Tag: ماں

  • اجنبی کا بیٹا

    اجنبی کا بیٹا

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار 


    دسمبر کی اس رات پیر چناسی کے پہاڑوں پر برف خاموشی سے اتری تھی۔
    یوں جیسے کسی نے آسمان کے سفید بالوں کو آہستہ آہستہ زمین پر بکھیر دیا ہو۔
    نہ کوئی شور، نہ کوئی ہنگامہ بس سفیدی،ٹھنڈک اور ایک ایسا سکوت جو آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
    مظفرآباد کی وادی اس برفانی چادر کے نیچے یوں دبکی ہوئی تھی جیسے کوئی تھکا ہوا بچہ ماں کی گود میں سر چھپا لے۔ دھند فضا میں اس طرح معلق تھی جیسے وقت نے سانس روک رکھی ہو۔ دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھڑے دیودار ایسے لگتے تھے جیسے صدیوں کے گواہ ہوں۔جو خاموش رہ کر بھی کئی نسلوں کی داستان سنا رہے تھے۔
    اسی خاموشی کے سینے میں شہر کے بیچوں بیچ ایک تنور دہک رہا تھا۔
    تنور کے کنارے ایک ننھا وجود بیٹھا تھا۔
    عبدالمنان اپنی عمر سے کہیں زیادہ تھکا ہوا لگتا تھا۔ گھٹنوں کو سینے سے لگائے بازوؤں میں خود کو جکڑے جیسے اگر ڈھیلا پڑ گیا تو بکھر جائے گا۔ تنور کی آنچ اس کے چہرے پر مدھم سی سرخی پیدا کر رہی تھی مگر اس کے ہاتھ اب بھی سرد تھے۔یہ صرف موسم کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب وہ خوف بھی تھا جو اس کی ہڈیوں میں اتر چکا تھا۔
    سردی صرف جسم میں نہیں ہوتی بعض اوقات یادیں بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔
    عبدالمنان کی یادیں بھی ایسی ہی تھیں دھندلی اور چبھتی ہوئی۔
    گاؤں…
    ایک کچا صحن…
    ماں کا خاموش چہرہ…
    بہن کی نظریں جو سوال پوچھتی تھیں مگر زبان خاموش رہتی تھی…
    اور رشتے دار۔جن کے لہجوں میں مٹھاس کم اور لالچ زیادہ تھا۔
    وہ لفظ “جائیداد” کا مطلب نہیں جانتا تھا مگر یہ ضرور جانتا تھا کہ اس لفظ کے بعد آوازیں اونچی ہو جاتی ہیں، دروازے زور سے بند ہوتے ہیں اور ماں رات کو دیر تک جاگتی رہتی ہے۔

