان سے منسلک زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہو جائیں گی۔

    ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 10 ہزار سے زائد گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ گلیشیرز کے پگھلاؤ کے باعث پانی کی فراہمی میں شدید کمی کا خدشہ ہے جو زرعی نظام، پینے کے پانی اور ہائیڈرو پاور جیسے شعبوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بدلتے موسم اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سبب نہ صرف گلیشیرز کی تعداد کم ہو رہی ہے بلکہ ان کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے شدید ماحولیاتی اور اقتصادی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ گلیشیرز کے پگھلنے سے گلاف (گلیشیر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) جیسے تباہ کن سیلاب آ رہے ہیں جو کئی دیہات اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    اگر گلیشیرز کی تباہی کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کو مستقبل میں پانی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا دارومدار زراعت پر ہے، اور دریاؤں کے پانی کی بڑی مقدار ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشیرز کے پگھلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کے ختم ہونے سے زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گلیشیرز کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ درج ذیل اقدامات اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

    حکومت کو جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ سسٹمز کے ذریعے گلیشیرز کی مستقل نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ان کے پگھلنے کی رفتار کو سمجھا جا سکے۔

    ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر کے جنگلات کی کٹائی روکی جائے، کیونکہ درخت فطری طور پر درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

    ڈیمز، واٹر ریزروائرز اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ پانی کی قلت کے بحران سے نمٹا جا سکے۔

    پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔

    اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ گلیشیرز کے فوائد اور ان کے تحفظ کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی سطح پر گلیشیرز کا دن منانے کا آغاز کیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں پانی کا بحران پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشیرز کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ نسلوں کو شدید ماحولیاتی اور اقتصادی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں چاہیے کہ گلیشیرز کی حفاظت کے لیے اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور عملی اقدامات کریں تاکہ یہ قدرتی خزانے محفوظ رہ سکیں اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے ایک مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکیں۔

    title Image by Clara

  • جامعہ دانش کا قیام اور وزیرا عظم پاکستان کا وژن

    جامعہ دانش کا قیام اور وزیرا عظم پاکستان کا وژن

    جامعہ دانش کا قیام اور وزیرا عظم پاکستان کا وژن

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کے حالیہ تعلیمی وژن کے تحت دانش یونیورسٹی کا قیام ایک انقلابی قدم ہے جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ جدید ترین اپلائیڈ سائنسز، آئی ٹی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی تعلیم کے فروغ سے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی جڑیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے  اس عدالتی فیصلے  میں موجود  ہیں کہ 190 ملین پاؤنڈ کی وہ رقم جو غیر قانونی طور پر کسی اور اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی  اب قومی خزانے میں واپس لا کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام تعلیمی میدان میں ایک نئے باب کا آغاز ہے جو پاکستان کے تعلیمی معیار کو بین الاقوامی سطح پر بلند کرے گا۔

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ترویج اور سائنسی تحقیق کا فروغ ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک کئی حکومتوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کی کوششیں کیں، لیکن مالی وسائل اور پالیسیوں میں عدم استحکام کے باعث یہ خواب مکمل طور پر شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ماضی میں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال نے تعلیم کو قومی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا تھا۔ 1960 کی دہائی میں انجینئرنگ اور میڈیکل کے ادارے قائم کیے گئے، جبکہ 1990 کی دہائی میں آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے فروغ کے لیے کئی نئے تعلیمی ادارے متعارف کروائے گئے۔ دانش یونیورسٹی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں پاکستان کو خود کفیل بنانے کے لیے قائم کی جا رہی ہے۔

    یہ یونیورسٹی نہ صرف اپلائیڈ سائنسز اور آئی ٹی کے شعبے میں جدید تعلیم فراہم کرے گی بلکہ ملک کے کمزور طبقات کو بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال، کالاش،  بلوچستان، کراچی کے پسماندہ علاقے اور آزاد کشمیر میں دانش اسکولوں کا قیام بھی ایک مثبت پیش رفت ہے جو ان علاقوں کے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ دانش یونیورسٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر اہم شعبوں جیسے کہ قانون، اردو  اور پاکستان کی علاقائی زبانوں میں بھی پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیے جائیں۔ قانون کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ نہ صرف ایک منصفانہ اور مضبوط عدالتی نظام کی بنیاد رکھے گا بلکہ ملک میں انصاف کی جلد فراہمی میں بھی مدد دے گا۔ اسی طرح اردو اور علاقائی زبانوں کے فروغ سے قومی یکجہتی کو تقویت ملے گی اور علمی و ادبی تحقیق کے نئے دروازے کھلیں گے۔

    دانش یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی لیول پر قانون، اردو  اور دیگر علاقائی زبانوں کے شعبے میں داخلے کھولے جائیں تاکہ تعلیمی میدان میں ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    پسماندہ علاقوں چترال، کالاش، گلگت بلتستان اور بلوچستان  کے طلباء کو اسکالرشپ فراہم کی جائیں تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم نہ رہیں۔

    عالمی معیار کے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ طلباء کو جدید تحقیق کے اصولوں سے روشناس کرایا جا سکے۔

    جدید تحقیق کے فروغ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیے جائیں تاکہ طلباء اور محققین جدید ترین مسائل پر کام کر سکیں۔

    دانش یونیورسٹی میں مختلف علاقائی زبانوں کے تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ پاکستان کی لسانی و ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کا یہ تعلیمی منصوبہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک نئی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دانش یونیورسٹی کا قیام نہ صرف جدید سائنسی علوم کے فروغ میں مددگار ہوگا بلکہ اگر اس میں قانون، اردو  اور علاقائی زبانوں کے پی ایچ ڈی پروگرامز شامل کیے جائیں تو یہ قومی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے کر تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھے، تاکہ پاکستان کا تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہو سکے۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • چکدرہ دیر موٹروے اور کالکٹک چترال ہائی وے

    چکدرہ دیر موٹروے اور کالکٹک چترال ہائی وے

    چکدرہ دیر موٹروے اور کالکٹک چترال ہائی وے

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    ایک اچھی خبر ہے کہ موجودہ حکومت نے چکدرہ سے دیر تک موٹروے  اور کالکٹک سے چترال تک ہائی وے بنانے کا اعلان کیا ہے جو کہ انتہائی خوش  آئند بات ہے۔ چکدرہ دیر 38 کلومیٹر موٹروے اور کالکٹک چترال 45 ہائی وے کا منصوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر، چترال اور کالاش کی وادیوں  کی ترقی اور رابطے کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت  ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ صرف سیاحت اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے بلکہ یہ سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کا بھی حصہ ہے، جو اس کی اہمیت کو مزید بڑھا  دے گا۔

