Tag: بھٹو

  • اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    Dubai Naama

اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    21 اگست 1969ء میں مسجد اقصی کو آگ لگانے کے واقعہ پر اسرائیل کی ایک سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر نے کہا تھا کہ ”میری زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے مسجد اقصٰی کو آگ میں جلتے دیکھا تھا۔”
    جب اس سے وجہ پوچھی گئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ
    بُرا دن اس لئے تھا کہ جس دن میں نے مسجد اقصٰی جلتے دیکھی تھی تو میں ساری رات سو نہ سکی تھی کہ کہیں صبح عالم اسلام ہم پر حملہ نہ کر دے کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور
    خوشگوار اس لئے کہ ساری رات گزر گئی، اگلے دن کا سورج نکلا اور میں نے مسجد اقصٰی کے جلانے پر مسلمانوں کا رد عمل دیکھا کہ مسلم حکمرانوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ سب اسرائیل پر حملہ کرتے بلکہ وہ لوگ تو خود اپنی عوام کو جنگ سے ڈرانے اور روکنے میں پیش پیش نظر آ رہے تھے. یہ سب دیکھ کر میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اب اسرائیل عرب دنیا کی حدود میں محفوظ ہے اور ہمیں امت مسلمہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    اس روز مسجد اقصی کو آگ لگانے والا شرپسند بدبخت ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان تھا جس سے مسجد اقصی جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی تھی جس سے جنوب مشرق اور عین قبلہ کی جانب مسجد کا بڑا حصہ گر گیا تھا۔ محراب میں موجود 800سالہ پرانا منبر بھی نذر آتش ہو گیا تھا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ اس المناک واقعہ کے بعد مسلم دنیا کا اتنا ردعمل ضرور سامنے آیا تھا کہ اس کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور اس سانحہ کے بعد مفتی اعظم فلسطین کی پکار پر سعودی عرب اور مراکش نے قائدانہ کردار ادا کیا، جن کی کوشش سے مراکش کے شہر رباط میں مسلم دنیا کے سربراہ اکٹھے ہوئے اور 25ستمبر 1969ء کو اسلامی سربراہی کانفرنس کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

    اسلامی سربراہی کانفرنس کے قیام کے 6ماہ بعد ایک مرتبہ پھر سعودی عرب آگے بڑھا اور اسلامی ممالک کے تمام وزراء خارجہ کا پہلا باقاعدہ اجلاس جدہ میں منعقد کیا۔ سنہ 1972ء میں او آئی سی کو باقاعدہ تنظیم کی شکل دی گئی اور یہ طے پایا کہ اس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہر سال ہو گا جبکہ سربراہی اجلاس ہر 3 سال بعد ہوا کرے گا۔ 57مسلم ممالک کی اس عالمی سربراہی کانفرنس کے اجلاسوں کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں 1974ء میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس ابھی تک کی واحد کانفرنس ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس کو کامیاب کرانے میں بھی سعودی عرب کے سربراہ شاہ فیصل نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، یہی وہ کانفرنس تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، معمر قذافی اور یاسر عرفات عالمی لیڈر بن کر اُبھرے تھے۔ پاکستان میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں پہلی دفعہ فلسطین کو علیحدہ مملکت کا اسٹیٹس دیا گیا تھا، جس کے بعد اسی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے فلسطین لیڈران کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ 1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی، فلسطین سے یاسر عرفات، سعودی عرب سے شاہ فیصل، یوگنڈا سے عیدی امین، تیونس سے بومدین، لیبیا سے کرنل قذافی، مصر سے انور سادات، شام سے حافظ الاسد، بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمان اور ترکی سے فخری کورو سمیت تمام بڑے مسلم رہنما شریک ہوئے تھے۔

