Tag: محرم

  • ”یوتھ فار نیشن پاک“ خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ

    ”یوتھ فار نیشن پاک“ خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ

    ”یوتھ فار نیشن پاک“ خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ

    رپورٹ: سید حبدار قائم

    عاشورِ محرم کا دن صرف غمِ حسینؑ کا استعارہ نہیں بلکہ ایثار، قربانی، صبر اور خدمتِ خلق کے لازوال پیغام کی تجدید کا دن بھی ہے۔ جب مرکزی جلوسِ عاشور اپنے جلال اور وقار کے ساتھ رواں تھا، عزادارانِ سیدالشہداءؑ اپنے لہو سے وفا کی داستان رقم کر رہے تھے، ایسے میں فلاحی تنظیم "یوتھ فار نیشن پاک” خاموشی سے خدمتِ انسانیت کی ایک ایسی مثال قائم کر رہی تھی جو بلاشبہ قابلِ تحسین اور لائقِ تقلید ہے۔

    تنظیم کی جانب سے قائم کردہ فری طبی امدادی کیمپ میں مستند ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ اور نوجوان رضاکار پوری مستعدی کے ساتھ زخمی عزاداروں کی خدمت میں مصروف رہے۔ زنجیر زنی کے باعث زخمی ہونے والوں کی فوری مرہم پٹی کی گئی، جراثیم کش ادویات استعمال کی گئیں اور ہر زخمی کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔ کیمپ میں ادویات، پٹیاں اور دیگر طبی سامان وافر مقدار میں موجود تھا، جس سے عزاداروں کو بروقت سہولت میسر آئی۔

    اسی دوران ایک ایسا مریض کیمپ میں لایا گیا جس کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا تھا اور زندگی کی ڈور کمزور پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر ڈاکٹرز نے فوری مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مریض کی جان بچ گئی۔ یہ لمحہ اس حقیقت کا گواہ تھا کہ بروقت طبی امداد کسی بھی قیمتی جان کو نئی زندگی عطا کر سکتی ہے۔

    ”یوتھ فار نیشن پاک“ خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ

    تنظیم کے تمام رضاکاروں نے خندہ پیشانی، اخلاص اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ صرف خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے عمل سے یہ پیغام دے رہے تھے کہ انسانیت کی خدمت ہی درحقیقت حسینی فکر کی عملی تعبیر ہے۔

    اس پورے فلاحی مشن میں تنظیم کے صدر نعلین حیدر سلطان کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ انہوں نے ہر مرحلے پر انتظامات کی نگرانی کی، رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی زخمی بروقت امداد سے محروم نہ رہے۔ ایسے باکردار نوجوان معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو خدمت کو اعزاز اور انسانیت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

    فری طبی کیمپ کے ساتھ حضرت علی اصغرؑ کے نام سے منسوب ٹھنڈے پانی کی سبیل بھی قائم کی گئی۔ یہ سبیل صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ میدانِ کربلا کی اس ابدی پیاس کی یاد بھی تازہ کر رہی تھی جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عزادار اور راہگیر اس سبیل سے فیض یاب ہوتے رہے اور رضاکار محبت و عقیدت سے انہیں پانی پیش کرتے رہے۔

    جذبۂ خدمت کی ایک خوب صورت مثال کاروانِ قلم اٹک کے چیئرمین نزاکت علی نازک نے بھی قائم کی۔ وہ خود زخمی تھے، مگر زخموں کی تکلیف ان کے عزم کے سامنے بے بس دکھائی دی۔ انہوں نے سبیل پر موجود رہ کر پیاسوں کو پانی پلایا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جو دل خدمتِ حسینؑ سے سرشار ہو، اسے اپنی تکلیف بھی دوسروں کی راحت کے سامنے معمولی محسوس ہوتی ہے۔

    آج کے پُرآشوب دور میں، جب معاشرہ بے حسی کی شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے، "یوتھ فار نیشن پاک” جیسے ادارے امید کی روشن کرن ہیں۔ یہ نوجوان نسل کو یہ سبق دیتے ہیں کہ عزاداری صرف غم منانے کا نام نہیں بلکہ زخمی کے زخم پر مرہم رکھنے، پیاسے کو پانی پلانے، دکھی انسان کے کام آنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا نام بھی ہے۔

