Tag: شارجہ

  • سرمد خان کا انقلابی قدم

    سرمد خان کا انقلابی قدم

    سرمد خان کا انقلابی قدم

    Dubai Naama

    پچھلے دو دن شارجہ اور العین کے بک فیئرز اٹینڈ کرنے میں گزرے۔ اس سال بھی کتابوں کی دنیا میں داخلے کا یہ موقع محترم المقام سرمد خان صاحب نے فراہم کیا۔ متحدہ عرب امارات میں اردو زبان و ادب اور پاکستانی کلچر کے فروغ کا جو کام سرمد خان صاحب کر رہے ہیں اسے خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ یہ شارجہ بک فیئر کا آخری دن تھا جو شارجہ ایکسپو سنٹر میں 6نومبر تا 17نومبر 2024ء تک جاری رہا۔ اس کتاب میلے کا یہ 41واں ایڈیشن تھا جس میں سرمد خان کی زیر سرپرستی پاکستان نے دوسری مرتبہ شرکت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ کہتے ہیں "دیر آید درست آید”، بے شک اس کتاب میلے میں کسی قابل فخر پاکستانی اردو لوور نے 38سال کے بعد پاکستان کی نمائندگی کو ممکن بنایا۔ لیکن اتنا تو ہوا کہ اردو کتابوں سے پیار کرنے والوں کی آنکھوں میں اردو کے لفظوں نے بلآخر رس گھولنا شروع کر دیا۔ متحدہ عرب امارات میں اس سے قبل اردو کتب کی نمائندگی شارجہ بک فیئر میں کسی پاکستانی پبلشر کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ آج میں قدرے مایوس تھا کہ اس دفعہ "اردو بکس ورلڈ” کے سٹال پر حاضری دینا رہ گئی۔ اچانک دن گیارہ بجے سرمد خان صاحب کی کال آئی تو امسال بھی کتابوں کا یہ میلہ دیکھنے کا میرا قلق امید میں بدل گیا۔

    سرمد خان صاحب اردو کتابوں کی ترویج کی دیوانگی کی حد تک جو خدمات انجام دے رہے ہیں اسے "جنون” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ان سے فون پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے اور مجھے ان کے لہجے کا احساس ہے، وہ تیز تیز گفتگو کرتے ہیں، بلکہ مجھ سے تحکم کے انداز میں مخاطب ہوتے ہیں۔ انہوں نے گرجتے ہوئے کہا کہ آج حمزہ علی عباسی کا بھی پروگرام ہے آپ تیار ہو جائیں، جانا ہے۔ سرمد خان صاحب ایک دو اہم یا درجن بھر کتابوں کو خریدنے کے لیئے بھی لاہور، کراچی اور جہلم جا پہنچتے ہیں۔ ان کو "جہلم بک کارنر” سے خصوصی لگاو یے۔ ایک میلے میں جانے کی خوشی اور وہ بھی کتابوں کا میلہ ہو، چند منٹوں بعد ہم دبئی کے خلیج روڈ سے شارجہ کی طرف مڑ گئے، راستے میں ہم نے صبا کو پک کیا اور جب ہم شارجہ ایکسپو سنٹر پہنچے تو پونے بارہ بج رہے تھے۔ کچھ وقت "اردو بکس ورلڈ” کے سٹال پر گزرا اور پھر وہ مجھے صحافیوں کے کانفرنس حال میں لے گئے جہاں ایوارڈز کی تقسیم ہونا تھی۔ ابھی تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ دیگر ممالک کے بک سٹالز کا وزٹ کیا جائے۔ آج اتوار تھا اور چھٹی کی وجہ سے کتاب میلہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ خواتین اور بچوں کا بہت رش تھا، ایک دو جگہ مقامی رقص اور گیتوں کی محفل بھی جمی ہوئی تھی۔ جب ہم مصری بک سٹال پر پہنچے تو وہاں مصنف یاسر البحری اپنی دستخط شدہ کتب اپنے قارئین کو دے رہے تھے۔ ان سے گزشتہ سال 2023ء میں بھی ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں پہچان لیا اور اپنے ساتھ خود ہی سیلفی بنانے کی آفر کی۔ اسی دوران ہمیں "شارجہ پبلشنگ سٹی، فری زون” کا ڈیسک نظر آیا، جہاں ہم کچھ دیر کے لیئے رکے تو پتہ چلا کہ وہ آج کے روز نئی کمپنی رجسٹر کرنے والوں کو خصوصی ڈسکونٹ دے رہے تھے۔

    اسلامی دنیا میں یورپ کی طرز پر "احیائے علوم کی تحریک” کی بنیاد رکھنا میرا دیرینہ خواب تھا، بلند و بالا اور گہرے خواب یاد رہتے ہیں، میں شروع دن سے سوچ رہا ہوں کہ جب تک مسلمانوں میں علمی آگہی پیدا نہیں ہوتی اور تحریر و تحقیق کا کام دوبارہ شروع نہیں ہوتا مسلم دنیا کا کبھی احیاء ممکن نہیں ہو گا۔ شارجہ سٹی کے پورٹل پر محکمہ ھذا کے ڈائریکٹر سیف ال سویدی اور ان کا عملہ موجود تھا۔ تین سال پہلے سرمد خان صاحب "اردو بکس ورلڈ” کی کمپنی میں میرا نام ڈالنا چاہتے تھے مگر بوجوہ میں نے رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔ شائد اس وجہ سے کچھ عرصہ ہمارے درمیان دوریاں بھی پیدا ہو گئی تھیں۔ جب سرمد خان نے نئی کمپنی فارمیشن میں میری دلچسپی کو محسوس کیا تو انہوں نے ڈیسک پر موجود ہیڈ آف انویسٹرز افرا السوادی اور سیلز ٹیم لیڈر رانا گامئیل کو آواز دی۔ ابھی میں نئی کمپنی کا نام سوچ ہی رہا تھا کہ سرمد خان نے اپنے کارڈ سے "اردو ریسرچ بکس” کے تمام اخراجات کی ادائیگی بھی کر دی اور اس کمپنی کے تمام اختیارات بھی مجھے سونپ دیئے۔

    اردو بکس ورلڈ کے سٹال پر چند لمحوں بعد ہم دوبارہ پہنچے تو وہاں قصہ قبلتین (سفر نامہ) کے مصنف محمد صائم اور ان کا بارہ سالہ بیٹا ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا یہ کم سن بیٹا بھی "ڈائنوسار” نامی ایک کتاب کا مصنف ہے۔ محمد صائم کے والد محترم شیر افگن خان جوہر نے بھی سیرت النبی ﷺ پر "سید المبشرین” کے عنوان سے
    کتاب لکھی تھی۔ ابھی یہ اظہاریہ قلم بند کر رہا تھا تو صائم کا فون آیا کہ تبصرہ کے لیئے کل وہ یہ کتاب مجھے پہنچا دیں گے۔ محمد صائم کی چچی ثمینہ تبسم جو کینیڈا میں مقیم ہیں وہ بھی اچھی مصنفہ ہیں جنہوں نے "دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک” کے عنوان سے سفرنامہ تحریر کیا ہے۔ صائم سے ابھی میری گفتگو جاری تھی کہ سرمد خان صاحب نے مجھے حمزہ علی عباسی کا پروگرام کوور کرنے کا حکم دے دیا جو آڈیٹوریم ہال میں تب تک شروع ہو چکا تھا۔ جب میں پہنچا تو وصی شاہ صاحب سامعین کی فرمائش پر اپنی مشہور زمانہ نظم "ہاتھ کا کنگن” سنا رہے تھے۔ اس کے فورا بعد انہوں نے حمزہ علی عباسی کو سٹیج پر بلایا اور ان کی کتاب "ایمان اور دریافت ذات” پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اس پروگرام کا انعقاد "بزم اردو” نے کیا تھا۔ یہ آڈیٹوریم ہال بھی سینکڑوں سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ حمزہ علی عباسی نے اپنے روحانی ارتقاء کے بارے میں بتایا کہ وہ ذات باری تعالی پر اٹھائے ہوئے اپنے تشکیک پر مبنی مختلف سوالات کے ذریعے کس طرح دین کی طرف راغب ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اداکاری کے دوران وہ انتہائی سخت اور مغرور طبیعت رکھتے تھے مگر بعد میں جب انہوں نے احکامات خداوندی کو خود پر عملی طور پر لاگو کیا تو ان کے اندر عاجزی اور انکسار پیدا ہوتا چلا گیا۔

    یہ پروگرام بڑا معلوماتی اور دلچسپ تھا مگر میرے دونوں فون سیٹس کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی۔ میری یادداشت اتنی اچھی نہیں لھذا میں نے اپنے دونوں فونز میں "کلر نوٹ” ڈاؤن لوڈ کر رکھے ہیں۔ جب فون بند ہوئے تو میں نے واپس اردو بک سٹال پر جانے میں عافیت سمجھی۔ تب تک رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سرمد خان کے ساتھ تین اور خان بھی کتابوں کو پلاسٹک کے لفافوں اور گتے کے کارٹنوں میں بند کر رہے ہیں۔ یہ 12 گھنٹے کی معیت کافی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ کتابوں کی گٹھڑیوں کو ابھی سٹور میں بھی رکھنا تھا۔ حتی کہ ہم نے ڈیرا دبئی فرج مرار میں صبح دو بجے آ کر ڈنر کیا۔