    اس وقت تنظیم کے عروج کا یہ عالم تھا کہ 1980ء میں پاکستان کے صدر محمد ضیاءالحق نے امت مسلمہ کے متفقہ لیڈر کے طور پر اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا تھا اور ان کے خطاب سے قبل ریکارڈڈ تلاوت قرآن پاک بھی چلائی گئی تھی اور پھر اس کے بعد اس تنظیم کے زوال کا یہ عالم تھا کہ یہ تنظیم ایران عراق جنگ کو بند کرانے میں ناکامی کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرموثر ہوتی چلی گئی۔ اگست 1990ء کو عراقی فوج نے کویت پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا مگر آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) صدام حسین کے حملے کا کوئی آبرو مندانہ حل نہ نکال سکی۔ آج کشمیر اور فلسطین کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ او آئی سی کے ساتھ ایک دردناک حقیقت یہ بھی وابستہ ہے کہ اس کے عروج سے جڑے تمام کردار آہستہ آہستہ غیر طبعی موت مارے گئے۔

    گزشتہ چند روز ہوئے اسرائیل نے غزہ میں قیامت صغری برپا کر رکھی ہے۔ رمضان کے ماہ مقدس میں اور اس کے بعد اسرائیل تقریبا ہر سال فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے پہلے مشرق وسطیٰ کی ہر ریاست یہی سوچ رہی تھی کہ اگر ہم فلسطینیوں کو مرنے دیں گے تو خود بچ جائیں گے، یاہو نے یہ بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ خاموشی اور بے حسی مشرق وسطیٰ کے عربوں کو کسی صورت نہیں بچا پائے گی. عراقی صدر صدام، کرنل قذافی اور حافظ الاسد وغیرہ کی صورت میں اسرائیلیوں کے سامنے جو رکاوٹیں تھیں وہ عرب مسلمانوں نے خود ہی رضاکارانہ طور پر ختم کر دی ہیں۔ آج غزہ کی تباہی پر اسلامی کانفرنس (اور آئی سی) مگر مچھ کے آنسو بہانے سے بھی قاصر ہو چکی بلکہ اس کی کارکردگی یہ ہے وہ بیانات اور قراردادیں پاس کرنے سے بھی محروم ہو چکی ہے۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اسلامی تنظیم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ ہے اور عملا یہ تنظیم کب کی مر چکی ہے جس کے جسد خاکی کو بس دفنانا باقی یے۔

    اسرائیلی عزائم سے تو یہی نظر آ رہا ہے کہ اب اس خطے میں ترکی، اسرائیل اور سعودی عرب کے تین ممالک ہی دنیا کے نقشے پر نظر آئیں گے۔ خلیجی ممالک کو چایئے کہ وہ اپنی آزادی اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیئے اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے خلاف رد عمل ظاہر کریں اور آئیندہ کا اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ عرب ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر اپنا تحفظ کرنا چایئے جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنے درمیان فوجی اور اقتصادی تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔ حالانکہ مسلم سکالرز کی تبلیغی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو "گریٹر اسرائیل” کا تصور بھی او آئی سی کی طرح خود ہم نے ہی تخلیق کیا تھا اور اس کے نتائج بھی ہم مسلمانوں ہی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر مسلم اتحاد ہو جائے چاہے او آئی سی کے مردہ گھوڑے ہی میں جان ڈالی جائے تو کچھ بعید نہیں ہے کہ اسرائیل کی سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر کی طرح موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی بھی نیندیں اڑ جائیں۔

  • پاکستان اور روس کے درمیان معاہدات

    پاکستان اور روس کے درمیان معاہدات

    پاکستان اور روس کے درمیان معاہدات

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

    rachitrali@gmail.com

    ایک اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے مابین دوطرفہ تعلقات کا حالیہ احوال 9ویں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس میں سامنے آیا ہے جہاں ماسکو میں مختلف اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدات میں تجارتی و معاشی تعاون، صنعتی شعبے میں تعاون، اور تعلیمی میدان میں اشتراک شامل ہیں۔

