Tag: سجدہ

  • سجدہ

    سجدہ

    سجدہ

    صفدر علی حیدری 

       مریم بی بی کی آنکھ حاجی صاحب کے رونے کی آواز سن کر کھلی تھی ۔ یقیناَ تہجد کا وقت تھا اور وہ حسب عادت سجدے میں سر رکھے ہچکیوں میں رو رہے تھے ۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا ۔ تہجد کی نماز کے بعد وہ سجدے میں گر کر خوب روتے اور ایک ہی دعا مانگتے 

    ” یا اللہ مجھے عین حالات سجدہ  میں موت دینا "

    اس کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی مگر آج وہ جانے کیا سوچ کر رک سی گئی تھی ۔  اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ انھوں نے فجر کی نماز کے لیے وضو بھی کرنا ہے ۔ جانتی فجر کی نماز ابھی وقت تھا سو وہ اطمینان سے وہاں کھڑی یک ٹک ان کو دیکھ اور سن رہی تھیں ۔ خدا خدا کرے ان کا وہ طویل سجدہ ختم ہوا ۔ وہ اٹھے تو ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی ۔ قمیص تک گیلا ہو چکا تھا ۔ اب وہ مصلے پر دو زانو بیٹھے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے  خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ رونے کی ہلکی ہلکی آواز اب تک آ رہی تھی اور ان کا وجود ہل بھی رہا تھا ۔ انھیں نارمل ہونے میں کچھ دیر لگ گئی ۔

    ” حاجی صاحب ایک بات تو بتائیں ۔۔۔”

    وہ ایک دم سے چونک اٹھے ۔ استغراق کا یہ عالم تھا انھیں پتہ ہی نہ چلا ، کوئی کب سے انھیں دیکھ رہا ہے ۔ ویسے بھی سجدے میں دکھائی کب پڑتا ہے ؟ اوپر سے آپ رو بھی رہے ہوں ۔ ایسے میں قدموں کی چاپ کب سنائی دیتی ہے ۔

    ”  خشوع و خضوع ہو تو ایسا "

    وہ اپنے شوہر کے تقوے کی دل سے قائل تھی ۔ اس نے ان جیسا نیک دل انسان آج تک نہیں دیکھا تھا ۔ اس نے ولیوں کا صرف ذکر سنا تھا یا کتابوں میں پڑھا تھا ۔ دیکھا بس انہی کے روپ میں تھا ۔

    ” پوچھو بھئی پوچھو ، تمھیں اجازت کی ضرورت کب سے پڑ گئی ؟

    وہ نرمی سے بولے ۔ ہر ایک سے ان کا لہجہ ایسا شفیق ہوتا کہ پل بھر میں غیروں کو بھی اپنا کر لیتے ۔

    ” آپ ماشاءاللہ بہت نیک انسان ہیں ، حاجی ہیں ، کئی عمرے کر چکے ہیں ۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں ۔ اللہ کی راہ میں دل کھول کر خرچ کرنے والے بھی ہیں ۔ کیا آپ کی بخشش کے لیے یہ سب کافی نہیں ہے ، جو آپ سجدے میں جا کر سجدے میں مرنے کی دعا مانگتے ہیں "

    وہ ان کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئی بولی ۔ حاجی صاحب کے چہرے پر موجود مسکراہٹ اور گہری ہو گئی ۔ وہ مسکراہٹ ان کے چہرے کا لازمی حصہ تھی ۔ مریم بی بی نے آج تک انھیں پریشان یا مایوس نہیں دیکھا تھا ۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنا من مار چکے ہیں 

    اکثر کہا کرتے تھے 

    ” تیری مرضی میرے مولا تو جس حال میں رکھے "

    ” بھئی میں اپنی طرف سے تو کوشش کرتا ہوں کہ نیک کام کروں اور برائی سے بہر طور بچا رہوں ہر وہ کام کرتا ہوں جو اسے خوش کرے تاکہ وہ مجھے راضی رہے  مگر ۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم کہ میرے اعمال اس بے نیاز نے قبول بھی کیے ہیں یا ۔۔ "

    سجدہ

    ” تو پھر تو آپ کو حالت ایمان پر موت اور اعمال کی قبولیت کی دعا مانگنی چاہیے ، اور آپ ہیں کہ سجدے میں مرنے کی دعا کرتے رہتے ہیں "

    مریم بی بی نے حیران ہو کر کہا 

    ” حیرت ہے ، کیا تم نے نہیں سنا کہ انسان جس حالت میں مرے گا اسی حالت میں اٹھے گا ۔ اب اگر میں حالت سجدہ میں دنیا کو چھوڑتا ہوں تو اٹھوں گا بھی تو اسی حالت میں ، تو تم ہی بتاؤ یہ کتنی بڑی سعادت ہو گی ۔ میں تو کہوں گا تم بھی میرے لیے یہی دعا کیا کرو ۔۔۔۔

    ”  حاجی صاحب کہیں آپ کے لاشعور میں یہ بات تو نہیں ہے کہ لوگوں کی زبانوں پر آپ کے ذکر جاری رہے گا ۔ بڑی واہ واہ ہو گی ۔ خوب چرچا ہو گا  کہ حاجی صاحب بڑے نیک انسان تھے ۔ کتنی پیاری موت آئی ہے انھیں ۔ عین سجدے کی حالت میں رب نے انھیں اپنے پاس بلوا لیا ۔ زندگی تو ایسی موت ہو تو ایسی ۔۔۔ "

     بالآخر اس نے آج وہ سب کہہ ڈالا جو کب سے اسے پریشان کر رہا تھا ۔ وہ شوہر کی ناراضی کے خیال سے زبان پر لانے سے ڈرتی تھی ۔ عزت بھی تو بہت کرتی تھی ۔ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی  کسی بات سے ان کا دل دکھے ۔

    حاجی صاحب کے اعصاب پر گویا بم سے آن گرا ۔ وہ بت کی مانند ساکت سے ہو گئے ۔ پھٹی پھٹی نظروں سے بیوی کو یوں دیکھنے لگے جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں یا بہت عرصے بعد ۔۔ جانے کتنی دیر یونہی گزر گئی ۔ پھر اچانک وہ منظر متحرک ہوا اور وہ چیخ مار کر سجدے میں جا گرے ۔

    ” یا اللہ مجھے معاف کر دے ۔۔ میرے رب مجھے بخش دے ۔ میری التجا سن لے ۔ مجھے حالت سجدہ میں کبھی موت نہ دینا ، کبھی نہ دینا ۔۔ 

    ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ پورے گھر میں گونجنے لگی تھی ۔ سب گھر والے اکٹھے ہو گئے مگر وہ ان سب سے بے نیاز ایک ہی دعا مانگ رہے تھے کہ ان کی موت سجدے کی حالت میں نہ ہو ۔

    وہ مسلسل رو بھی رہے تھے  ، دعا بھی مانگ رہے تھے کہ اچانک ان کی آواز تھم گئی اور وہ ایک دم سے دائیں طرف کو لڑھک گئے ۔ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہی کھڑی تھی ، گھبرا کر آگے بڑھی اور انھیں اٹھانا چاہا مگر ۔۔۔۔ ان کی چیخ نکل گئی اور منہ سے بمشکل نکلا 

    ” انا للہ و انا الیہ راجعون ” 

     ۔۔۔

    آخر میں جب حاجی صاحب گر پڑے تو مریم بی بی ساکت کھڑی رہ گئیں۔

    ان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ زبان خشک تھی۔

    رات کی خاموشی میں ان کی سانسیں ہولے ہولے لرز رہی تھیں۔

    وہ حاجی صاحب کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں۔

    وہ چہرہ جو ساری عمر خدا کی محبت کا آئینہ تھا۔

    اور اب اس پر ایک عجیب قسم کا سکون تھا۔

    جیسے کسی دیرینہ سوال کا جواب مل گیا ہو۔

    مریم بی بی کے دل میں ایک تیر سا لگا۔

    تو نیت کا فرق اتنا گہرا تھا؟

    ساری عمر کی عبادت اور ایک لمحے کی نیت…

    کس پل کس طرف جھکا دیتی ہے… انسان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی۔

    وہ آہستہ سے بیٹھ گئیں۔

    حاجی صاحب کی انگلیاں تھامی رہیں۔

    اور بہت دھیرے سے کہا:

    "اے میرے اللہ… نیت کو سیدھا رکھ دینا…

    ورنہ سجدے بھی کبھی کبھی… بت بن جاتے ہیں۔”

    گھر کے کونے میں اذان کی پہلی ہلکی صدا ابھری تھی۔

    فجر شروع ہو رہی تھی۔

    اور ایک سجدہ… ہمیشہ کے لیے مکمل ہو چکا تھا

    ۔۔۔۔

  • سجدہ دی حقیقی شاعری

    سجدہ دی حقیقی شاعری

    سجدہ دی حقیقی شاعری 

     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )

    سب توں پہلے مقبول ذکی مقبول مبارک باد دے حق دار ہِن مبارک باد پیش کرینداں کیوں جو ایں اوکھے تے مصروف دور دے وچ اے جائیں کتاب ٫٫ سجدہ ،، لکھی ہے تے با ذوق لوگاں توں داد آفرین وی گدھی ہے بھئی اے اُو وقت ہے جو کہیں کُوں سر کھݨ دا ٹائم  وی کوئی نئیں مقبول ذکی اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے چھپا کے اے ثابت کیتائے جو منکیرہ دی سر زمین تے وی کوئی عاشقِ محمّد و آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم موجود ہے ۔ پیاری شاعری ہے ۔ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ دی اے عطا تھائی ہے ورنہ کوشش روز نال اے چیز نئیں ملدی ۔

    کیڈا پیارا شعر لکھائے مقبول ۔

    علی مرتضیٰ ؑ دا توں بچڑا امام اے

    زمانہ بھجیندائے درود و سلام اے 

    مقبول ذکی مقبول ہک اچھا ادیب تے اچھا انسان وی ہے ۔ منکیرہ ( بھکر ) دی پہچاݨ بݨ گئے ہِن شاعری دے حوالے نال میں بندہ حقیر ہک چھوٹا جیا مولا حضرت امام حسین علیہ السّلام دا ذاکر ہاں ہک مقام تے دوران مجلس میں مقبول ذکی مقبول دا اے شعر پڑھا ہے اچھی خاصی داد ملی ہے ۔

