Tag: سندھ

  • سندھ یونیورسٹی کا رنگیلا وائس چانسلر

    سندھ یونیورسٹی کا رنگیلا وائس چانسلر

    سندھ یونیورسٹی کا رنگیلا وائس چانسلر

    Dubai Naama

    ان کی جرات رندانہ پر میں انہیں داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا ہوں۔ اسے قومی یکجہتی کا شاندار نمونہ قرار دیا جانا چایئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سندھ اسمبلی میں اقلیتی برادری کے ارکان نے جو مطالبہ کیا اور اس سے پہلے قومی اسمبلی میں بھی یہی مطالبہ ہوا تھا جہاں ایک ہندو رکن قومی اسمبلی نے شراب پر ایسی ہی پابندی کی بات کی تھی لیکن مسلمان اراکین اسمبلی کی اکثریت نے اس پابندی کی مخالفت کر دی تھی۔ یہ معاملہ یکے از دیگرے سپریم کورٹ میں بھی گیا تھا اور وہاں بھی معزز ججز صاحبان نے اسے قرار واقعی دعوی مسلمانی کے خلاف سمجھتے ہوئے شراب پر پابندی کی مخالفت کر دی تھی لیکن اب جو کام سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کیا ہے اس کا اتنا تو چرچا ہوا ہے کہ اس میں ہم فاقہ کش بھی خراج تحسین پیش کرنے کا کچھ حصہ ڈال لیتے ہیں تاکہ وائس چانسلر صاحب کی جرات رندانہ کو کچھ مزید رنگ چڑھ جائے۔

    واقعہ یوں ہوا کہ جونہی غیر مسلم اقلیتی ارکان شراب پر پابندی کے لیئے کھڑے ہوئے مسلمان اراکین اسمبلی شراب پر پابندی نہ لگانے کے لیئے متحرک ہو گئے۔ شائد مسلمان اراکین کے خیال میں شراب پر پابندی اس اقلیتی طبقہ پر زیادتی ہے جن کے پاس شراب خریدنے اور شراب پینے کے "پرمٹس” ہیں حالانکہ مسلم معزز ممبران کو پتہ ہونا چایئے کہ ان پرمٹوں پر زیادہ شراب تو مسلمان ہی خریدتے ہیں بلکہ کچھ سچے مسلمانوں نے تو یہ پرمٹس اپنے نام پر بھی بنوا رکھے ہوں گے۔ ان پرمٹوں پر وہ شراب خرید کر پیتے ہوں گے یا پھر خرید کر اسے آگے بیچتے ہوں گے۔ لیکن شراب پر پابندی نہ لگائے کا صحیح چرچا اور حق صرف یونیورسٹی آف سندھ کے پرو وائس چانسلر نے ادا کیا جب وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اگلے روز یونیورسٹی میں تشریف لے آئے۔ پہلے تو موصوف لڑکھڑاتی انگریزی میں اپنے سٹاف کو دھمکاتے رہے، اور جب انہیں معلوم ہوا کہ سٹاف اب قابو آ گیا ہے تو پھر انہوں نے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ڈانس کرنا شروع کر دیا لیکن اچھا ہوا کہ جونہی اس وائس چانسلر کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔

    یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر (وی سی) بھی اسی کو لگایا جاتا ہے جو داد و عیش کا عادی ہو۔ شائد شرابی ہونا وی سی لگنے کی بنیادی شرط بھی نہ بن جائے کہ اگر  ہمارے بچوں کا مستقبل ان شرابیوں کے ہاتھوں  میں ہو گا تبھی جا کر اس نوع کے ممبران تیار ہوں گے جو ایسے قوانین کی مخالفت میں پہل کریں گے، جو اسلام کے منافی ہوں اور ان میں اتنی دیدہ دلیری ہو کہ غیر مسلم تو ان کی مخالفت کریں مگر مسلمان ممبران کو ان کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہ ہو۔

    شائد سندھ میں حکومت بھی انہی ممبران کی ہے جو ایم پی اے ہوں یا ایم این اے ہوں وہ شراب پینے کے رسیا نہیں بھی ہیں تو وہ اس پر پابندی نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ کیا سندھ اسمبلی میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے یا وہ سارے اسی یونیورسٹی سے پڑھ کر آئے ہیں جس کا وائس چانسلر شراب پیتا ہے اور پھر نشے ہی کی حالت میں یونیورسٹی بھی پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہے آکسفورڈ کی تعلیم جو ہمارے ملک پر قابض ہے۔ جب ملک چلانے والے ہی شراب پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں تو ایک یونیورسٹی کا چانسلر پی کر یونیورسٹی آ گیا تو کیا ہوا۔ وطن عزیز ایسا تالاب بنتا جا رہا ہے جس میں سارے ننگے ہیں۔ دیکھنا اس وائس چانسلر کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہو گی اور نہ ہی اسے کوئی بڑی سزا ہی دی جائے گی کہ بس وہ تھوڑی سی پی کر ہی تو یونیورسٹی آیا تھا، اس نے کوئی ڈاکہ ڈالا تھا اور نہ ہی اس نے کوئی چوری کی تھی۔

    سندھ یونیورسٹی کا رنگیلا وائس چانسلر

    آج پاکستان کی جو حالت ہے اب سمجھ آتی ہے کہ اس کی جڑیں ہمارا نظام تعلیم ہی کھوکھلی کر رہا ہے۔ ایک دن سندھ  اسمبلی میں اقلیتی ارکان   نے شراب پر پابندی کی پٹیشن جمع کروائی اور جونہی اسے مسلمان اسمبلی ممبران اور سید آل رسول کہلوانے والے وزیراعلی نے ریجیکٹ کر دیا تاکہ ایسے لوگوں کو سہولت ملے، اس کے اگلے روز ہی موصوف وائس چانسلر یونیورسٹی میں شراب پر کر آ گیا۔ یہ ہوتا ہے علم اور اسے کہتے ہیں تعلیم، جو ہماری یونیورسٹی میں طلباء کو دی جاتی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ خود یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر کرتا ہے۔ اسی لیئے صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے اپنی اولاد میں سے کسی کو اس یونیورسٹی میں تعلیم نہیں دلوائی۔ جس ملک میں شراب کی بوتل شہد بن جائے اس ملک کی کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر یونیورسٹی میں آ جائے تو یہ کوئی بڑے اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ، "بن کے ایک حادثہ بازار میں آ جائے گا،جو نہیں ہو گا وہ اخبار  میں آ جائے گا۔ چور اچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں کون کب کون سی سرکار  میں آ جائے گا۔” یہی وجہ ہے کہ سندھ کی حکومت شراب پر پابندی والے بل مسترد کر دیتی ہے۔

    اس پر ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں، شراب ایک معاشرتی برائی ہے، تمام مذاہب میں اسکی ممانعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خریدو فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے، شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، عوام کیلئے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں، یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خریدو فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ شائد وائس چانسلر صاحب انہی سٹورز سے شراب خریدتے ہوں۔ آپ کے معیار تعلیم اور کردار کی عظمت کو سلام محترم وائس چانسلر صاحب! آپ کو رنگیلا وائس چانسلر نہ کہوں تو کیا کہوں، آپ اسم بامسمی ہیں جناب!!

    صد افسوس کی بات ہے کہ جو پابندی ہمیں لگانی چایئے تھی اُس کا مطالبہ ہمارے اقلیتی اقلیتی بھائیوں نے کیا اور اس پر اپنا منہ کالا اس وائس چانسلر نے کیا۔ اس نے کس ڈھٹائی سے یہ کارنامہ انجام دیا کہ استادوں کا استاد ہونے کے باوجود وہ یونیورسٹی میں نشے کی حالت میں نمودار ہوا اور پھر ناچ ناچ کر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی۔ حکومت سندھ نے سوشل میڈیا پر مبینہ متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس میں تعینات جس پرو وائس چانسلر کو معطل کیا ان کا نام نامی "اظہر شاہ” ہے، جبکہ ان کا موقف ہے کہ یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ ان کو نشے کی حالت میں بنفس نفیس دیکھنے والے طلباء حیران ہیں، خاموش ہیں اور لب بستہ ہیں!

  • حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    Dubai Naama

    اقوام متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن نے 2025ء میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے چند ملین ڈالرز امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ (مقتدرہ) حکومت، اور عوام اسی پر مطمئن ہیں کہ سیلاب سے متاثرین کا کچھ افاقہ ہو گا۔ پاکستان کے صوبوں پنجاب، کے پی کے اور سندھ وغیرہ میں
    سیلاب آنے کی تباہ کاریوں اور جانی و مالی نقصان کا یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے۔ جب سے مجھے یاد پڑتا ہے سنہ 70 سے آنے والے سیلابوں کے بارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر رواں خبریں سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں بیراج سے اتنے کیوسک پانی گزر رہا ہے اور اتنا جانی و مالی نقصان وغیرہ ہو چکا ہے۔ جب سیلابوں کے یہ سلسلے تھمتے ہیں تو پھر عالمی ادارے، دوست ممالک اور ہمارے فنکار، کھلاڑی اور اداکار وغیرہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیئے جدوجہد کا آغاز کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں نہری نظام اور ڈیمز یا تو انگریزوں نے بنائے تھے یا اس مد میں کچھ کام صدر ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، جس سے سیلاب کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک 78 سال گزر جانے کے بعد بھی ہمیں اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ سیلاب آنے کی وجوہات کیا ہیں، انہیں ڈیمز بنا کر روکا جا سکتا، اس کا حل نہری نظام میں مزید اضافہ اور بہتری لانا ہے یا اس مسئلہ کا کوئی دوسرا حل بھی ہے۔

    اس حوالے سے امسال آنے والے شدید سیلاب کے بارے سوال اٹھایا جائے تو آج بھی لوگ "کالا باغ ڈیم” کے بننے اور نہ بننے پر بحث شروع کر دیتے ہیں یعنی کالا باغ ڈیم آج بھی "متنازعہ” نظر آتا ہے۔ ماضی میں مخالفین نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا تھا اور اب الزام بھارت پر لگایا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑ کر آبی "دہشت گردی” کی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف جو سب سے زیادہ طاقتور فوجی حکمران تھے، اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کالا باغ ڈیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔ ہماری سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی ڈیم بنانے کے نام پر مہم شروع کی تھی اور وہ بھی کھا پی کر چلتے بنے تھے۔ کالا باغ ڈیم کے دشمنوں کا خیال یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم دراصل ترقی کا نہیں بلکہ پختونخواہ اور سندھ کی بربادی کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ ڈیم بنا تو پشاور، چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور صوابی کی ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین پانی میں ڈوب جائے گی۔ صوابی کی گدون امازئی، ہنڈ، تورڈھیری اور کڈی کے بہت سے میدانی علاقے اور جہانگیری کی وہ زمینیں جو دریائے سندھ کے کنارے آج بھی بنجر پڑی ہیں، پانی کے قریب ہونے کے باوجود نہری نظام کی کمی سے پیاسی ہیں، وہ مزید تباہی کا شکار ہو جائیں گی۔ جبکہ سندھ کی زمین بنجر، کلر زدہ اور ڈیلٹا سمندر کے حوالے ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بننے پر متاثرین کو معاوضہ اور متبادل زمینیں ملنی ہیں جیسا کہ "منگلا ڈیم” کے متاثرین کو فیصل آباد، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ میں زمینیں الاٹ کی گئیں تھیں جس کے متاثرین کئی کئی مربعہ جات کے مالکان ہیں جو آج تک ان زمینوں کی وجہ سے امیر بنے ہیں جن میں سے کچھ نے زمینیں مہنگے داموں بیچی ہیں اور کچھ آج بھی یہ زمینیں ٹھیکہ پر یا مزارعین کو دیتے ہیں۔

    بھارت نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑنے سے دو دن پہلے آگاہ کیا تھا جو کہ ایک سٹینڈرڈ طریقہ ہے۔ پنجاب کے جن علاقوں میں اس وقت سیلاب آیا ہے وہ بالکل ہموار میدانی علاقے ہیں۔ ایسے میں ڈیمز بنانے یا ان کی مخالفت کرنے کا چورن بیچنے کی بجائے "واٹر مینجمنٹ” کا مطالعہ کرنا چایئے۔ ڈیم کبھی بھی ایسے ہموار علاقوں میں نہیں بن سکتے ہیں۔ پنجاب جیسے زرخیز علاقوں میں سیلاب کی روک تھام کے لیئے "جنگلات” اور "نہری نظام” میں اضافہ کیا جانا چایئے۔ پانی تو قدرت کی سب سے بڑی نعمت اور زندگی کا باعث ہے۔ اسے ہم اپنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آج تک اپنے لیئے "زحمت” اور "عذاب” بنائے ہوئے ہیں۔

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    گوروں نے پنجاب میں دنیا کا سب سے پیچیدہ اور بڑا "نہری نظام” بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد آپ خود جانتے ہیں کہ ہم نے سیلاب کے پانی کو راستہ دینے، ڈیمز بنانے اور اس سے سستی بجلی پیدا کرنے میں کتنا کام کیا ہے؟ حالانکہ پانی ہی زراعت اور کھیت باڑی کے کام آتا ہے جو کہ پنجاب سمیت پورے پاکستان کی بقا کا "ضامن” ہے۔

    اس وقت پنجاب کو ایک اور جدید نہری نظام کی اشد ضرورت ہے اور اس نہری نظام کے ساتھ نیدرلینڈز کی طرز پر پانی کے ذخائر یا پھر بیراج، پانی کے نئے چینلز اور ڈائکس یا بندوں وغیرہ کی ضرورت ہے۔
    قیام پاکستان سے جتنے سیلاب اس وقت تک آ رہے ہیں اور مزید آنے ہیں ان سے بچاؤ فقط پاکستان کو نیڈرلینڈز (ہالینڈ) بنا دینے سے ممکن ہو گا۔ کیونکہ نیڈرلینڈز میں ہم سے زیادہ سیلاب آتے تھے لیکن انہوں نے اپنا آبی نظام ازسر نو ترتیب دیا اور صدیوں سے مشکلات پیدا کرنے والے سیلابوں کو مکمل نا سہی لیکن تقریبا روک لیا ہے۔
    راوی اور ستلج میں پانی نا آنے کی وجہ سے ہم لاپرواہ ہو چکے تھے۔ لیکن پچھلے دو تین سالوں سے سمجھ آ رہا ہے کہ راوی اور ستلج دونوں سے نئی نہریں نکالنے اور نئے بند بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح چناب کے اوپر بھی نئے بیراج تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ نئی نہروں کے ذریعے سیلابی پانی کو تقسیم کر سکیں۔ اس وقت سیلاب کا جتنا پانی آ رہا ہے اس کو وسیع اور پیچیدہ نظام بھی فقط تب روک پائے گا جب بھارت ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔ جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہم بھارت سے آنے والے پانی پر ڈیمز بھی نہیں بنا سکتے ہیں تو اس کا بہترین واحد حل یہی ہے کہ نئے ڈیمز کی تعمیر کے علاوہ پنجاب میں نہری نظام کو وسعت دی جائے، جس سے زراعت میں بھی انقلاب آئے گا اور سیلاب کے مصائب سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

    سیلاب سے بچاو کا دوسرا موثر حل یہ ہے کہ ہم بھارت پر الزام تراشی کی بجائے خود اس کا خود حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ جس جگہ سیلابی ریلے آتے ہیں اور جہاں دریا ہوں وہاں قریب قریب بھی آبادیاں نہ بننے دی جائیں۔ ورنہ اس سے بھی زیادہ تباہی دیکھنے کو ملے گی ایسی تباہی کہ جس کے زمہ دار صرف ہم نہیں ہوں گے بلکہ صحافی حضرات بھی ہوں گے جو جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی سوسائٹی سکیموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔ عوام کو جنگلات اور نہری نظام کے اضافے کی آگاہی ہر قیمت پر دی جانی چاہئے ورنہ بادل اسی طرح پھٹتے رہیں گے اور جانی و مالی نقصان اسی طرح جاری رہے گا۔ ہم نے "کلاوڈ پرسٹ” کا نام کب سنا تھا؟ یہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے آنے کے بعد کی اصطلاح ہے۔ آئیندہ اس سے بچاو کے لیئے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی چایئے۔

    یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ڈیمز کا کام سیلابی ریلوں کو روکنا نہیں ہوتا بلکہ ان کا کام ایک مخصوص حد تک پانی اسٹور کرنے کا ہوتا ہے، اس کے بعد سیلاب ہو یا نہ ہو ان کے اسپل ویز کھولنے ہوتے ہیں اور عموماً تمام ڈیمز نارمل حالات میں بھی تقریبا پانی سے بھرے رہتے ہیں۔ ایسے میں سیلابی ریلے آتے ہیں تو انہیں ڈیمز کے ذریعے روکنا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب کی مقدار اور برداشت سے زیادہ پانی ڈیمز تک پہنچنے سے پہلے ہی مٹی کے بنوں کو بموں سے توڑنا پڑتا ہے۔ ہر ڈیم یا بند کی ایک کیپیسٹی ہوتی ہے اور سیلاب اور بارشوں کی کوئی کیسپیٹی نہیں ہوتی وگرنہ آج پاکستان میں مختلف بیراجوں و پلوں وغیرہ کو بچانے اور پانی کی مقدار کو منتشر کرنے کے لیئے بارودی مواد سے نہ اڑایا جا رہا ہوتا۔ لھذا
    سیلاب سے بچاو کا واحد اور دیرپا حل صرف ایک ہی ہے جو دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات بتاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ آبی گزرگاہوں کے قریب آبادیاں بنانے کی بجائے گھنے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اس سے وہاں دلدلی زمینیں بن جائیں جو سیلابی ریلوں کی رفتار کو کم کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جدید نہری نظام کو متعارف کروایا جائے تاکہ سیلابی پانی کو کھپایا جائے اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا جائے!