    چترال اور ملاکنڈ کے علاقے جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ علاقے قدرتی حسن، معدنی وسائل، اور قدیم تہذیبوں کے آثار سے مالا مال ہیں لیکن ناقص انفراسٹرکچر اور دور دراز محل وقوع کی وجہ سے ان کی ترقی میں ہمیشہ سے  رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔ 20ویں صدی کے آخر تک  چترال اور ملاکنڈ کے لوگ زیادہ تر دشوار گزار پہاڑی راستوں پر انحصار کرتے تھے  جو نہ صرف وقت طلب تھے بلکہ نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھانے کاباعث بنتے تھے۔

    سی پیک کے تحت خیبر پختونخوا  کے ان علاقوں کو قومی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے قابلِ رسائی بنانے کا عزم کیا گیا ہے ۔ چکدرہ دیر موٹروے اور کالکٹک چترال ہائی وے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں  جن کا مقصد ان علاقوں کو پاکستان کے دیگر حصوں اور چین کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔

    یہ منصوبہ تقریباً 17 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا  جس کے لیے مالی تعاون کورین بینک فراہم کرے گا۔ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے، اور اس کا ڈیزائن اور کنسلٹنسی ایک کورین فرم کے سپرد کی گئی ہے  جو جدید معیار کے مطابق اس کی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔

    38 کلومیٹر طویل چکدرہ دیر موٹروے اور 45 کلومیٹر طویل کالکٹک چترال ہائی وے کا مقصد نہ صرف سفری وقت کو کم کرنا ہے بلکہ علاقائی معیشت اور سیاحت کو فروغ دینا بھی ہے۔ ملاکنڈ اور چترال کے لوگ اور سیاح اس منصوبے کے ذریعے بہتر سفری سہولتوں سے مستفید ہو سکیں گے جبکہ دیر، چترال اور کالاش کے عوام کے لیے  تجارتی نقل و حمل بھی آسان ہو جائے گی۔

    چترال اپنی قدرتی خوبصورتی، کالاش  کی ثقافت،  جشن کاغلشٹ، جشن شاقلشٹ اور سالانہ شندور پولو فیسٹیول کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ بہتر سڑکوں کی تعمیر سے سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا  جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

    یہ شاہراہیں نہ صرف مقامی تجارت کو فروغ دیں گی بلکہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے بھی اہم ہوں گی۔ کم سفری وقت اور بہتر انفراسٹرکچر سے تجارتی لاگت میں کمی آئے گی  جس کا فائدہ کاروباری طبقے کو ہوگا۔

    چکدرہ دیر اور کالکٹک چترال شاہراہیں ملاکنڈ اور چترال کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ مربوط کریں گی  جس سے صحت، تعلیم، اور روزگار کے مواقع تک رسائی بہتر ہوگی۔

    ان منصوبوں کے ذریعے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جبکہ بہتر رابطے اور تجارت سے مجموعی علاقائی معیشت میں استحکام آئے گا۔

    منصوبے کی کامیابی کے لیے چند چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے  جن میں پہاڑی علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال، موسمی حالات، اور بروقت مالی معاونت شامل ہیں۔ تاہم  اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ خیبر پختونخوا  کے دیر، چترال اور وادی کالاش  کی ترقی کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ چکدرہ دیر موٹروے اور کالکٹک چترال ہائی وے کا منصوبہ نہ صرف ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا بلکہ  سیاحت کے فروع کے ذریعے پاکستان کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ سی پیک کے تحت یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت اور ثقافت کو فروغ دینے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور کورین بینک کے درمیان یہ شراکت داری ایک روشن مستقبل کی نوید ہے  جو خیبر پختونخوا اور ان پسماندہ اضلاع  کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دینے کا سبب بنے گا۔

    Title Image by The Tripfore from Pixabay

  • ٹرافی ہنٹنگ:امریکی شکاری کا  چترال میں مارخور کا شکار 

    ٹرافی ہنٹنگ:امریکی شکاری کا  چترال میں مارخور کا شکار 

    ٹرافی ہنٹنگ:امریکی شکاری کا  چترال میں مارخور کا شکار 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

    rachitrali@gmail.com

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی دلکش خوبصورتی اور وہاں موجود منفرد جنگلی حیات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان علاقوں میں موجود مارخور اپنی خوبصورت سینگوں کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے یہ اپنی جسامت  کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک امریکی شکاری رونالڈ جوویٹن نے کشمیری مارخور کا شکار چترال کے تھوشی شاشا کنزروینسی میں کیا۔ یہ شکار دو لاکھ اکہتر ہزار امریکی ڈالر کی بولی کے عوض ممکن ہوا۔ شکار کیے جانے والے مارخور کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کے سینگ کی لمبائی انچاس انچ سے زیادہ تھی۔

    پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع کیا گیا تاکہ خطرے سے دوچار جنگلی حیات کی حفاظت کی جا سکے۔ اس پروگرام کا مقصد شکار کو محدود پیمانے پر اجازت دے کر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا تھا۔

    مارخور کی مقامی آبادی میں کمی اور اس کے شکار کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اسے کنٹرولڈ شکار کی اجازت دی۔ اس کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹی کو دیا جاتا ہے  تاکہ وہ نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوں بلکہ جنگلی حیات کی حفاظت میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

    ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ناقدین اور حمایتی دونوں موجود ہیں۔ اس شکار کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کیے جاتے ہیں:

    ٹرافی ہنٹنگ:امریکی شکاری کا  چترال میں مارخور کا شکار 

    شکار کی بھاری فیس مقامی کمیونٹی کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کا باعث بنے گا   جس سے ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ مقامی افراد شکار سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کی وجہ سے مارخور اور دیگر جنگلی حیات کی حفاظت کو یقینی بناسکتے  ہیں۔ لیکن ناقدین مارخور جیسے قومی جانور کی شکار کے حق میں نہیں ہیں، قومی جانور کے شکار کی اجازت دینا ایک اخلاقی سوال پیدا کرتا ہے  خاص طور پر جب اسے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مارخور جیسی اقوامی اثاثہ جات کا شکار قدرتی ماحولیاتی توازن کو متاثر کرے گا۔ شکار کی آمدنی کا درست استعمال اور اس کے اثرات پر شفافیت کی کمی ہے۔ اکثر مقامی کمیونٹی کو مکمل فائدہ نہیں ملتا جو کہ درست  تنقید ہے۔

    ایسے شکار عالمی برادری میں پاکستان کی شبیہ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں  خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ کے معاملے میں یہ شکار جنگلی حیات کے خاتمے کا باعث بنے گا۔

    شکار کی اجازت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال کی سخت مانیٹرنگ ضروری ہے تاکہ مقامی کمیونٹی کو اس کا مکمل فائدہ پہنچے۔ مقامی افراد کے لیے متبادل ذرائع آمدنی پیدا کیے جائیں، جیسے کہ سیاحت یا جنگلی حیات کی فوٹو گرافی، تاکہ شکار پر انحصار کم ہو۔