    نال روضے دے بہہ نعت لکھدا راہواں 

    ڈیھنہ او آوے دعائیں میں منگدا راہواں 

    پاک محفل سجے عرشی فرشی آون 

    میکوں رنگ لگ ونجن نعت پڑھدا راہواں 

    اوں ویلے میڈے دل وچوں دُعا نکلی ہے اللّٰہ پاک قلم وچ ایں توں زیادہ اثر عطا کرے آمین 

    سجدہ دی حقیقی شاعری

    دیکھو کتنی عقیدت و محبّت ہے اللّٰہ تعالیٰ تے اُوندے پاک رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نال ۔ اہلیانِ  منکیرہ دے باذوق لوگاں دی اکھ کھُل گئی ہے جو ساڈی دھرتی تے وی ایجھیں ادیب لکھاری موجود ہِن ۔ حالانکہ پہلے وی بہوں سارے شاعر اتے ادیب ہِن جیوں سعید احمد حاشر ، محمّد اقبال بالم ، علی شاہ ( مرحوم ) میڈا پیو زوار سرفراز فقیر (  پیدائش 1933ء ۔  وفات 12 اگست 2008ء ) اووی شاعر و ادیب ہَن ۔ لیکن اُنہاں شاعراں اپنا کلام شائع نئیں کیتا اگر کیتا ہے تاں لوگاں کُوں کوئی خاص علم نئیں میں تاں اے چاہنداں ہاں ۔ اہلیانِ منکیرہ دے وچ زیادہ توں زیادہ شاعر پیدا ہون تاکہ عوام نِندر  کنوں بیدار تھیوے

    جیویں جو علامہ ڈاکٹر محمّد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمائے گئے ہِن 

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    اِسے شعر دے مصداق ہِن مقبول ذکی مقبول اللّٰہ کرے اے حوصلہ قائم و دائم رہوے اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، سرائیکی رثائی ادب وچ اضافہ ہے حالانکہ ضلع بھکر ادب دی دھرتی ہے بہوں اچھے تے بزرگ قابلِ تعریف شاعر تھی گزرن جویں جو بابائے ذاکری بابا سید سید علی شاہ چھینوی ،  چھیناں والے ، سید غلام حسن شاہ تائب ، غلام سکندر خان غلام  موجودہ دور وچ سائیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، بئے وی کافی شاعر ہِن ۔

    مذہبی شاعری مجموعہ ٫٫ سجدہ ،،

      دے وچ حمد ، نعت ، سلام ،، منقبت ، قصیدے ، مرثے ، ڈوہڑے ، اے ثابت کریندِن کہ مقبول ذکی مقبول ہک عظیم مذہبی عقیدت رکھڑ آلے امن پسند شاعر ہِن ایندے قلم و فکر وچ اللّٰہ پاک ہور برکت پاوے ۔

    دیکھو قرآن کریم یعنی کلام اللّٰہ ہک مکمل ضابطہ حیات ہے اِس دے وچ کوئی شک و شبہ دی گنئش نئیں کیا خوب ( سُورۃ فیل) دی ترجمانی کیتی ہے ۔

    اپݨے گھر دی مالک تئیں تاں آپ حفاظت کیتی ہے 

    چھوٹے چھوٹے پکھواں کولوں ہاتھیاں کُوں مروایا ہے 

    اے ہݨ دیکھو کیا سوہݨی گاہل لِکھی میں اے آدھا ہاں واقعی مقبول مقبول ہے میں ہک مجلس وچ اے حمد پڑھڑی ہے وڈی داد ملی ہے تاں میکوں اندازہ تھی گئے جو مقبول ذکی مقبول دی شاعری وچ وزن ہے ۔ وَل جڈاں میں سجدہ پڑھئے 

    نظم سجدہ 

    سجدے دے وچ ربّ دا عاشق 

    خنجر گل تے رکھا فاسق 

    سارا عالم ویݨ کریندائے

    ہائے ہائے ساڈا رہبر صادق 

    عرشی ، فرشی کُل نبیاں ؑ نے 

    بیا ڈِٹھا سجدہ خالق 

    نیزے تے وی پاک تلاوت 

    اصلی اے قرآنِ ناطق 

    ڈیکھ شہادت رنگ بدلا گئے 

    کربل ، سورج ، مغرب ، مشرق 

    شعر لکھاں میں آلِ نبی ؐ تے 

    اللّٰہ میکوں کر چا لائق 

    چوڈاں ؑ دا بس نپ گھِن دامن 

    توں مقبول جو تھی ونج حاذق

    اتھاں میں ہُݨ مجبور ہاں جو کیوں میں اِس کلام دی تعریف نہ کراں تاریخِ اسلام میڈے سامݨے ہے ۔ بابے آدم علیہ السّلام توں گھِن کے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک کہیں نبی ( صہ) نہ ایجھاں سجدہ ڈتئے نہ وَل قیامت تک کوئی ڈیسی ذکی جویں جو اے سلام پاک حسین علیہ السّلام تے لکھائے ۔

    سلام 

    دینِ حق کوں عظمت بخشی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    محشر توڑیں روشن راہسی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    پاک نبی ؐ دی پگ اطہر ہے آقا تیڈے سر اطہر تے 

    دینِ حق دا توں ہیں بانی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    کیتا کل سنسار معطر تیڈے پاک لہو اے مولا 

    خوشبو محشر توڑیں آسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    قاسم ، اکبر ، اصغر بچڑے کُس گئے سارے کربل آخر 

    تیڈے صبر دی شان نرالی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    اوکھا سجدہ کربل تیڈا سجداں دی او شان بݨا گئے 

    جگ دے سجدے بچ گئے باقی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    دامن تیڈا جئیں ہے نپیا اُس دا بیڑا پار ہے مولا 

    حوضِ کوثر تے او ویسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    تیڈی پاک کریمی ایجھئیں حُر ؑ   کوں تئیں ہے بخشی عظمت 

    جگ تے اوندی شان ہے بݨ گئی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    کفر دا ملیا میٹ تئیں کیتا کل ایمان دا بچڑا توں ایں 

    تیڈی عظمت ہے لاثانی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    کیا خوب صورت سلام تُساں ملاحظہ کیتئے  شاعر آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ، مقبول ذکی مقبول تے ایہا عقیدت ہے جہڑی سینہ چیر کے باہر نکل آندی ہے گاہل خق اے جو حق کوں جتنا دبایا ونجے اُتنا ہی ابھردائے ۔

    میں اپݨے پاروں ہک شعر لِکھداں مقبول ذکی مقبول واسطے 

    مقبول  دی  شاعری  پڑھ  کرائیں 

    گونگے کوں وی بولݨ دا ڈھنگ آونجے

    قارئین کتاب ٫٫ سجدہ ،، کوں پڑھݨ دی  میڈے سنگتیاں  خواہش ظاہر کیتی ہے جیندے وچ سید نیاز عباس شاہ اُنہاں پڑھݨ دا شوق ظاہر کیتئے بیا کافی لوگ ہِن ۔ جہڑے اے گاہل آ دھے پئے ہن تے میں وی سݨا ہے جو مقبول ذکی بہوں اچھے شاعر ہِن بندہ وی عظیم ہے اچھا اخلاق وی ہے حالانکہ او صحت دے شعبہ نال وابستہ تھی کے ڈُکھی لوگاں دی مرہم پٹی کریندے ہے تے او بیا شاعری دے ذریعے ڈُکھی  انساناں دے روحاں دی وی دوا وی کریندے ہے اے بہوں وڈا شرف ہے وڈی عزت ہے آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دے دربار پاک وچ اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے اُنہاں اپݨی تے اپݨے سنگتیاں دی آخرت سنواری ہے ۔ سرائیکی ادب دی دُنیا وچ بہوں وڈا اضافہ کیتائے ہے ۔ اللّٰہ پاک اپݨی بارگاہ وچ قبول فرمائے آمین

     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )
     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )
  • عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    مبصر   (پروفیسر میاں ارشد حسان)

    عاصم  ایک نہایت حساس شاعر واقع ہوئے ہیں لیکن ان کی حساسیت فطرت کے اس استحصال کو کسی گہرے فلسفیانہ اور سائنسی بیانیے میں نہیں الجھاتی  اور نہ ہی وہ موضوع کی نزاکت کو منطقی بحث کا رنگ دے کر ثقیل اور گنجلک بناتے ہیں۔ ان کے اسلوب کی سادگی، ممد و معاون ہوتی ہے ۔ 

    خطا ہم سے ایسی کیا ہو گئی ہے 
    سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی ہے 

     دھوئیں کے کیے ہم نے اسباب پیدا 
     بڑی ہم سے مولا خطا ہو گئی ہے 

    جلایا ہے خود ہم نے فصلوں کو جب سے 
    یہ زہریلی تب سے فضا ہو گئی ہے 

       پانی حیات ہے اور حیات پانی۔  اسے ہی سرچشمہ حیات کہا گیا ہے۔( وجعلنا من الماء کل شی حی)۔ قرآن کی اس آیت( وکان عرشہ علی الماء ) یعنی رب کا عرش پانی پر تھا کی تفسیر میں مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے پانی کو پیدا کیا گیا۔پانی کی اہمیت مذاہب کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں جس قدر ہے بیان ہوئی ہے شاید کسی  اور چیز کی بیان ہوئی ہو۔ ہمارے ادب  میں پانی کی ماہیت و خاصیت پر عجب معنی آفرینی ملتی ہے۔ ” ایک خنجر پانی میں”  کی یہ سطریں تو چونکا دیتی ہیں کہ 

    "پانی سب یاد رکھتا ہے ساری دعاؤں اور بد دعاوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ بولے گئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا اس کا حافظہ دائمی ہے۔”

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

        عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری میں جس چیز کا ذکر سب سے زیادہ ملتا ہے وہ پانی ہی ہے۔ پانی طہارت کا وسیلہ ہے ( وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم)۔ کرہ ارض کا 3/4 حصہ پانی ہے ، انسان کی جسامت کا 70 فی صد پانی اور اس کے خون کا 90 فی صد پانی ہی ہے۔ الغرض پانی کی اس درجہ اہمیت نے قلب شاعر پر وہ بارش احساس کی ہے کہ ہمیں ان کی شاعری میں  مندرجہ بالا سارے حوالے مل جاتے ہیں۔

