Tag: نماز

  • قربانی ضرور کیجیے مگر ؟ 

    قربانی ضرور کیجیے مگر ؟ 

    قربانی ضرور کیجیے مگر ؟ 

    تحریر: محمد ذیشان بٹ

    ذوالحجہ کے مبارک اور بابرکت دن چل رہے ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ان دنوں کے نیک اعمال سب دنوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہاں تک کہ ان دس دنوں کی فضیلت رمضان المبارک کے عام دنوں سے بھی بڑھ کر بیان کی گئی۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ان  کی اصل روح اور اہمیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اکثر لوگوں کے نزدیک ذوالحجہ کا مطلب صرف جانور خریدنا، تصاویر لگانا اور گوشت محفوظ کرنا رہ گیا ہے، جبکہ اصل پیغام کہیں پیچھے رہ گیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اطاعت، فرمانبرداری اور قربانی کی عملی تفسیر ہے۔ قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی انا کو اللہ کے حکم کے آگے قربان کرنے کا نام ہے۔ یہی اصل مضمون ہے، یہی اصل سبق ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو آج ہم بھول چکے ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نوجوان تھے تو انہوں نے اپنی قوم کے باطل عقائد کے خلاف آواز بلند کی۔ پوری قوم بتوں کے سامنے جھکتی تھی مگر ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کردیا کہ میرا رب صرف ایک اللہ ہے۔ آج اگر کوئی نوجوان دین کی بات کرے، نماز کی پابندی کرے یا سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو فوراً اس پر فقرے کسے جاتے ہیں: “بڑا مولوی بن گیا ہے!” “ابھی سے اتنی دینداری کیوں؟”

    مگر ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کی۔ بادشاہِ وقت نمرود کے سامنے بھی حق بات کہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آگ تیار کردی گئی۔ ایسی آگ کہ پرندہ اوپر سے گزرتا تو جل جاتا، مگر جب اللہ کے فرمانبردار ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔”

    یہ انعام کس کو ملا؟

    فرمانبرداری کرنے والے کو۔

    پھر ایک وقت آیا کہ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی۔ عام انسان تو بڑھاپے کی اولاد کو آنکھوں سے دور بھی نہیں ہونے دیتا مگر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؓ اور ننھے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنسان بیابان میں چھوڑ آؤ۔ نہ پانی، نہ سایہ، نہ کوئی آبادی۔

    حضرت ہاجرہؓ نے پوچھا: “کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: “ہاں!”

    تو جواب ملا: “پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”

    یہ ہوتا ہے ایمان، یہ ہوتا ہے یقین، یہ ہوتی ہے فرمانبرداری۔

    پھر وہ وقت آیا جس کی یاد میں آج پوری امت قربانی کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کررہے ہیں۔ ذرا سوچیں! یہ بیٹا بڑھاپے کی اولاد تھا، آنکھوں کی ٹھنڈک تھا، مگر اللہ کے حکم کے سامنے محبتِ اولاد بھی قربان کردی۔

    آج ہمارا حال یہ ہے کہ نماز کا وقت ہوجائے تو کہتے ہیں: “ابھی مصروف ہوں۔” فجر کی اذان ہو تو کہتے ہیں: “نیند بہت آرہی ہے۔”

    مگر جانور خریدنے کے لیے پوری پوری منڈیاں گھوم لیتے ہیں۔

    حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی کیا خوب جواب دیا: “ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے

    باپ بھی اللہ کا فرمانبردار

    بیٹا بھی اللہ کا فرمانبردار

    بس یہی ادا اللہ کو پسند آگئی اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے مینڈھا بھیج دیا اور اس سنت کو قیامت تک زندہ کردیا۔

    مگر افسوس! آج ہم نے قربانی کو صرف رسم بنا لیا ہے۔ نئے کپڑے، مہنگے جانور، تصویریں، ویڈیوز، سوشل میڈیا کے اسٹیٹس… سب کچھ ہے، مگر اللہ کی اطاعت کم ہے۔

    اصل بات یہ ہے کہ قربانی تب قبول ہوگی جب انسان پہلے اللہ کا فرمانبردار بنے گا۔ جو شخص پانچ وقت نماز کے لیے اللہ کے بلانے پر حاضر نہیں ہوتا، جو روزانہ اذان سن کر بھی مسجد نہیں جاتا، جو اللہ کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتا ہے، وہ صرف جانور ذبح کرکے یہ نہ سمجھے کہ اس نے قربانی کی روح پال لی ہے۔