    شکار کی اجازت صرف بوڑھے یا غیر افزائش پذیر جانوروں تک محدود ہونی چاہیے تاکہ مارخور کی آبادی متاثر نہ ہو۔ مقامی اور عالمی سطح پر اس پروگرام کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے مارخور کے تحفظ کی کوششیں بظاہر فائدہ مند ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی، ماحولیاتی، اور شفافیت کے مسائل کو بھی حل کرنا ضروری ہے۔ چترال اور دیگر علاقوں میں مارخور جیسی جنگلی حیات نہ صرف پاکستان کی پہچان ہیں بلکہ ان علاقوں کے ماحولیاتی توازن کا حصہ بھی ہیں۔ ان کی حفاظت صرف موجودہ نسلوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔

  • چترال ڈائری: برف باری اور لواری ٹنل رسائی سڑک کی صورت حال

    چترال ڈائری: برف باری اور لواری ٹنل رسائی سڑک کی صورت حال

    چترال ڈائری: برف باری اور لواری ٹنل رسائی سڑک کی صورت حال

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    لواری ٹنل پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں چترال اور وادی کالاش کی تین خوبصورت وادیوں بمبوریت، رومبور اور بریر کو پاکستان کے دیگر علاقوں سے ملانے والا ایک اہم ٹنل ہے۔ لواری ٹنل اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی چیلنجز، اور موسمی اثرات کی وجہ سے یہ ٹنل اور اس سے منسلک چترال جانے کے لیے رسائی سڑک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ مقامی آبادی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔


    لواری ٹنل کا منصوبہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں چترال اور وادی کالاش کو دیگر علاقوں سے جوڑنے کی قومی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس منصوبے کا آغاز 1975 میں ہوا تھا لیکن مالی، تکنیکی، سیاسی اور موسمی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ کام دہائیوں تک تعطل کا شکار رہا۔ آخرکار 2017 میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ منصوبہ مکمل ہوا، جس نے نہ صرف چترال اور کالاش کے مقامی لوگوں کے سفری مسائل کو حل کیا بلکہ سیاحتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کیا۔
    حالیہ دنوں میں لواری ٹنل اور اس کے گردونواح میں برفباری کی وجہ سے رسائی سڑک پر پھسلن اور ممکنہ حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس کی بروقت کارروائی اور 24/7 ڈیوٹی پر اہلکاروں کی موجودگی نے مسافروں کے لیے حالات کو سازگار بنایا ہے۔ تاہم سفر کرنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے، خاص طور پر سنو چین کے استعمال اور موسم کی معلومات حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    چترال ڈائری: برف باری اور لواری ٹنل رسائی سڑک کی صورت حال


    چترال اور وادی کالاش جانے کے لیے اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:
    موسمی اثرات کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سخت اور ٹھنڈا موسم خاص طور پر برف باری کے دنوں میں لواری ٹنل کے دونوں اطراف کی سڑکوں پر آمدورفت میں مشکلات پیش آسکتے ہیں۔
    اس وقت لواری ٹنل کے دونوں اطراف میں برفباری کی وجہ سے سہولیات کی کمی ہے۔ ٹنل کے قریب ایمرجنسی سہولیات، جیسے کہ طبی امداد اور ریسکیو سروسز کی عدم موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
    ٹریفک کا انتظام کافی سست ہے، برفباری کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ایک مستقل چیلنج ہے، جو اضافی وسائل اور انسانی وسائل کا متقاضی ہے۔
    چترالی اور کالاش عوام، سیاح اور دیگر مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کیا جائے:
    اس وقت یہاں کے دونوں اطراف میں ایمرجنسی مراکز کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ لواری ٹنل کے قریب ایمرجنسی ریسکیو سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ حادثات کی صورت میں فوری امداد ممکن ہوسکے اور عوام کی جان بچائی جاسکے۔
    ایک موثر موسمیاتی پیش گوئی کا نظام نصب کیا جائے، جو مقامی افراد اور سیاحوں کو حقیقی وقت میں موسمی حالات سے آگاہ کرے۔
    سڑک کی مرمت اور برف کی بروقت وفائی کو یقینی بنایا جائے۔ رسائی سڑک کی مستقل بنیادوں پر دیکھ بھال اور پھسلن کو کم کرنے کے لیے بہتر مٹیریل کا استعمال کیا جائے۔
    ٹریفک پولیس کی جانب سے مسافروں میں موسم کی شدت اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ لواری ٹنل اور اس سے منسلک رسائی سڑک نہ صرف چترال اور کالاش کے باسیوں کے ساتھ ساتھ عام مسافروں اور سیاحوں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔ ٹنل کی دیکھ بھال، بہتر انتظام، اور موسمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور مقامی سطح پر مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موسمی حالات کے باوجود، پولیس اور ٹریفک وارڈنز کی خدمات قابل تعریف ہیں، جو عوام کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

  • چترال ڈائری:عوام کا روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربوں کے خلاف احتجاجی مارچ

    چترال ڈائری:عوام کا روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربوں کے خلاف احتجاجی مارچ

    چترال ڈائری:عوام کا روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربوں کے خلاف احتجاجی مارچ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

    rachitrali@gmail.com

    بونی تا بوزوند روڈ، تورکھو اور تریچ کے دیہات کو چترال کے مرکزی علاقوں سے ملانے کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا آغاز پندرہ سال قبل کیا گیا تھا، لیکن مختلف وجوہات، جیسے حکومتی عدم توجہ، ٹھیکیداروں کی کوتاہی، اور بیوروکریٹک تاخیری حربوں کے باعث یہ منصوبہ تا حال مکمل نہیں ہو سکا۔ حالیہ برسوں میں علاقے کے عوام نے بارہا مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف علاقے کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ مقامی افراد کے روزمرہ کے معمولات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

    اس سلسلے میں عوامی احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ متعلقہ حکام اور ٹھیکیدار نے مقررہ ڈیڈ لائنز کے باوجود کام کو مکمل نہیں کیا۔ عوامی عمائدین، بلدیاتی نمائندگان، اور تورکھو تریچ روڈ فورم کے اراکین نے اس بدعنوانی اور تاخیر کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے بونی کی طرف مارچ کا آغاز کیا۔

    عوام کا موقف ٹھیکیدار کی غیر ذمہ داری کے خلاف ایکشن لینا ہے۔ٹھیکیدار کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور کام میں غفلت ایک بڑی وجہ ہے۔ پیشگی ادائیگی کے باوجود کام کا مکمل نہ ہونا واضح طور پر بدعنوانی اور نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔

    عوام نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کردار پر سوال اٹھائے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسین اور دیگر حکام کی جانب سے ٹھیکیدار کی غیر ذمہ داری پر چشم پوشی بھی بدعنوانی کی ایک صورت ہے۔ معاہدوں کی نگرانی اور عملدرآمد میں ان کی ناکامی قابل مذمت ہے۔

