Tag: پیپلزپارٹی

  • اہل اور مخلص قیادت کی ضرورت

    اہل اور مخلص قیادت کی ضرورت

    اہل اور مخلص قیادت کی ضرورت

    Dubai Naama

اہل اور مخلص قیادت کی ضرورت

    عوام کی قوت برداشت جواب دیتی جا رہی ہے۔ عام انتخابات کے بعد بھی سیاسی استحکام مفقود دکھائی دیتا ہے۔ کاروباری طبقے کے تحفظات برابر موجود ہیں۔ قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیئے ٹیکسوں کے بڑھنے کا بھی قوی امکان ہے۔ بناءبریں امکان یہی ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ابتری کم نہیں ہو گی بلکہ یہ بڑھے گی۔ یہ ہر شعبے میں بدحالی اور زوال کی ایسی زمینی حقیقت ہے جس سے عوام کے اندر مایوسی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ مایوسی کا فوری تدارک نہ کیا جائے تو یہ بغاوت اور فساد پر اکساتی ہے۔

    جس طرح 9مئی اور پھر 8فروری نے اداروں کی کارکردگی کو ننگا کیا اس سے مقتدرہ پر عوام کا اعتمادہ تقریبا اٹھ چکا ہے۔ 9مئی اقتدار کے چھن جانے کی جنگ سے زیادہ مقتدرہ کے سیاست میں مداخلت کے خلاف ردعمل تھا۔ 8فروری کے الیکشن میں تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کو بھاری تعداد میں جو ووٹ پڑا وہ دراصل نفرت کا ووٹ تھا۔ اندازہ کریں کہ پی ٹی آئی پر پابندیوں اور عتاب کے باوجود اس الیکشن میں گزشتہ تمام انتخابات سے زیادہ ٹرن اوور رہا جس میں پاکستان کے نوجوان طبقے نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔

    مقتدر حلقوں کی مبینہ خواہشات کے برخلاف انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی کے حکومت سازی کیلئے ہونے والے مذاکرات میں اتحادی حکومت کے معاملات طے تو پا گئے ہیں مگر ایسے "غیر فطری” اور "زبردستی” کے سیاسی اتحاد کی کامیابی کے امکانات بہت کم نظر آ رہے بیں۔ آغاز میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں اقتدار سنبھالنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ان میں کچھ سیاسی رہنماؤں کا خیال تھا کہ "وزارت عظمی دینے کی کوشش کی جائے گی مگر اسے لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ پیپلزپارٹی کا یہ اظہاریہ بھی سامنے کہ وہ حکومت سازی میں تعاون کرنے کے لیئے تیار ہے مگر وہ اقتدار میں شامل نہیں ہو گی۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بے یقینی اور تعطل کی فضا تھی۔ اگر کسی ملک میں ایسی سیاسی غیریقینی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس کے ہوتے ہوئے کوئی ملکی اور غیرملکی بڑی انویسٹمنٹ آتی ہے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کی معاشی تبدیلی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

    اس دوران تحریک انصاف نے مرکز، پنجاب اور کے پی کے میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا اعلان کیا جس کا اولین مقصد خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں حاصل کرنا ہے۔ چونکہ یہ ارکان پی ٹی آئی کے انتخابی نشان پر الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے اس لئے مخصوص نشستوں کیلئے ووٹ دینے کے بھی اہل نہیں تھے۔ لھذا بہ امر مجبوری تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کیا۔ قانونی حلقوں کے مطابق یہ ایک "الحاق” ہے جسے مجلس وحدت المسلمین کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے بعد وہ ایوان کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر نہ صرف وفاق اور کے پی کے بلکہ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔ لیکن آئینی ماہرین اور مبصرین اسے ایک خوش فہمی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سنی اتحاد کی پارلیمنٹ میں کوئی نشست نہیں۔ اس کے سربراہ نے پی ٹی آئی کی حمایت سے آزاد امیدوار کے طور پر سیٹ جیتی ہے۔ اس جماعت کو آئینی و قانونی طور پر پارلیمانی پارٹی میں بدلنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ یہ معاملہ پہلے الیکشن کمیشن اور پھر سپریم کورٹ میں بھی جا سکتا ہے جس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھے گا۔ مخلوط حکومت بن بھی گئی تو یہ پہلے ہی دن سے گرائے جانے کے خطرات سے دوچار ہو گی۔

    جرمنی کی نیشنل سوشلسٹ (نازی) پارٹی 1923 میں ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں ایک بغاوت تھی جو ایک ناکام انقلاب ثابت ہوئی کیونکہ وہ ملک میں نسل کشی پر مبنی سیاسی فاشزم میں کمی لانے میں ناکام رہی تھی۔ مقتدرہ پاکستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود ملک میں سیاسی استحکام لانے میں ناکام رہی ہے جس وجہ سے 9مئی جیسی بغاوت اور دہشت گردی رونما ہوئی۔ آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات بغاوت کے رجحان کی وضاحت کرتے ہیں۔ جب تک پاکستان کے ادارے، سیاسی جماعتیں، مقتدرہ اور عدلیہ کسی نظام اور پالیسیوں کو بہتر کرنے پر توجہ نہیں دیتے ہیں پاکستانی عوام کو مزید معاشی بدحالی، لاقانونیت اور پھیلتی ہوئی سیاسی انارکی کا سامنا رہے گا۔

    یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک سیاست کی جانکاہ جنگ کو چھوڑ کر نظام اور پالیسیاں بنانے پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ ایک ہی طرز اور ایک ہی فطرت کے سیاست دانوں کو بار بار آزمانا آغاز ہی میں مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان میں نئی، مخلص اور اہل قیادت کو لانا ہی گونا گوں مسائل کا واحد حل ہے۔ مخلوط حکومت بنی بھی تو چونکہ اس میں شامل ارکان کی اکثرہت کے کردار اور کارکردگی کو پہلے ہی آزمایا جا چکا ہے وہ رات و رات کوئی بڑی انقلابی تبدیلی لانے میں ناکام رہے گی۔ اس وقت عوام جس قدر مایوسی اور غیریقینی کیفیت میں ڈوب چکی ہے وہ حکومت سازی کے بعد فوری احتجاج کی صورت میں ردعمل ظاہر کرے گی۔ تحریک انصاف بھی اسی موڈ میں نظر آتی ہے۔ مقتدرہ کو چایئے کہ وہ ابھی سے اس کا حل ڈھونڈنے کی طرف توجہ دینا شروع کرے۔

    Title Image by Melanie from Pixabay

  • پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا وراثتی موازنہ

    پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا وراثتی موازنہ

    پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا وراثتی موازنہ

    Dubai Naama

پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا وراثتی موازنہ

    بہاولپور میں پیپلزپارٹی کے جلسہ عام سے گزشتہ روز خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا: "شکار کا موسم ہے اور ہم مل کر اب شیر کا شکار کریں گے۔ بلاول بھٹو نے یہ سیاسی بیان نون لیگی اشرافیہ کے خلاف عوامی طاقت و حمایت کی روشنی میں دیا۔ ہمارے ہاں جو سیاسی اطوار ہیں اور جس طرح عوام کو بڑی سیاسی جماعتیں ہانک کر اپنے پیچھے لگاتی ہیں، یہ تقریری جوش خطابت اسی کے مطابق ہے۔ ویسے تو پیپلزپارٹی ہو یا نون لیگ ہو یہ دونوں وراثتی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اگر جمہوری نظام حکومت ہی کو جاری رکھنا ہے اور جب کوئی متبادل قیادت بھی میسر نہیں ہے تو چاروناچار انہی جماعتوں کو سیاسی و انتخابی میدان میں پنچہ آزمائی کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔ پاکستان سے سیاسی و معاشی طور پر انڈیا اور بنگلہ دیش زیادہ مستحکم ہیں مگر وہاں بھی وراثتی سیاست ابھی تک موجود ہے۔ جواہر لعل نہرو 16سال سے زیادہ عرصہ تک انڈیا کے وزیراعظم رہے جو انڈین سیاسی تاریخ میں ایک کا ریکارڈ ہے۔ اس کے بعد ان کی بیٹی اندارا گاندھی 1966 سے 1977 اور 1980 سے 1984 تک دو بار وزیراعظم منتخب ہوئیں اور اس کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی بھی صرف 40سال کی عمر میں 1984 سے 1989 تک وزیراعظم رہے۔ ایک ہی ہفتہ قبل بنگلہ دیش کے بانی اور رہنما شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخہ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے الیکشن جیتا ہے اور وہ 5ویں مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم بننے جا رہی ہیں۔ یوں وراثتی سیاست کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور نون کا موازنہ کریں تو نون لیگ مقابلتا زیادہ موروثی سیاسی جماعت ثابت ہوئی ہے جس نے گزشتہ 39سال سے زیادہ کے عرصے سے اقتدار شریف خاندان سے باہر جانے نہیں دیا ہے۔ میاں محمد نواز شریف پہلی بار 1985 اور دوسری بار 1988 میں پنجاب کے وزیراعلی منتخب ہوئے۔ وہ سنہ 1990، 1997 اور 2013 میں تین بار ملک کے وزیراعظم چنے گئے. میاں نواز شریف پاکستان کی تاریخ میں وقفے وقفے سے کل 9سال اور 215دن ملک کے وزیراعظم رہے جو کسی وزیراعظم کا حکومت میں رہنے کا سب سے زیادہ دورانیہ ہے۔ اب 2024 میں وہ چوتھی بار وزیراعظم بننے کی امید پر وطن واپس لوٹے۔ اس سے پہلے سنہ 1981ء میں جنرل ضیاءالحق نے انہیں پنجاب کا وزیر خزانہ بنوایا۔ یوں دیکھا جائے تو نواز شریف یکے بعد دیگرے 39سال کی بجائے گزشتہ 43سال سے حکومت میں رہے ہیں۔ جب میاں محمد نواز شریف مرکز میں گئے تو شریف فیملی ہی کے چشم و چراغ اور نواز شریف صاحب کے برادر خورد و نون لیگ کے موجودہ صدر شہباز شریف تین بار 1985, 2008 اور 2013 میں پنجاب کے وزیراعلی بنے اور وہ بھی پنجاب کے سب سے زیادہ لمبے عرصے 11سال تک پنجاب کے وزیراعلی رہے۔ وہ اپریل 2022 سے اگست 2023 تک وزیراعظم پاکستان بھی رہے۔ اسی طرح نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور ان کے خاوند صفدر اعوان بھی مختلف حکومتی عہدوں پر فائز رہے۔ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف 2022 میں کچھ وقت کے لیئے وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوئے۔ میاں محمد نواز شریف کے سمدھی یعنی اسحاق ڈار جن کے بیٹے کی شادی نواز شریف کی دوسری بیٹی آصمہ نواز سے خودساختہ جلاوطنی کے دوران سعودی عرب جدہ میں ہوئی وہ بھی شریف فیملی کا ممبر گنے جاتے ہیں۔ اسحاق ڈار 1980 میں سیاست میں داخل ہوئے، 2003 میں سینیٹر اور 2012 میں لیڈر آف اپوزیشن بنے۔
    نواز شریف کے ادوار میں وہ 3بار وفاقی وزیر خزانہ رہے اور چوتھی بار انہیں لندن سے لا کر 2022 میں اس وقت وزیر خزانہ بنایا گیا جب شہباز شریف نے اسی سال وزارت عظمی کا حلف اٹھایا۔ اسحاق ڈار بھی ریکارڈ عرصہ تک وفاقی وزیر خزانہ رہے۔ انہیں شریف فیملی اور انکے اقتدار میں اتنا اثر و رسوخ رہا کہ انہیں شریف فیملی کا "ڈی فیکٹو وزیراعظم” کہا جاتا تھا۔

