Tag: ہندکو

  • پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    تحریر: وجیہ مہتاب 

    پوری دنیا میں زبانوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں ، میں اپنے قلم کو حرکت میں لانا ضروری سمجھتی ہوں میں جس خطے میں پیدا ہوئی ہوں اس مٹی اس زبان سے محبت میری فطرتی جبلت ہے میں اسی زبان ” پنجابی ”کے بارے میں بات کروں گی ۔

    اس  تاریخی پس منظر  میں آپ کو لے کر چلتی ہوں کہ اس سے نفرت کیوں کی جاتی ہے دنیا بھر میں 7457 زبانیں بولی جاتی ہے جن میں 360 زبانیں متروک  ہو چکی ہیں۔ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں بھی سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان پنجابی ہے جو مشرقی افغانستان سے شروع ہو کر پشاور، ہزارہ ڈویژن، پنجاب ،انڈین پنجاب اور کشمیر کے اضلا ع میں مختلف لہجوں میں بولی جاتی ہے31 سے زیادہ ان کے لیے لہجے  اور انداز ہیں ۔دنیا کی مشہور زبانوں انگریزی، فارسی ،عربی، ہندی ،ترکی ،پشتو  اور سندھی کی طرح اس کی عمر ساڑھے پانچ ہزار سال ہے اور ان زبانوں کا روڈ میپ بھی ایک ہے۔ مذکورہ زبانوں کے بے شمار الفاظ پنجابی زبان میں ملتے ہیں انڈیا ایشیائی ریاستوں اور ترک ممالک کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھا تاجروں کے ملاپ اور مختلف حملہ آ وروں کی وجہ سے پنجابی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اس کے بولنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ دینی و اعظین،  مجالس ،صوفی شعراء اور درباروں پر لگنے والے میلوں پر تھیٹروں اور ماضی قریب میں پنجابی فلموں نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

     میں چونکہ پنجاب کے شمال مغربی ضلع اٹک سے تعلق رکھتی ہوں یہاں زیادہ تر پنجابی کی ایک قسم ”ہندکو”  بولی جاتی ہے ہندسے مراد ہندوستان اور کوسے مراد پہاڑ ہیں اور اسی طرح  ہندکو ہندو ستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور ہندکو بولنے والوں کو ہند کوان کہتے ہیں پاکستان کے شہر پشاور، ہزارہ ڈویژن، اٹک ،چکوال ،تلہ گنگ  میں بولی جاتی ہے۔ ہندکو بولنے والوں کی تعداد 56 لاکھ ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کااڑھائی فیصد ہے ہندکو کے بھی مختلف لہجے ہیں۔ پشاور میں خار ے پشوری ، ہزارہ میں تنولی ،اٹک چھچھ میں چھاچھی، پنڈی گھیب جنڈ اور فتح جنگ میں گھیبی لہجہ، علا قہ نلہ ، کالا چٹا پہاڑ اور قوا گاڑ کے درمیانی علاقہ باہتر، جبی، ہمک، اکھوڑی سے ملا حی ٹولہ اٹک خورد تک کیمبل پوری لہجہ ،چکوال میں دھنی اور تلہ گنگ میں اعوانکاری لہجوں کی ہندکو بولیاں شامل ہیں۔

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    مغلو ں کے زوال کے بعد 1799؁ء  میں مشرقی پنجاب سے لے کر پشاور تک سکھوں کا قبضہ ہو گیا تھا سکھ راج مسلمان اور دوسری قوموں کے لیے ظلم اور بربریت کی علامت تھا۔ پنجابی چونکہ سکھوں کی مذہبی زبان تھی اور ان کی مذہبی کتاب "گرنتھ صاحب ”   بھی پنجابی میں تھی  چنانچہ ان کے ظالمانہ نظام حکومت سے بیزار لوگ پنجابی زبان سے نفرت کرنے لگے ۔سکھا شاہی کے خلاف تحریک سید احمد شہید نے شروع کی تھی اور اس تحریک کا مرکز حضرو ضلع اٹک اور سیدو شریف کے پی کے تھا۔ سکھوں کی حکومت کا زور تحریک نے توڑ دیا تھا ۔دونوں متحارب قومیں سکھ اور مسلمان ہند کو بولنے والے تھے اور دونوں کا زور آپس میں 50 سالہ جنگ لڑ لڑ کر ختم ہو چکا تھا۔

     1849 میں انگریزوں نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا سکھ راج ختم کر کے خود بنا حکومت بنا ڈالی اور انگریزوں کو مسلمانوں سے خطرہ تھا اس لیے انہوں نے پنجابی زبان ہندکو سے نفرت دلا کر نوزائیدہ زبان کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا شروع کر دیا ، سکھوں کی جنونی قوم پرستی ہندوؤں کو بھی نہ بھاتی تھی انہوں نے بھی پنجابی کے بجائے ہندی کو ترویج دینا شروع کر دیا۔ 