    تورکھو روڈ کی تعمیر میں تاخیر نے علاقے کی عوام کو سفری مشکلات اور معاشی مسائل میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسانوں، تاجروں، طلبہ، اور دیگر افراد کو سفری دشواریوں کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    عوامی مطالبات کی قانونی حیثیت اپنی جگہ لیکن مقامی انتظامیہ کو بھی ٹھیکہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہئیے۔عوام نے اپنے احتجاج کو قانونی دائرے میں رکھنے کے لیے مقدمات درج کرنے، زمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی شکایت کی ہے۔عوام کی طرف سے یہ ایک مثبت قدم ہے جو عوام کے شعور اور قانون کی بالادستی پر یقین کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے عوامی تحریک کو منظم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ احتجاج عوام کا حق ہے لیکن اس احتجاجی جلسے کو پرامن اور منظم رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی بدنظمی پیدا نہ ہو۔ عوام کو چاہئیے کہ وہ قانونی راستے کو ترجیح دیں ۔

    ٹھیکیدار، سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسین، اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اور حکومتی ادارے کرپشن کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کے غصے کو کم کیا جاسکے۔

    تورکھو روڈ کے اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک آزادانہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی کے اراکین، اور ماہرین پر مشتمل ہو۔

    حکومتی ادارے معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور ڈیڈ لائنز پر عمل درآمد میں ناکامی پر ذمہ داران کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔

    مقامی اور قومی میڈیا اس معاملے کو اجاگر کرے تاکہ حکومتی اداروں اور بدعنوان عناصر پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ بونی تا بوزوند روڈ کی تعمیر کا مسئلہ تورکھو اور تریچ کے عوام کے صبر کا امتحان بن چکا ہے۔ عوام کا حالیہ احتجاج ان کے جمہوری حقوق کا اظہار ہے، جو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک مثبت قدم بھی ہے۔ اگر حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور شفافیت کو یقینی بنائے، تو نہ صرف یہ منصوبہ مکمل ہو سکتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

  • شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    شندور پولو فیسٹیول چترال اور گلگت بلتستان کا ایک مشہور سالانہ تقریب ہے جو دنیا کے بلند ترین پولو گراونڈ شندور میں ہر سال 7 جولائی سے 9 جولائی تک منعقد ہوتا تھا لیکن اب یہ فیسٹول 28 جون سے 30 جون تک منعقد ہوگا۔ شندور پولوگراونڈ جو کہ خیبر پختونخوا، پاکستان کی بالائی چترال کی وادی لاسپور سے منسلک سیاحتی مقام شندور میں واقع ہے۔ یہ علاقہ "دنیا کی چھت” کے نام سے جانا جاتا ہے، شندور دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے، جو سطح سمندر سے 3,700 میٹر (12,139 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ چترال کا یہ تہوار جسے اکثر "کھیلوں کا بادشاہ” بھی کہا جاتا ہے، 20ویں صدی کے اوائل کا ہے اور یہ اب ایک اہم ثقافتی تقریب میں تبدیل ہوا ہے جو فری اسٹائل پولو کے روایتی کھیل میں تبدیل ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپر چترال کی وادی لاسپور سے منسلک شندور میں منعقد ہونے والے سالانہ شندور پولو فیسٹیول کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے 28 جون سے منعقد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیسٹیول کیلئے تمام تیاریوں کو فی الفور حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول کا انعقاد بہترین طریقے سے کیا جائے اور سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو شندور پولو فیسٹیول کیلئے کی جانیوالی تیاریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیسٹیول کا کامیابی سے انعقاد اور آگاہی مہم ابھی سے چلائی جائے۔ انٹرنیشنل سطح پر مشہور اس فیسٹیول میں ہر سال کثیر تعداد میں سیاح شندور وادی کا رخ کرتے ہیں۔
    شندور پولو فیسٹیول کی ابتدا کا ذکر چترال اور گلگت بلتستان کی مقامی داستانوں اور روایات سے ہوتی ہے۔ پولو جسے کھوار زبان میں "استور غاڑ” (گھوڑوں کا کھیل) اور "باچھانن اشٹوک” (بادشاہوں کا کھیل) کہا جاتا ہے، یہ کھیل صدیوں سے اس خطے میں کھیلا جاتا رہا ہے، قدیم دور سے ہی شندور پاس علامتی میدان جنگ بن گیا جہاں چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں اپنی بالادستی کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔ جدید پولو کے برعکس، جس میں سخت اصول و ضوابط ہیں، شندور میں کھیلا جانے والا ورژن فری اسٹائل ہے، جو اپنی روایتی جڑوں پر قائم ہے۔ پولو کی یہ شکل زیادہ سخت اور جسمانی طور پر محنت اور سختی زیادہ مانگتی ہے، جو مقامی کھوؤ، بلتی اور شین ثقافتوں کی لچک اور برداشت کی عکاسی کرتی ہے۔
    یہ میلہ نہ صرف شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے بلکہ اس کے تماشائیوں کے تنوع کے لحاظ سے بھی برسوں کے دوران پروان چڑھا ہے۔ اب یہ بین الاقوامی سیاحوں، ثقافتی شائقین، اور میڈیا کوریج کی ایک قابل ذکر تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، جو ایک ثقافتی اور سیاحتی تقریب کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
    2024 کے لیے شندور پولو فیسٹیول 28 جون سے 30 جون تک منعقد ہونے والا ہے۔ یہ اعلان گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کیا، جنہوں نے سیاحوں کی آمد کے لیے محتاط تیاری اور سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے، مشیر برائے سیاحت و ثقافت، زاہد چن زیب کو حتمی تیاریوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے، اس تاریخی فیسٹول کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک کامیاب تقریب کے لیے مؤثر طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