    پاکستان اور روس کے تعلقات کا آغاز سرد جنگ کے دور میں اس وقت ہوا تھا جب دونوں ممالک عالمی سیاست کے مختلف کیمپوں میں تھے۔ 1965 میں پاکستان کے سابق صدر ایوب خان اور سوویت یونین کے رہنما لیونیڈ بریژنیف کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد تعلقات میں کچھ حد تک بہتری آئی۔ 1970 کی دہائی میں بھٹو دور حکومت میں تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک تعلقات میں سرد مہری رہی، جو نائن الیون کے بعد عالمی سیاست میں تبدیلیوں کے سبب دوبارہ گرمجوشی میں بدل گئی۔

    دونوں ممالک کے لیے حالیہ اجلاس کی بڑی اہمیت ہے، 9ویں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت دی۔ پاکستان کے وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری کی قیادت میں وفد کی ماسکو میں موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہیں۔جن معاہدات پر دستخط کیے گئے ان میں سے چند اہم معاہدات درج ذیل ہیں:

    پاکستان اور روس کے درمیان صنعتی شعبے میں تعاون کے لیے کئی معاہدے طے پائے ہیں۔ جن میں سے صنعتی معاہدہ پاکستان میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    کامسیٹس اور پشاور یونیورسٹی نے روسی تعلیمی اداروں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلیمی میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔

    انسولین کی مشترکہ تیاری کے معاہدے سے صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کو کم لاگت پر انسولین کی فراہمی ممکن ہوگی۔

    نیشنل وکیشنل ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا اشتراک بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ روس کی یونیورسٹی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط نے تکنیکی تعلیم کے شعبے میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔

    مستقبل میں تجارتی معاملات اور خام تیل کی خریداری میں بھی معاہدات پر دستخط کیے جائیں گے۔ روس کے ساتھ خام تیل کے معاملے پر جاری بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں یہ معاہدہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ان معاہدات کے اثرات نہ صرف پاکستان کی صنعتی اور تعلیمی ترقی پر مرتب ہوں گے بلکہ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا بھی سبب بھی بنیں گے۔ روس کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تناظر میں پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز بنا سکتی ہے۔ گو کہ یہ معاہدات پاکستان کی ترقی کے لیے بہت اہم ہیں لیکن کچھ چیلنجز بھی ہیں جن میں معاہدوں پر عمل درآمد میں بیوروکریسی کی روایتی رکاوٹیں اور روس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اور ان کا ممکنہ اثر شامل ہیں۔ان معاہدات کی وجہ سے پاکستان کی ترقی میں ایک نئی سنگ میل کو عبور کیا جائے گا ان معاہدات سے تکنیکی مہارت کے تبادلے سے صنعتی ترقی میں پیش رفت ہوگی اور تعلیمی میدان میں تحقیق و ترقی کے امکانات روشن ہونگے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان اور روس کے مابین یہ معاہدات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ اگر ان معاہدات پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے تو دونوں ممالک کی معیشتوں کو کافی فائدہ ہوگا، اور خطے میں پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ تاریخی پس منظر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے حالات کے لیے بھی اشد ضروری ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیاں یہ معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور روس مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، اور یہ پیش رفت مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہونگے ان شا اللہ۔

  • شکردرہ شہید بھٹو کے عاشقوں کی سر زمین ھے

    شکردرہ شہید بھٹو کے عاشقوں کی سر زمین ھے

    شکردرہ شہید بھٹو کے عاشقوں کی سر زمین ھے

    اٹک ( سٹی رپورٹر ) شکردرہ شہید بھٹو کے عاشقوں کی سر زمین ھے سردار سلیم حیدر شکردرہ جلسہ میں علاقہ کے لئیے بڑے ترقیاتی پیکج کا اعلان کریں سیوریج نکاسی تعلیمی اداروں کی آپ گریڈیشن ڈسپنسری کا قیام کھیلوں کا میدان عوام کے بنیادی مطالبات ہیں ان خیالات کا اظہار ٹھیکدار طارق فاروقی پیپلز پارٹی کے بانی کارکن بابو ربنواز آف شکردرہ نے میڈیا کے اراکین سے بات جیت کے دوران کیا انھوں نے کہا کہ شکردرہ روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے دو کلومیٹر روڈ کے دونوں طرف پختہ نالا انتہائی ضروری ھے