    1857 کی جنگ آزادی میں زیادہ تعداد پنجابی بولنے والوں کی تھی انگریزوں نے عنان حکومت سنبھالتے ہی یو پی ،سی پی ضلعوں سے اردو ہندی بولنے والوں کو کلرک، منشی اور محرر کی سیٹوں پر بٹھا دیا  جبکہ ان کے سول سروسزآفیسز سب انگریز تھے اور دفاتر سے پنجابی بولنے والے کو نکال دیا اور یوں پنجابی بولنے والے بھی اپنی زبان سے نفرت کرنے لگے اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور دفاتر میں رکھ رکھاؤ کے لیے حکمرانوں کی زبان انگلش کو ترجیح دینے لگے۔

    سجاد سرور نیازی ایک ادیب اور ماہر زبان ہیں وہ کہتے ہیں کہ لندن میں ڈاکٹر جیمز ماہر لسانیات کے لیکچر میں شریک تھا دوران تقریر مختلف زبانوں پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے افریقہ کے کسی قبیلے کی آواز نقل کی اور کہا کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسے دہرا نہ سکے گا نیازی صاحب نے اٹھ کر نقل اتار دی اور ڈاکٹر چیمز بے ساختہ بول اٹھے کہ کیا آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں؟  نیازی صاحب اعتراف کیا تو ڈاکٹر صاحب بولے کہ صرف پنجابی زبان ایسی ہے جس میں تمام دنیا کے حروف او رآوازیں موجود ہیں۔

    کوئی بھی زبان کم تر نہیں ہے غیر ملکی سامراج جہاں بھی جاتا ہے اپنے قبضہ جمانے کے لیے بغاوت کے خوف سے پہلے سے موجود زبان کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ غصہ اور جذبات کو روکا جا سکے۔ پنجابی بولنے والوں کو اجڈ گنوار قرار دیا گیا اور احساس کمتری کے غوطے دیے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث نہ ہوں۔

    برصغیر میں انگریزی سے پہلے فارسی ہماری قومی زبان تھی جہاں سے آئی تھی وہیں انگریزوں نے بھیج دی جس میں ہمارا ثقافتی اور مذہبی اثاثہ تھا جو ختم ہو گیا۔اب اسی تہذیبی جنگ میں مغربی میڈیا اردو رسم الخط اور زبان کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔اس لیے کہ   یہ تینوں زبانیں مشرقی ہیں۔

    میں قدامت پسند نہیں روشن ضمیر اور وسیع خیالات کی حامی ہوں اردو ہماری قومی زبان اور تمام صوبوں کی اکائی ہے انگریزی بین الاقوامی سفارتی اور سائنسی زبان ہے۔ان کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ جو علم مادری زبان سے سیکھتا ہے وہ پرائی زبان سے نہیں ماں کی گود پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ یہیں سے تیار ہو کر قومیں ،قومیں بنتی ہیں۔

     میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں سید ثقلین انجم بخاری، جناب مشتاق عاجز، پروفیسر سید نصرت بخاری اور پروفیسر اختر محمود ناشاد جو اٹک کی دھرتی میں  پنجابی زبان کے احیاکے لیے کو شاں ہیں۔

    وجیہ مہتاب
    لاء سٹوڈنٹ
    انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی 
    اسلام آباد

  • سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    Dubai Naama

سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    اردو زبان دنیا کی واحد زبان ہے جس میں ہر زبان کے الفاظ بآسانی سما جاتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی زبان دان کو اردو سے تھوڑا بہت شغف بھی پیدا ہو جائے تو وہ اسے اپنی ماں بولی جان کر سمجھنے اور سیکھنے لگتا ہے۔ چونکہ اردو زبان کا جنم متحدہ ہندوستان کے ایسے ماحول میں ہوا کہ آغاز میں یہ زبان مختلف النوع زبانوں کے حامل مغلیہ فوجیوں میں رابطے کے طور پر بولی جاتی تھی اسی وجہ سے شروع میں اسے "لشکری زبان” بھی کہا جاتا تھا۔ جبکہ تیرویں صدی سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جس زبان کو آج "اردو” کے نام سے جانا جاتا ہے اسے ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دہلوی اور لاہوری زبان بھی کہا جاتا تھا۔ تب اردو زبان میں دیگر قدیم و جدید زبانوں مثلا سنسکرت، آریائی، ہندکو، عربی، فارسی اور انگریزی وغیرہ کے علاوہ درجنوں علاقائی زبانوں کے الفاظ بھی تیزی سے سماتے چلے گئے۔ آج اردو رسم الخط سے بالاتر ہو کر صرف اردو مافی ضمیر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں چینی، فرانسیسی، جاپانی اور دیگر سینکڑوں زبانوں کے الفاظ بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔

    مسلم عروج کے زمانے مثلا عثمانیہ اور مغلیہ عہد اپنے زمانے کی سپر طاقتیں تھیں، اور زبانوں کے بارے مقولہ مشہور ہے کہ "زبان صرف حکمران قوم کی چلتی ہے۔” لھذا چونکہ عثمانیوں کی زبان عربی اور ترکش تھی اور مغلوں کی زبان فارسی تھی لھذا ان تینوں زبانوں کے اشتراک سے اردو زبان نے جنم لیا۔ اسلام کی روشنی عربی زبان میں پھوٹی تھی۔ جب اسلام برصغیر میں پہنچا اور یہاں مسلمان مغلیہ خاندان کو بھی عروج حاصل ہوا تو عرب ممالک کے باشندوں کو بھی اردو زبان سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی۔ عرب ممالک کے بہت سے طلباء ماضی اور حال میں ہندوستان اور خاص طور پر پاکستان میں کراچی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حصول علم کے لیئے آتے رہے ہیں۔ چونکہ بھارت، پاکستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھوٹان وغیرہ میں بھی عوام کی اکثریت اردو زبان کو سمجھتی اور بولتی ہے اور ان ممالک کی افرادی قوت بھی عرب ممالک میں موجود تو اس سے معاملہ کرنے کے لیئے حسب ضرورت عرب ممالک کی 80فیصد سے زیادہ آبادی میں بھی اردو زبان کی بول چال موجود ہے۔

    ایک عام اندازے کے مطابق اردو اور ہندی کے بولنے والوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ اردو زبان دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے۔

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز
    ڈاکٹر سمیرا عزیز

    اردو لسانیات سے عربوں کی اس کرم فرمائی نے خود عربوں میں اردو زبان و ادب کے مشاہیر کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل اماراتی اردو شاعر ڈاکٹر فاروق العرشی کا انہی سطور میں ذکر کیا تھا۔ ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کراچی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس (MBBS) کی ڈگری لینے گئے مگر انہیں اردو شاعری سے ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ آج تک اردو شاعری کی 103 کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی اردو شعر و ادب کی خدمات کے عوض سنہ 2013ء میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انہیں "تمغہ امتیاز” سے نوازا۔ اسی طرح سعودی عرب کی قومیت رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا عزیز میرے لیئے ایک نئی دریافت ہیں جو اردو زبان کی مصنفہ اور شاعرہ ہیں جن کے نام کو گوگل کریں تو شاعری اور دیگر موضوعات پر ان کی اردو زبان میں بے شمار ویڈیوز نظر آئیں گی۔

    گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے دنیا بھر کے علماء، دانشوروں اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل گرمی کی وجہ سے حجاج کی بھی شہادتیں ہوئیں۔ اب سعودی عرب نے دنیا میں نیا اعزاز حاصل کیا کہ سعودی عوام کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا، جس میں عوام کی پسندیدگی کے اعتبار سے سعودی حکومت دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے جہاں 86فیصد شہریوں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سالانہ اعتماد انڈیکس رپورٹ ایڈلمین 2024 کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں سعودی عوام نے حکومت پر فیصلہ سازی اور قومی مفادات کے حصول کے حوالے سے اعتماد کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    اسی انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ 78 فیصد شہری کاروباری سیکٹر کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر اعتماد رکھتے ہیں، جبکہ دور جدید کے حوالے سے 80 فیصد شہری سعودی لیڈرز اور سائنسدانوں پر یقین رکھتے ہیں۔
    تاہم 56 فیصد شہری ملک میں سرکاری اقدامات برائے ٹیکنالوجی پر حکومت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس سروے میں 28 ممالک شامل تھے، جس میں سعودی عرب نے امریکہ، فرانس، جاپان، برطانیہ، جرمنی اور کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    ان مذکورہ موضوعات پر ڈاکٹر سمیرا عزیز کی ویڈیوز عربی زبان کی بجائے اردو زبان میں گوگل پر دیکھی جا سکتی ہیں جو اردو زبان کے لئے کسی سعودی شہری کی ایک قابل فخر کارکردگی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سمیرا عزیز کا اردو لب لہجہ اتنا نیچرل ہے کہ انہیں سنتے ہوئے لگتا ہے کہ اردو ان کی "مادری زبان” ہے۔ یہ اردو زبان و ادب، شاعری اور ثقافت کی خدمات کی صرف ایک بدیسی مثال ہے۔ خود پاکستان کا حال یہ ہے کہ اردو کو قومی زبان قرار دینے کے باوجود اسے ابھی تک سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر رائج نہیں کا جا سکا ہے۔۔۔!

