Tag: علی

  • دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیر کا باہمی ارتباط

    دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیر کا باہمی ارتباط

    دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیر کا باہمی ارتباط

    از: شہرِ خواب … صفدر علی حیدری

    اسلامی تاریخ میں بعض واقعات محض زمانی حادثات نہیں ہیں بلکہ ایک فکری تسلسل اور نظریاتی تشکیل کے مراحل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں دو واقعات خاص طور پر انتہائی اہم ہیں: دعوتِ ذوالعشیرہ اور واقعۂ غدیرِ خم۔ یہ دونوں نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم سنگ میل ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری تاریخ میں بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

    زیرِ نظر سطور ان دونوں واقعات کے درمیان موجود تعلق کو ایک مربوط علمی، تاریخی اور تجزیاتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔

    جب سر زمین عرب میں ظہورِ اسلام ہوا تو وہ ابتدا میں ایک محدود مگر نہایت مؤثر پیغام کی صورت میں سامنے آیا۔ ابتدائی تین سال دعوتِ خفیہ کے بعد حکمِ الٰہی کے تحت علانیہ دعوت کا آغاز ہوا۔ اس دور میں رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت، سماجی دباؤ اور قبائلی مزاحمت کا سامنا تھا۔

    اسی پس منظر میں دعوتِ ذوالعشیرہ پیش آئی، جب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بنی ہاشم کو جمع کیا اور فرمایا:

    "میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس دین کی دعوت دوں۔ تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے، تاکہ وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا جانشین ہو؟”

    زیادہ تر افراد خاموش رہے، مگر حضرت علیؓ — جو مجلس میں سب سے کم عمر تھے — کھڑے ہوئے اور اعلانِ نصرت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

    "یہ علی میرے بھائی، میرے وصی اور میرے بعد تمہارے درمیان میرے جانشین ہیں۔ پس ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔”

    یہ سن کر لوگ ہنستے ہوئے اٹھے اور کہنے لگے: "ابو طالب! تمہیں تمہارے بیٹے کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔”

    یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ تاریخی واقعہ کا ثبوت اور اس سے اخذ کردہ نتائج دو الگ چیزیں ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر نے اس واقعے کی مختلف تشریحات کی ہیں، مگر خود واقعے کے وقوع پر عمومی اتفاق ہے۔

    حضرت علیؓ کا کردار بعد کے تمام مراحل میں اسی ابتدائی وابستگی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے:

    · شعبِ ابی طالب کے کٹھن ایام

    · ہجرت کی رات رسول اللہ ﷺ کے بستر پر آرام کرنا

    · مکی زندگی کے دیگر آزمائشی مراحل

    ان کی وفاداری، جرأت اور قربانی محض ایک وقتی جذبہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عملی رویہ تھا۔

    ہجرت کے بعد مدینہ میں جب اسلام ایک منظم معاشرتی اور ریاستی نظام کی شکل اختیار کر گیا، تو حضرت علیؓ کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ علم، قضاوت، شجاعت، تقویٰ اور قربِ نبوی ﷺ نے انہیں اسلامی معاشرے کی مرکزی شخصیت بنا دیا۔

    حجۃ الوداع کے بعد غدیرِ خم کا واقعہ پیش آیا، جو اسلامی تاریخ کے اہم ترین اجتماعات میں سے ہے۔ یہ آخری موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ نے اتنے بڑے مجمع سے خطاب فرمایا۔

    اعلان ولایت سے پہلے آپ ﷺ نے حاضرین سے دریافت فرمایا:

    "کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق (اولیٰ بالتصرف) نہیں رکھتا؟”

    تمام صحابہ ؓ نے کہا: "کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ ہم پر ہماری جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔”

    اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    "مَن کُنتُ مَولَاہُ فَہٰذَا عَلِیٌّ مَولَاہُ”

    "جس کا میں مولا ہوں، اس کا یہ علی بھی مولا ہے۔”

    اس موقع پر شاعرِ رسول حضرت حسان بن ثابتؓ نے اس واقعے کو یوں نظم کیا:

    ” غدیر کے دن ان کے نبی ﷺ انھیں پکار رہے تھے

    اور وہ خم کے میدان میں یہ ندا سن رہے تھے

    آپ ﷺ نے فرمایا: تمھارا مولا اور ولی کون ہے؟

    صحابہؓ کہنے لگے: آپ ﷺ کے سوا کوئی نہیں

    آپ کا پروردگار ہمارا مولا ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں

    پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یا علی! کھڑے ہو جائیے

    میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بعد امام اور ہادی ہوں

    پس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ ولی ہیں

    لہٰذا ان کے سچے مددگار اور حامی بنو "

    اور آپ ﷺ نے دعا مانگی:

    "اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے، تو اس سے محبت رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ۔”

    اب صورت حال یہ ہے کہ 

    لفظ "مولا” عربی میں متعدد معانی رکھتا ہے:

    · دوست

    · مددگار

    · سرپرست

    · آقا

    · صاحبِ اختیار

    اسی وجہ سے اس جملے کی تعبیر میں علمی اختلاف پایا جاتا ہے:

    بعض اہلِ سنت محبت، قربت اور فضیلت کا اعلان

    بعض دیگر ایک مخصوص اعتراض کے ازالے کا موقع

    اہلِ تشیع دینی اور اجتماعی قیادت (امامت و خلافت) کا اعلان

    صوفیانہ روایت ولایت اور روحانی رہبری کا اعلان

    حجۃ الاسلام امام غزالی ؒنے بھی تسلیم کیا کہ یہاں مولا سے مراد آقا و سرپرست ہیں۔

    حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں:

    "بلاشبہ علیؓ تمام کمالاتِ ولایت کے مرکزی نکتہ اور قطبِ ولایت تھے۔ تمام اولیائے کرام، حتیٰ کہ تمام صحابہ کرامؓ، مقامِ ولایت میں آپ کے تابع ہیں۔”

    پہلو دعوتِ ذوالعشیرہ غدیرِ خم

    دور بعثت کے ابتدائی سال حیاتِ نبوی کے آخری ایام

    دائرہ محدود خاندانی حلقہ وسیع اجتماعی اجتماع

    نوعیت ابتدائی حمایت کا اعلان حتمی قیادت کا اعلان

    پیغام وصایت و جانشینی ولایت و مولیٰ

    · آغاز (ذوالعشیرہ) میں ایک محدود حلقے میں وفاداری کا اظہار ہوا

    · انجام (غدیر) میں اسی وفاداری کو امت کے سامنے عالمگیر اصول کی شکل میں رکھ دیا گیا 