    شکردرہ شہید بھٹو کے عاشقوں کی سر زمین ھے

    علاقہ کے نوجوانوں کے لیئے کھیلوں کا میدان تعلیمی اداروں کی آپ گریڈیشن کثیر آبادی کے علاج معالجہ کے لیئے ڈسپنسری نکاسی آب سیوریج شکردرہ گرد و نواح کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں کی پختگی نئی آبادیوں کے لیئے گیس و بجلی کی فراہمی اہم مطالبے ہیں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اور بلاول بھٹو زرداری و دیگر قیادت کے متوقع جلسہ شکردرہ میں کے موقع پر ایک جامع ترقیاتی پیکج علاقہ کے عوام کا مطالبہ ھے اور عوام امید رکھتے ہیں کہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ھوئے ان منصوبوں پر خصوصی گرانٹ کا اعلان کریں گے اور ان مسائل کو حل کروائیں گے

  • کیا بلاول بھٹو زرداری تاریخ دہرائے گا؟

    کیا بلاول بھٹو زرداری تاریخ دہرائے گا؟

    کیا بلاول بھٹو زرداری تاریخ دہرائے گا؟

    Dubai Naama

کیا بلاول بھٹو زرداری تاریخ دہرائے گا؟

    یہ سنہ 1993ء کے جنرل الیکشن تھے۔ تمام معاصر اخبارات بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے عنوان سے تجزیئے شائع کر رہے تھے کہ دیکھتے ہیں کہ ان دونوں امیدواروں میں سے کون وزیراعظم بنتا ہے؟ یہ الیکشن پیپلزپارٹی نے جیتا اور محترمہ بےنظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔ لیکن 27دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی کے جلسے سے واپسی پر محترمہ بے نظیر بھٹو دشمن عناصر کی فائرنگ سے شہید ہو گئیں اور ان کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لیئے بند ہو گیا۔

    یہ سنہ 2023ء ہے اور الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اگلے عام انتخابات 8فروری 2024 کو منعقد ہونگے۔ میاں محمد نواز شریف 4سال بعد 21اکتوبر کو چوتھی بار ملک کے وزیراعظم بننے کی امید پر وطن واپس پہنچے اور لاہور کے اپنے پہلے جلسے کے بعد انہوں نے 14نومبر کو بلوچستان کا دو روزہ دورہ کیا جس سے وہ 30الیکٹیبلز کو نون لیگ میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چونکہ 9مئی کے ملک دشمن واقعات کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی کے اس الیکشن میں کوئی معرکہ مارنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے تو بظاہر آئندہ الیکشن میں سیاسی جیت کا مقابلہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہے۔

    اس سیاسی منظر نامہ کے پیش نظر یہ قوی امکان ہے کہ 1993 میں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان وزارت عظمی کے مقابلے کے 30سال بعد اس دفعہ وزارت عظمی کی دوڑ میاں محمد نواز شریف اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہے۔ وزیراعظم بننے کی یہ سیاسی مسابقت اپنے اندر پوری ایک "نسل” کا فرق لئے ہوئے ہے۔ میاں محمد نواز شریف کی عمر 74سال ہے جبکہ بلاول بھٹو کی عمر محض 35برس ہے۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں جس کی بنیاد ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے 30نومبر 1967 کو لاہور میں رکھی تھی۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز پیپلزپارٹی کے قیام کے 3سال بعد 1970ء میں ائیر مارشل محمد اصغر خان کی جماعت "تحریک استقلال” میں شامل ہو کر کیا تھا جس میں اس وقت کے خورشید محمود قصوری، علامہ عقیل ترابی، اعتزاز احسن، شیخ رشید احمد، جاوید ہاشمی، اکبر خان بگتی، مشاہد حسین سید، مہناز رفیع اور راجہ نادر پرویز جیسے مشہور سیاسی کردار بھی شامل تھے۔ نواز شریف نے 1990 کے دوران بحیثیت سربراہ ”اسلامی جمہوری اتحاد“ (آئی جے آئی) کے جنرل الیکشن کی کمپین چلائی اور وہ سنہ 1991ء میں "اسلامی جمہوری اتحاد” ہی کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار وزیراعظم بنے۔
    آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 30دسمبر 1906ء میں بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں رکھی تھی۔ اس نسبت سے پاکستان میں موجود مسلم لیگ کے کئی حصے بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون بھی مسلم لیگ کا ایک "دھڑا” ہے جیسا کہ شجاعت حسین کی قاف لیگ (اور پگاڑا لیگ وغیرہ) ایک دھڑا ہے۔ پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھنے سے قبل ذوالفقار علی بھٹو 1963 میں 35سال کی عمر میں پاکستان کے کم عمرترین وزیر خارجہ تھے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا یہ ریکارڈ 34سال کی عمر میں 27اپریل 2022ء کو وزیر خارجہ کا حلف اٹھا کر توڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء میں اپنی جماعت پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیتا اور بعد میں وہ پاکستان کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدر اور وزیراعظم بنے۔ کیا بلاول بھٹو زرداری 2024 کے الیکشن میں نون لیگ کے سربراہ محمد نواز شریف کو ہرا کر اپنے نانا کی طرح "وزیر خارجہ” سے "وزیراعظم” بن سکیں گے؟

    کہتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ عالمی سیاست میں بھی تاریخ نے خود کو کئی دفعہ دہرایا ہے۔ خاص طور پر خاندانی یا موروثی سیاست کے اعتبار سے ماضی قریب میں انڈیا کے گاندھی خاندان اور امریکہ میں ایڈمز اور بش فیملی نے یہ تاریخ کامیابی سے دہرائ جب جواہر لعل نہرو 15 اگست 1947ء کو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم بنے۔ نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی 1966ء اور 1980ء میں وزیراعظم بنیں۔ اندرا گاندھی کے بیٹے راجیو گاندھی 31 اکتوبر 1984ء کو اپنی والدہ اندرا کے قتل کے بعد وزیر اعظم بنے۔ اسی طرح جان ایڈم 1797ء میں اور ان کا بیٹا جان کواینسی ایڈم 1825ء میں امریکہ کے صدر بنے۔ جبکہ 1989ء میں جارج ایچ ڈبلیو بش امریکہ کے صدر بنے اور ان کے بیٹے جارج ڈبلیو بش 2001 سے 2009 تک دو بار امریکہ کے صدر رہے۔

    بلاول بھٹو زرداری 21ستمبر 1988ء کو اس وقت پیدا ہوئے تھے، جب ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو ضیاالحق کے اعلان کردہ 1988 کے انتخابات کے لیئے الیکشن مہم چلا رہی تھیں۔ 17اگست 1988 کو بہاولپور میں ضیاالحق کا جہاز کریش ہو گیا جس میں وہ شہید ہو گئے، اور محترمہ بے نظیر بھٹو الیکشن جیت کر وزیراعظم بن گئیں۔ یوں بلاول بھٹو کو وزارت عظمی، سیاست اور عوام سے رابطہ مہم کی صلاحیت گھٹی میں ملی یے۔ بلاول بھٹو 2024 کی الیکشن مہم کا آغاز کے پی کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کر کے پہلے ہی کر چکے ہیں۔ 2024 کا الیکشن جہاں میاں محمد نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی وزارت عظمی کا مقابلہ ہے وہاں ان کی عمروں، شخصیات اور نظریات کے تفاوت کی تاریخ دہرانے کا بھی مقابلہ ہے۔ عہد جدید ہمیشہ عہد قدیم کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ نواز شریف "شخصیات” اور "ڈرائنگ روم” کی سیاست کے کھلاڑی ہیں جبکہ بلاول بھٹو کا تعلق عوام اور نظریات سے ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پاس اس روایتی سیاست کو بدلنے کا شائد یہ پہلا اور آخری موقع ہے۔

  • عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم … بینظیر بھٹو شہید

    عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم … بینظیر بھٹو شہید

    عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم … بینظیر بھٹو شہید
    سعدیہ وحید
    (معاون مدیرہ: شعوروادراک خان پور)

    بینظیر بھٹو، پاکستانی سیاستدان،27 دسمبر 2007ء کو پاکستان پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن، پاکستان کے سابق صدر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی، ملک میں دوبارہ وزارت عظمیٰ کے لئے منتخب ہونے والی سیاسی قائد، عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے بعد ایک سفاک دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بن گئیں۔

    benazeer

    انہیں راولپنڈی جنرل اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں سے جاں بر نہ ہوسکیں اور شام 5 بجکر 10 منٹ پر اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرگئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے کراچی، اوکسفرڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 4 اپریل 1979ء کو جب ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی تو وہ 25 برس کی عمر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن بنیں، فوجی حکومت نے کئی سال تک انہیں نظر بند رکھا اور پھر جبری طور پر جلاوطن کردیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی میں اپنی پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔ ملک سے مارشل لاء کے خاتمے اور سیاسی حکومت کے قیام کے بعد 10 اپریل 1986ء کو وہ وطن واپس آگئیں۔ 18 دسمبر 1987ء کو ان کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی، 17 اگست 1988ء کو ان کے سب سے بڑے حریف جنرل ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ 16 نومبر 1988ء کو ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ، فاٹا اور چند آزاد امیدواروں کے تعاون سے مخلوط حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کی اور یوں 2 دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کی وزیراعظم بن گئیں۔ وہ عالم اسلام کی پہلی خاتون تھیں جو اس عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ ان کی یہ حکومت 20 ماہ تک جاری رہی۔ 6 اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام عائد کرکے انہیں وزارت عظمیٰ سے برطرف کردیا۔ 1990ء سے 1993ء تک وہ قائد حزب اختلاف کا فریضہ انجام دیتی رہیں اور 1993ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وہ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وہ دوسری شخصیت تھیں جو دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔

    benazir-ishaq-khan

    5 نومبر 1996ء کو انہی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر پاکستان سردار فاروق احمد لغاری نے ان کی حکومت کو بدعنوانی کے الزام میں برطرف کردیا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کو ملک کی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 15 اپریل 1999ء کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں نواز شریف حکومت کےا قائم کردہ مقدمات میں پانچ سال کی سزا سنائی۔ اس وقت وہ دبئی میں مقیم تھیں اس لئے ان سزائوں سے محفوظ رہیں۔ 2002ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے انتخابات میں حصہ لیا اور ملک میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تاہم چونکہ ان کی پارٹی کی نشستوں کی تعداد، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی نشستوں سے کم تھی، اس لئے انہوں نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس دوران مستقل دبئی میں ہی مقیم رہیں۔

    benazeer bhutto and kids

    14 مئی 2006ء کو انہوں نے ملک میں آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے لئے اپنے دیرینہ حریف میاں محمد نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کئے۔ 18 اکتوبر 2007ء کو وہ آٹھ برس بعد وطن واپس لوٹیں لیکن ان کے جلوس پر ایک خودکش حملہ ہوا جس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر دبئی واپس چلی گئیں۔ 3 نومبر 2007ء کو ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد وہ وطن واپس آگئیں۔ وہ جنوری 2009ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں (جو ان کی شہادت کے بعد ملتوی ہوگئے تھے) اپنی پارٹی کی قیادت کا فریضہ انجام دے رہی تھیں اور ملک کے مختلف شہروں میں جلسہ عام سے خطاب کررہی تھیں کہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والے جلسہ عام کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ جان کی بازی ہارگئیں۔ اگلے روز انہیں آہوں اور سسکیوں میں ان کے والد اور بھائیوں کے پہلو میں گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں سپردخاک کردیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھال لی اور محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری پارٹی کے شریک چیئرمین بن گئے۔
    ٭٭٭

    sadia

  • نا اہل اور سیلیکٹڈ مگر فتحیاب

    نا اہل اور سیلیکٹڈ مگر فتحیاب

    نا اہل اور سیلیکٹڈ مگر فتحیاب

    ( Incapable + Selected but

    Successful )