    Title Image by kp yamu Jayanath from Pixabay

  • جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی

                                                                                        از: جنید احمدنور

                                                                                                    بہرائچ ، اتر پردیش

                                                                                                    موبائل : 919648176721+

    بہرائچ ہی وہ سرزمین ہے جس کوحضرت سیدسالار مسعود غازی رحمہ اللہ(خواہر زادے سلطان محمود غزنوی)نے اپنے قیمتی خون کے قطروں سے سیراب کیا اور اپنے ہزاروں ساتھوں کے ساتھ اس سرزمین کو شہیدوں کا مسکن بنا دیا اور تاریخ میں بہرائچ کا نام درج کرادیا۔ اکابرصوفیا و علما ء نے یہاں کی سرزمن کو اپنی خاک سے منور کیا۔اس طرح یہاں پر خاص طور پر اردو ادب نے بہت ترقی پائی۔بہرائچ زمانہ قدیم سے ہی علم کا گہوارہ رہا ہے۔ سرزمین بہرائچ ادب اور شعر و شاعری کے سلسلے میں اس قدر مردم خیز ہے کہ یہاں ہر دور میں متعدد اساتذۂ اکرام اپنے اطراف میں تلامذہ کی ایک بھیڑ کے ساتھ نظر آتے تھے۔یہ سرزمین وہ زمین ہے جہاںشہنشاہ غزل میر تقی میرؔنے اپنی مثنوی’’ شکار نامہ‘ تصنیف کی تھی۔ میر ؔنے بہرائچ کا ذکرکرتے ہوئے اپنی تصنیف میں لکھاہے ؎
    چلے ہم جو بہرائچ سے پیش تر
    ہوئے صید دریا کے واں پیش تر
    (کلیات میرؔ ،۱۹۴۱ء، ص۸۷۲)


    انشاءاللہ خاں انشا ؔبھی بہرائچ آئے تھے اور بہرائچ کی مقدس سرزمین پر اپنی قلم کا جادو بکھرا ہے۔ آپ کا یہ شعربہت مشہور ہے جس میں آپ نے بہرائچ کی سرزمین کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ ؎
    دل کی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام
    ہے یہاں پر حضرت مسعود غازی کا مقام
    (کلیات انشا اللہ خاں انشاؔ انشا۔۱۸۷۶ء،ص۸۶)


    ایک دوسرے شعرمیں ا نشا ءاللہ خاں انشا ؔلکھتے ہیں ؎
    یوں چلے مژگان سے اشکِ خوں فشاں کی میدنی
    جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
    (کلیات انشا اللہ خاں انشاؔ۱۸۷۶ء،ص۱۵۷)


    ضلع بہرائچ خطہ اودھ کا ایک ایسا مردم خیز ضلع ہے جس کی ذرخیزی کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ تین صدیوں پر محیط ضلع بہرائچ کی تاریخ اردو ادب اپنے میں سمیٹے ہوئےجو حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز و اولین سوانح نگار حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی رحمہ اللہ سے شروع ہوتی ہے۔میری تحقیق کے مطابق شاہ نعیم اللہ صاحب بہرائچیؒ کوبہرائچ کا پہلا اردو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کا کلام آج بھی آپ کے خانوادے کے پاس محفوظ ہے۔اس بہرائچ کو مرزا غالبؔ کے شاگرد بے صبرؔ کاٹھوی کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ مولوی ضامن علی خاں انیقؔ بہرائچی بہرائچ کے اس عظیم المرتب شاعر کا نام ہے جو میر انیسؔ کے صاحبزادے اور شاگرد رشید میر نفیسؔ کے شاگرد تھے ۔ جن کے ذریعہ بہرائچ میں میر انیسؔ کا فیض بہرائچ میں پہونچا ۔ حضرت انیقؔ مشہور استاد شاعر حضرت عبدالرحمٰن خاں وصفی ؔکے حقیقی پردادا تھے۔انیق ؔصاحب موجودہ وقت کے مشہور و معروف شاعر فرحتؔ احساس کے جد اعلیٰ ہیں۔مسعود حسن رضوی ادیب کی جائے ولادت،منشی پریم چند نے بھی یہاں اپنے دن گزارے ہیںا س کے علاوہ مشہور ترقی پسند شاعر کیفیؔ اعظمی نے اپنے بچپن کے کئی سال یہاں گزارے اور اپنی پہلی غزل یہیں کہیں تھی جس کا تذکرہ کیفیؔ نے اپنے مجموعہ ’’سرمایہ‘‘میں اس واقعے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔کیفی ؔ اعظمی ہمارے پرنانا اور اپنے وقت کے معروف تاجر اور شاعر حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی اور رافتؔ بہرائچی کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور جب بھی بہرائچ آتے تھے شفیعؔ صاحب کی دکان جو ادبی مرکز تھا وہاں تشریف رکھتے تھے۔دبستان بہرائچ کے ساتھ ساتھ ضلع کے مشہور دبستانوں جرول اور نان پارہ نے بھی اردو ادب کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہے جہاں شیخ مشیرؔ جرولی ، جرول کے تعلقہ داران سید ظفر مہدی اثیم ؔجرولی،ان کے صاحب زادوں سید حیدر مہدی شمیمؔ جرولی ،مولوی حکیم سید باقر مہدی بلیغؔ جرولی،اثیمؔ کے پسر زادے،شمیم ؔکے صاحب زادےسید فضل مہدی نسیمؔ جرولی نے براہ راست مرزا سلامت علی دبیرؔ اور ان کے صاحب زادے مرزا اوجؔ لکھنوی سے شرف شاگردی حاصل کی ۔اسی طرح نان پارہ میں شمسؔ لکھنوی، اصغریؔ رشیدی(شاگر د پیارے میاں رشیدؔ لکھنوی)،واصفؔ القادری نان پاروی نے شمع ادب کو جلایا۔

    جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی
    پروفیسرڈاکٹر محمد اسلام (بہرائچی)مہاجر کراچی


    ہر دور میں اپنے اپنے فن کے جواہر پاروں نے بہرائچ کا نام روشن کیا ہے انہیں جواہر پاروں میں سے ایک اہم نام ڈاکٹر محمد اسلام کا ہے جنہوں نے شہنشاہ تغزل حضرت جگرؔ مرادآبادی کی حیات و خدمات پر لکھنؤ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور جگرؔ مرادآبادی اور اردو ادب کی خدمات پر اپنی تصانیف کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا اور آپ کی تصانیف مقبول خاص و عام ہوئی اور برصغیر ہند و پاک سے ایک ساتھ شائع ہوتی رہیں۔
    ڈاکٹر محمد اسلام کی ولادت ۲۷؍اکتوبر ۱۹۳۰ء کو ضلع بہرائچ کی تاریخی سابق ریاست نان پارہ کے قریب واقع گاؤں امبوا مولوی گاؤں کے ایک معزز گھرانے میں حاجی محمد رحمت اللہ مرحوم کے یہاں ہوئی تھی۔آپ کا خاندان اپنے علاقہ کا ایک معزز علمی گھرانہ تھا ۔علاقہ کے لوگوں سے معلوم ہ واس دور میں بھی آپ کے اطراف کے گاؤوں میں واحد پختہ مکان آپ کے خانوادے کا تھا جو آج بھی الحمد للہ موجود ہے۔گاؤں میں آپ کے بہت سےعزیز آج بھی قیام کرتے ہیں ۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم بہرائچ میں مقامی طور پر حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لکھنؤ یونی ورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایم۔ اے، ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور لکھنؤ مین رہائش اختیار کی۔ آپ نے۱۹۶۰ء میں لکھنؤ یونی ورسٹی سے ’’جگر مرادآبادی:حیات اور شاعری‘‘ پرمقالہ لکھ کر پی۔ایچ۔ڈی کی اور اس کے کچھ سالوں بعد پاکستان ہجرت کر گئے جہاں آپ ایک کالج میں پروفیسر ہوئے ۔ جگرؔ صاحب کی حیات اور خدمات پر آپ کے تحقیقی کاموں کو ادبی شخصیات نے بہت پسند کیا اور اپنی تحریروں میں لکھا جن میں سے کچھ یہاں نقل کئے جاتے ہیں :۔
    حضرت عبد الماجد دریابادی ؒ آپ کی تصینف ’’ یادگار جگر‘‘ کے لئے لکھتے ہیں:۔
    ’’یہ جگرؔ کے ایسے کلام مجموعہ ہے جو اب تک غیر مطبوعہ تھا۔ جامع اور مرتب کی تلاش اور ان کا حسن ذوق دونوں قابل داد ہیں۔‘‘ (نگارشات جگر(محمد اسلام،۱۹۶۵ء، بیک کور) بہ شکریہ ریختہ)
    رشید احمد صدیقی(علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی) آپ کی جگرؔ سناشی پر لکھتے ہیں:۔
    ’’مسٹر محمد اسلام نے جگرؔ کی حیات و شاعری پر جتنا کثیر اور مستند مٹیریل جس محنت، قابلیت اورسلیقے اکٹھا کر دیا ہے وہ میعاری اور قابل تحسین ہے۔ اب تک اس موضع پراتنا مفید مواد کہیں اور یکجا نہ ملے گا۔جگرؔ پر آئندہ کام کرنے والوں کو اس زخیرۂ معلومات سے بہت فائدہ پہنچے گا اور ان کے تحقیقی کاموں میں سہولت پیدا ہوگی۔ (جگر مرادآبادی حیات اور شاعری(محمد اسلام،۱۹۶۶ء،ص ۵)
    ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی (لکھنؤ یونی ورسٹی) لکھتے ہیں:۔
    ’’محمد اسلام صاحب قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے جگرؔ کی حیات اور شاعری پر تحقیقی کام کرنے کے سلسلہ میں جگرؔ کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کی اور انہوں نے یہ راز پالیا کہ کہ جگرکی شاعر اور شخصیت کی مکمل تصویر اسی وقت ممکن ہے جب شاعری کے علاوہ مرحوم کی نثر کا بھی جائزہ لیا جائے ۔ اس سلسلہ میں مرتب(ڈاکٹر محمد اسلام)نےبڑی محنت اور کاوش سے کام کیا ہے ۔ڈاکٹر اسلام نے جگرؔ کے غیرمطبوعہ اور قلمزدکئے ہوئے کلام کوبھی فراہم کیا اور جگرکی تمام تحریروں، تقریظوں،دیباچوں وغیرہ کو بھی، یہ دونوں مجموعہ ’’یادگارجگر‘‘ اور ’’نگارشات جگر‘‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ (جگرؔ کے خطوط(محمد اسلام، ۱۹۶۵ء، ص ۱۱-۱۲)
    آپ ممتازماہر تعلیم،محقق، ادیب، استاد اردو شپ اونرز کالج کراچی۔ ’’جگر مرادآبادی:حیات اور شاعری‘‘پر مقالہ لکھ کر لکھنؤ یونی ورسٹی۱۹۶۰ء میں پی۔ایچ۔ڈی کی۔جگر مرادآبادی پر عمر بھر تحقیق کی اور ان پر اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ (بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،مطبوعہ۲۰۱۸ء،لاہور،ص۳۵۶)
    آپ کی تصانیف:۔(۱)یادگارِ جگر(۲)جگر کے خطوط(۳)نگارشات جگر(۴)جگر معاصرین و مخلصین کی نظر میں(۵)اردو غزل کی مختصر تاریخ (۶) بیسویں صدی کے چند اکابر غزل گو (وفیات ناموران پاکستان،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،مطبوعہ۲۰۰۶ء،لاہور،ص۶۹۳)
    ڈاکرمحمد اسلام کی وفات کے بعد ان پر لکھے سوانحی خاکے میں ڈاکٹر اسلم فرّی صاحب لکھتے ہیں:۔
    ڈاکٹر اسلام شکلاً اور طبعاً ایک شریف آدمی تھے۔نان پارہ کے رہنے والےتھے۔ وہاں سے لکھنؤ آ گئے تھے۔ تحقیق کا شوق تھا۔جگرؔ صاحب کو موضوعِ تحقیق بنایا اور حق یہ ہے کہ حق ادا کر دیا۔ ان کا تحقیقی مقالہ جگرؔ صاحب کے بارے میں شائع ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے اس کا مواد بڑی محنت سے جمع کیا تھا اور حلقۂ جگرؔ کے تمام لوگوں سے وہ یا تو باذات خود ملے یا خط و کتابت کے ذریعے رابطہ پیدا کیاتھا۔میرے علم میں ہے کہ وہ اس سلسلے میں شہروں شہروں پھرتے رہے۔میرے بزرگ کرم فرما مظہر جلیل شوقؔ کبھی کبھی ڈاکٹر اسلام کے علمی انہماک کا تذکرہ کرتے تھے تو یہ بھی کہتے تھے کہ اس شخص نے مجھے ڈھونڈ نکالا اور جگرؔصاحب کے بارے میں میری معلومات سے پورا پورا فائدہ آٹھایا۔ڈاکٹر صاحب نے ستمبر ۱۹۶۱ء سے ستمبر ۱۹۶۵ء تک کے دوران پاک وہند کے ۴۶ مختلف اشخاص سے جو جگرؔ صاحب کے حلقے سے تعکلق تھے ملاقاتیں کیں اور’’ حیات جگرؔ ‘‘کاخاکہ مرتب کیا۔ (ہماری زبان،اکتوبر ۱۹۸۷ء، ص ۷)


    ڈاکٹر اسلام بڑے محنتی انسان تھے ۔جگر ؔکے خطوط جمع کیے اور انہیں کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ بعض کتابیں دوسری کتابیں بھی لکھیں ۔ڈاکراسلام صاحب کی وفات ۲۲؍ ستمبر ۱۹۸۷ء کو کراچی میں ہوئی اور آپ کی تدفین قبرستان بلاک- II ، نارتھ کراچی صوبہ سندھ (پاکستان) میں ہوئی۔‏آپ کی اہلیہ بھی کراچی کے ایک کالج میں پروفیسرتھی اورماشاء اللہ ابھی بقید حیات ہیں۔آپ کے ایک صاحب زادے جناب ضیاء اسلام صاحب کراچی میں مقیم ہیں ۔

  • سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ


    کالم نگار :۔ سید حبدار قائم

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے آپ ﷺ کی سیرت کا فروغ بہت ضروری ہے سیرت سے آگاہی اور اس پر عمل کرنے سے ہی ایک متوازن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے
    سوشل میڈیا پر بہت ساری ادبی تنظیمیں اور گروپ متحرک ہیں جن میں نئے لکھاریوں کے لیے سیکھنے کے بہت مواقع میسر ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر فروغ نعت پر بہت سارے مشاعرے طرح مصرع پر منعقد کرائے جا چکے ہیں اور ہنوز سلسلہ جاری ہے بزم کھٹڑ نے 20 اپریل سے 25 اپریل 2024 تک سیرت آگاہی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں نثری کاوشیں شامل ہیں مشاعرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے گی ہمارے آقا حضور ﷺ پر نور جب تبسم فرماتے تھے تو رات کے اندھیرے میں دانت مبارک سے نکلنے والی روشنی سے اماں حضرت عائشہؓ سوئی تک ڈھونڈ لیتی تھیں
    جو شخص آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھ لیتا اسلام قبول کر لیتا تھا آپ کا اسوہ حسنہ نمونہ قرار دیا گیا آپ ﷺ کے فضائل و شمائل اتنے زیادہ ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے ادبی تنظیم بزم کھٹڑ ان فضائل پر آئندہ بھی پروگرام منعقد کراتی رہے گی
    سیرت آگاہی کے لیے بزم کھٹڑ کا سوشل میڈیا پر پروگرام منعقد کرنا میرے خیال میں اچھوتا ہے اس بار بہت کم افراد نے اس میں حصہ لیا ہے جن افراد نے سیرت کے چند پہلووں کو اجاگر کیا وہ مندرجہ ذیل ہیں

    حضور ﷺ کا اسوہ ٕ حسنہ سارے جہاں کے لیے نمونہ قرار دیا جانا دنیا کا سب سے بڑا میڈل ہے جو رب نے آپ ﷺ کو عطا فرمایا. آپ ﷺ کا رحم کرنا نہ صرف انسانوں بل کہ کائنات کی ہر مخلوق سے افضل ہےاسی لیے رحمت اللعالمین قرار دیے گئے. آپ ﷺ خوشبو پسند فرماتے اور خوشبو لگانے کا حکم دیتے تھے اور خود جہاں سے گزرتے گلیوں میں آپ کی خوشبو آپ کے گزرنے کی خبر دیتی تھی
    سید حبدار قائم

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے اور امت کو بھی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے اور شفقت کرنے کا حکم صادر فرماتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادہ رہتے تھے اور سادگی کو پسند فرماتے تھے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نگاہیں جھکا کر چلتے تھے اور دوسروں کو بھی نگاہیں جھکا کر چلنے کا حکم صارر فرماتے تھے
    مظہر علی خان کھٹڑ

    آپ ﷺ ایمانداری کا حکم دیتے تھے کیوں کہ آپ ﷺخود ایماندار تھے آپ ﷺ اتنے شفیق تھے کے آپ کی بارگاہِ اَقدس میں پرندے بھی اپنی شکایات بیان کرتے تھے آپ سن کر ان کا حل نکال لیا کرتے تھے.آپ ﷺاتنے رحم دل تھے کہ جنگل کی ہرنی نے جب شکایت کی تو اسی وقت اس کا ازالہ فرما دیا آپ جانوروں پر رحم کا حکم صادر فرماتے تھے
    علامہ اَلماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    جب جنات و شیاطین کا آسمان پر جانا بند کردیا گیا تو وہ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آخر ماجرہ کیا ہے کہ ہم لوگ اب آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں. دراصل جنات و شیاطین آسمان پر جاتے اور چپکے سے فرشتوں کی باتیں سن کر نجومی اور جادوگروں کو آ کر بتا دیتے تھے اور نجومی حضرات عام لوگوں کو کچھ ایسے انداز میں آسمان والوں کا حال بتاتے کہ عام لوگوں کو لگتا کہ یہ اپنے جادو کے کمال سے بتا رہے ہیں اسی وجہ سے آسمان پر جانا بند کردیا. اس وجہ سے جنات مشورہ کرکے دنیا میں چاروں طرف تلاش کرنے لگے کہ آخر دنیا میں اب کونسی چیز آ گئی کہ جس کی وجہ ہم آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں تو کچھ جنات ایک ایسی جگہ پہنچے جس کانام مقام نخلہ ہے تو وہاں ان جنات نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام مغرب یا عشا کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات نے کہاں اچھا یہی وہ ماجرہ ہے جس کی وجہ ہمارا آسمان پر جانا بند ہوگیا پھر ان جنات نے تلاوت کو غور سے سنا ان جنات کو تلاوت اتنی پسند آئی کہ وہ سب ایمان لے آئے اور بھی ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں. حضور علیہ السلام جب بچپن کے زمانے میں چلتے پھرتے تو حضور کو سارے درخت جھک کر سلام عرض کرتے تھے. جب آپ کی پیدائش ہوئی اس وقت عرب میں قحط سالی کا زمانہ تھا جونہی آپ پیدا ہوۓ قحط سالی کا ازالہ ہوگیا بتکدے خود بخود گڑ پڑے ۔
    تقی یونس

    آپ محمد رسول اللہ ہیں
    آپ خاتم الانبیاء ہیں
    آپ رحمۃ للعالمین ہیں
    انعام الحق معصوم صابری

    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد

    سیرت رحمت العالمین کے چند گوشے
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کے لئے مجسم محبت و شفقت تھے آپ سے محبت کرنے والے کے لئے تکمیل ایمان کی بشارت آپ نے ارشاد فرمائی ہے۔ہر کسی سے محبت و شفقت کا رویہ ہمارے لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنے والا بندہ اللہ تعالٰی کا محبوب بن جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی اتباع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کامل محبت کے بغیر نہیں کی جا سکتی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کی عظمت پر فائز اور نرم خو اور نرم دل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر حال میں آپ پر جان و دل سے فدا رہتے تھے.آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاقِ عظیم ہمارے لئے اسوہ ٕ کامل ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلم یعنی استاد بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلیم و تربیت پانے والے آپ کی شفقت کے اسیر تھے۔بحیثت معلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے معلمین کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس اور خوراک سادہ اور معمولی ہوا کرتی تھی اپنے ساتھیوں کے درمیان تشریف فرما ہوتے تو کسی اجنبی کے لئے آپ کے لباس اور بیٹھنے کے انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے قائدین اور مراجع کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم وعلى آل سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد
    عارف علوی ریور گارڈن اسلام آباد

    رسول اللہ ﷺصداقت و امانت کے ایسے گرویدہ تھے کہ بچپن سے آپ ﷺ صادق و امین کے لقب سے یاد کیے جانے لگے اور دوست تو دوست دشمن بھی آپ ﷺکے اس وصف کا اقرار کرتے تھے چنانچہ قبائلِ قریش نے ایک موقع پر بیک زبان ہوکرکہا کہ ہم نے بارہا تجربہ کیا مگر آپ ﷺ کو ہمیشہ سچا پایا۔ یہ سب قدرت کی جانب سے ایک غیبی تربیت تھی کیونکہ آپ ﷺ کو آگے چل کر نبوت و رسالت کے عظیم مقام پر فائز کرنا تھا اور تمام عالم کے لیے مقتدیٰ بنانا تھا اور امت کے لیے آپ ﷺکی زندگی کو بطورِ اْسوۂ حسنہ پیش کرنا تھا۔
    پیرسید مختارگیلانی قادری
    ایراڑہ شریف،باغ آزادکشمیر

    وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ
    جس نے غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
    نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
    وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں وہی طٰہٰ
    قطرہ سمندر کی بات کرے تشنگی کوثر کی بات کرے مجھ جیسا ناچیز انسان اس رحمت العالمینﷺ کی بات کرے کہ جس کے بارے میں بڑے بڑے مورخین واعظین حافظین ذاکرین محدیثین اور علماء نے غواصی کی اس سمندر میں غوطہ زن ہوۓ مگر یہ موضوع ایسا ہے کہ بڑھا تو بڑھتا چلا گیا اور پھیلا تو پھیلتا چلا گیا آخر کہنے والوں کو مجبوراً کہنا پڑا بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
    نماز اچھی حج اچھا روزے اور زکوۃ اچھی
    سواۓ اس کے میں مسلماں ہو نہیں سکتا
    نہ کٹ مروں میں جب تک خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد کہ کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
    سردار نثار عباس غازی کھٹڑ تھٹہ جنڈ

    اللهم صل على سيدنا محمدِِ نبی امی و علٰی آلِ وسلم تسلیما۔
    حضور ﷺ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہؐ جیسا آگے دیکھتے تھے ویسا ہی پیچھے بھی دیکھتے تھے۔
    حضور ﷺ جہاں بھی جاتے تھے بادل کا ٹکڑا ان کے اوپر چھتر چھایا کرتی تھی۔ جس سے انؐ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔ یہ اللہ کا معجزہ ہے کہ حضورﷺ کی تصویر بننا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔
    حضور ﷺجس طرح انسانوں کا درد محسوس کرتے تھے اسی طرح جانوروں کا درد بھی محسوس کرتے تھے۔
    انسانوں اور حیوانوں پر صلہ رحمی کرنا آپﷺ کی اولین ترجیحات میں شامل تھا
    جنگِ اُحد کے دوران جب حضورﷺ کا دندانِ مبارک شہید ہوا تو خون زمیں پر پڑنے سے پہلے حضرت جبریل امین نے اللہ کے حکم سے ہوا میں اڑایا۔
    سبحان اللہ ۔
    صدا کشمیری سرینگر انڈیا

    سیرت آگاہی کے اس پہلے پروگرام میں بہت کم افراد نے شرکت کی اور اپنی بساط کے مطابق اظہارِ خیال کیا مجھے بہت خوشی ہے کہ بزمِ کھٹڑ نے اندھیروں میں ایک چراغ روشن کیا ہے جس کی روشنی چار سو پھیلے گی اور یہ تنظیم آئندہ بھی ایسے پروگرام جاری رکھے گی اس بار پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تحریریں تزئین کی گئی اور ان افراد کو منتظمین کی طرف سے دستخط شدہ برقی سند سے بھی نوازا کیا
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری توفیقات میں مزید اضافہ فرماۓ۔ آمین

    Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • ڈاکو راج کی سرپرستی

    ڈاکو راج کی سرپرستی

    ڈاکو راج کی سرپرستی

    Dubai Naama

ڈاکو راج کی سرپرستی

    اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ نہیں تھا مگر صوبہ سندھ کی ہماری ایک بہن وقفے وقفے سے یہ طعنہ دیتی رہتی ہیں کہ پنجاب کے لکھنے والے سندھ میں جو ظلم و زیادتیاں ہو رہی ہیں اس پر قلم کیوں نہیں اٹھاتے ہیں۔ ہماری اس بہن کا تعلق ایک بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے پیپلزپارٹی بنانے کا منصوبہ ان کے والد گرامی کے گھر میں بیٹھ کر بنایا تھا۔ محترمہ کے چچا سندھی لٹریچر کے مشہور لکھاری ہیں اور وہ خود بھی سندھی زبان و ادب کی ایک مایہ ناز تخلیق کار ہیں۔ وہ مظلوم انسانیت کے لیئے بھی وقتا فوقتا آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ میں نے بوجوہ ان کا نام صیغہ راز میں رکھا ہے۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے یہ موضوع انتہائی حساس ہے ۔ اس حوالے سے آج صبح سندھ کی ایک اور اعلی خاتون عہدیدار نے اپنی ایک وائس ویڈیو بھی بھیجی جو ان دنوں سوشل میڈیا اور وٹس ایپ گروپس میں تیزی سے وائرل ہو رہی ہے تو سوچا کہ سندھ کے حالات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے مقتدرہ اور عوام کو ضرور آگاہ کیا جانا چایئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس پیغام میں وہ خاتون صوبہ سندھ کراچی میں سیاسی قیادت سے مخاطب ہو کر کہتی نظر آتی ہیں کہ کراچی اور دیگر سندھ میں عوام کے ساتھ کچے کے ڈاکو قتل و غارت گری، اغواء اور تاوان کی مد میں جو زیادتیاں کر رہے ہیں آپ میں اگر دم ہے تو آپ اس کی اطلاع متعلقہ اداروں کو روبرو جا کر کیوں نہیں کرتے ہیں؟ اس ویڈیو میں واضح طور پر یہ خاتون کچے کے ڈاکوؤں سے ملے ہوئے لوگوں کے نام لے لے کر وضاحت کرتی ہیں کہ ان ڈاکوؤں کی سرپرستی کون کر رہا ہے۔ یہ ڈاکو مظلوم اور غریب عوام سے بھتہ اور تاوان وصول کرتے ہیں اور وہ نہ دیں تو ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ خود کچے کے ان ڈاکوؤں سے بھتہ اور تاوان کچھ پولیس افسران اور حکومتی کارندے لیتے ہیں جو ان سے ملے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا "ریاست” کچے کے ڈاکوؤں کی ان الاعلانیہ اور دن دہاڑے کی کارروائیوں سے بے خبر ہے؟

    سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جس کے دوران مشین گنیں، بکتر بند گاڑیاں، راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ دکھایا جاتا ہے جس میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی لائیو ویڈیوز کو بھی نمایاں کوریج دی جاتی ہے اور پولیس کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا یے۔ حتی کہ یہ ڈاکو اپنے پیغامات میں ریاست پاکستان تک کو للکارتے دکھائی دیتے ہیں تاکہ متاثرہ اور مظلوم عوام الناس پر ڈاکوؤں کی دہشت اور خوف و ہراس کو قائم رکھا جا سکے۔ پورے ملک میں سیکورٹی خدشات کے نام پر انٹرنیٹ کی سروس معطل کی جاتی ہے مگر کچے کے ڈاکو بلاتعطل اس سہولت کو استعمال کرتے ہیں۔ ان ڈاکوؤں کے پاس باقاعدہ وائرلس سسٹم بھی موجود ہوتا ہے۔ ان کے پاس یہ ساری سہولیات کہاں سے آتی ہیں اور اس کے سہولت کار کون ہیں اس پر آج تک کسی حکومت یا مقتدرہ نے تحقیق کروائی ہے اور نہ ہی ان کے مکمل خاتمہ کے لیئے کبھی کوئی بڑی کاروائی کی ہے۔

    کچے کے ڈاکوؤں کی یہ ظالمانہ کارروائیاں گزشتہ چار دہائیوں یعنی 40 سال سے ہی بلاخوف و تردید جاری نہیں ہیں بلکہ سندھ کے ڈاکوؤں کی ایک مشہور کہانی ہمارے مطالعہ پاکستان کے نصاب میں بھی شامل کی گئی جس کا تعلق 8ویں صدی سے ہے جب عرب تاجروں کا ایک بحری جہاز سری لنکا سے حجاز جا رہا تھا تو راجہ داہر کی پشت پناہی میں سندھ کے سمندری قزاقوں نے اس بحری جہاز پر لوٹ مار کی تھی جس کے بعد اموی خلیفہ حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے کے لیئے بھیجا تھا۔

    بعض صورتوں میں یہ ڈاکو پورا گاو’ں، بارات یا تھانے وغیرہ کے عملے کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں جن میں عمر رسیدہ عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ڈاکو ہر ماہ اوسطا 200 سے 300 تک افراد کو تاوان حاصل کرنے کے لیئے اغواء کرتے ہیں اور تاوان نہ ملنے پر ان کو قتل کر دیتے ہیں جن کی بعد میں وہ سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔

    اپریل سنہ 2016ء میں جنوبی پنجاب میں کچے کے ‘چھوٹو گینگ’ نے 22 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔ جوابی کارروائی کے دوران 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلی شہاز شریف (جو اس وقت وزیراعظم ہیں) نے فوج کی مدد طلب کر لی تھی اور آپریشن "ضرب آہن” کے بعد ڈاکوؤں کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو کے گینگ کے خلاف ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے تھے، جس کے بعد چھوٹو گینگ نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ اس کے باوجود ان ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہ کیا جا سکا۔ حتی کہ ان کی دہشت گردانہ کاروائیاں آج بھی جاری ہیں جن کے ہاتھوں صدر مملکت آصف علی زرداری کا حلقہ لاڑکانہ بھی محفوظ نہیں ہے جہاں سے اس وقت بھی 30 سے 40 افراد ڈاکوؤں کی طویل میں ہیں۔

    پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی بی) کی ایک رپورٹ میں سندھ پولیس کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے کا شمالی حصہ اغوا برائے تاوان، غیرت کے نام پر قتل، مذہبی اقلیتوں کی جبری مذہب کی تبدیلی اور کچے کے ڈاکوؤں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ ڈاکو گروپس کی شکل میں زیادہ تر وارداتیں
    گھوٹکی، میر پور ماتھیلو، کندھ کوٹ اور جیکب آباد میں کرتے ہیں جن میں تیغانی، جاگیرانی، شر، چھوٹو، بھیو اور بھگوار گروپ زیادہ مشہور ہیںں۔ رپورٹ میں ایس ایس پی گھوٹکی کے حوالے سے بتایا گیا کہ سنہ 2022ء کے دوران 300 اور سنہ 2023ء اور 2024 میں اب تک کم و بیش 350 افراد کو تاوان کی خاطر کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کیا۔ یہ بدنام زمانہ ڈاکو سالانہ اوسطا 400 افراد کو اغوا کرتے ہیں اور وہ اس علاقے میں اغوا برائے تاوان کے ذریعے سالانہ ایک ارب روپے سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت اور پولیس کے بلند و بانگ دعوؤں اور 250 آپریشنز کے باوجود گزشتہ اتنے عرصہ سے سندھ اور پنجاب کے ان علاقوں میں جاری یہ "ڈاکو راج” آج تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے جو کچے اور پکے کے علاقوں سے نکل کر اب شہروں اور ایوانوں تک پھیلاتا جا رہا ہے۔ اسمبلیوں کے ممبران خاموش ہیں اور ابھی تک وزیراعظم شہباز شریف بھی چپ ہیں، جنہوں نے اس سے پہلے ان ڈاکوؤں کے خلاف کاروائی کی تھی!