    شریف خاندان کی موروثی اور بادشاہی طرز کی جمہوریت کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کو پہلے ہی دن سے ایک وفاق کی علامت اور سیاسی و عوامی جماعت سمجھا جاتا ہے۔پیپلزپارٹی میں "پیپلز” کا مطلب عوام ہے اور "پارٹی” کے معنی جماعت کے ہیں یعنی پیپلزپارٹی عام لوگوں (عوام) کی جماعت ہے۔ لھذا پیپلزپارٹی نے اپنے نام کی مناسبت سے شروع دن سے پسے ہوئے مزدوروں اور غریب عوام کے حقوق کے لیئے آواز اٹھائی۔پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں فاو’نڈنگ کنونشن کے موقعہ پر سنہ 1967ء میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور لیفٹ ونگ کے دیگر نمایاں سیاست دانوں نے رکھی تاکہ فوجی آمر جنرل صدر ایوب خان کے اقتدار کے خلاف جدوجہد کی جا سکے۔ اس جماعت کے بنیادی منشور کا عنوان، "اسلام ہمارا مذہب ہے اور جمہوریت ہماری سیاست ہے”، تھا اور اسی منشور کی روشنی میں یہ عوامی نعرہ متعارف کروایا گیا: "مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی، کپڑا اور مکان”۔ 1970 میں جب پہلے جمہوری انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی کے اس نظریاتی منشور اور پارٹی کو پہلی عوامی و سیاسی جماعت ہونے کی وجہ سے عام انتخابات میں غیر معمولی کامیابی ملی اور زولفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے سول ایڈمنسٹریٹر بنے اور پھر 1971 سے 1973 تک صدر پاکستان اور 1973 سے 1977 تک پہلے جمہوری وزیراعظم رہے۔ تاآنکہ جنرل ضیاءالحق نے 5جولائی 1977 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ بھٹو کی حکومت میں خود بھٹو کے علاوہ ان کے خاندان کا کوئی رکن کسی سرکاری عہدہ پر نہیں لگایا گیا۔ بھٹو صاحب آمر جنرل ایوب خان کی کابینہ کے وزیر ضرور رہے مگر انہوں نے فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کر کے ملک میں جمہوریت کو رائج کیا۔ جبکہ نواز شریف آمر فوجی حکمران ضیاءالحق کی جھولی میں بیٹھ کر اقتدار میں داخل ہوئے جب ضیاءالحق نے انہیں پنجاب کا وزیر خزانہ بنایا۔ پیپلزپارٹی کے برعکس نون لیگ کا قیام 1990 میں کسی باقاعدہ عوامی منشور کے تحت عمل میں نہیں آیا بلکہ جب 1990 میں اسلامی جمہوری اتحاد نے نواز شریف کی قیادت میں الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں سے اختلافات کے بعد 1993 کے انتخابات سے قبل (اور پیپلزپارٹی کے قیام کے 26سال بعد) نواز شریف نے اپنے نام پر پاکستان مسلم لیگ نون کی بنیاد رکھی جس میں "نون” نواز شریف کا مخفف ہے۔ یہاں تک کہ بعد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) محض نون لیگ کہلانے لگی جو آج تک ن لیگ ہی ہے جس کے شروع دن سے عہدوں کی خاندانی تقسیم کچھ یوں ہے کہ نواز شریف تاحیات قائد اور شہباز شریف تاحیات صدر ہیں جبکہ باقی عہدے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے ہاتھوں میں ہیں۔ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی عوام کے لیئے دی جانے والی سیاسی جدوجہد اور جانی قربانیوں کو دیکھا جائے تو نون لیگ نے پیپلزپارٹی کے مقابلے میں برائے نام اتنا کچھ ہی قربان کیا جس کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو نے قید و بند کی بارہا صعوبتیں برداشت کیں، پولیس کے ڈنڈے کھائے، لہو لہان ہوئیں اور سر کی ہڈی تک تڑوائی مگر جمہوریت اور عوام کی خاطر ہمت نہیں ہاری۔ بھٹو خاندان میں بھٹو کے ایک بیٹے شاہ نواز بھٹو کو 18جولائی 1985 کو فرانس کے ایک فلیٹ میں زہر دے کر قتل کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو دو دفعہ 1988 سے 1990 اور 1993 سے 1996 تک وزیراعظم پاکستان رہیں جو اسلامی دنیا کی پہلی منتخب جمہوری وزیراعظم تھیں۔ ان کے دوسرے دور حکومت میں کراچی میں ان کے بھائی مرتضی بھٹو کو 20ستمبر 1996 کو پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کیا، بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ کے راولپنڈی کے جلسے کے بعد سر میں گولیاں مار کر اور خودکش حملہ کر کے 27دسمبر 2007 کو قتل کیا گیا۔ ان کے والد اور عوامی قائد و پاکستان کے پہلے جمہوری وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا 4اپریل 1979 کو پھانسی دے کر عدالتی قتل کیا گیا۔ جبکہ میاں محمد نواز شریف ملک کے تین بار وزیراعظم بنے اور جب وہ عہدے سے ہٹانے گئے تو وہ تینوں بار معاہدہ کر کے، خود ساختہ جلاوطنی کے روپ میں اور ملک و عوام کو اکیلا چھوڑ کر سعودی عرب اور لندن جاتے رہے۔