    شندور پولو فیسٹیول: چترال اور گلگت بلتستان کا فری اسٹائل کھیل


    اس میلے کا اہتمام خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی نے پاکستان آرمی، لوئر اور اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ اور چترال سکاؤٹس کے اشتراک سے کیا ہے۔ یہ کثیر جہتی تعاون اس تہوار کی اہمیت اور اس کے ہموار عمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو واضح کرتا ہے۔اس فیسٹول کے منعقد کرانے میں کچھ چیلنجز بھی ہیں ان کے حل کے چند سفارشات پیش خدمت ہیں:
    1۔ بنیادی ڈھانچہ اور رسائی:
    موجودہ صورتحال: ناہموار علاقے اور محدود انفراسٹرکچر شرکاء اور تماشائیوں دونوں کے لیے اہم چیلنجز کا باعث ہیں۔ شندور درہ تک رسائی بنیادی طور پر تنگ اور اکثر دشوار گزار پہاڑی سڑکوں سے ہوتی ہے۔ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ اپر چترال اور گلگت سائیڈ سے آنے والے سیاحوں کے لیے سڑکوں کے حالات کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے، نقل و حمل کی زیادہ قابل اعتماد سہولیات کی تعمیر، اور باقاعدہ دیکھ بھال کو یقینی بناکر شندور تک رسائی کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ مزید برآں، راستے میں ہنگامی طبی سہولیات کا قیام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
    2۔ رہائش اور سہولیات:
    موجودہ صورتحال:ہر سال ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد چترال، گلگت بلتستان اور شندور کا وزٹ کرتی ہے، شندور پولو فیسٹول کے موقع پر ان کے لیے رہائش کی طلب اکثر سپلائی سے بڑھ جاتی ہے۔ یہاں کے پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، صفائی ستھرائی، اور کھانے پینے کی خدمات بھی انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔
    اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے ماحول دوست کیمپ سائٹس اور چھوٹے گیسٹ ہاؤس جیسے پائیدار رہائش کی سہولیات کو تیار کرنا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحوں کو مناسب رہائش فراہم کر سکتا ہے۔ مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بنیادی سہولیات کو بڑھایا جائے اور سیاحوں کے لیے مجموعی تجربے کو بہتر بنایا جائے تاکہ وہ ہر سال شندور پولو فیسٹول دیکھنے کے چترال کا رخ کرسکیں۔
    3۔ ماحولیاتی پائیداری:
    اس فیسٹول کے دوران ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں کی چترال اور گلگت بلتستان آمد شندور کے ساتھ ساتھ چترال اور دیگر شمالی پاکستان کی وادیوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے۔
    اس سلسلے میں تجویز ہے کہ ماحولیاتی رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، ماحول دوست طرز عمل کو فروغ دیا جائے، اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں آگاہی مہم چلانے سے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ منتظمین کو چترال اور شندور کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ویسٹ مینجمنٹ پروٹوکول کو بھی نافذ کرنا چاہیے تاکہ ماحولی آلودگی سے بچا جاسکے۔
    4۔ ثقافتی تحفظ:
    اگرچہ یہ تہوار چترال اور گلگت بلتستان کی مقامی ثقافت کو فروغ دیتا ہے، لیکن مقامی کھوؤ اور شمالی ثقافت کے روایتی پہلوؤں کو کمزور کرنے کا خطرہ بھی ہے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقامی کمیونٹیز تنظیم میں فعال طور پر شامل ہوں اور میلے کو انجام دینے سے اس کی ثقافتی سالمیت کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تہوار کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے والے آگاہی پروگراموں کو ایونٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔
    5۔ مارکیٹنگ اور فروغ:
    گو کہ یہ میلہ چترال اور گلگت بلتستان میں مقامی طور پر مشہور ہے لیکن اس میں زیادہ بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
    اس سلسلے میں تجویز ہے کہ مارکیٹنگ کی ایک مضبوط حکمت عملی جس میں سوشل میڈیا مہمات، بین الاقوامی سیاحتی بورڈز کے ساتھ شراکت داری، اور بڑے شہروں میں پروموشنل ایونٹس شامل ہیں اس فیسٹول کی مقبولیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ میلے کے منفرد پہلوؤں کو ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اجاگر کیا جائے، اونچائی پر کھیلے جانے والے پولو میچز اور شاندار قدرتی مناظر، وسیع تر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔


    شندور پولو فیسٹیول نہ صرف چترال اور گلگت بلتستان کے کھیلوں کی تقریب ہے بلکہ یہ ایک ثقافتی جشن بھی ہے۔ اس کھیل کے فروع اور سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے، رہائش، ماحولیاتی پائیداری، ثقافتی تحفظ، اور مارکیٹنگ کے چیلنجوں سے نمٹنا ضروری ہوگا۔ خیبرپختونخوا حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس تہوار کی مدد سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں سے زر مبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے صوبے کو معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شندور پولو فیسٹول اپنی منفرد روایات اور قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ثقافتی تقریب بھی بنے اور سیاح جوق در جوق چترال، وادی کالاش اور گلگت بلتستان کا رخ کر سکیں۔

  • یدغا زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر

    یدغا زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر

    یدغا زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر

    پاکستان کے ضلع چترال کی خوبصورت وادی گرم چشمہ لوٹ کوہ  میں یدغا  زبان بولی جاتی ہے جو کہ  کھوار زبان کی طرح  اپنی مخصوص حروف تہجی کی وجہ سے اس خطے کے لسانی تنوع کا ثبوت ہے۔ تقریباً 6,000 مقامی لوگ یدغا زبان  بولتے ہیں ۔  یدغازبان  کا تعلق ہند-یورپی زبان کے خاندان کی مشرقی ایرانی شاخ سے ہے، خاص طور پر منجی- یدغا ذیلی گروپ میں اس کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اپنے بھرپور ورثے اور ثقافتی اہمیت کے باوجود یدغا زبان کو ڈیجیٹل نمائندگی کے چیلنج کا سامنا تھا  جسے راقم الحروف( رحمت عزیز چترالی) نے کھوار اکیڈمی، کیمین اور سمر انسٹی ٹیوٹ اف لنگوسٹکس امریکہ  کے تعاون و اشتراک سے تیار کرکے یدغا جیسی معدومیت کا شکار زبان کو  تحریری زبان بنانے میں پہلی کوشش کی ہے، راقم الحروف کا تیار کردہ یہ ایک اہم یدغا  سافٹ ویئر جو عربی رسم الخط میں یدغا ٹائپنگ کی سہولت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جس میں آپ یدغا زبان میں سات پلیٹ فارم پر یدغا لکھ سکتے ہیں اس  سے پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی۔

    یدغا زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر
    آراے چترالی یدغا سافٹویر

    گرم چشمہ لوٹ کوہ  کا علاقہ جو چترال کی بالائی وادیوں میں واقع ہے،یہ علاقہ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے دوران یدغا بولنے والی افغان مہاجرین کی چترال ہجرت کی وجہ سے نمایاں ہوا۔ اس خطے نے تنازعات کی وجہ سے افغانستان  سے  فرار ہونے والے منجی زبان  بولنے والے افغان  پناہ گزینوں کی نمایاں آمد دیکھی، جس نے یدغا  اور منجی برادریوں کے درمیان ثقافتی تبادلے اور لسانی تعاملات میں تعاون کیا۔ ناروے کے ماہر لسانیات جارج مورگنسٹیرن کی تحقیق کے مطابق چترال دنیا کا واحد کثیر السانی خطہ کہ جہاں پر سب زیادہ زبانیں یعنی چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ چترال اپنی  لسانی دولت مالا مال ہے اور  جیسا کہ ناروے کے ماہر لسانیات جارج مورگنسٹیرن نے بھی یہ بات  نوٹ کی ہے چترال کی  بہت سی مقامی زبانیں، جن میں یدغا  بھی شامل ہے، تحریری شکلوں سے ابھی تک محروم ہے، جو اکثر تحریری رابطے کے لیے اردو کا سہارا لیتے ہیں۔