  • ساجد ناز مہروی کی غزل کے کھوار تراجم

    ساجد ناز مہروی کی غزل کے کھوار تراجم

    ساجد ناز مہروی کی غزل کے کھوار تراجم کا تجزیاتی مطالعہ

    چترال، مٹلتان کالام اور شمالی پاکستان کے گلگت بلستان کی وادی غذر میں بولی جانے والی زبان کھوار میں پشتو، فارسی، ہندکو، پنجابی، سرائیکی اور دیگر مادری زبانوں کی نظم و نثر کے تراجم کیے جارہے ہیں، جس سے کھوار زبان کے قارئین ان زبانوں کے ادب اور ادیبوں کے افکار و خیالات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ راقم الحروف نے پشتون شاعر خوشحال خان خٹک، اردو شاعرہ پروین شاکر، ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی، علامہ اقبال، مرزا اسد الله خان غالب اور دیگر شعرا کی شاعری کو کھوار زبان کے قالب میں ڈھال کر قارئین کے لیے آسانی پیدا کی ہے۔ اردو شاعری کے حوالے سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے ساجد ناز مہروی ایک مقبول شاعر بن کر ابھرے ہیں۔ ان کی غزلوں میں محبت، تڑپ اور خود شناسی کا ایک عمدہ اظہار پایا جاتا ہے جو روح کو ایک ایسے مقام تک لے جاتی ہے جہاں الفاظ دل کے راگ کے ساتھ رقص کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

    ساجد ناز مہروی کی غزل کے کھوار تراجم
    ساجد ناز مہروی


    غزل کا آغاز ایک گہرے اور دلچسپ دعوے سے ہوتا ہے جیسے: "حسنِ کردار بن گیا ہوں میں” یعنی میں کردار کا مجسم ہو گیا ہوں یہاں مہروی خود شناسی کے سفر کے لیے دعویٰ کرتا ہوا نظر آتا ہے، جہاں شاعر کی شخصیت خوبی اور دیانت کے جوہر میں بدل جاتی ہے۔ یہ سطر نہ صرف زبان پر شاعر کی مہارت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ انسانی وجود کی گہرائیوں میں جانے کی صلاحیت کو بھی سامنے لاتا ہے۔
    جیسے جیسے غزل کے اشعار سامنے آتے ہیں، شاعر کی محبوب سے ملنے کی تڑپ واضح ہوتی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھئیے ”تیری آنکھوں سے پی کے جانِ من/تیرا بیمار بن گیا ہوں میں” نشہ اور بیماری کی یہ منظر کشی محبت کی نشہ آور رغبت اور اس کے نتیجے میں آنے والی کمزوری کا استعارہ پیش کرتے ہیں۔ مہروی کا علامت نگاری کا ماہرانہ استعمال غزل میں پیچیدگی کی تہوں کو جوڑتا ہے اور قارئین کو اس کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔
    شاعر مزید افسوس کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسے ” میں غموں کو اُدھار لیتا ہوں/کتنا غم خوار بن گیا ہوں میں” یہاں مہروی ہمدردی کے موضوع اور ہمدرد انسان پر اس کے اثرات کو تلاش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دوسروں کے دکھوں کا بوجھ اٹھانے کے بارے میں یہ خود شناسی عکاسی شاعر کی انسانی دکھوں کے تئیں گہری ہمدردی اور حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔
    اس کے بعد کے شعر میں، مہروی نے ایک زبردست تضاد کا لفظ استعمال کیا ہے: جیسے ” ایک پتھر تھا ‘ اور اب ہیرا/میری سرکار ‘ بن گیا ہوں میں” (یعنی کبھی میں ایک پتھر تھا اور اب ہیرا بن گیا ہوں)۔ سختی اور چمک کا یہ جوڑ محبت کی تبدیلی کی طاقت کی علامت ہے، جو دنیا کو غیر معمولی شئے میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ شاعر کے مبہمیت سے خود شناسی تک کے سفر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جہاں وہ محبت کے میں ایک جواہر بن کر ابھرتا ہے۔
    یہ شعر دیکھیے کہ ” حُسن کا کیا نشہ چڑھا اے ناز/سب سے بے کار بن گیا ہوں میں” (یعنی خوبصورتی کا کیا نشہ ہے اے ناز، میں اب بے وقعت ہو گیا ہوں) کے ساتھ غزل اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ یہاں،ساجد ناز مہروی جسمانی خوبصورتی کی عارضی نوعیت اور انسانی دل پر اس کی عارضی گرفت کا سامنا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور وجودی حساب کا یہ لمحہ شاعر کی سطحیت سے مایوسی اور گہرے معنی اور مقصد کی تلاش کی عکاسی کرتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ ساجد ناز مہروی کی غزل اردو دان طبقے کے ساتھ ساتھ کھوار زبان کے قارئین کے دلوں اور دماغوں کو بھی یکساں طور پر موہ لینے کی لازوال طاقت کا ثبوت ہے۔ زبان، علامت نگاری اور منظر نگاری کے اپنے شاندار استعمال کے ذریعے، ساجد ناز مہروی قارئین کو خود کی دریافت اور خود شناسی کے ایک تبدیلی کے سفر پر مدعو کرتا ہے۔ ان کی غزل نہ صرف محبت، چاہت اور وجودی اضطراب کے لازوال موضوعات سے بھرپور ہے بلکہ انسانی تجربے کی خوبصورتی اور پیچیدگی کی بھی ایک پُرجوش یاد دہانی کا کام کرتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ساجد ناز مہروی کی اردو غزل اور منظوم کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔
    *
    غزل
    *
    حُسنِ کردار بن گیا ہوں میں
    یعنی تلوار بن گیا ہوں میں
    تیری آنکھوں سے پی کے جانِ من
    تیرا بیمار بن گیا ہوں میں
    میں غموں کو اُدھار لیتا ہوں
    کتنا غم خوار بن گیا ہوں میں
    ایک پتھر تھا ‘ اور اب ہیرا
    میری سرکار ‘ بن گیا ہوں میں
    سہل سمجھے تھے میرے یار مجھے
    کارِ دُشوار بن گیا ہوں میں
    حُسن کا کیا نشہ چڑھا اے ناز
    سب سے بے کار بن گیا ہوں میں
    *