    آج جب بلاول بھٹو اشرافیہ نون کے شیر کا تیر کے ساتھ شکار کرنے کا کہتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ: "ہمارے مخالفین اشرافیہ کے ساتھ ہیں جبکہ پیپلزپارٹی عوام کی نمائندگی کرتی ہے”، تو وہ پیپلزپارٹی کی سیاسی تاریخ کے پس منظر میں کسی حد تک ٹھیک کہتے ہیں۔ انہوں نے اس جلسے میں کہا: "عوام 8فروری کو تیر پر ٹھپا لگا کر بتا دیں کہ بھٹو آج بھی زندہ ہے”۔ یہ بات سچ ہے کہ شخصیات مر جاتی ہیں مگر نظریات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ جمہوریت کے لیئے بھٹو خاندان کی جدوجہد اور لازوال قربانیوں کی کہانی ایک سیاسی نظریئے کا نام ہے۔ بھٹو کے پوتے بلاول بھٹو کا سیاسی کردار بے داغ ہے۔ نون لیگ کی تمام قیادت پر سیاسی بددیانتی کے الزامات رہے ہیں بلکہ وہ "مجرم” ٹھہرائے جاتے رہے ہیں، اس وجہ سے سزا کی مد میں وہ جیلوں میں بھی رہے ہیں۔ گو کہ بلاول بھٹو کے والد آصف علی زرداری پر بھی کرپشن کے الزامات لگے اور وہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ 11سال تک جیل میں رہے۔ لیکن بھٹو پر کرپشن وغیرہ کا کوئی ایک بھی الزام ہے اور نہ ہی وہ کبھی جیل گئے ہیں۔ ماسوائے اس کے کہ جب بے نظیر بھٹو جیل میں تھیں تو بلاول بھٹو ان کے پیٹ میں تھے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ غریبوں کے لیئے 300یونٹ تک بجلی بالکل مفت کر دیں گے، ملک بھر میں مفت اور معیاری تعلیمی ادارے اور آئی ٹی یونیورسٹی قائم کریں گے”۔

    پیپلزپارٹی کا یہ بنیادی بیانیہ پہلے دن سے عوامی ہے۔ "بے نطیر بھٹو وفاق کی زنجیر” کے خطاب سے منسوب کی جاتی تھیں۔ پیپلزپارٹی واحد ملک گیر سیاسی جماعت ہے جو پاکستان میں ہونے والے سنہ 1970ء کے بعد عوام کے دل میں گھر کر چکی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کا ادھورا مشن مکمل کرنے کے لیئے، 2024 کے الیکشن میں آج بھی اسے ساتھ لے کر چل رہے ہیں (انتساب: بشکریہ میاں منیر ہنس)۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • بلاول بھٹو کا بیانیہ، دھوکہ یا حقیقت؟