     جس  سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو 
    اس کے بھی تو کچھ ہوں گے ہاں اسباب دوستو

     اس وقت موت کا ہے جو سامان بنا ہوا 
    حالانکہ زندگی ہے یہی آب دوستو 

    سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے

     آ کے سیلاب نے یہی پوچھا پانی سے تو پانی سے کام تم نہیں لیتے

     پانی آلودہ کارخانوں کا میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے

     مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے۔

       عاصم بخاری کے ماحولیاتی  تناظر میں لکھی گئی کچھ نظموں کے نام یہ ہیں : لگا احساس کی عینک، تمہیں یاد ہوگا، چھپڑ ،کچے مکاں، سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی، فوق کا دھند کا ہر طرف راج ہے، سموگ، کارخانے۔  ان کی علامات، تشبیہات بلکہ سارا استعاراتی نظام اسی قدرتی ماحول سے کشید کردہ ہے۔ نمونے کے لیے ان کی نظم اخلاص، ہماری یہ روایت ہے، ہم ہیں پروردہ اسی ثقافت کے وغیرہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔  حتیٰ کہ ان کی حمدیہ نظم کی تخلیق بھی اسی فطری قدرتی ماحول کے سیاق میں ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ کہ ان کی حمدیہ نظم میں بھی آپ کو قدرتی اور فطری ماحول کی عناصر ملیں گے۔

    شکر شہری بھی ہیں بجا لاتے 

    شہری بھی شکر ہیں بجا لاتے 

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں وہ پرندوں کا اپنی بولی میں

    شکر پروردگار کا کرنا

    شوق سجدہ میں جھومتا سبزہ

    سجدہ شکر میں سبھی فطرت 

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں

  • مقبول دا مقبول سجدہ

    مقبول دا مقبول سجدہ

    تبصرہ نگار :  سید حبدار قائم 

    مقبول ذکی مقبول ادبی دُنیا دا او ستارہ اے جس سرائیکی وسیب نوں بہت اُتے لیاندا اے اور اس دی شاعری ، اس دے تبصرے ، اس دے انٹرویوز مختلف اخباراں دے وچ چھپدے رہندے نے مینوں اے کہندیاں بڑی خوشی ہوندی اے کہ مقبول ذکی مقبول  میرا دوست ہے ۔ جس اپنی کتاباں وچ میرا ذکر کیتا اور مینوں محبتاں نال نوازا اے ۔ فیس بک ہک ایسا دریا وے جس دے وچ مینوں بڑے اچھے اچھے دوست ملے نے  جنہاں وچ ارشاد ڈیروی  ،  مقبول ذکی مقبول ،  پروفیسر ریاض قادری اور دوسرے بہت سارے شعراء جنہاں دا ذکر کراں تے مضمون بہت طویل تھی ویسی بس میں صرف مقبول ذکی مقبول  دے فن تے گل کرداں مقبول ذکی مقبول ہوراں میرے واسطے کتاباں بھیجیاں جنہاں دا میں مطالعہ کیتا تے مینوں پتہ لگا اے کہ ہک اچھے نثر نگار دے نال مقبول ذکی مقبول اچھا شاعر وی اے جہڑا پنجابی بی لکھدا اے تے اُردو بی لکھدا اے مقبول ذکی مقبول دی شاعری حضرت محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دی اہل بیت علیہ السّلام دے نال  مشک بو رہندی اے ۔ مقبول ذکی مقبول دی شاعری وچ بلاغت وی ہے سلاست وی ہے ۔ انہاں دی شاعری عام فہم اے جہڑا کہ ہر بندہ سمجھ سکدا اے اور اس دے اُتے بحث کر سکدا اے مقبول ذکی مقبول نے قلم دا جدوں دا سہارا لیا اے انہاں دی ڈھیر ساری کتاباں منظرِ عام تے آیاں نے ۔ جس دے وچ ویکھن آلیاں بندے واسے بہت کجھ اے انہاں نے اپنے علاقے دا تعارف اتنے اچھے انداز چے کرایا اے کہ میں بھی کئی دفعہ خواہش کرداں کہ میں وی انہاں دے علاقے وچ ہوندا تے مقبول ذکی مقبول مینوں ہی اسی طریقے نال پیش کردے جس طرح نال انہاں بہت سارے شعراء دے انٹرویو کیتے انہاں دی کتاباں دے تبصرے کیتے اور انہاں دے متعلق بہت کچھ لکھا اے ۔

    اصل وچ مقبول ہوراں مرثیہ نگاری نال عشق کریندن اس واسے مقبول ، مقبول تھی گئین تاریخ دسدی اے جہڑے لوگ وی حضورؐ دی اہل بیت علیہ السلام نال جڑن او دُنیا تے بی عزت دا نشان بنڑیں تے آخرت وچ وی ۔

    مقبول ذکی دا وڈا وصف اے ہے جی اے کتاب نال جڑے پیئن تے جہڑا بندہ کتاباں اچ رہندا اے اس دے اوصاف اچ اضافہ ہی تھیندا اے تے نالے او بہوں کجھ سکھدا بی اے ۔

    سجدہ

    شاعری خدا داد صفت اے جہڑے عروضیے ہِن او صرف قافیہ پیمائی کردن جہڑی تھوڑی دیر چلدی اے لیکن قدرتی شاعر ہمیشہ واسے امر تھی ویندن انہاں دے ذکر مسیتاں اچ منبر تے وی تھیندا اے تے میخانے اچ بی تھیندا جس دا عملی ثبوت اسی تکدے پئے ہاں ۔

    مقبول  کولوں میں کتاب منگی تے انہاں نے مینوں کمال محبّت نال عطا کیتی میں کتاب پڑھ کے ای گل محسوس کیتی کہ ذکرِ اہل بیت علیہ السّلام مقبول دی ہر گل وچ وسدا اے تے انہاں دی رگ رگ وچ کربلا دا ذکر روندا پیا اے تے اتھرو انہاں دی کھاکھاں دے طواف پۓ کردن ۔

    مقبول ذکی مقبول سیاپُل تے بٙھلمٙانڑُس شاعر اے جہڑا لکھت پڑھت نال پہچانڑاں وینا اے اخباراں بھریاں پیاں نیں جنہاں انہاں دیاں لکھیاں گلاں محفوظ کیتیاں نیں نال ای فیس بُک وچ انہاں دے فوٹو لگے پیئین۔ سیانڑے آکھنن کہ جہڑا بندہ بی حضور صلى اللّٰہ عليه وآلہ وسلّم  دی اہل بیت علیہ السّلام نال جڑیا اے اُساں اللّٰہ دی پاک ذات چھپنڑ نیں دیندی اس دیاں تعریفاں ساری دُنیا کر دی تے ایہا گل مقبول ذکی مقبول دی اے جہڑی سچی گل اے جے بہوں مقبول تھی گیا اے ساری دُنیا تے جانڑاں پہچانڑاں ویندا اے ۔

    مقبول دی حمد ہووے یا نعت ہووے یا سلام ہووے سارے عشق و عقیدت نال بھرے ہوئے ہوندے نیں جذباتی وفور ویکھ کے مقبول دا معترف ہونڑاں پیندا اے ۔

    اگر حمد دی گل کرو تے اس شعر وچ مقبول کن فیکون دی گل اس چیز دی ضامن اے جے مقبول قرآن مجید دی سورہ یٰسین دی عرق ریزی کر کے ایہہ شعر کشید کیتا اے جس وچ ہک عجیب جیہا سرُور اے ذرا پڑھ کے وحدت دی چس لو :

      یاربّ سچا لفظِ کُن تے کل سنسار بݨایا ہئی

    ڈیکھݨ آلے کوں ہر شئے وچ اپݨا روپ ڈِکھایا ہئی

    کائنات دا ذرہ ذرہ خالق دی گواہی پیا دیندا اے لیکن ساری تخلیق بادشاہ نے آپڑیں محبوبؐ دی خاطر کیتی اے تے رزق وی انہاںؐ دے وسیلے نال ملدا اے اس گل دا سوہنا اظہار اس شعر وچ ویکھو کہ کیڈا سوہنا انداز اے ۔ :

     جتنے وی جن و بشر ہِن یا اِتھاں کوئی پرند 

    آپؐ دے صدقے پیا اے سارا عالم کھاندا ہے

    ساری کائنات حُسن دا منبع اے تُسی جس چیز نوں ویکھو ربّ دا نور لاٹاں پیا ماردا اے ہکو پرندیاں تے نظر مارو تے پتہ لگ ویندا اے کہ انہاں دا مصور تے خالق خود کڈا سوہنا ہوسی پرندیاں دے رنگ ڈھنگ سارے وکھرے وکھرے نیں جنہاں دے اڈن دا انداز وکھرا اے انہاں دی خوراک وی وکھری اے  انہاں پکھواں نوں رزق وی سوہنے محمّدؐ و آلِ محمّدؐ دے صدقے ملدا اے ویکھو ذکی  کیجا سوہنا شعر لکھیا اے ۔ : 

     پکَھو دِرکھاݨ دے سوہݨے کھمباں اُتے 

    ہِک زباں وچ خُدا آلِ احمد لِکھی

    کائنات دی ہر شے سرکار تے ناز کردی اے بس انہاں دا انداز وکھرا وکھرا اے میں اکثر سوچنا واں جے کوثر بی کتنی خوش نصیب اے جے آلِ محمّدؐ دے ہتھوں ساریاں جنتیاں نوں پوائی ویسی ایس گل تے او ناز تاں کردی ہوسی اسے  خوبصورت خیال دا اظہار ذکی  بی بہوں سوہنا کیتا اے ۔

    اے لو خود اکھیاں ٹھڈیاں کرو :