    قربانی فرمانبردار لوگوں کا کام ہے۔

    قربانی ضرور کیجیے مگر ؟ 

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی پوری زندگی اطاعت اور قربانی سے بھری ہوئی تھی۔ طائف میں پتھر کھائے، خون بہا، مگر بددعا نہ دی۔ فتح مکہ کے دن اختیار تھا کہ دشمنوں سے بدلہ لے لیتے مگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے معاف فرما دیا۔ یہی اللہ والوں کا طریقہ ہوتا ہے۔

    حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں لے آئے۔ پوچھا گیا: “گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟” عرض کیا: “اللہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو۔”

    حضرت عمر فاروقؓ راتوں کو لوگوں کے حالات معلوم کرنے نکلتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنا مال دین کے لیے قربان کردیا۔ حضرت علیؓ نے ہر موقع پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ساتھ دیا۔ یہ لوگ صرف جانور قربان نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی خواہشات بھی قربان کرتے تھے۔

    آج ہم قربانی سے پہلے فریزر خریدنے کی فکر کرتے ہیں کہ گوشت محفوظ کیسے ہوگا، مگر کسی غریب کے گھر گوشت پہنچانے کی فکر کم ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گوشت ہمیشہ محفوظ رہے تو اسے ایسے لوگوں تک پہنچا دیں جنہوں نے قربانی نہیں کی۔ ان شاء اللہ وہ گوشت قیامت تک محفوظ رہے گا اور آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔

    اسی حوالے سے ہمارے شفیق استاد محترم حضرت مولانا ابو حفص طاہر کلیم صاحب اکثر فرمایا کرتے ہیں: “اللہ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پر چھری چلانے کا حکم دیا، اگر اولاد قربان کرنے کا حکم آجاتا تو ہم سب کے پول کھل جاتے کہ کتنے لوگ واقعی اللہ کے فرمانبردار ہیں۔”

    یہ جملہ سن کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اللہ کے فرمانبردار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے دل کے اندر موجود حسد، بغض، کینہ، نفرت، تکبر اور ریاکاری پر چھری چلانی ہوگی۔ جب انسان اپنے نفس کو قابو کرلے گا تو پھر جانور پر چھری چلانا بھی آسان ہوجائے گا۔

    ہمیں اپنی زندگی کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے طریقے کے مطابق گزارنا ہوگا۔ پیدائش سے لے کر موت تک، معاملات سے لے کر عبادات تک، اخلاق سے لے کر کاروبار تک، اگر ہم سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو اپنالیں تو پھر ہم واقعی اللہ کے فرمانبردار بن جائیں گے۔

    اور جب انسان اللہ کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو پھر اس کی چھوٹی سی قربانی بھی اللہ کے ہاں بڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے قربانی ضرور کیجیے…

    مگر پہلے اللہ کے فرمانبردار بنیے۔

    کیونکہ فرمانبرداری کے بغیر قربانی صرف گوشت کاٹنے کا عمل رہ جاتی ہے، جبکہ اطاعت کے ساتھ کی گئی قربانی انسان کو اللہ کا محبوب بندہ بنا دیتی ہے۔ اسی لیے تو میں حق بجانب ہوں یہ کہنے میں قربانی کیجے ضرور مگر پہلے اللہ کا فرمانبردار بنیے

    ہمیشہ کی طرح صرف پڑھیے نہیں… مکمل سوچیے، پھر عمل کیجیے۔

  • سفید گلاب کا نوحہ

    سفید گلاب کا نوحہ

    سفید گلاب کا نوحہ

    فاضل پور کے قرب و جوار میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جسے لوگ گڑھی سلطان شاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ مٹی کے گھر، کچی گلیاں، کھیتوں کی سرسبز چادر اور شام کے وقت افق پر بکھرتا سنہری رنگ۔یہ سب اس بستی کی پہچان تھے۔ کبھی ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے تو کبھی غروبِ آفتاب کا منظر امیدوں کو ساتھ لے کر ڈوب جاتا۔