    Yadgha
    Rehmat Aziz Chitrali
    یدغا زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا خالق

    آر اے چترالی-یدغا کی بورڈ: ایک ڈیجیٹل حل

    راقم الحروف (رحمت عزیز چترالی) کی طرف سے تیار کیا گیا آراے چترالی- یدغا کیبورڈ سافٹویر یدغا زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک اہم ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ کی بورڈ عربی رسم الخط کا استعمال کرتے ہوئے یدغا ٹائپنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے اور کسی بھی توسیع شدہ عربی رسم الخط کے یونیکوڈ فونٹ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ چاہے آپ ونڈوز، میکوس، لینکس، اینڈرائیڈ، آئی فون، آئی پیڈ، یا یہاں تک کہ ایک ویب براؤزر استعمال کر رہے ہوں، آراے چترالی- یدغا کیبورڈ مختلف پلیٹ فارمز پر بغیر کسی رکاوٹ کے لکھائی کو یقینی بناتا ہے۔

    یدغا کیبورڈ سافٹویر کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:-

    کی بورڈ ID: rac_yidgha

    معاون پلیٹ فارمز: ونڈوز، میک او ایس، لینکس، اینڈرائیڈ، آئی فون، آئی پیڈ، ویب، موبائل ویب

    مصنف: رحمت عزیز چترالی

    لائسنس: ایم آئی ٹی

    کی بورڈ ورژن: 1.1

    آخری تازہ کاری: اگست 11، 2023

    انکوڈنگ: یونیکوڈ

    معاون زبانیں: یدغا

    اگست 2023 میں آخری اپ ڈیٹ کے مطابق ماہانہ ڈاؤن لوڈ کی معمولی تعداد 34 اور کل 347 ڈاؤن لوڈز کے ساتھ، آراے چترالی – یدغا کیبورڈ نے یدغا بولنے والے کمیونٹی کے لیے ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے میں پہلے ہی ایک قابل ذکر اثر ڈالا ہے۔

    آراے چترالی- یدغا کیبورڈ خطرے سے دوچار زبان یدغا کے تحفظ اور احیاء میں ٹیکنالوجی کی طاقت کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ یدغا  ٹائپنگ کے لیے صارف دوست پلیٹ فارم مہیا کر کے  راقم الحروف (رحمت عزیز چترالی)  اور کھوار اکیڈمی نے یدغا زبان کے فروع  اور ثقافتی تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا کر پہلی کوشش کی  ہے۔ امید ہے کہ یدغا زبان بولنے  اپنی زبان کے تحفظ کے لیے آگے آئیں گے ۔

  • کھوار زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیاں

    کھوار زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیاں

    کھوار زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیاں: تجزیاتی مطالعہ

    کھوار زبان  چترال، مٹلتان کالام اور گلگت بلتستان کی وادی غذر کے علاقوں میں تقریباً 1,000,000 لوگ بولتے ہیں یہ   زبان  پاکستان کی 31سے زائد  خطرے سے دوچار زبانوں میں سے ایک ہے۔ اپنی منفرد ثقافتی و لسانی  اہمیت کے باوجود بھی  کھوار کو عوامی گفتگو اور تعلیم میں اردو اور  پشتو کے غلبے کی وجہ سے کافی چیلنجوں کا سامنا ہے  جس کی وجہ سے اسے شروع دن سے ہی  رسمی نصاب میں نظر انداز کیا جاتا رہا لیکن اب اس زبان  کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے اور کھوار نصاب ترتیب دی جارہی ہے۔

    برسوں سے کھوار کے پاس معیاری تحریری شکل کی کمی تھی، کھوار زبان کے مخصوص حروف کمپیوٹر میں موجود نہیں تھے اس لے کھوار کے لکھاری اپنی تخلیقات کو کاتبوں سے لکھواتے تھے، جب ان پیج اردو سافٹ ویر ریلیز ہوا تو  راقم الحروف  (رحمت عزیز چترالی) ایک کھوار دستاویز کھوار زبان کے مخصوص حروف کو ان پیج کھوار میں شامل کرنے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا  کہ کھوار زبان یونی کوڈ کو سپورٹ نہیں کرتی اس لیے اس زبان کے مخصوص حروف کو ہم ان پیج میں نہیں ڈال سکتے یہی صورت حال  جو کھوار زبان  کی ادبی روایت میں بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ تاہم جب راقم الحروف  ( رحمت عزیز خان چترالی) نے کھوار اکیڈمی کے قیام کے بعد کراچی میں اس ادبی تنظیم  سے وابستہ زبان کے کارکنوں کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر 1996ء  میں کھوار زبان  کے لیے ایک آرتھوگرافک نظام وضع کرنے کے ساتھ کھوار کیبورڈ سافٹویر اور تین زبانی کھوار ڈکشنری(کھوار،اردو، انگریزی) پر کام کا آغاز کیا۔ کھوار زبان کا رسم الخظ عربی رسم الخط سے ماخوذ ہے جو پاکستان کی قومی زبان اردو کے مشابہ ہے لیکن اسے چند مخصوص اسے دیگر زبانوں سے منفرد کرتے ہیں، کھوار زبان کی ہفت پلیٹ کلیدی تختیوں کے سافٹو یر کا مقصد کھوار کے لیے ایک تحریری شکل فراہم کرنا ہے جو کہ یونی کوڈ کو مکمل سپورٹ کرتا ہو اور میری تیار کردہ ان کھوار کھوار سافٹویر سے اس زبان  کے بولنے والوں کو ان کی مادری زبان میں سات پیلٹ فارمز میں بات چیت کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔کھوار زبان کے مخصوص حروف اور ان سے بننے والے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں۔

    Rehmat Aziz Khan Chitrali Gold Medalist.jpg
    کھوار زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کے سافٹویر کا موجد، رحمت عزیز چترالی

    ݯ ۔ ݯھیترار، ݮ ۔ ݮنݮیر، ݰ ۔ ݰوݰپکاڑی، ݱ ۔ ݱوغ، ځ ۔ ځوخ، څ ۔ څھوؤ، أ۔ کندآ، ڵ ۔ یہ کھوار زبان کا نیا ڵام ہے جسے راقم الحروف نے پہلی بار اپنے تیار کردہ کھوار کیبورڈ سافٹویر میں شامل کیا ہے یہ ڵام کھوار میں بولنے میں آتا ہے لیکن لکھنے میں نہیں آتا، یہ لام اور ڑے کی درمیانی آواز ہے جسے صرف  چترالی اور عربی لوگ ہی  درست تلفظ کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں باقی لوگ اردو والا لام ہی بولتے ہیں یہ ڵام لفظ” اللہ” میں موجود ہے۔راقم الحروف نے  تین نئے کھوار حروف  متعارف کروائے ہیں جوکہ یہ ہیں، أ، ڵ اور ڨ، یہ نئے حروف میرے تیار کردہ کھوار کیبورڈ اور کھوار جیبورڈ دونوں  میں موجود ہیں۔