     کیتا ہے ناز کوثر خود اپݨے اُتے 

    شکر ہے یا خدایا تیڈی ذات دا 

    آیا ساقی میڈا اے وڈا باامر 

    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    حُسنِ یوسف علیہ السّلام اُتے تاں انگلیاں کٹیاں سن تے ساڈے آقا پاکؐ اُتے تاں سر پۓ کٹدے ہن تے کٹدے راہسن ۔ سوہنے ہی اتنے ہن جے ربّ خود عاشق ہو گیا۔ اگے ویکھو تاں مولا حسین علیہ السّلام دا بچڑا سرکار دُعاواں نال گھدا اے جہڑا حضورؐ دا ہم شکل اے جیندے ویکھن کان پرندے رک جاندے سن ہواواں مشکبو ہو جاندیاں سن جس دی کربلا وچ قربانی نبی پاکؐ دا دین بچا گئی اے ۔ مقبول ہوراں نے کیڈا سوہنا شعر انہاں تے لکھا اے ۔ ذرا شعر پڑھو سبحان اللّہ سبحان اللّہ :

     پاک حسین دا بچڑا جانی 

    نانے پاک دی پاک نشانی 

    اکبر اکبر یوسف ثانی 

    یثرب چمکا گھڑی سہانی 

    نام علی شبیر رکھا ہے 

    اکبر سوݨا لقب ملا ہے

    کربلا آلے خود تاں تسے رہ گئے لیکن ساری دُنیا دی پیاس بجھا گئے انہاں دی اس قربانی نوں شاعر کیڈا سوہنا سلام پیا دیندا اے : 

     دریا دے نال تسا خنجر تلے ریہا ہیں 

    ایں بے مثال تیڈی شہادت کوں ہے سلام

    ذکی لفظاں نال پیار کردا اے او نقطیاں دا محتاج وی کوئی نئیں بغیر نقطے کیڈی سوہنی گل کیتس ذرا ویکھو تاں سہی ۔ :

    کٹا کے سر کوں مکائی رولا مکار مٹ گئے دہر دے سارے 

    وصیءِ احمد علی ولی دے اے دل دا ٹکڑا سلام ہو وی

    اگر گل لمی کراں تے ہور بہوں کجھ لکھ سکداں لیکن کجھ گلاں قاری اُتے بی چھوڑنیاں چاہیدیاں نیں اس واسے کجھ ہور شعر بی لکھداں تے انہاں دا فیصلہ توہاڈے فہم و شعور تے سٹداں ۔ لو جی خود ویکھو تے سانوں ہی دُعاواں اچ یاد رکھو ۔ :

     بدلا نصیب حُر دا خطبے تہاڈے مولا 

    رحمت تہاڈی رکھا حُر دا بھرم حسین

     اِہم ہک پیغام ہے رحیم تے رحمٰن دا 

    نبی دے بعد ہے علی مولا ہر انسان دا 

    لب نبی دے کھل گئے گونج اٹھی آواز ہے حسین ہے ماحول تے خوشی دا کھلیا راز ہے 

    تھکے ہوئے مسافراں دا حال وی ناساز ہے 

    زمین تے ملائکہ دا تھی گیا آغاز ہے 

    زمین خوش بدل گیا ہے رنگ آسمان دا 

    خوشی توں چہرہ چمکدائے صحابی سلیمان دا

     حرم دی سر زمیں اُتے سدا دُنیا گواہ راہسی 

    نبوت تے امامت کوں نکھارا ہے ابو طالب

     علم عباس دا

     میں ڈیہدا ہاں جس دم علم تیڈا غازی ادب نال سر کوں جھکا کھڑدا  ہاں 

    میں صلواۃ  پڑھ کے تیڈی ذات تے ایویں تسکین دل کوں ڈیوا کھڑ دا ہاں

     وفا تیڈی غازی حشر تائیں نہ بھلسی اے گل مومناں کوں سݨا کھڑ دا ہاں 

     خدا کوں تیڈا واسطہ ڈے کے غازی میں دل دیاں آساں پُجا کھڑ دا ہاں 

    اے خواہش ہے مقبول دی میڈا مولا حشر کوں تہاڈی شفاعت ملے

    اتھاں وی میں نوکر تہاڈا سڈیجاں اُتھاں تہاڈی اطاعت ملے

    اے کعبہ عظمت قائم راہوی تیڈی عظمت شان بچینداں 

    آ قاتل گئے میکوں قتل کرݨ نہ اِتھ میں خون وہینداں 

    مظلوم حسین نہ حج پڑھداں اِحرام پیا میں تُرڑینداں 

    مقبول نہ آساں کول تیڈے تیکوں فقط سلام کرینداں

     رسالت امامت دا حصّہ ہے زہرا 

    اے بچڑی نبی دی تاں ہکا ہے زہرا 

    جہاناں دی ثروت جو بند تھی کے رہ گئی 

    حشر تک ہے چلݨا او سکہ ہے زہرا

     توں خالق مالک جاݨ دا ہیں ساڈیاں اکھیاں وچ برسات ہے کیوں 

    ڈیکھوں درلاہندے اساں سیداں دے ہݨ بھیج جہان تے حجت خدا

    آخر اُتے دُعا گو ہاں جے اللّٰہ پاک مقبول ذکی مقبول دی زندگی دراز فرمائے تا جے  قلم نال ادب دی آبیاری کردے رہن۔ ( آمین )

  • جان سنجان کتاب سجدہ

    جان سنجان کتاب سجدہ

    جان سنجان کتاب سجدہ

    جان سنجان کتاب سجدہ

    شاعرہ : ریحانہ بتول ، بھکر

    اے شاعری عطائے خدا ذولجلال اے
    حقیقت دیوچ یک کا لگ دا کمال اے

    خدا دی عطا ہے جو ایجھاں سمندر
    مودت ہے روح وچ قلم وچ جلال اے

    غلامِ حسن ڈاڈے سئیں دے ہے نانویں
    ڈِسے اِنتساب اے پیارا خیال اے

    اتِھاں پیش لفظاں دے جا گے مقدر
    کتاب ءِچ تاں سارا اے سوہنا جمال اے

    اے پنج حمد یارھاں صفحاں تے لکھے ہِن
    اوں بے مثال رب دی نہ کوئی مثال اے

    اے ہِن ڈوجھے حصے دے ، وچ ڈاہ جو نعتاں
    تے بے نقط نعت ہک جو فن دی سنبھال اے

    تے میلاد وچ سوھنے سنگ جو سجے ہِن
    محمد (صہ) علی ( ع) تے حسن (ع) بے مثال اے

    ہے چوتھے حصے وِچ سلام ابنِ حیدر (ع)
    سدا ہک بہار اے نہ ایکوں زوال اے

    عقیدہ جو اللّٰہ بنا کے ڈسایائے
    حصے منقبت وچ خلاصے دا حال اے

    ہے کچھی دا مشہور جگ وچ مسدس
    اے چھیویں حصے وچ چمک دا ہلال اے

    تے دوہڑے وی سارے جو حاصل کتاب ہِن
    تے ذکرِ مصائب وی ڈیندا ملال اے

    قطعے ہِن سرائیکی ادب دے جو گاہنے
    ہے بحراں دے وچ ذکرِ آحمد ( صہ) دی آل( ع) اے

    دعا ہے ظہورِ امامِ زمانہ (ع)
    تے اللّٰہ دے اگوں اے سوہنا سوال اے

    ہے مجموعہ سارا حقیقت تے مبنی
    جو قرآں دی روح ءِچ لکھا باکمال اے

    ایکوں گھر دے اندر پڑھن ماواں بھیناں اے بارھاں مہینے تے ہر وقت نال اے

    ادارہ اے اردو سخن توں ہے چھپی
    مئی ڈو ہزار ستارھاں اے سال اے

    ایندا ہدیہ ترئے سو تے پنجھاہ روپے ہے
    اے ملدی بخاری دے سئیں بک سٹال اے

    نِرالی کتاب اے ذکی دی اے سجدہ
    بتول ایندا ونیا تعارف دا جال اے
    ***

  • جان سنجان کتاب سجدہ

    مقبول ذکی کا سرائیکی مجموعہ کلام (سجدہ)

    مقبول ذکی کا سرائیکی مجموعہ کلام (سجدہ)

    تبصرہ نگار :  پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

    منکیرہ کی سر زمین سے اردو اور سرائیکی شاعری میں نوجوان شعراء نے بھر پور حصہ لینا شروع کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے مرحوم علی شاہ کے اردو اور سرائیکی مجموعہ کلام شائع ہوئے ۔ اس کے بعد جناب محمد اقبال بالم کا ایک اردو اور ایک سرائیکی مجموعہ کلام شائع ہوا ۔ اب منکیرہ کے معروف شاعر جناب مقبول ذکی مقبول کا سرائیکی مجموعہ کلام ، سجدہ کے نام سے منظر عام پر آگیا ہے ۔ یہ کلام خالص مذہبی اور عقیدت مندانہ نظریات اور واقعات پر مشتمل ہے جس سے شاعر کی اللّٰہ ، رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور خانوادہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے عقیدت کا والہانہ اظہار سامنے آتا ہے اور شاعر کے نظریات فن شاعری کا پتہ چلتا ہے ۔ مجموعہ کلام سجدہ آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیہ) سے شائع ہوا ہے ۔ اس کی قیمت 350 روپے ہے اور 172 صفحات پر مشتمل ہے ۔ کاغذ معیاری ہے اور سرورق رنگین ، دیدہ زیب ہے ۔

    جان سنجان کتاب سجدہ

    سرائیکی شاعری وقت کے ساتھ ترقی کررہی ہے اور اس میں نئے شاعروں کا اضافہ خوش آئند ہے جن میں مقبول ذکی مقبول کا نام اہم ہے ۔ مقبول ذکی نے اپنے سرائیکی مذہبی کلام کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔

    پہلے حصے میں حمدیہ کلام ہے ۔ دوسرے حصے میں نعتیہ کلام ہے ۔ تیسرے حصے میں میلاد پاک کا ذکر مبارک ہے ۔ چوتھے حصے میں امام حسین علیہ السّلام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے ۔ پانچویں حصے میں حضرت امام علی علیہ السّلام شان میں منقبت تحریر کئے گئے ہیں ۔ چھٹے حصے میں مسدس ، ساتویں حصے میں حسینی دوہڑے اور آخری حصے میں دعائیہ کلام ہے سرائیکی شاعری علاقہ بھکر میں عام طور پر ذکرِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور واقعہ کربلا کے حوالے سے ترقی کر رہی ہے ۔ غلام سکندر خان ، شرف حسین اور دیگر قدیمی سرائیکی شاعروں کا تذکرہ اور کلام خلشِ پیر اصحابی کی لکھی ہوئی سرائیکی ادب کی تاریخ بھی موجود ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سرائیکی مشاعروں میلاد کی محفلوں ، مجالس اور جشن نوروز کے حوالے سے مذہبی اور ادبی خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کا طرز کلام بھی روائتی مذہبی اور رثائی ادب کی ایک کڑی ہے ۔ نمونہ کلام درجِ ذیل ہے ۔