    کھوار منظوم تراجم
    *
    حُسنِ کردار بیتی اسوم اوا
    یعنی تلوار بیتی اسوم اوا
    تہ غیچھاری پیی اے جانِ من
    ته بیمار بیتی اسوم اوا
    اوا غمان وام گانیمان
    کندوری غم خوار بیتی اسوم اوا
    ای بوھرت اوشوتم وا ہانیسے ہیرا
    مہ سرکار بیتی اسوم اوا
    آسان جوشاوشتتانی مه یار مہ
    کارِ دُشوار بیتی اسوم اوا
    حُسنو کیہ نشہ ہوئے اے ناز
    سفان ساری بے کار بیتی اسوم اوا

  • ادبیات خیبر پختونخواہ: پاکستانی زبانوں کا ایک شاہکار مجموعہ

    ادبیات خیبر پختونخواہ: پاکستانی زبانوں کا ایک شاہکار مجموعہ

    ادبیات خیبر پختونخواہ: پاکستانی زبانوں کا ایک شاہکار مجموعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    اکادمی ادبیات پاکستان کا رسالہ ”ادبیات خیبرپختونخوا کا 2023 کا تیسرا شمارہ پاکستان کے ثقافتی، ادبی اور لسانی منظر نامے میں پروان چڑھنے والے بھرپور ادبی تنوع کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ محترم ڈاکٹر اسماعیل گوہر کی تدوین اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد کی صدرنشین ڈاکٹر نجیبہ عارف کی بصیرت انگیز رہنمائی میں شائع ہونے والا یہ تاریخی ایڈیشن مختلف پاکستانی زبانوں میں پاکستانی مصنفین کی ادبی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
    ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس خصوصی شمارے کے لیے اداریہ لکھا ہے آپ نے اپنے ادارئیے میں ثقافتی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں لسانی تنوع کی اہمیت پر تبصرہ کیا ہے اور اس خصوصی شمارے کو شایع کرنے کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے۔ ڈاکٹر اسماعیل گوہر نے اپنی تحریر”حرف اول” میں اس کثیر جہتی ادبی سفر کی ایک شاندار جھلک پیش کی ہے جس کا پاکستانی زبانوں کے قارئین کو شدت سے انتظار تھا۔

    ادبیات خیبر پختونخواہ: پاکستانی زبانوں کا ایک شاہکار مجموعہ


    پشتو سیکشن:
    پشتو سیکشن ڈاکٹر جاوید اقبال کے ایک معلوماتی اداریے کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ پشتو سیکشن میں خیبر پختونخوا کے ادیبوں کے اردو مضامین کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل پشتو مضامین بھی شامل ہیں:- ”سرجن” ڈاکٹر زبیر حسرت، ”شڈل اپریدے” ڈاکٹر اسلم تاثیر، ”یادختونہ” سیدہ حسینہ گل، ”ارمانی صاحب” طاہر بونیری، نا اشنا لارې، ناشنا لاروي ۔۔۔ مزل او منزل، سيدالامين احسن خوېشګي، خٹک گڈا، جاوید اقبال افکار،د زبیر حسرت د غزل تجزیہ، اسماعیل گوہر، سراب، ڈاکٹر جہان عالم، پیٹے، کلثوم زیب، د اختر پیزار، نوید جمال، فطرت، فرشتہ بہار، افسانہ یا حقیقت، ساجدہ مقبول تنہا، لوگہ، نیلم آرزو، گلوبل ویلج، محمد حامد سراج/ سید زبیر شاہ، دے خولې خولې مى ښکلےټول بدن راشه ناز، تنہا شنواری، چې مطمئن شومه د سوال په جواب پوهه شومه، شاہ ذواللہ اسیر، په زړۀ مې راورېږي نۀ هېرېږي لا تراوسه، م۔ر۔شفق، اوس به يو بل حلالوؤ داسې به ژوند تېروؤ، حیران خٹک، د ارمانو په هجوم کښې دې تنها ولاړ يم فضل الرحیم لوہار، دومره لرې ما‌نه ‌مۀ ‌ځه، ډاکټر،خليل الرحمان خليل، ورته حيران حيران کتل مې چې د چا تصوير دے، عبد الحمید زاہد، ستا يادونه مې يادونو کښې پراتۀ دي، اختر حیات قمر،شمال چې په محفل دې د رنګونو ورېدو، ڈاکٹر عرفان خٹک، د زړۀ د هر درز نه چې ورو ورو راوته خاموشي، مختیار، احمد شاہین، نه په ګناه نه په خطا نه‌ په قصور مې وژني، رحمت زادہ ظہیر، مکوه ماته د دوزخ او د جنت مسئلې، نورزمان بیدار، په زړۀ کښې مې نيولي ارمانونه بې حسابه، ظہور احمد ظہور، زۀ د فطرت په ښکلاګانو مئين، وقار محمد، ياد دې زما د زړۀ په کور کښې اوسي، محمد عدنان عدنان کے اردو اور پشتو مضامین شامل ہیں۔