    کھوار کیبورڈ کا شفٹ ورژن

    کھوار میں اردو سے زائد حروف بھی ہیں جو کھوار زبان کی مخلتف آوازوں کی نمائندگی کرتی ہیں، سابق ریاست چترال کے دروش کے گورنر شہزادہ حسام الملک نے پہلی بار کھوار زبان  کے مخصوص حروف کو کھوار قاعدے کی کتاب میں شامل کیا جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

    ݮݯݱڅ

     اس کے بعد راقم الحروف نے  1996ء میں کھوار زبان میں مزید مخصوص  حروف اور آوازوں  کی نشاندہی کی جو کہ مندرجہ ذیل ہیں

    /ɶ//ʐ//ɕ//ʂ//ʣ//ʦ//ɟ//ɫ//ɋ/
    ٲݱݯݰځڅݮڵڨ
    کندٲݱارݯھترارݰوݰپکاڑیځوخڅھوٶݮنݮیرکھوار ڵامڨڑوڨ
    پتھروں کی عارضی دیوارزہرچترالایک چترالی ڈشکانٹایتیمزنجیریہ ڵام لفظ اللہ کی ادائیگی میں آتا ہےمرغی کی آواز

    میں  نے کھوار زبان کے لیے جو  اضافی حروف متعارف کروائے ہیں یہ اردو  میں موجود نہیں ہیں ، میں نے کھوار کیبورڈ  اور کھوارجیبورڈ تخلیق کرکے ان مخصوص حروف کو اپنے بنائے ہوئے کھوار سافٹویر میں ڈال دیا ہے جوکہ یونی کوڈ کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔

    RAChitrali-Khowar1.jpg
    آراے چترالی کھوار کیبورڈ کا بیس ورژن
    RAChitrali-Khowar2.jpg
    آراے چترالی کھوار کیبورڈ کا شفٹ ورژن
    RAChitrali-Khowar3.jpg
    آراے چترالی کھوار کیبورڈ کا کنٹرول آلٹر ورژن

    شروع شروع میں مجھے کھوار زبان کو  ڈیجیٹلائز کرنے میں کافی  مشکلات اور  چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب میں نے اس کا مستقل حل ڈھونڈ  لیا ہے۔ وادی چترال میں جہاں پرسنل کمپیوٹرز تک بے شمار صارفین کی  رسائی محدود ہے اور یہاں کے صارفین  اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی کے بنیادی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہیں۔ جب میں نے  پہلی بار کمپیوٹر کے لیے کھوار کیبورڈ بنایا تو کھوار صارفین نے موبائل فون کے لیے بھی کھوار سافٹویر بنانے کے لیے گزارش کی تو میں نے کھوار زبان کے لیے  ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر بنایا جس سے کھوار زبان میں سات پلیٹ فارمز پر تحریر ممکن ہوگئی ہے۔میرے تخلیق کردہ کھوار کیبورڈ اور کھوار جیبورڈ سے اسمارٹ فونز پر کھوار ٹائپنگ  کی سہولت  ہوگئی ہے ۔

    راقم الحروف  نے 1999 میں کھوار ویکیپیڈیا پر کھوار کے لیے  مضامین لکھنے  کے لیے کھوار کی بورڈ ڈیزائن کرکے اس چیلنج کا جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے کھوار کی بورڈز کی ایک سیریز تیار کی جو سات پلیٹ فارمز میں کھوار زبان کو مکمل سپورٹ کرتی ہے: RAChitrali-Windows, RAChitrali-macOS, RAChitrali-Linux, RAChitrali-Android, RAChitrali-iPhone, RAChitrali-iPad, RAChitrali-RACleMo, اور web. اپنے تیار کردہ ان کھوار  کی بورڈز Rachitrali-Khowar Keyman Keyboard کو اب ویب سائٹ پر کھوار صارفین کے  استفادے کے لیے اپلوڈ کردیا ہے۔

    کھوار زبان میں سات پلیٹ فارمز کو سپورٹ کرنے والا کھوار کیبورڈ سافٹویر  کی شاندار پزیرائی  کے بعد اپنے اس  لسانیاتی خدمت کو آگے بڑھاتے ہوئے  میں نے گوگل کے لیے کھوار جی بورڈ بنایا، جسے بعد میں گوگل نے KhowarGBoard کے نام سے جاری کیا۔ میرے اس کھوار جیبورڈ نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز والے صارفین کو کھوار زبان میں بغیر کسی رکاوٹ کے ٹائپ کرنے کے قابل بنایا۔

    Khowar GBoard.jpg
    رحمت عزیز چترالی کا تخلیق کردہ کھوار جیبورڈ، جس میں کھوار کے نئے حروف ٲ، ڵ اور ڨ کو بھی شامل کیا گیا ہے،کھوار ”څ” کو ”ح” کے لانگ پریس میں رکھا گیا ہے، کھوار ”ځ” کو ”خ” کے لانگ پریس بٹن میں رکھا گیا ہے، نیا کھوار ”ٲ” الف کے لانگ پریس بٹن میں موجود ہے، کھوار ”ݯ” کو ”ج” کے لانگ پریس اور کھوار ”ݮ” کو ”ن” اور ”ب” کے درمیاں آخری لائین میں رکھا گیا ہے، کھوار ”ڨ” کو ”و” کے لانگ پریس بٹن اور کھوار ”ڵ” کو ”ع” کے لانگ پریس میں رکھا گیا ہے اور کھوار ”ݱ” کو ”ر” کے لانگ پریس بٹن میں رکھا گیا ہے۔

    متعدد پلیٹ فارمز پر ان کھوار ٹیکسٹ ایڈیٹرز کی مفت دستیابی وادی چترال کے لوگوں کو اپنی مادری زبان میں بات چیت کرنے، سوشل میڈیا کو اپ ڈیٹ کرنے اور آن لائن سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا اختیار دیتی ہے۔ کھوار جیسی خطرے سے دوچار زبانوں کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، جیسے Gboard کی بورڈ میں ضم کرنا  لسانی تنوع اور چترالی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم اور میری طرف سے اپنی مادری زبان کے لیے ایک ادنی ٰ سی کوشش ہے۔ گر قبول افتد زہے عزو شرف۔

    مختلف پلیٹ فارمز کے لیے کھوار ٹیکسٹ ایڈیٹرز تیار کرنے میں راقم الحروف  کی اولین کوششوں نے ڈیجیٹل دور میں کھوار زبان کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سمارٹ فونز اور کمپیوٹرز پر کھوار ٹائپنگ کو فعال کرنا ٹیکنالوجی اور زبان کے تحفظ کے درمیان ایک مضبوط تعلق کو فروغ دیتا ہے اور کھوار جیسی خطرے سے دوچار زبانوں کی وراثت اور تاریخ کو محفوظ بناتا ہے۔