    اگلے دن گیارہ بجے ہم دبئ میں سرمد خان کی رہائش گاہ ریگا روڈ پر دوبارہ اکٹھے ہو گئے جہاں حسب معمول مہمانوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ ان کا تین بیڈ روم کا یہ غریب خانہ اچھا خاصا مہمان خانہ ہے۔ کتاب میلوں کے موسم میں سرمد خان صاحب پاکستان سے ہر سال آدھی درجن نہیں تو تین چار صحافی دبئی اپنے پلے سے منگواتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ان کے مہمانوں میں آمنہ مفتی، عامر ہاشم خاکوانی، محمد فاروق چوہان، علامہ عبدالستار عاصم اور اشرف شریف بھی شامل رہے ہیں۔ اس دفعہ بھی ان کے گھر پر کافی مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہم چند خواتین و حضرات سے یاد اللہ کر کے دوبارہ شارجہ نکل گئے۔ وہاں سرمد خان نے کتابوں کے بنڈلوں کا دوبارہ جائزہ لیا، ورکروں کے ذمہ کچھ کام لگائے اور ہم العین کی طرف نکل گئے۔ انہوں نے ایک دوست کو فون کر کے کسی اچھے اور ذائقہ دار ریسٹورنٹ کا پتہ پوچھا جو ایک پہاڑی کے پہلو میں ڈرائیونگ سکول کے سامنے تھا۔ صبح کا ناشتہ نہ کیا ہو اور دوپہر کا کھانا اور ناشتہ اکٹھا کیا جائے تو اسے "برنچ” کہتے ہیں۔ ہماری ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سینئر صحافی عارف شاہد اور میرے پیٹ میں چوہے ناچ رہے تھے، چوہے تو سرمد خان کے پیٹ میں بھی ناچ رہے تھے۔ لیکن جب ہم تینوں نے ریسٹورنٹ کا نام پڑھا تو چونک گئے جس کے سائن بورڈ پر "ریسٹورنٹ 71” لکھا تھا۔ ابتداء میں تو سوچا کہ یہ کسی بنگالی کا ریسٹورنٹ ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ کھانا زہر مار ہونے سے بچ گیا۔ اس کا مالک ایک لوکل تھا۔ کھانے کا ٹیسٹ بہت اچھا تھا۔ منیجر نے نام کی وجہ تسمیہ مسکراتے ہوئے یہ بتائی کہ نام نہیں مل رہا تھا تو کمپیوٹر نے یہ نام ظاہر کیا اور ہم نے "ڈن” کر دیا۔ یوں شروع میں ہمارا جو "تراہ” نکلا تھا ہنسی میں بدل گیا۔

    العین کتاب میلے کا یہ دوسرا دن تھے۔ پہلے ہم ایک بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر بک فیئرز کے مصری منیجر ابراہیم سے جا کر ملے۔ راستے میں عارف شاہد صاحب نے سرمد خان سے گلہ کیا تھا کہ آپ پاکستان سے صحافی بلا کر انہیں نوازتے ہیں مگر "ہم” آپ کو نظر ہی نہیں آتے۔ ابراہیم صاحب کے عملے نے ہمیں بتایا کہ ان کے پاس کافی فنڈز ہوتے ہیں۔ اس وقت تو سرمد صاحب خاموش ہو گئے مگر جاتے ہی انہوں نے ابراہیم صاحب کو کہا کہ پہلے وہ ان دو صحافیوں کی رجسٹریشن کریں۔ اس کے بعد اگلے کتاب میلوں کے لیئے انہوں نے کچھ پاکستانی صحافیوں کے نام بھی دیئے جن کی رجسٹریشن کے بعد امارات کی سرکار انہیں ویزہ، ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ مفت دے گی۔ ہم نے کتاب میلہ دیکھا۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی سرمد خان نے خوش خبری سنائی کہ آئندہ متحدہ عرب امارات میں شارجہ، شیخ زید سٹی، العین یا ابوظہبی میں کسی بھی میلے کی کوریج کے لیئے آپ کو فی دن کے 1200درہم ملیں گے۔

    یہ خوشخبری سننے پر ہم دونوں بہت خوش تھے مگر رات گیارہ بجے جب سرمد نے گاڑی دوبارہ شارجہ کی طرف موڑنے اور وہاں پڑی کتابوں کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا مرثیہ سنایا تو ہماری خوشی اسی طرح غم میں بدل گئی جیسے آسٹریلین گلورہ کائلی مائینوگ "مرڈر اون ڈانس فلور” گاتی ہے۔

    میں اندر سے پھر بھی خوش تھا۔ ہم تب تک نہیں سدھریں گے جب تک ہم علم اور تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بناتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ میں "نشاتہ ثانیہ” کے لیئے تحریک احیائے علوم ہی کو اس کا واحد حل سمجھتا تھا۔ حتی کہ تحقیق کے زریعے دینی تعلیمات اور عقائد کو بھی سائنس کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ بقول سرمد خان انہوں نے یہ ایک قدم اٹھایا ہے۔ اربوں میلوں کا سفر بھی پہلا ایک قدم اٹھانے سے مکمل ہوتا ہے۔ خدا جانے یہ "انقلابی سفر” کس کے ہاتھوں مکمل ہو گا؟ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔”

  • کتب بینی کے فوائد

    کتب بینی کے فوائد

    کتب بینی کے فوائد

    Dubai Naama

    ان دنوں شارجہ میں کتاب میلہ جاری ہے جس میں گزشتہ برس کی طرح سرمد خان نے "اردو بکس ورلڈ” کا سٹال لگایا ہوا ہے۔ مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک اس بک فیئر میں حاضری نہیں دے سکا۔ سوچا کہ مطالعہ کتب کے حوالے سے ایک اظہاریہ لکھ دوں تو کچھ ازالہ ہو جائے گا۔

    کتب بینی کا شوق اپنی ذات سے محبت جیسا جذبہ ہے کیونکہ مطالعہ سے قاری کو اپنی شخصیت کے ان پہلووں میں بھی جھانکنے کا موقع ملتا ہے جس سے وہ پہلے آگاہ نہیں ہوتا یے۔ یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان کے اندر "علم کل” مدفن ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ لیکن اس تحت الشعوری علم سے استفادہ اسی صورت میں ممکن ہو پاتا ہے جب حصول علم، تجربے، غلطی یا مثبت صحبت وغیرہ سے اسے بیدار کیا جاتا ہے۔ کتابوں کا مطالعہ قاری کو اسی دنیا سے دوسروں کے تخیل اور تجربے کے ذریعے متعارف کرواتا ہے۔
    گویا کتب کا مطالعہ انسان کی ذاتی دریافتوں کا عمل پے۔ لھذا کتابوں کے مطالعہ کے شوقین لوگ جو کتب بینی کے اس فیض سے استفادہ کرتے ہیں وہ کتابوں سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی وہ اپنی ذات سے کرتے ہیں۔

    ایوارڈ یافتہ عراقی مصنف علی الحدیثی کے بارے کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ جب اسے مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے تھے کہ، "ایک بار پھر میری کتابوں کی گٹھڑی بندھنے کو ہے، یہ میری ساتویں ہجرت ہے۔ جس کے پاس اپنی چھت نہ ہو، اسے کتابیں رکھنے کا کیا حق ہے؟ کتابیں تو محبوبہ کی مانند ہوتی ہیں، اور محبوبہ ہمیشہ اپنی ملکیت میں رہنا چاہتی ہے، اسے کرائے پر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ کرایہ دار کا نہ کوئی اپنا وطن ہوتا ہے، نہ کوئی اپنی لائبریری ہوتی ہے۔”

    جنگ عظیم دوم کے ہیرو اور انگلینڈ کے سابق وزیراعظم چرچل ہل کو کتب بینی کا بہت شوق تھا۔ ان کا ایک مضمون ہمارے نصاب میں بھی شامل تھا جس میں وہ اپنی پسندیدہ مگر کتابوں کی فالتو گٹھڑی کو رات کے اندھیرے میں دریائے تھیمز میں پھیکنے کے لیئے لاتے ہیں۔ جب چرچ ہل کتابوں کو پھینکنے لگتے ہیں تو عین آخری لمحے انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتابیں پانی میں پھینکنے سے ان کے جسم سے ان کی روح بھی پانی میں گھل جائے گا، جس وجہ سے وہ کتابوں کی اس گٹھڑی کو واپس گھر لے جاتے ہیں۔

    لندن میں قیام کے دوران میرا معمول تھا کہ جب لائبریری کی کوئی کتاب مجھے پسند آ جاتی تھی تو میں اسے واپس کرنے کی بجائے لائبریرین کو اس کی قیمت جمع کروا دیتا تھا۔ بعض اوقات یوں بھی ہوتا تھا کہ دو چار کتابوں کی قیمت جمع کروانے پر لائبریری انتظامیہ کو مجھ پر شک گزرتا تو وہ مجھے ممبرشپ ختم کرنے کی وارننگ جاری کر دیتے تھے۔ میں اس صورت میں عموما لائبریریاں تبدیل کرتا رہتا تھا۔ میں ایسٹ لندن کی تقریبا ساری لائبریریوں مثلا والتھم سٹو، سٹریڈ فورڈ، لیٹن، لیٹن سٹون اور الفورڈ وغیرہ کا ممبر تھا۔ لیٹن سٹون میں واقع میرا کمرہ قیمت دے کر ان چوری شدہ کتابوں کی ایک چھوٹی لائبریری کا منظر پیش کرتا تھا۔ واپس پاکستان آنے لگا تو میں وہ ساری کتب بوجوہ پاکستان نہ لا سکا۔ زندگی میں اور بھی بہت نقصان ہوئے مگر ان کتابوں کے کھونے کا مجھے آج بھی قلق ہے۔ میں عموما اپنی کتابیں اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔ کتاب کا مطالعہ کرتے وقت مجھے جو لائنز پسند آ جائیں انہیں انڈر لائن کر لیتا ہوں اور جب بھی وقت ملتا ہے ان لائنز کو دوبارہ پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں جس سے ایسا لگتا ہے میری روح اندر اور باہر کی ایک پوری دنیا گھوم آئی ہے۔