    حمدیہ :

    بولے جیہڑا باجھ زبان اوتاں رب ہے

    تانڑیں باجھ ستون اسمان اوتاں رب ہے

    خشک زمین کوں ڈیوے جان اوتاں رب ہے

    جوڑے خاک وچوں انسان اوتاں رب ہے

    دریا ، صحراواں وچکار اوندی خوشبو

    شرقاً غرباً پار اروار اوندی خوشبو

    نعت

    نال روزے دے بہہ نعت لکھدا راہواں

    ڈیہنہ او آوے دعائیں اے منگدا رہواں

    پاک محفل سجے ، عرشی فرشی آون

    میکوں رنگ لگ ونجن نعت پڑھدا رہواں

    شرف میڈی زباں تے قلم کوں ملے

    صدق مقبول لکھاں میں لکھدا راہواں

    قطعہ

    جئیں وی دل وچ پیار حسین ؑ دا پایا ہے

    جنت وچ اوں گھر گھر لاریب بنایا ہے

    میڈے مولا ؑپڑھ کے خنجر ہیٹھ نماز

    نانے ﷺ سئیں دا دین حسین ؑ بچایا ہے

    مقبول ذکی مقبول کے اس سرائیکی مجموعہ کلام کے آغاز میں کوئی تعریفی تحریر پیشِ کی۔ لفظ تعارف یا دیباچہ نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے کلام کو ہی اپنی پہچان اور تعارف بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اب یہ ادب شناس لوگوں کا فرض ہے کہ ان کے کلام کا بغور مطالعہ کر کے داد سخن دی اور ان کے کلام کی قدرو قیمت کا تعین کریں اور شاعر کی حوصلہ افزائی کریں ۔” سجدہ” تھل کے مرکز منکیرہ سے شائع ہونے والی اولین سرائیکی کتابوں میں سے ہے اور اس کی اشاعت سے مقبول ذکی مقبول کا نام ادبی تاریخ کا حصہ بن گیا ہے ۔ ان کو اس خوبصورت تخلیق پر علمی اور ادبی حلقوں کی طرف سے مبارکباد قبول ہو

      پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

      پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

  • سجدہ

    سجدہ

    "سجدہ”
    تحریر : فضل عباس ظفر ، ڈیرہ غازی خان ،
    ویہاند تے کھینڈاند ،ڳنڈھیجݨ ، سویجݨ ، ٻدھیجݨ،دپھیجݨ، بھوڳݨ تے بھڳیجݨ ، چِتھݨ تے چِتھیجݨ ، چٻݨ تے چٻیجݨ ، کِھنڈݨ تے کھنڈیجݨ ، جھئیں لفظیں دا فوٹو بݨݨ توں بچݨ سانگے سوچ سوچ کے ٹردے جو میں اپݨیں ٹرونڄݨ دے بعد وی تے اپݨی زندگی وچ دی سوچا ونڄاں سوچیجݨ وسطے بندہ اپݨیں کم کوں سگُھڑ بݨ کے سوہݨاں کرݨ دی کوشش کریندے ، جو میݙا کم وی چنگاں تھی ونڄے تے میݙا ناں وی نشابر تھی پووے، چنگے کم تے واقعی ناں وی نکلدے تے جہان دی شابھش ویمِلدی ہے، اِیں دڳ دا راہی میݙے مٹھے مٹھے وسیب نسری وانگوں مِٹھا بھرنیڑیں بھوئیں دا بھرݨاں بندہ میݙا ادا سئیں مقبول ذکی مقبول وی اپݨیں کم کوں سمجھ سوچ کے لڳا پئے تے ݙوجہان دی شابش دا مقداربݨ ڳئے، مقبول ذکی مقبول مِک بے لوث محبت کرݨ آلا بندہ سخن وی سوہݨاں سر زمین تے پیر پھبا پھبا کے ٹرݨ آلا شاعر مدحت و محبت دی مٹی وچ ڳُندھیا ہویا ادیب ہے، اے حیدری تے جعفری، ولاتی تے مولائی رمز دا شاعر جیندی کتاب دے ناں توں پتہ لڳدے ، جو اے روحانیت دا پر تو پرنور حوالیں وچ زندگی ودا ڳولیندے، اے کتاب ایندی عقدت دا ہوکا تے ایندی مولائی محبت دا اعلان اے ، کتاب دا انتساب اپݨے ݙاݙے سئیں غلام حسن دے ناں کیتے ، اَٹھ حصیں تے ٹھیہی اے کتاب پہلا حصہ حمدیہ کلام ، ݙوجھا حصہ نعتیہ کلام ، تریجھا حصہ میلاد مبارک ، چوتھا حصہ سلام یا حسینؑ ، پنجواں حصہ منقبت ، چھینواں حصہ مسدس، ستواں حصہ ݙوہڑہ ،اٹھواں حصہ قطعہ تے سجی اَٹھ رنگی کتاب دے آخر اچ دُعا تے بغیر نقطیں دے سلامیں تے مشتمل کمال کلام موجود ہے،مضمون کوں وݙا ناں کروں ، مَیں ہک سلام اپݨے سوہݨے بھرانویں دی نظر کرینداں ، فیصلہ تہاݙے ہتھ اے ، جعفری ، حیدری ، مولائی تے کربلائی ، شاعر دی شاعری کیا
    کیا اَلا کے حساس ذہنیں کوں کجھ کرونجݨ تے تیار کریندی اے۔
    سلام حضرت زینب سلام اللّٰہ علیہا

    علیؑ دی دھی علیؑ بن کے فتح کیتا جہان حق
    ہائی توحید دا نعرہ بچایا ہے قرآنِ حق

    جیویں عباس (ع) دریا تے اوویں بازار وچ بی بی
    ہائی حملہ اوں دشمن دا ڈکھیندی رہی نشان حق

    زمانہ ہکا بکا ہائی رہا آواز دا پردہ
    علی ؑ والے ہی لہجے وچ کیتا زینب ؑ بیان حق

     فضل عباس ظفر ، ڈیرہ غازی خان ،

سجدہ

    فضل عباس ظفر

    ڈیرہ غازی خان

  • سجدہ

    "سجدہ ” (سرائیکی شاعری)

    تحریر : ڈاکٹر اللّٰہ نواز شہانوی ، بھکر

    مئی 2017ء وچ چھپن آلی ایہ کتاب اردو سخن ڈاٹ کام پاکستان آرٹ لینڈ چوک اعظم ضلع لیہ توں چھپی ہے ۔ ایندی کمپوزنگ کاشف اقبال زاہد کیتی اے ۔ سرورق کوں ٹھہاون دا سہرا ناصر ملک دے سر ہے تے ایندی طباعت ، شیرربانی پریس ملتان توں تھئی اے ۔
    سرورق یعنی مکھ پناں مدھم نقوش تے ہلکے رنگاں وچ خانہء خدا ، مسجد نبوی ، روضہ رسول ﷺ ، مزارات کربلائے معلیٰ تے انھاں دے پس منظر نال مزین ہے ۔
    پچھلے صفحے تے صاحب کتاب دی تصویر اتے چھاپن آلے ادارے دی تشہیر ہے ۔ رسما الخط اردو ہے تہوں ہک سرائیکی کتاب ہوون پاروں ایندے زائد حروف تہجی تے اعراب دی کمی محسوس تھیندی اے لیکن مزے دی گالھ ایہ ہے جو وادھوں ہجواں سرائیکی حرفِ تہجی "ن”باقاعدہ ہر مقام تے "ط”دے اضافے نال لکھیا ہو یا ہے ۔ ایں کتاب دا انتساب مقبول ذکی مقبول ہوراں اپنے ڈاڈھے سئیں غلام حسن ہوراں دے ناں کیتے لیکن کہیں بانہہ بیلی دا ذکر یا شکریہ ادا نئیں کیتا گیا ۔ کتاب کوں اٹھ حصاں وچ تقسیم کیتا گئے ۔ 1 ۔ حمدیہ کلام 2 ۔ نعتیہ کلام 3 ۔ میلاد مبارک 4 ۔ سلام یا حسین علیہ السلام 5 ۔ منقبت 6 ۔ مسدس 7۔ ڈوہرے 8 ۔ قطعے تے دعا ۔
    پہلی نظم ” نصیب جاگے ” دے عنوان نال ہے ۔ ایہ آزاد نظم معریٰ ہے ۔ چنگاں ابتدائیہ ہے ۔ ڈوجھے نمبر تے مسدس دی ہئیت وچ ترائے بند ہن جہڑے حمدیہ ہن ۔ ایہو جھیاں چار نظماں بیاں ہن ایہ پنجے نظماں اللّٰہ تعالیٰ دی حمد و ثناء ، بزرگی ، حکمت تے قدرت بارے چنگے سخن پارے ہن ۔
    اگلیاں ڈاہ ( 10 ) نظماں نعتیہ شاعری دے خوبصورت نمونے ہن ۔ ہک نعت غیر منقوط ہے ۔ میلاد مبارک دے عنوان نال ڈو نظماں نبی پاک ﷺ دی ولادت باسعادت بارے ہن ہک نظم حضرت امام علی علیہ السلام ہک ، حضرت امام حسن علیہ السلام ، ہک شہزادہ علی اکبر علیہ السلام تے ہک نظم شہزادہ علی اصغر علیہ السلام ، امام جعفر صادق علیہ السلام دی ولادت تے شان وچ ہے ۔ ایں توں بعد سلام یا حسین علیہ السلام دے باب اچ نوں ( 9 ) نظماں سلامیہ ہن جنھاں دے وچ ڈو بغیر نقطاں دے ہن ہک نظم سلام زہرا سلام اللّٰہ علیہا ڈو سلام زینب سلام اللّٰہ عیہا تے ڈھیر ساریاں نظماں حضرت امام علی علیہ السلام ، سلام یا علی اصغر علیہ السلام ۔ مقام خم غدیر ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام ۔ عباس کربلا وچ ۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام ۔ شان عمران ۔ معجزات حضرت امام حسین علیہ السلام ۔ مودت مولا علی علیہ السلام ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام ۔ ولایت مآب شان حضرت امام حسین علیہ السلام ۔ دے عنوانات نال نظماں ہن ۔ مسدس نظماں دے باب اچ قرآن ڈسائے ۔ عظمت زہرا سلام اللّٰہ علیہا ۔ معراجِ رسول ﷺ ۔ پاک رسول ﷺ ۔ شان مولا علی علیہ السلام ۔ شان حسین علیہ السلام ۔ شان امام حسن علیہ السلام ۔ علم عباس علیہ السلام دا ۔ شان محمد ﷺ تے شان علی رضا علیہ السلام ۔ صرف چھیں مصرعاں دا ہک ہک بند ہے ۔ آخر تے ڈوہرے ہن تے دعا تے ایندا اختتام ہے ۔ ایہ ساری شاعری مقبول ذکی مقبول سئیں دے قلم دا مقام ڈسیندی اے ۔ مذہبی کلام لکھن بہوں مشکل ہوندے ایندے واسطے متعلقہ وسیع علم دی ضرورت ہوندی اے وت مذہبی کلام تے تبصرہ اتھوں وی زیادہ مشکل ہوندے ۔ تنقید دی تاں گنجائش وی کوئنی ہوندی ۔ ذکی صاحب ہوراں اپنے عقائد کوں اپنی شاعری وچ حتی الامکان معتبر بناون دی کوشش کیتی اے ۔ غیر منقوط کلام اردو مطابق درست ہے سرائیکی حروفِ تہجی دے مطابق نئیں ۔
    مقبول ذکی کوں آپنی دھرتی نال پیار اے ایں مٹی دا مقروض اے، تے اے محبت دا قرض اے بہوں خوب صورت لفظیں دی صورت شعر دے رنگ اچ بہوں پیارے انداز اچ نبھینداۓ۔ایں دے قلم تے خانوادہ ء رسول ﷺ دی خاص نگاہ ہے تائیوں تاں ایں کو سجدہ تے منتہاۓ فکر جیہاں تخلیقات دا اذن تے امر ملداے۔ذکی بہوں خوش نصیب اے جیں کوں قدرت اے توفیق ڈتی اے۔ایں دے مقدراں نال رشک کرنا چائیدے۔ کجھ جھلکیاں ملاحظہ فرماؤ