    کچے کے یہ ڈاکو ایک سوچی سمجھی اور منظم حکمت عملی کے تحت لوٹ مار، قتل و غارت اور تاوان کا نظام چلا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ڈاکوؤں کو کوئی وفاقی ادارہ پوچھتا ہے، نہ دو صوبوں کی پولیس ان پر ہاتھ ڈالتی ہے اور نہ ہی سیکورٹی ادارے ان کے خلاف فعال ہو رہے ہیں۔ خدشہ نظر آتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ڈاکو طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند کالعدم اور مسلح تنظیموں کی طرح ریاست کیلئے کوئ بڑا چیلنج نہ بن جائیں۔ بھلا ریاست سے زیادہ طاقت ور کون ہو سکتا ہے۔ کچے کے ڈاکو کس کھیت کی مولی ہیں کہ انہیں کچلا نہیں جا سکتا۔

  • بھٹ شاہ، ہالہ کی کاشی گری،ٹوپی اور اجرک

    بھٹ شاہ، ہالہ کی کاشی گری،ٹوپی اور اجرک

    بھٹ شاہ، ہالہ کی کاشی گری،ٹوپی اور اجرک – حیدر آباد کی ڈائری

    سی ایم ایچ حیدر آباد میں ڈاکٹر محمد علی پشاوری سائیکاٹرسٹ تھے ۔ان کے آفس میں گیا تو وہاں مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی تصویر آویزاں دیکھی ۔اس سے پتہ چلا کہ پشاوری صاحب احمدی ہیں۔ 1998 میں ان سے سی ایم ایچ گوجرانوالہ میں دوبارہ ملاقات ہوئی ۔
    پبلک آفس میں اس تصویر کی اجازت نہیں ۔افسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت اس کی طرف توجہ نہیں گئی ۔ سرحد کے احمدی اکابر کے بارے میں کتاب نیٹ پر پڑھی تھی۔اس کتاب کے مطابق محمد علی صاحب کا خاندان مسلمان تھا۔1974کی ختم نبوت تحریک کے دوران ڈاکٹر صاحب احمدی بن گئے ۔ اس وقت یہ خیبر میڈیکل کالج کے طالب علم تھے ۔
    یہ وہ زمانہ تھا جب احمدی مسلمان ہو رہے تھے۔اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی۔۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ اٹک کالج کے اکنامکس کے پروفیسر نییر صاحب پرنسپل اسماعیل صاحب کی کوشش سے مع فیملی مسلمان ہو گئے ۔ 2006 میں محمد علی صاحب نے آرمی سے ریٹائر ہو کر کبیر میڈیکل کالج پشاور جائن کر لیا تھا۔

    دادو کے میجر نور انیستھٹسٹ تھے ۔ان کے بیٹے کا نام عثمان سن کر بڑی خوشی ہوئی ۔عثمان میرا فیورٹ نام ہے۔اگر کوئی اپنے بچے کا نام رکھنے کے مشورہ کرے تو یہی نام تجویز کرتا ہوں ۔ عثمان رفیق و عثمان شاہ ایبٹ آباد، عثمان بن قربان گنڈاکس ، عثمان باری و عثمان جعفر ملہووالہ اس کی زندہ مثالیں ہیں ۔
    ہالہ کے ڈاکٹر گل حسین کے ساتھ ہالہ اور بھٹ شاہ کی سیر کا پروگرام بنایا ۔ ان دنوں ہفتہ واری چھٹی جمعے کے دن ہوتی تھی ۔ بذریعہ بس ہالہ پہنچا ڈاکٹر گل کو ساتھ لے کر بھٹ شاہ پہنچ گئے ۔پہلے میوزیم دیکھا پھر مزار کمپلیکس وزٹ کیا۔ جنوب کی طرف سے داخل ہوئے تو سب سے پہلے تبرّا پلیٹ فارم آیا۔ ڈاکٹر گل صاحب جعفری تھے اس لئے اس سٹرکچر کے بارے میں تفصیلات/ بات سے پرہیز کیا۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سا قبرستان آیا۔ قبروں کے کتبوں سے پتہ چلا کہ لوگ دور دور سے یہاں دفن ہونے کی وصیت کرتے ہیں ۔اس سے آگے بڑھے تو ایک کنگ سائز اشتہار پر نظر پڑی۔اس کا عنوان تھا ‘میں شیعہ کیوں ہوا’،گل صاحب کے احترام میں اس کو نظر انداز کرکے آگے بڑھے اور حضرت شاہ لطیف صاحب کے مزار کی زیارت کی ۔

    سب سے آخر میں مسجد آئی۔ اس میں لکھا ہوا تھا۔
    بنده پروردگارم امت احمدﷺ نبی
    دوست دار چار یارم تابع اولاد علیؑ
    مذہب حنفیہ دارم ملت حضرت خلیلؑ
    خاکپائے غوث اعظم زیر سایہ ہر ولی
    تسلی ہوئی کہ کم از کم نماز پڑھنے پڑھانے کی ذمہ داری احناف کے سپرد ہے۔

    حضرت شاہ لطیف صاحب کے اشعار بطور تبرک پیش خدمت ہیں ۔

    ماٹھون سب نہ سھٹا
    پکھی سب نہ ھنجھ
    کنھن کنھن ماٹھون منجھ
    اچی بوء بھار جی
    سب لوگ سوہنے ( اچھے) نہیں ہوتے
    سب پکھی ( پرندے) راج ہنس نہیں ہوتے
    کسی کسی مانو (man- انسان )سے
    بہار کی خوشبو آتی (اچھے) ہے

    بھٹ شاہ سے ہالہ پہنچے تو جمعے کی اذانیں ہو رہی تھیں ۔گل صاحب مجھے اہل سنت کی مسجد میں چھوڑ آئے اور فرمایا نماز کے بعد میں لینے آجاؤں گا۔ نماز کے بعد روٹی شوٹی کھائی ککڑ کھانے کی شان دوبالا کر رہا تھا۔

    پھر گل صاحب ہمیں کاشی کاری ملتانی ٹائلوں کے کارخانے( کمہار خانے) لے گئے ۔چھوٹی سی جگہ ایک جادونگری لگ رہی تھی۔
    1۔ مٹی سے بنی ہوٹی ٹائلیں
    2پھر ان پر پنسل سے ڈیزائن
    3اس کے بعد ڈیزائن یا خطاطی میں مقامی ( لوکل) رنگ بھرنا
    4 ۔ رنگ شدہ ٹائلوں کے اوپر مقامی سینڈ سٹون کرش کر کے اس کا لیپ(paste)
    5۔ آخری مرحلہ
    ان ڈور آوی(indoor…kiln) میں ٹائلوں کو پکانا۔ ٹائلیں پکنے پر رنگ پکا ہو جاتا ہے ۔ سینڈ سٹون پگھل کر شیشہ بن جاتا ہے اور ٹائلوں کے نقش و نگارِ کو اس طرح کور (cover) کرتا ہے کہ صدیوں ٹائلیں خراب نہ ہوتیں۔ کاشی گروں نے بتایا کہ جرمنی سے ایک میڈم آئی تھیں انہوں نے کچھ نئی ٹیکنیک بتائی تھی۔ ہالہ کی نیلی اور زمردی رنگ کی ٹائلیں مشہور ہیں۔
    کار گاہ کاشی گری سے نکلے تو مخدوم سرور نوح کی بارگاہ میں حاضری دی اور مزار کے پاس والی مسجد میں عصر پڑھی۔ سندھ میں مریدوں کے گروہ کو جماعت کہتے ہیں ۔
    حر جماعت کے سربراہ پیر پگاره ہیں ۔ سروری جماعت کے سربراہ ہالہ کے مخدوم ہیں۔

     سندھی ٹوپی اجرک اور کلہاڑی صوبہ سندھ کی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔اندورن سندھ  آپ کو ایسے ہزاروں جوان ملیں گے جو ٹوپی اجحرک پہنے اور ہاتھ میں کلہاڑی پکڑے ’ ویلے مصروف’ کی طرح ادھر اُدھر گھومتے دکھائی دیں گے۔

      مزدور اور لکڑ ہارے  کلہاڑی  سے درخت کاٹتے  اور لکڑیاں چیرتے ہیں۔ ان کی کلہاڑی کا دستہ  (Wajja وجہ ) ساده ہوتا ہے ۔ پھل کا curve بھی کم ہوتا ہے .اٹک میں مضبوطی کی وجہ جنگلی زیتون ( کوا) کی لکڑی دستے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔

      قتل کلہاڑی یا ٹریڈیشنل سندھی کلہاڑی کا دستہ رنگین ہوتا ہے۔اس کے پھل کا curve نصف دائرے سے زیادہ ہوتا ہے۔ملہووالا میں قتل کلہاڑی ایک آدھ دفعہ دیکھی ہے ۔

      سندھی نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے پر سندھی کلہاڑی بنی ہوئی ہے ۔ حیدر آباد کے آرمی ڈویزن کا فارمیشن سائن بھی سندھی کلہاڑی ہے۔  1989 میں میجر جنرل جاوید اشرف قاضی حیدر آباد کے  جی او سی تھے۔ ان سے ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو میں نے اپنا تعارف وجاہت اشرف قاضی صاحب کے شاگرد کی حیثیت سے کرایا۔خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔الحمدللہ اس حوالے سے ہر سٹیشن پر کسی نہ کسی سے ملاقات ہو جاتی ہے۔

    سندھ رجمنٹ  کا سنٹرحیدر آباد میں ہے اور اس  رجمنٹ کا نشان  ڈبل کلہاڑی ہے۔   1989 میں کیپٹن شعیب صاحب سنٹر کے ایجوکیشن افسر تھے ۔

     خاکسار تحریک والے خاکی شلوار قمیص پہنتے اور ان کے ہاتھ میں بیلچہ ہوتا۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت کا نام مجلس احرار تھا۔ یہ لوگ سرخ قمیص پہنتے تھے اور ان کے ہاتھ میں کلہاڑی  ہوتی تھی

       غلام شاہ کلہوڑو سے 1971 میں معاشرتی علوم کی کتاب نے کروایا ۔ ملہووالا کے چاچا غلام شاہ دکاندار کو بچہ پارٹی نے آف دی ریکارڈ غلام شاہ کلہوڑو کا نام دے دیا ۔غلام شاہ کلہوڑو 1750 میں سندھ کے حکمران تھے ۔ ان کا مزار حیدر آباد جیل کے پاس ہے۔اس کی زیارت کی۔کلہوڑو خاندان کا کلہاڑی سے کوئی تعلق نہیں ۔حیدر آباد کا کچه قلعہ اور پکا قلعہ ۔دونوں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے بنوائے ۔

  • سیّد معراج جامی سے گفتگو

    سیّد معراج جامی سے گفتگو

    سیّد معراج جامی صاحب، کراچی

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، کراچی

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر پنجاب پاکستان

    سیّد معراج جامی کراچی سے ہیں۔ان کے آباو اجداد بغداد کے قصبہ جام (عراق) سے ہیں ۔ تجارت کے سلسلہ ہندوستان آیا کرتے تھے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی ملک ہوا کرتا تھا ۔ ان کے والد کلکتہ میں پیدا ہوئے والدہ بنگالی تھیں ۔ ان کا اصلی نام سید معراج مصطفیٰ حسین ہاشمی ہے قلی نام سید معراج جامی ہے ۔ پیدائش 12 مارچ 1955ء دادو (سندھ) میں ہوئی ہے ۔ تعلیم ایم اے (اردو) ایم اے (مطالعہ اسلامی) ان کے بزرگوں کو ۔ یہاں کی فضا راس آئی۔ تجارت کی برکت سے کاروبار اچھا ہوا۔اور ادھر کے ہی ہو کے رہ گئے ۔ مگر بعد ازاں دادو منتقل ہو گئے۔پھر قسمت پھیر پھرا کر کراچی لے آئی۔جہاں ان کی عمر بسر ہو گئی ۔ گزشتہ دنوں ان کی ملاقات ہوئی، حاصل ِ ملاقات نذر ِ قارئین ہے۔

    سیّد معراج جامی سے گفتگو


    سوال: شاعری، آپ کو وراثت میں ملی ہے اور آپ کے بھائی بھی شاعر ہیں۔ اس پر کچھ کہنا پسند کریں گے۔؟
    جواب : جی ہاں مجھے شاعری وراثت میں ملی ہے ۔ میرے والد محمد حسین دلگیر شاعر تھے اورخاموش فلموں کے اداکار بھی تھے، ہدایت کار بھی ۔ میرے بڑے بھائی فیاض ہاشمی بھی فلمی شاعر تھے ، طلعت محمود جس گانے سے امر ہوا وہ فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا تھا جس کے بول تھے ’’تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی‘‘ اور ایس بی جون بھی جس گیت سے امر ہوئے اس کے بول تھے ’’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے ،یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے ‘‘ نیز حبیب ولی محمد نے بھی ان کے کئی گیت گائے ،ایک گیت’’آج جانے کی ضد نہ کرو ، یوں پہلو میں بیٹھی رہو ‘‘ بہت مشہور ہوا ۔یوں شاعری کا یہ سلسلہ مجھ تک پہنچا ۔ میں داغ اسکول سے تعلق رکھتا ہوں، داغ کے جانشین حضرت بیخود دہلوی تھے اور بیخود کے جانشیں حضرت فداؔ خالدی دہلوی تھے جو تقسیم کے بعد کراچی آ گئے تھے ، میں ان کا 1980ء میں شاگرد بنا ۔
    سوال: آپ اپنے سرمایہ ادب جو کہ تخلیقات کی صورت میں وجود میں آیا۔ ان کے نام کیا ہیں۔؟
    جواب :میری تخلیقات اب تک سات آ چکی ہیں۔ سات ہی تالیفات ہیں اور آٹھ کتب جو مختلف موضوعات پر ہیں زیر ترتیب ہیں۔ جو شائع ہو چکی ہیں ۔
    ۱۔ پہلا شعری مجموعہ’’روزن خیال‘‘ 1992ء میں شائع ہوا۔
    ۲۔ اردو زبان میںسین ریوز پر ان کی پہلی کتاب ’’بیوی سے چھپ کر‘‘2003ء میںآ چکی ہے ۔
    ۳۔ برطانیہ کے پہلے سفر پر مشتمل سفرنامہ ’’انگلستان …خدا کی شان‘‘2011ء میں شائع ہوئی۔
    ۴۔ برطانیہ کے ادبی علمی رسالے سہ ماہی ’’سفیر اردو‘‘ لیوٹن کے گیارہ برسوں کے چوالیس (44) اداریوں پر مشتمل کتاب ’’مقالات افتتاحیہ ‘‘2011ء میں منصہ شہود پر آئی۔
    ۵۔ نعتیہ مجموعہ’’معراجِ عقیدت ‘‘2013ء میں منظر عام پر آیا ۔
    ۶۔ 17مشاہیر ادب کے خاکوں پر مشتمل کتاب ’’معراجِ محبت ‘‘2021ء شائع ہوئی ۔
    ۷۔ افسانچوں /مطائبات پر مشتمل مجموعہ’’اور ٹیلی فون بند ہو گیا ‘‘2021ء پر منظر عام پر آیا ۔
    میری تالیفیات
    ۱۔ پہلی کتاب ہشت بہشت (شعری مجموعہ )،از پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی، اشاعت دوم 1993ء ،بیت الفیاض ،اے۳۰۸، این ،شمالی ناظم آباد ،کراچی
    ۲۔ دوسری مرتبہ کتاب ’’مشہور شاعرات کی ۱۰۰ غزلیں ، 1995، ممتاز پبلشرز ،کراچی
    ۳۔ تیسری مرتبہ کتاب ’’متعلقات ِمشفق خواجہ‘‘ 2008ء میں ۔
    ۴۔ چوتھی مرتبہ کتاب’’ساون میں دھوپ کا خالق’ودیا ساگر آنند‘‘ 2008ء میں شائع ہوئی ۔
    ۵۔ پانچویں کتاب ’’ترجمان اردو ’خواجہ طارق محمود ‘ 2012ء میں ۔
    ۶۔ چھٹی کتاب’’ڈاکٹر جمیل جالبی ،عصری آگہی کا ایک تناظر‘مصنفہ احمد ہمدانی‘2020ء میں۔
    ۷۔ ساتویں کتاب ’’اردو کے مشہور اشعار ‘‘بعد از ترمیم و اضافہ تیسرا ایڈیشن 2021ء میں آ چکی ہیں۔
    میری زیر ترتیب کتب جن میں چار تخلیقات ہیں اور چار تالیفات ،
    ۱۔ ’ ’ بنام من ‘‘ مشاہیر کے خطوط کا مجموعہ ۔(تین جلدوں میں )
    ۲۔ ’’معراج ِ خیال ‘‘ دوسرا شعری مجموعہ
    ۳۔ ’’معراج افکار ‘‘ مضامین کا مجموعہ۔
    ۴۔ ’’معراج تبسم ‘‘ طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ۔
    مرتبہ:
    ۱۔ ’’مقالات ابتدائیہ ‘‘ماہنامہ ’پرواز‘ لندن کے 2015ء سے مارچ2021ء تک 75 اداریوں کا مجموعہ۔
    ۲۔ ڈاکٹر حمید اللّٰہ کے خط ڈاکٹر محمد صابر علی کے نام
    ۳۔ اشاریہ سفیر اردو (سہ ماہی’ سفیر اردو ‘لیوٹن ،برطانیہ کے 74شماروں (جولائی 1997ء تا دسمبر 2009ء ) کا اشاریہ
    ۴۔ ماہنامہ پرواز لندن کا ساڑھے بیس برس کا اشاریہ دو جلدوں میں پہلی جلد میں دس برس کا اور دوسری جلد میں ساڑھے دس برس کا اشاریہ ۔
    سوال: آپ کی شعری اور نثری خدمات بہت ساری ہیں۔ کیا سرکار کی طرف سے بھی کوئی حوصلہ افزائی ہوئی۔؟
    جواب : پہلی بات تو یہ کہ ہر تخلیق کار کو کبھی کسی ستائش کی تمنا یا صلہ کی پروا نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر وہ صدق دل سے ادب میں مصروف ہے تو وہ سر جھکا کر اپنے کام سے کام رکھے گا۔ دوسری بات اس کی حوصلہ افزائی اگر عوام کرتے ہیں تو یہ اس کا بہت بڑا اعزاز ہے ۔ سرکار کی جانب سے بعض اوقات حوصلہ افزائی یا انعام شرم کا باعث بن جاتا ہے ۔میرے لیے میرے ملک کے پڑھے لکھے باشعور عوام کی حوصلہ افزائی بہت بڑا انعام ہے۔ مجھے سرکار سے کسی اعزاز کی تمنا نہیں ہے ۔
    سوال: آپ نے انٹرنیشنل مشاعرے پڑھے ہیں۔ شعراء کا کلام اور رویہ کیسا محسوس کیا۔؟
    جواب : مشاعرے پوری دنیا کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ، چاہے وہ پاکستان ہو، بھارت ہو، برطانیہ ہو، امریکا ہو ۔کیونکہ سب ملکوں کے شاعر بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں منعقدہ مشاعرے میں جائیے لگتا ہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان سے باہر کسی مشاعرے میں بیٹھے ہیں۔ تمام شعراء کا رویہ اور ان کا کلام ایک جیسا ہی ہوتا ہے ، اگر فرق ہے تو اتنا سا کہ بیرون پاکستان شعراء اپنے کلام میں ہجرت کا خود ساختہ کرب ڈال کر اپنے کلام میں تھوڑا سا ذائقہ پیدا کر دیتے ہیں۔ باقی رہا شاعروں کے اخلاق، اخلاص اور رویوں کا ذکر تو اس ذکرکو چھیڑنے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے ۔
    سوال: انشائیہ اور افسانہ کی روح کیا ہے۔ اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں۔؟
    ؔؔجواب:انشائیہ کی مختصر تعریف کچھ یوں ہے کہ:
    انشائیہ: انشائیہ کے لغوی معنی ”عبارت” کے ہیں۔ انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون کی مانند لگتی ہے مگر مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنی تحریر پیش کرتا ہے ، جس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے ۔ کسی خاص نتیجہ کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے ، یعنی نتیجہ کو قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔
    اور افسانہ کی تعریف اس طرح ہے کہ
    افسانہ ادب کی نثری صنف ہے۔ لغت کے اعتبار سے افسانہ جھوٹی کہانی کو کہتے ہیں لیکن ادبی اصطلاح میں یہ لوک کہانی کی ہی ایک قسم ہے ۔ ناول زندگی کا کل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے۔
    انشائیہ اور افسانہ کی اس تعریف سے دونوں کی روح بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے ۔
    سوال: کراچی کی شاعری میں زیادہ تر نمایاں رنگ کون سا نظر آتا ہے۔؟
    جواب: شاعری کراچی کی ہو یا لاہور کی یا ملک کے کسی بھی حصے کی ، تقریباً رنگ ایک ہی ہوتا ہے اس لیے کہ ہمارے مسائل بھی ایک جیسے ہیں، شب و روز بھی ۔ کراچی کی شاعری کو پڑھتے وقت یہ انداز لگانا مشکل ہے کہ یہ پاکستان کے کس شہر کی شاعری ہے کیونکہ نئی نسل کے شعراء آج کی تناظر میں ایک طرح ہی سوچتے ہیں، ان کے مسائل بھی ایک جیسے ہیں، ان کے محبوب بھی ایک جیسے اور ان کے ہجر و وصال بھی ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔اس لیے کراچی میں شاعری میں نمایاں رنگ کوئی خاص نہیں ہے اور یہ میرا اپنا خیال ہے ضروری نہیں کہ کراچی کے شعراء میرے اس خیال سے متفق بھی ہوں۔
    سوال: کراچی کے سیاسی وسماجی حالات اکثر و بیشتر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہ ادب پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔؟
    جواب : ایک کراچی ہی کیا پورے ملک کے سیاسی و سماجی حالات اکثر وبیشتر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ ہاں ماضی میں جب ایک لسانی گروپ کا کراچی پر قبضہ تھا تو حالات بہت ناتفتہ بہ تھے ،اس وقت کہاں کی رباعی اور کہاں کی غزل والی کیفیت تھی ، کچھ نوجوان اور بزرگ شعراء نے بھی اپنی شاعری میں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی مگر بہت مدہم لہجے میں ۔کراچی کا آشوب بھی لکھا گیا ،مرثیہ بھی اور اس وقت کے ظلم کی داستان بھی مگر دبے دبے لفظوں میں ۔ہاں وہ دور گزر جانے کے بعد سب شعراء کی قوت گویائی بڑھ گئی اور پھر کراچی کی شاعری میں ایک نیا روپ سامنے آیا اور پھر بہت جلد حالات کے ساتھ ختم بھی ہو گیا ۔ ادب پر ایسے واقعات و حادثات کا کوئی بہت بڑا اثر نہیں ہوا کہ اردو شاعری میں کسی نئے اسلوب کا اضافہ ہوا ہو ۔ بالکل ایسی طرح جیسے کسی تھانے میں کسی مجرم پر پولیس کے تشدد پر تھانے کے اندر سے آہ و بقا اور چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ،تھوڑی دیر کے لیے ماحول خوف زدہ ہوجاتا ہے اور پھر سناٹا چھا جاتا ہے اور حالات میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔
    سوال: کراچی اور لاہور ادب کے مراکز رہے آج بھی ہیں آنے والے کل بھی ہوں گے مگر……کراچی کی ادبی رونقیں لاہور کے مقابلے میں کچھ ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ایسا آخر کیوں۔؟
    ؔجواب : کراچی کی رونقیں کبھی ماند نہیں پڑی مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ لاہور کی ادبی و شعر ی فضا ہمیشہ ثمر بار رہی اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لاہور کے اطراف بے شمار شہر ہیں جہاں کے شعراء و ادبا لاہور آتے جاتے ہیں، لاہورمیں کوئی بھی ادبی محفل منعقد ہو تو اطراف لاہور سے بے شمار شعراء پہنچ جاتے ہیں۔ یوں لاہور کی ادبی محفلوں میں ہمیشہ شباب رہتا ہے اس کے مقابلے میں کراچی کے اطراف میں ایک طرف سمندر ہے، دوسری طرف بلوچستان تیسری طرف ایک شہر ہے حیدرآباد جہاں شعر و ادب کی محفلیں ماضی میں بہت ہوتی تھیں مگر فاصلہ ہونے کی وجہ سے کراچی یا حیدرآباد کے شعراء محفلوں میں بہت کم یکجاہوئے ہیں۔ دونوں شہر کے شعراء اپنے اپنے شہروں ہی میں محفلیں سجا کر اپنا دل بہلا لیتے ہیں۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ کراچی کی رونقیں ماند پڑ رہی ہیں جبکہ آج بھی کراچی میں ہفتہ وار ، ماہ وار مشاعرے باقاعدگی سے ہوتے ہیں، ادبی محفلیں سجتی ہیں نظر یوں نہیں آتی کہ کراچی جو ایک میگا سٹی بن چکا ہے ، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اب آسان نہیں رہا ، اس لیے وہ محفلیں زیادہ تر اپنے حلقہ تک ہی محدود رہتی ہیں پھر ماضی میں اخبارات کے ذریعے مشاعروں کی تشہیر ہوتی تھی، ہر اخبار میں ایک ادبی صفحہ ہوتا تھا جس میں شعراء کا کلام ، افسانہ ، انٹرویو اور نئی کتابوں کے تعارف کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں ہونے والی ادبی تقریبات کی باتصویر خبریں بھی لگتی تھیں، اب اخبارات میں ادبی صفحہ سرے سے ختم ہو چکا ہے تو خود کراچی والوں کو کراچی کے اخبارات سے ان ادبی سرگرمیوں کی کوئی خبر نہیں ملتی ۔
    سوال: آج کل کراچی میں شاعری اور نثر میں کن جدید اصناف کو زیادہ برتنے کا رجحان ہے۔؟
    ؔجواب : ماضی میں جاپان کونسل نے ہائیکو اور سین ریو کو متعارف کرایا تو کراچی کے شعراء اس پر ٹوٹ پڑے ،ان کا شوق دیکھتے ہوئے جاپان کونسل نے ہر سال کراچی کے بزرگ اور نوجوان شعراء کو اپنے بائیکو اور سین ریو مشاعرے میں مدعو کرنا شروع کیا مگر اب اس پر بھی گرد جم گئی ہے۔ ماہیا ،ٹپہ، ثلاثی ، سانیٹ وغیرہ ملکی اور غیر ملکی اصناف پر ماضی میں کچھ کہا گیا ۔میں نے ماضی میں ہائیکو پر ایک سہ ماہی رسالہ ’’ہائیکو ورلڈ ‘‘ نکالا اور ماہیے پر ایک سہ ماہی’’ماہیا روپ‘‘ مگر صرف دو ،دو شمارے ان رسالوں کے نکلے کیونکہ انہی دونوں شماروں میں دونوں اصناف پر سیر حاصل مضامین تھے بعد میں لکھنے والوں کے پاس بھی لکھنے کے لیے کچھ نہیں رہا تو مجھے بھی رسالے بند کرنے پڑے ۔مگر اب یہ صنف بھی آرام کی نیند سو رہی ہے ۔ جدید اصناف فی الحال کوئی نہیں ہے ، اس لیے سب پرانی اصناف سے ہی کام چلا رہے ہیں۔ نثری نظم کا زور تھا اور ہے ، کیونکہ یہ اتنی آسان صنف ہے کہ ایک میٹرک کا بچہ بھی جس میں اردو کی تھوڑی بہت صلاحیت ہے بے وزن اور بے بحر سطروں پر مشتمل نثری نظم کہہ سکتا ہے اور اس پر داد بھی حاصل کرسکتا ہے ۔ خصوصاً کراچی میں لڑکیاں اور کچھ عورتیں اور کچھ مرد بھی نثری نظموں کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں کہ اس میں کوئی قدغن نہیں ہے اس کی گرفت نہیں ہے اور اس کی حدود نہیں ہے ۔ان کے دھڑا دھڑ مجموعے بھی چھپ رہے ہیں اور ان پر ناقد اور ادیب مضامین بھی لکھ رہے ہیں، ان کی تقریب رونمائی بھی ہو رہی ہے اور ان کے اس ’’احسن عمل‘‘ کو سر محفل سراہا بھی جا رہا ہے ۔
    سوال: کراچی کے تخلیقی ادب میں سمندر کو کہاں تک برتاجارہا ہے۔؟
    ؔجواب : کہتے ہیں نا کہ گھر کی مرغی دال برابر، یہی حال ان تمام شہروں کا ہے جس شہر میں کوئی قابل ذکر مقام ہے جس کو دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ وہاں آتے ہیں مگر وہاں کے رہنے والے برسوں اس عجوبہ یا مقام کو دیکھنے نہیں جاتے کہ اپنے گھر میں ہے کسی بھی وقت چلے جائیں گے۔ یہی حال کراچی کا ہے ، کراچی کے سمندر کو دیکھنے پورے پاکستان اور آزاد کشمیر سے لوگ ذوق و شوق سے آتے ہیں مگر کراچی والوں کو سمندر دیکھے برسوں گزر گئے ، کراچی کے ساحل پر جو لوگوں کا اژدہام نظر آتا ہے وہ بیرون کراچی کے لوگ ہیں جو یا تو کراچی میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں یا پھر خاص طور پر سمندر دیکھنے آئے ہیں۔ اس لیے کراچی کے تخلیقی ادب میں سمندر کو بطور خاص نہیں برتا جاتا ہے، کسی وجہ سے ان کی تخلیق میں سمندر آجائے تو کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے ۔
    سوال: آپ پبلشر بھی ہیں۔ ایک پبلشر کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ قارئین کو آگاہ کریں۔؟
    ؔؔجواب : میں پیشہ ور پبلشر نہیں ہوں، یہ کام میں شوقیہ کرتا ہوں کہ اب میرے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے ۔ ابتدا میں میرے چند بزرگ نے اپنی کتابیں مجھے چھاپنے کے لیے دی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا تو میں پبلشر بن گیا ،چونکہ خود تخلیق کار ہوں اس لیے کتابوں اور رسالوں کی اشاعت میں اپنی تخلیقی صلاحیت بھی استعمال کرتا ہوں اور یوں میرے احباب میرے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں،مگر میں باقاعدہ پبلشر نہیں ہوں ۔ پبلشر کی کیا ذمہ داریاں ہیں یہ بہت طویل فہرست ہے جس کے ایک شق پر بھی کوئی پبلشر عمل نہیں کرتا اس لیے اس کا ذکر کر کے میں اپنے دشمنوں میں بے پناہ اضافہ کرنا نہیں چاہتا،یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر پبلشر ہی بُرا ہوتا ہے مگر اچھا پبلشر جس سے مصنف کو ذہنی ، مالی اور جسمانی سکون و راحت ملے ،ہزار میں سے ایک نکلے گا ۔قارئین کو جب کتاب کے چھپنے کے مسائل سے کوئی آگاہی ہی نہیں ہے تو انھیں خوامخواہ میں کیوں اذیت میں مبتلا کیا جائے ۔
    سوال: آپ کا کوئی ایسا شعر جو وجہ شہرت بنا ہو۔؟
    جواب : 1985ء میں کراچی کے نوجوان شعراء کے درمیان امریکن کلچرل سوسائٹی نے ایک شعری مقابلہ کرایا ،میں بھی اتفاق سے اس میں شریک تھا ، 192شعراء میں میری غزل کو پہلا انعام ملا ۔ اس غزل کا ایک شعر مقابلے کے دو ججوں ڈاکٹر ابوالخیر کشفی صاحب، پروین شاکر کو بے حد پسند آیا وہ یہ ہے جو بعد میں میری شناخت بھی بنا ۔
    میرا ہر بچہ آئینہ میرا
    کتنے چہروں میں بٹ گیا ہوں میں
    سوال: سوشل میڈیا کے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔؟
    جواب : سوشل میڈیا کے ادب پر کیا پوری زندگی پر کوئی خوش گوار اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا اب ہر ایک کی دسترس میں ہے اور اس کی وجہ سے مثبت کم اور منفی ادب کی بہت زیادہ نمائش ہو رہی ہے ۔ اقبال اور احمد فراز کے خود ساختہ اشعار سے سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے۔ جھوٹ کو اس قدر طاقت سے سچ ثابت کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ تو انسان گڑبڑا جاتا ہے ۔ ادب میں اب دو نمبری نہیں تین اور چار نمبری تخلیقات سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہو رہی ہیں۔تشہیر اس قدر اور اتنی آسانی سے اپنے ہاتھوں سے ہو رہی ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ ہم اپنی تشہیر کر رہے ہیں یا اپنی بدنامی ۔اسی سوشل میڈیا کے ذریعے اب ناقد، تخلیق کار، محقق اور تبصرہ نگار وافر مقدار میں نظر آتے ہیں جن کو ادب کی ایف بے سے بھی واقفیت نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں سوشل میڈیا کے ادب پر کیسے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ، اس کا اظہار ممکن ہے؟