    بلاول بھٹو کا بیانیہ، دھوکہ یا حقیقت؟

    بلاول بھٹو کا بیانیہ، دھوکہ یا حقیقت؟

    Dubai Naama

بلاول بھٹو کا بیانیہ، دھوکہ یا حقیقت؟

    ان دنوں بلاول بھٹو زرداری کا بزرگ سیاست دانوں کی سیاست سے کنارہ کشی کا موقف زیر بحث ہے جس سے پیراڈاکس (Paradox) کے بارے ایک منقول بحث یاد آتی ہے۔ اس بحث میں چند شاگردوں کا ایک گروہ اپنے استاد سے پوچھتا ہے کہ مغالطہ (Paradox) سے کیا مراد هے؟
    استاد جواب میں کہتا ہے کہ میں
    اس کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ دو مرد میرے پاس آتے ہیں۔ ان میں سے ایک صاف ستهرا ہے اور دوسرا گندا ہے۔ میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کر کے پاک و صاف ہو جائیں۔ اب آپ بتائیں کہ ان میں سے پہلے کون غسل کرے گا؟
    شاگرد کہتے ہیں گندا مرد۔ استاد کہتا ہے نہیں بلکہ صاف آدمی کرے گا کیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت ہی معلوم نہیں۔ اب آپ بتائیں کہ پہلے کون نہائے گا؟ بچے کہتے ہیں کہ صاف آدمی، استاد کہتا ہے نہیں بلکہ گندا پہلے نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے۔ پس اب بتائیں کہ پہلے کون نہائے گا؟ سب کہتے ہیں کہ گندا آدمی
    استاد کہتا ہے
    نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں ہے۔ اب بتائیں کہ پہلے کون نہائے گا؟ سب کہتے ہیں کہ دونوں۔
    استاد کہتا ہے
    نہیں کوئی بھی نہیں نہائے گا کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اب بتائیں کون پہلے نہائے گا؟ سب شاگرد کہتے ہیں کوئی نہیں۔ تب استاد مکرم ایک اور سوال داغنے کے موڈ میں ہوتے ہیں کہ آخر شاگرد اکتا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت جی آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب ہمیں درست معلوم ہوتا ہے ہم کو بتائیں کہ ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو گی؟ تب استاد کہتا ہے کہ پیراڈاکس (Paradox) یا مغالطہ یہی تو چیز ہے کہ جس میں کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ سچ بات کیا ہے۔ بلاول بھٹو کے اس بیانیہ کو بھی اسی قسم کے ایک سیاسی مغالطے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اس وقت مقتدرہ کو مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ نہلا دھلا کر پہلے اقتدار کے سنگھاسن پر کس کو بٹھانا ہے نون لیگ کو یا پیپلزپارٹی پارٹی کو حالانکہ ان دونوں جماعتوں کو (برخلاف آزمودہ را آزمودن جہل است) پہلے ہی دو دو تین تین بار آزمایا جا چکا ہے؟ سیاست کے اس طرز کہن کے خلاف پہلی بار بلاول صاحب نے 9اگست کو نیشنل اسمبلی میں بطور وزیر خارجہ اپنے خطاب میں محترمہ مریم نواز شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری صاحب کو ایسے فیصلے کرنے چایئے جس سے میرے اور مریم نواز کے لئے سیاست کرنا آسان ہو جائے۔اس خطاب میں بلاول بھٹو نے اہم ترین بات یہ کہی تھی کہ، "ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بڑے ہم سے وہی سیاست کرانا چاہتے ہیں جو 30سال انہوں نے خود بھگتی ہے”۔

    تین ماہ قبل بھی بلاول بھٹو نے بزرگ سیاست دانوں یعنی نواز شریف اور اپنے والد گرامی زرداری صاحب پر سخت تنقید کی تھی۔ اب جبکہ 2024 کے الیکشن کی مہم شروع ہوئی تو انہوں نے اس تنقید میں مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر بزرگ سیاستدانوں کو بھی شامل کر لیا۔ پہلے بلاول نے
    16نومبر کو ایبٹ آباد میں اور پھر 21نومبر کو چترال میں
    جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کو دوسری یا چوتھی بار وزیراعظم بنانے سے بہتر ہے کہ انہیں آرام کرنے کا موقع دیا جائے۔ بلاول نے یہ بھی کہا تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پرانے سیاست دانوں کو گھر بٹھانا پڑے گا، کیونکہ قوم کا مستقبل اب ایسے سیاست دانوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جو صرف اپنے بارے میں سوچتے ہوں۔

    بلاول بھٹو اپنے اس موقف میں اتنے سنجیدہ دکھائی دیئے کہ اس حوالے سے ان کا اپنے والد آصف علی زرداری سے اختلاف ہوا اور وہ پاکستان چھوڑ کر دبئی آ گئے جس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک معاصر صحافی کو ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "بلاول ابھی ٹرینڈ نہیں، اس کی سیاسی تربیت کر رہے ہیں لیکن ابھی اسے وقت لگے گا۔” حالانکہ زرداری صاحب کا یہ موقف درست نہیں ہے کہ کسی کامیابی یا کارنامے کو انجام دینے کا تعلق صرف تجربے، عمر یا ٹریننگ وغیرہ سے ہوتا ہے۔ اگر اخلاص، ذہانت اور نئی سوچ ہو تو ملک کے حالات کو محض چند سالوں میں بدلا جا سکتا ہے جس کو خراب کرنے میں ان بزرگ سیاستدانوں نے کم و بیش چالیس لگائے ہیں۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل ایک جنگی مہم روانہ کی جس کے سپہ سالار ایک کم عمر غلام تھے (معذرت نام یاد نہیں) جن کی کمان میں بزرگ صحابہ کرام تھے مگر انہیں اس کم عمر صحابی کی قیادت پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح محمد بن قاسم، قتیبہ بن مسلم، موسی بن نصیر اور سپہ سالار طارق بن زیاد کم عمر تھے۔ حتی کہ کہا جاتا ہے کہ جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تو ان کی عمر فقط 17برس تھی۔