    اجنبی کا بیٹا


    اس کے قریبی رشتے دار جو عبدالمنان کے والد کی وفات کے بعد اس کی زمین ہتھیانے کے درپے تھے۔ وہ موقعے کی تلاش میں تھے کہ کب عبدالمنان جو جائیداد کا وارث تھا اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیں۔عبدالمنان کی والدہ اور چھوٹی بہن رشتے داروں کی وجہ سے پریشان اور خوف زدہ تھی۔ اس روز جب عبدالمنان کو جان بچا کر گھر سے بھاگنے کا موقع ملا تو وہ چپکے سے نکل آیا تھا۔
    نہ کوئی تھیلا نہ کوئی منصوبہ۔
    بس ایک انجانا سا یقین کہ شاید کہیں کوئی ایسی جگہ ہو جہاں چیخنے کی ضرورت نہ پڑے۔
    وہ چلتا رہا۔
    کبھی سڑک کے کنارے،
    کبھی درختوں کے سائے میں،
    کبھی کسی مسجد کے صحن میں۔
    بچوں کا دکھ عجیب ہوتا ہے۔وہ روتے کم ہیں ٹھٹک زیادہ جاتے ہیں۔
    جیسے تیسے کسی گاڑی میں چھپتے چھپاتے وہ مظفرآباد کی سرزمن میں آن پہنچا۔
    ایک مشکل اور کٹھن مسافت طے کرنے کے بعد وہ سلطان مظفر خان کے آباد کردہ شہر میں پہنچا تو رات کا پچھلا پہر تھا۔ درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے خاصا نیچے تھا۔ یہاں پہنچ کر اس نے ایک تنور کو دیکھا تو رک گیا۔ گو کہ تنور بند تھا لیکن رات کو اس میں چوں کہ آگ جلتی رہی اس وجہ سے تپش باقی تھی۔ آگ جو قدیم زمانے سے انسان کی پہلی پناہ رہی ہے۔
    اس نے لرزتے ہاتھ اٹھائے۔
    ہونٹ ہلے مگر آواز شاید صرف آسمان نے سنی۔
    “اے اللہ…
    میں بہت چھوٹا ہوں…
    مجھے کوئی بڑا دے دے…”
    یہ دعا نہیں تھی التجا تھی۔
    فجر کی اذان کے ساتھ ہی نانبائی آیا۔
    تنور کے پاس سائے کی جنبش دیکھی تو ٹھٹھک گیا۔
    “یا اللہ… یہ کون ہے؟”
    عبدالمنان نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں خوف تھا مگر بھاگنے کی سکت نہیں۔
    نانبائی نے بغیر کچھ پوچھے اپنی شال اتار کر اس کے گرد لپیٹ دی۔
    یہ پہلا لمس تھا جس میں سوال نہیں تھا۔
    نانبائی جانتا تھا اس محلے میں ایک شخص ایسا ہے جس کا دروازا بند نہیں رہتا چاہے رات کتنی ہی تاریک اور سرد کیوں نہ ہو۔
    وہ تھے گل زمان قریشی جو قریشی صاحب کے نام سے جانے جاتے تھے۔
    فوجی قامت، سفید مونچھیں، چہرے پر بشاشت اور آنکھوں میں ضبط کی تہیں۔
    برطانوی فوج میں برسوں گزارنے کے بعد پولیس میں آئے تھے۔
    قانون ان کے ہاتھ میں تھامگر رحم ان کے دل میں۔
    جب انھوں نے بچے کو دیکھا تو وردی پیچھے رہ گئی۔
    وہ جھکے،
    عبدالمنان کی آنکھوں کے سامنے آئے
    اور نرم آواز میں ہوں گویا ہوئے:
    “بیٹا… ڈرو نہیں۔
    تم اکیلے نہیں ہو۔”
    اور اسی لمحے
    ایک اجنبی
    بیٹا بننے لگا۔
    قریشی صاحب کا گھر شہر کے قریب اس گاؤں میں واقع تھا جہاں صبحیں اذان سے اور شامیں چراغوں سے پہچانی جاتی تھیں۔ یہ کوئی بہت بڑا گھر نہیں تھا مگر اس کی دیواروں میں ایک ٹھہراؤ تھاجیسے برسوں سے اس گھر نے شور نہیں صرف زندگی سنی ہو۔ صحن میں ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا جس کی شاخیں دیوار سے باہر جھانکتی تھیں۔ بوڑھے شہتوت کی ان شاخوں پر موسم کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہنسی بھی اگتی رہتی تھی۔
    جب عبدالمنان اس گھر کی دہلیز پر کھڑا ہوا تو اس کے قدم ٹھٹھک گئے۔ دہلیز صرف اینٹوں یا پتھروں کا ٹکڑا نہیں ہوتی یہ دو دنیاؤں کے بیچ ایک لمحہ ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ دنیا جسے آدمی جانتا ہے دوسری وہ جس سے ڈرتا ہے۔
    قریشی صاحب نے اس کی ہچکچاہٹ محسوس کی۔
    آگے بڑھے آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    “آؤ بیٹا… گھر میں قدم رکھتے ہوئے ڈرا نہیں کرتے۔”
    یہ جملہ نہیں تھا اجازت نامہ تھا۔
    بیگم قریشی اندر ہی تھیں۔ چولھے پر ہانڈی چڑھی تھی ہاتھ آٹے سے اٹے ہوئے تھے۔ دروازے پر قدموں کی آہٹ سنی تو پلٹیں۔ نظر پہلے شوہر پر پڑی پھر اس ننھے وجود پر۔
    ایک لمحے کو وہ رک گئیں۔
    ماں ہونا بعض اوقات ایک نظر میں جاگ جاتا ہے۔
    عبدالمنان نے ان کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی پرانا سوال ۔کیا مجھے یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا؟
    بیگم قریشی نے بغیر کچھ پوچھے اپنے ہاتھ دھوئے آگے بڑھیں اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
    “یا اللہ… یہ تو بچہ ہے…”
    عبدالمنان کے لیے یہ لمس تنور کی آگ سے بھی زیادہ گرم تھا۔ اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے مگر وہ رویا نہیں۔ شاید اسے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھ سکتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی شرط کے۔
    گھر میں قریشی صاحب کے تین لڑکے پہلے ہی موجود تھے۔ عمر میں اس سے بڑے، شوخ، بے فکر۔ انھوں نے پہلے اسے اجنبی نظروں سے دیکھا۔ان بچکانہ نظروں سے جن میں سوال بھی ہوتا ہے اور تجسس بھی۔ مگر چند ہی دنوں میں وہ اجنبیت گھلنے لگی۔
    بچے اصول نہیں جانتے وہ دل سے قبول کرتے ہیں۔
    عبدالمنان شروع میں بہت کم بولتا۔ دسترخوان پر بھی نظریں جھکائے رکھتا جیسے پلیٹ بھی کسی کی امانت ہو۔ بیگم قریشی اسے بار بار کہتیں:
    “بیٹا! پیٹ بھر کے کھایا کرو۔ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔”
    وہ سر ہلا دیتا مگر دل ابھی یقین سیکھ رہا تھا۔
    رات کو جب سب سو جاتے وہ جاگتا رہتا۔ چھت کو تکتا اور سانسوں کو سنتا۔ اس گھر میں آوازیں مختلف تھیں۔دروازے زور سے بند نہیں ہوتے تھے کوئی چیختا نہیں تھا۔ خاموشی بھی یہاں نرم تھی۔
    قریشی صاحب اکثر رات کو اٹھ کر صحن میں ٹہلتے۔ ایک رات انھوں نے دیکھا کہ عبدالمنان جاگ رہا ہے۔ وہ پاس آ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔
    جی“نیند نہیں آ رہی؟”
    عبدالمنان نے ہلکی سی آواز میں کہا:
    “ڈر لگتا ہے کہ صبح ہو گی تو سب بدل جائے گا…”
    قریشی صاحب نے گہری سانس لی۔
    “بیٹا! جو چیز دل سے مل جائے وہ اک رات میں بدلتی نہیں۔
    تم یہاں اس گھر میں اب ہمارا حصہ ہو۔”
    یہ سن کر عبدالمنان کی آنکھوں سے آنسو بِہ نکلے۔ وہ پہلی بار کھل کر رویا بے آواز مگر مکمل۔
    دن گزرتے گئے۔
    عبدالمنان آہستہ آہستہ اس گھر کی رفتار سیکھنے لگا۔ صبح سب سے پہلے اٹھتا صحن میں پانی چھڑکتا، پھر بیگم قریشی کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ وہ اسے ٹوکتے ہوئے کہتیں:
    “بیٹا، تم مہمان ہو۔”
    وہ مسکرا کر جواب دیتا:
    “امی مہمان کام نہیں کرتے بیٹے کرتے ہیں۔”
    یہ لفظ “امی” بیگم قریشی کے دل میں اتر گیا۔ انھوں نے کبھی اسے بیٹوں سے جدا نہ جانا۔
    بھائیوں کے ساتھ اس کا رشتہ بھی آہستہ آہستہ بدلتا گیا۔ شروع میں وہ ان کی شرارتوں سے ڈرتاپھر ان میں شامل ہونے لگا۔ کبھی لکڑیاں کاٹ کر لانا، کبھی شہتوت کے درخت پر چڑھنا، کبھی استاذ سے بچنے کے بہانے۔ مگر عبدالمنان کی شرارتوں میں بھی ایک نرمی تھی۔وہ کسی کو دکھ نہیں دیتا تھا۔
    اسکول میں داخلہ ہوا تو استاذ اس کی خاموشی سے متأثر ہوئے۔ وہ سوال کم پوچھتا مگر جو پڑھتاسمجھ کر پڑھتا۔ کتابیں اس کے لیے صرف سبق نہیں تھیں راستا تھیں ان دنیاؤں کا جن میں وہ کبھی جا نہیں سکا تھا۔
    ایک دن استاذ نے قریشی صاحب سے کہا:
    “یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ اس کی آنکھوں میں سوال نہیں جستجو ہے۔”
    قریشی صاحب نے فخر سے سر ہلایا مگر کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتے تھے بعض نعمتوں پر بولنا نہیں چاہیے۔
    ایک شام عبدالمنان قریبی جنگل سے لکڑیاں لاتے ہوئے رک گیا۔ جھاڑیوں میں ہلچل تھی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک زخمی پرندہ پڑا تھا پروں میں خون اور آنکھوں میں خوف۔ اس نے احتیاط سے اسے اٹھایا جیسے کوئی آئینہ ہو جو ٹوٹ سکتا ہے۔
    گھر لا کر بیگم قریشی کے سامنے رکھا۔
    “امی… یہ بھی اکیلا ہے…”
    بیگم قریشی کی آنکھیں بھر آئیں۔
    “منان… تم نے اپنے دکھ کو دعا بنا لیا ہے۔”
    وہ جملہ پوری طرح عبدالمنان کی سمجھ میں نہ آیا مگر دل میں بیٹھ گیا۔
    قریشی صاحب اسے اکثر ساتھ بٹھاتے۔ قانون، دیانت، فرض یہ الفاظ وہ کہانیوں میں پرو دیتے۔
    “بیٹا! طاقت ہاتھ میں ہو تو امتحان بڑھ جاتا ہے۔اصل آدمی وہ ہے جو طاقت کے باوجود نرم رہے۔”
    عبدالمنان خاموشی سے سنتا۔ وہ جانتا تھا اس گھر میں لفظ صرف کہے نہیں جاتے جیے جاتے ہیں۔
    یوں وہ بچہ جو کبھی تنور کے کنارے لرزتا تھااب ایک گھر کے اندر کنبے کے بیچ بیٹھا تھا۔جہاں دروازے بند نہیں ہوتے تھےاور رشتے خون سے پہلے دل سے بنتے تھے۔
    یہی وہ بنیاد تھی
    جس پر اس کی پوری زندگی تعمیر ہونے والی تھی۔
    وقت جب بچپن سے آگے بڑھتا ہے تو آہستہ نہیں چلتا وہ جیسے دوڑنے لگتا ہے۔
    عبدالمنان کو خود خبر نہ ہوئی کہ کب اس کے ہاتھوں کی نرمی میں سختی آ گئی،کب آواز میں ٹھہراؤ اور کب آنکھوں میں وہ سنجیدگی اتر آئی جو صرف ذمہ داری کے لمس سے پیدا ہوتی ہے۔
    اب وہ لڑکا نہ رہا تھا جس کے قدم دہلیز پر لرزتے تھے۔
    اب وہ اس گھر کے صحن میں سیدھا کھڑا ہوتا تھا۔شہتوت کے درخت کے نیچےجہاں اس کی ہنسی بھی دفن تھی اور اس کی خاموشی بھی۔
    قریشی صاحب اکثر اسے غور سے دیکھتے۔
    کبھی اخبار سے نظریں اٹھا کر کبھی بغیر دیکھے ہی جیسے آدمی دل سے کسی کو پرکھ رہا ہو۔
    “منان…!”
    ایک دن انھوں نے پکارا،
    “اب تمھیں اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔”
    یہ جملہ اجازت بھی تھا اور امتحان بھی۔
    عبدالمنان نے تعلیم تو مکمل نہ کی تاہم زندگی جینے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔سبھی اس کی ذہانت کے قائل تھے مگر وہ کسی نوکری کے خواب نہیں دیکھتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ عزت رویّے سے جنم لیتی ہے۔ اس نے کاروبار کا ارادہ کیا چھوٹا، سادہ مگر اپنا۔
    قریشی صاحب نے پوچھا:
    “ڈر تو نہیں لگ رہا؟”
    عبدالمنان مسکرایا۔
    “ڈر تو لگتا ہے ابا جی…
    مگر آپ نے سکھایا ہے کہ ڈر کے ساتھ بھی سچ کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔”
    کاروبار کی ابتدا مشکل تھی۔
    پہلا نقصان خاموشی سے سہنا پڑا، دوسرا کسی اپنائیت کے دعوے میں آیااور تیسرا اس وقت جب اسے پہلی بار اندازہ ہوا کہ دنیا اس گھر جیسی نہیں ہوتی جس میں وہ پلا بڑھا تھا۔
    کسی نے ناپ تول میں کمی کا مشورہ دیا،کسی نے جھوٹ کو “کاروباری چالاکی” کہا،
    کسی نے کہا:
    “ایمان داری سے صرف دعائیں ملتی ہیں نفع نہیں۔”
    عبدالمنان نے سب سنا مگر دل کے قرطاس پر ایک ہی جملہ لکھا رہا:
    “میں قریشی صاحب کا بیٹا ہوں۔”
    یہ نسبت اس کے لیے نسب نامے سے زیادہ قیمتی تھی۔
    رفتہ رفتہ محلے میں اس کی پہچان بننے لگی۔
    لوگ کہتے:
    “منان کے ہاں دام کم سہی مگر نیت پوری ہوتی ہے۔”
    یہ جملہ اس کے لیے سرمائے سے بڑھ کر تھا۔
    قریشی صاحب کی صحت اب ناساز رہنے لگی تھی۔ اکثر کھانسی، کبھی سینے میں درد۔ عبدالمنان ان کے پاس بیٹھ کر خاموشی سے پانی پکڑا دیتا دوا دے دیتا۔ دونوں کے درمیان اب لفظ کم اور احساس زیادہ بولتے تھے۔
    ایک شام قریشی صاحب نے اسے پاس بٹھایا۔
    “منان…! بیٹا لوگ تمھیں میرا سایہ کہتے ہیں۔
    یاد رکھنا سایہ تب تک رہتا ہے جب تک درخت کھڑا ہو۔
    مجھے اطمینان ہے کہ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہو۔”
    عبدالمنان کا گلا بھر آیا۔
    “ابا جی… میں جو کچھ ہوں آپ کی وجہ سے ہوں۔”
    قریشی صاحب نے سر ہلایا۔
    “نہیں بیٹا…
    تم وہ ہو جو تم نے اپنے دل سے چُنا ہے۔
    ہم نے بس راستا دکھایا تھا۔”
    یہ ان کی آخری طویل گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔
    چند ہی مہینوں بعد قریشی صاحب کی بیماری نے شدت اختیار کر لی۔ گھر کا ماحول بدل گیا۔ بیگم قریشی کی آنکھوں میں خاموش فکر اتر آئی اور عبدالمنان کے کندھوں پر اچانک کئی ان دیکھے بوجھ آ گئے۔
    اس نے کاروبار بھی سنبھالا، گھر بھی اور سب سے بڑھ کرحوصلہ بھی۔
    قریشی صاحب کی وفات کے دن آسمان پر عجیب سی اداسی تھی۔ نہ بارش، نہ دھوپ بس ایک بھاری سا سکوت۔ جنازے میں وردی والے بھی تھے، عام لوگ بھی اور وہ سب بھی جن کی زندگی میں قریشی صاحب نے خاموشی سے راستا بنایا تھا۔