    کتابیں عموما دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جو آپ کو بدل دیتی ہیں اور دوسری وہ جو آپ کو بدلتی تو نہیں مگر آپ کو جگا دیتی ہیں۔ ان دونوں قسم کی کتابوں کا کمال یہ ہے کہ آپ بدل جائیں یا جاگ جائیں تو آپ پہلے سے بہتر انسان کے روپ میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ چونکہ کتب بینی آپ کے علم میں اضافہ کرتی ہے جس سے آپ کو اچھے اور برے کی پہچان ہونے لگتی ہے، آپ میں برداشت پیدا ہوتی ہے اور آپ کے اندر صبر و تحمل پیدا ہونے لگتا ہے۔ تواتر سے کتب بینی آپ میں نظم و ضبط اور سنجیدگی یعنی میچوررٹی پیدا کرتی ہے۔ ایک کتاب عموما ایک کہانی یا ایک موضوع کا احاطہ کرتی ہے جس سے آپ کو زندگی کی جذیات کی سمجھ آنے لگتی ہے۔

    آج کے انسان کا مسئلہ وقت کی کمی ہے۔ کتب بینی کے لیئے وقت نہ بھی نکلتا ہو تو کوئی نہ کوئی آن لائن تحریر ضرور پڑھنی چایئے۔ ایک اچھی تحریر موضوع اور مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر آپ کا نقطہ نظر تبدیل کرتی ہے یا واضح کرتی ہے۔ اس پر مستزاد مطالعہ سے آپ کے دماغ میں تحریر سے متعلقہ یا بلکل ہی نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں جس سے آپ کے دماغ کا تخلیقی حصہ بیدار ہونے لگتا ہے۔ آپ کتب بینی کا شوق پیدا کریں آپ کبھی بوڑھے نہیں ہونگے، آپ کی یادداشت بہتر ہوتی ہے اور دماغ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ انفرادی تحریر کے مقابلے میں کتب پر حاشیہ لگانا آپ کے لاشعور میں بھی ثبت ہو جاتا یے اور زندگی کے کسی موڑ پر جب اس سے ملتی جلتی صورتحال پیدا ہو جائے تو آپ کا لاشعوری ذہن آپ کی بہتر رہنمائی کرتا ہے۔

    مطالعہ کا میرا طریقہ واردات یہ ہے کہ میں عموما سونے سے پہلے تحریریں، کالمز اور مضامین وغیرہ پڑھتا ہوں اور جب سو جاتا ہوں تو میرا دماغ نیند میں بھی نفس مضمون، کرداروں اور الفاظ وغیرہ کی چھان بین کرتا رہتا ہے جس سے زندگی کے بارے میرا نقطہ نظر ارتقاء کرتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ میں نے جب سے مطالعہ کا یہ طریقہ اپنایا ہے میں مشکلات میں گھبراتا نہیں ہوں، مسائل کے حل کے لیئے مجھے زیادہ جدوجہد نہیں کرنا پڑتی اور ذہن میں روز نئے اور اچھوتے خیالات آتے ہیں۔

    کتب بینی اور مطالعہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا بچا ہوا وقت ضائع ہونے سے بچ جاتا یے اور وقت کا صحیح استعمال ہی زندگی ہے۔

    مطالعہ کے لئے کتابوں اور موضوعات کا انتخاب احتیاط سے کرنا چایئے۔ ہمیں معلوم ہونا چایئے کہ کون سی کتابیں پڑھنی ہیں۔ کیونکہ کچھ کتابیں بھی زہر کی مانند ہوتی ہیں۔ خود کو کسی بھی ایک نظریئے کے ساتھ باندھ لینے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کے خلاف کچھ نہیں پڑھ سکتے۔ یہ ایک خوفناک بات ہے۔ کتاب کا مطالعہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ناکہ وہ بند کرتا ہے۔

    ژاں پال سارتر کہتے ہیں کہ "میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی سیکھا ہے، سب کتابوں ہی کی دین ہے۔” ہم بعض دفعہ عقلی طور پر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حقائق سے آشنا ہو کر منطقی نتائج اخذ کرنے کے لیئے کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اسی لئے ہمارے اساتذہ کہتے ہیں کہ کتابوں کا مطالعہ کیجئے یا جس موضوع سے شغف ہو، اس موضوع کی متعلقہ تمام کتابوں کو پڑھیں۔

    ایک مفکر الجاحظ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ” کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔”

    اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔ ‏ان کتابوں کو بھی پڑھیں جن پر پابندی لگ چکی ہے ان لوگوں سے ملیں جن کو معاشرہ برا کہتا ہے ان جگہوں پر جائیں جہاں جانا منع ہے یہ چیزیں آپکو مضبوط بنائیں گی۔ کتابیں معاشرے کے بنے راستوں سے ہٹاتی ہیں، آپکو ایسے تجربات سے آگاہ کرتی ہیں جن کے متعلق معاشرہ آپکو آگاہ نہیں کر سکتا یے۔

    مذہبی معاشروں میں فلسفہ اور تحقیقی کتابیں پڑھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے مگر یہ کتابیں انسان کے علمی معیار کو ترقی کی منازل طے کروانے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کتابیں اِن سوالات سے آشنا کرتی ہیں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ علم کی حقیقیت کیا ہے؟ علم کا سرچشمہ کہاں ہے؟ دائرہ علم کی حد کیا ہے؟ نقصان دہ کیا ہے؟ یہ سوالات ہر قوم کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین تعلیم نے علم کی حقیقت اور ماہیت کو سمجھنے اور پرکھنے پر زور دیا ہے۔ جس وجہ سے انسان کے شعور سے آشنائی کا ذریعہ صرف کتابیں قرار پائی ہیں، جو علم کا مرکز و محور ہیں. انسان جب پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ سب کچھ پڑھنا چاہتا ہے جس کی مثال اس اہرام کی سی ہے جو نیچے سے بہت بڑا ہوتا ہے مگر اوپر جا کر ایک نوک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح کچھ کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں شروع میں سب کچھ پڑھا جاتا ہے مگر وہ آہستہ آہستہ سمجھ میں آتا ہے۔

    کتابیں صرف انسان کی بہترین دوست اور ساتھی ہی نہیں بلکہ علم کا خزانہ بھی ہیں۔ مشہور شاعر شیلے کہتے ہیں کہ مطالعہ ذہن کو جلا دینے اور اس کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ جبکہ "ابراہیم لنکن” کا کہنا ہے کہ کتابوں کا مطالعہ ذہن کو روشنی عطا کرتا ہے۔ "والٹیئر” کا قول ہے کہ وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں۔ کتابوں کی سیاحت میں انسان شاعروں، ادیبوں، مفکروں اور داناؤں سے ہم کلام ہوتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں عام طور پر احمقوں اور بے وقوفوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بقول شخصے اگر آپ مہینے میں ایک دو کتابیں پڑھیں اور پندرہ سولہ سال کی عمر میں پڑھنا شروع کریں تو ستر سال کی عمر تک آپ ایک ہزار کے قریب کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے بیش تر لوگوں کے لئے یہ تسلسل اور تواتر قائم رکھنا مشکل ہے کیونکہ دوسرے کام بھی کرنا ہوتے ہیں۔ لہٰذا زندگی میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کا ٹارگٹ رکھنا چایئے۔ کتابوں کے موضوعات اور مصنفین کا انتخاب بھی احتیاط سے کرنا چایئے جو مثبت ہو اور آپ کے مقصد حیات کے قریب تر ہو۔

    ایک واقعہ مشہور ہے کہ کتابوں کے مطالعہ کا شوقین ایک شخص سمندری جہاز میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوتا ہے۔ اچانک سمندر میں طوفان آ جاتا ہے اور جہاز ڈوبنے لگتا ہے۔ شپ میں سوار سارے لوگ رونے اور آہ و بقا کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص کتاب کے مطالعہ میں مصروف آدمی سے کہتا ہے، "سارے لوگ مرنے جا رہے ہیں اور آپ سکون سے کتاب کیوں پڑھ رہے ہیں؟” اس پر کتاب کا قاری جواب دیتا ہے کہ، "اگر مجھے معلوم ہے کہ تھوڑی دیر بعد میں مرنے جا رہا ہوں تو میں اپنا وقت کتاب پڑھ کر اپنی روح کو ترقی دینے کی بجائے آہ و فغاں میں کیوں ضائع کروں۔”

    مطالعہ میں گزرنے والا وقت گزرتا نہیں بلکہ تھم جاتا ہے، آپ زندگی کو خوبصورت بنانا چاہتے، کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں اور خوش و مطمئن گزارنا چاہتے ہیں تو مطالعہ کی عادت اپنائیں، آپ کی زندگی کا حسن نکھرنے لگے گا اور آپ پہلے سے بہتر انسان بننے لگیں گے کیونکہ مطالعہ انسان کو آگاہی فراہم کرتا ہے اور ہمیں اس دنیا کی سیر کرواتا ہے جہاں ہم پہلی بار داخل ہوتے ہیں۔