    بلاشبہ "یوتھ فار نیشن پاک” نے عاشورِ محرم میں جس خلوص، نظم، محبت اور خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تنظیم کے تمام ذمہ داران، ڈاکٹرز، رضاکاروں اور معاونین کی اس بے لوث خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں آئندہ بھی اسی جذبۂ اخلاص کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

  • واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    Dubai Naama

    یوم عاشورہ گزر گیا، مگر دل پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غم کی چادر آج بھی تنی ہوئی ہے۔ یہ آلِ رسول کے قتال کا نوحہ نہیں، یہ سعادتِ شہادت کا فخر ہے جو دل چیر دیتا ہے۔ بڑی سعادت بڑی قربانی مانگتی ہے، اور یہ فیصلہ صرف نواسۂ رسول، امامِ عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی فرما سکتے تھے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ 10 محرم 61 ہجری، کے دن نے میدانِ کربلا میں حق اور باطل کے درمیان وہ لکیر کھینچ دی جو آج تک قائم ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے خلافت کو آمریت بننے سے روکنے کے لیے اپنے اہلِ بیت سمیت جامِ شہادت نوش کیا۔ روایت ہے کہ یزید کے لشکر نے آواز لگائی: "حسین کو جلدی قتل کرو کہیں نماز قضا نہ ہو جائے”۔ یہ وہ منافقانہ سوچ تھی، جہاں عبادت کا ظاہر تو تھا مگر انصاف کی روح ختم ہو چکی تھی۔

    افسوس کہ بعض مسلکی فرقہ پرست مورخین واقعہ کربلا کو "سنی” اور "شیعہ” کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ داستانِ کرب و بلا صرف ایک مسلک کی نہیں، پوری امتِ مسلمہ کی میراث ہے۔ قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان، امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت اور اہلِ بیت کے مقام کا معترف ہے۔ محبتِ اہلِ بیت ہر سچے مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    یزید کی بادشاہت پر جو لوگ "حق” کا لیبل لگاتے ہیں، وہ تاریخ کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ یزید اور اس کے ساتھی مسلمان تو تھے، مگر ان کا عمل منافقین کے قریب تھا۔ قرآنِ پاک منافقین کے لیے جہنم کا سخت ترین عذاب بیان کرتا ہے۔ اس لیے اہلِ حق ہمیشہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے رہے، چاہے وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہوں۔

    محرم آتے ہی دل پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ یہ غم فرقے نہیں دیکھتا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اقتدار سے بڑھ کر اصول ہیں، جان سے بڑھ کر غیرت ہے، اور صلح سے بڑھ کر حق پر ڈٹ جانا ہے۔ اہلِ تشیع کا ادب بھی اسی قربانی کو خراج دیتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوتاہی ہر طرف سے ہو سکتی ہے۔ اصل سبق اتحاد ہے۔

    امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: "میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں”۔ یہ اصلاح آج بھی درکار ہے۔ جب امت فرقہ واریت میں الجھے، تو کربلا یاد آتی ہے کہ امتِ محمدیہ ایک جسم کی مانند ہے۔ 

    کربلا ہمیں وراثت میں نفرت نہیں، غیرت دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دس فیصد اختیار سے نوے فیصد ظلم کے نظام کو للکارا جا سکتا ہے۔ یہ میراث ہر مسلمان کی ہے۔ اسے مسلک کی دیواروں میں قید نہ کریں، بلکہ اسے امت کے جوڑ کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے اور اتحاد قائم کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

  • ویلڈن اٹک پولیس – Weldon Attock Police

    ویلڈن اٹک پولیس – Weldon Attock Police

    ویلڈن اٹک پولیس – Weldon Attock Police

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    محرم الحرام کا مقدس مہینہ جہاں عقیدت، محبت اور قربانی کا پیامبر ہوتا ہے، وہیں امن و امان کے حوالے سے ایک بڑا امتحان بھی بن جاتا ہے۔ ایسے حساس موقع پر اٹک پولیس نے جس پیشہ ورانہ انداز، مستعدی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے

    اس بار اٹک کی فضا میں ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔ جلوسوں کی گزرگاہیں ہوں یا مجالس کے مقامات، ہر جگہ پولیس کی موجودگی ایک مضبوط حصار کی مانند دکھائی دی۔ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمروں کی تنصیب کی گئی، واک تھرو گیٹس لگائے گئے اور چیکنگ کے نظام کو نہایت مؤثر بنایا گیا پٹرولنگ پولیس مسلسل گشت میں مصروف رہی، جبکہ ایلیٹ فورس کی خصوصی نگرانی نے سیکیورٹی کو مزید مضبوط کیا۔

    ایس ایچ او سجاد حیدر کی متحرک قیادت اور عقابی نظر نے اس پورے عمل کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی دبنگ موجودگی، سخت چیکنگ اور ہر مقام پر فوری رسائی نے عوام میں اعتماد کو بڑھایا۔ میں نے جہاں بھی دیکھا تو مجھے ایس ایچ او سجاد حیدر متحرک نظر آۓ اور پولیس کے جوانوں کو ہدایات دیتے نظر آۓ اور خود بھی جلوس میں اور جلوس سے باہر نگرانی کرتے نظر آۓ

    پولیس افسران کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی نے فورس کے حوصلے بلند رکھے، جبکہ چست و پھرتیلا عملہ ہر لمحہ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف رہا

    داخلی راستوں کی بندش، مشکوک عناصر پر کڑی نظر اور فرقہ پرستوں کے خلاف سخت اقدامات نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس سروس کی موجودگی نے انتظامات کو مکمل بنا دیا

    ویلڈن اٹک پولیس – Weldon Attock Police

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈی سی راو عاطف رضا  اور ڈی پی او سردار موارہن کی خصوصی توجہ اور حکمتِ عملی اس کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط ستون ثابت ہوئی۔ پولیس اور انتظامیہ کے درمیان بہترین ہم آہنگی نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جس کے باعث محرم نہایت پرامن انداز میں گزرا

    اس کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مریم نواز کی صفائی ٹیم نے صفائی کے بہترین انتظامات کیے، جبکہ میونسپل کمیٹی نے پانی کی سبیلیں لگا کر عزاداروں کی خدمت کا حق ادا کیا۔ ریسکیو 1122 نے ہمیشہ کی طرح مثالی کردار ادا کیا

    پولیس کے بانیانِ مجالس کے ساتھ بھرپور تعاون نے اس اجتماعی کوشش کو مزید مؤثر بنا دیا

    درحقیقت یہ سب ایک مربوط حکمتِ عملی، اخلاصِ نیت اور فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔ اٹک پولیس نے ثابت کیا کہ اگر نیت درست اور ارادہ مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی آسانی سے سر کیا جا سکتا ہے

     اگر ہم مجموعی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سال محرم کے ایام میں اٹک ایک منظم اور مربوط حکمتِ عملی کی عملی تصویر بنا رہا۔ ہر ادارہ اپنی اپنی جگہ متحرک نظر آیا، مگر پولیس کا کردار ایک ایسے محافظ کی مانند تھا جو نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ دوسروں کو بھی احساسِ تحفظ فراہم کر رہا تھا

    جلوسوں کے راستوں پر کھڑے اہلکار فقط ڈیوٹی نہیں دے رہے تھے بلکہ وہ اپنے فرائض کو عبادت کا درجہ دیتے دکھائی دیے۔ ان کے چہروں پر سنجیدگی، آنکھوں میں حفاظتی اقدامات اور رویے میں نرمی ایک ایسا امتزاج تھا جو عوام کے دلوں میں احترام پیدا کر رہا تھا۔ یہی وہ رویہ ہے جو پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے اور اعتماد کی فضا کو پروان چڑھاتا ہے

    خاص طور پر نوجوان اہلکاروں کی پھرتی اور مستعدی قابلِ دید رہی۔ شدید گرمی، طویل ڈیوٹیاں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کسی بھی فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک قوت بنا دیتا ہے

    مزید برآں، عوام کا تعاون بھی اس کامیابی کا ایک اہم جزو رہا۔ شہریوں نے پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، چیکنگ کے مراحل میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا۔ یہی باہمی ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے۔