    39 سالہ امینیوئل میکخواں فرانس کی تاریخ کے سب سے کم عمر صدر منتخب ہوئے جنہوں نے نپولین بوناپارٹ کا 170 سالہ پرانا ریکارڈ توڑا جو 1848ء میں 40 برس کی عمر میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ فرانس کی آبادی کی اوسط عمر 41 برس ہے، سو میکخواں اس سے بھی دو برس چھوٹے تھے جب انہوں نے یہ ریکارڈ بنایا۔
    سابقہ سوویت یونین کا حصہ جمہوریہ ایسٹونیا نے جب 2016ء میں ایک مخلوط حکومت منتخب کی تو 38سالہ جوری ریتاس اس کے وزیرِ اعظم بنے۔ یوکرین میں وولودی میر گروئسمان وزیرِ اعظم بنے تو ان کی عمر 38سال تھی۔ اسی طرح فن لینڈ کی وزیر اعظم سنا مارین 8دسمبر 2019 کو 34سال کی عمر میں اپنے ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔۔۔!!!

    بلاول بھٹو زرداری کا اپنے بیانات کے بین السطور میں اصل نقطہ نظر 36سال کی عمر میں اگلے الیکشن (2024) میں وزیراعظم بننا نہیں ہے بلکہ ملک میں نوجوان قیادت کو آگے لانا ہے جو کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی ان بزرگ قیادتوں کا متبادل ہے جو گزشتہ 40سالوں میں ملک کی حالت کو بدلنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں بلکہ اس دوران ملک نے ترقی نہیں، تنزلی کی یے۔ سابق وزیراعظم عمران خان اور شیخ رشید بھی نوجوان نسل کو آگے لانے کی وکالت کرتے رہے ہیں مگر اب عمران خان کی عمر 71سال اور شیخ رشید کی عمر 73سال ہے۔ اسی طرح نواز شریف کی عمر 73سال ہے اور شہباز شریف 72برس کے ہو گئے ہیں۔ لیکن ایک حکمران کو بہترین کارکردگی دینے کے لیئے سوال عمر کا نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی عمر 74سال ہے جبکہ جوبائیڈن 81سال کی عمر میں بھی امریکی صدر کے طور پر کامیابی سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا سیاسی مسئلہ عوام کی سوچ میں رویوں میں تبدیلی لانا ہے جو ان بزرگ سیاستدانوں کے مفاہمانہ انداز سیاست سے منجمد ہو چکی ہے اور جو نظریات کی بجائے شخصیات کے سحر سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔

    یہ ایک قسم کا مغالطہ یا پیراڈسکس (Paradox) ہی نہیں بلکہ ایک فریب (Illusion) بھی ہے جس میں ہماری قوم کو ان بزرگ سیاستدانوں دانوں نے ذاتی مفادات اور کرسی کے لالچ میں پھنسا رکھا پے۔

    درحقیقت، بلاول بھٹو کا موقف نوجوان نسل کا "بیانیہ” ہے جو حقیقت پر مبنی ہے اور دھوکہ وہ ہے جس میں عوام کو گزشتہ اتنے عرصے سے بار بار خواب دکھا کر اور نت نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اس میں گرفتار رکھا گیا ہے۔ اب اپنی گندی سیاست کو نہلانا ہم پر واجب ہو چکا ہے۔ ہم مزید کتنے عرصے تک اس مبحث میں پڑتے رہیں گے کہ کس کو پہلے نہلانا ہے اور کس کو نہیں نہلانا ہے یا اسے یونہی تخت پر دوبارہ بٹھا دینا ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ سنہ 2024ء میں بلاول بھٹو ہی کو وزیراعظم بنایا جانا چایئے مگر یہ ضروری ہے کہ اب ینگ جنریشن کو موقع دیا جانا چایئے جو کچھ کر گزرنے کا جنون رکھتی ہے۔ ملک میں مثبت تبدیلی آنی چایئے اور اس کو محض تنقیدی بیانات سے یہ کہہ کر رد نہیں کیا جانا چایئے کہ "بلاول ابھی بچہ ہے اور کچا ہے”۔ آخر کب تک ہم اپنی جمہوری سیاست کو اسی طرح دائروں میں گھماتے رہیں گے؟ نئی نسل اب اسے مزید برداشت کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔

    Title Image by UN Geneva

  • زرداری صاحب کی ‘معنی خیز’ خاموشی؟

    زرداری صاحب کی ‘معنی خیز’ خاموشی؟

    زرداری صاحب کی ‘معنی خیز’ خاموشی؟

    Dubai Naama

زرداری صاحب کی ‘معنی خیز’ خاموشی؟

    اس دفعہ پیپلزپارٹی کو عوام میں ایک سیاسی فائدہ یہ حاصل ہوا ہے کہ نون لیگ کے لئے  ڈیل کے  لکھے گئے مسودے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا حصہ تھی مگر اب بلاول بھٹو زرداری نے واضح کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے نون لیگ سے اختلافات ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن مہم کا میدان سردست تقریبا خالی ہے۔ اگرچہ عمران خان کی مقبولیت کو ختم کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے اور عمران خان کے خلاف مانیکا کا ذاتی زندگی کے بارے گھٹیا انٹرویو بھی لانچ کیا گیا ہے مگر اس کی مقبولیت کو عوام کے دل سے نہیں نکالا جا پا رہا ہے جس  کے ردعمل میں ووٹ مانگنے کے کے لئے اپنے حلقوں میں جانے والے کچھ نون لیگی امیدواروں کی گاڑیوں پر پتھراو’ اور ان کی چھترول کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو الیکشن سے  سپریم کورٹ ریلیف دے گی یا بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان موجود ہوا تو الیکشن کا بڑا رن پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان پڑے گا حالانکہ 9مئی کے واقعات کے پس منظر میں اس الیکشن میں بظاہر یہ "ایں خیال است و محال است” والی بات ہے۔ شائد آپکو یاد ہو گا کہ جب محمد نواز شریف کی وطن واپسی کی خبریں آ رہی تھیں تو انہوں نے جنرل باجوہ، جنرل فیض اور ثاقب نثار وغیرہ کے خلاف لندن میں بیٹھ کر سخت زبان درازی کی تھی اور کچھ دیگر کرداروں کے بارے میں بھی یہ کہا تھا کہ وطن واپسی پر انہیں اقتدار ملا تو وہ ان کرداروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ لیکن 21اکتوبر کو جس طرح میاں صاحب کی کامیاب طریقے سے وطن واپسی ہوئی اور جیسے انہوں نے ایئرپورٹ پر عدلیہ اور نادرا کو بلا کر حکومتی انتظامیہ کا بھانڈا پھوڑا اس سے واضح ہو گیا ہے کہ انہیں طے شدہ سہولیات سے بھی کچھ زیادہ ہی "ریلیف” دیا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد بلوچستان سے 30الیکٹیبلز اور ق لیگ کی نون لیگ میں شمولیت نے روز روشن کی طرح واضح کر دیا ہے کہ پردے کے پیچھے سیاسی کھیل کی یہ ڈوریں کون ہلا رہا ہے جس کا ایک خاکہ یہ ہے کہ خود نون لیگ کے سپوکس مین چند صحافی "چابی برداروں” جیسی اصطلاحات کا استعمال کر رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف چاہتے تو "پی ڈی ایم” (PDM) کی اتحادی حکومت کے دوران بھی وطن واپس آ سکتے تھے کہ جب ان کے برادر خورد وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان تھے۔ لیکن میاں صاحب نے اس "ڈیل” کا الزام اپنے بھائی کے کندھوں پر نہیں لادا تھا۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میاں شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ ان تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

    "ڈیل” یا "این آر او” کی سیاست کوئی مثبت اور خوشگوار سیاست نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کے منہ پر ایک تمانچہ ہے کہ سیاست دان اپنے ناپسندیدہ کاموں اور جرائم وغیرہ کے بدلے میں "این آر او” اور "پلی بارگین” وغیرہ لے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں ڈیل کی اڑائی گئی خبروں کی نون لیگ نے سختی سے تردید کی تھی۔ یہاں تک کہ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیئے نون لیگ کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی بیان دیا تھا کہ میاں نواز شریف کسی ڈیل کے تحت نہیں آئے بلکہ وہ عوام کی خدمت کرنے کے لیئے وطن واپس آئے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ میاں صاحب پاکستان ڈیل کر کے واپس آئے ہیں۔ ورنہ وہ وطن تب بھی آ سکتے تھے جب ان کی والدہ اور زوجہ اس دنیا سے رخصت ہوئی تھیں۔ اگر میاں صاحب اپنی سگی ماں کے جنازے میں پاکستان نہیں آئے تھے تو انہیں عوام کی خدمت کا اتنا ہی شوق تھا تو انہیں 4سال پہلے وطن واپس آ کر اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنی چاہئے تھی۔ اس کے برعکس پیپلزپارٹی کی قیادت جو بلاول بھٹو کے پاس ہے ان پر اس قسم کی ڈیل، الیکٹیبلز یا پلی بارگین وغیرہ کی سیاست کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی وہ کسی عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ جبکہ اس الیکشن مہم میں نون لیگ فقط ڈیل اور الیکٹیبلز کی سیاست پر انحصار کر رہی ہے جو درپردہ "سودے بازی” اور  "بلیک میلنگ” کی سیاست ہے۔

