Tag: چکوال

  • گھکھ تھانہ نیلہ کے علاقے  میں دل ہلا دینے والا واقعہ

    گھکھ تھانہ نیلہ کے علاقے میں دل ہلا دینے والا واقعہ

    گھکھ تھانہ نیلہ کے علاقے میں دل ہلا دینے والا واقعہ

    Dubai Naama

گھکھ تھانہ نیلہ کے علاقے میں دل ہلا دینے والا واقعہ

    سوشل میڈیا بہت بڑی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اب کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی خبر کو بھی چھپانا مشکل ترین ہو گیا ہے۔لیکن حیرانی ہے اتنی بڑی خبر اتنے لمبے عرصہ تک کیوں اور کیسے چھپی رہی؟ اس ہولناک اور انسانیت سوز خبر پر یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    اس کے باوجود اس واقعہ کے بارے ایک اور شرمناک اور قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ ہزاروں افراد کے اس قصبہ میں مجرمان اتنے زیادہ طاقتور تھے کہ پورے گاؤں میں کسی ایک فرد کا بھی ضمیر نہ جاگا کہ تمام اہل قصبہ کو اتنے بڑے جرم پر خاموشی اختیار کرنی پڑی۔ ایک حدیث نبوی ﷺ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اعلی درجے کا ایمان یہ ہے کہ ظلم کو ہاتھ اور تلوار سے روکا جائے، دوسرے درجے کا ایمان یہ ہے کہ ظلم کو زبان سے روکا جائے اور تیسرے اور آخری کم ترین درجے کا ایمان یہ ہے کہ ظلم کے خلاف ہاتھ اور زبان سے جہاد نہیں کر سکتے تو اسے دل میں برا سمجھا جائے۔ اس واقعہ پر دوسرے درجہ کے ایک شخص نے زبان کی بجائے قلم سے جہاد کیا اور پولیس کو اس المناک واقعہ کے بارے میں خط لکھ دیا۔

    پہلی بار رونگٹے کھڑے کر دینے والی یہ خبر بی بی سی اردو پر رپورٹ ہوئی اور اب سوشل میڈیا پر آ گئی ہے۔ معلوم نہیں کہ تا دم تحریر اخبارات پر اسے کوریج ملی ہے یا نہیں؟ راقم الحروف اس واقعہ کو جوں کا توں رپورٹ کر رہا ہے۔
    آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج سے نیچے اتریں تو آپ کو دائیں جانب تھانہ نیلہ ملے گا، اس تھانے میں یکم فروری کو ایک گم نام خط موصول ہوا جس میں انکشاف کیا گیا کہ گھکھ گاؤں کی ایک حویلی میں ایک لڑکی اور لڑکا دو سال سے بند ہیں، کوئی خاتون ہر دوسرے دن کھڑکی کے ذریعے انھیں کھانا دے جاتی ہے، یہ دونوں آخری سانسیں لے رہے ہیں، یہ خط بارہ دن پولیس کی فائلوں میں گردش کرتا رہا، بہرحال 12فروری کو پولیس گاؤں پہنچ گئی، گھکھ تھانہ نیلہ سے 25 کلومیٹر دور ہے، جنرل فیض حمید کی مہربانی سے گاؤں تک سڑک بن گئی تھی، پولیس حویلی تک پہنچی تو اسے حویلی کے ایک کمرے میں بستر پر ایک لڑکی کی نو دس دن پرانی لاش ملی۔ لاش کے اوپر رضائیاں اور دریاں پڑی تھیں، لڑکی کی موت بظاہر بھوک اور سردی کی وجہ سے ہوئی تھی، وہ مکمل طور پر ہڈیوں کا ڈھانچہ تھی، اس کا کل وزن 10 سے 15 کلو تھا، کمرے میں روٹی کے ٹکڑے بھی پڑے تھے۔ جب کہ یہ بدقسمتی لڑکی اس کمرے کے ایک کونے کو واش روم کے طور پر بھی استعمال کرتی رہی تھی جو ثابت کرتا تھا کہ وہ اسی چھوٹے سے کمرے میں قید تھی جس سے اسے ایک عرصہ تک باہر نہیں نکلنے دیا گیا تھا۔ اس لڑکی کے جسم پر پھٹے پرانے اور بدبودار کپڑے تھے جن سے محسوس ہوتا تھا کہ اس نے سال ڈیڑھ سال سے کپڑے نہیں بدلے، بال اور ناخن بھی بڑھے ہوئے تھے اور لڑکی نے مدت سے غسل بھی نہیں کیا تھا،

    اس تھانہ کی پولیس نے دوسرا کمرہ کھلوایا تو اس سے ایک نوجوان لڑکا ملا، وہ پولیس کو دیکھ کر چھپنے کی کوشش کرنے لگا، پولیس نے بڑی مشکل سے اسے یقین دلایا کی وہ اس کی مدد کرنے کے لیے آئی ہے، لڑکے کی حالت بھی خستہ تھی، جسم سے بدبو آ رہی تھی، بال گندے اور لمبے تھے اور ان میں جوئیں پڑی ہوئی تھیں، اس کا جسم بھی ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا، وہ نقاہت سے کھڑا تک نہیں ہو پا رہا تھا، وہ بھی اسی چھوٹے سے کمرے کو رفائے حاجت کے طور پر بھی استعمال کرتا رہا تھا، اپنی بہن کے کمرے کی طرح اس کا کمرہ بھی انتہائی خراب اور گندہ تھا، بستر بھی غلیظ تھا، پولیس فوری طور پر لاش اور نوجوان کو تھانے لے گئی۔ نوجوان کو گرم پانی سے غسل دیا گیا، بال اور ناخن تراشے گئے اور اسے نئے کپڑے پہنائے گئے، اسے اچھی خوراک بھی دی گئی، یہ برسوں کا بھوکا تھا لہٰذا یہ جانوروں کی طرح خوراک پر پل پڑا، نوجوان کی طبیعت ذرا سی سنبھلی تو اس نے یہ ہولناک کہانی سنائی۔

    ان دونوں بہن بھائیوں کے والد کا نام چوہدری زرین تاج تھا، وہ شریف آدمی تھے، گاؤں کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے، دو سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا، والدہ کا انتقال ان سے پہلے ہو چکا تھا، نوجوان کا نام حسن رضا ہے، اس کی عمر 32 سال ہے، لڑکی اس کی بہن تھی اور اس کا نام جبین تھا، عمر 25 سال تھی، لڑکی نے بی ایس سی کر رکھا تھا اور میٹرک میں اس نے راولپنڈی ریجن میں ٹاپ کیا تھا، وہ انتہائی محنتی اور ذہین بچی تھی، دونوں بہن بھائیوں کو وراثت میں 950کنال زمین ملی، زمین ذرخیز اور قیمتی تھی، والدین کے بعد بہن بھائی اکیلے رہ گئے۔ ان کے تایا کے بیٹے تعداد اور اثرورسوخ میں زیادہ تھے لہٰذا تایا زاد نے اپنے بھائیوں کی مدد سے ان کی زمین پر قبضہ کر لیا اور دونوں بہن بھائیوں کو پاگل مشہور کر کے حویلی میں بند کر دیا، یہ علاج کے نام پر انھیں ایسی دوائیں بھی دیتا رہتا تھا جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑ جائے یا وہ فوت ہو جائیں، دونوں بہن بھائیوں کو دو سال دو مختلف کمروں میں بند رکھا گیا، انھیں کپڑے دیئے جاتے تھے اور نہ گرمیوں میں پنکھا اور سردیوں میں رضائی، کھڑکی سے ان کے کمرے میں روزانہ ایک ایک روٹی اور تھوڑا سا سالن اندر پھینک دیا جاتا تھا، ملزم بااثر تھے، چنانچہ گاؤں کے لوگوں نے ڈر کر ہونٹ سی لیئے اور خاموشی سے یہ ظلم دیکھتے رہے، اس دوران زمین تایا زاد بھائیوں کے قبضے میں رہی، یہ اس پر کھیتی باڑی بھی کراتے رہے اور انھوں نے ان کے 65 لاکھ روپے کے درخت بھی بیچ دیئے۔ لڑکی جبین طویل ظلم برداشت نہ کر سکی، یہ فروری کے شروع میں فوت ہو گئی اور اس کی لاش 9دن کمرے ہی میں پڑی رہی جب کہ لڑکا زندگی کی سرحد پر بیٹھ کر موت کا انتظار کرتا تھا، یہاں تک میرے نبی محمدالرسول ﷺ کی حدیث مبارکہ ﷺ نے کام کر دکھایا اور گاؤں کے کسی شخص کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے تھانے میں گم نام خط لکھ دیا، بہن بھائیوں کی دوسری خوش نصیبی یہ رہی کہ نیا ڈی پی او احمد محی الدین ٹرانسفر ہو کر چکوال آ گیا، یہ ڈی پی او کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاکر بھی تھا۔


    احمد محی الدین کے نوٹس میں جب خط آیا تو اس نے فوری طور پر پولیس ایکشن کا حکم دے دیا۔ ویل ُڈن، ڈی ایس پی صاحب! یوں دونوں بہن بھائی مل گئے، بھائی زندہ مل گیا اور بہن کی لاش مردہ میت ملی! اللہ اکبر! یا میرے انسانیت پر رحم فرما۔ ایسے واقعات بھی انسانی معاشرے میں ہو سکتے ہیں اور انسان اتنے بھی سفاک اور درندے ہو سکتے ہیں؟ الحفیظ و الامان! ڈی پی او صاحب اب علاقے کے بااثر لوگوں کا دباؤ برداشت کر رہا ہے، نوجوان حسن رضا پولیس کی حفاظت میں ہے، یہ ٹراما کا شکار ہے، پولیس اس کا علاج بھی کرا رہی ہے اور اس کی حفاظت بھی کر رہی ہے، یہ اس واقعے کا واحد گواہ اور مدعی ہے۔ اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہو گیا تو پھر ملزمان بڑی آسانی سے بری ہو جائیں گے، پولیس نے پہلے مرکزی ملزم اور پھر اس کے دونوں بھائیوں کو گرفتار کر لیا، ملزم اس وقت ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔
    چکوال کے اس واقعے کے دو ورژن ہیں، پہلا ورژن بیان کر دیا گیا، اور خبر سامنے آ گئی تو میڈیا گھکھ گاؤں پہنچ گیا، رپورٹرز اور کیمرے دیکھ کر گاؤں کے لوگوں نے گھروں کے دروازوں پر باہر سے تالے لگائے اور چھپ کر اندر بیٹھ گئے، اس کا مطلب ہے لوگ ملزموں کے اثر میں ہیں اور کسی میں ان کے خلاف بولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اگر ملزموں پر غلط الزام تھا تو لوگوں کو گواہی دینی چایئے تھی اور اگر الزام سچا تھا تو بھی لوگوں کو بولنا چایئے تھا لیکن لوگ غائب ہو گئے، ان کا غائب ہو جانا بھی ایک ثبوت ہے۔ دوسرا ورژن یہ دونوں بہن بھائی پاگل ہیں، یہ لوگوں پر حملے کر دیتے تھے، پتھر بھی مارتے تھے اور ڈنڈوں سے بھی لوگوں پر حملہ کرتے تھے۔ لہٰذا ان کے کزنز نے انھیں حویلی میں بند کر کے ان کا علاج شروع کرا دیا، یہ ان کی نگرانی اور دیکھ بھال بھی کرنے لگے، یہ بات بھی درست ہو سکتی ہے لیکن یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ذہنی مریض تھے تو پھر لڑکی نے میٹرک میں پوزیشن کیسے لے لی اور یہ اچھے نمبروں سے بی ایس سی کیسے کر گئی۔ دوسرا اگر چچا زاد بھائی ان کا علاج کر رہے تھے یا ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو پھر یہ کس قسم کا علاج اور نگرانی تھی جس میں دونوں کو حویلی کے کمروں میں بند کر دیا گیا تھا اور انھیں کپڑے اور ضروریات کا سامان تک نہیں دیا جا رہا تھا، یہ کمرے ہی میں رفائے حاجت کرتے تھے، دو سال پرانے، گندے اور بدبودار کپڑے پہنتے تھے اور انھیں کھڑکی سے خشک روٹی اور تھوڑا سا سالن ملتا تھا اگر یہ علاج اور کیئر ہے تو پھر ظلم اور زیادتی کیا ہو گی؟ آپ لڑکی کی لاش کو بھی اس سوال میں شامل کر لیں، لڑکی کو مرے ہوئے سات سے نو دن ہو گئے تھے لیکن کیئر اور علاج کرانے والوں نے اس کی تدفین مناسب سمجھی اور نہ انھیں اس کی موت کی اطلاع ملی۔
    ان بے چاروں کو غسل تک نہیں کرایا جاتا تھا اور ان کے بال اور ناخن بھی نہیں تراشے جاتے تھے، کیا اس کو کیئر کہا جا سکتا ہے؟ اور تیسرا سوال علاج اور اس کیئر کے دوران ان کی جائیداد اور زمین کس کے قبضے میں رہی، وہ کون تھا جس نے ان کے 65 لاکھ روپے کے درخت بیچ دیئے اور ان کی 950 کنال زمین پر کاشت کاری کرتا رہا۔

    میرا خیال ہے اگر ان سوالوں کے جواب تلاش کر لئے جائیں تو کیس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ ایک اور بات کا اضافہ ضروری ہے، آپ کسی بھی نارمل شخص کو سال چھ ماہ کسی کمرے میں بند کر دیں تو وہ پاگل ہو جائے گا۔ لہٰذا ملزمان کے لئے حسن رضا کو پاگل ثابت کرنا بہت آسان ہے اور یہ لوگ کسی بھی وقت اچھا وکیل کر کے اس بے چارے مظلوم کو عدالت میں پاگل ثابت کر کے رہا ہو سکتے ہیں۔

    ‏ہم اگر اس واقعہ کا تجزیہ کریں تو تین چیزیں سامنے آتی ہیں، اول ہم انسانوں کا معاشرہ نہیں ہیں یہاں انسانی شکل میں ایک سے بڑھ کر ایک درندہ پھر رہا ہے اور جب اس کے اندر سے جانور باہر آتا ہے تو یہ جنگلوں کو بھی شرما دیتا ہے۔ دوم، والدین صاحب جائیداد اور رئیس ہوں تو پھر انھیں اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی تگڑا بنانا چاہئے، حسن رضا اور جبین کے والد کو اگر احساس ہوتا تو یہ ان کے سروں پر کوئی ایسا آسرا چھوڑ جاتا جو ان کی حفاظت کرتا رہتا۔ ہو سکتا ہے کہ والد اپنے بھتیجوں کے عزائم کا ادراک نہیں کر سکا ہو گا جس کے نتیجے میں اس کی اولاد کزنز کے ہاتھوں ذلیل ہو کر رہ گئی اور سوم ہماری پولیس اور حکومت کے سسٹم میں بے شمار خرابیاں ہیں، ہم آج تک کوئی ایسی ہیلپ لائین، پورٹل یا کوئی ایسا ایڈریس تخلیق نہیں کر سکے جہاں لوگ گم نام خط لکھ کر دائیں بائیں ہونیوالے مظالم یا جرائم کی اطلاع دے سکیں۔

    میں اس کالم کے توسط سے پنجاب کی وزیراعلٰی محترمہ مریم نواز اور وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی خدمت میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہچانے کے لئے اس کیس کی خود نگرانی کریں۔ وزیراعلی پنجاب سے یہ بھی درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر جبین کے نام سے ایک ہیلپ لائین قائم کر دیں اور تمام موبائل فون کمپنیوں کو پابند کر دیں کہ یہ ہیلپ ایپ ان کے پیکیج کا حصہ ہو گی، حکومت یہ بھی ڈکلیئر کر دے کہ اس ہیلپ لائین پر فون کرنے والے شخص کا نام، نمبر اور پتہ ہمیشہ راز میں رہے گا، اسے کسی جگہ گواہی کے لئے بھی نہیں بلایا جائے گا تاکہ لوگ ظلم کے خلاف بے خوف ہو کر کھڑے ہو سکیں۔

    Title Image by PublicDomainPictures from Pixabay

  • کچے کے ڈاکوؤں کو محمد خان نہ بنائیے

    کچے کے ڈاکوؤں کو محمد خان نہ بنائیے

    کچے کے ڈاکوؤں کو محمد خان نہ بنائیے

    Dubai Naama

    کہتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ کچے کے ڈاکوؤں نے پولیس پر راکٹ لانچروں سے حملہ کر کے سندھ اور پنجاب کے 4ضلعوں کی پولیس پر اپنے گزشتہ حملوں کی تاریخ ہی نہیں دہرائی بلکہ ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کا بھی مذاق اڑایا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکوؤں کے اس حملے میں پولیس کے 13اہلکار شہید، 7زخمی اور کئی لاپتہ ہوئے۔ ان ڈاکوؤں کے ایسے حملوں کے بعد تقریبا ہر سال، دو سال بعد سندھ اور پنجاب کی انتظامیہ مل کر آپریشن کرتی ہے مگر نہ ان ڈاکوؤں کو جدید اسلحے کی فراہمی رکتی ہے اور نہ ہی ان کا مکمل خاتمہ کیا جاتا ہے۔

    چند ماہ قبل بھی اس موضوع پر لکھ کر حکومت کی توجہ اس طرف دلوائی تھی اور اب پھر عرض گزار ہوں کہ ملک کو "ڈاکو راج” بننے سے بچایا جائے۔ سنہ 1967ء کی پہلی ششماہی میں محمد خان ڈاکو بہت گلیمیرائز ہوا تھا۔ اس وقت کے اخبارات محمد خان کے تذکروں سے بھرے پڑے تھے۔ کوئی اسے وادی سون کا "رابن ہڈ‘” لکھ رہا تھا تو کوئی اسے ایوب خان حکومت کی بے بسی قرار دے رہا تھا۔ شائد یہ حکومت بھی ایوب خان حکومت کی بے بسی کا ٹریلر دہرا رہی ہے۔ محمد خان پر 40 سے زیادہ قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج تھے۔ وہ تلہ گنگ کے علاقے میں مفرور قرار دیئے جانے کے باوجود کھلی اور متوازی کچہریاں لگاتا تھا۔ وہ اپنے غنڈے اور ڈاکو ساتھیوں سمیت مقامی لوگوں کے جھگڑے نمٹاتا تھا، اپنے مخالفین اور مخبروں کو قتل اور ناک و کان کٹوانے جیسی بدترین سزائیں دیتا تھا۔ اب کئی سالوں سے کچے کے ڈاکو بھی یہی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ پولیس انہیں گرفتار کر سکتی ہو۔

    کچے کے ڈاکوؤں کو محمد خان نہ بنائیے

    یہ اساطیری کردار محمد خان ڈاکو 7برس تک وادی سون، خوشاب اور چکوال میں دہشت اور خوف کی علامت بنا رہا مگر مقامی انتظامیہ اسے ہاتھ تک نہ لگا سکی۔ کچے کے ڈاکو بھی گزشتہ 3دہائیوں سے "محمد خان” بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کے خلاف کم و بیش ہر سال آپریشن کے باوجود ان کا قلع قمع نہیں کیا جا سکا ہے۔

    سنہ 1992ء میں ہدایتکار کیفی نے محمد خان کے نام پر پنجابی زبان میں "محمد خان ڈاکو” کے نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی جس میں سلطان راہی نے محمد خان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد سلطانہ ڈاکو، ملنگی، گجر دا کھڑاک اور مولا جٹ جیسی فلمیں بھی بنیں اور بہت مشہور ہوئیں۔ مولا جٹ کا یہ ڈائلاگ تو زبان زد عام ہوا کہ "نواں آیاں ایں سوہنیا”۔ یہ ہماری پنجابی فلموں کا ہی کمال نہیں تھا، حقیقت میں بھی محمد خان ڈاکو پر 40 سے زیادہ قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہوئے، اسے 6بار سزائے موت ہونے کے باوجود رہائی مل گئی۔ اس نے دوبارہ قتل کیئے، وہ دوبارہ گرفتار ہوا اور اسے سزائے موت سنا دی گئی۔

    اس فلمی کردار کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس کی گرفتاری پر 2مربع زمین اور 34 ہزار روپے نقد انعام رکھا گیا تھا، اور جب وہ گرفتار ہوا تو لاہور کے شاہی قلعہ میں ایک خصوصی ٹربیونل نے تفشیش کی اور قانونی مراحل کے بعد اسے 6بار سزائے موت اور 148سال قید کی سزا سنائی گئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے جب اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو عین آخری لمحات پر اس کی سزائے موت کو 23سال کی قید میں بدل دیا گیا۔ سنہ 1989ء میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیا جس کے مطابق عمر قید کے 60 سال سے زیادہ عمر کے قیدیوں کو رہائی مل گئی۔ محمد خان کو بھی اس آرڈیننس کی وجہ سے بقیہ قید سے چھٹکارا مل گیا۔ 29 ستمبر 1995ء کے اس کردار کو ہیرو کہیں یا ولن قرار دیں، یہ انتظامیہ کے قانون اور عدلیہ کے انصاف کا جنازہ نکالتے ہوئے بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنی طبعی موت مرا۔

    ہمارے ملک میں کچھ بعید نہیں کہ پنجابی، سندھی یا پشتو زبانوں میں ڈاکوؤں پر بننے والی فلموں کے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیئے کوئی پروڈیوسر ڈاکو محمد خان کی طرز پر کچے کے ڈاکوؤں پر بھی کوئی فلم نہ بنا ڈالے۔ لاہور میں بالاج ٹیپو قتل کیس کو قابل فخر بنایا جا سکتا ہے تو حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے سر کی قیمت کروڑوں روپے مقرر کرنے کا اعلان کچھ برا نہیں ہے۔ کچے میں ڈاکو راج کے خلاف "کامیاب” گرینڈ آپریشن ناکامی میں کیسے بدلا؟ اس کی بنیادی وجہ تو سب جانتے ہیں مگر کوئی آواز نہیں اٹھاتا کہ اس کے پیچھے سیاسی کردار شامل ہیں۔
    لوگ اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جیسے سون کے ’رابن ہڈ‘ محمد خان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا اب کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

    ایک ہندوستانی فلم میں ہیرو کا یہ ڈائیلاگ جو بہت مشہور ہوا تھا کہ "گیارہ ملکوں کی پولیس ڈان کا انتظار کر رہی ہے۔ ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔”، شائد ہمارے حکومتی اور انتظامی ڈھانچہ پر ہی لکھا گیا تھا۔ جیسے 54برس قبل پاکستان کے 4اضلاع کی پولیس کیل کانٹے سے لیس ہو کر ایک مقامی ڈان کو پکڑنے کے لیے وادی سون کے جنگلوں اور پہاڑوں کی خاک چھان رہی تھی مگر مطلوبہ ملزم چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا تھا، اب یہ کچے کے ڈاکو بھی چھلاوا بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ یہاں کوئی کامیاب آرمی آپریشن بھی نہیں کیا جا رہا یے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ارباب بست و کشاد عوام پر دوسرا جو ظلم بھی ڈھائیں منظور ہے مگر کچے کے ڈاکوؤں کو محمد خان نہ بنائیں، بس یہی ایک گزارش ہے۔

  • آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    ضلع چکوال کو غازیوں ، شہیدوں اور کھلاڑیوں کی سر زمین ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس خطہ میں ایسے بے شمار نوجوان منظر عام پر آئے جنہوں نے عسکری خدمات کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا ان میں سے ایک ضلع چکوال کے نامور ایتھلیٹ اور قومی ٹیم کے کوچ آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین ہے انہوں نے ایتھلیٹکس کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرنے کے علاوہ کوچنگ کے شعبہ میں بھی ملکی سطح پر گراں قدر خدمات انجام دین ان کی عمدہ کوچنگ کی بدولت وطن عزیز میں کئی ایسے کھلاڑی منظر عام پر آئے جنہوں نے نیشنل انٹرنیشنل سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کیا۔

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن ارشاد حسین 15 ستمبر 1938ء کو تحصیل و ضلع چکوال کے گاؤں تاسہ موہڑہ میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم کا اسم گرامی راجہ فرمان علی ہے ارشاد حسین نے ملازمت کا اغاز 15 دسمبر 1953ء کو پاکستان آرمی آرٹلری سینٹر اٹک سے کیا انٹر سروسز ایتھلیٹکس مقابلوں میں کامیابی کے بعد قومی ٹیم کے چناؤ کے لئے گائے گئے تربیتی کیمپ کے لیے منتخب ہوئے 1952ء میں قومی سطح کے مقابلوں میں کامیابیوں کا آغاز کیا 1958 میں نیشنل ایتھلیٹکس مقابلے پشاور میں منعقد ہوئے جن میں محمد ارشاد 110 میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے 1958ء میں ہی انٹرنیشنل ایتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہانگ کانگ میں ہوا جن میں ارشاد حسین نے 110 میٹر ہرڈلز دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل کا اعزاز حاصل کیا ارشاد حسین نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں عسکری خدمات بھی انجام دیں جرآت و بہادری کے ساتھ وطن عزیز کا دفاع کرنے پر ارشاد حسین کو حکومت پاکستان کی طرف سے 13 اپریل 1971ء کو تمغہء ستارہ جرآت سے نوازا گیا اور 23 مارچ 1975ء میں پاکستان آرمی کی طرف سے تمغہء خدمت ملٹری درجہ دوم عطا کیا گیا انہیں پاکستان آرمی کی طرف سے بطور بیسٹ سپورٹس مین حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 1999ء میں آٹھویں سیف گیمز نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں منعقد ہوئیں جن میں ان سے تربیت حاصل کرنے والے ایتھلیٹ مقصود احمد (ٹمن تلہ گنگ) نے 200 میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے کے علاوہ نیا قومی ریکارڈ بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا 1991ء میں سیف گیمز کا انعقاد سری لنکا کے شہر کولمبو میں ہوا جن میں ارشاد حسین کی عمدہ کوچنگ کی بدولت ہی مسسز شبانہ اختر نے 100+4 میٹر ریلے دوڑ اور 400+ 4 میٹر ریلے دو ڑ کے ایونٹ میں دو بروز میڈل حاصل کئے 1995ء میں سیف گیمز انڈیا کے شہر مدراس میں منعقد ہوئیں جن میں شبانہ اختر 100+4 میٹر ریلے دوڑ ، 400+4 میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل اور لانگ جمپ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہیں ۔ شبانہ اختر 100 ، 200 میٹر ، ٹرپل جمپ ، ہائی جمپ ، لانگ جمپ اور HEC LAN کے ایونٹ میں قومی چیمپین اور ریکارڈ ہولڈر رہ چکیں ہیں۔

    آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین

    آنریری کیپٹن ارشاد حسین کو متعدد ممالک میں ایتھلیٹکس ٹیم کے ساتھ بطور کوچ اور آفیشل جانے کا موقع ملا 1989ء میں سیف گیمز اسلام اباد میں منعقد ہوئیں جن میں انہوں نے بطور آفیشل اور قومی خواتین ایتھلیٹکس ٹیم کوچ کی حیثیت سے شرکت کی تمام تر کامیابیوں کے بعد ارشاد حسین کو 15 اکتوبر 1982ء کو پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ ہو گئے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی سال تک پنجاب سپورٹس بورڈ میں کوچنگ کے شعبہ سے وابستہ رہے 1997ء میں اہلیان علاقہ نے آنریری کیپٹن راجہ ارشاد حسین کو بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل چکوال منتخب کیا اس کے علاوہ وہ ممبر ضلعی عشرو زکوٰۃ کمیٹی رہے آنریری کیپٹن ارشاد حسین 20 اگست 2014ء کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس جہاں فانی سے رخصت ہو گئے ان کی نماز جنازہ علاقہ کی روحانی شخصیت سید غلام علی شاہ صاحب گدی نشین دربار عالیہ چھبر سیداں نے پڑھائی نماز جنازہ میں عوام الناس کے علاوہ ضلع چکوال کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی انہیں فوجی اعزاز کے ساتھ ابائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا دعا ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے امین ۔

  • کھلاڑی اور لکھاری طارق محمود ملک

    کھلاڑی اور لکھاری طارق محمود ملک

    کھلاڑی اور لکھاری طارق محمود ملک

    یہ محترم طارق محمود ملک ہیں۔ میں ان کا بہت بڑا مداح ہوں کیونکہ تلہ گنگ اور چکوال میں ان سے زیادہ محنت اور محبت سے مقامی تاریخ اور خصوصاً کھیلوں کی تاریخ پر آج تک کسی لکھاری نے کام نہیں کیا ہے۔ ملک صاحب ان دنوں بطور تحصیل سپورٹس آفیسر چکوال خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ طارق ملک 25دسمبر 1968ء کو ہیڈ ماسٹر (ر)ملک قربان حسین کے ہاں تلہ گنگ میں پیدا ہوئے تاہم ان کا آبائی قصبہ ڈھلی ہے ۔

    کھلاڑی اور لکھاری طارق محمود ملک
    طارق محمود ملک


    ان کے دادا ہیڈ ماسٹر (ر)ملک کرم الہیٰ چند سال” ترقی اٹک”اخبار (1932ء) کے کاتب اور مدیر رہے ۔طارق ملک انٹر ڈویژن انڈر 14ہاکی کے مقابلوں میں راولپنڈی ڈویژن کی طرف سے بہاولپور میں بہتر کھیل کی بنیاد پر پنجاب یوتھ ہاکی ٹیم کے چناؤ کے لئے لگانے گئے تربیتی کیمپ کے لئے منتخب ہوئے۔ وہ سٹی ہاکی کلب تلہ گنگ اور ڈگری کالج تلہ گنگ کی ہاکی ٹیم کے کپتان رہے اور غازی ہاکی کلب تلہ گنگ اور سٹی ہاکی کلب تلہ گنگ کی طرف سے پنجاب کے مختلف شہروں میں کئی آل پاکستان ہاکی ٹورنامنٹس میں شریک رہے اور متعدد بار نمایاں کامیابی حاصل کی۔
    طارق ملک نے تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ سے تعلق رکھنے والے نیشنل ،انٹرنیشنل عسکری کھلاڑیوں کے حالات زندگی اور کارہائے نمایاں پر مضامین کا آغاز 2016ء میں ہفت روزہ تلہ گنگ ٹائمز سے کیا- انہوں نے ان مضامین میں جن کھلاڑیوں کا تذکرہ کیا تھا ان کے علاوہ چند مزید کھلاڑیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے بعد 2019ء کو”تلہ گنگ ،لاوہ کے نامور کھلاڑی” کے نام سے کتاب شائع کی۔
    ایشیائی مقابلوں میں میڈلز جیتے والے پاکستانی اتھلیٹس پر ان کے مضامین افواج پاکستان کے مجلہ ،،”ہلال” میں شائع ہو رہے ہیں۔ اس کے علاؤہ تحصیل تلہ گنگ اور لاوہ کی علمی و ادبی شخصیات ، اولیائے کرام اور تاریخی مقامات پر ان کے مضامین قومی اور مقامی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ فلاحی و سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ ان دنوں انجمن بہبودی مریضاں تلہ گنگ کے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ طارق محمود ملک کے کام کو بہت سی ادبی تنظیموں نے سراہا ہے اور گولڈ میڈل سمیت متعدد اعزازات اور تعریفی اسناد پیش کی ہیں۔
    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طارق ملک جیسے منکسرالمزاج اور اپنے کام سے محبت کرنے والے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ اپنے جلوے بکھیرتا رہے گا اور مستقبل میں جب بھی تلہ گنگ اور چکوال کے علاقوں کی تاریخ کھنگالی جائے گی تب کوئی بھی مورخ جناب طارق ملک کے کام اور خدمات کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ طارق ملک جیسے لوگ ہمارا اصل سرمایۂ افتخار ہیں۔

    علی خان
    چکوال


  • ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: اقبالیات اور ادبی تحقیق میں ایک ہمہ جہت شخصیت (یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    پاکستان میں اردو ادب کے منظر نامے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا شمار ممتاز ماہرین اقبالیات، محققین اور سفرنامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ آپ 9 فروری 1940 کو مسریال چکوال میں پیدا ہوئے اور 83 سال کی عمر میں 25 جنوری 2024 کو انتقال کرگئے، آپ نے بطور اقبال شناس، نامور محقق، اور سفرنامہ نگار کے طور پر نمایان خدمات دے کے اردو ادب کو نمایاں طور پر تقویت بخشی ہے۔ بحیثیت پروفیسر، نامور مصنف اور ایڈیٹر ان کے ہمہ جہتی کیرئیر نے علوم اقبال، اردو زبان اور ادب کے میدانوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
    دائیں سے بائیں ڈاکٹر محمود علی انجم، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر وحید الرحمان، ابو جنید عنایت علی اور رحمت عزیز خان چترالی اقبال کتاب ایوارڈ کی تقریب میں شریک ہیں اور قومی ترانہ کے احترام میں کھڑے ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی یہ آخری پروگرام میں شرکت تھی جس میں انہیں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ فوٹو علامہ اقبال اسٹیمپ سوسائٹی، لاہور

    9 فروری 1940 کو مسریال، ضلع چکوال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر ہاشمی نے اورینٹل کالج لاہور میں اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی تعلیمی قابلیت اس وقت نمایاں تھی جب انہوں نے 1963 میں بی اے کیا اور 1966 میں اورینٹل کالج لاہور سے اردو میں ایم اے کیا۔ اور پنجاب یونیورسٹی سے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شخصیت و فن کی جامع تحقیق اور وضاحتی مطالعہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہوں نے علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین اور مقالے لکھے۔

    تعلیم میں ڈاکٹر ہاشمی کے شاندار کیریئر کا آغاز 1969 میں اس وقت ہوا جب انہوں نے محکمہ تعلیم پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 1982 میں اورینٹل کالج لاہور میں ایک اعلٰی عہدہ سنبھالنے سے پہلے مختلف کالجوں میں پڑھایا۔ کئی تعلیمی اداروں میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں شعبہ اردو کے صدر کے طور پر ڈاکٹر ہاشمی نے خود کو علم کی ترویج کے لیے وقف کر دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 2006 سے 2008 تک ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ممتاز پروفیسر کے طور پر نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔

    ڈاکٹر ہاشمی کی ادبی میراث بہت وسیع اور متنوع ہے، جو علوم اقبال، اردو زبان اور ادب کی انواع پر پھیلی ہوئی ہے۔ ان کی تصانیف اور مرتب کردہ تصانیف میں اقبال کے خطوط، کتابیات اور اقبال کے فکری تجزیے شامل ہیں۔ ان کی تصانیف میں "اقبال: شخصیت اور فن”، "تیری خاک میں چھپا ہوا (سفرنامہ اندلس)” اور "سورج کی طرف دیکھو” (سفرنامہ جاپان) قابل ذکر ہیں۔ یہ تصانیف اردو اور اقبالیات کے بھرپور ادبی ورثے کو بچانے اور آگے بڑھانے کے لیے ان کی فکری گہرائی اور لگن کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ڈاکٹر ہاشمی کی علمی و ادبی خدمات کا اثر ان کی زندگی بھر تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کے طالب علم خالد ندیم نے اردو، فارسی، ترکی، انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں ان کے مضامین کا ایک مجموعہ مرتب کیا جس کا عنوان ہے "ارمغانِ رفیع الدین ہاشمی”۔ یہ کتاب علمی اور ادبی میدانوں میں ڈاکٹر ہاشمی کے اثر و رسوخ کی عالمی رسائی کا ثبوت ہے۔

    ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی لگن اور فضیلت کا اعتراف ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز اور اعزازات کے ذریعے کیا گیا ہے۔ انہیں بابائے اردو ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی طرف سے قومی صدارتی اقبال ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اقبالیات کے شعبے میں ان کی شاندار خدمات کی تصدیق کے طور پر علامہ اقبال اسٹیمپ سوسائٹی کے چیرمین میاں ساجد علی کی طرف سے سال 2023 میں انہیں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ 2015 میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز نے ایک ممتاز علمی اور ادبی شخصیت کے طور پر ان کی علمی اور ادبی میراث کو مزید مستحکم کیا۔

    پاکستانی دانشوروں خصوصاً اقبالیات کی تاریخ میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا نام پہلے نمبر پر ہے۔ اقبالیات سے ان کی وابستگی، وسیع ادبی کاموں اور تعلیمی قیادت نے ادب پر دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔ ڈاکٹر ہاشمی کی میراث دنیا بھر کے اسکالرز، طلباء اور اردو ادب اور اقبال کے مطالعہ کے شائقین کے لیے ایک مشعل راہ کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔

  • ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    تحریر طارق محمود ملک

    ممتاز ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر تحریر طارق محمود ملک بشیر جعفرصاحب کا نام تلہ گنگ کے شعراء کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کا شمار ضلع تلہ گنگ اور ضلع چکوال کے نامور شعراء میں ہوتا ہے ۔ بشیر جعفر صاحب 14 جنوری 1951ء کو تلہ گنگ کے معروف گاؤں تھوہا محرم خان ڈھوک کھوڑ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد محترم کا اسمِ گرامی شاہ محمد ہے ۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک کھوڑ سے حاصل کی ۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے والد کے ہمراہ ہارون آ باد ( ضلع بہاولپور) آ گئے ۔ان دنوں وہ بسلسلہ ملازمت وہاں قیام پذیر تھے ۔ مڈل تک تعلیم چک نمبر 97_6R تحصیل ہارون آ باد سے حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان 1966ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آ باد اور ایف اے کا امتحان 1969ء میں رضویہ اسلامیہ کالج ہارون آ باد سے پاس کیا ۔ بی اے کی سند 1972 ء میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ بشیر جعفر صاحب نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ سے متاثر ہو کر 1972ء میں پاکستان آرمی میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت شروع کی ۔ مگر دو سال بعد ملازمت ترک کر دی ۔ 1976ء میں کالج آف ایجوکیشن ملتان سے بی ایڈ کا امتحان پاس کیا ۔ انہوں نے 1978ء میں ملازمت کا آغاز محکمہ تعلیم سے کیا ۔ ان کی پہلی تقرری گورنمنٹ مڈل سکول حاصل ضلع چکوال میں بطور ہیڈماسٹر ہوئی ۔ اس سکول میں پانچ سال تک فرائضِ منصبی انجام دیے ۔1984 ء میں انہیں اے ای او لاوہ متعین کر دیا گیا ۔ چھ سال بعد اے ای او ٹمن اور ازاں بعد اے ای او چکوال کی اسامیوں پر ذمہ داریاں ادا کیں ۔

    ماہر تعلیم دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر
     ماہر تعلیم ، دانشور اور شاعر محمد بشیر جعفر

    بشیر جعفر صاحب نے دوران ملازمت تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور 1993ء میں کالج آ ف ایجوکیشن لاہور سے ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے 1995ء میں PPSC کا امتحان پاس کیا ۔ انہیں گریڈ16سے گریڈ 18 میں ترقی دے کرگورنمنٹ ہائی سکول نارنگ ( چکوال ) کا سینئر ہیڈماسٹر تعینات کر دیا گیا ۔ ایک سال بعد گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان آ گئے ۔ 1997ء میں ڈپٹی ڈی ای او تلہ گنگ متعین کر دے گئے ۔ 1999ء میں دوبارہ گورنمنٹ ہائی سکول تھوہا محترم خان تبادلہ کر دیا گیا ۔ 2004ء میں ترقی پاکر ڈی ای او سکینڈری چکوال بنا دیے گئے ۔ 2007ء میں ان کی پوسٹنگ ڈی ای او ایلیمنٹری چکوال کر دی گئی ۔ بشیر جعفر تمام تر تعلیمی خدمات انجام دینے کے بعد 2011ء میں EDO چکوال کی پوسٹ سے ریٹائر ہوئے ۔ انہوں نےایک ملاقات کے دوران شاعری کے حوالے سے بتایا کہ ایم اے اردو کی نصابی کتب کے مطالعہ کے دوران اردو شاعری میں طبع آزمائی کی ، چند غزلیں موزوں کیں ، لاہور اور کراچی کے ادبی رسائل میں اشاعت کے لئے ارسال کر دیں ، اولین کاوش کی پزیرائی سے حوصلہ افزائی ہوئی ، اس کے بعد اردو اور پنجابی شاعری کو جز وقتی مشغلہ کے طور پر اپنا لیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بزم دانش تلہ گنگ کی ماہانہ نشستوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے ۔ جناب سید منظور حیدر شاہ ، ملک مختار حیدر منظر ، پروفیسر اقبال حسین شاہ ، نور زمان ناوک ، خلش ہمدانی ، پروفیسر محمد اکبر خان نیازی ، ملک محمد اکرم ضیاء ، مظہر عباس ہمالیہ حکیم لال حسین صابر ، پروفیسر ڈاکٹر ملازم حسین اختر ، پروفیسر غلام شبیر شاکر ، محمد امین ذاہد ، محمد عزیز ہمدانی، صداقت شفیق ، ڈاکٹر محمد بن اکبر نیازی سلیم حیدر ، ظہیر احمد ظہیر ، اظہر علی ملک ، منیر احمد مصور ، عبد الرحمٰن شاد ، حسنین عاکف اور متعدد دیگر شعراء کو سننے اور محضوظ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

    قارئین پروفیسر اقبال حسین شاہ صاحب کے وصال کے بعد بشیر جعفر بزم دانش تلہ گنگ کے صدر بنے ، ایوانِ ادب چکوال کے چیئرمین کے عہدہ پر فائز رہے ۔ قومی اخبارات روز نامہ جنگ ، روز نامہ نوائے وقت ، روز نامہ مساوات میں ان کا کلام شائع ہو تا رہا ہے ۔اردو ادب کے بیشتر رسائل میں ان کے مضامین ، نظمیں اور غزلیں شائع ہوئیں، ان میں اجراء کراچی ، نالہء دل ، فن زار ، الحمراء ، تخلیق ، آموزش ، لالہ صحرائی ، قابل ذکر ہیں ۔ مقامی اخبارات ہفت روزہ تلہ گنگ ٹائمز اور ہفت روزہ متقارب میں بھی ان کی ادبی کاوشیں چھپتی رہی ہیں ۔ بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ کے علاوہ لاہور ، راولپنڈی ، مری ، اسلام آباد ، سرگودھا اور چکوال کے مشاعروں میں متعدد مرتبہ کلام پیش کر چکے ہیں ۔ بشیر جعفر نے جناب سعید اختر ملک ، میڈم عائشہ مسعود ملک کے علاوہ درجن بھر دیگر احباب کی کتابوں کی تقاریب میں کنوینر کے طور پر فرائص سر انجام دیے ۔ وہ مشاعروں میں متعدد مرتبہ نقیب محفل کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں ۔ روزنامہ نوائے وقت کے ادبی صفحے کی انچارج میڈم عائشہ مسعود ملک صاحبہ کی تحریک میں منظوم مزاح نگاری کا آغاز کیا ۔ مارگلہ پنچ کے زیرِ عنوان ان کی طنز یہ ومزاحیہ نظمیں ، غزلیں نوائے وقت میں تین سال تک تواتر سے شائع ہوتی رہیں، ازاں بعد یہی نظمیں اور غزلیں ‘ ہنستے بسورتے لفظ ‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع کی گئیں ۔ سنجیدہ شاعری کے دو مجموعے ‘زلفوں میں نایاب سی خوشبو ‘اور ‘ عشق میری مجبوری ‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیں ۔ بشیر جعفر کی کتاب زلفوں میں نایاب سی خوشبو (نظمیں ، غزلیں) الحق پبلیکیشز لاہور سے جنوری 2003ء میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کا دیباچہ وطن عزیز کے نامور ادیب اور شاعر جناب عطاء الحق قاسمی صاحب نے تحریر کیا ، وہ لکھتے ہیں:

     بشیر جعفر حقیقتوں کے شاعر ہیں ۔ محض خیال آرائی ان کا شیوہ نہیں ۔ وہ جو کہتے ہیں کسی علامتی سہارے کے بغیر کہتے ہیں ۔ صنفِ شعر سے بالعموم اجتناب ہی برتتے ہیں ۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گرد سانس لیتے نظر آ تے ہیں ۔ان کے شعر کی تفہیم کے لئے ہمیں آ سمان تک پرواز کی ضرورت نہیں پڑتی، صرف اپنے اندر جھانک کر یا گردوپیش پر ایک نظر ڈال کر ہم ان کی بات آ سانی سے سمجھ جاتے ہیں ۔ بشیر جعفر لفظ کی معنویت اور اس کے استعمال کے ہنر سے خوب واقف ہیں ۔ دور ازکار تشبیہات سے گریز کرتے ہیں ، شستہ وشائستہ تراکیب اور مفہوم کی مناسبت سے بولتے الفاظ ان کے کام کا جوہر ہیں ۔ بے رس شاعری کو محض فنی چابک دستی قابل قبول نہیں بنا سکتی ۔ بشیر جعفر کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے جہاں فن سے ان کی شناسائی کا معترف ہونا پڑتا ہے وہاں قاری مسلسل ایک خوشگوار تاثر کی زد میں رہتا ہے ۔

    عطاء الحق قاسمی

    نمونہ کلام

     زلفوں میں نایاب سی خوشبو سانسوں میں کستوری ہے

     یارو اس کی زات سے عشق میری مجبوری ہے

    دوچار گھروندے ہیں جو لو دیتے ہیں شب بھر

     اس شہر میں دل والوں کی تعداد ہی کیا ہے

    کو بکو  اڑتی پھریں گی دامنوں کی دھجیاں

     دشت والے شہر میں در آئے تو پھر دیکھنا

      ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے شیشے کے یہ گھر

      دست جعفر میں بھی پتھر آ یے تو پھر دیکھنا

    بشیر جعفر صاحب کی کتاب ‘ ہنستے بسورتے لفظ’ اگست 2011ء میں شائع ہوئی ۔ کتاب کے دیباچہ میں قیوم طاہر لکھتے ہیں ۔

    ‘ہنستے بسورتے لفظ’بشیر جعفر کا اولین طنزیہ و مزاحیہ مجموعہ کلام ہے ۔ اس کی سنجیدہ شاعری تو کئی بار سنی اور پڑھی ہے لیکن مزاح کھبی کبھار صرف اخبارات میں دیکھا اور لطف اٹھایا ۔ یہ اندازہ ہر گز نہ تھا کہ اس کے ترکش میں مزاح کی نسبت سے ایسے ایسے تیر موجود ہیں ۔ در اصل تخلیقی عمل کی مثال اس دیگ کی سی ہے جس کے ایک چاول سے پوری دیگ کی لذت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ میرا خیال تھا بشیر جعفر محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ اشعار لکھتا ہے ۔ اس کا کلام مسودے کی شکل میں سامنے آیا تو پتا چلا کہ وہ تو خالصتاً ایک کھری قسم کا مزاح گو شاعر ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ دل کو یہ حقیقت تسلیم کر نے میں مشکل پیش آ ئی کہ اسے مزاح نگار شاعر مان لیا جائے ۔ لیکن اب جبکہ اس کا مسودہ میرے سامنے ہے اور میں اسے بغور پڑھ رہا ہوں تو اس کے گن کھل بھی رہے ہیں اور میں اسکے گن گا بھی رہا ہوں ۔ یہ اشعار پڑھنے کے بعد میرا تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اگر بشیر جعفر اس میدان میں نہ آ تا تو فکاہیہ ادب کے لئے ایک بڑا نقصان ہوتا۔ اس کی مزاحیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اس نے عام اور معمولی موضوعات کو بھی اپنے لفظوں کے ورتاوے سے خاص اور غیر معمولی بنادیا ہے ۔ اچھوتے قافیوں کے جلو میں متنوع موضوعات پر اس سلیقے سے مزاح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس کے اس مجموعہ کلام کو اردو کے مزاحیہ ادب میں بلا خوف تردید ایک قابل قدر اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

    قیوم طاہر

     اسی کتاب کے بارے میں معروف ماہر تعلیم اور شاعر جناب صداقت شفیق لکھتے ہیں۔

     ( اقتباس ) جعفر کی سنجیدہ شاعری کے راستے مزاحیہ شاعری کی راہ میں کہاں ، کیوں اور کیسے ضم ہوئے؟ کیا محض ذائقہ بدلنے کے لئے اس نے ایک بڑے حصار سے نسبتاً چھوٹے حصار میں زقند بھری ؟کیا آسازوں کے ہجوم میں اس سنجیدہ شاعری میں انفرادیت قائم رکھنا مشکل نظر آ یا تو اس نے ادھر کا رخ کیا ؟ کیا اس کی جودت طبع طنز و مزاح سے زیادہ لگا کھا تی تھی؟ کہیں اسکی مزاح گوئی کے پس منظر میں ہجر کے روگ اور نارسائی اور تشنگی کی کچھ ایسی پرچھائیاں تو نہیں جنہیں وہ سنجیدہ شاعری میں تصویرنہ کرسکا ؟ اس قبیل کے سوالوں کے جواب تو ظریفانہ شعروادب کا کوئی سکہ بند ناقد اور پارکھ ہی دے سکتا ہے لیکن اسکی مزاحیہ شاعری کے ابتدائی نقوش اور قہقہے اور مسکراہٹیں بانٹتی اٹھان سے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس نے محض سنجیدہ خدو خال کی فرغل پہن رکھی تھی ۔ اس کے اندر کا کھلنڈرا ، نٹ کھٹ اورشوخ و شنگ بشیر جعفر زیادہ دیر چھپا نہ رہ سکا اور وہ نیم وا آنکھوں میں رقص کرتی ذہانت بھری شرارت کی پھلجھڑیاں چھوڑتا بالآخر مزاحیہ غزلوں ، نظموں کے تخلیق کار کی شکل میں ہمارے سامنے آ موجود ہوا ۔ اللہ کرے زور مزاح اور زیادہ ۔

    صداقت شفیق

     ڈاکٹر انعام الحق جاوید رقم طراز ہیں ۔

    جناب بشیر جعفر صاحب مزاح کی دنیا میں اپنی کتاب کے ساتھ اچانک نمودار ہوئے ہیں اور مجھے حیرت ہے کہ طنزو مزاح کا محقق ہونے کے باوجود ، یہ اب تک مجھ سے کیسے چھپے رہے ۔ میں نے ان کی کتاب کا مسودہ تفصیلا پڑھا ہے ۔ اس کتاب میں شستہ ظنز ومزاح اور شائستہ مزاح کی تہہ در تہہ کئی پرتیں پائی جاتی ہیں ۔ کلام انتہائی پختہ ہے ۔ کوئی وجہ نہیں کہ خاص و عام کی توجہ کھینچنے میں کامیاب نہ ہو اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اس سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔ بشیر جعفر کا نوکرانی سے خطاب پر مبنی قطعہ ؛ننگے پاؤں کیوں پھرو؟ ہم نے کہا؛ جیب میں رکھتے ہیں ہم پیسے بہت ؛ مسکرا دی اور پھر کہنے لگی ؛ سر سلامت آ پ کا ، جوتے بہت ۔

    ڈاکٹر انعام الحق جاوید

     بشیرجعفر صاحب کی دعائیہ غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔

    مری دھوپ کو بھی گداز دے مرے کرب کو بھی تمام کر

     کوئی سایہ لطفِ عمیم کا سر دشت غم مرے نام کر

    مری روسیاہی سے روٹھ کر نہ رلا مجھے، نہ گنوا مجھے

    مری راحتیں مجھے پھیر دے ، مجے تھام مجھ سے کلام کر

     یہ جو بوند بوند ٹپک رہی ییں مری جبیں سے ندامتیں

     سر باب لطف و قبولیت انہیں بہرہ مند مقام کر

    تری فرصتوں کا بس ایک پل مری سرخوشی کا دوام ہے

     مری ارض دل پہ اتر کبھی مرے شہر جاں میں قیام کر

    تری زر نگار کتاب میں جو دمک رہی ہیں ورق ورق

     انہی آیتوں ، انہی حکمتوں کو مرے جہاں کا نظام کر

     تیری رحمتوں نے امر کیا ہے سرود میرو منیر کو

     خدو خال شعر بشیر کو بھی عطا ثبات دوام کر

    ان دنوں بشیر جعفر صاحب تلہ گنگ میں قیام پذیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