    اسی گاؤں میں ایک بچی نے آنکھ کھولی۔نام رکھا گیا عدیمہ حرم۔

    لیکن اس کی پیدائش خوشی کی نوید نہ بن سکی۔

    گھر کے صحن میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا تھا۔ دادی کی آنکھوں میں مایوسی، چچیوں کے لبوں پر نیم دبی سرگوشیاں اور ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی۔ باپ نے اگرچہ “الحمدللہ” کہا مگر اس لفظ کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا خواب تھااسے اس بار “سالار” کی امید تھی۔

    عدیمہ نے ہوش سنبھالا تو خود کو خاموشیوں کے حصار میں پایا۔

    وہ بچپن ہی سے پانچ وقت کی نماز کی پابند، قرآن سے مانوس اور تہجد گزار لڑکی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ان جانا کرب تیرتا رہتا۔ وہ گاؤں کی رونقوں سے بے نیاز خود کو کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھتی۔ جیسے اس کے دل کے اندر کوئی طوفان تھا جو کسی مخلص سہارے کی تلاش میں بے قرار تھا۔

    لوگوں کے سنگین الفاظ، طنزیہ جملے اور تیز نظریں۔یہ سب اس کے وجود پر خراشیں ڈال جاتے۔

    وہ ہر رات سجدے میں گرتی اور رب سے دعا کرتی:

    “یا اللہ! مجھے ایک ایسا ہاتھ عطا کر دے جو میرے دل کے زخموں پر مرہم رکھ دے۔”

    سات برس بیت گئے۔

    سات برس کی خاموش عبادت، آنسوؤں کی لڑی اور صبر کا سفر۔

    سفید گلاب کا نوحہ

    یوں پھر ایک رات اس کی تہجد کی دعا رنگ لے آئی۔

    صبح جب اس نے دروازا کھولا تو سامنے ایک پرکشش شخصیت سفید لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سات ٹہنیوں سے بنا سفید گلابوں کا گل دستہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں خلوص کی چمک اور لبوں پر اعتماد کی مسکراہٹ تھی۔

    ہوا میں خنکی گھل گئی۔

    آسمان بادلوں کی لپیٹ میں تھا۔

    پھولوں کی بھینی بھینی خوش بو جیسے عدیمہ کے نصیب کا اعلان کر رہی تھی۔

    عدیمہ کے دل نے گواہی دی:

    “یہی وہ منزل ہے جس کے لیے میں نے سات سال صبر کیا ہے۔”

    وہ آگے بڑھی۔

    کانپتے ہاتھوں سے سفید گلاب کو چھوا۔ اس کی انگلیوں نے نرمی کو محسوس کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ خواب نہیں تھا۔

    اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔

    اندھیروں سے روشنی کی طرف بڑھتی ہوئی عدیمہ کو یوں لگا جیسے زندگی نے اسے مضبوط ڈور سے باندھ دیا ہو۔

    مگر تقدیر کے اوراق ابھی مکمل نہ تھے۔

    چند دنوں بعد جب اس پرکشش شخص کو یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ عدیمہ ایک طلاق یافتہ لڑکی ہے تو اس کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ گئی۔

    وہی ہاتھ جو سفید گلاب پیش کر رہا تھا اب سرد ہو چکا تھا۔

    “مجھے افسوس ہے… مجھے معلوم نہیں تھا…”

    اس کی آواز میں ہم دردی کم اور معاشرتی خوف زیادہ تھا۔

    چند لمحوں میں سفید گلاب جیسے سیاہ ہو گیا۔

    محبت کا رنگ ماند پڑ گیا۔

    عدیمہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر اندھیرا اتر آیا۔

    وہی کمرا، وہی تنہائی، وہی خاموشی۔

    اس رات اس نے سجدے میں سر رکھا تو آنسو بے اختیار بِہ نکلے۔

    مگر اس بار اس کے لبوں پر شکوہ نہ تھا۔

    “یا اللہ! اگر یہ بھی امتحان تھا تو میں راضی ہوں۔

    مگر مجھے اتنی طاقت دے کہ میں اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے نہیں تیری نظر سے دیکھ سکوں۔”

    کھڑکی سے آتی ہوا نے اس کے آنسو سکھا دیے۔

    دور کہیں فجر کی اذان بلند ہوئی۔

    عدیمہ نے آنکھیں پونچھیں اور آہستہ سے مسکرا دی۔

    کیوں کہ اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ سفید گلاب کا مان کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔

    اس کے اپنے صبر میں ہے۔

    اور شاید

    کبھی کبھی

    اللہ سفید گلاب کو سیاہ ہونے دیتا ہے

    تاکہ بندہ اپنے اندر چھپی روشنی کو پہچان سکے۔

    Title Image by Tina from Pixabay

  • دو قومی رویّے

    دو قومی رویّے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ

    قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان “دو قومی رویّے” رکھا گیا ہے ۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے، اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔ بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا نظریہ کچھ بھی ہو، وہ بے گناہ انسان تھے۔ کوئی بھی انسان کیوں کسی بے گناہ کو مارتا ہے؟ یہ سوال ہمیں انسان ہونے کے ناتے جھنجھوڑنا چاہیے۔ دوسری طرف لاہور ہے۔ زندہ دلانِ لاہور جو بسنت منانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں سے ویڈیو آئی ہے کہ “بسنت ختم کر کے واپس آ رہا ہوں ؟”، کہیں ڈور کٹی پڑی ہے کہ “پھر کبھی اُڑا لیں گے ؟”۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی، آج دل نہیں مانتا۔ آج چھت پر نہیں چڑھتے۔ آج خوشی مؤخر کر دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں، مگر ہم “آئی بو ” اور “بو کاٹا” کی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں۔ پھر حکمرانوں پر تنقید کس منہ سے؟ کالم نگار بارہا اپنے قلم کے ذریعے یہ بات دہراتا آیا ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، مریم نواز ہوں یا کوئی اور یہ سب ہمارے ہی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آئے۔ منتخب ہوں یا غیر منتخب، حکمران ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ جب عوام میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنی تفریح مؤخر کرنے کو تیار نہیں، یہ کہہ کر کہ خرچہ ہو گیا ہے، مہمان آ گئے ہیں، پروگرام طے تھا تو پھر حکمران کیوں ملتوی کریں گے؟ حکمران ہمیشہ عوام کے موڈ کو دیکھتا ہے۔ اگر ایک بار عوام چھتوں سے نیچے اتر آتے، اگر ایک دن کے لیے بھی اجتماعی سوگ دکھایا جاتا، تو کون سی طاقت وزیراعلیٰ کو مجبور نہ کرتی کہ بسنت مؤخر ہو؟ ہم اپنے رویّوں سے خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مرنے والے مر گئے، دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔” یہی پیغام وہ واٹس ایپ اسٹیٹس بھی دے رہے ہیں جن میں اسی وقت پتنگ بازی کی خوشیاں دکھائی جا رہی ہیں، جب اسلام آباد خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر ہم کیسے کہیں کہ ہم یکجہتی چاہتے ہیں؟ “پاکستان زندہ باد” اور “ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے تب کھوکھلے لگتے ہیں جب عملی رویّہ اس کے برعکس ہو۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سنی، شیعہ سب کچھ ہیں، مگر کیا ہم واقعی پاکستانی بھی ہیں؟ کیا ہم واقعی مسلمان بھی ہیں؟ اگر ہم اپنی سوچ اور اپنے رویّے نہیں بدلیں گے تو صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بے معنی ہے۔

    یہاں انڈا مہنگا ہو جائے تو ہم خریدنا نہیں چھوڑتے، اجتماعی بائیکاٹ نہیں کر پاتے، پھر یہ توقع کیسے رکھیں کہ بڑے فیصلے عوامی دباؤ کے بغیر بدل جائیں گے؟ قائداعظم کے مزار پر جا کر کبھی ہم خود سوال کریں کہ یہ ملک کن قربانیوں سے بنا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ چین سے نہیں بیٹھتا۔ اگر آج ہم اپنے ہی ملک میں سوگ کے عالم میں خوشیاں منائیں گے تو کل فلسطین، کشمیر یا کہیں اور کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ دنیا ہمیں اسی لیے سنجیدہ نہیں لیتی کہ اسے معلوم ہے، یہاں ظلم ہو بھی جائے تو لوگ تفریح میں مصروف رہیں گے—پتنگ اُڑتی رہے گی، میچ چلتا رہے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ تحریر تفریح کی مخالفت نہیں۔ کرکٹ دیکھنا، پی ایس ایل انجوائے کرنا، ثقافتی سرگرمیاں سب اپنی جگہ۔ مگر سوال وقت کا ہے، ترجیح کا ہے۔ جب گھر میں فوتگی ہو تو ڈھول نہیں بجائے جاتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض افراد کا ہجوم ۔ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو چھتوں پر کھڑے ہو کر “بو کاٹا” سن رہے ہیں، وہ کل کیا سیکھیں گے؟ اگر خدانخواستہ ان کے اپنے کسی عزیز کے ساتھ ایسا سانحہ ہو جائے، تو کیا وہ بھی یہی چاہیں گے کہ باقی لوگ اپنی مصروفیات میں مگن رہیں؟ حکمران عوام کے آئینے ہوتے ہیں۔ اکثریت جیت جاتی ہے، فیصلہ وہیں ہوتا ہے۔ اگر آج پاکستانی اجتماعی طور پر یکجہتی دکھائیں، تو کسی کی جرات نہیں کہ قومی سوگ کو نظرانداز کرے۔ ہمیں دو قومی رویّوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اسلام کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنانا ہوگا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیں، اپنی خوشی مؤخر کر دیں، اور جہاں ممکن ہو عملی مدد کریں۔ شاید یہی چھوٹے قدم ہمیں ایک بڑی قوم بننے کی طرف لے جائیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا: تھوڑا نہیں، مکمل غور کیجیے۔ تجربہ شرط ہے