    نظارہ ہر نظر کوں ذات تیڈی دا نظر دا ہے
    تہوں سورج وی وی مدحت آپ دی کرکے ابھر دا ہے

    ایں شعر اچ موضوع وحدانیت توں علاوہ ۔ نظر ، نظردا تے نظارہ دے ضائع بدائع شعر دی خوبصورتی دا باعث ہن ۔ ہک بیا شعر ڈیکھو ۔

    تتلی بھنورے خمرے جگنو ذکر کرن تئیں مالک دا
    میں مقبول دی قسمت کوں وی پھلاں نال سجایا ہے

    نعت رسول ﷺ دا ہک خوبصورت شعر ملاحظہ فرماؤ

    دنیا تے کملی والا صلے علیٰ ہے عادل
    جیندے جواب اعلیٰ جیندے سوال اعلیٰ

    ہک بیا شعر
    انصار مہاجر کوں اسلام ڈسا چھوڑا
    اسلام دا بانی ہے دلدار مدینے دا

    حضرت علی علیہ السلام دی پیدائش مبارک دے حوالے ملاحظہ فرماؤ

    شجرہ طیب تے رحمت ہے وسدی کھڑی
    شاخ نوری بہشتاں توں افضل جو ہے
    پڑھ کے صلواۃ آکھن شجر دے ثمر
    مرحبا یا علیؑ یا علیؑ حق علیؑ

    واقعات کربلا ڈوہڑاں دی شکل اچ وی بیان کیتے گئے ہن ۔ نماز دی فضیلت دا ہک ڈوہڑہ ۔

    نماز عبادت فرض جو ہے شبیرؑ نہ فرض بھلایا
    جنگ روک ڈتی وچ کربل دے جڈاں وقت نماز دا آیا
    نماز معراج ہے مومن دی تتی ریت کوں ڈیکھ ڈسایا
    مقبول نماز دے سجدے وچ سر پاک حسین ؑ کٹایا

    ہک سو بہتر (172) صفحاں دی کتاب "سجدہ” چھپائی ۔ کتابت کاغز تے سجاوت دے لحاظ نال عمدہ ہے ایندی قیمت 350 روپے وی معقول ہے ۔

    Allah Nawaz
“سجدہ ” (سرائیکی شاعری)

    ڈاکٹر اللّٰہ نواز شہانوی

    بھکر،پنجاب،پاکستان

  • سجدہ

    کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

    کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

    تحریر : دلبر حسین مولائی ، ڈیرہ غازی خان

    مقبول ذکی مقبول منکیرہ ضلع بھکر کے نامور شاعر ہیں ۔ محکمہ صحت میں ملازم ہیں ۔ محمد و آل محمد علیہ السلام سے گہری عقیدت رکھتے ہیں ۔ مومن بندے ہیں ۔ پچھلے دنوں ان کی کتاب”سجدہ”شائع ہوئی ۔ 21 مئی 2017ء کو اس کتاب کی اشاعت اول ہے ۔ اس کے 172 صفحے ہیں ۔ ساری کتاب دینی شاعری پر مشتمل ہے ۔ جس میں حمدیہ کلام ، نعتیہ کلام ، میلاد مبارک ، سلام یا حسین علیہ السلام ، منقبت اور حسینی بند شامل ہیں ۔ مختلف اصناف اور بحور استعمال کی گئی ہیں ۔ یعنی منقبت ؛سلام (غزل طرز پر) قطعہ ، مسدس اور آزاد ہئیت میں شاعری موجود ہے ۔ غیر منقوط نظمیں بھی شامل ہیں ۔ شاعری کی مذہبی روایت ساری کی ساری موجود ہے ۔ قصائد اور فضائل زیادہ لکھے گئے ہیں ۔ مصائب سے بھرے حسینی بند بھی موجود ہیں ۔ جگہ جگہ پر اسلامی تعلیمات کے حوالے موجود ہیں ۔ اسلامی شخصیات میں سے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت عمران/ابوطالب علیہ السلام ، امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام ، بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا ، بی بی زینب سلام اللہ علیہا ، حضرت امام حسن علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت امام سجاد علیہ السلام ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام ، حضرت امام مہدی آخر الزمان علیہ السلام اور حضرت سلیمان فارسی رضی الله عنہ جیسی ہستیوں پر نظمیں یا اشعار موجود ہیں ۔ جگہ جگہ پر اہل بیت علیہ السّلام سے عقیدت و نسبت بیان کی گئی ہے ۔ آل محمد ﷺ سے مودت ہی دین و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے ۔ پوری کتاب میں جملہ عظیم ہستیوں کے پیغام کا خلاصہ "سجدہ”بنتا ہے ۔ جو اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کی علامت ہے۔ان پاک شخصیات کی تعلیمات یہی ہے کہ اے انسان اللّٰہ کے سامنے جھک جا ، پھر کامیابی ہی کامیابی ہے لہٰذا جابجا نماز کی اہمیت اور اطاعت محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اشعار ، امرباالمعروف و نہی عن المنکر کا درس دے رہے ہیں ۔ یہ کتاب "سجدہ” مقبول ذکی مقبول کے لئے آخرت کا تحفہ و ارمغان ہے ۔ جس نے ثبوت کے طور پر تحریری لکھا ہے کہ ایک زمانہ ان کے ایمان کا گواہ رہے کہ یہ شخص حضرت عمران علیہ السلام کو مومن ، محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ، امیر المومنین مولا علی علیہ السلام کو پہلا امام ، چودہ معصومین علیہ السلام کو اپنا رہبر مانتا ہے ۔ اس نے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کر کے ان مقدس ہستیوں سے محبت کا بھر پور اظہار کیا ہے ۔ یہ کتاب ان کے پاکیزہ باطن کی گواہی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو ان ہستیوں سے علیحدہ فکر و خیال کے تصور کو سوچ ہی نہیں سکتا۔ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی ان کی حمدوں ، میں موجود ہے ۔ نعتوں میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی کئی جھلکیاں نظر آرہی ہیں ۔ منقبتیں ، قصائد ، کربلائی پیغامات ، کوفہ و شام کے مصائب کا ذکر ، اس بات کی علامت ہے کہ یہ پیغام ٫٫ کربلائی و علوی ٫٫ پیغام کا تسلسل ہے ۔ وہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا جو قرآن ، حدیث اور نہج البلاغہ کی تعلیم سے دور ہو ۔۔۔ یہ کتاب”سجدہ” قاری کو متوجہ کرتی ہے کہ اے پریشانیوں میں گھرا انسان پھر قرآن و حدیث اور نہج البلاغہ کی طرف لوٹ آ ۔۔۔۔ تاکہ فرشتے تجھ پہ سائبان کریں ، لواالحمد کا سایہ تجھے نصیب ہو ، جام کوثر ، والا جنتی شربت پینے کو ملے ۔ میں مقبول ذکی مقبول کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کے ان کے دل و دماغ کے پاکیزہ خیالوں کو قلم جیسا گواہ مل گیا ہے ۔ جس نے ” سجدہ ” جیسی عظیم صفت کی گواہی زمانے کے سامنے پیش کی ہے ۔۔۔ ۔
    مختلف عنوانوں کے حوالے سے منتخب اشعار نقل کیئے جاتے ہیں ۔
    حمد مسلمان شعراء ہمیشہ لکھتے آئے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے لو لگانے کا یہ شاندار قلمی رابطہ ہے ۔۔۔ جہاں دیکھو جب دیکھو ، ہر مقام پر ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ کی کاری گری اور قدرت کاملہ سامنے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔ ذکی نے منظر کھینچا ہے ۔