    ہندکو سیکشن:
    ہندکو سیکشن کے ایڈیٹر حسام حر قارئین کی ہندکو زبان کے متنوع تاثرات پر مشتمل ایک دلچسپ ادارئیے کے ذریعے رہنمائی کرتے ہیں۔ ہندکو سیکشن میں دوسرا پڑائو، ناصر علی سید، وڈکارا، اورنگزیب حسام حر، میری پہلی کتاب دا محرک، علی اویس خیال، ہزارہ تے ہندکو ادب، عبدالوحید بسمل، اوہ کونڑ آہسی؟، احمد حسین مجاہد، نیک بندہ، پروفیسر ملک ناصر دائود، ہر دم تیری ثنا کردا رواں میں، حسام حر، جد چانڑنے تے خاک پوے بال شم نویں، حسام حر، اتنے غورا نال بھی نہ تاڑ، محمد حنیف، دنیاداری کرنی پے سی، رستم نامی، بند دروازے بڑنا اوکھا، عبد الوحید بسمل، اپڑے حالات سنڑاندے منوں ڈر لگدا وے، بشری فرخ، انھیں، کلے، چاڑے لوک، ڈاکٹر ضیاالرشید، بَہوّں ظالم اَنہیارا، راشد عباسی، ساری راتی جاغنے رئے آں، شکیل اعوان، کے کے تد بدخوئی کیتی، کیہڑا دم نینھ لائی مانھ، احمد تنویر، جیہاں بوٹا سک ہی جلدے، شھباز سرور، کواری، سعید صاحب کے مضامین شامل ہیں۔
    سرائیکی سیکشن:
    سرائیکی سیکشن کا اداریہ خورشیدربانی کا تحریر کردہ ہے یہ اداریہ ایک متحرک سرائیکی ادبی تجربے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کی ترجمہ شدہ تصنیف اور طاہر شیرازی کی جذباتی شاعری کی شمولیت اس حصے کو مالا مال کرتی ہے، جو سرائیکی ثقافتی اظہار کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔ سرائیکی سیکشن کے دیگر مضامین میں آمیڈے دیس وچ (ناول کا ایک باب)، حبیب موہانہ، کانواں ناں بدناواں، غلام فرید،اونگھدے ویلھے دا میہنہ، منیراحمد فردوس، خودکشی (اردو سے ترجمہ ۔محمد علی کاظمی) حمزہ حسن شیخ، فنکار لوک(اردو سے ترجمہ۔سعدیہ رحمن)، سعادت حسن منٹو، دل نال دل دی ساء نال سا ءدی، طاہر شیرازی، ڈکھاں دے انبار اچ جند رُل گئی وے، ابرارعقیل، ویلہ(نظم)، جاوید بخاری، گاونْ، مظہر علی تابش، بس ونجنڑاں ہے، مخمورقلندری، ساکوں بُھلا نہ ڈیویں، جمشید ناصر، اج وِسرے کل یاد کریجے، اسداشلوک، میکوں سانول ستاونْ روز آندئے، باقرنیازی، زندگی چپ کر، زر گھن آیاں، مرتضیٰ واجد، ہک ڈیہاڑے یاد ہے میکوں، رحمت اللہ سیفی، جیویں یاد جوانی آئی ہے، عمران خاکی، نقد یا وت ادھا چا گھنسوں، عدیل عباس، تیڈو دید بھنویندے راہسوں، عنایت اللہ عنایت، میڈیاں پپلیاں تے بل ویندے ہن جیڑھے ڈیوے تیڈے ناں دے نال، غلام محمد قاصر۔تسلیم فیروز، میڈے لباں تے نعتیہ نغمہ کل وی ہئی تے اج وی ہے، صبیح رحمانی۔خورشیدربانی کے نثری اور شعری اصناف کو شامل کیا گیا ہے۔
    گجری سیکشن:
    پروفیسر ممتاز حسین کا اداریہ قارئین کو گجری سیکشن سے متعارف کراتا ہے گجری تہذیب و ثقافت کے بارے میں فرید راز کی بصیرت اس لسانی موزیک میں ایک تاریخی جہت کا اضافہ کرتی ہے۔ دیگر مضامین میں گوجری حمد تے تعت کی روایت،ڈاکٹر نزاکت حسین، گوجری تہذیب تے ثقافت، فرید راز، گلہ قصائی ڈاکٹر، ریاض توحیدی/ منظور حسین، جنگلاں غی شہزادی، پروفیسر ممتاز حسین، لمبو پینڈو تے سنہری اصول بانو چوہان، نعت، آصف رضا طاہر، نیلا تہاری تہارے ناں اے احمد حسین مجاہد
    کوئے تیر نظر کو مار گیو لالہ محمد حنیف، توں تے دردی تھو تیں وی پَھٹاں اُپر لُونڑ سٹیو بجران خالد، بدھا غمگین بیٹھو سوچ کا بنبل بَٹے تھو، صفی بانی وغیرہ کے مضامین اور اشعار کو جگہ دی گئی ہے۔
    کھوار سیکشن:
    کھوار سیکشن کا ادارہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے تحریر کیا ہے، کھوار زبان کے شعرا نثر نگاروں میں فرہاد یوسفی، شاہانہ عزیز، اور دیگر ادیبوں کی تخلیقات کو بھی دیگر پاکستانی زبانوں کے ادیبوں کی طرح جگہ دی گئی ہے۔ ہر نظم و نثر کھوار زبان اور ثقافت کی خوبصورتی کو سامنے لاتا ہے، دیگر لکھاریوں کی تحریروں میں لولواچوکی، فرہاد یوسفی، ژوروبش اوچے مہیر، شاہانہ عزیز، مہ ناچار میکی، حمید الرحمان حقی، پونغو سو پڑاؤ، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، کا بشار گنیکو، اقرار الدین خسرو، باؤری، حفیظ اللہ امین، ناشکرا، محمد جاوید حیات، بابا، فرید احمد رضا، ناخو نور، شیراز غریب، ابلیس اوچے اللہو مکالمہ، عمر حیات راسخ، دوروکیہ زیب، ذاکر محمد زخمی، چھوئی ختان، ظہور الحق دانش، لوگار مایون، خواجہ سعید احمد سعید، سے ہور اوشویہ، سے پریہ، خور کی مس اوشوئے، سعادت حسین مخفی اور تہ سار سوال کوری جوابوتے غیچ ،عبد اللہ شہاب کی تخلیقات شامل ہیں۔
    توروالی سیکشن:
    توروالی سیکشن کا اداریہ ممتاز ماہر تعلیم، ماہر لسانیات، لغت نویس زبیر توروالی نے تحریر کیا ہے دیگر لکھاریوں کی تحریروں میں توروالی کتھان، جاوید اقبال توروالی، لُوڑا سی نظم، جاوید اقبال توروالی کی تخلیقات کو پہلی بار جگہ دی گئی ہے۔
    گاؤری سیکشن:
    گاؤری سیکشن کا اداریہ محمد زمان ساگر نے تحریر کیا ہے دیگر مصنفین کی تحریروں میں ہورتھاگاں قصہ، آصف نواز اتروڑ، کٞہ کھات کاٞ رینگونت او ماں ناصبر ہیکوکور، زیڈ وائی خائستہ ملنگ، ارو مئی فکر کیت وزیر عاشقی باٞر گِران تھی دنایہ، مراد اتروڑی شامل ہیں۔
    شینا کوہستانی سیکشن:
    شنا کوہستانی سیکشن کا اداریہ رستم نامی کا تحریر کردہ ہے اس کے علاوہ رستم نامی کی تین تحریروں کو جگہ دی گئی ہے جن میں غلط قسمے خیالاتو مجا نوئے،رستم نامی، آئے تو لاؤ بڑو ظلم تھاؤں، رستم نامی اور تھوئے دیدنے خیالو مجا، رستم نامی شامل ہیں دیگر لکھاریوں کی تحریروں میں مہ غذر بطن، جاوید حیات کاکاخیل، کھڅ اؤ بئ محفل، غازی احمد انقلابی کی تحاریر کو جگہ دی گئی ہے۔
    گورباتی سیکشن:
    گورباتی سیکشن کا اداریہ، ڈاکٹر مطاہرشاہ نے لکھا ہے دیگر گورباتی لکھاریوں کی تحریروں میں اصل خوشحالی کېنے دِتِنی، ابو حفصہ، احساسنی عدالت، انعام الرحمان، حضرت انسان، امان اللہ امین، دعا، انعام الرحمان، مرگہ پېنہ پُدَمہ، ابو الفضل، روڅ کيري ميم او شام کيري ميم، نصیر اللہ ناصر، غیبی کھنٹ، احمد یدغا، جلاد روسو، سفید خان سعید، من یار چی بے وفا شوئے وہ لورو جا من جدا شوئے، برہان، ای ذلا خوشان من کہہ لیشچم فتو، سفید خان سعید، یدغا پشتو مشترک لفظی سرمایہ، اسماعیل گوہرکے مضامین شامل ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان اکادمی ادبیات کی طرف سے شایع کردہ رسالہ ”ادبیات خیبرپختونخوا” کا تیسرا شمارہ پاکستانی زبانوں کے فروع کے لیے ایک ادبی شاہکار کے ساتھ ساتھ ایک اہم اور تاریخی دستاویز کے طور پر ہمارے سامنے ہے ، جس میں پاکستان کی مادرہ زبانوں کے لسانی تنوع کو فروع دینے کے لیے پہلی بار حکومتی سطح پر کوشش کی گئی ہے جو پاکستان کی ثقافتی، ادبی اور لسانی شناخت کی وضاحت کرتا ہے۔ پشتو، ہندکو، سرائیکی، گجری، کھوار، توروالی، گوری، شینا کوہستانی اور گوربتی زبانوں میں تحریروں کا امتزاج اظہار کی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، تنوع میں اتحاد کو فروغ دیتا ہے۔ صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف، ایڈیٹر ڈاکٹر اسماعیل گوہر اور دیگر مادری زبانوں کے تعاون کرنے والے تمام مصنفین کو میں ایک لسانی کارکن کی حیثیت سے پاکستانی ادبی تاریخ میں اس غیر معمولی سنگِ میل کو ترتیب دینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ سلسلہ جاری رہے گا ان شا اللہ۔