    Title Image by Pexels from Pixabay

  • دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    Dubai Naama

دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai


    کویت سنہ 1994ء میں کسی ملک پہلی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ تب طالب علمی کے زمانے میں حب الوطنی کے بارے بہت کچھ پڑھ اور سن رکھا تھا۔ شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریت اور مٹی کے صحرا میں واقع 3 گھنٹوں کی مسافت اور 2 شہروں پر مشتمل کویت کو دیکھ کر کھلا ڈلا مادر وطن "پاکستان” بہت زیادہ یاد آیا تھا۔ بیرون ملک یہ میرا پہلا سفر تو تھا ہی مگر آپ حیران ہونگے کہ میرا دوسرا غیرملکی سفر بھی کویت ہی کا تھا جب سنہ 1997ء میں صحافی کے طور پر مجھے دوبارہ کویت جانے کا موقعہ ملا۔ پہلی بار بھی وہاں حکومت کویت کی دعوت پر گیا تھا اور دوسری بار بھی کویت کی اطلاعات و نشریات کی "وزارتہ الاعلام” نے بلایا۔ اس وقت ایک عربی زبان جاننے والے دوست نے میرے کویت کے ویزہ پر لفظ "مجانہ” لکھا دیکھا تو مشورہ دیا کہ میں متحدہ عرب امارات کا ویزہ بھی لگوا لوں۔ چونکہ میرے پاس کویت کا سرکاری ویزہ تھا میں اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ گیا تو میرا امارات کا ویزہ بھی لگ گیا۔ لیکن تب بھی "دبئی” Dubai اتنا مشہور تھا کہ متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ کو لوگ "متحدہ عرب امارات ایمبیسی” کی بجائے "دبئی ایمبیسی” کہتے تھے۔


    میں دوسری دفعہ کویت گیا تو حکومت کویت کی وزارت اطلاعات کا عملہ مجھے ائیر پورٹ پر رسیو کرنے کے لیئے موجود تھا۔ میں نے جنوری، سنہ 1991ء میں کویت کی آزادی کے حق میں کچھ کتابچے اور  اخبارات میں مضامین لکھے تھے۔ یہ ریکارڈ کویت ایمبیسی میں موجود تھا۔  جب 28فروری سنہ 1991ء میں کویت عراق کے قبضے سے آزاد ہوا تو کویت کی حکومت نے مجھے خصوصی طور پر کویت جانے کی دعوت دی مگر بوجوہ میں پہلی اور دوسری بار بلترتیب 1994 اور 1997 میں کویت جا سکا۔ جب میں دوسری بار کویت گیا تو کویتی حکام مجھے کویت کا دوسرا شہر دکھانے کے لیئے "فاہیل” بھی لے کر گئے۔ کویت کے میرے اس دورے کے بنیادی مقصد میں کویت کی تاریخ اور تعمیر نو کے بارے میں کچھ مزید مضامین لکھنا شامل تھے۔ لیکن کویت کے اس دس روزہ دورے کے دوران بھی دبئی Dubai کے بارے بہت ساری معلومات پڑھنے اور سننے کو ملیں۔ جب میں کویت سے واپسی پر دبئی ائیر پورٹ پر اترا تو دبئی ائیرپورٹ کو دیکھ کر تجسس دوبالا ہو گیا۔ اس وقت تک میرے سمیت دیگر پاکستانیوں کی اکثریت صرف  دبئی کو جانتی تھی۔ پاکستانی عوام شارجہ کا نام بھی محض شارجہ میں ہونے والے کرکٹ میچوں کی وجہ سے سنتے اور یاد رکھتے تھے جن میں زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہوتا تھا کہ دبئی ایک ملک ہے اور شارجہ اس کا کوئی شہر ہے۔
    میں جنوری اور مارچ سنہ 1997ء میں دبئی Dubai مزید دو بار وزٹ پر آیا، میں جولائی سنہ 1998ء میں پاکستان سے انگلینڈ چلا گیا، مگر اس شہر کی چھاپ دل و دماغ میں ایسی بیٹھی کہ میں جب 9سال بعد سنہ 2007ء میں پاکستان آیا تو جون 2008ء میں ایک بار پھر دبئی آ گیا اور پھر یہ شہر دل کو ایسا بھایا کہ یہاں پکے پکے ڈیرے جما لیئے۔  1997 میں  عجمان سے دبئی آتے ہوئے رستے میں ریت کے ٹیلوں اور "ملا پلازہ” کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جب دوسری ریاستوں سے ٹریفک دبئی آتی تھی تو تیز ہوا کے طوفان سے سڑکیں ریت سے بھر جایا کرتی تھیں۔ شیخ زید روڈ پر "کراو’ن پلازہ” اور چند دیگر عمارتیں نظر آتی تھیں۔ تب "برج العرب” تکمیل کے مراحل میں تھا جس کا افتتاح دسمبر 1999ء میں ہوا۔ اٹلانٹس ہوٹل،  جمیرا کے ویلاز اور جے بی آر وغیرہ کی تعمیرات بھی جاری تھیں۔ برج خلیفہ جس کا پہلے "برج دبئی” نام تھا بھی 2004 میں شروع ہو کر 2010 میں مکمل ہوا۔ اسی دوران  دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال یعنی "دبئی مال” جس کا پہلا نام "دی دبئی مال” تھا کی اوپننگ بھی 4نومبر 2008 کو ہوئی جس کی مزید توسیع کی چند روز قبل منظوری دی گئی ہے۔
    گو کہ دبئی مال دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ہے مگر اب یہ مزید پھیلنے کیلئے تیار ہے۔ دبئی مال کی توسیع کے منصوبے پر 40 کروڑ ڈالرز سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔ میں نے دبئی Dubai کے وزٹس اور 2008 کے بعد اس کی مسلسل ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہاں نئی عمارات، سڑکوں کا نظام  اور انفراسٹرکچر ایسا ہے کہ ہر نیا آنے والا مسافر دبئی Dubai کی ترقی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے 1997 کے وزٹ کے دوران ایک جرمن جوڑے سے پوچھا تھا کہ جرمنی اور دبئی میں کیا فرق ہے تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ دبئی میں جرمنی سے زیادہ خوبصورت عمارتیں ہیں، یہاں کی سڑکیں اچھی ہیں اور مہنگی کاریں زیادہ ہیں۔ حالانکہ جدید ترقی کے لحاظ سے جرمنی انگلینڈ سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ میں انگلینڈ میں 9 سال رہا ہوں مجھے سہولیات، امن و امان اور بہت سے دیگر مواقع کی وجہ سے لندن کے مقابلے میں دبئی زیادہ پسند ہے۔ میرے خیال میں کم ترین وقت میں دبئی دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی ریاستوں اور شہروں میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس وقت بھی دبئی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ شائد دبئی کو تعمیراتی شعبے میں ریکارڈز بنانا بہت زیادہ پسند ہے۔
    دبئی Dubai دنیا کی بلند ترین عمارت کا گھر ہے اور  اسی شہر میں دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر بھی موجود ہے جو اب مزید پھیلنے جا رہا ہے!
    دبئی مال ایک کروڑ 20 لاکھ اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلا ہوا شاپنگ سینٹر ہے اور اب اس میں مزید 240 دکانوں اور ہوٹلوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس شاپنگ  سینٹر میں دنیا کا سب سے بڑا فش ایکوریم بھی موجود ہے جبکہ یہاں ڈیجیٹل آرٹ میوزیم بھی ہے، 15 کروڑ سال پرانا ڈائنا سور کا ڈھانچہ بھی ہے اور 26 اسکرینوں پر مشتمل ایک سنیما کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔
    دبئی Dubai کی نئی تعمیرات میں 58 میل طویل ائیر کنڈیشنڈ شاہراہ کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ دبئی میں سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ فروری 2023 میں اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی تھیں جس کے مطابق یہ شاہراہ اٹھاون میل طویل ہو گی جس کے اوپر ایک چھت موجود ہو گی اور اسے "دی لوپ” کا نام دیا جائے گا۔


    بنیادی طور پر یہ شاہراہ سائیکل چلانے یا پیدل گھومنے والوں کے لئے ہو گی جس کا ایک مقصد دبئی Dubai میں کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ پہنچ جانے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ شاہراہ دبئی Dubai کے گرد گھومے گی اور یہ گاڑیوں سے پاک سر سبز راہداری ہو گی تاکہ لوگ پیدل یا سائیکل پر شہر کی سیر کر سکیں!
    میں جب 80 کی دہائی میں پاکستان لاہور ایف سی کالج کا طالب علم تھا تو مجھے لاہور بہت پسند تھا۔ لاہور میں شالیمار باغ ہے، شاہی قلعہ اور شاہی مسجد ہے جس کے دامن میں مزار اقبال ہے، پنجاب یونیورسٹی ہے اور سب سے بڑھ کر وہاں تاریخی مقام "چوبرجی” اور "انار کلی بازار” ہیں۔ یہاں تک کہ لاہور میں جتنی رونقیں ہیں یا وہاں کے شہری جتنے مہمان نواز اور "جی دار” ہیں، لوگ بجا طور پر کہنے میں حق بجانب ہیں کہ "لہور لہور اے” مگر لاہوری بھی دبئی آتے ہیں تو اسے دیکھ کر لاہور کو لاہور کہنا بھول جاتے ہیں کہ دبئی Dubai واقعی دنیا بھر کا ایسا "عروس البلاد  شہر” (میٹروپولیٹن سٹی) بن چکا ہے کہ دبئی آنے والے سیاح دبئی کے ائیر پورٹ ٹرمینل3 پر اترتے ہی اس شہر کو دل دے بیٹھتے ہیں کہ لاہور میں اب پولیوشن کے سوا کچھ نہیں بچا۔
    دبئی Dubai میں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہیں جن میں ہر طرف صفائی ہے جو ماحول دوست ہیں تعمیر و پائیداری کا نمونہ ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کا رش  ہے مگر دھواں نہیں، یہاں جھیلیں ہیں، چھوٹی لگژری لانچیں ہیں، شاہراہوں کے کناروں کے ساتھ کیفے اور ریسٹورنٹس ہیں، کھجور اور پام کے درخت ہیں، آپ کھلے سمندر کے کنارے چلے جائیں تو مجال ہے کہ وہاں کوئی شاپر بیگ، کھانے کے ریپر، پلاسٹک کی بوتلیں یا کوئی دیگر کباڑ پھینک سکے۔ٹریفک جام نہیں ہوتی، فلائی اوور برجز ہیں، سڑکیں صرف اس مقام سے عبور کی جاتی ہیں جہاں زیبرا کراسنگ ہو، گاڑی پارک کرنے کی فیس ہے، لباس پہننے کی آزادی ہے لیکن اس پر اعتراض کرنے کا حق کسی فرد کو نہیں۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے  کہ دبئی ایک منظم زندگی کا شہر ہے۔ پاکستان کے بہت سے شہر دبئی سے زیادہ قدرتی وسائل کے مالک ہیں، پاکستان میں پانی کی کمی ہے لیکن پھر بھی وہاں پانی اس قدر وافر ہے کہ لوگ گلیوں میں بہاتے رہتے ہیں، جس سے جگہ جگہ جوہڑ بن جاتے ہیں اور مچھروں کی نرسریاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس سے ہماری "سوک سینس” کی سطح ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اپنے وسائل کو کس بے دردی سے لٹا رہے ہیں۔ دبئی میں ترقی کے عمل کا شاید ہی ہمارے فیصلہ سازوں اور ماہرین تعلیم نے کبھی تجزیہ کیا ہو، دبئی کی ریاست کے بارے زیادہ تر علم میڈیا کی کوریج سے ملتا ہے، خاص طور پر نیوز میگزین اور کاروباری رپورٹس سے، دنیا دبئی کی ترقی کو ایک ماڈل کے طور پر جانچ رہی ہے جو کہ ایسا کاروباری ماڈل ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود صرف دولت سے مزید دولت پیدا کرنے میں دبئی دنیا بھر کے شہروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ پوری دنیا کا پیسہ بلا رکاوٹ یہاں پہنچ رہا ہے۔
    گزشتہ 10 برسوں میں متحدہ عرب امارات کی تیل کے بغیر تجارت 16.14 کھرب درہم (4.4 کھرب امریکی ڈالر) تھی۔ متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی سنہ 2021ء میں 407 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2022ء میں 440 ارب ڈالر اور سنہ 2023ء میں 467 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی کس جی ڈی پی جو سال 2020ء میں 43,868 ڈالر تھی، بڑھ کر گزشتہ سال 48,822 ڈالر ہو گئی۔ تیل کی پیداوار جو کبھی دبئی Dubai کی مجموعی جی ڈی پی کا 50 فیصد تھی، آج ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتی ہے۔ سنہ 2018ء میں تھوک اور خوردہ تجارت کل جی ڈی پی کے 26 فیصد کی نمائندگی کرتی تھی۔ نقل و حمل اور لاجسٹکس 12 فیصد، بینکنگ، انشورنس اور کیپٹل مارکیٹ 10 فیصد، مینوفیکچرنگ 9فیصد، رئیل اسٹیٹ 7 فیصد، تعمیرات 6 اور سیاحت 5 فیصد تھی۔ تازہ ترین اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیاحت، مینو فیکچرنگ اور کیپٹل مارکیٹ میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔
    آج دبئی Dubai نے ہوٹلوں کی تعمیر اور رئیل اسٹیٹ کو ترقی دے کر اپنی معیشت کا محور سیاحت کو بنا لیا ہے۔ پورٹ جبل علی، جو 1970ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا، دنیا کی سب سے بڑی انسانی ساختہ بندرگاہ ہے۔ دبئی مارینہ کے علاوہ ڈیرہ مرینہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ واٹر فرنٹس، گرین سٹی اور سموک فری سٹی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کے درمیان بلٹ ٹرین کا منصوبہ زیر تکمیل ہے جو اڑھائی گھنٹے کی بجائے یہ فاصلہ صرف 30 منٹ میں طے کروائے گا۔ یہ ٹرین جاپانی ٹرینوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہو گی۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، آئی ٹی اور فنانس جیسی سروس انڈسٹریز کے مراکز بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ایمریٹس ایئرلائن کی بنیاد حکومت نے 1985ء میں رکھی تھی (جسے پی آئی نے پروموٹ کیا تھا)، یہ اب بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور دنیا کی آج بھی انتہائی منافع بخش اور نمبر ون آئیر لائن ہے جبکہ خود پی آئی اے بنک رپٹ ہو چکی ہے۔


    دبئی Dubai دنیا بھر کے کاروباری دفاتر کا مرکز ہے، یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے لئے سب سے بڑا کاروباری گیٹ وے ہے اور بزنس ہب ہے، دبئی انٹرنیٹ سٹی، اب دبئی میڈیا سٹی کے ساتھ دبئی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک کامرس اور میڈیا فری زون اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسا انکلیو ہے جس کے ممبران میں آئی ٹی فرمز جیسے ای ایم سی کارپوریشن، اوریکل کارپوریشن، مائیکروسافٹ، سیج سافٹ ویئر اور آئی بی ایم شامل ہیں۔ کئی میڈیا ہاوس جیسے ایم بی سی، سی این این، رائٹرز اور اے پی کے دفاتر یہاں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے میڈیا اداروں کے نمائندے یہاں موجود ہیں۔ دبئی نالج ولیج، دبئ فری زونز، دبئی انٹرنیٹ سٹی اور دبئی میڈیا سٹی بھی کام کر رہے ہیں، جو کلسٹرز کے مستقبل کے کارکنوں کو تربیت دینے کے لئے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دبئی آؤٹ سورسنگ زون ان کمپنیوں کے لئے ہے جو آؤٹ سورسنگ کی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ یہاں کمپنیاں دبئی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعات کے ساتھ اپنے دفاتر قائم کر سکتی ہیں۔
    مزید برآں دبئی Dubai میں سیاحت کے لیئے شاپنگ مالز، ڈزنی لینڈز، برج العرب کے ساتھ "وائلڈ وادی”، ڈو کروز، ڈیزرٹ سفاری دبئی مال کا "واٹر ڈانس”، شوٹنگ، اور دیگر بے شمار ایسی ٹورسٹ اٹریکشنز ہیں کہ دبئی Dubai میں دنیا بھر سے سیاح امڈ آتے ہیں جس سے سیاحت دبئی کے لیئے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی نقدی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لئے سیاحت دبئی حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیاحت کے شعبے نے سنہ 2017ء میں جی ڈی پی میں تقریباً 41 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، جو کہ جی ڈی پی کا 4.6 فیصد بنتا ہے اور یہ شعبہ تقریباً 570,000 ملازمتیں بھی فراہم کرتا ہے، جو کل روزگار کا 4.8 فیصد بنتا ہے۔سال 2007ء سے2017ء کے دوران جی ڈی پی میں اس شعبے کی شراکت میں 138 فیصد اضافہ ہوا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2016ء میں 83.6 ملین مسافروں کو خوش آمدید کہا اور اسی سال 14.9 ملین سیاح دوبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرے، جو کہ 2015ء سے 5% زیادہ تھا۔2023 اور 2024 میں سیاحوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
    پاکستانی فخر سے لاہور کے بارے کہتے تھے: "جئنے لہور نہئ ویکھیا او جمیا ای نہئ” اب دبئی Dubai کی اس بے مثال ترقی کو دیکھتے ہوئے دنیا دبئی کے بارے کہتی ہے کہ جس نے دبئی نہیں دیکھا اس نے دیکھا ہی کیا ہے؟  انڈیا اور پاکستان سے لوگ تیزی سے یہاں کاروبار قائم کر رہے ہیں اور پراپرٹیاں خرید رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انڈین اور پاکستانی دبئی میں زیادہ پراپرٹیوں کے مالکان کے طور پر بلترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ریکارڈ کیئے گئے۔ یہ ہمارے لیئے سبق آموز بات ہے کہ دبئی Dubai کتنا کاروباری دوست ماحول رکھتا ہے جس کے مقابلے میں پاکستان انوسٹمنٹ کے لحاظ سے کس قدر بدترین ملک ہے۔
    آج کی سائنسی ٹیکنالوجی اور کونیات کے دور میں دولت اور ذرائع سے زیادہ "آئیڈیاز” بکتے ہیں۔ دبئی Dubai ہر لحاظ سے ایک لبرل اور کمرشلایزڈ سٹیٹ ہے۔ آپ کے پاس کوئی اچھوتا خیال ہے، آپ محنت کرنا جانتے ہیں یا آپ میں کوئی بھی غیر معمولی صلاحیت ہے تو دبئی Dubai ایسا شہر اور ریاست ہے جہاں آپ کو آگے بڑھنے کا ضرور موقع ملتا ہے۔ مجھے دبئی میں رہتے ہوئے 15 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ میں مزدوروں اور ان پڑھوں کو اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ملینئیر بنتے دیکھا ہے۔۔۔ قانون شکنی کیئے یا کسی کو نقصان پہنچائے بغیر آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور جو چاہیں بیچ سکتے ہیں جو شرطیہ منافع کی ضمانت ہے۔ دبئی اپنی انہی لچک دار پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی کاروباری شخصیات کو اٹریکٹ کرتا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کچھ ممالک کے ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے مگر ان ممالک کے شہری ہیں کہ دبئی پہنچنے کے لیئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کر کے یہاں پہنچنے کے لیئے پریشان و بیتاب ہیں۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ دبئی دنیا کے ہر شہری کو وہ سہولیات اور پرامن رہنے کی وہ سہولیات فراہم کرتا ہے جو دُنیا کا دوسرا کوئی ملک یا شہر فراہم نہیں کرتا۔