    عبدالمنان قبر کے کنارے کھڑا تھا۔
    آنکھوں میں آنسو تھے مگر پشت سیدھی تھی۔
    وہ جانتا تھا اب سایہ نہیں رہا،
    اب اسے خود درخت بننا تھا۔
    قریشی صاحب کے بعد کچھ لوگوں نے سرگوشیاں شروع کیں۔
    کسی نے کہا:
    “اصل وارث تو خون کے ہیں…”
    کسی نے کہا:
    “یہ تو بس پالا ہوا تھا…”
    عبدالمنان نے کچھ نہیں کہا۔
    وہ جانتا تھا
    جو رشتہ دل سے ہواسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    اسی دوران میں اس کے اصل گاؤں کا ذکر پہلی بار باقاعدہ آیا۔
    فارورڈ کہوٹہ۔
    سرحد کے قریب ایک علاقہ،
    جہاں اب بھی اس کے نام پر سرگوشیاں تھیں،
    جہاں اس کی ماں اور بہن کا سایہ شاید اب بھی کسی دیوار کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔
    یہ خبر اس کے دل میں ٹھہری نہیں وہاں کہیں
    ایک بند دروازاہلکا سا چرچرا دیا۔
    مگر اس نے اسے پوری طرح کھولنے سے پہلے رکنا سیکھ لیا تھا۔
    کیوں کہ اب وہ بچہ نہیں تھا۔
    اب وہ عبدالمنان تھا۔
    ایک ایسا شخص
    جس نے اجنبیت سے نسبت تک کا سفر طے کیا تھا۔
    اور ابھی
    زندگی کے کئی امتحان
    اس کے انتظار میں تھے۔
    کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو سنائی نہیں دیتیں مگر انسان کے اندر کہیں گونجتی رہتی ہیں۔
    عبدالمنان کے لیے وہ آواز اس کے ماضی کی تھی دبی ہوئی مگر زندہ۔
    قریشی صاحب کی وفات کے بعد جیسے وقت نے ایک پرانا دریچہ کھول دیا ہو جس کے پیچھے وہ سب کچھ رکھا تھا جسے اس نے برسوں دل کے کسی اندھیرے گوشے میں سلیقے سے بند کر رکھا تھا۔
    فارورڈ کہوٹہ۔
    یہ نام اس کے لیے محض ایک جغرافیہ نہیں تھا یہ ایک بکھرا ہوا منظر تھا۔مٹی کی مہک، کچے صحن، ماں کے خالی خالی ہاتھ، بہن کی جھکی ہوئی نظریں اور وہ رشتے دار جن کے لہجوں میں زہر اور لفظوں میں شکر گھلا ہوتا تھا۔
    خبر کسی غیر سے نہیں آئی تھی۔
    ایک پرانی جان پہچان گاؤں کا ہی ایک شخص شہر آیا تھا۔
    اسی نے ایک دن دکان پر آ کر آہستگی سے کہا:
    “منان… تمھاری ماں اب بھی زندہ ہے۔
    اور بہن… اس کی شادی کا سوال پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔”
    یہ جملہ نہیں تھا صدیوں پرانی رگ میں لگا ہوا کانٹا تھا۔
    عبدالمنان نے کچھ نہیں کہا۔
    وہ دیر تک تول میں لگے باٹوں کو دیکھتا رہا جیسے وہ اس خبر کا وزن کر رہا ہو۔
    پھر آہستہ سے بولا:
    “وہ لوگ… اب بھی ویسے ہی ہیں؟”
    آنے والے نے نظریں چرا لیں۔
    “جائیداد اب بھی ان کی آنکھوں میں ہے۔
    اور تمھارا نام… اب بھی کاغذوں میں لکھا ہے۔”
    اس رات عبدالمنان دیر تک سو نہ سکا۔
    بیگم قریشی جاگ رہی تھیں۔
    انھوں نے بیٹے کے چہرے پر وہی پرانی بے چینی دیکھ لی جو برسوں پہلے دہلیز پر کھڑی ہوئی آنکھوں میں تھی۔
    “منان…!”
    انھوں نے نرمی سے کہا۔
    “دل کہیں اٹکا ہوا لگتا ہے۔”
    عبدالمنان نے سر جھکا لیا۔
    “امی… شاید وقت آ گیا ہے کہ میں وہاں جا کر دیکھ آؤں۔”
    بیگم قریشی خاموش ہو گئیں۔
    ماں کا دل جانتا ہے کہ بعض سفر روکنے سے نہیں رکتے۔
    “جاؤ بیٹا…”
    انھوں نے کچھ توقف کے بعد کہا۔
    “مگر یاد رکھنا۔۔۔
    تمھاری واپسی کا راستا یہ گھر ہے۔”
    فارورڈ کہوٹہ کا سفر لمبا نہ تھا مگر عبدالمنان کے لیے یہ عمر بھر کا فاصلہ تھا۔
    جوں جوں گاڑی پہاڑی راستوں پر آگے بڑھتی ماضی قریب آتا جاتا۔
    درخت، موڑ، ندی سب جیسے پہچان رہے ہوں۔
    گاؤں میں قدم رکھتے ہی اسے احساس ہوا کہ کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتی۔
    وہی کھیت ، وہی کچی پگڈنڈیاں ،وہی مٹی کی بو، وہی نظریں کچھ حیران، کچھ لالچی، کچھ خالی۔
    اس کی ماں اب بوڑھی ہو چکی تھی۔
    کمر جھک گئی تھی مگر آنکھوں میں وہی انتظار تھا جو برسوں پہلے چھوڑتے وقت تھا۔
    عبدالمنان کو دیکھتے ہی وہ ٹھٹک گئیں۔
    “منان…؟”
    یہ ایک نام نہیں تھا ایک عمر تھی جو لرزتی ہوئی زبان سے ادا ہوئی۔
    عبدالمنان نے آگے بڑھ کر ان کے پاؤں پکڑ لیے۔
    وہ دیر تک روتی رہیں۔
    کوئی شکوہ نہیں کوئی سوال نہیں بس آنسو جو برسوں سے امانت میں رکھے گئے تھے۔
    بہن ایک کونے میں کھڑی تھی۔
    چہرے پر وقت کی سختی مگر آنکھوں میں وہی بچپن کی پہچان۔
    وہ کچھ نہ بولی جونہی عبدالمنان نے اس کی طرف دیکھا تو نظریں جھک گئیں۔
    گاؤں کے لوگ آنا شروع ہو گئے۔
    کوئی ہم دردی کے بہانے، کوئی تجسس میں اور کوئی ناپ تول کے لیے۔
    چند ہی دنوں میں اصل بات سامنے آ گئی۔
    “جائیداد تمھارے نام ہے، منان۔
    مگر تم تو شہر میں رہتے ہو۔
    ہم سنبھال لیں گے… بس کاغذ درست ہو جائے۔”
    یہ جملے نئے نہیں تھے۔
    بس بولنے والے بدل گئے تھے۔
    عبدالمنان نے سب کو سنا۔
    خاموشی سے تحمل سے۔
    ایک رات ماں نے آہستہ سے کہا:
    “بیٹا… میں نہیں چاہتی کہ تم پھر کسی مصیبت میں پڑو۔
    جو دل کرے وہی کرنا۔”
    عبدالمنان دیر تک باہر صحن میں بیٹھا رہا۔
    اوپر آسمان ویسا ہی تھا جیسا مظفرآباد میں تھا مگر یہاں ستارے زیادہ بے رحم لگتے تھے۔
    اسے قریشی صاحب یاد آئے۔
    ان کا لہجہ، ان کی نصیحتیں، ان کا ضبط۔
    “طاقت ہاتھ میں ہو تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے…”
    اگلے دن عبدالمنان نے سب کو جمع کیا۔
    وہی رشتے دار، وہی نظریں۔
    اس نے سکون سے کہا:
    “یہ زمین میرے نام ہے ہاں۔
    مگر میں اسے اپنے لیے نہیں رکھوں گا۔
    یہ ماں کے نام ہو گی
    اور بہن کے مستقبل کے لیے وقف۔”
    ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
    کسی نے کہا:
    “تم پاگل ہو گئے ہو؟”
    عبدالمنان نے پہلی بار سختی سے جواب دیا:
    “میں قریشی صاحب کا بیٹا ہوں۔
    اور انھوں نے مجھے یہ نہیں سکھایا کہ حق کو ہتھیار بنایا جائے۔”
    کاغذات تیار ہوئے۔
    دست خط ہوئے۔
    لالچ کے چہرے مرجھا گئے۔
    ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
    “بیٹا… تم نے مجھے آزاد کر دیا۔”
    عبدالمنان نے مسکرا کر کہا:
    “امی… میں تو خود بہت پہلے آزاد ہو چکا تھا۔”
    جب وہ واپس مظفرآباد پہنچا تو دل ہلکا تھا۔
    جیسے کسی نے اندر سے ایک بوجھ اتار دیا ہو۔
    بیگم قریشی نے دروازا کھولا۔
    ایک نظر میں سب سمجھ گئیں۔
    “آ گئے میرے بیٹے؟”
    عبدالمنان نے دہلیز پار کی۔
    “جی امی…
    گھر واپس آ گیا ہوں۔”
    اور یہی واپسی
    اس کے وجود کی اصل فتح تھی۔
    زندگی جب جوانی کی دہلیز پار کر لیتی ہے تو اس کی رفتار بدل جاتی ہے۔
    وہ تیز نہیں گہری ہو جاتی ہے۔
    عبدالمنان کی زندگی بھی اب اسی گہرائی میں اتر چکی تھی جہاں دنوں کی گنتی کم اور معانی زیادہ ہوا کرتے ہیں۔
    مظفرآباد کے لوگ اب اسے صرف عبدالمنان نہیں کہتے تھے۔
    وہ “چاچا منان” بن چکا تھا۔
    یہ لقب کسی سرکاری کاغذ پر درج نہ تھا مگر دلوں میں لکھا جا چکا تھا۔
    محلے میں کوئی جھگڑا ہو، کوئی فیصلہ درکار ہو یا کسی خاموش ضرورت کو زبان ملنی ہو لوگ بے اختیار اسی کے دروازے پر آ جاتے۔
    وہ نہ عالم تھا، نہ خطیب، نہ کسی منصب پر فائز۔
    مگر اس کی بات میں وہ وزن تھا جو صرف سچائی سے پیدا ہوتا ہے۔
    قریشی صاحب کے بعد گھر کی فضا بدل گئی تھی تاہم بکھری نہیں تھی۔
    بیگم قریشی اب زیادہ خاموش رہنے لگیں ان کی خاموشی میں سکون تھا جیسے انھیں یقین ہو کہ جو چراغ انھوں نے جلایا تھاوہ بجھے گا نہیں۔
    عبدالمنان ان کا خاص خیال رکھتا۔
    دواؤں سے لے کر موسم تک،
    خاموشی سے، بغیر جتائے۔ تین معاشی طور پر مستحکم بیٹوں کی موجودگی میں بھی منان بیگم قریشی کا مکمل خیال رکھتا۔
    وہ اکثر صحن میں بیٹھ کر شہتوت کے بوڑھے درخت کو دیکھتا۔
    یہ درخت اب بھی وہیں تھا وقت کا گواہ اور
    نسلوں کا ہم راز۔
    ایک دن بیگم قریشی نے آہستہ سے کہا:
    “منان…!
    تم نے اپنی زندگی خود کے لیے کیوں نہیں بنائی؟”
    عبدالمنان مسکرایا۔
    یہ سوال نیا نہیں تھا البتہ جواب ہر بار تازہ ہوتا تھا۔
    “امی…
    کچھ لوگوں کی زندگی خود بن جاتی ہے
    کچھ لوگوں کی زندگی دوسروں کے کام آتی ہے۔
    اللہ نے مجھے دوسرا راستا دیا۔”
    بیگم قریشی کی آنکھیں بھر آئیں۔
    انھوں نے کچھ نہ کہا بس دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
    وقت گزرتا رہا۔
    بھائیوں کے بچے بڑے ہونے لگے۔
    کوئی اسکول جاتا تو کوئی کالج۔
    عبدالمنان سب کے لیے یکساں تھا۔
    نہ لاڈ، نہ سختی،
    بس انصاف۔
    وہ رات کو دیر تک جاگتا
    کبھی حساب کتاب میں
    کبھی سوچوں میں۔
    اب اس کے دل میں کوئی خلا نہیں تھا۔
    تنہائی تھی مگر خالی پن نہیں۔
    ایک دن اس کی طبیعت کچھ بوجھل ہونے لگی۔
    شروع میں اس نے نظرانداز کیا۔
    عادت تھی اپنی تکلیف کو ثانوی سمجھنے کی۔
    مگر جسم نے آخر کار زبان پا لی۔
    ڈاکٹر نے خاموشی سے رپورٹ بند کی اور آہستہ سے کہا:
    “اب زیادہ وقت نہیں لینا چاہیے منان صاحب۔”
    عبدالمنان نے سر ہلایا۔
    نہ سوال نہ خوف۔
    “کتنا؟”
    “شاید چند مہینے…”
    عبدالمنان نے باہر آسمان کی طرف دیکھا۔
    وہی آسمان۔
    وہی وسعت۔
    “کافی ہیں،”
    اس نے بس اتنا کہا۔
    اس کے بعد اس کی زندگی میں کوئی گھبراہٹ نہیں آئی۔
    بس ایک ترتیب آ گئی۔
    اس نے آہستہ آہستہ اپنے معاملات سمیٹنے شروع کیے۔
    کسی کو خبر نہ ہونے دی۔
    خدمت میں کمی نہ آنے دی۔
    ایک دن اس نے قریشی صاحب کے پوتے کو پاس بلایا۔
    جو اب جوان ہو چکا تھا اور انجینئرنگ کے پیشے سے وابستہ تھا۔
    اس کی آنکھوں میں وہی سچائی تھی جو اس گھر کی پہچان تھی۔
    عبدالمنان نے زمین کے کاغذات اس کے سامنے رکھے۔
    “یہ زمین۔۔۔اباجان یعنی
    تمھارے دادا نے مجھے دی تھی۔
    میں نے اسے ہمیشہ امانت سمجھا۔
    اب وقت آ گیا ہے کہ امانت لوٹا دی جائے۔”
    پوتے کی آنکھیں بھر آئیں۔
    اس نے کاغذات ایک طرف رکھ دیے
    اور عبدالمنان کا ہاتھ تھام لیا۔
    “چاچا…
    یہ زمین ہمارے دادا نے غیر کو نہیں بیٹے کو دی تھی۔
    اور بیٹے کا حق بیٹے کے پاس ہی رہتا ہے۔”
    یہ سن کر عبدالمنان کی آنکھوں سے آنسو بِہ نکلے۔
    یہ آنسو دکھ کے نہیں تھے
    قبولیت کے تھے۔
    اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔
    ماضی اس کے سامنے تھا
    تنور کی آگ،
    برف کی رات،
    ایک شال،
    ایک ہاتھ جو سر پر رکھا گیا تھا۔
    صبح فجر کے وقت اس نے بیگم قریشی کو دیکھا۔
    وہ جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔
    انھوں نے پلٹ کر دیکھا۔
    “منان…!”
    وہ آہستہ سے بولا:
    “امی…
    اگر آج میں نہ اٹھ سکوں
    تو رویے گا نہیں۔
    میں بہت بھرپور زندگی جی چکا ہوں۔”
    بیگم قریشی نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
    “تم نے ہمیں سرخرو کر دیا ہے بیٹا…”
    اسی دن دوپہر کے قریب عبدالمنان کی سانسیں آہستہ آہستہ مدھم ہو گئیں۔
    کمرے میں کوئی شور نہ تھا،
    کوئی چیخ نہ تھی۔
    بس سکون تھا۔
    ایسا سکون جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے
    جو زندگی سے لڑ کر نہیں
    زندگی کو تھام کر رخصت ہوتے ہیں۔
    اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا
    جو برسوں پہلے پہلی بار اس گھر میں قدم رکھتے وقت ملا تھا۔
    نمازِ جنازہ میں لوگ دور دور سے آئے۔
    کوئی رشتے سے،
    کوئی تجربے سے،
    کوئی محض اس لیے کہ
    اس شخص نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا تھا۔
    کسی نے کہا:
    “وہ اجنبی تھا…”
    دوسرا بولا:
    “نہیں وہ ہم سب کا تھا…”
    اور شاید یہی سچ تھا۔
    کیوں کہ بعض لوگ خون سے نہیں
    کردار سے
    بیٹے بن جاتے ہیں۔
    اور وقت کے ان صفحات پر
    جہاں جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا دشمن ہو جاتا ہے
    وہاں عبدالمنان جیسے لوگ
    خاموشی سے یہ لکھ جاتے ہیں:
    کہ رشتے نسب سے نہیں
    نیت سے بنتے ہیں۔