    نظارہ ہر نظر کوں ذات تیڈی دا نظر دا ہے
    تہوں سورج وی مدحت آپ دی کرکے ابھر دا ہے

    رکھی لذت ہیوی اینجھیں انہاں پھلاں دے پانی وچ
    جو مجنوں بن کے پھلاں تے ودا بھنورا اتر دا ہے

    پتھر ریت سمندر صحرا کیڈے سوہنے ڈسدے ہن
    اچے اچے روہاں کوں وی برف دے نال لکایا ہے

    سن دا ہر ہک گالھ ہے مولا
    شہ رگ دے جو نال ہے مولا

    تیڈی رحمت دے وچ جکڑا
    ذکی دا ہر وال ہے مولا

    خدا کے ذکر کے بعد ذکر حبیب خدا ﷺ نہ ہو تو ایسی زبان اور قلم پر حیف ہے ۔ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و نعت سے ایمان تازہ ہوتا ہے ۔ دل سے توحید کی کرنیں پھوٹتی ہیں ۔ محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے مودت پختہ ہوتی ہے ۔ روز اول سے روز آخر بلکہ ہمیشہ ہمیشہ یا نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم یا نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا ورد رہنا ہے ۔ آپ پر درود و سلام پڑھا جاتا رہے گا ۔ جو بندہ مدینے سے بیگانہ ہے ۔ اس کی زندگی ویرانوں اور بیگانوں کی زندگی ہوگی ۔

    بن مدینے دے میڈی اے زندگی ویران ہے
    رب دی سونہہ دنیا تے میکوں بس مدینہ بھاندا ہے

    روز اول توں لا روز محشر تائیں
    یا نبی یا نبی ذکر کر دا رہواں

    علیؑ رکوع ہے والا طاہرہ کسا ہے والی
    گوہر دہر دے اصلی احمد دی آل اعلیٰ

    کشتی نوح دی ڈتی ہے مثال اے نبی
    آل احمد دا سچا سفینہ ڈسے

    کونین دا مالک ہے سردار مدینے دا
    انسان دا وارث ہے سرکار مدینے دا

    مقبول دعا خالق منظور کریسی چا
    چم شہر گھناں سارا ہک وار مدینے دا

    ڈوجہاناں دا شاہ آیا مکے دے وچ
    ہر بشر کوں سحر اوہا وکھری لگی

    مقبول ذکی مقبول ایک عرصے سے مصروف ذکر محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم میں ہے ۔ بھکر اور کچھی شروع سے ہی ایسے شاعر اور ذاکر پیدا کرتی رہی ہے۔ جنہوں نے کربلائی پیغام پورے برصغیر میں پہنچایا ہے ۔ یہ سلسلہ تھما نہیں ہے ۔ جہاں اور قلم کار محو مدحت ہیں ۔ وہیں مقبول ذکی مقبول بھی اپنا حصہ شامل کررہا ہے ۔ ان کے قلم میں روانی بھی ہے ، عشق بھی اور عقیدت بھی ، حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت کے موقعے کا بند دیکھئے۔

    پاک حسینؑ دا بچڑا جانی
    نانے پاک دی پاک نشانی
    اکبر اکبر یوسف ثانی
    یثرب چمکا گھڑی سہانی
    بخت حسینؑ دا عرش توں آیا
    در ، دارین دا عرش توں آیا

    مقبول ذکی مقبول ، دل کا تونگر ہے ۔ اس کے عقیدے کے لنگر سے زمانہ سیر ہوتا رہے گا ۔ ان کی سوچوں کی زکات ہمیشہ ہمیشہ بٹتی رہے گا مجھے نہیں معلوم ظاہری دنیا میں مقبول ذکی مقبول کتنا دولت مند ہے۔ مگر”حسینت” کی دولت سے مالامال ہے ۔ ان کی فکر کے کئی ٹرالے شاہراہِ مستقیم پر رواں دواں ہیں ۔ جن پہ واضح لکھا ہے کہ یہ کاروان امام العصر ہے۔ جن کے ممبر کی پہلی نشانی”سجدہ” ہے”سجدہ” ایک استعارہ ہے کہ یہ شخص تین اطاعتوں کا قائل ہے یعنی یعنی اللّٰہ کی اطاعت ، رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت ، یہ کتاب سجدہ ان اطاعتوں کی پیام بر ہے ۔ اس کے صفحات ملکوتی ” ذاکرین ” کے ذکر سے مزین ہیں ۔ اسی طرح ایک ذاکر حقیقی امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر بھر پور اظہار عقیدت کرتے ہیں کہ یہ رسول زادہ شریعت محمدی کو ” صادق ” بن کر بیان کرے گا ۔

    جہان سارے ڈتی مبارک ہے آیا جگ تے رسول زادہ
    تے جنس اٹھاراں ہزار آ کھا ایندا تے اللّٰہ دا ہک ارادہ
    ہے جانشین امام باقر تے رتبہ مولا دا بہوں زیادہ
    ہے نور چوڈاں طبق تے ایندا بدن تے بشری تاں ہے لبادہ
    رسول اپنی حیات اندر لقب وی صادق ڈسا ٹرا ہے
    اول توں لا کے اخیر تونڑیں خلیفے بارہ بنا ٹرا ہے

    ایک مومن شاعر کی روایت رہی ہے کہ مدحت و فضائل کے بعد ذکر کربلا ضرور کرتا ہے ” ذکر کربلا ” در اصل ذکر اسلام ہے ۔ عاشور کے دن نے "سجدے” کی لاج رکھی ۔ ریت کے ٹیلوں کا مرکز کربلا ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے "کربلا معلیٰ” بن گیا ، مکہ و مدینہ و نجف کے بعد کربلا ہی تو ہے ۔ جس نے ان مراکز کی لاج رکھی ہے ۔

    عاشور دا ڈیہاڑا پیشیں نماز ویلا
    ساری خدائی اتے چھاون لگا ہے سجدہ

    اے ریت جنگل دی خلد بن گئی جو خون تیڈا آ وچ رلا ہے

    اے خاک افضل ہے سجدہ گاہ ہے او پاک صحرا سلام ڈیندائے

    درجہ حسین تیڈا کہیں کوں نصیب کوئی نئیں
    بخشی وڈی ہے عزت تیکوں خدا نے کربل

    مقبول ذکی مقبول کا نہ صرف اعتراف ہے کہ بلکہ حقیقت بیانی ہے کہ آدم سے آخری حجت تک ، سجدہ یعنی اطاعت رب کا مشترکہ پیغام یہ انبیاء علیہ السلام کرتے آئے ہیں مگر مولا حسین علیہ السلام کے "کربلائی سجدے” نے سب سجدوں کو عزت اور حفاظت بخشی ہے ۔

    ہادی منسی تیکوں عالم
    تیڈی ذات دا نعرہ لیسی

    اہل بیتؑ دے سارے ڈکھڑے
    بارہواں ہادی آن سنڑیسی

    جے تائیں بت اچ ساہ ہن مولا
    اے مقبول سلام بھجیسی

    اوکھا سجدہ کربل تیڈا سجداں دی او شان بنا گئے
    جگ دے سجدے بچ گئے باقی مولا پاک حسین ہیں توں

    کفر دا بہوں اندھارا ہا
    چا شمع حق دی بالی تئیں

    مقبول ذکی مقبول ایک ایسا ملنگ شاعر ہے جو سیرتِ سلیمان فارسی ( رض) پر چلتے ہوئے اہل بیت علیہ السّلام کی ثنا خوانی کر رہا ہے ۔ یہ ثنا خوانی یوم حشر ان کے کام آئےگی۔

    پڑھا رب دا ہے میں قرآں ثنا آل محمدؐ دی
    آکھے سورہ آل عمران ثنا آل محمدؐ دی

    گھرانہ ہے ایہو ذیشاں ثنا آل محمدؐ دی
    سمجھداں میں جند تے جاں ثنا آل محمدؐ دی

    اے واجب ہے مودت ہے صلہ ایند خدا ڈیسی
    جہاں دنیا دی کوئی شئے وی حشر کوں نہ وفا ڈیسی

    مقبول ذکی مقبول نے وقت کے ضیاع کے لئے اشعار نہیں لکھے بلکہ اپنی عقیدت کی روشنی سے قلم کو تر کرکے لکھے ہیں ۔ رات دن اسی ذکر میں مستغرق رہتا ہے ، سوچتا ہے ، سمجھتا ہے اور پھر مدحت اہل بیت علیہ السّلام میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ ان کی کتاب "سجدہ ” چاہت و مودت سے لکھی گئی ہے ، ان کا ایمان ہے کہ چودہ معصوم ہی حاکم کی طرف سے حکیم حاذق ہیں ۔ ان کا نسخہ شفا ہی شفا ہے ۔

    میڈی کتاب سجدہ ذکر حسینؑ مولا
    چاہت دے نال لکھیم بی بی کرو قبول

    میں تاں راتیں ڈیہناں کرداں تیڈی ثناء
    پڑھداں ہاں نت قرآں وچ ہے تیڈی ولا

    چوڈاں دا بس نپ گھن دامن
    توں مقبول جو تھی ونج حاذق

    علماء کہتے ہیں کہ ماضی میں لوگوں نے ” غدیر ” کو بھلایا ۔جس سے حقیقت کا سفر کچھ عرصہ کے لئے بھول بھلیوں میں گم ہو گیا "غدیر” کی تازگی کے لئے جنگ صفین اور جنگ کربلا لڑنا پڑیں ۔ قربانی دینا پڑی ۔ اگر غدیر کا پیغام آخر ، لوگ نہ بھلاتے تو قیامت تک ” شیطانیت” اوندھے منہ کراہتی رہتی ۔ لہٰذا دور حاضر میں”غدیر” کی بازیابی ضروری ہے لہٰذا علماء ذاکرین اور شعراء اس یوم کو نہ صرف خوشی کے طور پر لیتے ہیں بلکہ پیغام حق کا دن ہے ۔

    حق کوں تاں بس حق ڈتا رب سئیں غدیر تے
    جم گئی نظر فقط چہرہء امیر تے
    فلک سلام آ کیتا جناب دی توقیر تے
    جان وچ آجان گئی قرآن دی تفسیر تے
    راہبر تے رہنما جن و بشر جہان دا
    ڈکھا کے ہتھ علیؑ دا تے حکم ڈسا قرآن دا

    مقبول ذکی مقبول نے شاعری کے فن کی طرف بھی توجہ دی ہے ۔ ان کے سلام ، مسدس اور نظمیں اپنی اپنی جگہ پر اہم ہیں مگر ان حسینی بندوں پر پکڑ بڑی مضبوط اور مربوط ہے ۔ گو کہ انہوں نے بہت کم بند لکھے ہیں مگر جو بھی ہیں۔ وہ مجھے ان کے کلام کا حاصل کلام محسوس ہوتے ہیں ۔

    نماز عبادت فرض جو ہے شبیرؑ نہ فرض بھلایا
    جنک روک ڈتی وچ کربل دے جڈاں وقت نماز دا آیا
    نماز معراج ہے مومن دی تتی ریت کوں ڈیکھ ڈسایا
    مقبول نماز دے سجدے وچ سر پاک حسینؑ کٹایا

    سرائیکی بندوں یعنی ڈوہڑوں نے کربلائی پیغام کی تشہیر میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ پوری تاریخ حسنیت ان بندوں سے بھری پڑی ہے ۔ مومنوں کو چند بند سننے سے پورے سانحات یاد آجاتے ہیں ۔ وہ روتے ہیں ، پرسہ دیتے ہیں ، دشمنانِ آل محمّد پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول نے اس کتاب میں اپنے نوحے شامل نہیں کیئے ۔ زیادہ تر عقیدت و فضائل بیان کیئے ہیں مگر مصائب کے جو بند لکھے ہیں ۔ ان سے کوفہ و شام کے چوک اور بازار ہر زوار کے سامنے آجاتے ہیں ۔۔۔۔

    تطہیر دے پردہ دار آئے جڈاں شام بھرے بازار دے وچ
    کونین دی ملکہ سر ننگے ہر چوک دے وچ نروار دے وچ
    بیمار سجاد مہاری وی ہے درداں دی بھر مار دے وچ
    ہے پاک رسول دی آل ایہا تھی قیدی آئی دربار دے وچ

    سب ویر کوہا کے آگئی ہے کونین دی پاک شہزادی
    جتھ نس آونا اتھ آگئی ہے لاچاری عون دی ماء دی
    ہئی باجھ کفن دے دھوپ اتے پئی لاش حسین بھرا دی
    ہر موڑ اتے ہس فکر رہی بس اپنی پاک ردا دی

    منہ چم اصغرؑ دا شاہ آکھے منگ پانی پتر صغیر اے
    متاں مل پووی اج کربل وچ کر چا اے حجت اخیر اے
    لب کھل گئے سوہنے اصغر دے منگا پانی پتر شبیرؑ اے
    اے سن کے حرمل تیر مارا گیا گل اصغرؑ دا چیر اے

    مقبول ذکی مقبول کی یہ کتاب "سجدہ ” ہمیشہ ہمیشہ ان کی عقیدت و مودت کا حوالہ رہے گی ۔ وہ ظاہری ایک چھوٹا ملازم ہے۔ مگر ان کی شاعری دائمی شہرت ، عزت اور سدا بہار نیکی مانی جاتی رہے گی ۔ راقم ( دلبر حسین مولائی) اس کتاب کو پڑھ کر اس کے عقیدے کا گواہ ہے کہ ذکی توحید پرست ہے ۔ نبی آخر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا کلمہ گو ہے اور مولا علی علیہ السلام کی ولادت پر ایمان رکھتا ہے ۔ چودہ معصوموں اور بارہ اماموں سے قلبی عقیدت ہے ۔ اے اللّٰہ میری دعا ہے کہ مقبول ذکی مقبول کی یہ کتاب اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور اسے دنیا و آخرت کی بے شمار نعمتیں ، رحمتیں اور بخششِ عطا فرما ۔ آمین

    دلبر حسین مولائی
کتاب سجدہ کی شاعری اور مقبول ذکی مقبول

     دلبر حسین مولائی

    ڈیرہ غازی خان

  • سجدہ

    تاثرات

    تحریر : جسارت خیالی ، لیہ

    مقبول ذکی مقبول نئی نسل کے نمائندہ سرائیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں ، جو محمد ﷺ اور آل محمد علیھم السّلام کی محبت کو جزوِ ایمان سمجھ کر ان کی آفاقی تعلیمات کو اجاگر بھی کرتے ہیں ، جنہوں نے فاسق و فاجر اور ظالم قوتوں سے نہ صرف بغاوت کی بل کہ حالت سجدہ میں سر کٹا کر ارفع اخلاقی اقدار کو بھی بچایا ۔
    اس لئے مقبول ذکی مقبول نے اپنے سرائیکی شعری مجموعہ کا نام سجدہ تجویز کیا ہے ۔ اس کے پہلے حصے میں حمدیہ کلام ہے ، جس میں مقبول ذکی مقبول نے صفات خداوندی کا صرف ذکر کیا ہے بلکہ فلسفہ وحدت الوجود میں نمایاں نظر آتا ہے یہ مقبول ذکی مقبول کے ایمان کامل کی دلیل ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللّٰہ کی حمد و ثناء کرتی نظر آتی ہے ۔ شعر دیکھئے

    تتلی ، بھنورے ، خمرے ، جگنو ذکر کرن تین مالک دا
    میں مقبول دی قسمت کوں وی پھلاں نال سجایا ہے

    مقبول ذکی مقبول کے نزدیک قرآن عظیم حکمت و دانش کی کتاب ہی نہیں بلکہ بنی نوعِ انسان کے لئے مکمل ضابطہ حیات بھی ہے ، جس پر عمل کر کے دنیا اور آخرت سنواری جاسکتی ہے ، لیکن جو قرآن عظیم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ، وہ دنیا میں رسوا ہوتے ہیں ۔اس لئے مقبول ذکی مقبول کو بے حد دکھ ہے کہ عالم اسلام نے جب سے تعلیمات قرآن کو چھوڑا ہے ۔ تب سے داخلی و خارجی مسائل کی دلدل میں موت کی سسکیاں لیتا نظر آتا ہے ۔ موصوف نے اس شعر سے اپنے نقظہ نظر کو یوں بیان کیا ہے ۔

    قرآں پاک دے ہر منکر تے
    ڈتا عین زوال ہے مولا

    دوسرے حصے میں نعتیہ اشعار ہیں ، جن میں عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو آتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی یہ تمنا ہے کہ دامنِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پکڑے رہوں ، یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سلم کے اسوہء حسنہ پر عمل کرتا رہوں ، جو رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ہیں ۔جن کی آمد مبارکہ پر وقت کے سفاک آمروں کے محلات کے درودیوار ہلنے لگ گئے تھے اور آتش کدے بجھ گئے تھے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف عالم گیر اخوت و محبت کا درس دیا بلکہ صدیوں سے حائل طبقاتی دیوار گر کر اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق مٹا دیا ۔ یو ں دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوا ، کہ رہتی زندگی نے سکھ کا سانس لیا ۔ نمونے کے چند اشعار نذر قارئین ہیں ۔

    عظمت نرالی تیڈی مدحت خدا کریندے
    ثقلین دا توں وارث وکھری ہے شان آقا

    کونین دا مالک ہے سردار مدینے دا
    انسان دا وارث ہے سرکار مدینے دا

    ڈوں جہاناں دا شاہ آیا مکے دے وچ
    ہر بشر کوں سحر اوہا وکھری لگی

    گل دی خوشبو گئی ہر گلی ہر نگر
    سوہنی رحمت دی سوہنی ہوا ہے چلی

    حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت پر مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں بے پایاں عقیدت و مودت کے غماز ہیں ۔ حضرت امام علی علیہ السلام ایسے عظیم انسان تھے ، جو انسانیت کی سر بلندی کے لئے تحمل سے مصائب و آلام سہتے رہے ۔ انہوں نے فکری نظام ، اتحاد انسانی اور عدل و انصاف کے احیاء کے لئے اپنا خاندان تک قربان کر دیا ۔ مقبول ذکی مقبول نے اپنے بے ساختہ احساسات کا اظہار یوں کیا ہے ۔

    ڈیکھو ڈیکھو خوشی توں چمکدے پئے
    ذرے ذرے وی اج پوری کائنات دے
    کیتی چہرے علی مرتضیٰ تے نظر
    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    جگ تے کل ایماں دا قدم آ گیائے
    ہنڑ تاں باطل نہ بچسی ذراوی اتھاں
    کعبے نواں بنڑایا خوشی توں ہے در
    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    مقبول ذکی مقبول نے اپنے سلام میں بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرمدی کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، جو صبر و استقامت حریمت ، آزادی جرأت اظہار ، انسان دوستی ، کلمہء حق اور عدل و انصاف کے پیامبر تھے ، ان کے چند اشعار دیکھئے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلابی مشن کی آئینہ داری کرتے ہیں ۔

    یزیدی مٹ گئے سارے کوئی ناں تک وی چیندا نئیں
    سکہ شبیر دا چلدائے حکومت وی سمندر ہے

    نہ کہیں ایجھاں کیتا سجدہ کوئی ایجھاں نہ کر سگسی
    اجاں توڑیں ہے سجدے وچ عبادت وی سمندر ہے

    ابنِ علی تہاڈی شجاعت کوں ہے سلام
    دین نبی بچایا امامت کوں ہے سلام

    صبر و رضا دا پیکر نوک سناں تے چہڑھ گئیں
    قرآن پڑھدا رہ گئیں تلاوت کوں کوں ہے سلام

    آخر میں میری دعا ہے کہ مقبول ذکی مقبول اپنی ایمان افروز شاعری کے ذریعے عالم اسلام خاص طور پر اہل وطن کے ضمیر احساس کو جگاتے رہیں ، کیونکہ محمد اور آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے آفاقی نظریات پر عمل کر کے ہی ترقی و خوشحالی ، امن و محبت ممکن ہے ۔عدم صورت میں ذلالت و رسوائی مقدر رہے گی

    جسارت خیالی

    لیہ، پنجاب، پاکستان