    "اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔”

    (سورۃ المائدہ: 67)

    بعض مفسرین اسے غدیر سے مربوط کرتے ہیں، جبکہ بعض اسے عمومی تبلیغی حکم سمجھتے ہیں۔

    ایک اہم سوال اور اس کا جواب

     اگر غدیر کا اعلان اتنا اہم تھا تو حجۃ الوداع کے عمومی خطبے میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟

    بعض اوقات کسی  موضوع کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر اسے الگ موقع اور الگ خطاب میں بیان کیا جاتا ہے، تاکہ وہ دیگر امور کے درمیان گم نہ ہو جائے اور اس کی اہمیت نمایاں رہے۔

    بعض روایات میں ہے کہ ایک شخص حارث بن نعمان فہری نے غدیر کے اعلان کا انکار کیا، تو راستے میں اسے عذاب آ گیا۔

    دعوتِ ذوالعشیرہ اور غدیرِ خم ایک ہی فکری سلسلے کی دو کڑیاں ہیں

    · پہلا مرحلہ: محدود خاندانی حلقے میں وصایت کا اعلان

    · دوسرا مرحلہ: وسیع اجتماعی مجمع میں ولایت کا اعلان

    اسلام کی دعوت ایک محدود دائرے سے شروع ہوئی، پھر ایک عالمی پیغام میں تبدیل ہوئی، اور اپنے آخری مراحل میں ایسے اعلانات کے ساتھ سامنے آئی جنہوں نے بعد کی اسلامی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

    مختلف مکاتبِ فکر نے ان واقعات کی مختلف تعبیرات کی ہیں، لیکن اس امر پر عمومی اتفاق ہے کہ یہ دونوں واقعات سیرتِ نبوی ﷺ کے اہم ترین مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔

    چودہ صدیوں کے بعد بھی یہ واقعات علمی مباحث، فکری گفتگو اور مذہبی مطالعات کا حصہ ہیں۔ ان کی تعبیرات خواہ مختلف ہوں، مگر ان کی تاریخی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

    یہ دونوں واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام کی تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری سفر ہے جس کے مختلف مراحل آج بھی غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔

    والحمد للہ رب العالمین

    ۔۔۔

    · ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3

    · ترمذی، سنن ترمذی، کتاب المناقب

    · حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین

    · امام غزالی، سر العالمین

    · قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسیر مظہری

  • دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری 

    انسان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان دنیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر دور میں ایک جیسی رہی ہے، مگر ہر انسان اسے نئے سرے سے جیتا ہے۔ کوئی اسے مقصد بنا لیتا ہے، کوئی اس سے بھاگ جاتا ہے، اور کوئی اسے سمجھ کر اس کے اندر رہتے ہوئے اس سے بلند ہو جاتا ہے۔ اصل فرق سمجھنے اور نہ سمجھنے کا ہے۔

    دنیا بظاہر بہت حسین ہے، مگر اس کی حقیقت بڑی مختصر اور تلخ ہے۔ عربی زبان میں دنیا کا لفظ “دنو” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ادنیٰ، قریب یا کمتر۔ گویا دنیا اپنے نام ہی سے یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ اعلیٰ نہیں بلکہ ادنیٰ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اعلیٰ روح، جو اللہ کی طرف منسوب ہے، وہ کسی ادنیٰ چیز پر مر سکتی ہے؟

    قرآن مجید نے دنیا کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے:

    کہ دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دنیا ایک سایہ ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ ایک لمحہ خوشی ہے تو دوسرا لمحہ غم۔ ایک دن دولت ہے تو دوسرے دن محتاجی۔ ایک وقت طاقت ہے تو دوسرے وقت کمزوری۔ یہی اس کی فطرت ہے۔

    اس حقیقت کو سب سے زیادہ جس شخصیت نے سمجھا اور سمجھایا وہ حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔ انہوں نے دنیا کو صرف دیکھا نہیں بلکہ جیا بھی اور پہچانا بھی۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک ٹوٹی ہوئی جوتی  سے زیادہ نہ تھی اگر وہ اللہ کے بغیر ہو۔

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت علیؓ اپنا پرانا جوتا گانٹھ رہے تھے ۔ عبداللہ ابن عباسؓ نے جب دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ فرمایا اپنا جوتا سی رہا ہوں ۔ آپ نے ابن عباس سے پوچھا کہ اس جوتے کی قیمت کیا ہو گی ؟  ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ اس کوئی مفت میں بھی نہیں لے گا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! تمھاری اس دنیا اور اقتدار سے مجھے یہ جوتا زیادہ محبوب ہے، بشرط یہ کہ میں حق قائم کروں یا باطل مٹا دوں۔” یہ جملہ دراصل دنیا کے پورے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، حق مقصد ہے۔ مال مقصد نہیں، بندگی مقصد ہے۔ دنیا نہیں، آخرت اصل ہے۔

    جبھی تو آپ کو زاہدوں کا امام مانا گیا ہے اور زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دنیا سے آزاد ہونا ہے لوگ زہد کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زہد کا مطلب فقر، فاقہ، جنگل اور دنیا سے فرار ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    زہد دنیا سے نکل جانا نہیں، بلکہ دنیا کا اپنے من سے نکالنے کا نام ہے ۔  گویا دنیا کے اندر رہ کر اس کے غلام نہ بننا ہے۔ زاہد وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں ، بلکہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو مگر دل میں کچھ نہ ہو ، کم از کم دنیا نہیں ، دنیا اس کا مطلوب و مقصودِ نہیں 

    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 

    اقبال کا یہ شعر دراصل مولا علی کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ کیوں کہ  
    مولا علی کا طرزِ زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہ خلیفہ تھے، حاکم تھے، مگر ان کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔ ان کے پاس اختیار تھا مگر دل میں عاجزی تھی۔

    ان کا قول ہے:

    “دنیا سانپ کی مانند ہے، چھونے میں نرم مگر اندر سے زہر قاتل۔” یہی زہد کا اصل تصور ہے  دنیا ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو۔ دنیا کی فطرت سایہ، دھوکہ اور حرکت دنیا کو اگر سمجھنا ہو تو اسے سایے سے سمجھو۔ اگر تم اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ آگے بڑھ جائے گی، اور اگر تم رک جاؤ گے تو وہ تمہارے پیچھے آ جائے گی۔

    یہی بات حکیم اسلام علی مولا نے فرمائی کہ دنیا سایہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا پانی کی مانند ہے۔ اگر پانی کشتی کے نیچے ہو تو وہ اسے اٹھائے رکھتا ہے، لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔

    اسی طرح دنیا اگر دل کے نیچے رہے تو نعمت ہے، لیکن اگر دل میں اتر جائے تو بربادی ہے۔

    رزق ، خوف نہیں، یقین کا نام ہے

    انسان کی سب سے بڑی کمزوری رزق کا خوف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ محنت نہ کی، زیادہ چالاکی نہ دکھائی، یا زیادہ دوڑ دھوپ نہ کی تو وہ بھوکا رہ جائے گا۔

    حالاں کہ قرآن واضح اعلان کرتا ہے

    ” زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو "

    یہی وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو تمھیں پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔

    حضرت علیؓ نے فرمایا:

    “رزق دو طرح کا ہے: ایک جو تم تلاش کرتے ہو اور ایک جو تمھیں تلاش کرتا ہے” نیز فرمایا  رزق تمھیں ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت ، سو خود کو رزق کے لیے مت گراؤ 

    یہ نظریہ انسان کو اندر سے آزاد کر دیتا ہے۔ کیوں کہ رزق صرف دوڑنے سے نہیں ملتا، بلکہ مقدر سے ملتا ہے۔ مومن کی شخصیت چار بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے

    1. قناعت

    قناعت کا مطلب ہے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔

    یہ حرص کو ختم کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔

    حضرت علی فرماتے ہیں: “قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔”

    2. توکل

    توکل کا مطلب اسباب چھوڑنا نہیں بلکہ اسباب کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔

    مومن محنت کرتا ہے مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔

    3. صبر

    صبر صرف مصیبت برداشت کرنا نہیں بلکہ گناہ سے بچنے کی طاقت بھی ہے۔

    یہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔

    4. شکر

    شکر نعمت کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔

    شکر دل کو حسد سے بچاتا ہے اور نعمت کو بڑھاتا ہے۔

    اگر پوری گفتگو کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ:

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے، منزل نہیں۔

    یہ فانی ہے، باقی نہیں۔

    یہ سایہ ہے، حقیقت نہیں۔

    یہ ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔

    فرعون، قارون، شداد اور بے شمار طاقت ور لوگ دنیا کے پیچھے بھاگے مگر مٹی ہو گئے۔ دنیا نے کسی کو نہیں چھوڑا۔

    زہد کا مطلب نہ مال کا نہ ہونا ہے، نہ دنیا سے بھاگنا ہے، بلکہ: دنیا کا ہاتھ میں ہونا مگر دل سے نکل جانا ہے۔ یہی اصل آزادی ہے۔ رزق خوف سے نہیں ملتا، بلکہ یقین سے ملتا ہے۔ جو چیز تمہارے لیے لکھی جا چکی ہے وہ تم تک پہنچ کر رہے گی، چاہے تم بھاگو یا ٹھہر جاؤ۔

    مومن کی پہچان یہ ہے:

    وہ کم پر راضی ہوتا ہے (قناعت)

    وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے  (توکل)

    وہ مشکل میں ٹوٹتا نہیں (صبر)

    وہ نعمت میں غرور نہیں کرتا (شکر)

    اگر پورے مضمون کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ صرف چند سطروں میں سمٹ جاتا ہے:

    دنیا ادنیٰ ہے، اس پر مرنا عقل مندی نہیں۔

    زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دل کو آزاد کرنا ہے۔

    رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے خوف کی کوئی جگہ نہیں۔

    مومن کی شان چار چیزیں ہیں: قناعت، توکل، صبر اور شکر۔

    اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ: اعلیٰ روحیں ادنیٰ چیزوں پر نہیں مرتیں۔

    انسان کی اصل نسبت زمین سے نہیں، آسمان سے ہے۔ وہ چند روزہ دنیا کے لیے نہیں بلکہ ابدی آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔

    اللہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے آزاد رہنے کی توفیق دے، رزق میں حلال کی برکت دے، دل میں قناعت، عمل میں صبر، زندگی میں توکل اور ہر حال میں شکر عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین

  • روزِ فتحِ مُبین  یعنی روزِبدر

    روزِ فتحِ مُبین  یعنی روزِبدر

      جب حق عددی قلّٙت کا شکار تھا. باطل کثیر تھا. ہاں مگر! حق پر قائم لوگوں کی اُمّیدیں قلیل مگر مقاصد جلیل تھے. وہ جانتے تھے کہ

    فَنا فِی اللہ کی تہہ میں بقاء  کا  راز مُضمِر ہے
    جسے  مرنا  نہیں  آتا  اُسے  جینا  نہیں آتا. 

     قُرآن اور تاریخ گواہ ہے کہ جب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو سب سے زیادہ مخالفت یہود و نصاریٰ نے کی اور مکہ کے بت پرست کفار کو آپ کی مخالفت پر اُکسایا. جب مسلمانوں کی مختصر جماعت کے لیے مکہ میں زندگی مشکل تر بنا دی گئی تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ فرمایا. 

    مدینہ میں اسلامی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی. اور ابھی دو سال بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ کفار مکہ نے اس نوآموز تحریک کو کچلنے کا ارادہ کیا. نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کی آیات کے ذریعے مسلمانوں کی ایک مختصر سی جماعت کو ایسی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا کہ اُنہیں زندگی اور موت کا حقیقی فلسفہ سمجھ میں آ چکا تھا. 

     اُن پر یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ موت و زیست کا مالک ومختار فقط اللہ رَبُّ العِزّٙت ہی کی ذات  ہے. وہ راہِ خُدا میں موت کو اللہ کی توحید کی گواہی یعنی شہادت تسلیم کر چکے تھے. ایسے مومنین موت سے نہیں ڈرتے بلکہ موت اُن سے ڈرتی ہے.