    Title Image by BehindTheScence from Pixabay

  • الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا

    27 دسمبر 2025ء کی ایک خوش گوار شام تھی۔ پلندری کے الاشرف ہوٹل(المعروف پاک ٹی ہاؤس) میں اپنے احبابِ دل نواز جناب آصف اسحاق اور جناب عابد حسین کے ہم راہ بیٹھا گفتگو کے دھیمے دھارے میں بہِ رہا تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب برادرِمکرم جناب فاروق اعوان تھے منیجنگ ڈائریکٹر الحبیب سائنس کالج)۔نہایت محبت بھرے مگر پُرعزم لہجے میں انھوں نے مطلع کیا کہ الحبیب سائنس کالج میں ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا موضوع “ماں کی شان” ہے۔اس مقابلے میں آپ کو بہ طور منصف اپنی خدمات انجام دینے کی دعوت دی جا رہی ہے۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    فاروق صاحب کی بات سنتے ہی میں نے بلا تامل حامی بھر لی، اس لیے کہ ایسے خلوص بھرے تقاضے کے سامنے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ تقریب 5 جنوری 2026ء کو منعقد ہونا طے پائی اور میرے ساتھ منصبِ منصفی کے لیے جناب پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اسی دوران میں فاروق صاحب نے نہایت محبت سے یہ خصوصی ہدایت بھی فرمائی کہ میں تنہا نہ آؤں بلکہ اپنی والدہ ماجدہ کو بھی ہم راہ لاؤں کہ ماں کی شان کی محفل میں ماں کی موجودگی خود سب سے بڑی برکت ہوتی ہے۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    4 جنوری کو ایک بار پھر ان کی کال موصول ہوئی جس میں انھوں نے یاددہانی کروائی کہ اگلے روز ساڑھے دس بجے تقریب کا آغاز ہوگا۔ چناں چہ سوموار کی صبح ناشتے سے فارغ ہو کر میں عین مقررہ وقت پر اپنی والدہ محترمہ کے ہم راہ الحبیب سائنس کالج، طارق آباد، مظفرآباد پہنچ گیا۔ ابتدا میں ہمیں ان کی رہائش گاہ پر بٹھایا گیا جہاں نہایت خلوص سے چائے پیش کی گئی۔ کچھ ہی دیر میں جب تقریب کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے تو ہمیں کالج کے وسیع صحن میں مدعو کیا گیا۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    صحن میں داخل ہوتے ہی خوش ذوقی اور نظم و ضبط کی جھلک نمایاں تھی۔ نشستیں نہایت سلیقے سے آراستہ تھیں۔ سامنے دو علاحدہ علاحدہ صوفے رکھے گئے تھے۔ ان کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا گیا تھا تاکہ مقررین کی جانچ اور پوزیشن کے تعین میں کسی قسم کی جانب داری کا شائبہ تک نہ رہے۔ ایک گوشے میں محترمہ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو نہایت احترام کے ساتھ بٹھایا گیا جب کہ دوسرے کونے میں راقم کو نشست دی گئی۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    تقریب کی نظامت کے فرائض ادارے کی دو باوقار معلمات محترمہ حرمت عباسی اور محترمہ غزالہ راجپوت نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور اعتماد کے ساتھ انجام دیے۔ انھوں نے ابتدا میں تمام مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا بالخصوص اُن ماؤں کو جنھوں نے آج کی اس محفل میں شرکت فرما کر اس تقریب کو حقیقی معنوں میں وقار بخشا۔ بعد ازاں منصفین کا تعارف کراتے ہوئے باضابطہ آغاز کے لیے جماعت نہم کی طالبہ قرۃ العین کو دعوت دی گئی۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    اس ننھی پری نے نہایت خوش الحانی اور خشوع و خضوع کے ساتھ سورۃ الناس کی تلاوت کر کے محفل کو نورِ قرآنی سے منور کر دیا۔ تلاوت کے بعد حسبِ روایت نبی مکرم، خاتم النبیین، سیدنا محمد ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے جماعت نہم کے طالب علم سفیان تنویر کو مدعو کیا گیا جنھوں نے نہایت دل نشیں انداز میں نعت پیش کی:
    یہ انبیا صفات میں اعلا ہیں سب کے سب
    ان سب سے پر صفات میں اعلا حضور ہیں