    اگر ہم اس پورے عمل کو ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ صرف چند دنوں کی کامیاب سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک مثبت روایت کا آغاز ہے۔ ایسی روایت جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

    یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ اٹک پولیس آئندہ بھی اسی جذبے، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتی رہے گی اور دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گی

    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ

    امن صرف اقدامات سے نہیں بلکہ نیتوں، محنتوں اور مشترکہ کاوش سے قائم ہوتا ہے  اور اٹک نے اس کی ایک خوبصورت مثال پیش کی ہے

    اٹک پولیس کی اس شاندار کارکردگی پر دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے:

    ویلڈن، اٹک پولیس، آپ نے اپنا فرض نہایت احسن طریقے سے نبھایا

    Photo Courtesy Attock Police

  • آج بھی دو قومی نظریہ زندہ ہے

    آج بھی دو قومی نظریہ زندہ ہے

    آج بھی دو قومی نظریہ زندہ ہے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ


    اگست کا مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جشنِ آزادی کے چراغاں، جلسے، جھنڈیاں اور بینرز اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ 78 برس بعد بھی کیا ہم واقعی آزادی کے اصل مقصد کو سمجھ پائے ہیں؟ پاکستان صرف ایک خطۂ زمین کے لیے حاصل کیا گیا تھا یا پھر "لا الہ الا اللہ” کی سربلندی کے لیے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج بھی ہمارے گلے میں ہڈی بن کر پھنسا ہوا ہے۔
    دو قومی نظریہ سنتے ہی ذہن میں برصغیر کا وہ منظرنامہ آ جاتا ہے جہاں ہندو اکثریت اپنی مکاری کے جال بُن رہی تھی اور مسلمان رہنما یہ فیصلہ کر رہے تھے کہ اگر علیحدہ وطن نہ لیا تو آنے والی نسلیں غلامی میں زندگی گزاریں گی۔ قائداعظم اور مسلم لیگ نے کروڑوں مسلمانوں کو قائل کیا کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ!” اور نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا۔
    یہ نظریہ نیا نہ تھا۔ قرآن نے پہلے ہی بتا دیا تھا: "فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ” یعنی انسان یا تو مومن ہے یا کافر۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی واضح کر دیا کہ قومیت اور ملت کی بنیاد دین ہے۔ آپؐ نے ابو جہل جیسے قریبی قبیلے دار سے جنگ کی لیکن بلال حبشیؓ، صہیب رومیؓ اور سلمان فارسیؓ کو سینے سے لگایا۔ مطلب صاف ہے کہ ملت ایک ہے: ملتِ اسلامیہ۔
    پاکستان اسی نظریے پر بنا تھا لیکن آج 2025 میں بھی ہمیں عجیب صورت حال کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے کفار آج بھی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، افغانستان ہو یا برما—ہر جگہ خون ہی خون ہے۔ لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر ہی ایک طبقہ موجود ہے جو خود کو "لبرل” کہلاتا ہے۔ جی ہاں، وہی "لبرل منافقین” جو ہر وقت اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ ان کے کاموں کی فہرست دیکھیے:
    پاکستانی نصاب سے اسلامی مواد کم کرنا،
    اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بیانیہ پھیلانا،
    ہندوستانی ثقافت کو ہمارے گھروں میں داخل کرنا،
    سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کو ہوا دینا،
    اور نوجوان نسل کو بے حیائی کی طرف مائل کرنا۔