    17 رمضانُ الکریم 2 ھجری کو بھی کچھ ایسا ہی معرکہءِ عشق وقوع پذیر ہوا. جہاں حق پرستوں کی قلیل جماعت اپنے سے تین گنہ بڑے لشکر سے ٹکرا گئی ۔ 950 صنادیدِ قریش ابو جہل ( عمروبن ہشام ) کی قیادت میں مدینہ منورہ سے 120 کلومیٹر دور مقامِ بدر پر جمع ہُوئے۔ ان کے ساتھ 100 گھوڑے 700 اونٹ اور اپنے دور کا جدید اسلحہ سب کچھ تھا ۔ دوسری طرف 313 مسلمان اپنے نبیِ رحمت ختمیِ مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں مدینہ سے نکلے ان کے پاس فقط 2 گھوڑے اور 70 اونٹ اور ناکافی اسلحہ. مگر پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ نبیِ رحمت نے دربارِ الٰہی میں کچھ یوں دعا فرمائی کہ ربّ دوجہاں نے فوراً شرفِ استجابت عطا فرمایا سُورَةُ الاَنفال میں پوری تفصیل موجود ہے ضرور مطالعہ کیجئے گا۔ اللہ کریم نے فرشتوں کے ذریعے امداد فرمائی 

     اُس دور کے اصولِ حرب کے تحت تین صنادیدِ قریش؛ عُتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید بن شیبہ میدان میں اترے ۔۔۔۔۔ 

    روزِ فتحِ مُبین  یعنی روزِبدر

    سرکارِ رسالتمآب ﷺ نے ان کے مقابلے میں عبیدہ بن الحارث ، حمزہ بن عبدالمطلب ، اور علی بن ابی طالب کو میدان میں اتارا. تینوں کفار واصلِ جہنم ہُوئے ۔ شدید خونریز جنگ ہوئی اور اللہ تعالٰی کی نصرت و تائید سے اس معرکہءِ حق وباطل میں مسلمان فتح یاب ہوئے. اسی معرکے میں ابو جہل واصلِ جہنم ہُوا اور کفار کی طاقت پارہ پارہ ہوئی. 70 مشرک قتل ہُوئے ، 70 قیدی ہُوئے جبکہ 14 مسلمان شہید ہوئے. اس دن کو اللہ تعالی نے یَومُ الفرقان. یعنی حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا دن قرار دیا اور اس فتح کو فتحِ مبین کے نام سے ذکر فرمایا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کےلیئے ایسی نُصرت مِن جانبِ اللہ  کیوں نہیں  آتی۔ تو اس کا جواب علامہ اقبال نے کچھ یُوں دیا ہےکہ

    فضائے  بدر  پیدا  کر فرشتے  تیری  نُصرت  کو
     اُتر سکتے ہیں گردُوں سے قطار اندر قطار اب بھی

     فضائے بدر کیا تھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر غیر متزلزل ایمان اور قُرآن میں نازل شدہ احکاماتِ الٰہی پر مکمل عمل! بعثت نبوی اور ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہود و ہنود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ جاری ہے. وہ مسلمانوں میں گروہ بندی کے ذریعے ایک دوسرے سے نفرت پیدا کرنے میں مصروف ہیں اور افسوس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہیں. آج رمضان المبارک کے بابرکت اور رحمتوں بھرے مہینے میں ایک بار پھر اپنی بھرپور قوت کے ساتھ صرف ایران نہیں پوری مسلم اُمّہ پر حملہ آور ہیں. مسلمانوں کا اللہ ایک، نبی ایک، قرآن ایک، موت و زیست پر یومِ قیامت پر اللہ کی عدالت پر ایک ایمان ہونے کے باوجود ہم ایک ملت نہ بن سکے. اے کاش کہ تمام مسلمان ایک ہو جائیں. واضح اور صریح آیات قُرآنی کی روشنی میں یہود و نصاریٰ کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے متحد ہو کر بدر کی مثال کو ایک بار پھر سے زندہ کر کے شہدائے بدر کی صف میں شامل ہو جائیں. 

    پس ضرورت فضائے بدر پیدا کرنے کی  ہے مگر یہاں قبل از اسلام کے زمانہءِ جاہلیت کی فضا سے بھی بد تر حالات ہو چکےہیں ، انسان فرعونوں کا روپ دھار چکے ہیں. اللہ کے فرمان کی نفی کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کو دوست سمجھتے ہیں. اور آپس میں دست و گریباں ہیں. 

    اے خاصہءِ خاصانِ  رُسُلؐ وقتِ دعاہے 
    اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

  • ولادت با سعادت حضرت امام حسن ؑ ( سرائیکی نظم )

    ولادت با سعادت حضرت امام حسن ؑ ( سرائیکی نظم )

    شاعر : مقبول ذکی مقبول ( بھکر )

    صبح سویرے نفیس شبنم گلاب تے آ حسن ؑ لکھا ہے

    نبی ﷺ دے منبر دا ڈو جھا وارث امیر شاہِ وطن لکھا ہے

    ہے آہدا قرآن اِیکوں لَو لَو تے ھَل تائے زَمن لکھا ہے

    امام ابنِ امام حق دا امن وی اِیکو اَمن لکھا ہے

    حسن ؑ دے حُب دار دا تاں بیڑا جہان دُنیا توں پار تھیسی

    حسن ؑ دا دشمݨ خدا دا دشمݨ خوار تھیسی

                             ***

    کریم خالق ہے خلق کیتا قلم وی اعلیٰ تے خلق اعلیٰ

    اے چن ستارے وی خوش نظر دِن اے کم وی اعلیٰ تے خلق اعلیٰ

    ہے صوم ہر ماہ توں عین افضل حکم وی اعلیٰ تے خلق اعلیٰ

    کرم حسن ؑ دا جہان جگ تے کرم وی اعلیٰ تے خلق اعلیٰ

    ذکی و زاہد تے شان و شاکر حبیبِ اکبر ﷺ نے چم کے چایا

    تمام القاب پاک مولا ہے عرشِ اعظم توں گھِن کے آیا

                          ***

    خدا دے اپݨے ایں نُور وچوں حسن ؑ دا ظاہر آ نُور ہویا

    تھیا منور مدینہ سارا حجت دا جگ تے ظہور ہویا

    آباد بی بی دی جھولی ہوئی تے خوش محمّد ﷺ حضور ہویا

    گلاب طاہر تے پاک اطہر تُوں جِس ازلاں تُوں دور ہویا

    آواز گونجی جہان اندر معصوم چوتھی ایہا لڑی ہے

    جلی سخی توں ہے جئیں وی پنݨاں قبولیت دی ایہا گھڑی ہے

    ولادت با سعادت حضرت امام حسن ؑ ( سرائیکی نظم )