    دو قومی رویّے
  • مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی 2024

    مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی 2024

    مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی 2024

    اٹک ( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)جمعیت علماء پاکستان، انجمن نوجوانان اسلام اور ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک کے زیر اہتمام زیارت پارک سے میلاد چوک المعروف فوارہ چوک اٹک شہر تک مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی زیر نگرانی نگران اعلیٰ ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی (رجسٹرڈ) اٹک حاجی محمد الیاس،نائب نگران اعلیٰ راشد الرحمان خان،صدر حاجی محمد الماس،جنرل سیکرٹری ندیم رضا خان،سنیئر نائب صدر ڈاکٹر عرفان احمد قادری،سجادہ نشین دریائے رحمت شریف صاحبزادہ حافظ وحید احمد،حاحبزادہ نسیم احمد،صاحبزادہ سید ثناء اللہ شاہ گیلانی ۔ صاحبزادہ سید عظمت علی شاہ گیلانی آف ڈھیر شریف،صاحبزادہ قاری اکرام خان علوی،ڈسٹرکٹ خطیب علامہ غلام محمد صدیقی،علامہ محمد یوسف حقانی،ضلعی صدر جے یو پی مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی،علامہ نثار احمد چشتی، صاحبزادہ مفتی محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ ناظم اعلیٰ جامعہ حقانیہ، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی، سابق امید واران قومی وصوبائی اسمبلی ڈاکٹر ضیاء الرحمان نورانی، محمد عارف بھٹی، ملک رجب علی حقانی صدر انجمن نوجوانان الفلاح، ڈاکٹر محمد یاسر اعوان،سید اقبال حسین وارثی،عبد القیوم بٹ،ملک مجاہد ایڈووکیٹ،سردار جازو خان آف تھٹہ،شہزاد انجم بٹ۔ حاجی محمد اکمل۔ ،شہزاد احمد چشتی،صبغت اللہ بابر،سید ظہیر شاہ،محمدعارف،خالد محمود اعوان،صدر مرکزی میلاد کمیٹی رجسٹرڈ شکردرہ محمد ارشد حسن،طارق محمود،محمد احتشام،ضلعی صدر سنی تحریک اٹک علامہ ارشد القادری،صدر یوتھ سیرت کمیٹی اٹک حافظ نصرت علی خان نکالی گئی۔

    مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی 2024

    ریلی کچہری چوک،کمیٹی چوک،پلیڈر لین،مدنی چوک،منصب چوک،برق روڈ،گیدڑ چوک،ستار چوک،سول بازار اوراپنے مقررہ راستو ں سے ہوتی ہوئی میلاد چوک المعروف فوارہ چوک میں پہنچی تو وہاں اور افتتاح کے موقع پر زیارت پارک کے قریب علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جشن عیدمیلاد النبیؐ میں صرف جھنڈیاں،چراغاں اور سجاوٹ نہیں بلکہ نماز باجماعت کی پابندی اور برائیوں سے اپنی نوجوان نسل کو روکنے کیلئے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہی عشق رسول ؐ کا حق ادا کیا جا سکتا ہے،مقررین نے ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک کی جانب سے کامیابی ریلی پر عہدیداران کو مبارکباد پیش کی،ریلی میلاد چوک المعروف فوارہ چوک میں اختتام پذیرہوگی،جہاں شرکاء میں مٹھائی تقسیم کی گئی ہے۔