    اس پس منظر میں میاں محمد نواز شریف صاحب عوام میں "قائد عوام” رہے ہیں اور نہ ہی وہ عوام میں "سول بالادستی” یا "ووٹ کو عزت دو” کا بیانیہ دہرانے کی پوزیشن میں ہیں کیونکہ جب یہ سارے فیصلے عوام سے بالا بالا غیر اصولی سیاست کے تحت کیئے جا رہے ہیں تو اس میں عوام کے ووٹ کی کوئی وقعت باقی نہیں بچتی ہے۔

    الیکٹیبلز زیادہ تر ابن الوقت اُمیدوار ہوتے ہیں جو اقتدار میں آنے والے اتحادیوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔ بڑی جماعت الیکٹیبلز کو لے کر عموما بے توقیر ہو جاتی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنی سیاسی مہم کا آغاز ہی "الیکٹیبلز” کو نون لیگ میں شامل کر کے کیا ہے۔ یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ نون لیگ میں شامل امیدواروں سے بہتر کون جانتا ہے کہ پارلیمنٹ میں عددی برتری کی خاطر کس طرح خرید و فروخت ہوتی ہے مثال کے طور پر لوٹے، گھوڑے، مری ریسٹ ہاوس اور جھانگا مانگا کی اصطلاحیں پہلے بھی نون لیگ کے دور میں رائج ہوئی تھیں، اب بھی پہلے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران ممبران کی خریدوفردخت کی خبریں آتی رہیں اور اب تیسری بار نون لیگ الیکٹیبلز کے دم قدم سے دوبارہ اقتدار میں آنے کا کھیل رچا رہی ہے۔ اس نوع کی سیاست میں بکنے والے لوگ چھوٹے لوگ ہوتے ہیں جنہیں قیادتیں بڑا کہہ کر اپنے ساتھ شامل کر لیتی ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ امر ہے جسے ہماری عوام کئی بار سہہ چکی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری سیاست کا معروف اصول ہی یہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی اصول نہیں ہے۔

    ہماری سیاست ہمیشہ ایسے غیر اصولی حوادث سے دوچار رہی ہے۔ سونا آگ میں جل کر کندن ہو جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ان الیکٹیبلز نے ہمیشہ ہوا کا رخ دیکھا ہے اور چڑھتے سورج کی پوجا کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا ہے کہ اس نوع کے سیاست دانوں نے اصولوں پر سودے بازی کر کے اپنی جیبیں تو بھری ہیں مگر عوام کو مزید بدحال سے بدحال تر کیا ہے۔

    جب موقع پرستی کو اصول بنا لیا جائے اور  اسے ملک و قوم کو چھوڑ کر اپنا مقدر سنوارنے کا ہی وسیلہ بنا لیا جائے تو پھر  توجیہات کے طور پر ابن الوقت روز افزوں بڑھتے ہی رہتے ہیں جس نظارہ عوام اپنی آنکھوں سے کر رہی ہے۔

    دنیا بھر میں سیاستدان سیاسی جماعتیں بدلتے ہیں مگر وہ یوں انی نہیں مچاتے جس طرح اس بار نون لیگ مچا رہی ہے۔

    یہ نظریاتی اور پارلیمانی  سیاست کو کمزور کرنے کی روش ہے۔ چونکہ اس طرز کی سیاست میں ملک و نظریئے کی بجائے اپنا مفاد عزیز رکھا جاتا ہے اس لئے ہماری جمہوریت میں ایسے لوگوں کو وہ توقیر نصیب نہیں ہوتی جو کسی فکری و تنظیمی ٹکراؤ کے باعث جماعت بدلنے والے کو ہوتی ہے اور یوں ایسے ابن الوقت عوامی اصطلاح میں "لوٹے” کہلاتے ہیں۔حکمرانی کا دسترخوان نون لیگ کے لئے سجتا دیکھ کر الیکٹیبلز کے منہ سے رالیں ٹپک رہی ہیں۔ ایسی سیاست میں کیا گارنٹی ہے کہ جو وزارتوں کے لیئے ایک بار بلیک کرتے ہیں وہ اگلی بار نہیں کریں گے؟ نون لیگ اپنے تھیلے میں ایسے سارے چٹے پٹے جمع کرتی جا رہی ہے جو آنے والے کل نون لیگ کو بلیک میل کریں گے اور خریدوفروخت و سیاسی رشوت کا بازار دوبارہ گرم ہو گا۔ لیکن خوش قسمتی سے پیپلزپارٹی کی قیادت اس میں قطعا ملوث نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس الیکشن میں پیپلزپارٹی کا یہ پلس پوائنٹ ہے۔ آصف علی زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ "ایک زرداری سب پر بھاری” تو کیا خبر سیاست کا یہ گرو کوئی ایسی چال چلے کہ نون لیگ ان ساری "سہولیات” کے باوجود زرداری صاحب کی اس اصولی سیاست کے سامنے بے بس ہو جائے۔ اگر پی ٹی آئی کو الیکشن میں حصہ لینے کی چھٹی مل گئی اور اس کا اتحاد پیپلزپارٹی سے بھی ہو گیا تو اس کا نتیجہ نون لیگ کے سارے خوابوں پر پانی بھی پھیر سکتا ہے۔