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    اس روح پرور آغاز کے بعد ادارے کی پرنسپل محترمہ گلناز منصف کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا۔ انھوں نے سپاس نامہ پیش کیا اور مہمانوں کی تشریف آوری پر تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس مقابلے سے قبل ادارے میں مختلف مراحل پر ابتدائی مقابلہ جات منعقد کیے گئے جن میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو اس حتمی مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
    یوں تقریری مقابلے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ سب سے پہلے جماعت ششم کی طالبہ عشال نے اسٹیج سنبھالا اور معصوم مگر پُراثر انداز میں ماں کی عظمت بیان کی۔ اس کے بعد جماعت ششم ہی کی طالبہ شاہ بانو نے اپنے خیالات پیش کیے۔ پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ جماعت ششم سے حورین الیاس، جماعت ہفتم سے ماہم فاروق، مسکان بشیر اور ماہ نور فاطمہ، جماعت نہم سے علی رضا، قرۃ العین اور احسان المہدی، جماعت دہم سے عبیرہ شیخ اور جماعت یازدہم سے عشا تنویر، شہیرہ فاطمہ، فاطمہ بتول جب کہ دوازدہم سے فائزہ راجا اور محسن اقبال نے اپنی تقاریر میں ماں کی عظمت کو لفظوں کا جامہ پہنایا۔ فاطمہ بتول کی تقریر نہایت جان دار، فکر انگیز اور سامعین کے دلوں کو چھو لینے والی تھی۔ آخر میں محسن اقبال نے اپنی پرجوش اور مربوط تقریر سے مقابلے کو نقطۂ عروج تک پہنچا دیا۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    تقاریر کے اختتام پر ادارے کے چند طلبہ نے ماں کی شان میں منظوم کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔ ہما منشاد نے ماں کو ترنم کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جب کہ دف پر حسان المہدی و مدثر فرید کی سنگت نے فضا کو جذب و کیف سے بھر دیا اور حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    بعد ازاں فاروق اعوان صاحب نے اسٹیج سنبھالا اور تمام مہمانانِ گرامی، منصفین، اساتذہ اور طلبہ کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اپنی سابقہ طالبہ اور موجودہ جرنلسٹ و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محترمہ علیشا عندلیب کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ان کی علمی جدوجہد اور عملی کامیابیوں کو سراہا۔انھیں اس تقریب میں خاص طور پر شریک ہونے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
    اس کے بعد محترمہ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ خان کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں نے طلبہ کے اعتماد، جراتِ اظہار اور فکری پختگی کی دل کھول کر تعریف کی اور فرمایا کہ الحبیب سائنس کالج ایک ایسا ادارہ ہے جس کا نام ریاست بھر میں علمی وقار اور تعلیمی امتیاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بورڈ کے امتحانات میں اب تک 88 پوزیشنز حاصل کرنا اس ادارے کی محنت، نظم و ضبط اور وژن کا واضح ثبوت ہے۔ شان دار تقریب کے انعقاد پر انھوں نے منتظمین کو دلی مبارک باد پیش کی۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    بعد ازاں ایم ڈی الحبیب سائنس کالج، جناب محمد فاروق اعوان نے راقم کو اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا۔ میں نے نہایت شفقت کے ساتھ طلبہ کی اُن چند اغلاط کی نشان دہی کی جو تقاریر کے دوران میں ان سے سرزد ہوئیں، نیز مرزا ادیب کی کتاب”مٹی کا دیا” سے ماں کے حوالے سے ایک پُراثر واقعہ سنایا۔ اس کے ساتھ انور مسعود صاحب کی معروف نظم “امبڑی” پیش کی اور ماں کے حوالے سے اپنے چند ذاتی مشاہدات بھی حاضرین کے گوش گزار کیے۔ طلبہ کو یہ باور کروایا کہ مقابلہ جیت اور ہار سے عبارت ہوتا ہے مگر یہ ہار دائمی نہیں ہوتی بلکہ اکثر اوقات کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    آخر میں فاروق اعوان صاحب نے ماں کی عظمت پر چند اشعار سنائے اور نتائج کا اعلان کیا۔ پہلی پوزیشن ماہم فاروق کے نام رہی جنھوں نے نہایت عمدہ مواد اور مؤثر اسلوب کے ساتھ ماں کی شان بیان کی۔ انھیں نقد انعام، سرٹیفکیٹ اور میڈل سے نوازا گیا۔ دوسری پوزیشن فاطمہ بتول نے حاصل کی جب کہ شاہ بانو، فائزہ راجا اور شہیرہ فاطمہ بالترتیب تیسری، چوتھی اور پانچویں پوزیشن پر رہیں۔ تمام طالبات کو انعامات دے کر بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔
    اسی موقعے پر ادارے کی جانب سے منصفین کو بھی اس تقریب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ یہ شیلڈز محض تعریفی علامات نہ تھیں بلکہ اس بامقصد اور روح پرور محفل کی ایسی یادگار تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ کبھی ماند نہ پڑیں گی اور اس دن کی خوش گوار یادوں کو ہمیشہ تازہ رکھیں گی۔

    الحبیب کالج میں جب لفظوں نے ماں کو سلام کیا


    اختتام پر شرکا کے لیے نہایت عمدہ ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ یوں یہ شان دار، بامقصد اور خوش اسلوب تقریب اپنے مقررہ وقت پر اختتام پذیر ہوئی مگر دلوں میں احترامِ ماں، آنکھوں میں تشکر اور یادوں میں ایک ایسی روشن صبح چھوڑ گئی
    جب واقعی لفظوں نے ماں کو سلام کیا۔

  • مس طیبہ: ایک عہد کی کہانی

    مس طیبہ: ایک عہد کی کہانی

    مس طیبہ: ایک عہد کی کہانی


    تحریر محمد ذیشان بٹ 


    راولپنڈی کی تعلیمی دنیا میں فیصل سکولز ایک ایسا نام ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں میں نجی تعلیمی شعبے میں ایک نئی پہچان بنائی۔ اس ادارے کی بنیاد مرحوم پروفیسر ضیاء کشمیری اور ان کی اہلیہ نے اپنے اخلاص، عزم اور تعلیمی وژن کے ساتھ رکھی۔ آج فیصل سکولز راولپنڈی کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں کم و بیش تین ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ ادارے کے موجودہ چیئرمین جناب شعیب بٹ کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ معیارِ تعلیم کو بلند سے بلند تر کیا جائے، اور یہی وجہ ہے کہ ادارے میں ایسے افراد کو کلیدی ذمہ داریاں سونپی گئیں جنہوں نے تدریس کو مشن اور تعلیم کو عبادت سمجھا۔
    انہی نابغہ روزگار شخصیات میں ایک قابلِ فخر نام محترمہ مس طیبہ کا ہے، جنہوں نے فیصل سکولز میں 2008ء میں بطور کالج مدرسہ شمولیت اختیار کی۔ لیکن ان کی خداداد صلاحیتوں، غیرمعمولی مشاہدے، انتظامی بصیرت اور تربیتی فہم نے جلد ہی اس ادارے کو قائل کر لیا کہ یہ خاتون صرف پڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک تعلیمی ادارے کی قیادت کے لیے آئی ہیں۔
    یوں محترمہ طیبہ کو فیصل سکولز (گرلز برانچ) کی پرنسپل کی ذمہ داری سونپی گئی—اور پھر اس ادارے نے سترہ سال تک ایک ایسی رہنما، ماہرِ تعلیم اور مشفیق شخصیت کا سایہ پایا، جس نے طالبات کو صرف نصابی کتب ہی نہیں پڑھائیں بلکہ انہیں کردار، تہذیب، وقار، خوداعتمادی اور اسلامی اقدار سے آراستہ بھی کیا۔
    گرلز برانچ کی قیادت کسی بھی ادارے میں دوہری ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہاں صرف تعلیم نہیں، تربیت کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ محترمہ طیبہ نے اس ذمہ داری کو نہایت ہنر، صبر اور شفقت سے نبھایا۔ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ یہ رہی کہ لڑکیوں کو ایسا ماحول ملے جہاں وہ خود کو محفوظ، معتبر اور باوقار محسوس کریں۔ ان کے اندازِ گفتگو میں وہ اپنائیت تھی کہ والدین بھی اُن کی باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کرتے تھے۔ ان کا رویہ کبھی حکم دینے والا نہیں بلکہ سمجھانے والا، سکھانے والا، اور اکثر اوقات ماں جیسا رہا۔


    محترمہ طیبہ کے زیرِ قیادت صرف طلبہ ہی نہیں، بلکہ سٹاف اور کولیگز بھی اُنہیں ایک استاد، رہبر، اور بڑی بہن بلکہ "ماں” جیسا درجہ دیتے رہے۔ یہ بات کسی رسمی تعارف کی محتاج نہیں کہ ان کا ہر فیصلہ مخلصانہ اور فلاحی سوچ پر مبنی ہوتا۔ انہوں نے کبھی عہدے کو رعب یا غرور کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ محبت اور خلوص کا پُل بنا کر دوسروں کو ساتھ جوڑے رکھا۔
    گزشتہ روز ادارے کی جانب سے محترمہ طیبہ کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔ ہر چہرہ اداس تھا، اور سب سے زیادہ نم آنکھیں مس ثمینہ کی تھیں، جنہوں نے برسوں پر محیط رفاقت کو رخصت ہوتے دیکھا۔ ادارے کے CEO نے بجا کہا کہ "محترمہ طیبہ کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔” یہ بات دل سے نکلی اور سب دلوں میں اُتر گئی۔
    ذاتی طور پر، خاکسار کا بھی یہ ماننا ہے کہ جو بھی ان کے ساتھ رہا ہے، وہ ان کی مستقل مزاجی، دیانت، اور خالص نیت کی گواہی ضرور دیتا ہے۔ البتہ ایک چھوٹا سا شکوہ باقی ہے کہ مجھے اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا، ورنہ بہت کچھ دل سے کہنے کو ہوتا، جو آج قلم سے ادا کر رہا ہوں۔
    فیصل سکولز اور تمام اساتذہ کی جانب سے محترمہ طیبہ کو ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے، ان کی زندگی کا اگلا باب بھی کامیابیوں، خوشیوں اور عزتوں سے بھرا ہوا ہو۔ ایسی شخصیات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں، کیونکہ وہ ادارے نہیں، نسلیں بناتی ہیں۔

    Title Image by Sam Jotham Sutharson from Pixabay

  • بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟

    بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟

    بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
    بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے نہیں ، ماں کے بغیر تو کوئی دن ہوتا ہی نہیں۔
    یہ جملہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی سچائی ہے جو ہر اس انسان کے دل کی آواز ہے جس نے ماں کی گود میں پرورش پائی، جو ماں کے لمس سے شفا پا چکا، اور جو ماں کی دعا سے منزل پا چکا ہو۔
    اب سوال یہ ہے کہ مدرز ڈے یا "ماں کا دن” کیوں منایا جاتا ہے؟ اس کا آغاز مغرب سے ہوا، جہاں خاندانی نظام تیزی سے زوال پذیر ہوا۔ جب اولاد ماں باپ کو بوجھ سمجھنے لگی، جب نرسنگ ہومز ماں باپ کے لیے بننے لگے، تب وہاں احساس ہوا کہ ایک دن ماں کے نام مخصوص کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ ماں کا رتبہ کتنا بلند ہے۔
    لیکن اسلام نے تو صدیوں پہلے ہی ماں کو وہ مقام دے دیا تھا جو دنیا آج بھی پوری طرح نہ دے سکی۔
    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، ماں کو کمزور، بے کار اور بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تو انہوں نے ماں کو عزت دی، بیٹی کو رحمت کہا، اور فرمایا:
    "تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔”
    یہ ایک قول نہیں، ایک انقلابی نظریہ تھا۔ صحابہ کرام کی زندگیوں میں اس تعلیم کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہ کی قربانیوں کو قرآن نے محفوظ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    "اگر کوئی شخص اپنی ماں کو کندھوں پر بٹھا کر حج کروا دے، تب بھی وہ ماں کے ایک درد کا حق ادا نہیں کر سکتا۔”
    ایک اور عظیم مثال حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جو اپنی ماں کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ وہ جب بھی گھر کے دروازے پر پہنچتے تو بلند آواز سے کہتے: "السلام علیکِ یا اُمّاہ، رحمکِ اللہ کما رَبَّيتِني صغیرا” یعنی اے ماں! تم پر سلام ہو، اللہ تم پر رحم فرمائے جیسے تم نے مجھے بچپن میں پالا۔ اور ان کی والدہ جواب دیتیں: "وَعلیک السلام یا بُنَي، رحمک اللہ کما بَرَرتَني کبیرا” یعنی اے بیٹے! تم پر بھی سلام، اللہ تم پر رحم کرے جیسے تم نے بڑھاپے میں میری خدمت کی۔
    اکثر کہا جاتا ہے کہ کامیاب انسان کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، اور عمومی تاثر یہ ہوتا ہے کہ وہ عورت بیوی ہو گی۔ لیکن اگر حقیقت کی گہرائی میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل سہارا اس کی ماں ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچے کو اُس وقت سے جانتی ہے جب وہ اپنی بات بھی نہیں کہہ سکتا، جب وہ صرف رونے اور مسکرانے سے اپنی کیفیات کا اظہار کرتا ہے، اور ماں اُس وقت بھی اُس کی ہر ضرورت، ہر خواہش کو سمجھ لیتی ہے۔


    راقم کی زندگی بھی اسی سچائی کی ایک مثال ہے۔ آج اگر میں اپنے مقام پر ہوں، اگر میری پہچان ہے، اگر میرے ہزاروں شاگرد ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ میری والدہ کی قربانیاں اور دعائیں ہیں۔ ایک ایسا خاندان جہاں تعلیم کا تصور بھی نہ تھا، جہاں کسی ایک فرد نے بھی سکول کا منہ نہ دیکھا ہو، وہاں میری ماں نے خود کبھی سکول نہ جانے کے باوجود مجھے تعلیم کی ابتدائی روشنی عطا کی۔ مجھے حروفِ تہجی سکھائی، نماز پڑھنا سکھایا، اور سبق یاد کرایا۔ ایک اَن پڑھ ماں کا اپنے بچے کو پڑھانا معجزے سے کم نہیں۔
    میری والدہ کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں:
    "بیٹا، علم حاصل کرو، یہی تمہارا اصل زیور ہے۔”
    اور میں نے دیکھا کہ ایک ماں جو خود علم کی روشنی سے محروم رہی، وہ اپنے بیٹے کو علم کی وہ شمع دے گئی جو اب کئی گھروں میں چراغ بن چکی ہے۔
    آج ہم جدید دور میں رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا، موبائل فون، مصروفیات، دوستیوں اور دنیا داری نے ہمیں ماں سے دور کر دیا ہے۔ ماں کو وقت دینا ہمیں بوجھ لگتا ہے۔ جب وہ ہمیں بلاتی ہے تو ہمیں الجھن ہوتی ہے۔ جبکہ یہی ماں جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ساری رات جاگتی ہے، جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو ہماری خاموشی سے بھی ہماری کیفیت سمجھ جاتی ہے۔
    اگر آج کی اولاد ماں کے احترام کی تلاش میں ہے تو اسے کسی بڑی کتاب کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک لمحہ رک کر ماں کے چہرے کو دیکھیں۔ ان کی جھریوں میں چھپی قربانیوں کو محسوس کریں۔ ان کی آنکھوں میں جھلکتی دعا کو سمجھیں۔
    ماں کا دل وہ آئینہ ہے جس میں اولاد کی خوشی اس کی اپنی خوشی بن جاتی ہے۔ ماں کی گود وہ پہلا مدرسہ ہے جہاں انسان انسان بنتا ہے۔ ماں کا لمس وہ دوا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں۔ ماں کا پیار وہ دولت ہے جو لاکھوں کے بینک بیلنس سے قیمتی ہے۔
    ہمیں ماں کے لیے کوئی ایک دن مخصوص کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر دن، ہر لمحہ، ماں کے نام ہونا چاہیے۔
    ماں کے قدم چومنا، ماں کی بات کو دھیان سے سننا، ماں کو وقت دینا، ان کے لیے دعا کرنا، اور سب سے بڑھ کر ان کے جیتے جی ان سے محبت کا اظہار کرنا، یہی اصل "ماں کا دن” ہے۔
    آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا:
    جو شخص اپنی ماں سے سچی محبت کرتا ہے، اس کی زندگی میں برکت ہی برکت ہوتی ہے۔
    ماں ناراض ہو جائے تو رزق سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
    ماں دعا دے دے تو راہیں خود بخود بننے لگتی ہیں۔
    آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ ماں باپ کی خدمت کو فرض جانے۔ ان کی قدر کرے، ان کے ساتھ وقت گزارے۔ انگریزوں کی طرح صرف مدرز ڈے منا کر جان نہ چھڑائے، بلکہ عملی طور پر ماں باپ کی خدمت کرے۔ کیونکہ جو آج بوئے گا، وہی کل کاٹے گا۔ اور یہ خدمت محض سوشل میڈیا پر پوسٹس لگا دینے سے نہیں ہوتی۔ ماں باپ نے آپ کو پیدا کیا ہے، ڈاؤن لوڈ نہیں کیا۔ اس لیے ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات کو غور سے سنیں، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ تجربہ شرط ہے، اور تجربہ تبھی حاصل ہو گا جب آپ حقیقی خدمت کریں گے۔

    Title Image by Sabine van Erp from Pixabay

  • ماں جی

    ماں جی

    ماں جی
    (بلا تامل، شاہد اعوان)

    ماؤ نی یاد اِچ اَکھ پئی رونڑیں
    گھروِچ رونق مائو نال ہونڑیں
    پھٹ سینے تے جَد کوئی لاوے
    میکی تہاڑی یاد ستاوے
    ماں کی یاد میں پوٹھوہاری شاعر برادر نزاکت مرزا نے اپنی ماں بولی میں کس خوبصورتی سے دل کی کیفیت بیان کی ہے۔ ماں چاہے انسان کی ہو یا حیوان کی، اس کی ممتا اپنی اولاد کے لئے یکساں اور منفرد ہوتی ہے۔ ہمارے آقا ومولاﷺ کی حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ میںنماز پڑھ رہاہوتا میری ماں مجھے آواز دیتیں میں نماز توڑکر ان کا حکم بجا لاتا۔ اگر ہم اپنے اکابرین کی بات کریں تو ہر ایک نے ماں کی خدمت و اطاعت میں دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، قلندرِ لاہوری علامہ محمد اقبالؒ کے اشعار ہوں یا قدرت اللہ شہاب کی تحریریں ہر کسی نے اپنی ماں کا ذکر جس عقیدت و دردمندی سے کیا اسے پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہم لمحہ بھر کے لئے اپنے بچپن کی یادوں کو دل کی سکرین پر فوکس کریں تو بلامبالغہ یہ حقیقت واشگاف ہو گی کہ اس چند روزہ زندگی میں بچپن ان حسین اور خوشگوار لمحات کانام ہے جہاں کوئی غم اورتکلیف ہمیں چھو نہیں سکتا کہ تمام دکھ تکلیفیں ہمارے ماں باپ اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں۔ بقول تنویر سپراؔ:
    موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی
    ماں کاشباب کثرتِ اولاد کھا گئی
    27اپریل کو میری ماں جی کی بارہویں برسی ہے ان بارہ سالوں میں کوئی پل ایسا نہیں گزرا جب اماں جی کی یاد سے یہ دل غافل ہوا ہو۔
    تمہیں بھلانا ہی اول تو دسترس میں نہیں
    جو اختیار بھی ہوتا تو کیا بھلا دیتے !
    اماں جی کے احسانات کی لمبی فہرست ہے کون کون سا گنواؤں اورکس کو بھول جاؤں؟؟ بچپن کا زمانہ تھا تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا، ہمارے گھر کے قریب ہی اینٹیں بنانے کی بھٹی تھی اماں نے انڈے اور دیسی گھی کا پراٹھا بنا کر سکول کے لئے روانہ کیا ۔ سکول کس نے جانا تھا سارا دن اسی ویران سی بھٹی میں کھیلتے کھیلتے گزار دیا جب کافی وقت گزر گیا اور لگا کہ اب سکول میں چھٹی ہو گئی ہو گی تو گھر کی راہ لی۔ جونہی گھر پہنچا تو ماں کی زمانہ شناس نظروں نے فوراٌ بھانپ لیا کہ اس کا نورِ نظر سکول نہیں گیا بلکہ آوارہ گردی کرتا رہا ہے۔ بھٹی کے درودیوارکی کالک ہاتھوں اورچہرے پر عیاں تھی۔ ہمارے گاؤں (کھوئیاں) سے کافی دور کوٹگلہ شریف کی زیارت تھی، اگلے روز علی الصبح اماں مجھے وہاں لے گئیں اور پیر صاحب سے دَم کرایا پیر صاحب نے گُڑ دم کر کے دیا، بس پھر کیا تھا وہ دن سکول سے چھپنے کا آخری دن ثابت ہوا اور پھر پیر صاحب کے گُڑ کی تاثیر نے پڑھائی سے کبھی نہیں بھاگنے نہ دیا۔
    تمہارا نام لیتا تھا بہاریں رُک کے سنتی تھیں
    تمہارا نام لیتا ہوں کلیجہ منہ کو آتا ہے!!
    بچپن کے زمانے میں ہمارے گاؤںمیں طوفانی بارشیں ہواکرتی تھیں کئی کئی روز ’’جھڑی‘‘ لگی رہتی، مکان کچے تھے آخر کب تک ان بارشوں کا بوجھ اٹھاتے ۔ شدید سردیاں اوپر سے بارشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہماری ڈھوک سے متصل گھر جنت مکانی ہماری پھوپھی اپنے بچوں اور کھانے پکانے کا سامان لے کر آپہنچتیں کہ ہمارا ایک کوٹھا ابھی سلامت تھا باقی سارے کمرے ٹپکنے لگے تھے دودن کے بعد ہمارا گھر بھی محفوظ نہ رہا۔ گھر والے ٹپکنے والی جگہوں پر ’’ترامیاں‘‘ رکھ رکھ کر کبھی ایک کونے میں تو کبھی دوسرے کونے میں سر چھپا رہے تھے۔ اماں جی زور زور سے آیتہ الکرسی کا ورد کرتی جاتیں اوربارش رکنے کی دعائیں مانگتیں ۔ جب ننھیال جانے کا پروگرام بنتا تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا ننھیالی گائوں کوٹ شیرا تک پیدل سفر دس کلومیٹر سے کم نہ تھا بیچ راستے میں ’لیٹی‘ کا برساتی نالہ پڑتا جہاں بارش کے دنوںمیں سیلابی پانی سے گزرنا محال ہوتا چنانچہ کئی کئی گھنٹے انتظارکے بعد واپس گاؤں لوٹنا پڑتا کہ اسے پار کرنا کسی خطرے سے خالی نہ ہوتا ۔ بچپن کی ہزاروںایسی چھوٹی چھوٹی یادیں اور ماں جی کی محبت بھری باتیں کسی فلم کے یادگار سین کی طرح دل کو تڑپاتی اوررلاتی ہیں۔ گویا:
    دل و نظر کی عقیدتوں میں رچے ہوئے ہیںکمال تیرے
    قدم قدم پر تلاش تیری، نفس نفس ہیں خیال تیرے
    یہ یادیں اورباتیں قرطاس کی محتاج نہیں، ماں کی شان کہنے کو الفاط نہیں۔ اس کی توصیف لکھنے کی قلم کو تاب نہیں۔۔۔ سب کی مائیں سلامت رہیں اورجو چلی گئیں اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اورانہیں جنت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔
    ماں! تیرے بعد بتا، کون لبوں سے اپنے
    وقتِ رخصت میرے ماتھے پہ دعا لکھے گا