    دبئی Dubai دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جہاں دوست اور دشمن ایک ساتھ امن و سکون سے رہ رہے ہیں۔ کہاوت کے مطابق، یہاں شیر اور بکری قانون کی پابندی اور حکومت کے اس پر عمل کروانے کی وجہ سے ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ جہاں قانون کی بالادستی ہو وہاں نہ صرف ترقی ہوتی ہے بلکہ وہاں دنیا کے تمام ممالک سے لوگ امان پانے کے لیئے کھچے چلے آتے ہیں۔  
    Title Image by Pexels from Pixabay

  • دنیا کی درسگاہوں کی رینکنگ اور مسلم دنیا کا علمی زوال

    دنیا کی درسگاہوں کی رینکنگ اور مسلم دنیا کا علمی زوال

    دنیا کی درسگاہوں کی رینکنگ اور مسلم دنیا کا علمی زوال

    Dubai Namma

دنیا کی درسگاہوں کی رینکنگ اور مسلم دنیا کا علمی زوال

    دنیا پر آج تک جتنی بھی قوموں نے حکومت کی ہے وہ اپنے وقت کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ قومیں تھیں۔ آج مسلم دنیا کے زوال کی ایک بنیادی وجہ اس کے تعلیمی اداروں کی ناقص کارکردگی ہے جس سے مستقبل کے لیئے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل تیار نہیں ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی دنیا کے ذہین و فطین طلباء کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کنیڈا اور دیگر مغربی ممالک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر طلباء اپنے ممالک میں اعلی تعلیم کا ریوارڈ نہ ملنے کی وجہ سے انہی ممالک میں روزگار تلاش کر لیتے ہیں یا پھر بعض طلباء تو ان ممالک کی مستقل شہریت بھی لے لیتے ہیں۔

    ان ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت پاکستان جیسے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے اعلی دماغ رکھنے والے طالب علموں کو سکالرشپ بھی دیتی ہے۔ لھذا غریب اور متوسط طبقے کے طالب علم عموما ان وظائف سے بھرپور فائدہ اٹھا کر باہر چلے جاتے ہیں۔ چونکہ ان امیر ملکوں میں معاوضہ بھی زیادہ ملتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک سے بہت سے طالب علم وہاں کی مستقل شہریت لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس پر مستزاد ہمارے ہاں عالمی پائے کے معیار کی تعلیمی درسگاہیں بھی نہیں ہیں۔ حال ہی میں دُنیا کی 100بہترین یونیورسٹیوں کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں افسوسناک حد تک پاکستان کی کسی یونیورسٹی کا نام شامل نہیں ہے۔

    اس فہرست کے مطابق امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی رواں برس بھی پہلے نمبر پر موجود ہے۔ امریکہ ہی کی ییل Yale یونیورسٹی دوسری سے تیسری پوزیشن پر آ گئی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی اس مرتبہ بھی ہاورڈ یونیورسٹی کے برابر ایک نمبر پر ہے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی تیسرے سے دوسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔

    اس سال کی فہرست میں چوتھی پوزیشن یونیورسٹی کالج لندن کو ملی ہے، جو گزشتہ برس ساتویں نمبر پر تھی۔ پانچویں پوزیشن امپیریئل کالج لندن اور آکسفورڈ یونیورسٹی کو مشترکہ طور پر دی گئی ہے۔ گزشتہ برس آکسفورڈ چوتھے اور امپیرئیل کالج چھٹے نمبر پر تھا۔

    اس سال چھٹے نمبر پر یونیورسٹی آف شکاگو، ساتویں پر پرنسٹن یونیورسٹی، آٹھویں پر ایم آئی ٹی، نویں پر کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دسویں نمبر پر نیو یارک میں قائم کولمبیا یونیورسٹی شامل ہے۔ ایک سو بہترین بین الاقوامی تعلیمی اداروں کی اس فہرست میں سے بیشتر امریکی اور برطانوی یونیورسٹیاں ہیں۔ تاہم تازہ فہرست میں امریکی یونیورسٹیوں کی تعداد گزشتہ برس کے 37 کے مقابلے میں کم ہو کر 32 ہو گئی ہے۔ برطانیہ کے 17 تعلیمی ادارے اس فہرست میں شامل ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 18 تھی۔

    اس فہرست میں آسٹریلیا تیسرے نمبر پر ہے، جس کے 8 تعلیمی ادارے اس فہرست میں شامل ہیں۔ جبکہ گزشتہ برس اس کی سات یونیورسٹیوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ رواں برس آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی اس فہرست میں 17ویں نمبر پر ہے۔

    برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کے 21 تعلیمی ادارے اس فہرست میں شامل ہیں، جن میں سرفہرست سوئٹزرلینڈ کا ETH زیورخ ہے۔ اسے یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ساتھ مشترکہ طور پر 20ویں پوزیشن دی گئی ہے۔ جرمن دارالحکومت برلن کی فری یونیورسٹی چوراسویں پوزیشن پر ہے۔

    اس فہرست میں ایشیائی یونیورسٹیوں کی تعداد 16ہے، جو گزشتہ برس 14تھی۔ ان ایشیائی یونیورسٹیوں میں پاکستان کا نام کسی نمبر پر موجود نہیں ہے۔ رواں برس جاپان کی یونیورسٹی آف ٹوکیو 22ویں نمبر پر ہے جبکہ یونیورسٹی آف ہانگ کانگ 24 ویں نمبر پر براجمان ہے۔

    دوسری جانب براعظم ایشیا کی سو اعلیٰ جامعات کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جن میں ہانگ کانگ یونیورسٹی سرفہرست ہے۔ ہانگ کانگ ہی میں قائم چائنا یونیورسٹی کو دوسری پوزیشن دی گئی ہے۔جاپانی دارالحکومت ٹوکیو کی مشہور یونیورسٹی عالمی سطح پر بائیسویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایشیاء میں اُس کی رینکنگ تیسری ہے۔ افسوس ہے کہ اس فہرست میں بھی پاکستان کا نام نہیں ہے۔ دنیا کی ٹاپ ٹین یونیورسٹیوں میں سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی اور بیجنگ یونیورسٹی بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت کا بھی کوئی تعلیمی ادارہ اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

    یونیورسٹیوں کی یہ عالمی ریکنگ تعلیمی اداروں کے سروے کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہے۔ اس سروے میں دُنیا بھر سے منتخب ماہرین تعلیم حصہ لیتے ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں میں تحقیقی سہولتوں، تعلیمی معیار اور بیرون ممالک سے طلباء اور اساتذہ کو بھرتی کرنے کی اہلیت کے نتاظر میں جائزہ پیش کرتے ہیں۔ یہ فہرست لندن کا ‘ٹائمز ہائیر ایجوکیشن سپلیمنٹ’ ترتیب دیتا ہے۔

    جدید دور علمی عروج اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور یہ یونیورسٹیاں ہی ہیں جو اعلی تعلیم دے کر طلباء کو بہتر مستقبل کے لیئے تیار کرتی ہیں۔ لاہور کی ‘پنجاب یونیورسٹی’ کا عرب ممالک اور دنیا بھر میں ایک نام ہے۔ اسی طرح ‘شارجہ یونیورسٹی’ رقبے کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے مگر دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں ان دونوں کا نام شامل نہیں ہے! جب تک مسلمان قوم بہترین درسگاہیں تیار نہیں کرتی اور اپنی آئندہ نسلوں میں حصول علم اور سائنس و ٹیکنالوجی کا شوق پیدا نہیں کرتی اسے دوبارہ عروج حاصل نہیں ہو گا۔ اسلامی دنیا میں دولت اور وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ دراصل، مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجہ ان کا علمی زوال ہے۔

    Title Image by Olya Adamovich from Pixabay

  • انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر 

    انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر 

    انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر 

    Dubai Naama

انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر

    انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر، جانے کے لئے ہم بعد از دوپہر 2بجے روانہ ہوئے۔ کتابوں کے تھیلے اٹھا کر گاڑی میں رکھنے کا جو تھیلا میرے حصے میں آیا اس میں رکھی سب سے اوپر والی کتاب کا عنوان "ابلیس” لکھا تھا۔ یہ کتاب اپنے عجیب و غریب عنوان کی وجہ سے مجھے کافی دلچسپ محسوس ہوئی۔میں نے یہ کتاب الگ کی اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ لی۔ گوکل نے شارجہ ایکسپو سنٹر کا فاصلہ 20منٹ ظاہر کیا مگر ٹریفک کے رش کی وجہ سے گاڑی ایک جگہ رکی تو سرمد خان صاحب نے  مجھے خاموش دیکھ کر پوچھا، "بھٹی صاحب کیا چل رہا ہے”؟ الہامی کتب کے مطابق ابلیس اللہ تعالی کا مقرب ترین فرشتہ تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنا عبادت گزار تھا کہ اس نے زمین کے چپے چپے پر سجدہ کیا تھا۔ وہ اپنے علم میں بھی تاک تھا اور اس نے بتا دیا تھا کہ انسان زمین پر ناحق قتل و غارت اور "خون ریزی” کرے گا۔ اسی لیئے جب فرشتوں کے انسان کو سجدہ کرنے کی باری آئی تھی تو ابلیس نے غرور کیا تھا اور اپنی عبادت اور علم کے زعم میں آ کر انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اللہ تعالی نے اسے قیامت تک رائندہ درگاہ کر دیا تھا۔ ابلیس کو اس نافرمانی کی وجہ سے "شیطان” بھی کہا جاتا ہے۔ ابلیس کے عنوان والی اس کتاب کی مصنفہ نمرہ احمد ہیں۔ میرے بائیں طرف پچھلی سیٹ پر پاکستان سے آئے ہوئے مہمان فرقان صاحب بیٹھے تھے شائد انہوں نے بھی میری "باڈی لینگویج” کو دیکھ لیا تھا۔ میں نے اس کتاب کی ورق گردانی کی "ایکٹنگ” کرنے کی کوشش کی اور اسرائیل فلسطین جنگ کا موضوع چھیڑ دیا۔ میں نے جوابا کہا: "سر، غزہ کی پٹی میں درجنوں سینکڑوں بے گناہ بچے، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان روزانہ کی بنیاد پر قتل ہو رہے ہیں”۔  انسانی نسل کشی کا غم کچھ درد دل رکھنے والوں کے لئے انسانیت کا اجتماعی دکھ ہے جو ایک ہی انسان میں جمع ہو جائے تو اس کا کتھارسس کرنا آسان نہیں ہے۔ ایسی کیفیت میں خاموشی اور پریشانی ایک فطری عمل ہے۔ شارجہ ایکسپو سینٹر تک پہنچنے میں ہمیں 40منٹ لگ گئے اور اس دوران سارا وقت یہی موضوع چلتا رہا۔

    انٹرنیشنل شارجہ بک فیئر 
    Image by Ahmad Ardity from Pixabay

    شارجہ ایکسپو سینٹر جونہی نظر آیا جلی حروف میں ہر انٹری گیٹ پر لکھا تھا، "We Speak Books” جس کا مفہوم میرے حساب سے یہ بنتا ہے کہ ہم وہی کچھ بولتے ہیں جو ہم کتابیں پڑھ کر اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔  تین روز قبل شارجہ "وزڈم ہاو’س” سے سرمد خان کے بک سٹال "اردو بکس ورلڈ”
    (ہال نمبر: 7، سٹینڈ نمبر: زیڈ بی8) کو کچھ آرڈر ملا تھا جس کو پورا کرنے کے لئے وہ ایک روز کے لئے کراچی چلے گئے تھے اور اگلے ہی روز وہ پندرہ پندرہ کلوگرام کے کتابوں کے دو تھیلے لے کر واپس آ گئے۔ ہمارے پاس پلاسٹک کے 3بیگوں میں بھی کتابیں تھیں۔ ان کتابوں کی بنیادی جانچ پڑتال کے لیئے ہمیں گیٹ نمبر2 پر بھیج دیا گیا، دس پندرہ منٹ  بعد ہمارے "انٹری پاس” بنے، ہم میں سے ایک نے انٹری بک میں دستخط کیئے اور ہم یہ ساری کتابیں ٹرالی میں رکھ کر کتاب میلہ کے اندر لے  گئے۔ میں نے وقفے وقفے سے دیکھا کہ ہر جگہ قد آدم کی اونچائی پر یہی حروف لکھے تھے کہ، "ہم کتابیں بولتے ہیں”۔ یہ بات قدرے ٹھیک بھی ہے کہ ہمارے دماغ کی ساخت ایسی ہے کہ ہم مطالعہ، واقعات  اور تجربات  وغیرہ کی صورت میں اپنے لاشعور کو جو فیڈ کرتے ہیں آئندہ زندگی میں شعوری طور پر ہم وہی کچھ بولتے ہیں اور پھر اسی پر عمل کرتے ہیں۔ سٹال پر ہمارا استقبال نوعمر عظیم انصاری (وہ ویب ڈویلپر بھی ہیں) نے کیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے سرمد خان سے اردو کے دیگر سٹالز کے بارے پوچھا تو انہوں نے بزم اردو کے "گوشہ ادب” (حال نمبر6 سٹینڈ نمبر018)
    کے بارے میں بتایا۔ اس سٹال کا احتمام محترمہ فرزانہ منصور نے کیا ہے۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو ان کی جگہ۔ ہماری ملاقات زبیدہ خانم سے ہوئی۔ وہیں ہم انڈین خاتون محترمہ کہکشاں سے بھی ملے جنہیں ہم بعد میں اپنے بک سٹال پر لائے تو انہوں نے اپنے سکول کی لائبریرین محترمہ لتا کو فون کر کے بلا لیا جنہوں نے اپنے سکول کے لئے کم و بیش 10اردو کی کتابیں خریدیں اور کچھ مزید ٹائٹلز کے آرڈر بھی دیئے۔

    اس کتاب میلے میں انڈیا کے 100پبلشرز کی شرکت کا سنا تھا۔ ان میں سے کچھ بک سٹالز کا وزٹ بھی کیا۔ لیکن تشنگی تھی کہ پہلے پاکستانی اردو کتب کے سٹالز کی سیر کی جائے۔ لیکن پتہ چلا کہ انڈیا کے ان کثیر بک سٹالز کے مقابلے میں پاکستانی کتابوں کا "قدرت اللہ قرآن بکس” کا صرف ایک اور سٹال ہے۔ یوں اس کتاب میلے میں انڈیا کے 100بک سٹالز تھے اور پاکستان کے محض 3سٹالز تھے۔ اردو بکس ورلڈ پر ہماری مدبھیڑ ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدر یاسر ملک سے بھی ہوئی اور انہوں نے بھی یہی شکایت کی۔ انہوں نے پروفیسر رفیق اختر کی ایک کتاب دیکھی تو فورا اٹھا لی اور کہا، "یہ میرے استاد ہیں”۔ انہوں نے کتاب کی قیمت دیکھے بغیر 50درہم سیلز مین کو پکڑا دیئے اور بقایا نہیں لیا۔ اسی جگہ ہماری ملاقات کراچی کے نوجوان شاعر قیصر منور سے ہوئی۔ ہم واپس نکلنے کی جلدی میں تھے۔ جب میں نے ان سے ان کی کسی کتاب کا پوچھا تو انہوں نے اپنا فون نمبر دے دیا اور کہا میری کوئی کتاب دیکھنے کے لئے گوگل کر لینا۔ معین صمدانی صاحب نے قرۃالعین حیدر کا بھی ذکر کیا کہ وہ کل "رائٹرز فورم” میں آ رہی ہیں شائد وہ ہمارے سٹال پر بھی تشریف لائیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اپنی بنگلہ زبان "سونار بنگال” کے لئے اتنی قربانیاں دینے والے بنگلہ دیشی بھائیوں کا وہاں کوئی بک سٹال موجود نہیں تھی۔ میری خواہش تھی کہ کتاب میلے کے عرب ممالک کے سٹالز پر بھی جایا جائے۔ سرمد خان صاحب نے یہ کام سینئیر صحافی اور مشہور ٹی وی پروڈیوسر معین صمدانی صاحب کے ذمہ لگایا مگر پہلے وہ مجھے اور فرقان صاحب کو "رائٹرز فورم” پر لے گئے۔ یہاں لکھاریوں کا جمگھٹا تھا۔ سیشن ابھی شروع ہونا باقی تھا کہ ہمیں عربی نسل کی پیسٹریوں، کیک سویٹس اور چائے قہوہ وغیرہ سے سروو کیا گیا۔ واپسی پر اتفانا میری نظر لبنان کے ایک بک سٹال پر پڑ گئ جسے دیکھ کر میں دوبارہ غمزدہ ہو گیا۔

    نمرہ احمد کی یہ کتاب رمزیہ کہانیوں کی کتاب ہے اور اس کی پہلی کہانی کا نام ‘ابلیس’ ہے جس کے آخر میں وہ لکھتی ہیں کہ، "میں نے سونے کے بچھڑے کو توڑ کر جلا کر نیل کے پانیوں میں بہا دیا ہے اور اب میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا آپ کا بھی کوئی ایسا جھوٹا خدا ہے جس نے آپ کو باندھ رکھا ہے اور آپ کو اللہ سے دور کر دیا ہے؟ اگر ہے تو اسے ابھی توڑ ڈالیں۔ نصیحت پھر بعد میں آپ کے پاس نہیں آئے گی۔ بعد میں صرف عذاب آتا ہے”۔

    شائد انسان کے اندر کا "نفس” بھی ابلیس ہے جس کے بارے میں ایک حدیث شریف ہے جس کا مفہوم ہے کہ روئے زمین پر شرک کے بعد سب سے بڑا کفر اپنے نفس کی پوجا کرنا ہے جو اپنے جیسے انسانوں کا خون بھی عبادت سمجھ کر بہاتا ہے اور اسی کا مظاہرہ آج اسرائیل  فلسطینی بچوں کا قتل کر کے کر رہا ہے۔ کتابوں اور استادوں کے دماغوں میں موجود ایک علم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان کے ابلیسی نفس میں موجود اس جہالت کو ختم کیا جا سکتا یے۔