    آج بھی دو قومی نظریہ زندہ ہے


    محرم کے دنوں میں یہ "لبرل برانڈ” پوری طرح ایکٹیو ہو جاتے ہیں۔ باہر کی دنیا سوشل میڈیا کو تعلیم، کاروبار اور ترقی کے لیے استعمال کرتی ہے، اور ہم اسے کافر، مشرک اور گستاخ کے فتوے لگانے کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ان لبرلوں کے ساتھ کچھ مذہبی "موم بتی بردار” بھی ہیں جو چند روپے اور تھوڑے سے مفاد کے لیے ان کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں۔
    ذرا سوچیے! ایک طرف وہ طبقہ ہے جو مسجدوں میں دعائیں مانگتا ہے، غریبوں کو کھانا کھلاتا ہے، ملک کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ دوسری طرف یہ لبرل برگیڈ ہے جو ہمیشہ پاکستان کو بدنام کرنے، اسلام کے قوانین پر انگلیاں اٹھانے اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے۔ یہ خود عملی طور پر کچھ نہیں کرتے، بس سوشل میڈیا پر "پاکستان فیلڈ” اور "اسلام ریگریسِو” جیسے نعرے مار کر اپنی ڈیوٹی پوری کرتے ہیں۔
    اگر پاکستان کو بچانا ہے تو ہمیں دوبارہ دو قومی نظریے کی اصل روح کو زندہ کرنا ہوگا۔ والدین، اساتذہ اور علمائے حق کو مل کر نوجوان نسل کو سمجھانا ہوگا کہ یہ ملک کھیل تماشے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ لاکھوں شہداء نے اپنی جانیں اس لیے نہیں دیں کہ آج کوئی ٹوئٹر پر بیٹھ کر "پاکستان نامکمل خواب ہے” کا نعرہ لگائے۔
    سچ یہ ہے کہ پاکستان آج بھی دو قوموں پر کھڑا ہے: ایک طرف وہ مخلص مسلمان جو مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اور دوسری طرف وہ "لبرل منافق” جو اسلام اور پاکستان کے خلاف ایجنڈے پر چلتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ 1947 میں ہمارے سامنے ہندو کھڑا تھا، آج ہمارے سامنے نقاب پوش "اپنوں” کی شکل میں کھڑے ہیں۔
    یقین رکھیے! یہ ملک ان شاءاللہ قیامت تک قائم رہے گا کیونکہ یہ اسلام کے نام پر بنا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہم اصل نظریے کو سمجھیں، اسے زندہ رکھیں اور آنے والی نسلوں کو یہ سچ بتائیں کہ پاکستان کسی لبرل فیشن شو کے لیے نہیں بلکہ "لا الہ الا اللہ” کے پرچم کو بلند کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔
    اسلام زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

  • ہم یہاں تک کیسے آئے ؟

    ہم یہاں تک کیسے آئے ؟

    تحریر شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ہم زمین پر بیٹھے نا صرف ریموٹ کے ذریعے اپنے گھر کے پنکھے وغیرہ کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ آسمان کے مناظر بھی دیکھ رہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے نا جاننے کو کوشش کرتے ہیں کہ یہ سب چیزیں کن مشکلات کن مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچی ہیں ۔

    باہر درجہ حرارت 40 ڈگری کراس کر جائے تو ہمیں ساہبان تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم اے سی والی کمرے میں بیٹھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہیں ، گرمی کی شدت ہلکی سی بھی محسوس ہو تو کنویں تک جانا نہیں پڑتا بلکہ فرج میں  ٹھنڈا پانی میسر ہے اور اس میں مزید زاہقے کیلئیے روح افزا ملا لیتے ہیں اسکنجبین بنا لیتے ہیں ، بھوک لگے تو کھیت میں جانے یا پکانے کی الجھن نہیں بلکہ فون پر آرڈر کر کے منگوا لیتے ہیں ، ٹھنڈ لگے تو آگ جلانے کے بجائے گرم کپڑے پہن لیتے ہیں ، بیمار ہوجائیں تو ستاروں کی چال اور حکیمون کے چکر کے بجائے ان لائن ڈاکٹر سے دوا لے لیتے ہیں ۔ ۔

    لیکن یہ سب کبھی ایسا نہیں تھا جب اے سی نہیں تھے تب بھی گرمی ہوتی تھی لیکن محسوس نہیں ہوتی تھی ، جب ریستوران نہیں تھے تب بھی گھروں میں چولھا جلتا تھا ، جب فرج نہیں تھا تو مشکیزے تھے ، جب تن پر پورا لباس نہیں تھا تو آنکھوں میں حیا تھی غرض کہ ہر دور کے اپنے تقاضے تھے ۔ان دنیاوی چیزوں اور معاملات کے علاوہ اگر ہم اپنی مقصد حیات پر توجہ دیں تو یہ دیں ہمیں ایسے نہیں ملا ، تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایسے ایسے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ دماغ ششدر رہ جاتا ہے کہاں وہ گرم پانی اور سوکھے چھوارے کھانے والے اور کہاں ہم۔

    زمانہ بے شک بہت ترقی کر چکا ہے ہم بہت آگے آ گئے ہیں لیکن اس ترقی اور ہمیں یہاں تک لانے والوں کو بھی یاد رکھیں خوش قسمت ہیں آپ جو کلمہ گو کے گھر میں آنکھ کھولی ۔ نماز جو ہم پڑھتے ہیں اسے بچانے کیلئیے امام حسین علیہ السلام ذبح ہوئے ، اپنے 6 ماہ کے ننھے علی اصغرؑ کے گلے میں وہ تیر سہا جس سے ہاتھی کا شکار کیا جاتا تھا ، جس گھر سے پردہ قائم ہوا ان مستورات کے سروں سے چادریں چھین کر ہاتھ سر کے پیچھے باندھ کر کربلا سے شام کے بازاروں کی تنگ گلیوں تک پیدل چلایا گیا اور وہ اپنے چہروں کو بالوں سے چھپاتی تھیں ، ننھی سکینہؑ جس کو اپنے بابا کے سینے پر سونے کے عادت تھی شام کے اندھیرے زندان میں تھپڑ کھاتی ہمیشہ کیلئیے سو گئی ، خانوادہ رسول ﷺ کے کم سن بچوں کو ذبح کر کے ان کی لاشوں پر سے گھوڑے دو ڑاے انہیں پامال کیا  اور یہ سب سن 61 ہجری میں اسی ماہ محرم میں ہوا تو اب ہم اس ماہ میں خانوادہ رسول ﷺ پر پیش آنے والی صعوبتوں کو یاد کر کے خوشی کیسے منائیں ؟ یا تو ان واقعات سے بے خبر ہو جائیں یا پھر محسوس کریں اور خود پر اپنی اصلاح پر توجہ دیں کہ ہمیں اسلامی شعار کے مطابق کیسے زنگی بسر کرنی چائیے جس کی خاطر یہ لا زوال قربانیاں دی گئیں ، جس طرح ہم وراثت میں ملی زمین جائیداد اور دیگر اشیاء کی اہمیت کو نہیں سمجھ یا جان سکتے اسی طرح وراثت میں ملے دیں کو بھی نہیں جان پا رئے۔

    آج یکم محرم  سن 1443ھ ہے اسلامی سال کا پہلا دن اور میری دعا ہے کہ آج کے دن سے لیکر اور جب تک آپ حیات ہیں آپ کی زندگیوں میں کوئی غم کوئی رنج و الم نا آئے سوائے غمِ امام حسین ع۔س کے ۔

    الداعی الى الخير

    شاندار بخاری

    شاندار بخاری

  • اُسوہءِ حَسَنہ اور کربلا

    اُسوہءِ حَسَنہ اور کربلا

    بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ

    لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللہِ اُسوَۃُُ حَسَنَۃُُ

    الاحزاب 21

    بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،

    اگر ہم دنیا میں ایسی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں کہ جس سے ہماری دنیا بھی آباد رہے  , اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ملے تو اس کے لیئے ہمیں اپنے پیارے نبی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ہو گا , آپ کے اُسوہء حسنہ کو اپنا ہو گا

    آئیے دیکھتے ہیں کہ اُسوہءِ حسنہ ہے  کیا ؟  اُسوہءِ حَسنہ ہی  درحقیقت  ندائے حق ہے،

    اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے : عفو و درگزر ہے : پیار و محبت و شفقت و مہربانی ہے : نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی،

    اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے : اخلاص و تقویٰ ہے : عدل و انصاف و احسان ہے : خشیتِ اِلٰہی ہے،

    اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے : امر بِالمعروف ہے : نہی عن المنکر ہے : نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے : اتحادِ مِلّی ہے،

    اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے : کسبِ حلال ہے : حرام سے اجتناب ہے : گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے : منافقت سے نفرت ہے : عبادت و ریاضت ہے : ریاکاری سے اجتناب ہے : اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت  ہے، اپنی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے دروازے پر رُک کر اجازت طلب کرنا اور اپنی بیٹی کی تعظیم میں کھڑے ہو جانا بھی اُسوہِ حسنہ ہی ہے، اپنے نواسوں کے لیے دورانِ خُطبہ منبر چھوڑ کر نیچے اُترنا اور شہزادوں کو گود میں بٹھا کر خُطبہ دینا اور دورانِ نماز امام حسین علیہ السلام کا پشت پر سوار ہونا اور اللہ کے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا سجدے کو طول دینا بھی اُسوہءِ حسنہ ہی ہے اور قُرآن کا یہ بھی ارشاد ہے کہ

    مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ

    جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی

    اسی لیے اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو اُن کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ

    دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی  ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ القلم کی چوتھی آیت میں  کہنا پڑا کہ وَاِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں،

    اور سورۃ الحشر کی ساتویں آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ

    وَمَآ اٰتٰكُمُ الْرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَانَھٰكُمْ عَنهُ فَانْتَھُوْاج وَاتَّقُوااللهَ ط اِنَّ اللهَ شَدِيْدُالْعِقَابِ *

    الحشر 7

    اور جو كچھ تمہیں رسولؐ دے دیں اُسے لے لو اور جس سے منع کر دیں اس سے باز رہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ۔ بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔

    رسولِ خُدا صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے پورے کا پورا دین دیا، قُرآن دیا، اپنے رب کے حکم سے اپنی اہلبیت کے ساتھ محبت کا حُکم دیا

    قُلْ لَّا اَسئَلُکُم عَلَيْهِ اَجْراً اِلَّا المَوَدَّتَ فِی القُربی 

    الشوری 23

    اے میرے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ میں (ان تمام خدمات کے بدلے میں) تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میری اہلبیت سے محبت کرنا ،

    اللہ کے حکم سے جھوٹوں پر لعنت کے لیے جن  سچوں کو ساتھ لے کر گئے تھے وہ تو یقینی سچے تھے نا تو پھر اُن پانچوں سچوں کے ساتھ امت نے کیا کیا وہ سب بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔

    کہا یہ جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حدیث ہے کہ علماء انبیاؑء  کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور پر نہیں لینا چاہیئے , کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ وہ 28 رجب تھی  , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رھے تھے  تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اور پھر 8 ذوالحجہ کو حج کے احرام کھول کر کعبہ کی حُرمت کی خاطر مکہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے شہرِ مکہ حجاج اور علماء سے بھرا پڑا تھا تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی  اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر کاربند رہے ہیں

    Imam_Husayn_Shrine_(karbala) (1)
    تصویر بشکریہ علی ماجد عبود ویکیپیڈیا

    رحمتِ عالم ﷺ کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو نور جلالت سے مرعوب ہو  کر کانپنے لگا اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ  کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ   ﷺ    کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام ,رضی اللہ عنہم آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم ؐنے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسولؐ کیسے ہوئے ؟ جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ  اپنے اُسی مہربان نبی کی اولاد کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنائیں، پانی بند کر دیں ناموسِ نبی کی باپردہ محذراتِ عصمت بیبیوں ، بچوں کو قیدی بنا کر شہر بہ شہر پھرائیں اور علمائے اُمت وارثانِ دین خاموشی اختیار کیے رکھیں، نبی کے مظلوم خانوادے کے غم کو روکنے کے لیے قتل و غارت کے بازار گرم کریں اور آج یہ عالم ہے کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہیں، سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ھے کہ

    فَبِمَا رَحمَۃٍ مّنَ اللہِ لِنتَ لَھُم وَلَو کُنتَ فَظًا غَلِیظَ القَلبِ لاَنفَضُّوامِن حَولِکَ

    آلِ عمران 159

    پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,

    بدلہ نہ لینے والے رسول  عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی، حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے , ذرا دیر کو رُک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے سراپا رحمت بن جائیں، قُرآن کے فرمان کے مطابق اُسوہءِ حسنہ کی جُزوی نہیں مکمل پیروی کریں، اہلبیت جن کی محبت رسالت کا اجر قرار پایا تھا، اُن پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کریں، اور مظلوموں کا غم منائیں، اور جو لوگ اس غم کے منانے میں رکاوٹ بنیں تمام مسلمان ایسے لوگوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔

    monis raza

    سیّد مونس رضا

    معلم، مدبر، مصنف