    ماں جی
  • اٹھائے گا کون ہاتھ اب دعا کیلئے

    اٹھائے گا کون ہاتھ اب دعا کیلئے

    آج ماؤں کے عالمی دن پر اپنی والدہ کو ایک خراج تحسین عمران اسد کے قلم سے
    ابھی دنیا میں آئے ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ والد صاحب روڈ حادثے میں چل بسے اور یوں محض 27 دن کی عمر میں یتیمی کا داغ سجائے زندگی کے سفر کی شروعات ہوئی لیکن یہ سفر مشکل اور کٹھن ہونے کے باوجود آسان رہا کہ والدہ کی دعائیں نیک تمنائیں ہمیشہ ساتھ رہیں بلکہ وقت کے گزرنے کا پتہ بھی نہ چلا انھوں نے کبھی والد کی کمی محسوس ہی نہ ہونے دی ایسی جرات اور بہادری سے نہ صرف خود مقابلہ کیا بلکہ اپنے بچوں کو بھی سکھایا کہ جیسے بھی حالات ہوں ہمیشہ اپنی عزت اور وقار کو اہمیت دی جائے
    میں سمجھتا ہوں ماں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی مسلک وہ رنگت قبیلے زبان وغیرہ کے چکروں سے مبرا ایک ایسی مخلوق جس کے خمیر میں اللہ پاک نے اپنی محبت کا پرتو ڈالا ہے اسی لیے تو اس نے جب اپنی رحمت کی مثال دینی پڑی تو تو پوری کائنات میں ماں ہی کی مثال دی شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کو تمام دنیا کی مائیں ایک جیسی ہی لگتی ہیں
    ماں کی ایک اور عادت بھی خدا سے بہت ملتی ہے قصور چاہیے جتنا بڑا ہو دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں بعض اوقات ہم بھائی جب کسی چیز پر بہت تنگ کرتے تو پہلے تو ہلکی سی پٹائی کرتی جب معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیتے تو اپنی مشہور زمانہ دھمکی کہ اپنے ابا کے گھر چلی جاؤں گی کبھی کبھی بات زیادہ بڑھ جاتی تو اپنے دو جوڑے کپڑے لپیٹ کر ایک بیگ میں ڈال ہی رہی ہوتی کہ خوف سے ہم لپٹ کر کہتے آپ مت جاؤ ہمیں چھوڑ کر پھر ہمارے ساتھ خود بھی رونا شروع کر دیتی اور کہتی میں نے تم بچوں کو چھوڑ کر کہاں جانا ہے۔
    والد صاحب کی وفات بھی اوائل عمری یعنی صرف 32 سال کی عمر میں ہوئی تھی جبکہ والدہ کی عمر اس وقت 21 سال تھی کمسنی کی بیوگی اور بغیر کسی ظاہری سہارے کے چار بچوں کی کفالت لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ معجزہ کر دکھایا حالت یہ تھی کہ دکھ تکلیف کس کو کہتے ہیں انہوں نے کبھی اس کا احساس ہی نہیں ہونے دیا بڑے بہن بھائی چونکہ عمر کے اس حصے میں تھے کہ انہیں اس حادثے کی شدت کا بھرپور احساس تھا لیکن ہم چھوٹے دو بھائیوں خصوصاً مجھے سب سے چھوٹا ہونے کے وجہ سے کبھی والد کی کمی کا احساس ہی نہیں ہونے دیا بچوں کی پرورش یوں کی جیسے کسی سلطنت کے شہزادے جن کے پاس نہ پہننے کے لئے زرق برق لباس، نہ کھلونوں کے انبار، منہ سے نکلی ہر بات پوری نہ سہی لیکن عزت اور خودداری کے ساتھ محبتوں کا بے پایاں سمندر تھا جس کی آغوش میں زمانے کے سرد و گرم سے دور رکھا گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں کچی روٹی اور پکی روٹی کے قصے اور سردیوں کی طویل راتوں میں سیف الملوک اور جمال پری کی دیو مالائی داستان سناتی۔  شاید وہ دور بھی ایسا تھا کہ سارے محلے کے طرزِ زندگی میں انیس بیس کا فرق ہوتا تھا اور سرکاری سکول میں بھی سب بچے ایک جیسے ہوتے تھے اگرچہ والد کی وفات کے بعد مالی مشکلات بہت تھیں پریشانیاں بھی لیکن کبھی قسمت کا شکوہ نہ کیا ۔ راضی بہ رضا رہی اور ہمہ وقت زبان شکرِ خداوندی سے لبریز دیکھی۔ دوسروں کی مدد کا جذبہ ہمیشہ موجزن دیکھا۔ تنگدستی کے باوجود خاندان اور محلے کے متعدد خواتین کی مسلسل مالی مدد اور ان کی رہنمائی کرتی اسی لیے سب اپنے پرائے چھوٹے بڑے ان کو آپا جی کے نام سے پکارتے بلکہ ہمارے گھر کے صحن میں ہر وقت خواتین کا ہجوم رہتا اور وہ اپنے دکھڑے والدہ کو سناتی پھر وہ کسی کو کوئی آیت کریمہ کا ورد کرنے کو کہتی اور کسی کو امور خانہ داری کا کوئی نسخہ سمجھاتی زمانے اور حالات نے ان کو وقت سے پہلے ہی بہت ساری چیزیں سمجھا دی تھیں بلکہ ہمارے دوستوں سے بھی ان کی محبت قابل دیدنی ہوتی تھی۔ حالات چاہیے جیسے بھی تھے لیکن تعلیم سے ان کی محبت قابل ستائش تھی چار بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا کچھ اتنا سہل نہیں تھا مگر یہ ان کی علم دوستی کی انتہا تھی کہ انھوں نے ہم تمام بہن بھائیوں کی تعلیم کو دیگر أمور پر ترجیح دی اور ہمارے علم کے حصول کا سفر جاری رہا۔ اس سفر کے دوران کئی مواقع ایسے بھی آئے کہ والدہ کے پاس سکول کی فیس ادا کرنے کے لئے پیسے بھی نہیں تھے لیکن انہوں نے پھر بھی ہمیں پڑھایا بلکہ کئی دفعہ کچھ لوگوں نے حالات کی تنگی کے پیشِ نظر بڑے بھائی کو کوئی چھوٹی موٹی سی نوکری پر لگانے کا کہا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا نہیں میں انہیں پڑھاؤں گی
    پچھلے سال 2020 کے شروع میں جب میں چھٹیاں گزارنے پاکستان گیا ہوا تھا تو صبح میں اپنا ناشتہ لے کر ان کے کمرے میں گیا تو اشراق کی نماز پڑھ رہی تھیں جو کہ خلاف توقع کافی طویل ہو گئی پھر جب میری موجودگی کا احساس ہوا تو کہنے لگی میں اپنے والدین اور دیگر فوت شدگان رشتہ داروں کی مغفرت کے لیے ہر روز نفل پڑھتی ہوں پھر ایک دم گویا ہوئی میں بھی جب مر جاؤں گی تو تم بھی میرے لیے پڑھنا پہلے تو مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ کیا بولوں پھر خود ہی کہنے لگی اچھا چلو ہر روز نہ سہی جب کبھی تمہیں فرصت ملے پڑھ لیا کرنا تاکہ میں یاد رہوں میں نے بے ساختہ کہا بے جی اور ان کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
    ماں تھی اپنی اولاد کی کوتاہیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف تھیں اس لیے ہر نماز کے بعد درود و سلام کے بعد اپنی انگلیوں پر پھونک مار کر اپنے پورے بدن پر پھیرتی اور کہتی اے میرے مولا مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا جس رب نے انہیں کبھی تنہا نہ چھوڑا ہو وہ بھلا ان کی یہ دعا کیسے رد کرتا لہذا 19 اپریل 2021 بمطابق 6 رمضان المبارک عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد لیٹ گئی بھائی نے پوچھا امی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے کہنے لگی ہاں ہاں بالکل ٹھیک ہے بس تھوڑا تھک گئی ہوں ان کی بگڑتی حالت کے پیش نظر بھائی ان کو لیکر ہسپتال کی طرف روانہ ہوا جب وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ اپنے دائمی سفر پر روانہ ہوگئی ہیں اگلے دن ان کو اپنے آبائی گاؤں پنڈیگھیب میں تقریباً پچاس سال بعد اپنے مجازی خدا کی برسی سے ایک دن پہلے (یاد رہے کہ میرے والد صاحب 8 رمضان کو فوت ہوئے تھے) ان کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا
    ماں اگرچہ جسمانی طور پر آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے ازلی گھر چلی گئی ہو لیکن آپ کی دعائیں نیک تمنائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی بلکہ اب بھی جب کبھی گردشِ زمانہ سے تھک کر میں ہاپنے لگتا ہوں تو مجھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ میرے ماتھے پر اپنا مخصوص بوسہ دے رہی ہو، آپ اپنے پلو کو بھگو کر میرے ماتھے پر رکھ رہی ہو اور ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت اور پھر روحانیت سے بھرپور پھونک جو ساری مشکلیں آسان کر دیتی مجھے اب بھی یقین ہے کہ نہ جانے کتنے ان دیکھے طوفان آپ نے اپنی دعاؤں سے ٹالے ہوں گے کیونکہ مائیں کب مرتی ہیں بس ان کی ڈیوٹی بدل جاتی ہے ورنہ وہ اپنی دعاؤں خوشبوؤں اپنے طریقے اپنے بچوں کی تربیت اور اپنی باتوں سے ہمیشہ ہمارے آس پاس رہتی ہیں میں اب بھی خود کو آپ کی دعاؤں کے حصار میں محصور سمجھتا ہوں اور سورۃ الرعد کی اس آیت میں بھی آپ کی دعاؤں کے سبب آپ سے ملنے کی امید ہے کہ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَـهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِـهِـمْ وَاَزْوَاجِهِـمْ وَذُرِّيَّاتِـهِـمْ ۖ وَالْمَلَآئِكَـةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ (23)
    ہمیشہ رہنے کے باغ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکو کار ہیں، اور ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے
    حتیٰ کہ پاکستان سے واپس آنے کے بعد جب میں کرونا کے موذی مرض میں مبتلا ہو گیا تو ہوٹل کے کمرے میں اکیلا جب کوئی پانی پلانے والا بھی نہیں تھا یہ آپ کی محبت ہی تھی جو مجھے تسلی دیتی اور میری ڈھارس بندھاتی اور پھر سدا ساتھ رہنے والی آپ کی دعاؤں کے طفیل اللہ پاک نے اس امتحان سے بھی سرخرو کیا
    بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
    آپ کتنی خوش قسمت ہو کہ اپنے سارے کام بروقت کر کے اپنے سچے رب جس کی رحمت کا آپ کو ہمیشہ یقین رہتا تھا کے پاس چلی گئی اور آپ کے اس محتاج بیٹے کے پاس سوائے آنسوؤں کے کچھ بھی نہیں
    لفظ پھر لفظ ہیں جذبوں کو سمجھیں کیونکر
    کیسے  کر  پاؤں  اظہار  عقیدت  تجھ  سے