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

    زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، کراچی

    زیب النسا زیبی صاحبہ ، کراچی

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر ، پنجاب پاکستان

    زیب النساء زیبی صاحبہ ادب کے حوالے سے ایک عالمی شہرت یافتہ ہیں اور عہد حاضر کی شاعرہ و ادبیہ و تعلیم یافتہ خاتون ہیں ۔ ان کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔ ہر صنفِ ادب میں ایک سو سے زائد کتب کی خالق ہیں ۔ 25 کتب نصابی ہیں جو تصنیف و تالیف کی ہیں ۔ 5 کلیات 2 ۔ 2 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں ۔ محکمہ اطلاعات حکومت سندھ میں آفیسر اطلاعات کے عہدے پر فرائض سر انجام دیئے اب کافی عرصہ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے ۔ آپ کی پیدائش 3 جولائی 1958ء کو کراچی میں ہوئیں ۔ آپ کے والدین دہلی (بھارت) کے رہنے والے تھے ۔ پاکستان میں اب تک آپ کے پائے کی شاعرہ و ادبیہ نہیں دیکھی ۔ آپ نے نظم کی 70 اصناف پہ شاعری کی ہے اور ان کی تیکنک بھی لکھی ہیں دیناے ادب میں یہ کام پہلی مرتبہ ہوا ہے۔۔۔۔آپ "تروینی”‘ صنف کی عالمی سطح ہہ پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہیں یہ صنف انڈیا کے گلزار صاحب کی ایجاد ہے ۔۔۔۔۔آپ نے تخلص کے بے نام نشان کو "مخلص ” کا نام بھی دیا جبکہ "سوالنے "کے نام سے ایک سہ مصری نظم بھی آپ نے ایجاد کی ہے ۔ جو ہر ایک بحر میں کہی جاسکتی ہے ۔ رباعی صنفِ ادب میں ایک مشکل ترین صنف ہے ۔ مگر آپ نے اس پر بھرپور انداز میں طبع آزمائی کی ہے ان کی ر باعیات پہ دہلی یونیورسٹی انڈیا میں خشبو پروین پی ایچ ًی کا تحقیقی مقالہ لکھ رہی ہیں ۔ زیب النساء زیبی کے نام سے کراچی میں ایک روڈ بھی ہے ۔ مختلف یونیورسٹیوں سے آپ کے ادبی کام پر طلبہ و طالبات نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں اور کافی سارے کر بھی رہے سات ایم فل چار بی اہس اور ایم کے مقالے ہو چکے ہیں ۔اکادمی ادبیات سندھ کراچی کے تعاون سے ان کی فن و شخصیت پہ 800 صفحات کی کتاب بھی شائع کی گئی ہے جو محسن اعظم ملیح آبادی نے تحریر کی ۔۔۔۔آپ بہت سی عالمی مشاعرے اور و ادبی کانفرنس میں مقالے اور کلام پیش کرتی رہیں ہیں آپ کی پانچ کلیات کے نام یہ ہیں نظم کی ستر اصناف پہ کلیات "سخن تمام ” غزلیات کی کلیات "کار دوام ” افسانوں ناول کی کلیات "عکس ِ زندگی ". تحقیق و تنقید مقالے تبصرے کی کلیات ” متاع ِ زیست "شاعری کی کلیات "حرف ِ نا تمام ” ۔۔

    زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

    چند روز پہلے علمی و ادبی حوالے سے انٹرویو لیا گیا جو سوال و جواب ہوئے ہیں ۔ وہ نذر قارئین ہے ۔
    سوال : آپ نے کب سے لکھنا شروع کیا ۔؟
    جواب : طبعی رجحان اور میلان شروع سے ہی تھا ساز گار ماحول ملا تو لکھنا شروع کر دیا۔

    سوال : آپ کو لکھنے کی ترغیب کیسے ملی ۔؟

    جواب : گھر کا ماحول اور بیرونی دونوں نے مجھے لکھنے لکھانے کی طرف راغب کیا۔

    سوال : آپ کے گھر کا ماحول ادبی تھا ۔ ؟
    جواب :جی ہاں
    ادبی ماحول نہ ہو تو صلاحیتوں کو نکھار نہیں ملتا۔ٹھیک سے پروان نہیں چڑھ پاتیں۔
    سوال : جس زمانے میں آپ نے لکھنے کا آغاز کیا ۔ اس دور میں تو عورت کو اظہار کی اتنی اجازت نہ تھی ۔ آپ کو بھی اس سلسلہ میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ ؟
    جواب : جی ہاں
    وہ دور آج سے خاصا مختلف تھا ۔مگر عورت کی نمائندگی کرتے ہوۓ اتنا ضرور کہوں گی کہ مردوں کے مقابلے میں عورت کو اپنا آپ منوانے کے لیے بہت مشکلات سے گزرنا ہوتا ہے ۔ پھونک پھونک کے قدم رکھنا ہوتا ہے ۔ عورت پن کا احساس ہر موڑ پر بڑی شدت سے ہوتا ہے۔
    سوال : بچوں کی پرورش اور خانہ داری میں یہ ادبی مصروفیات حائل نہیں ہوئیں۔ ؟
    جواب : ذکی صاحب ! جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ عورت کو جن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مرد اندازہ بھی نہیں کر سکتا ۔ بچے خانہ داری رشتہ داری برادری ملازمت شوہر یہ ساری چیزیں ایک عورت کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں ۔ مگر میں نے اعتدال کا دامن نہ چھوڑا ۔ ہر چیز کو مناسب وقت دیا جس کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ بنا ۔ میں نے اولاد گھر ملازمت کو ادبی سرگرمیوں پر ترجیح دی ۔ ادبی سرگرمیاں ثانوی انداز میں۔۔۔
    سوال : آپ کی ملازمت کے معاملات زیادہ وقت طلب تھے ۔ان پر آپ کی ادبی مصروفیات کس حد تک اثر انداز ہوئیں ۔ ؟
    جواب : جی
    ملازمت بذات خود full time جاب ہےبچوں کی دیکھ بھال شوہر کا خیال یہ سارے کام میں نے اپنے اپنے وقت پہ کیے میری ملازمت میری ادبی سرگرمیوں سے متاثر نہیں ہوئی ۔میں ملازمت کے اوقات کے مشاعروں میں شرکت نہ ہونے کے برابر کی ۔
    سوال : آپ نے کس صنف ِ ادب سے آغاز کیا ۔ ؟
    جواب :شاعری میں غزل سے
    سوال : آپ نے کس کس صنف ِ ادب میں کتب تخلیق کیں اور طباعت و اشاعت کی منازل تک پہنچیں ۔ ؟
    جواب : کتب مختلف اصناف پر لکھیں مگر شاعری اور غزل غالب رہی
    سوال : آج کل کیا ادبی مصروفیات ہیں ۔ ؟
    جواب : آج کل ادبی مصروفیات مگر گھر پر رہ کر ہی لکھنا لکھانا زیادہ ہے تقریبات میں وہ پہلی سی شرکت مصروفیات اور صحت کی وجہ سے وہ نہیں رہی
    سوال : آپ نے ادب کو کیسا پایا ۔ ؟
    جواب :ادب
    ادب تو زندگی ہے
    ادب حیات آموز ہے
    ادب تو ادب سکھاتا ہے
    ادب تو ادب ہے
    زندگی کا لطف ادب میں ہے
    سوال : پاکستان میں تخلیق ہونے وال ادب معاشرے کو کیا دے رہا ہے ۔ ؟
    جواب : ادب بہت کچھ دیتا ہے مگر کبھی کبھار یہ قلم بے لگام بھی ہو جاتا ہے ۔تب معاشرے کو جتنا نقصان دیتا اتنا ہے جس کا آ اندازہ نہیں کر سکتے مجموعی طور پر بہت کچھ دیتا ہے منزل کا راستہ دکھاتا ہے
    سوال : سوشل میڈیا نے ادب کو مثبت و منفی ہر دو پہلو سے کتنا متاثر کیا ہے مقابلتا”.
    جواب : ہاں
    ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔اس نے بھی فوائد کے ساتھ ساتھ نقصان بھی بہت دیۓ ہیں مگر میرے خیال میں فروغ ِ ادب میں اس کا کردار مثبت زیادہ ہے۔
    سوال : آپ کی ادبی زندگی کا نچوڑ اور حاصل پیغام قارئین اور شائقین ِ ادب کے نام۔۔۔۔۔ ؟
    جواب : بس یہ ہے کہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں ۔کتاب اور قلم سے اپنا رشتہ مضبوط کریں۔شعر کہنے کے لیے وسیع مطالعہ بہت ضروری ہے۔ادب بہت کچھ دیتا ہے

    مقبول


 زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر،پنجاب،پاکستان

  • پروفیسر عبد الجبار عبد سے گفتگو

    پروفیسر عبد الجبار عبد سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات شکار پور

    ریٹائرڈ پروفیسر عبد الجبار عبد ، شکار پور ، سندھ

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    سوال: آپ اپنا نام بتائیں۔ پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں ۔ ؟
    جواب: میرا نام عبدالجبار سومرو ہے، جبکہ میرا ادبی نام عبدالجبار عبّد ہے۔ میرے والد بزرگوار کا نام فقیرمولوی جان محمد سومرو رح (جانن فقیر) تھا ۔ جو ایک عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ صوفی شاعر بھی تھے۔ والد بزرگوار نے پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گذاری۔ وہ نماز پڑھاتے تھے۔ بچے پڑھاتے تھے اور خطیب کے فرائض انجام دیتے تھےمگر تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ آپ نے چالیس سال تک یہ خدمت انجام دی۔
    ان کو دو بار حج ادا کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ شکارپور کے نزدیک سندہ کئنال کے کنارے ”مرید گوٹھ“ نامی ایک گاؤں واقع ہے۔ اس گاؤں میں ہمارے سومرو خاندان کے بھی پانچ۔ چھ گھر ہوا کرتے تھے۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۰ء میں اسی گاؤں میں میری پیدایش ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اور پرائمری کی پانج جماعتیں میں نے اسی گاؤں میں ہی پڑھیں

    پروفیسر عبد الجبار عبد سے گفتگو

    سوال: عبد صاحب! آپ نے مزید تعلیم کہاں سے حاصل کی ۔ ؟
    جواب: مقبول ذکی صاحب! میں نے مزید تعلیم میں، مٹرک، انٹر، بے اے، ایم اے وغیرہ شکارپورکے تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔ جبکہ P.T.C اور B_Ed کی پروفیشنل ڈگریاں، سکھر کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ اسی طرح ایم۔ ایڈ کی پروفیشنل ڈگری شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے آف کیمپس شکارپور میں حاصل کی۔

    سوال: ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا ۔ ؟
    جواب: جناب ذکی صاحب! میں ۰۲ دسمبر ۱۹۷۹ء میں ایک “پرائمری استاد” کی حیثیت سے سرکاری نوکری میں آیا۔ پھر ۱۹۹۲ء میں وہاں سے ترقی کرکے بذریعہ پروموشن “ہائی اسکول ٹیچر“، بنا، جہاں سے بذریعہ پروموشن “سبجیکٹ اسپیشلسٹ” کے عھدے پر فائز ہوا، وہاں سے ترقی کرکے بذریعہ پروموشن “اسسٹنٹ پروفیسر”بنا۔ اپنی زندگی کے ۶۰سال پورا کرنے کے بعد میں دسمبر ۲۰۲۰ء میں ملازمت سے ریٹائرڈ ہوا۔ دورانِ سروس تعلقہ و ضلع شکارپور کے مختلف اسکولز میں اپنی خدمات انجام دیں۔

    سوال: جناب عبد سومرو صاحب! آپ چونکہ ایک استاد رہے ہیں، آپ اپنی ملازمت کے دوران اپنے کام سے مطمئن تھے ۔ ؟
    جواب: جی ہاں، میں اپنے کام سے بالکل مطمئن تھا، میں بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ان کو “کریکیولر ایکٹوٹیز” میں بھی تیاری کرواتا تھا، اور جس ادارے میں بھی رہا اپنے اسکول کے بچوں کو کامیابی دلوائی اور میرے بچوں نے نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر بیشمار انعامات ، حتیٰ کہ گولڈ میڈلز بھی حاصل کیے۔

    سوال: آپ شعری میدان میں کس طرح وارد ہوئے ۔ ؟
    جواب: چونکہ میرے والد گرامی ؒ ایک صوفی شاعر تھے، جب میں چھوٹا تھا تو اکثر والد صاحب کے ساتھ محفل مشاعرہ میں جاتا تھا، وہاں مجھے بھی شاعری کرنے کا شوق ہوا۔ اتفاق سے میں نے جو پہلی شاعری کی تھی، وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں “سلامِ عقیدت” تھا ، وہ میں نے سندھی زبان میں نکلنے والے ایک جریدے “پیغام” کو بھیجا، تو وہ اس میں شایع ہوگیا۔ یہ “پیغام” جریدہ اسی وقت محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے نکلتا تھا۔ میری پہلی ہی شاعری چونکہ ایک جریدے میں شایع ہوگئی تھی، اس لیے میری ہمت بندھ گئی اور میں شاعری کرنے لگا۔
    اب جب بھی کسی مشاعرہ کی دعوت ملتی ہے تو اس میں شرکت کے لیے شاعری کرتا ہوں۔ زیادہ تر میرا رجحان نعت کی طرف ہے۔