                          ***

    اے آیا ملکِ امن دا حاکم علی ؑ دی پگ دا جناب وارث

    کلامِ ربّی تے دینِ حق دا حضور عزت مآب وارث

    تمام جاگیرِ مصطفٰی ﷺ دا علی ؑ دا بچڑا نواب وارث

    اِیں حُسنِ کِائنات داوی بے شک ہے مجتبیٰ ؑ دا شباب وارث

    علومِ نبوی ﷺ دے در دی چاہت اے قمرِ ہاشم جہان سچا

    قرآنِ ناطق قرآنِ طاہر قرآن دا اے قرآن سچا

                         ***

    فلک توں لیہہ کے ملائیکہ وی رسول ﷺ کُوں آ ڈِتی مبارک

    تے ربِ اکبر وی بھیج چھوڑی نبی ﷺ ، علی ؑ کوں ملی مبارک

    تے رنگ برنگی ہے دُنیا آئی جہان دے منہ سجی مبارک

    تمام مرسل دی صف لگی ہے خوشی مبارک خوشی مبارک

    ہے نُور چمکا علی ؑ دے گھر وچ شعاع وی ارض و سما تے گئی ہے

    جنابِ زہرا ؓ دی جھولی دے وچ تے دید عرشِ اُلا تے گئی ہے

                        ***

    کریسی پرچم بلند حق دا اے پاک بچڑا ہے مرتضیٰ ؑ دا

    مقام رتبہ بلند اِیندا ہے حکم معبُودِ کبریا دا

    ڈوہاں جہاناں تے ایندی شاہی اے ناز اللّٰہ تے مصطفٰی ﷺ دا

    اے مرگیاں کوں کرے چا زندہ جہاں تے احسان مجتبیٰ ؑ دا

    ہے شاہِ خلدِ برین مولا حدیث آقا ﷺ دی بس گواہ ہے

    حسن ؑ دی الفت جے ہو سی مقبول ملسی ساکوں وی خلد جھا ہے

                           ***

  • ماہر انساب ، قائد اعوان

    ماہر انساب ، قائد اعوان

         کریم اعوان صاحب کا شمار پاکستان کے ان چند محققین میں ہوتا ہے جنھوں نے انساب شناسی کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔آپ معروف محقق اور انساب نگار (genealogist) ہیں جنھوں نے خاص طور پر اعوان قبیلے کی تاریخ، شجرہ نسب، اور تمدنی و تہذیبی پہلوؤں پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔ کریم اعوان صاحب نے قبیلہ اعوان کی ابتدا، اس کی ہجرتوں، اور مختلف علاقوں میں اس کی موجودگی پر مفصل تحقیقی مواد فراہم کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخی حوالہ جات، روایات، اور مقامی بیانیوں کو یک جا کیا گیا ہے ۔آپ نے اعوان قبیلے کے مختلف خاندانوں اور ذیلی شاخوں کے شجرہ نسب مرتب کیے ہیں، جنھیں علمی اور تاریخی اسناد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ شجرے نہ صرف زبانی روایات پر مبنی ہیں بل کہ انھیں تحریری ذرائع سے بھی تقویت دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصانیف اپنے موضوع کے اعتبار سے حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ کریم اعوان کی لکھی ہوئی کتابوں یا تحریروں کی بات کریں تو ان میں ہر بات کو مکمل تاریخی حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے۔ کریم اعوان صاحب کی تحقیق کے مطابق اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ یہ قبیلہ حضرت محمد الاکبر حضرت حنفیہ بن علیؑ بن ابو طالبؑ کی اولاد میں سے ہے۔ان کا اندازِ تحریر محققانہ ہے، جس میں علمی حوالہ جات، تاریخی مواد، اور جغرافیائی معلومات کو مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    ماہر انساب ، قائد اعوان

                 اگر ہم کریم اعوان صاحب کے اس سفر کو دیکھیں تو یہ 2007ء میں تحقیق الانساب کی پہلی جلد کے بعد شروع ہوا۔ چھے سال کی محنت کے بعد تحقیق الانساب جلد دوم 2013ء میں منظرِ عام پر آئی ۔ تاریخِ قطب شاہی علوی اعوان 2015ء میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ اسی سال 2015ء میں مختصر تاریخ علوی اعوان مع ڈائریکٹری کریم اعوان صاحب کی چوتھی تصنیف کے طور پر سامنے آئی ۔ اپنے جدِ امجد حضرت بابا سجاول کے احوال کو 2019ء میں حضرت بابا سجاول علوی قادری تاریخ کے آئینے میں کے نام سے شائع کیا۔ 2022ء میں آپ کی چھٹی تصنیف برصغیر پاک وہند کے قطب شاہی اعوان کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ۔خاک سار کو اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 2024ء کے سال میں آپ کی چار کتب کاروانِ محبت (سوانحی حالات محبت حسین اعوان)، مآخذ بنی عون قطب شاہی اعوان ، تحقیق الانساب جلد سوم اور نگارشاتِ علوی منصہ شہود سے آراستہ ہوئیں۔ 2025ء میں شائع ہونے والی کتاب تحقیق الانساب کی جلد چہارم ہے۔ علاوہ ازیں کریم صاحب کی نصف درجن کتب اشاعت کے قریب ہیں۔ کریم اعوان صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی خاطر مانسہرہ سے ملک عظیم ناشاد اعوان صاحب نے ایک کتاب "قائدِ اعوان” کے نام سے مرتب کر کے شائع کی۔ کریم صاحب کی انساب کے تناظر میں کی گئی کاوشوں کو ہر ذی شعور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تحقیق ایک مشکل کام ہے اس میں بھی انساب کی تحقیق مشکل ترین ہو جاتی ہے۔ کریم صاحب نے اپنی زندگی میں اس مشکل کو نہ صرف قبول کیا بل کہ اس کو اپنی شبانہ روز محنت سے آسان بھی کر لیا بہ قول غالب:

    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں 

    کریم اعوان صاحب کی شائع ہونے والی آخری کتاب اپریل میں موصول ہوئی۔ جونھی ان کو کتاب ملی اپنی کمال محبت اور شفقت کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے کال کی کہ کتاب موصول ہو گئی ہے اپنا نسخہ حاصل کر لیں ۔ میں تجسس کا مارا فورآ برادر عزیز سالک محبوب اعوان سے رابطہ کیا۔ 16 اپریل کو اوپن یونی ورسٹی کا پرچہ لینے کے بعد کریم صاحب کے دولت کدے کی جانب روانہ ہوئے ۔ ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا کہ شدید آندھی اور طوفان نے گھیر لیا۔ بڑی مشکل سے ایک جگہ پناہی لی۔ کریم صاحب نے جب دیکھا کہ موسم بھی شدید خراب ہے اور ہم پہنچے بھی نہیں تو مجھ کال کر کے معلوم کیا۔ بتایا کہ یہ حالات ہیں آپ کے گھر کے قریب ہی ہیں۔ کہنے لگے آ جائیں میں منتظر ہوں۔کال کٹ گئی۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ سالک نے بات کی تو کہنے لگے کس جگہ ہیں میں چھتری لے کر ادھر ہی آ جاتا ہوں۔ سالک نے حسبِ عادت مسکراتے ہوئے منع کیا کہ نہیں قائدِ محترم ہم موسم کے سنبھلتے ہی پہنچتے ہیں۔ کچھ دیر بعد موسم سنبھلا تو ہم ان کے درِ دولت پر پہنچے۔ کمال محبت سے ہمیں اندر لے گئے خوب گپ شپ ہوئی اور چائے پلانے کے بعد یہ خوب صورت تحفہ عطا کیا۔ کریم صاحب کی 528 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ادادہ تحقیق الاعوان اور ادارہ تحقیق الانساب نے شائع کی ہے۔ کتاب کا انتساب کریم اعوان صاحب کے والدین نمبردار سردار محمد خان مرحوم اور ریشم جان مرحومہ کے نام کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل کے تعارف کی حامل یہ کتاب تحفہ ہے ان کے لیے جو علم الانساب میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کتاب میں میرے اور میری اہلیہ کے خاندان کے بارے معلومات دینے پر کریم صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر آپ یہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر پر رابطہ کر کے رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔

    محمد کریم اعوان صاحب۔ 0312.9206639

  • منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت :حضرت علی علیہ السلام


    تبصرہ نگار: سید حبدار قائم

    فلک ٹھہرے زمین ٹھہری زماں ٹھہرے سماں ٹھہرے
    علی کے واسطے لگتا ہے جیسے سب جہاں ٹھہرے

    علی کیا ہیں ذرا نہج البلاغہ دیکھ لو پڑھ کر
    علی کی استقامت پر بڑے حرف و بیاں ٹھہرے

    علی کے ہاتھ میں ہے ہاتھ میزانِ شریعت کا
    علی کی ضرب کے آگے بھلا کوئی کہاں ٹھہرے

    سبھی القاب ان کے واسطے اترے ہیں قدرت سے
    انہی کے راستوں پہ روشنی کے کارواں ٹھہرے

    علی کی ذاتِ اقدس منبع ء صبر و قناعت ہے
    علی کی زندگی میں کیسے کیسے امتحان ٹھہرے

    سخاوت میں امامت میں نہیں ان کا کوئی ثانی
    علی کتنے یتیموں کے سروں پر سائباں ٹھہرے

    علی کے نام کی مالا گلے میں جس نے ڈالی ہو
    اُس اہل دل کے رستے میں کہاں سود و زیاں ٹھہرے

    ”علی ہی جانتے ہیں راز و رشتے حرف و معنی کے“
    نبی گر جسم ہیں مولا علی بھی ان کی جاں ٹھہرے

    اسی میں آس کوئی حکمِ رب کی پاسداری ہے
    شبِ ہجرت میں جو مولا نبیؐ کے رازداں ٹھہرے

    منقبت کا سرسری جائزہ

    حضرت سعادت حسن آس کی یہ منقبت نہایت پُراثر اور عقیدت سے لبریز ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کی عظمت، فہم، استقامت، سخاوت، اور روحانی مقام کو نہایت خوبصورت اور بلیغ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ذیل میں اس منقبت پر ایک جامع تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے:

    یہ منقبت حضرت علی علیہ السلام کی شان و عظمت کو منظوم پیرائے میں پیش کرنے کا ایک نہایت مؤثر اور ادبی طور پر خوش‌نما اظہار ہے۔ شاعر نے ایک طرف تو عقیدت اور محبت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ہے، اور دوسری جانب فصاحت و بلاغت کے تقاضوں کو بھی بخوبی نبھایا ہے۔

    اگر ادبی و فکری جہات میں دیکھا جاۓ تو شاعر نے وقت، فضا، زمین و آسمان کو ٹھہر جانے کی کیفیت میں لا کر حضرت علیؑ کے مقام کو کائناتی تناظر میں بیان کیا ہے، جو کہ نہایت بلند تخیل کی عکاسی کرتا ہے:

    ”علی کے واسطے لگتا ہے جیسے سب جہاں ٹھہرے“
    نہج البلاغہ کے ذکر کے ذریعے شاعر نے علیؑ کے علم و حکمت کی عظمت کا حوالہ دیا ہے، جس سے قاری کو حضرت کے فکری ورثے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے:

    ”علی کیا ہیں ذرا نہجل البلاغہ دیکھ لو پڑھ کر“

    میزانِ شریعت اور ضربِ علیؑ کے امتزاج سے شاعر نے حضرت علیؑ کی عدل پسندی اور شجاعت کو اجاگر کیا ہے:

    ”علی کے ہاتھ میں ہے ہاتھ میزانِ شریعت کا“

    ان اشعار میں حضرت علیؑ کی سخاوت، امامت، یتیم نوازی، اور قربِ الٰہی کو جس محبت سے بیان کیا گیا ہے، وہ قاری کے دل میں احترام کی ایک نئی جہت پیدا کرتا ہے:

    ”علی کتنے یتیموں کے سروں پر سائباں ٹھہرے“

    سب سے مؤثر شعر شاید وہ ہے جہاں شاعر نے حضرت علیؑ کو نبی اکرم ﷺ کی "جان” قرار دیا:

    ”نبی گر جسم ہیں مولا علی بھی ان کی جاں ٹھہرے“
    اس شعر میں وحدتِ رسالت و ولایت کا حسین نکتہ بیان کیا گیا ہے جو صوفیانہ فکر کی روح ہے۔

    لسانی و شعری محاسن کو دیکھا جاۓ تو ردیف "ٹھہرے” کا مسلسل استعمال منقبت کو ایک خوبصورت صوتی آہنگ دیتا ہے۔
    قوافی کا نظم، بحور کی روانی، اور مضامین کا تنوع، سب شاعر کی فنکارانہ مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔
    تشبیہ و استعارہ، علامت و کنایہ کا استعمال بھی برمحل ہے، جیسے:

    ”علی کے نام کی مالا گلے میں جس نے ڈالی ہو“
    یہاں "مالا” ایک روحانی تعلق کی علامت ہے۔

    اگر منقبت کے روحانی اثرات کو دیکھا جاۓ تو یہ منقبت نہ صرف ایک نعتیہ جذبے کے ساتھ لکھی گئی ہے بلکہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت کا ایک گہرا اظہار بھی ہے۔ قاری کو یہ اشعار حضرت علیؑ کی معرفت کی طرف مائل کرتے ہیں، اور یہی ایک کامیاب منقبت کا خاصہ ہوتا ہے۔
    سعادت حسن آس کی یہ منقبت زبان و بیان، فکر و فن، اور عقیدت و معرفت تینوں محاذوں پر کامیاب ہے۔ یہ ایک ایسا کلام ہے جسے محفلِ میلاد، مجالسِ ذکرِ علیؑ یا علمی و روحانی نشستوں میں پڑھے جانے کے لائق قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاعر کی محبت اور عقیدت نے اس منقبت کو صرف ایک ادبی تخلیق ہی نہیں، بلکہ ایک روحانی دعوت بھی بنا دیا ہے۔

    درحقیقت، یہ کلام حضرت علیؑ کی عظمت کو نہایت موزوں پیرائے میں بیان کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ جسے پڑھ کر دل مودت سے سرشار ہو جاتا ہے سعادت حسن آس کے لیے میں دعا گو ہوں کہ خدا وند کریم ان کے قلم کے رزق میں اضافہ فرماۓ۔ آمین

    .

  • وہ رند ہوں کہ جو ہے خُوگرِ خمارِ علیؑ

    وہ رند ہوں کہ جو ہے خُوگرِ خمارِ علیؑ

    وہ رند ہوں کہ جو ہے خُوگرِ خمارِ علیؑ
    رہینِ ساغرِ صہبائے خوش گوارِ علیؑ

    ہمارے دل میں سُویدا کو جا نہیں ملتی
    اُجالتا ہے اِسے دستِ نوربارِ علیؑ

    پھرے نہ کوئی سرِ دشتِ عُمر، سرگرداں
    خدا نصیب کرے سب کو رہگذارِ علیؑ!

    یہ مجھ پہ جوششِ گریہ کی مہربانی ہے
    مجھ آب جُو کو ملا بحرِ بے کنارِ علیؑ

    میں جانتا ہوں حریفوں کے ساتھ کیا ہو گا
    نیام سے نکل آئی جو ذوالفقارِ علیؑ

    خدا کے گھر کی صفائی، خدا کے دیں کی بقا
    یہی شعارِ محمدﷺ، یہی شعارِ علیؑ

    وہ پافگار کہیں راستے میں بیٹھ گئے
    جو ہونا چاہتے تھے ہم سرِ غُبارِ علیؑ

    صبائے صُبحِ ولادت سے پوچھ کر دیکھو!
    بہارِ گلشنِ توحید ہے، بہارِ علیؑ

    متاعِ فن کا بکھرنا مُحال ہے یاورؔ
    دُرِ سخن کو سنبھالے ہوئے ہے تارِ علیؑ

  • محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    محمدؐ دے نغمے سُریلے سُنڑا کے