  • گوہر نایاب

    ( مرحوم سید رفیق بخاری کی برسی کے موقع پر نذرانہء عقیدت )

    ( الآخ المعظم و الاستاذی المکرم

    مرحوم و مغفور الحاج پروفیسر

    سید محمد رفیق احمد شاہ بخاری رحمة اللہ تعالی ( ریٹائرڈ پرنسپل )

    کی برسی کے موقع پر ، ان کے فرزند ارجمند معروف دانشور ، شاعر ، لکھاری اور آن لائن میگزین اٹک کے بانی  جناب سیّد جہانگیر علی شاہ المعروف آغا بخاری کی فرمائیش پر ، یہ چند سطور بطور ہدیہ ، اس عظیم ہستی کے نام کرتا ہوں ، کہ جن کی تربیت نے مجھے اٹھنا ، بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، لکھنا پڑھنا اور بولنا سکھایا )

    ہدیہ تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    الحاج سیّد رفیق بخاری مرحوم کا جنم ، سال 1938 میں ہمارے آبائی گاؤں موضع اڑتک پور کامرہ کلاں ، تحصیل و ضلع اٹک ، متحدہ ہندوستان میں اس وقت ہوا جب برٹش راج اپنے اختتامی سفر کی تیاری کررہا تھا لیکن اس وقت تک قرار داد پاکستان منظور نہیں ہوئی تھی ۔  ہندو ، مسلم اور سکھ باہم شیر و شکر مختلف شہری اور دیہی آبادیوں میں پرامن پڑوسیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔ ہمارے گاؤں میں بھی زمانہ قدیم سے چند ہندو خاندان آباد تھے جن کا ذکر میرے بھائی مجھ سے اکثر کیا کرتے تھے ۔ ہماری جامع مسجد ( سادات ) کے قریب ہی ہندو مندر تھا جسے ہمارے لوگ "دھرم سال ” کہ کر پکارتے تھے ۔ پڑی ( قریبی پہاڑی ) کے کالے پتھروں سے بنی یہ سادہ سی عمارت ہمارے بچپن تک قائم رہی ۔ اور اس کے صدر دروازے پر لگا تالا مجھے ابھی تک یاد ہے ۔ اب اس جگہ ہمارے گاؤں کی ایک شخصیت کا ڈیرہ وجود میں آچکا ہے

    ہندووں اور ہندو مندر کا ذکر اس لئے کیا ، تاکہ قارئین  1938 کے زمانے ( قبل از تقسیم ہند ) کا معاشرتی منظر دیکھ سکیں ۔ میرے نزدیک کسی بھی شخصیت کے کردار اور سوچ و فکر کو سمجھنے کے لئے اس ماحول کو سمجھنا اولین شرط ہے کہ جس میں اس کا جنم ہوا  اور جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا ۔

    گاؤں میں صرف لڑکوں کے لئے ایک اسکول تھا جہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی اس لئے اسے مڈل اسکول کامرہ کہا جاتا تھا ۔ میرے بھائی جان نے اسی اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاذ کیا اور جب وہ میٹرک کرچکے تو مزید تعلیم کے لئے ہمیں کیمبل پور شہر منتقل ہونا پڑا ۔

    یہ 1954 کی بات ہے جب ہم اس اجڑے ہوئے دیار میں وارد ہوئے ۔ اجڑے کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی فقط ساڑھے پانچ یا چھ برس گزرے تھے لھذا ہندوں کے ہجرت کرجانے کی وجہ سے شہر کی آبادی بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ، منتشر اور غیر منظم شکل میں تھی ۔

    پرانے شہر میں اگرچہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان ، ہندوں کے چھوڑے گھروں میں مقیم ہوچکے تھے لیکن ہر وارڈ اور ہر گلی کے بعض گھروں اور مندروں کے دروازوں پر تالے پڑے تھے ۔ چھوئی روڈ کے جنوب اور جنوب مغرب کی آبادی ادھر ادھر بکھری بکھری نظر آتی تھی ۔ دو گھر ادھر تو چار ادھر اور بیچ میں زرعی زمینیں ۔ بعض عمارتیں نامکمل اور ادھوری بھی رہ گئی تھیں کیونکہ ان کے مالکان کو تقسیم ہند کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے جانا پڑا۔ 