    سوال: آپ کی شعری خدمات کیا ہیں ۔ ؟
    جواب: میں نے اپنی مادری زبان سندھی میں شاعری کی ہے۔ تقریباً اتنی شاعری ہوگی کہ ایک کتاب بن جائے۔ نثری یا آزاد شاعری کی کتاب علیحدہ ہے۔

    سوال: آپ کی نثری خدمات کیا ہیں ۔ ؟
    جواب: جناب ذکی صاحب! میں نے نثر میں بہت کام کیا ہے، میری مطبوعہ کتب کی تعداد ۷۰ کے قریب ہے، ان میں ساری کتابیں سندھی میں ہیں، جبکہ ایک کتاب اردو میں ہے۔
    میری یہ کتابیں، اسلامیات، ادب، تصوف، قرآن و حدیث وغیرہ کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ میں نے بزرگوں کی سوانح حیات اور ان کے کلام پر بھی کتابیں لکھی ہیں۔ اس میں تصنیف و تالیف کے علاوہ تراجم بھی ہیں۔ نیز میں نے بچوں اور بڑوں کے لیے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔
    بیس (۲۰) عدد چھوٹی کتابیں بچوں کے لیے کہانیوں کی طبع ہوچکی ہیں، جبکہ کہانیوں کی ایک کتاب بڑوں کے لیے بھی طبع شدہ ہے۔
    میری تحاریر سندھی زبان کے معیاری جرائد و اخبارات میں شایع ہوتی رہتی ہیں۔ بچوں کے میگزین “گل پھل” اور “ساتھی” وغیرہ میں شایع ہوتا رہا ہوں۔
    سوال: آپ کا ذوقِ مطالعہ ۔ ؟
    جواب: جناب ویسے تو میں، ہر علمی و ادبی کتاب شوق سے پڑھتا ہوں، لیکن جو میرے پسندیدہ عنوانات ہیں، ان میں قرآنی علوم، احادیث مبارکہ، تواریخ، تصوف اور شعر و ادب. ناول اور کہانیاں بھی میں شوق سے پڑہتا ہوں۔

    سوال: آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی ۔ ؟
    جواب: جناب میں کچھ ادبی تنظیمات سے منسلک رہا ہوں، جیسا کہ “ایوان ِ علم و ادب پاکستان”، “مھران ادبی سنگت شکارپور”، “بزمِ گلشن لطیف شکارپور”، “جیئے لطیف سماجی ادبی سنگت شکارپور” وغیرہ۔

    سوال: آپ کے ایک فرزند جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، دنیائے ادب میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ان کے فن اور شخصیت کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ ؟
    جواب: میرے اس فرزند کا نام کاشف حسین سومرو تھا۔ وہ بچپن سے ہی بہت ذہین تھا ، چھوٹی عمر میں ہی بہت ساری کامیابیاں حاصل کی تھِین۔ اس نے قومی زبان اردو میں ماسٹر کیا ہوا تھا اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر لیکچرر بنا تھا۔ اس نے کہانیاں لکھیں ، اُردو اور سندھی میں شاعری کی ۔ بلا کا مقرر تھا ۔ کبھی کبھار انگریزی میں بھی لکھتا تھا۔ اس کے ادبی دوستوں کا حلقہ وسیع تھا ، جناب عبدالصمد مظفر پھول بھائی جناب رانا راشد علی خان اور نور محمد جمالی وغیرہ اس کے احباب میں شامل تھے۔ اس نے اردو مقابلہءِ کہانی نویسی میں پاکستان بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اس کی اردو میں لکھی گئی ایک کتاب : “سیرت مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سھروردی” کے تین ایڈیشن آچکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کو، کاشف کی وفات کے بعدایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔
    کاشف کی وفات کے بعد مختلف لکھاریوں نے کاشف پر اپنی تحریرات قلمبند فرمائیں تھین، راقم نے ان تحریرات کو مرتب کرکے “داستان چھوڑ آئے۔۔۔” کے نام سے طبع کروایا ہے۔ جس میں کاشف کی زندگی کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میرا یہ لائق و فائق فرزند ۳۰ برس کی جواں سال عمر میں ، ۷ جون ۲۰۱۲ میں مجھ سے بچھڑ گیا یہی جون کا مہینہ تھا ۔ چار روز قبل ہم نے 12 وی برسی منائی ہے ۔ اللّٰہ کریم اس کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین
    اس کی لکھی گئی کتب کو میں آھستہ آھستہ طبع کروانے کی کوشش کر رہا ہوں، ابھی حال ہی میں، اسی کی سندھی زبان میں ترجمہ کی ہوئی ایک کتاب جو کہ صحابہ کرام ؓ کی سوانح حیات پر ہے وہ میں نے طبع کروائی ہے ۔

    سوال : ضلع شکارپور میں ادبی ماحول کو کیسا پاتے ہیں ۔ ؟
    جواب : شکارپور ماشاء اللّٰہ شروع سے ہی علم و ادب کا مرکز رہا ہے ۔ یہاں بڑے بڑے ادباء شعراء و علماء نے جنم لیا ہے۔ آج بھی ضلع شکارپور ، علم و ادب کا گہوارہ ہے ، سامی اور شیخ ایاز شکارپور کے بہت بڑی شاعر تھے ۔ آج بھی شکارپور میں نامور ادیب اور شاعر ہیں اور علمی و ادبی محافل سجتی ہیں۔

    سوال: شکارپور کی اور کیا کیا چیزیں مشہور ہیں ۔ ؟
    جواب: شکارپور شمالی سندھ کا ایک قدیم تواریخی شہر ہے۔ یہاں کچھ ایسی عمارتیں ہیں، جو آج بھی شکارپور کی تاریخی عظمت کی دلالت کرتی ہیں۔ ان عمارات میں “حضرت شاہ فقیر اللّٰہ علوی ؒ کا مقبرہ”، “راءِ بھادر اودھوداس تاراچند ہسپتال”، “گورنمینٹ ہائی اسکول نمبر ون شکارپور”، “گورنمینٹ ہائی اسکول نمبر ۲ شکارپور”، “سی اینڈ ایس ڈگری کالیج شکارپور” اور “چارپائی والا مندر” وغیرہ۔

    سوال: شکارپور کی اور خاص بات ۔ ؟
    جواب : شکارپور کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے آچار بہت مشہور اور مزیدار ہیں ۔ اور یہاں کی مٹھائی بھی مشہور ہے۔

    سوال : حاصل کردہ انعامات۔ شیلڈز وغیرہ ۔؟
    جواب : ۱۔ ۱۹۹۴ء میں”سندھی لینگویج اتھارٹی“ کی طرف سے بچوں کے ادب پر خاص دوسرا انعام (ایک ہزار روپیہ نقد اور سند)۔
    ۲۔ ”سندھ کلچرل ایسوسی ئیشن” کی جانب ”بیسٹ رائیٹر آف ۱۹۹۴ء شکارپور ایوارڈ“۔
    ۳۔ “دعوت اکیڈمی اسلام آباد“ کے ”شعبہ سندھی ” کی جانب ، ”کہانی نویسی کے مقابلئہ ۱۹۹۸ء میں دوئم پوزیشن۔ (دو ھزار روپے نقد اور سند”) ۔
    ۴۔ ” مکھڑی آرٹ سرکل شکارپور” کی طرف سے سال ۱۹۹۴ء میں ”بہترین کہانی رائیٹر” کی سند دی گئی۔
    ۵۔ سال ۱۹۹۹ء میں کیے گئے ادبی کام کے اعتراف میں ”عباسی کلھوڑا تنظیم سندھ “ کی جانب سے ”تنویر عباسی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ۶۔ سال ۲۰۰۰ء میں کیے گئے ادبی کام کے اعتراف میں ”عباسی کلھوڑا تنظیم سندھ “ نے دوبارہ تنویر عباسی ایوارڈ دیا۔
    ۷۔ سال۲۰۰۴ء میں “سندھ چلڈرینس اکیڈمی خیرپور سندھ ” کی طرف سے “سندھی بچوں کے ادب کی ترقی کے لئے کی گئی خدمات کے اعتراف میں” ایوارڈ دیا گیا۔
    ۸۔ سال ۲۰۰۵ع میں “سندہ رائیٹرز ادبی فورم سندھ “ کی طرف سے “بچوں کے ادب” میں نمایاں خدمات پر “سندِ امتیاز ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ۹۔ رجب ۱۴۴۰ھ کو ”خانقاہ عالیہ مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سہروردی۔ فراش“ کی جانب سے مخدوم صاحب پر دو عدد کتب لکھنے پر “حضرت مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سہروردی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
    ۱۰۔ ۲۰۱۷ء میں چار سؤسالہ جشن شکارپور کے موقعہ پر ”سندھی ادبی سنگت سندھ “ کی جانب سے ”ڈاکٹر عبدالقیوم طراز شیخ یادگار شیلڈ“ سے نوازا گیا۔
    ۱۱۔ ۲۰۱۷ء میں چار سو سالہ جشن شکارپور کے موقعہ پر ”مہران ادبی سنگت شکارپور“ کی طرف سے ”محقق ادیب ایوارڈ“ دیا گیا۔
    سوال : آپ کی کچھ خاص مطبوعہ کتابیں ۔؟
    جواب :
    ۱۔ ”موت جو منظر“ (موت کا منظر ترجمہ)۔
    ۲۔ ”عظمتِ قرآن” (ترجمہ)۔
    ۳۔ ”حمل فقیر ؒ “ (تالیف)۔
    ۴۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ (تالیف)۔
    ۵۔ ”ظلم جو زنجیر“ (کہانیاں)۔
    ۶۔ ”محبوب کریم ؐ جوں وصفون” (شمائل نبوی)۔
    ۷۔ ”سرزمین سمرقند ۽ بخارا” (سید فیروز شاہ گیلانی کے سفرنامہ کا ترجمہ)۔
    ۸۔ ”پیاری پغمبر ﷺ جوں پیاریون گھر واریون” (ازواجِ مطہرات)۔
    ۹۔ ”حضرت بابا بلھی شاہ ؒ “ (تالیف)۔
    ۱۰۔ ”تصوف جی تاریخ“ (تاریخ تصوف کا سندھی ترجمہ)۔
    ۱۱۔ ”اسلام میں حلال و حرام“ (علامہ یوسف القرضاوی کی تالیف کا ترجمہ)۔
    ۱۲۔ ”صحیح ترغیب و ترھیب“(سندھی ترجمہ)۔
    ۱۳۔ “چل پل جو چٹکو” (سردار میر شاہ پسند چانڈیو کی سوانح و کلام)
    ۱۴ ”کلیات حسینی“ (حضرت پیر عبدالغفار شاہ راشدی “حسینی” کا کلام)۔

     مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • 72دلچسپ حقائق والا پاکستان

    72دلچسپ حقائق والا پاکستان

    پاکستان، سرکاری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس کا رقبہ 796,095 مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان سیاحوں کے لیے سرفہرست مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ ملک قدرت کی عطا کردہ خوبصورتی سے مالا مال ہے جس میں اونچے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، دریا اور سرسبز و شاداب میدان ہیں۔ سوات، زیارت، کاغان اور اسکردو وغیرہ جیسے مقامات کو دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میں نے پاکستان کے بارے میں 72 دلچسپ حقائق اکٹھے کیے ہیں جو یقیناً دلچسپی کا باعث ہونگے۔

    1۔ پاکستان میں واقع سیالکوٹ دنیا کا سب سے بڑا فٹ بال تیار کرنے والا شہر ہے۔ خطے میں مقامی فیکٹریاں سالانہ 40-60 ملین فٹ بال تیار کرتی ہیں، جو کہ دنیا کی کل پیداوار کا تقریباً 50-70% ہے۔ فٹ بال مینوفیکچرنگ انڈسٹری اب 200 سے زائد فیکٹریوں پر مشتمل ہے۔

    SialkotFottball

    Images Courtesy : Wikipeida

    2۔ پاکستان ایٹمی طاقت حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا اسلامی ملک ہے۔

    3۔ دنیا کی بلند ترین پختہ سڑک شاہراہ ریشم جسے قرارم ہائی وے بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں واقع ہے۔ شاہراہ قراقرم انتہائی مشکل پہاڑی علاقے میں بنائی گئی ہے اس لیے اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں۔

    By Hunzagrapher - Own work, CC BY-SA 4.0, https://commons.wikimedia.org/w/index.php?curid=110384742
    By Hunzagrapher – Own work, CC BY-SA 4.0,

    4۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام آبپاشی ہے۔

    5۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نجی  ایمبولینس نیٹ ورک ہے۔ پاکستان کی ایدھی فاؤنڈیشن، جس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہے، اس نیٹ ورک کو چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک میں ائیر ایمبولینس بھی شامل ہیں۔

    6۔ کرکٹ کے کھیل میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچوں میں کھیلنے والے دو کھلاڑیوں کی سب سے زیادہ بیٹنگ پارٹنر شپ کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کے لیے خالد عباد اللہ (پیدائش 20 دسمبر 1935) اور عبدالقادر (پیدائش 1944، وفات 2002) کی 249 رنز ہے۔ یہ میچ  24-29 اکتوبر 1964 کو کھیلے گئے تھے ۔سابق پاکستانی فاسٹ باؤلر وسیم اکرم ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں 400 وکٹیں لینے والے پہلے کھلاڑی ہیں (دوسرے نمبر پر متھیا مرلی دھرن ہیں)۔

    7۔ اگست 2017 میں پاکستان کی تخمینہ آبادی 207,774,520 تھی، جس کے مطابق پاکستان  دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔

    8۔ نام پاکستان کا مطلب فارسی اور اردو میں ‘پاکوں کی سرزمین’ ہے۔

    9۔ پاکستان سے صرف دو افراد نے نوبل انعام جیتا ہے۔ 2014 میں ملالہ یوسفزئی برائے امن اور 1979 میں فزکس کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام۔

    10۔ پاکستان دنیا کی پہلی بلند ترین اے ٹی ایم (آٹو میٹ ٹیلر مشین) کی تنصیب  پر نازاں ہے۔ یہ اے ٹی ایم کو نیشنل بینک آف پاکستان کی ملکیت ہے اور یہ پاک چین سرحد، درہ خنجراب پر سطح سمندر سے 16,007 فٹ کی بلندی پر نصب ہے۔

    11۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اس کا مالیاتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ تقریباً 17 ملین افراد کا گھر ہے۔ اس میں ایک بڑی بندرگاہ بھی ہے۔ کراچی آزادی کے بعد پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا اور 1958 میں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے تک ملک کا دارالحکومت رہا۔

    12۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو جب آزاد ہوا تو اسلامی تقویم کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور ستائیسویں شب تھی۔

    13۔ ملکہ الزبتھ دوم 1956 تک پاکستان کی ملکہ رہیں۔ اور سابق امریکی صدر براک اوباما نے 1981 میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس وقت وہ کالج مین پڑھتے تھے۔

    By Official White House Photo by Pete Souza - P120612PS-0463 (direct link)https://web.archive.org/web/20160227060205/https://www.whitehouse.gov/administration/president-obama (Official White House page - direct link), Public Domain, https://commons.wikimedia.org/w/index.php?curid=23956389
    By Official White House Photo Public Domain, Link

    14۔ گنے کا رس پاکستان کا قومی مشروب ہے۔ پاکستان میں اسے "روہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    15۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی بنیاد 23 اکتوبر 1946 کو اورینٹ ایئر ویز کے طور پر رکھی گئی۔ اس ایئر لائن کو 10 جنوری 1955 کو قومیایا گیا تھا۔ اس ایئر لائن کے پاس لندن اور کراچی کے درمیان تیز ترین پرواز کرنے کا عالمی ریکارڈ ہے۔ ایئرلائن نے یہ کارنامہ 1962 میں اس وقت سرانجام دیا جب انہوں نے 6 گھنٹے 43 منٹ، 55 سیکنڈ میں پرواز مکمل کی، یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔

    16۔  کے ٹو (چگوری) پاکستان کی سب سے اونچی اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔

    17۔ پاکستان میں تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک تہذیب  مہر گڑھ بھی ہے جو کہ 6000 سال  قبل مسیح کی تہذیب  ہے۔ مہر گڑھ کو اب وادی سندھ کی تہذیبوں کی پیش رو سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ  جنوبی ایشیا میں کھیتی باڑی اور گلہ بانی کے آثار کے ساتھ قدیم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

    18۔ پاکستان میں دریائے سندھ کے پانی میں نایاب نسل کی ’اندھی ڈولفن‘ بھی پائی جاتی ہے۔یہ دنیا کی دوسری سب سے زیادہ خطرے سے دوچار میٹھے پانی کی ڈولفن کی نسل ہے، پہلی دریائے یانگسی کی ڈولفن ہے۔

    19۔ پاکستان نے دنیا کے کم عمر ترین سول جج کے اعزاز کے ساتھ بھی تاریخ رقم کی۔ محمد الیاس نے 20 سال 9 ماہ کی عمر میں امتحان پاس کیا اور اس طرح وہ دنیا کے سب سے کم عمر سول جج بن گئے۔

    20۔ پاکستان میں ’کھیوڑہ سالٹ مائن‘ دنیا کی دوسری بڑی اور قدیم ترین نمک کی کان ہے۔

    21۔ پاکستان کے پاس دنیا کا واحد زرخیز صحرا ہے  صحرائے تھرپارکر جو  صوبہ سندھ میں واقع ہے۔

    22۔ پاکستان کے پاس دنیا کی گیارہویں بڑی مسلح قوت ہے۔ اس کی فوج میں 617,000 افراد ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کو بڑی حد تک پاکستانی فوج کی مدد حاصل ہے۔

    23۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کا قومی ترانہ دنیا کے سرفہرست قومی ترانوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے قومی ترانے کا دورانیہ 80 سیکنڈ ہے۔

    24۔ انسٹیٹیوٹ آف یورپین بزنس ایڈمنسٹریشن کے 125 ممالک سے اکٹھے کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق پاکستانی دنیا کے ذہین ترین افراد میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

    25۔ سائنسدانوں اور انجینئروں کا دنیا کا ساتواں بڑا گروہ پاکستان سے ہے۔

    26۔ قطبی خطوں کے علاوہ  دنیا کا سب سے طویل برفانی نظام – بیافو گلیشیر – پاکستان میں ہے۔

    27۔ دنیا کا سب سے بڑا مٹی کا ڈیم (اور ساختی حجم کے لحاظ سے پانچواں بڑا) پاکستان میں دریائے سندھ پر ’تربیلا ڈیم‘ ہے۔ یہ ڈیم 1968 اور 1976 میں بنایا گیا تھا۔ یہ ڈیم 143.26 میٹر اونچا اور 2,743.2 میٹر لمبا ہے۔

    28۔ پاکستان کے کل رقبے میں سے 25% رقبہ زرعی زیر کاشت ہے۔ پاکستان روس کے مقابلے تین گنا زیادہ اراضی کو سیراب کرتا ہے۔

    29۔ دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی (انسان ساختہ) جنگل پاکستان میں ہے – چھانگا مانگا جنگل (رقبہ 12,423 ایکڑ)۔ اس کا نام دو ڈاکو بھائیوں کے نام پر رکھا گیا ہے، چھانگا مانگا کا جنگل اصل میں 1866 میں برطانوی جنگلات والوں نے لگایا تھا۔

    30. پاکستانی مایہ ناز اسکواش کھلاڑی جہانگیر خان جنہوں نے  1981 اور 1986 کے درمیان، لگاتار 555 میچ جیتے (گنیز ورلڈ ریکارڈ کے درج کردہ اعلیٰ سطح کے پیشہ ورانہ کھیلوں میں کسی بھی کھلاڑی کی جیت کا سب سے طویل سلسلہ)۔

    31۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے۔

    32۔ پاکستان میں مسافر ٹرینوں کے لیے دو پٹڑیوں کے درمیان، 5 فٹ 6 انچ کا فاصلہ ہوتا ہے، یہ دنیا میں مسافر ٹرینوں کی پٹڑیوں کے مابین زیر استعمال سب سے وسیع گیج ہے۔

    33۔ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین تربیت یافتہ فضائیہ کے پائلٹ ہیں۔

    34۔ پاکستان کے ائیر کموڈور مرحوم ایم ایم عالم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ طیارے مار گرائے تھے۔

    35۔ اسلام آباد ملک کی آزادی کے ٹھیک 20 سال بعد 14 اگست 1967 کو باضابطہ طور پر پاکستان کا دارالحکومت بنا۔

    36۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔

    37۔ ترکی کے بعد پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس نے خواتین کے لیے عسکری نوکریاں کھولی ہیں۔

    38۔ دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ پاکستان میں ہے۔ شندور پاس ضلع چترال شمالی پاکستان میں واقع ہے جو 3,700 میٹر پر دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے۔ 1936 سے شندور ٹاپ پر روایتی پولو فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    39۔ پاکستان انڈونیشیا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔

    40۔  8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے کشمیر کے علاقے میں ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت کا زلزلہ آیا۔ زلزلے سے تقریباً 30 لاکھ افراد بے گھر ہو ئے، جو زلزلے سے بے گھر ہونے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    41۔ فری لانسنگ انٹرنیٹ کے ذریعے تکنیکی مہارت فراہم کرنے کا ایک طریقہ کار ہے۔ جس میں  پاکستان بھارت، بنگلہ دیش اور امریکہ کے بعد دنیا میں  چوتھے نمبر پر ہے۔

    42۔ پاکستان کی سرحدیں 17 اگست 1947 کو ہندوستان اور پاکستان کی علیحدگی کے دو دن بعد کھینچی گئیں۔

    43۔ گوادر بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی گہرے سمندر کی بندرگاہ ہے، جو بلوچستان، پاکستان کی ساحلی پٹی کے ساتھ جنوب مغربی بحیرہ عرب پر واقع ہے۔ بندرگاہ کا رقبہ 64,000 مربع میٹر ہے اور اس کی گہرائی 14 میٹر سے زیادہ ہے۔

    44۔ 1965 میں کشمیر پر پاکستان کی بھارت کے ساتھ دوسری جنگ ہوئی۔ سترہ روزہ جنگ میں دونوں طرف ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں، اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی بھی اسی جنگ میں دیکھی گئی۔

    45۔ بے نظیر بھٹو پاکستان کی اور کسی بھی مسلم قوم کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔

    46۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کی  ایک منفرد جھیل ہے – آنسو جھیل ،جھیل کی شکل ایک آنسو کی طرح ہے۔ یہ جھیل ایک بھنوؤں والی انسانی آنکھ کی طرح بھی نظر آتی ہے جو گرمیوں کے دنوں میں برف پگھلنے پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ جھیل کے مرکز میں ایک جزیرہ ہے جو آنکھ کی پتلی سے ملتا جلتا ہے۔

    46۔ پاکستان میں دنیا کی سب سے بڑی واحد گنبد والی مسجد بھی ہے – مسجد طوبی۔ یہ مسجد کراچی، سندھ، پاکستان میں واقع ہے اور مقامی طور پر گول مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ مسجد کے گنبد کا قطر 212 فٹ ہے اور اس کی اونچائی 51.48 فٹ ہے۔ یہ گنبد ایک پست گھومتی دیوار پر متوازن ہے جس میں مرکزی ستون نہیں ہیں۔ اسے 1969 میں تعمیر گیا تھا۔

    47۔ وادی کاغان کے شمالی سرے پر واقع جھیل سیف الملوک پاکستان کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہے جو سطح سمندر سے 3,224 میٹر (10,578 فٹ) کی بلندی پر ہے۔

    48۔ پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان کی شرح خواندگی میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ کسی بھی ملک میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    49۔ موہنجو دڑو پاکستان کے صوبہ سندھ میں آثار قدیمہ کا ایک  مقام ہے۔ یہ اپنے وقت کے دوران دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین شہروں میں سے ایک تھا (تقریباً 2500 قبل مسیح میں بسایا گیا تھا)۔

    50۔ پاکستان کے 6 ثقافتی تاریخی مقامات عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔

    1. موئن جودڑو میں آثار قدیمہ کے کھنڈرات (1980)
    2. تخت بائی کے بدھ مت کے کھنڈرات اور قریبی شہر سری بہلول کے باقیات (1980)
    3. لاہور میں قلعہ اور شالامار باغات (1981)
    4. مکلی، ٹھٹھہ میں تاریخی یادگاریں (1981)
    5. روہتاس قلعہ (1997)
    6. ٹیکسلا (1980)
    Takht Bhai taxila
    Shalimar Makli
    Rohtas Mohin jo Doro

    Images Courtesy : Wikipeida

    51۔ پاکستان کے شہر ٹھٹھہ میں واقع مکلی کے قبرستان میں نصف ملین سے زیادہ مقبرے اور قبریں ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے قبرستانوں میں سے ایک ہے۔ یہ مقبرے 14ویں اور 18ویں صدی کے درمیان 400 سال کے عرصے میں بنائے گئے تھے۔

    52۔ گڈانی، پاکستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ بھی ہے۔

    53۔ لاہور، پاکستان کی بادشاہی مسجد دنیا کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب نے 1671 میں بنایا تھا اور اس کی تعمیر 1673 میں مکمل ہوئی تھی۔

    54۔ گوادر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گہرے سمندر میں گرم پانی کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ اسے جنوبی ایشیا کی ایک اقتصادی راہداری سمجھا جاتا ہے جو آنے والے سالوں میں پاکستان کے لیے ترقی کے بہت سے مواقع پیدا کرے گی۔۔

    55۔ سہیل عباس، ایک پاکستانی فیلڈ ہاکی ڈیفنڈر، فیلڈ ہاکی کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، ان کے موجودہ گول کی تعداد 348 ہے۔

    56۔ پاکستان اپنے ٹرک آرٹ (پیچیدہ پھولوں کے نمونوں اور شاعرانہ خطاطی کے ساتھ ٹرکوں کو سجانے کا فن) کے لیے بھی مشہور ہے۔ ٹرکوں کو چمکیلے رنگوں  سے رنگ کیا جاتا ہے ، جن پر دلکش بیل بوٹے اور تصاویر بنائی جاتی ہیں ان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیت بہت کمال کی ہے۔

    57۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو یہاں ہندوستان کے مختلف حصوں سے 10 سے 12 ملین کے درمیان مہاجرین آئے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا ۔ سب لوگوں کو اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہا اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے میں مدد کی۔

    58۔ سلویسٹر اسٹالون کی مشہور زمانہ فلم ریمبو تھری کی شوٹنگ پاکستان میں ہوئی۔

    59۔ پاکستانی انٹیلی جنس کو دنیا کی بہترین انٹیلی جنس کور تصور کیا جاتا ہے، سی آئی اے سے بھی بہتر۔

    60۔ پاکستان اپنی میزائل ٹیکنالوجی کے لیے بھی جانا جاتا ہے جو کہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی میں سے ایک ہے۔

    61۔ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے ۔

    62۔ پاکستان دنیا میں آلات جراحی کے سرفہرست پروڈیوسر اور برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ان آلات میں سے تقریباً 99 فیصد سیالکوٹ میں تیار کیے جاتے ہیں۔

    63۔ پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے (2017)۔

    64۔ پاکستان ایک بہت بڑا اور متنوع آبادی والا ملک ہے۔ پاکستانی معاشرے میں کئی نسلی گروہ ہیں۔ جن میں قابل ذکر درج ذیل ا ہیں:

    – شمال: واخی، شناکی، درد، بروشو، اور بلتیز؛

    -جنوب: مہاجر اور مکرانی؛

    – مشرق: کشمیری، پنجابی، سندھی، اور پوٹھواری۔

    – مغرب: پشتون، ہزارہ اور بلوچ۔

    65۔ پاکستان کی مشہور پہاڑی چوٹیاں، ان کی کل اونچائی، اور عالمی درجہ بندی۔

    مشہور پہاڑی چوٹیوں کی اونچائی اور عالمی درجہ بندی میں نمبر

    کے ٹو (چگوری) 8616 میٹر دوسرا

    نانگا پربت 8125 میٹر 8 واں

    گاشربرم -I 8068 میٹر 11 واں

    بروڈ پیک 8065 میٹر 12ویں

    گاشربرم-II 8047 میٹر 14 واں

    گاشربرم III 7952 میٹر 15 واں

    گاشربرم -IV 7925 میٹر 16 واں

    دستاغل سر7885 میٹر20 واں

    کنیانگ چھیش 7852 میٹر 22 واں

    ماشربرم  7821 میٹر 24 واں

    راکاپوشی 7788 میٹر 27 واں

    بتورا سر I 7785 میٹر 28 واں

    کنجت سر 7760 میٹر 29 واں

    سالٹورو کانگڑی 7742 میٹر 33 واں

    ترِووُر 7720 میٹر 36 واں

    تریچ میر 7708 میٹر 41 واں

    66۔ دنیا کا پہلا پی سی وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے بنایا۔ باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے "دماغ” نامی وائرس تخلیق کیا، جسے 1986 میں دریافت کیا گیا اوراس نے IBM کمپیوٹر پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا۔

    67۔ وادی سندھ کی تہذیب، جو دریائے سندھ اور ڈیلٹا کے گرد پھلی پھولی، دنیا کے قدیم ترین معاشروں میں سے ایک ہے جس کی تعمیرات، آثار آج ان کے شہروں اور دنیا کے کئی عجائب گھروں میں محفوظ ہیں۔ قدیم مصری اور میسوپوٹیمیا تہذیب کے ساتھ سندھ کی تہذیب پرانی دنیا کی ابتدائی تین تہذیبیں ہیں جہاں سے سندھ سب سے زیادہ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ تہذیب درجنوں منصوبہ بندی سے آباد کیے گئے  شہروں اور قصبوں پر مشتمل ہے جس میں حمام، شہری نکاسی آب اور پانی کی فراہمی کے نظام اور بہت سی بڑی بڑی غیر رہائشی عمارتیں ایک باقائدہ حکومتی نظام کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    By Trish Mayo from New York, US - P1250552, CC BY 2.0, https://commons.wikimedia.org/w/index.php?curid=6923484
    By Trish Mayo from New York, US , CC BY 2.0, Link

    67۔دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ ماہر ارفع کریم (مرحومہ) جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بابر اقبال ایک اور قابل فخر پاکستانی ہیں جو اسی کارنامے پر ارفع کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔

    68۔ 1994 میں، پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے ایک ساتھ مختلف مین اسٹریم کھیلوں میں 4 ورلڈ کپ ٹائٹل اپنے نام کیے۔ ان کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور اسنوکر شامل ہیں۔ پاکستان نے 1992 کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ اور 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔

    69۔ پاکستان دنیا کے بہترین جیٹ لڑاکا طیارہ ساز ممالک میں سے ایک قابل فخر ملک ہے۔ جس نے طاقتور JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ تیار کیا ہے جسے اب ملک برآمد بھی کر رہا ہے۔

    69۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو ان 11 ممالک میں شامل کیا جو مستقبل قریب میں دنیا کی اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    71۔ پاکستان مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے 25ویں نمبر پر ہے جس میں چنے سرفہرست ہیں، آم میں 5ویں، کھجور میں 6ویں، چاول میں 8ویں، گندم میں 9ویں اور نارنجی کی پیداوار میں 10ویں نمبر پر ہے۔

    72۔ پاکستان براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی ترقی کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

    ماخذات:

    دی فیکٹ فائل

    یو ایس نیوز

    دی کلچر ٹرپ

    بگ سیون ٹریول

    آسٹریا فورم