    گِھناں داد ربّ توں میں جھولی اُٹھا کے

    رضاواں دا مالک ، خدا توں اَکھایا

    تُوں بستر تے اَپڑیں علیؑ نوں سُوا کے

    ہُنڑیں کوئی آکھے نبی پے سَدینن

    زمیناں تے بیٹھاں میں پلکاں وِچھا کے

    میں جالی بی چُمساں میں روضہ بی چُمساں

    کوئی گِھن تاں ونجے لُکا کے چھپا کے

    سُنڑاں وے کہ سرکار آپے بلینن

    میں تاں ای تاں بیٹھاں  نگاہاں جُھکا کے

    اے پُھلاں نے گجرے تے ہاراں نے تحفے

    میں خُش تھیساں سوہنڑیں نبیؐ نوں پوا کے

    کدائیں تے ہجراں دی سولی توں لِہسَن

    میں آہاں بھریساں نبیؐ نوں سُنڑا کے

    اکھیساں نبیؐ جی دے پیراں نوں چُم کے

    اے اَتھرُو ہی آندِن میں تحفہ بنڑا کے

     وچھوڑے غریباں دے قائم گھٹاونڑ

    او خاباں چے آسن فرشتے رَلا کے

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال ضلع اٹک

  • مشکلوں نے کہا یا علؑی یا علیؑ

    تیرگی سے خفا یا علؑی یا علیؑ

    روشنی کا دیا یا علؑی یا علیؑ

    بے کسوں کو کبھی ڈر عدو سے نہیں

    جن کا مشکل کشا یا علؑی یا علیؑ

    عہدِ کر کے وفا سے پهرا نہ کبھی

    مرتضیٰ باوفا یا علؑی یا علیؑ

    بسترِ مصطؐفیٰ پہ رہے رات بھر

    رب سے لے کے رضا یا علؑی یا علیؑ

    کربلا سے نجف پھر رہی ہے صبا

     دے رہی ہے صدا یا علؑی یا علیؑ

    مشکلوں پہ پڑی جب بھی مشکل بڑی

    مشکلوں نے کہا یا علؑی یا علیؑ

    جبرِ سلطان کے ڈر میں ہو مبتلا

    اُس کا بھی آسرا یا علؑی یا علیؑ

    جنگِ خیبر ہوئی تو پتہ چل گیا

    تیز تر با خدا یا علؑی یا علیؑ

    کاش حُب دار اُن کے کسی روز بھی

    چوم لے نقشِ پا یا علؑی یا علیؑ

    سید حبدار قائم آف اٹک

    حبدار قائم
    حبدار قائم
  • سفر کوفہ

    مجھے پہلی دفعہ عراق زیارات پر جانے کا شرف 2016 میں حاصل ہوا۔میں ایک قافلہ میں شریک تھا جس میں بیشتر افراد پہلی دفعہ زیارات پر جارہے تھے سب کے چہروں پر ایک خوشی اور تشکر کے آثار نمایاں تھے ۔ ہمارا جہاز سیالکوٹ سے اڑا اور دوبئی اترا اور پھر وہاں سے نجف اشرف عراق پہنچے ۔ یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام تھے اور جب ہم نجف اشرف پہنچے تو دنیا بھر کے کروڑوں زائرین نجف و کربلا دونوں شہروں کے بیچ محو سفر تھے۔ماشی یعنی پیادہ روی ایک سفر عشق ہے جس کی ایک الگ طویل تاریخ ہے اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے تاہم میں چہلم کرنے کربلا معلی پیدل روانہ ہوگیا اور پھر یہ روحانی سفر مکمل کرنے کے بعد واپس نجف اشرف روضہ علی مرتضیؑ پر واپس آگیا ایک عجیب ہیبت اور روحانیت باب العلم کے در پر محسوس کی دنیا کی ہر قوم کا باشندہ قبر علی ؑپر پرسہ دیتے دیکھا ۔

    رضا سیّد

    ایک دن صبح مجھے سالار قافلہ نے کہا کہ آج کوفہ کی جانب جانا ہے جیسے ہی اس نے کوفہ کانام لیا تو مرے ذہن میں کوفہ کے وہ درودیوار گھوم گئے جو میں نے مختلف کتب میں پڑھے اور کچھ تصاویر دیکھ رکھی تھیں ہم نجف اشرف سے نکلے تو کوفہ جڑواں شہر ہی ہے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر تاہم کوفہ جو کبھی عروس البلاد تھااب قصبہ نما رہ گیا ہے ہم سب سے پہلے جناب میثم تمار ؓ  کے روضہ اقدس پر پہنچے تو میثم تمار جیسی عظیم ہستی کے سامنے خود کو بہت ہیچ پایا یہ وہ شخصیت ہے جس نے عشق علیؑ  میں جان دی ایک درخت کے ساتھ بنو امیہ نے انکو پھانسی دی اور وہ تمام عمر اسی کھجور کے درخت کی آب بیاری کرتے رہے۔کیونکہ مولائے کائنات ؑنے انکو بشارت دے دی تھی کہ اے میثم ؓ   تو مری محبت میں کھجور کے اس درخت پر لٹکا دیا جائے گا۔

    سیدھا کچھ آگے چلے تو بیت امیر المومنین علیہ السلام موجود ہے یہ وہ گھر ہے جہاں امیر المومنینؑ  اپنے دور خلافت میں رہائش پزیر تھے اس گھر میں علی ؑکی عصمت کی سرچشمہ بیٹیوں کے حجرے ہیں وہ جگہ ہے جہاں علی مرتضیؑ کی میت رکھی گئی غسل و کفن دیا گیا ۔اسی گھر کے صحن میں سرکار امیر ؑکے ہاتھ سے کھودا ہوا میٹھے پانی کا کنواں ہے جو ایک روایت کے مطابق ہر مریض کے لیے باعث شفا ہے اس کنواں سے پانی پیا تو یہ ذہن میں یہ سوچ گھوم گئی کہ کربلا میں مولا ؑتری اولاد پیاسی ماری گئی جس پر آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۔

    بیت امیر ؑسے بوجھل قدموں سے نکلے اور سامنے ایک طرف کھلا خالی میدان ہے جس پر گری ہوئی عمارت کا کچھ ملبہ اور اس کے آثار ہیں ۔یہ وہ کوفہ کا دار الامارہ یعنی مرکز حکومت تھا جس کے مرکزی دروازے سے سفیر حسین علیہ السلام جناب مسلم بن عقیل ؑکو نیچے گرا کرابن مرجانہ ملعون نے شہید کیا یہ دار الامارہ صدر صدام سیاسی نے پرخاش پر گرا دیا تھا ۔

    اسی کے ساتھ ملحقہ عالم اسلام کی چوتھی بڑی متبرک ترین مسجدکوفہ کی پرشکوہ عمارت ہے جو چودہ صدیوں کے بعد بھی روحانیت کا مرکز ہے ۔

    اس روحانی مسجد کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس میں وہ مقام موجود ہے جہاں سے تیسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ معراج کے لیے آسمان کی جانب بلند ہوئے ۔۔اس میں وہ جگہ ہے جہاں سے طوفان نوح ؑپھوٹا وہ چشمہ نما جگہ ابھی بھی موجود ہے جو کہ بلکل وسط مسجد میں واقع ہے اس میں جناب ابرہیم علیہ اسلام سمیت کئی انبیاء نے نماز ادا کی ان کے مصلے موجود ہیں ۔مسجد کا صحن کراس کریں تو آخر میں ایک الگ صحن میں حضرت مسلم بن عقیل ؑکی قبر اطہر ہے اور ان کے ساتھ امیر مختار ثقفی ؓ  کی قبرہے جبکہ بلکہ سامنے ہانی بن عروہ ؓ   کی قبر ہے جو کہ سفیر امام ؑکے میزبان تھے اور انکی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

    مسجد کوفہ کے عین محراب میں مقام شہادت امیر المومنین امام المتقین فاتح خیبر نفس رسول ؐباب العلم مولود کعبہ شہید مسجد موجود ہے ۔

    میں اس مصلے کے قریب کھڑا کافی دیر سوچتا رہا ہے کہ یہ امت علی ؑو اولاد علیؑ کی اس قدر دشمن کیونکر ہوگئی ؟تو جواب فقط یہ ملا کہ عدل علی ؑ!

    مسجد کوفہ سے بھاری قدموں سے نکلے تو کوفہ والوں کی بے مروتی اور بے وفائی کی داستانیں دماغ میں گھوم گئیں ۔

    کوفہ ایک شہر نہیں اسلامی تاریخ کا بہت پر اسرار باب ہے جس کا آغاز قتل علی ؑسے ہوتا ہوا کربلا تک جاپہنچا ۔

    راقم

    سیدرضابخاری