  • ‘دانش کدہ شارجہ’ سے ابوظہبی کے ‘انٹرنیشنل بک فیئر’ تک

    ‘دانش کدہ شارجہ’ سے ابوظہبی کے ‘انٹرنیشنل بک فیئر’ تک

    ‘دانش کدہ شارجہ’ سے ابوظہبی کے ‘انٹرنیشنل بک فیئر’ تک

    ‘دانش کدہ شارجہ’ سے ابوظہبی کے ‘انٹرنیشنل بک فیئر’ تک

    ہم جونہی استقبالیہ کراس کر کے بلڈنگ میں داخل ہوئے تو ہماری بائیں طرف سفید کرسسٹل کی ایک دیوار پر انگریزی کے جلی حروف میں لکھا تھا:
    ‘This is a Place Where Ideas are Changed into Creation.’
    کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خیالات کو تخلیق میں بدلا جاتا ہے۔ ہمارے مطالعاتی دورے کا یہ قافلہ پاکستان سے آئے ہوئے کالم نگار محمد فاروق چوہان، مصنف علامہ عبدالستار عاصم، صحافی اور ٹی وی ڈویلپر معین صمدانی اور احقر (کالم نگار روزنامہ ‘اوصاف’) پر مشتمل تھا جس کی سرپرستی ہمارے علم دوست سرمد خان کر رہے تھے۔ ہم آگے بڑھے تو ہمارا استقبال ایک مصری خاتون آشا نور نے کیا جو ہمیں ایک میٹنگ روم میں لے گئیں، تعارف کے بعد انہوں نے ‘دانش کدہ’ (Wisdom House) کی تفصیل بتاتے ہوئے ریاست شارجہ میں کاروباری کمپنی اسٹیبلش کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کی۔ متحدہ عرب امارات میں علم اور کتاب کو فروغ دینے کے لئے پورا ایک شہر بسایا گیا ہے، اس شہر کا نام ‘شارجہ پبلشنگ سٹی فری زون’ Sharjah Publishing City Free Zone ہے۔ گفتگو کے دوران اس خاتون افسر نے شکائت کی کہ ان کے پاس پاکستانی پبلشرز نہیں آتے۔ جب ہم کتابوں کے فروغ کے انچارج مسٹر موہن کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی یہی شکائت کی کہ گزشتہ کئ سالوں سے شارجہ بک فیئر میں پاکستانی پبلشرز کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    شارجہ کا کتاب میلہ گزشہ 39 سالوں سے بلا ناغہ منعقد ہو رہا ہے، جس کا آغاز سنہ 1982ء میں ہوا تھا۔ یہ بین الاقوامی کتاب میلہ ‘محکمۂ ثقافت و اطلاعات شارجہ’ کی زیر نگرانی منعقد ہوتا ہے، جو شارجہ کے حکمران عزت مآب شیخ سلطان بن محمد القاسمی کی کتاب دوستی اور علم پروری کی قابل فخر مثال ہے۔ حاکم شارجہ خود بھی تصنیف و تالیف کی دنیا سے تعلق ركھتے ہیں اور وہ ایک اچھے صاحبِ قلم، مؤرخ اور ادیب بھی ہیں۔

    اس سے قبل ہم نے شارجہ پبلک لائبریری کا وزٹ کیا تو وہاں بھی ہم نے دیکھا کہ اردو سیکشن میں ماسوائے چند غیر معروف اردو کی کتب کے باقی سارے ریک خالی پڑے تھے۔ مسٹر موہن نے شارجہ بک فیئر میں شمولیت کے طریقہ کار اور شرائط کی وضاحت کی اور بتایا کہ انہوں نے پاکستانی پبلشرز کو شارجہ بک فیئر میں شمولیت کے لئے بارہا خطوط بھیجے مگر ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ شارجہ بک فیئر میں دو سو سکوائر فٹ کے سٹال کی فیس صرف ساڑھے پانچ ہزار درہم ہے۔ شارجہ وزڈم ہاوس کے علاوہ شارجہ پبلک لائبریری اور متحدہ امارات کی دیگر تمام لائبریریاں کتب کی خریداری اسی بک فیئر سے کرتی ہیں جن میں شمولیت کرنے والے پبلشرز اور مصنفین کے ہر سٹال سے 15 سے 20 ہزار درہم کی کتابیں خریدی جاتی ہیں (جبکہ وہاں سٹال لگانے کا خرچہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے)۔ کتاب میلے میں ہر سال 2 سے 4 ملین افراد شرکت کرتے ہیں اور وہ بھی کتابوں کی خریداری میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ اس سے تین روز قبل ہمیں شارجہ میں منعقدہ ‘چلڈرن بک فیئر’ میں بھی شرکت کا موقعہ ملا تھا۔ یہ تمام تفصیلات جان کر کتب بینی اور اس کے فروغ میں ہمارا اشتیاق حیرت کی حد تک بڑھ گیا۔ ہم نے شارجہ وزڈم ہاو’س میں جا بجا دیکھا کہ میزوں کے گرد طلباء و طالبات کتب بینی کر رہے تھے، ان کے سامنے لیپ ٹاپس بھی رکھے تھے جن میں وہ کتابوں سے لئے گئے نوٹس لکھتے جا رہے تھے۔ پوری بلڈنگ میں اتھاہ خاموشی یعنی Pin Drop Silence تھی۔ ایک دو بار جب میرے فون کی بیل بجی تو ہمارے میزبان سرمد خان نے مجھے سختی سے فون کو ‘سائلنٹ’ پر لگانے کے لئے کہا۔ اس کے باوجود اس عمارت میں ایک حال نما کمرہ ایسا بھی دیکھا جہاں طلباء و طالبات علم کے عملی اطلاقات کے موضوع پر خیالات کا تبادلہ کر رہے تھے، یہ نظارہ دیکھ کر احساس ہوا کہ ‘خیالات کو تخلیق کا روپ دینے میں کس قسم کی موٹیویشن درکار ہوتی ہے۔’ اس دانش کدہ کا ماحول اتنا پرسکون اور تخلیقی تھا کہ جب ہمیں بتایا گیا کہ ابوظہبی میں بھی ایک ‘کتاب میلہ’ جاری ہے تو ہم نے وہاں پہنچنے کا فوری فیصلہ کر لیا۔ اس روز ابوظہبی میں دن کو 2 بجے ہماری ملاقات پاکستانی سفیر سے بھی طے تھی۔ شارجہ سے سیدھے ہم ابوظہبی کو ہو لئے جہاں پاکستان کے سفیر جناب فیصل ریاض ترمزی نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ سفیر صاحب نے امارات میں پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئ کہ سفیر صاحب نے اردو بینی اور علم و ادب کے فروغ میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر محمد فاروق چوہان صاحب نے جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالموں کی کتاب ‘گردش ایام’ سفیر موصوف کو پیش کی۔ ابوظہبی کے ‘نیشنل ایگزیبیشن سنٹر’ Abu Dhabi National Exhibition Centre پر انٹرنیشنل بک فیئر جاری تھا (22 سے 28 مئ) جو پاکستان کے سفارت خانہ واقع ‘ایمبیسیز ایریا’ سے صرف پانچ منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ ہم نے تین بجے سے لے کر چھ بجے تک کا وقت اس کتاب میلہ میں گزارا جس میں 80 سے زیادہ ممالک کے 15 سو پبلشرز، ناشرین اور مصنفین شریک تھے۔ مختلف جگہوں پر مصنفین کا لائیو تعارف اور علم کی ترویج سے متعلق بحث و مباحثے ہو رہے تھے۔ امارات کے لوکل عربی شرکاء کے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں سے ملنے کا موقع ملا۔ حکومت ابوظہبی کی طرف سے بک فیئر میں شرکت کے لئے معلومات فراہم کرنے کے لئے الگ سے ‘انفارمیشن سنٹرز’ لگائے گئے تھے۔ یہ کتاب میلہ گزشتہ تین سال سے بغیر کسی فیس کے منعقد ہو رہا ہے جہاں گورنمنٹ متحدہ عرب امارات مفت سٹال لگا کر دیتی ہے جہاں بیٹھنے کے لئے کرسیاں، میزین اور شیلفیں وغیرہ تک مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ آپ کو کرنا صرف یہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے بکنگ کروانی ہے اور وہ بھی بلکل ‘مفت میں’، مگر یہاں بھی یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ وہاں انڈیا کے علاوہ دیگر ترقی پزیر ممالک (80 سے زیادہ) کے بک سٹال موجود تھے، بلکہ کسی ایک ملک کے تو دو دو اور تین تین بک سٹال بھی دیکھے مگر یہاں بھی پاکستان کی نمائندگی کسی پبلشر، کتاب گھر یا مصنف نے نہیں کی۔ ہم شام ساڑھے چھ بجے تھکے ہارے ابوظہبی میں اپنے میزبانوں محمد شفیق اور طارق جاوید قریشی صاحب کے پاس پہنچے، جنہوں نے شیخ زید روڈ پر ایک ریسٹورنٹ میں پرتکلف عشایئے کا احتمام کیا ہوا تھا مگر سچی بات ہے کہ کتب بینی اور اردو کے فروغ میں حکومت پاکستان اور پبلشرز کی اس تجاہل عارفانہ غفلت کو دیکھ کر کھانے کا لطف ہرگز دوبالا نہیں ہوا!