  • احساس دی سویر

    احساس دی سویر

    شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ھے دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر اسے عام فہم سادہ اور دلچسب الفاظ میں بیان کرتا ھے یہی حال کہانی کار اور ڈرامہ نگار کا بھی ہوتا ھے وہ اپنے ارد گرد پیش آنے والے واقعات و تجربات کو کہانی کی صورت میں لکھ کر امر کر دیتا ھے۔

    ehsaas di swer

    ڈرامہ نگار بھی اپنے ڈراموں میں اصلاح معاشرہ کیلئے نمایاں اور سبق آموز واقعات کا انتخاب کرتا ھے اور ان کرداروں کو تخلیق کرتا ھے جو ایک عام آدمی کو متاثر کریں سید تصور حسین بخاری جن کا تعلق اٹک کے مردم خیز خطہ سے ہے شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اہم مقام رکھتے ہیں ان کے لکھے گئے ڈرامے پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سنٹر سے دو دہائیوں سے پیش کیے جا رہے ہیں ۔

    احساس دی سویر

    ان کے تحریر کردہ مشہور ڈراموں میں انجام،ڈیوا،خوف،احساس،فتنہ،بوجھ،فیصلے کی گھڑی،احساس دی سویر،تقدس۔سنہری لکیریں،بے ایمانی کی سزا و دیگر کئی ڈرامہ سیریل شامل ہیں جنہیں عوامی سطح پر پزیرائی حاصل ہوئی سید تصویر بخاری نے ہندکو ادب کے فروغ اور اس کی ترقی کے لیئے بہت کام کیا آپ کے لکھے گئے ہندکو ڈراموں کو گندھارا ہندکو اکیڈمی پشاور نے ایک خوبصورت دیدہ زیب کتاب کی صورت میں محفوظ کیا تصور بخاری کے ڈراموں کا یہ خاصہ ھے کہ وہ اصلاح احوال کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ تفریع طبح کا باعث بھی ہیں ان کی تحریریں انتہائی مثبت رنگ کی حامل ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ان کا شمار صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں ھو گا۔

    shuja awan

    ڈاکٹر شجاع اختر اعوان