    iattock

    عمران اسدؔ

    پنڈیگھیب

    حال مقیم مسقط، سلطنت آف عمان

  • ماں اور میں

    ماں اور میں

    محبت کے رشتوں میں دارا تھا میں

    سخی ماں کی آنکھوں کا تارا تھا میں

    مری ماں کی لہریں مجھے چومتی

    سمندر سی ماں کا کنارا تھا میں

    مرے دکھ چھپاتی تھی جانے کہاں

    اگرچہ نہاں غم کا مارا تھا میں

    کیا دفن ماں کو تو مجھ کو لگا

    کہ دلبستگی کا سہارا تھا میں

    گناہوں سے لُتھڑا تھا میرا بدن

    مگر ماں کی آنکھوں میں پیارا تھا میں

    مری ماں کی دنیا مرے دم سے تھی

    امیدوں کا محور بھی سارا تھا میں

    جو قائم بلاتی تھی کہہ کر قمر

    اُسی ماں کے پاوں کا گارا تھا میں

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • ماں

    ماں

    اسکول سے واپس آتا تو کچا آنگن کسی پھلواری سا کِھلا دُھلا صاف ستھرا ، مٹی کی ہانڈی پوچا لگی ، کچھ جلتی ہلکا دھواں دیتی لکڑیوں کے چولھے پے دھری ، تنور سے نکلتے بازوؤں کو جھلساتے شعلے،گھڑے پانی سے لبالب بھرے سلیقے سے گھڑونجی پے سجے اور پانی وہ جو کوئیں سے ڈول ڈول کر کے نکالا گیا۔ چھوٹا بھائی کھیلتا کھلکھلاتا ایسا نکھرا جیسے ابھی نہایا ہو حالانکہ ڈائپر پیمپر تو شاید ایجاد بھی نہ ہوا تھا۔ ہمیں کھانا کھلا کر دادا دادی کو چائے دینے کے بعد پرات میں کھردرے صابن سے رگڑ رگڑ ایک ایک کپڑا دھونا۔ شام کو ہمیں سیپارے کا سبق خود پڑھانا۔ پھر رات کا کھانا وہی سلگتی لکڑیاں جلتا تنور اور لالٹین اضافی۔ یہ ماؤں کی وہ چند مصروفیات ہیں جو آج کی ممی اور ماما کہلواتی ، ماسیوں ، پیمپروں کی محتاج ، فیس بک، وٹس ایپ کی لگن میں بچوں کو باتھ روم میں بند رکھنے والی مہیلائیں سوچیں بھی تو فنا ہوجائیں۔

    میں کہ سات لغات کا عالم حرف گر و لفظ ساز برجستہ گو و جملہ باز آج کے دن کو سپاس گذاری سے عاجز ہوں۔ آج میری ساتوں زبانوں کے تمام لفظ گونگے ہو گئے ہیں۔ میری ماں نے مجھے الف سے اقراء اور اکتب کہا مجھے نطق و قلم کا اہل بنایا۔ میں اپنے قلم سے قرطاس پر تو لکھ سکتا ہوں آسمان پر نہیں۔ میری ماں آسمان ہے۔

    ماؤں کے عالمی دن پر میری دعا ہے  الله ﷻ ہماری عظیم ماں کو  صدقہ محمدؐ و آل محمد علیہ السلام صحت و تندرستی عطا کرے اور تا دیر ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔

    الہی آمین

    آغا جہانگیر بخاری

    آغا جہانگیر بخاری

    سی۔ای۔ او

    بانی مدیر

  • ماں تے مَنگراٹی

    ماں تے مَنگراٹی

    اَساں پتہ اِی نئیں لگا جے اَسی کِنج وڈے تھی گئے آں ۔ پُرانڑیں دور وچ نہ پیمپر ہونے ایہے تے ناں ہی کوئی ہور نکیاں جاکتاں واسے سہولت ہونی ایہی ۔جنہاں مانواں نے جاکت جمڑیں آلے ہونے ایہے۔اُنھ پُرانڑیں کپڑے نیاں ٹاکیاں ہتھاں نال تروپے بھر کے نکی جئی تُلائی بنڑا گِھینیاں ایہاں جِساں منگراٹی آکھنے ایہے۔

    ساری رات نِکے جاکت منگراٹی اتے مُترینے ایہے تے ماں ساری رات منگراٹی بدُل بدُ ل کے تے پرت پرت کے وقت گزرینی ایہی۔ کئی واری انج بی ہونا ایہا جی منگراٹی موترے نال سِج وینی ایہی تے ماں سُکا پَلّا معصوم جاکتے دئیں کر دینی ایہی تے ڈاڈے سی آں اچ سِنی منگراٹی آپڑیں پلے کر گھینی ایہی۔تے جاکتاں اوکھا وڈا کرینی ایہی۔ فَدری اُٹھ کے منگراٹی دُھپاں تے پا کے سُکینی ایہی۔

    ماں تے مَنگراٹی

    گھرے ناں سارا کم ہتھوں کرینی ایہی۔ مال ڈنگر وی چراون وینی ایہی تے روٹی لاونڑ بی ٹیمے نال پکینی ایہی۔

    اُس وقتے اِچ جراثیم بی کوئی نئیں ہونے ایہے تے بماری بی کوئی نئیں ہونی ایہی۔ نِکا ٹُھلا جہڑا بیمار ہوناں ایہا ۔ گرائیں ناں حکیم دو ترے ککھ دینا ایہا۔ تے بندہ چھالی مارن لگ پوناں ایہا۔

    ہُنڑ سہولتاں بی بہوں ون تے دکھ بی بہوں ون۔ ماو نیں مرنے توں بعد میں پورا گھار وہڑے سمیت پھرولا مانہہ ایجی جا نئیں لَبھی جِتھے ما سارے دُکھ چَھپا کے رکھنی ایہی۔ تے اساں پتہ ای نئیں لگنا ایہا جے دُکھ وی کوئی شے ہونن۔ ہُنڑ ماو تو بعد تے دُکھاں نے ولوجڑیں گُھلنِن تے گول چکر اچ اُڈا کے سب کُجھ گِھن وینن۔  اج ماو تو بعد حبدار بہوں اوکھ پیا تکینا۔ غماں نیں ولوجڑیں جِندو توں بھارِن تے جِند لوہکی اے تے کُرلانی پئی۔ پتہ نئیں ماو آں کِہڑے ویلے وَت مِلساں تے ما ہوٹے نال لیسی تے سُکھاں نی منگراٹی اتے سوساں۔

    سید حبدار قائم آف غریب وال

    حبدار قائم
    حبدار قائم