    قصہ کوتاہ ، ہم نے گاؤں سے نکل کر اس پرامن اور خاموش شہر سے نئی زندگی کا سفر شروع کیا ۔ بھائی جان جناب رفیق بخاریؒ کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ دلا دیا گیا ۔ میری عمر اس وقت تقریبا 6 سال تھی لھذا مجھے ایم بی پرائمری اسکول نمبر 2 ( جسے مارکیٹ اسکول بھی کہتے تھے ) سے تعلیم شروع کرنے کا موقع ملا ۔

    جناب سید رفیق بخاریؒ مرحوم جب بی اے کرچکے تو بطور انگلش ٹیچر ان کی تعیناتی ڈی سی ہائی اسکول چھب علاقہ نرڑہ میں ہوگئی ۔ وہیں دوران تدریس انہوں نے ٹیچر ٹریننگ کالج بہاولپور سے بی ایڈ کی سند حاصل کی اور 1964 میں چھب کو خیر باد کہ کر گورنمنٹ ہائی اسکول ڈاک اسماعیل خیل تحصیل نوشہرہ صوبہ سرحد میں مستقل بنیادوں پر انگلش ٹیچر تعینات ہوگئے ۔

    کم و بیش ایک سال وہاں رہنے کے بعد ان کا تبادلہ گورنمٹ ہائی اسکول پبی ہوگیا ۔ بھائی جان کو میری تعلیم و تربیت کی اسقدر فکر تھی کہ چھب ، ڈاک اسماعیل خیل اور پبی میں تعیناتی کے دوران مجھے اپنے ساتھ رکھا اور اس طرح میں نے 1966 میں پبی ہائی اسکول سے میٹرک کی سند حاصل کرلی ۔

    1966 کے بعد میں گورنمٹ کالج کیمبل پور آگیا اور بھائی جان نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ باالآخر ترقی کرتے کرتے پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئے ۔

    رفیق بخاریؒ پیدائیشی طور پر اعلی شرافت کا نمونہ تھے ۔ صرف شرافت اور اعلی اخلاق ہی نہیں بلکہ دینداری اور تقوے میں بھی اعلی مقام پر فائز تھے ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا انہیں ہمیشہ پابند صوم صلواة اور نیک ترین لوگوں میں سے پایا ۔

    کالج کے زمانے سے ان کی صحبت شاعروں ، ادیبوں ، علماء اور اور فضلاء کے ساتھ رہی ۔ گورنمنٹ کالج کے سابق لائیبریرین مرحوم غلام محمد نذر صابری ، ڈاکٹر غلام جیلانی برق ، حکیم تائب رضوی ، جامع حنفیہ سولبازار کے بانی خطیب قاضی انوارالحق مرحوم اور اسی اعلی درجے پر فائز اہل علم سے ان کی دوستی اور تعلق قائم رہا ۔

    آپ بسلسلہء ملازمت جہاں بھی مقیم رہے ہر خورد و کلاں ان کی نیک سیرت اور اعلی اخلاق کا گرویدہ دکھائی دیا ۔ اپنے ہوں یا پرائے ، دوست احباب ہوں یا ان کے شاگرد سب کے سب ان کے اعلی کردار کے ہمیشہ قائل اور ثناء خواں رہے ۔

    آپ کو علم و ادب سے ہمیشہ گہرا شغف رہا ۔ مجلس نوادرات علمیہ اٹک اور محفل شعر و ادب کے پلیٹ فارم سے انہوں نے علمی و ادبی خدمات انجام دیں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہل شہر کی سماجی ، علمی ، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ ان کے اعلی کردار کی بناء پر اہل علاقہ نے انہیں چیئرمین زکواة کمیٹی مقرر کردیا اور ایک عرصے تک یہ خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔

    ان کی برسی کے موقعے پر یہ چند الفاظ میری طرف سے بطور نذرانہء عقیدت ان کی خدمت میں پیش ہیں ۔ یہ بات میں نہیں کہ رہا بلکہ ان کی وفات پر جب سوگوار ہم اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آتے تو ہر ایک کی زبان سے یہی جملہ ادا ہوتا   ،

    شاہ جی تو ولی اللہ تھے ۔ دعاء ہے اللہ کریم میرے مشفق بھائی کے درجات اور بلند کرے اور ہم سب کو اس گوہر نایاب کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء ہو ۔ آمین ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین