Tag: روشنی

  • آؤ میکسیکو  Mexico  چلیں  

    آؤ میکسیکو Mexico چلیں  

    آؤ میکسیکو Mexico چلیں  

    Dubai Naama

    یہ عجیب رنگ ڈھنگ کا ملک ہے۔ ایک طرف غربت، گلیوں میں رنگین مکان، اور دوسری طرف دنیا کا سب سے خطرناک منشیات کا مافیا بھی اسی ملک میں ہے۔ یہاں  ایک طرف تہواروں کا شور ہے تو دوسری طرف صحرا جیسی خاموشی بھی اسی ملک کا حصہ ہے! 

    لیکن یہی میکسیکو ہے جہاں 1995ء میں ایک غریب خاندان کا بیٹا "کارلوس سلم روز” بل گیٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، دنیا کا امیر ترین آدمی بنا۔ جی ہاں، میکسیکو سٹی کے ایک درمیانے گھر میں پلنے والا لڑکا جس نے "ٹیلمیکس” Telmex اور "امریکہ موویل” América Móvil کے ذریعے پورے لاطینی امریکہ کی ٹیلی کام پر قبضہ کر لیا۔ 2010 سے 2013 تک وہ فوربس کی فہرست میں لگاتار دنیا کا نمبر 1 امیر آدمی رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میکسیکو میں غربت ہے، مگر وہاں مواقع بھی ہیں۔ اگر ہنر اور ہمت ہو تو "کھوپڑیوں کے دیس” میں بھی امارت کی سلطنت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    میکسیکو کا 3145 کلومیٹر بارڈر امریکہ سے ملتا ہے۔ دنیا کی سب سے لمبی اسی سرحد پر دنیا کی سب سے بڑی تجارت بھی ہوتی ہے، اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت بھی اسی بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بارڈر میکسیکو کے لیے نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ نعمت اس لیے کہ امریکہ کی معیشت سے جڑ کر میکسیکو کی فیکٹریاں چلتی ہیں اور اسی راستے سے جہاں سامان اور منشیات کی سمگلنگ ہوتی ہے، وہان ایشیا سمیت دنیا بھر کے لوگ اسی راستے کو امریکہ جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    اسی میکسیکو نے جون جولائی 2026ء میں تاریخ رقم کی۔ وہ دنیا کا پہلا اور واحد ملک بن گیا جس نے "تیسری مرتبہ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی” کی۔ 1970 میں پیلے، 1986 میں میراڈونا اور اب 2026 میں لینونل میسی اور دنیا کے نئے ہیرو لامین یامال (میسی ثانی) نے میکسیکو ہی میں ورلڈ کپ کے دوران اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ وہی میکسیکو سٹی کا تاریخی "ازٹیکا سٹیڈیم” Azteca Stadium جس کی گیلریوں میں کبھی فٹبال کے بادشاہوں نے جام اٹھائے تھے، اس بار پھر دنیا بھر کے تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اسٹیڈیم جدید تھے، ٹرانسپورٹ وقت پر چل رہی تھی، ہوٹل تیار تھے اور مہمان خوش ہو کر واپس گئے۔ 

    یہ محض جدید دور کا اتفاق نہیں تھا۔ یہ میکسیکو حکومت کی 10 سال کی پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ میکسیکو کا اصل خزانہ اس کا فیصلہ اور عمل ہے۔ ہمارے اور میکسیکو کے درمیان  فرق صرف ایک ہے۔ ہمارے پاس بھی نوجوان ہیں، ٹیلنٹ ہے، مٹی سونے جیسی ہے لیکن میکسیکو کے پاس ایک ہنر زیادہ ہے کہ: "انہوں نے جو کام کرنا ہو وہ اس کا فیصلہ 10 سال پہلے کر لیتے ہیں اور پھر کر کے دکھاتے ہیں”۔

    آؤ میکسیکو  Mexico  چلیں  

    ورلڈ کپ 2026 کا فیصلہ 2018 میں ہو گیا تھا۔ 8 سال بعد جب وہاں پہلا میچ ہوا تو پوری دنیا نے کہا "واہ”۔ ہمارے ہاں فیصلہ کل پر ٹلتا ہے، کل پرسوں پر، اور پرسوں فائل گم ہو جاتی ہے۔ میکسیکو نے ہمیں سکھاتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، عزم اور عمل سے بنتی ہیں۔

    میکسیکو میں ایسا دلچسپ اور عجیب و پرکشش کلچر ہے، جو ہر نئے آنے والے کو گلے لگا لیتا ہے۔ وہاں کا کلچر کمال کا دوستانہ ہے۔ یہاں کے باسیوں میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں۔ رنگین لباس، ماریاچی کے گیت، دیواروں پر "مورلز” Murals، اور کھانے میں مرچ کی جتنی تندی اتنی ہی میزبانی میں مٹھاس ہے۔ یہاں ” ڈائی ڈے لوس میورٹس” Dia de los Muertos منایا جاتا ہے۔ مردوں کے دن لوگ قبرستان میں جا کر گاتے ہیں، کھاتے ہیں، ہنستے ہیں۔ وہ موت یا مردوں کو دیکھ کر ڈرتے نہیں، بلکہ انہیں دیکھ کر جشن مناتے ہیں۔ یہی خوش مزاجی ان کی زندگی کے ہر شعبے میں پائی جاتی ہے۔ 

    اسی لیے جو بھی میکسیکو جاتا ہے، وہ وہاں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہاں آپ کو کوئی اجنبی نہیں سمجھتا۔ ایک پلیٹ ٹیکو اور ایک کپ کافی میں آپ گھر والے بن جاتے ہیں۔

    میکسیکو سٹی میں "ایکسو چملکو” Xochimilco کی نہروں پر رنگین کشتیاں چلتی ہیں۔ پانی کے اوپر سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ وہاں کے باسیوں کو کھوپڑیوں کا جنون ہے کیونکہ موت سے کسی کو خوف نہیں آتا۔ چینی اور چاکلیٹ کی رنگین کھوپڑیاں تحفے میں دی جاتی ہیں۔

    وہاں سانپ والا ایک  اہرام "چِچِن اِتزہ” ہے جس پر سورج کی روشنی سے ایک بڑے سانپ کا سایہ بنتا ہے۔ یہ 1000 سال پرانی انجینئرنگ ہے۔ میکسیکو میں "گزریوں کا جزیرہ” بھی ہے۔ اسے ایک آدمی نے 50 سال تک نہر سے ملنے والی گڑیوں کو درختوں پر لٹکا کر بنایا تھا۔ آج وہ دنیا کا سب سے "ڈراؤنا سیاحتی مقام” ہے۔

    میکسیکو کی سیر سے آپکو سیکھنے کے 3 سبق ملیں گے۔ ایک یہ کہ غربت تقدیر نہیں ہوتی۔ کارلوس سلم روز جیسے محنتی لوگ اسے توڑ دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بڑے کام راتوں رات نہیں ہوتے۔ ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے 10 سال پہلے اینٹ رکھنی پڑتی ہے۔ تیسرا یہ کہ کلچر ہی اصل طاقت ہے۔ جب لوگ مہمان نواز ہوں تو دنیا خود چل کر آتی ہے۔ میکسیکو صرف سیر کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے بھی جانا چایئے۔ یہ سیکھنے کے لیے کہ کیسے ایک قوم اپنی خامیوں کے باوجود دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم شکایت کریں گے یا میکسیکو کی طرح کچھ کر کے دکھائیں گے؟

  • کائنات خود نہیں بنی

    کائنات خود نہیں بنی

    کائنات خود نہیں بنی

    Dubai Naama

    کائنات کی وسعت انسان کو دو راستوں پر لے جاتی ہے۔ ایک انکار کا، اور دوسرا ایمان کا ہے۔ جو غور کرتا ہے وہ دوسرا راستہ چن لیتا ہے۔

    سائنس کے مطابق ہماری کائنات کا مشاہداتی حصہ 93 ارب نوری سال پر پھیلا ہوا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے۔ پھر بھی اربوں نوری سال کا فاصلہ طے کرنے کے لیے اسے اربوں سال لگتے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا کہ کائنات میں ایسے ستارے بھی ہیں کہ جب ان کی روشنی زمین تک پہنچے گی تو زمین ختم ہو چکی ہو گی۔

    اس کائنات میں ہماری زمین کی حیثیت کیا ہے؟ سائنسدان اسے "پیل ڈاٹ” کہتے ہیں، یعنی خلا میں تیرتا ہوا نیلے رنگ کا ایک نقطہ۔ ہمارا سورج، جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے، زمین سے 109 گنا بڑا ہے۔ اس ایک سورج میں 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں، مگر اسے کائنات کے ترازو پر رکھیں تو سورج بھی ایک بہت معمولی ستارہ ہے۔

    اب تک دریافت ہونے والے بلیک ہولز سورج سے 36 ارب گنا بڑے ہیں۔ اور سائنسدان کہتے ہیں کہ کائنات میں تقریباً 2 کھرب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں جبکہ سیاروں کی تعداد کا شمار ممکن ہی نہیں۔

    یہ کائنات "بگ بینگ” سے بنی اور تب سے اب تک پھیل رہی ہے۔ ہبل دوربین نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ پھیلاؤ روشنی کی رفتار سے ہو رہا ہے۔ سورج ہائیڈروجن اور ہیلیئم کا چمکتا ہوا گولہ ہے۔ زمین ایک بے نور سیارہ ہے جو سورج سے روشنی اور حرارت لیتی ہے۔

    کائنات خود نہیں بنی

    یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: یہ سب اتنے نظم و ضبط سے کیسے چل رہا ہے؟

    پانی کا فارمولا ہمیشہ H2O رہتا ہے۔ گیند ہمیشہ گریوٹی کی وجہ سے نیچے آتی ہے۔ دن رات کا نظام، موسموں کی تبدیلی، ستاروں کے مدار۔ سائنسدان اسے "قوانین فطرت” کہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر قانون کے پیچھے ایک قانون ساز ضرور ہے۔

    قرآن پاک نے 1400 سال پہلے اللہ کو "رب العالمین” کہا۔ یعنی تمام جہانوں کا رب۔ آج جب سائنس "ملٹی یونیورس” کی بات کرتی ہے تو قرآن کا یہ تصور اور واضح ہو جاتا ہے۔ 

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اتنی بڑی کائنات "خود بخود” بن گئی۔ مگر کیا کوئی عمارت بغیر معمار کے بن سکتی ہے؟ کیا کوئی کتاب بغیر مصنف کے لکھی جا سکتی ہے؟

    قرآن کریم سورۃ القارعہ میں قیامت کا نقشہ یوں کھینچتا ہے: "القارعة ما القارعة”۔ اس دن ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سائنس آج اسے "بگ کرنچ” کہتی ہے۔ نام بدل گئے، حقیقت وہی ہے۔

    ایک بزرگ کا قول ہے کہ اللہ کا عرش اتنا عظیم ہے کہ اس کا ایک پایہ پوری کائنات پر محیط ہے۔ ہماری سوچ اسے سمجھ نہیں سکتی۔ وہ ذرے ذرے سے واقف ہے۔

    لہٰذا کائنات کی ہر دریافت ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے۔ جتنا ہم سائنس پڑھیں گے، اتنا ہمارا یقین بڑھے گا کہ یہ سب "اتفاق” نہیں۔ اس کے پیچھے ایک لامحدود علم، لامحدود قدرت اور لامحدود حکمت ہے۔

    Title Photo by Marek Pavlík

  • اٹک کا چاند بریگیڈئیر عاصم نواز

    اٹک کا چاند بریگیڈئیر عاصم نواز

    اٹک کا چاند بریگیڈئیر عاصم نواز

    مضمون نگار: سید حبدار قائم

    کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض نام نہیں بلکہ اپنے کردار، گفتار اور طرزِ عمل کے باعث ایک روشن استعارہ بن جاتی ہیں۔ بریگیڈئیر (ر) سردار عاصم نواز بھی انہی درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں بجا طور پر "اٹک کا چاند” کہا جا سکتا ہے۔ ان کی ذات خلوص، سچائی اور انسان دوستی کا ایسا حسین امتزاج ہے جو دلوں کو منور کر دیتا ہے۔

    یکم ستمبر 1959 کو اٹک کی سرزمین پر سردار رب نواز خان کے گھر آنکھ کھولنے والے سردار عاصم نواز نے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے معروف ادارے ایچی سن کالج سے سینیئر کیمبرج کی تعلیم حاصل کی۔ 1980 میں انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث 4 آرمڈ بریگیڈ کی کمانڈ تک پہنچے۔ 2010 میں باوقار عسکری خدمات کے بعد ریٹائر ہوئے، مگر ان کی خدمت کا سفر یہیں ختم نہ ہوا۔

    فوجی زندگی نے ان کی شخصیت میں نظم و ضبط، جرات، دیانت اور فرض شناسی جیسے اوصاف کو نکھارا، جو بعد ازاں ان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں بھی نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔ 2016 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے انہوں نے اسے اقتدار نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کا منشور صحت، تعلیم اور دفتری نظام کی بہتری کے گرد گھومتا ہے، تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔

    عاصم نواز کی سب سے نمایاں خوبی ان کا بے لوث خلوص ہے۔ وہ عوام کے مسائل کو محض سنتے نہیں بلکہ انہیں محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مدد کا طلبگار ہو تو وہ رسمی وعدوں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ خود اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں، اس کے دکھ درد کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس کے ازالے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہی جذبہ انہیں عام سیاست دانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    اٹک کا چاند بریگیڈئیر عاصم نواز

    ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش ہے سادگی، شائستگی اور خوش اخلاقی کا ایسا امتزاج جو ہر ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ میں اپنائیت ہے اور گفتگو میں مٹھاس وہ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اور اپنے رویے سے محبت اور اخلاص کا پیغام دیتے ہیں۔

    علامہ اقبال کا یہ شعر گویا انہی کے لیے کہا گیا ہو:

    نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پرسوز

    یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

    بلاشبہ سردار عاصم نواز کی گفتگو دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے، جس میں سچائی اور دردِ دل کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپاہی رہے بلکہ آج ایک ہمدرد رہنما کے طور پر قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بریگیڈئیر (ر) سردار عاصم نواز ایک ایسی مثالی شخصیت ہیں جو خدمت، دیانت اور شجاعت کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے مینارِ نور ہوتے ہیں، جو نہ صرف خود روشنی کا سفر طے کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید اور حوصلے کی شمع روشن کرتے ہیں۔ اگر ہمارے معاشرے میں ایسے مخلص اور باکردار افراد کی تعداد بڑھ جائے تو یقیناً وطنِ عزیز ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔

  • سفید گلاب کا نوحہ

    سفید گلاب کا نوحہ

    سفید گلاب کا نوحہ

    فاضل پور کے قرب و جوار میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جسے لوگ گڑھی سلطان شاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ مٹی کے گھر، کچی گلیاں، کھیتوں کی سرسبز چادر اور شام کے وقت افق پر بکھرتا سنہری رنگ۔یہ سب اس بستی کی پہچان تھے۔ کبھی ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے تو کبھی غروبِ آفتاب کا منظر امیدوں کو ساتھ لے کر ڈوب جاتا۔

    اسی گاؤں میں ایک بچی نے آنکھ کھولی۔نام رکھا گیا عدیمہ حرم۔

    لیکن اس کی پیدائش خوشی کی نوید نہ بن سکی۔

    گھر کے صحن میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا تھا۔ دادی کی آنکھوں میں مایوسی، چچیوں کے لبوں پر نیم دبی سرگوشیاں اور ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی۔ باپ نے اگرچہ “الحمدللہ” کہا مگر اس لفظ کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا خواب تھااسے اس بار “سالار” کی امید تھی۔

    عدیمہ نے ہوش سنبھالا تو خود کو خاموشیوں کے حصار میں پایا۔

    وہ بچپن ہی سے پانچ وقت کی نماز کی پابند، قرآن سے مانوس اور تہجد گزار لڑکی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ان جانا کرب تیرتا رہتا۔ وہ گاؤں کی رونقوں سے بے نیاز خود کو کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھتی۔ جیسے اس کے دل کے اندر کوئی طوفان تھا جو کسی مخلص سہارے کی تلاش میں بے قرار تھا۔

    لوگوں کے سنگین الفاظ، طنزیہ جملے اور تیز نظریں۔یہ سب اس کے وجود پر خراشیں ڈال جاتے۔

    وہ ہر رات سجدے میں گرتی اور رب سے دعا کرتی:

    “یا اللہ! مجھے ایک ایسا ہاتھ عطا کر دے جو میرے دل کے زخموں پر مرہم رکھ دے۔”

    سات برس بیت گئے۔

    سات برس کی خاموش عبادت، آنسوؤں کی لڑی اور صبر کا سفر۔

    سفید گلاب کا نوحہ

    یوں پھر ایک رات اس کی تہجد کی دعا رنگ لے آئی۔

    صبح جب اس نے دروازا کھولا تو سامنے ایک پرکشش شخصیت سفید لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سات ٹہنیوں سے بنا سفید گلابوں کا گل دستہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں خلوص کی چمک اور لبوں پر اعتماد کی مسکراہٹ تھی۔

    ہوا میں خنکی گھل گئی۔

    آسمان بادلوں کی لپیٹ میں تھا۔

    پھولوں کی بھینی بھینی خوش بو جیسے عدیمہ کے نصیب کا اعلان کر رہی تھی۔

    عدیمہ کے دل نے گواہی دی:

    “یہی وہ منزل ہے جس کے لیے میں نے سات سال صبر کیا ہے۔”

    وہ آگے بڑھی۔

    کانپتے ہاتھوں سے سفید گلاب کو چھوا۔ اس کی انگلیوں نے نرمی کو محسوس کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ خواب نہیں تھا۔

    اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔

    اندھیروں سے روشنی کی طرف بڑھتی ہوئی عدیمہ کو یوں لگا جیسے زندگی نے اسے مضبوط ڈور سے باندھ دیا ہو۔

    مگر تقدیر کے اوراق ابھی مکمل نہ تھے۔

    چند دنوں بعد جب اس پرکشش شخص کو یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ عدیمہ ایک طلاق یافتہ لڑکی ہے تو اس کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ گئی۔

    وہی ہاتھ جو سفید گلاب پیش کر رہا تھا اب سرد ہو چکا تھا۔

    “مجھے افسوس ہے… مجھے معلوم نہیں تھا…”

    اس کی آواز میں ہم دردی کم اور معاشرتی خوف زیادہ تھا۔

    چند لمحوں میں سفید گلاب جیسے سیاہ ہو گیا۔

    محبت کا رنگ ماند پڑ گیا۔

    عدیمہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر اندھیرا اتر آیا۔

    وہی کمرا، وہی تنہائی، وہی خاموشی۔

    اس رات اس نے سجدے میں سر رکھا تو آنسو بے اختیار بِہ نکلے۔

    مگر اس بار اس کے لبوں پر شکوہ نہ تھا۔

    “یا اللہ! اگر یہ بھی امتحان تھا تو میں راضی ہوں۔

    مگر مجھے اتنی طاقت دے کہ میں اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے نہیں تیری نظر سے دیکھ سکوں۔”

    کھڑکی سے آتی ہوا نے اس کے آنسو سکھا دیے۔

    دور کہیں فجر کی اذان بلند ہوئی۔

    عدیمہ نے آنکھیں پونچھیں اور آہستہ سے مسکرا دی۔

    کیوں کہ اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ سفید گلاب کا مان کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔

    اس کے اپنے صبر میں ہے۔

    اور شاید

    کبھی کبھی

    اللہ سفید گلاب کو سیاہ ہونے دیتا ہے

    تاکہ بندہ اپنے اندر چھپی روشنی کو پہچان سکے۔

    Title Image by Tina from Pixabay

  • عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون نگار

    راحت امیر نیازی

    عاصم بخاری عہد ِ حاضر کے حاضر دماغ شاعر ہیں۔گرد و پیش اور آنے والے کل کے موسمی حالات پر انکی کڑی نظر رہتی ہے۔پیشین گوئی کرتی ایک نظم
    دھند (فوگ)

    آنے والا بخاری وہ موسم
    چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم
    جس میں سردی سے کانپنا ہوگا
    جسم کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا
    جس میں عاصم دکھائی مت دے گا
    جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا
    لوگ محصور جس میں ہوں گے سب
    سرد موسم ہی حکمراں ہوگا
    چین گھر میں کسے کہاں ہو گا
    دن بدن بڑھتی جائے گی سردی
    یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے
    ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے
    جلد بارش خدایا دے دینا
    ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی
    عرض کرتے ہیں پیش تر روگی
    اس ان ہونی اور مختلف صورت ِ حال پر ان کے ہاں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی محسوس ہوتی ہے۔وہ چہل پہل اور دن کی روشنی کے خواہاں ہیں۔
    شعر دیکھیں

    کاروبار ِ حیات ، ٹَھپ ہیں سب
    دُھند ہی دُھند ، میرے شعروں میں
    ۔۔۔
    عاصم بخاری کو اس صورت ِ حال میں تشویش کا سامنا ہے۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    ایک مدت سے ہو رہا ایسا
    تھوڑی یہ آج ہے بخاری جی
    اپنا یہ آج ہے بخاری جی
    کوئی آگے بڑھے بھلا کیسے
    دھند کا راج ہے بخاری جی
    ۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند

    اچھا تو، کوئی یہ شگوں، عاصم نہیں
    جو فوگ بڑھتی جا رہی ، ہے ہر طرف
    عاصم بخارینے دھند کے لفظ کو تمثیلی انداز میں علامت کے طور پر بھی خوب برتا ہے
    شعر

    آج کل چھائی ہوئی ہے "دُھند” جیسے ہر کہیں
    آن گھیرا ہے ہمیں یوں ، "کفر” نے ” الحاد” نے
    ۔۔۔۔
    عاصم بخاری کی سوچ کا انداز مفکرانہ ہے۔وہ سبھی کو عوامل پر غور کرنے کی ترغیب دیتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
    شعر

    کون لایا ہے دُھند کو جس نے
    جام سارا نظام کر ڈالا
    ۔۔۔
    عاصم بخاری کی سوچ کا دائرہ کائناتی اور تقابلی بھی ہے ۔وہ متفکر کہ کیا یہ سلسلہ صرف ہمارے ہاں یعنی وطن ِ عزیز میں ہی تو نہیں۔اگر عالمی مسئلہ ہے تو دنیا اس سے نمٹنے کے لیے کیا کیا اقدامات کرتی ہے۔
    شعر
    پوچھنا تھا یہ دھند کے بارے
    اور بھی کیا کہیں یہ ہوتی ہے
    ۔۔۔
    ہمارے وسیب میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دشمنی کا کلچر ہے دونوں اطراف سے آئے روز لوگ مارے جاتے ہیں لیکن بخاری صاحب دھند کے مسئلہ کی سنگینی کچھ یوں تقابلی انداز میں بیان کرتے ہیں۔
    شعر
    اتنے مرتے نہ”دشمنی”، میں بھی
    "دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں

    ۔۔۔۔
    اسی طرح بخاری کی سوچ کا زاویہ اور دائرہ بہت وسیع اور اپنا ہے۔ون ویلنگ بہت نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس کہ اس دھند نے مقابلتا” زیادہ نقصان کیے ہیں۔اس بات کو یوں منظوم کیا۔

    "وَن ویِلنگ” نے بھی، نہیں مارے
    "دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں

    ۔۔۔۔۔
    نتیجتا”
    بخاری صاحب موازنہ کرتے ہوئے نقصان کی تصویر پیش کرکے عزیز ہم وطنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے احتیاط برتیں
    دو شعر
    کبھی پورے نہ عاصم ہو سکیں گے
    کیے وہ دُھند نے نقصاں بخاری
    ۔۔۔۔۔۔

    کیے وہ دھند نے نقصان عاصم
    بخاری جو کبھی پورے نہ ہوں
    ۔۔۔۔
    اس لیے کہ سردست اس کاکوئی علاج نہیں صرف محتاط رویہ اور احتیاط ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
    شعر
    میں نے پوچھا کوئی علاج اس کا
    دُھند کا نام سُن کے مُسکایا

    عاصم بخاری اس دھند کو بھی آفات میں شمار کرتے ہوئے انسان کی بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے کہ ان اللہ علی کل شئی قدیر کی بارگاہ میں دست ِ دعا بلند کرتا ہے کہ یارب اس آفت اور امتحان سے ہمیں نجات دے

    شعر
    ہر کسی کی ہے بس دعا یہ ہی
    دھند کو ٹال دے خداوندا
    ۔۔۔
    عاصم بخاری کے ہاں ہمیں سائنسی شعور بھی ملتا ہے کہ بارگاہ ربی میں سب مل کر لتجا کریں کہ اللہ تعالی بارش کی صورت اس امتحان کو ہمارے سروں سے ٹال دے
    شعر
    اپنے رحم و کرم کی بارش سے
    دھند کو ٹال دے خداوندا
    ۔۔۔۔
    اگر بارش کا امکان نہیں تو پھر دوسری صورت میں عاصم بخاری بارگاہ ِ ربی میں ملتمس ہیں کہ کوئی ایسی ہوا چلے جس سے یہ دھند آبادیوں سے کہیں دور چلی جائے اور مخلوق ِ خدا سکھ کا سانس لے
    شعر
    بھیج ایسی ہوا کوئی یارب
    دھند کو جو بھگا کے لے جائے

  • اندھیرے اور روشنی کی مقدار

    اندھیرے اور روشنی کی مقدار

    اندھیرے اور روشنی کی مقدار

    Dubai Naama

اندھیرے اور روشنی کی مقدار

    اڑھائی گھنٹے تک سینما حال میں بھلا کون نیند پوری کرنے جاتا ہے، اوپر سے رمضان کریم کی رحمتوں والا مہینہ ہو۔ اس کے باوجود ایک دوست کے اصرار پر فلم دیکھنے جانا پڑا۔ یہ انڈین فلم تھی جس کا "پنٹو پانڈو” یا شائد اس سے ملتا جلتا کوئی نام تھا اور پورے حال میں ہم گنتی کے چار ٹوٹرو تھے۔ جو بھلے مانس مجھے ڈیرا دبئی میں واقع الغریر سینما حال نمبر7 میں لے کر آیا تھا، فلم کی گھن گرج کے باوجود وہ جاتے ہی خراٹے لینے لگا اور میں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے سیل فون پر مطالعہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔

    جب فلم کا وقفہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ دوسرے دونوں (بندہ اور بندی) فلم کے وقفے کے بعد واپس نہیں مڑے۔ ابھی فلم کو دوبارہ شروع ہوئے پندرہ بیس منٹ ہی گزرے تھے جب حسین مدثر صاحب کی آنکھ کھلی تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، "چلیں۔” میں تذبذب میں پڑ گیا۔ میں فلم ختم ہونے تک بیٹھا چاہتا تھا مگر پوری توجہ سے فلم کو میں بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ میرے مطالعہ اور فلم بینی میں آنکھ مچولی چلتی رہی تھی۔ خیر میں نے دوسری سیٹ پر پڑے اپنے دونوں موبائل فون جیب میں ٹھونسے اور ہم دونوں باہر آ گئے۔

    اس سینما حال کے بڑے دروازے سے باہر آنے سے پہلے میں نے واپش مڑ کر دیکھا تو فلم چل رہی تھی اور اس کی آواز حال سے باہر بھی آ رہی تھی مگر فلم کو دیکھنے والا کوئی فلم بین سینما حال میں موجود نہیں تھا۔ اسی الغریر سینما میں پانچ سال پہلے بھی ہم یہ تین بجے دن والا شو دیکھنے چلے گئے تھے اور پورے ہال میں وہ فلم دیکھنے والے صرف ہم تین دوست تھے۔ اس وقت رمضان شریف کا مہینہ نہیں تھا۔ ہم فلم کی بوریت سے بچنے کے لیئے پاپ کارن اور ریڈ بل پیتے رہے تھے۔ اس دفعہ اضافی تجربہ یہ ہوا کہ جب ہم دونوں سینما حال میں داخل ہونے لگے تو ہال کے اندر گھپ اندھیرا تھا۔ اتفاق سے چھت کی دیواروں کی ہلکی ایل ای ڈی لائٹس بھی بند تھیں۔ ہم نے ہال کے مین دروازے کو جونہی کھول کر اندر داخل ہونے کی کوشش تو اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ ہم دونوں نے ایک انجانی سی تنہائی محسوس کی اور ڈر گئے۔ جب میں نے آگے قدم رکھنے کی کوشش تو مجھے محسوس ہوا کہ میں نے اگر دوسرا قدم بھی آگے بڑھایا تو شائد میں کسی گہرے کنویں میں گر جاؤں گا۔

    اس کے باوجود ہم سے پہلے دو جی اس سینما ہال میں موجود تھے۔ ہم اپنے موبل فونز کی لائٹیں جلا کر آگے بڑھے، میں نے اس گھپ اندھیرے میں کچھ سانسوں کی آوازیں سنیں۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید یہاں جن بھوت ہیں۔ ہم نے جونہی موبائل کی ٹارچ جلائی تو ساتھ ہی سینما ہال کی چھت کی لائٹس بھی جلنے لگیں۔ ہم دونوں ہانپتے کانپتے اپنی سیٹوں پر تو پہنچ گئے۔ لیکن شدت کا اندھیرا ابھی بھی مجھے خوفزدہ کر رہا تھا۔

    فطرت نے کائنات میں اندھیرے اور اجالے کی برابر مقدار پیدا کی ہے۔ اگر ہم پوری کائنات کو بھی مصنوعی روشنیوں سے بھر دیں تو تب بھی دنیا میں اندھیرے کے مقابلے میں روشنی کی مقدار بڑھ نہیں سکتی ہے۔ سائنس کے مطابق کائنات کے کچھ مقامات پر اتنا زیادہ اور گہرا اندھیرا ہے کہ وہاں ہم اس سادہ جسم اور دل کے ساتھ داخل ہوں تو ہمارے دل اندھیرے کے دباؤ اور خوف کی وجہ سے پھٹ جائیں گے۔ لیکن اس کے برعکس اگر ہم وہاں خود کو کسی طرح زندہ رکھ سکیں تو ہم اندھیرے میں رہ کر انتہائی حد تک گہری سوچ میں غوطہ زن ہو سکتے ہیں۔

    اس بار فلم دیکھنے اور اس سے کچھ سیکھنے سے زیادہ اندھیرے کے بارے سوچنے میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوئی۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ ہم اکثر روشنی بجھا کر سوتے ہیں تو سونے سے پہلے اندھیرے کے دوران اتنے ہی گہرے اور تخلیقی خیالات دماغ میں آتے جتنا گہرا اندھیرا ہوتا ہے، اور اندھیرے ہی میں ہم زیادہ گہری نیند سوتے ہیں اور خواب بھی گہری نیند میں آتے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ ہمارے سوچنے کا اندھیرے سے کیا تعلق ہے اور اندھیرے میں ہمارے محسوس کرنے کی طاقت کیوں اور کیسے بڑھ جاتی ہے؟ شائد اندھیرے میں خطرہ محسوس کر کے ہمارے دماغ کے کچھ سیلز بیدار ہو جاتے ہیں۔ مقولہ مشہور ہے کہ، "اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔” بعض دفعہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا ہے کہ ہم خود کو بھی دیکھ نہیں سکتے ہیں مگر صرف محسوس کر سکتے ہیں۔ جب اندھیرے میں ہمارا تخیل تیز تر ہو جاتا ہے تو ہمارے محسوس کرنے کی حس بھی بڑھ جاتی ہے۔ اڑھائی گھنٹے کی پوری فلم دیکھنے سے کچھ سیکھنے سے زیادہ اندھیرے میں دماغ میں ابھرنے والے یہ خیالات کئی گنا زیادہ اہم نکلے۔

    ہمارے معاشرے کے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں اندھیرا بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں کوئی کام سوچ سمجھ کرتے ہیں اور نہ اپنے اندر پائے جانے والے اس اندھیرے سے کوئی فائدہ اٹھا کر دماغی طور پر بیدار ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ روشنی سے ڈرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ اندھیرے سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں فائدہ مند وہی لوگ ہیں جو اندھیرے سے ڈرتے ہوں۔ روشنی کی طرف سفر کرنے کے لیئے اندھیرے سے ڈرنا چایئے۔ یاد رکھیں روشنی انہی لوگوں کی زندگیوں میں آتی ہے جو روشنی اور اندھیرے کے اس فرق کو سمجھ جاتے ہیں۔ کیونکہ اندھیرے میں رہنے اور اندھیرے سے ڈرنے میں کوسوں کا فرق ہے۔

    ہماری زندگی کی فلم ایک اندھیری رات کی کہانی ہے۔ جو لوگ اپنی زندگیوں میں روشنی بھرنا چاہتے ہیں وہ اندھیرے کے محسوسات کو سمجھیں۔ زندگی میں روشنی وہی پاتے ہیں جو دوسروں کی زندگیوں سے اندھیرے ختم کرتے ہیں۔ اندھیرا اور اجالا غم اور خوشی کا دوسرا نام ہیں۔ شمع خود کو اندھیرے میں جلاتی ہے تو روشنی کرتی ہے۔ دنیا سے اندھیرے ختم کرنے اور انہیں کائنات کے کسی دوسرے مقامات تک دھکیلنے کے لیئے قربانی دینا اور جلنا سیکھیں۔ دنیا میں روشنی اور اندھیرے کی مقدار برابر ہے۔ آپ جتنے پسماندہ ہیں اور جتنا اندھیرے میں ہیں لگن اور محنت سے کام لیں گے تو اسی مقدار کے برابر ہے آپ کی زندگی روشنی سے جگمگانے لگے گی۔

    Title Image by Roman Kogomachenko from Pixabay