    Title Image by Valerio Errani from Pixabay

  • علاقائی زبانوں سے نعتیہ اشعار کے اردو تراجم

    علاقائی زبانوں سے نعتیہ اشعار کے اردو تراجم

    علاقائی زبانوں سے نعتیہ اشعار کے اردو تراجم: ایک اچھی روایت

    فرید بھٹہ

    علاقائی اور مادری زبانوں سے نعتیہ اشعار کے اردو تراجم کی ایک اچھی روایت سامنے آئی ہے، جوکہ خوش آئند بات ہے۔ آج محترم رحمت عزیز چترالی نے ہمیں کھوار زبان جو چترال، سوات کے مٹلتان کالام اور گلگت-بلتستان کے ضلع غذر میں بولی جاتی ہے کے بارے میں معلومات بہم پہنچا کر ہمارے علم میں ایک گرانقدر اضافہ فرمایا اور اضافہ بھی سیرت مصطفویﷺ کے بارے میں، سو یہ اضافہ ہمارے لیے ایک سعادت بھی ہیں انہیں اللهﷻ نے یہ سعادت بخشی کہ انہوں نے کھوار زبان میں اپنے منظوم سیرتی اشعار کا اردو میں ترجمہ کیا۔ میں نے جتنے اشعار جو تقریباً ۹۹ ہیں پڑھے اور ترجمہ بھی اب ظاہر ہے ہمیں تو اس کا اردو ترجمہ ہی سمجھ میں آسکا،
    کیسی محبت ہے جو ایک ایک شعر سے عیاں ہے تڑپ ہے مدینۀ المنورہ پہنچنے کی کیسا یقین ہے حضورﷺ کی شفاعت کا حیران کن حد تک قاری یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے جیسے وہ خود یہ سب کہہ رہا ہے یا کہنا چاہتا ہے یعنی تمام واقعات کو منظوم کردیا ہے حضورﷺ کی آمد سے لے کر یعنی شاعری کے شروع سے آخر تک محبت کا ایک اتھاہ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے دل میں مد و جزر اٹھ رہے ہیں دل مدینہ المنورہ پہنچنے کے لئے بے چین کیے دے رہا ہے اور خوبصورتی اس کی یہ ہے کہ پڑھنے والے کی اپنی بے چینی اس کے روم روم سے دکھائی پڑتی ہے، اور یہی کسی تحریر کی خوبصورتی کی دلیل ہے
    کہ وہ قاری کو اپنے سحر سے نکلنے ہی نہ دے اور قاری خود بھی نکلنا نہ چاہے بلکہ اور گہرائی اور گہرائی میں ڈوبتا چلا جاۓ الله پاک ان کی کوشش کو قبول فرمائے اس کتاب کو ان کی بخشش کا باعث بنادے اور ہم جو اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں اور جو آئندہ پڑھنے والے ہیں۔جو میں نے لکھا وہ اس سے بہت کم ہے جو لکھا جانا چاہیۓ تھا آپ کا کام بہت بڑا ہے کسی بھی زبان کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ جان جوکھم کا کام ہے اس کے لئے مطالعہ مشاھدہ مجاھدہ بہت ضروری ہے اور شرط اول ہے دونوں زبانوں کی اونچائی اور گہرائی کا ادراک ہونا اس سے بھی ضروری ہے، شاعری کا شاعری میں ترجمہ کرنا ہو تو یہ مشکلات دوچند ہو جاتی ہیں نعت تو مادری زبان میں لکھنا آسان نہیں ایسے مقامات بھی راہ میں ہیں جہاں پر جلتے ہیں بلکہ اس سے بھی آگے پورا جسم جلتا ہے کپکپی طاری ہوتی ہے تھوڑی سی بے احتیاطی روح کو جھلسا دیتی ہے اسی لئے بڑے بڑے اساتذہ نے بھی نعت کو تبرک کے طور پر لکھا اور کانوں کو ہاتھ لگا لئے وہ اساتذہ جن کے سامنے الفاظ ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں۔ آپ نے بہت بڑا کام کیا ہے اور پوری دیانت داری سے کیا ہے، جذب اور شوق سے کیا ہے عشق خالص ہو تو بڑے بڑے کام کرا لیتا ہے اس کو محبوب کی خوشی مطلوب ہوتی ہے راستہ کیسا ہے یہ نہیں دیکھتا اسی لیۓ علامہ اقبال نے فرمایا
    بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
    عقل تھی محو تماشائے لب بام ابھی
    آقا ﷺ کی ذات مقدسہ سے جو آپ کو محبت ہے عشق ہے اس نے آپ سے یہ کام کروایا آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی ان سے جو محبت کرتا ہے وہ ان کا محبوب تو ہوتا ہی ہے اللهﷻ کو بھی محبوب ہوتا ہے اور اللهﷻ قادر مطلق ہے اس کی کن کے بغیر تو ہاتھ قلم بھی نہیں تھام سکتا ذھن کچھ سوچنے سے قاصر بہت بڑا بہت ہی بڑا کام ہے یہ اپنے جذبے شوق لگن اور عشق سے انجام دیا ہے یہ کام جو قابل صد ہزار مبارکباد ہے آقاﷺ کے محبوب اللهﷻ کے محبوب کیا نرالی شان کیا نرالی تقدیر پائی ہے آپ نے صرف میں نہیں ہر ذی روح آپ پر رشک کرتا ہے سب کی طلب و جستجو ہے ترستے ہیں اس قرب کے لئے آپ کو کھجور کے اس تنے کا تو علم ہوگا جو آقاﷺ کی جدائی میں بلک بلک کر رویا تھا یہ تو دونوں جہانوں کے لیۓ بہت بڑا اعزاز ہے یہ تو صرف چنیدہ چنیدہ ہستیوں کے لیۓ مخصوص ہے سب کو کہاں ملتا ہے بلاشبہ آپ دونوں جہانوں کے خوش قسمت انسان ہیں جن کو اللهﷻ اس اعزاز سے سرفراز فرمایا الله پاک آپ کا حامی و ناصر ہو آپ کے اعزازات میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔ بے حد بے حساپ درود سلام ہر دم ہر لحظہ ہمارے آقاﷺ اور ان کے اصحابہ کرام اہل بیت ان کی اولاد اور امہات المومنیں پر۔ الله ہمارے ساتھ بھی رحم وکرم کے معاملات فرماۓ اس دن جس دن کوئی کسی کا نہیں ہوگا سب کی.نظریں ہمارے آقاﷺ کر طرف ہی اٹھ رہی ہونگی۔ رحمت عزیز چترالی بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ٹھیرتے ہیں الله پاک ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے، آمین