    ( 25 جولائی 2021 کے دن ریاست

    آزاد جموں و کشمیر میں ہونیوالے انتخابات اور تبدیلی کی تحریک پر ایک عمومی تبصرہ)

    تبصرہ نگار :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    غالبا 1967 کی بات ہے جب میں نے مولوی فضل الرحمان کے والد ، مفتی محمود احمد مرحوم  کے زیر سایہ سیاست کا سبق پڑھنا شروع کیا ۔ مفتی صاحب  ،  نہ فقط فاضل دیوبند بلکہ جمعیت علماء ہند کے بنیادی رکن ، شعلہ بیان مقرر اور پاکستان بننے کے بعد ایک قد آور ، اور زیرک  سیاست دان کے طور پر جانے  پہچانے جاتے تھے ۔ ان کی شاگردی میں  ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا  کہ ملکی سیاست میں اچانک ایک بھونچال آگیا ۔

    ہوا یوں کہ ایوب خان کے وزیرخارجہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو ، معاہدہ تاشقند کی بعض شقوں پر اپنے لیڈر اور محسن صدر ایوب سے اختلاف کرتے ہوئے سرکاری عہدے اور پارٹی ، مسلم لیگ ( کنونشن لیگ ) سے الگ ہوگئے ۔ یاد رہے ، مسلم لیگ ہی پاکستان اور پاکستانیوں کی ماں پارٹی تھی لیکن حضرت قائداعظم رحمة اللہ کی وفات کے بعد اسے کئی نام دئے گئے ۔ مثلا ،  کونسل لیگ ، کنونشن لیگ ، قیوم لیگ ، دولتانہ لیگ ، قائداعظم لیگ ، قاسم لیگ ، آل پاکستان مسلم لیگ ، فنگشنل لیگ ، عوامی لیگ وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح ایوب خان کی پارٹی کا نام کنونشن لیگ تھا ۔

    بھٹو صاحب نہ فقط کنونشن لیگ سے الگ ہوئے بلکہ اپنی ایک نئی جماعت کھڑی کرکے اسے پاکستان پیپلز پارٹی کا نام دے دیا ۔ مجھ فقیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس رات لاھور میں ( نومبر 1967 ) ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کے گھر پارٹی کا قیام عمل میں آیا ، اس سے اگلی صبح میں نے اس کی بنیادی رکنیت حاصل کی اور اس طرح مولانا مفتی محمود کے سیاسی مدرسے سے نکل کر بھٹو صاحب کے انقلابی اسکول میں داخل ہوگیا ۔

     یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے ،  کہ میری معلومات سنی سنائی نہیں بلکہ میں اس تاریخ کا حصہ رہا ہوں اور ایوب خان سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو کے دوسرے دور تک پاکستان میں ایک متحرک سیاسی کارکن تھا ۔

    اس تاریخی پس منظر کو جان لینے کے بعد ،  ہماری نوجوان نسل کو یہ علم بھی ہونا چاھئیے کہ ” تبدیلی ” کا جو نعرہ  آج عمران خان نے بلند کیا ، یہ نیا نہیں ،  بلکہ قیام پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ، پہلے سیاسی راہنماء تھے کہ جنھوں نے سوشلزم کے نام پر تبدیلی اور انقلاب لانے کی بات کی ۔ مساوات محمدی کا نعرہ لگایا ۔ ان کے نعرے میں بے پناہ جاذبیت ، اور شخصیت میں اسقدر کشش تھی کہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، بھوک ، مفلسی ،بے روزگاری ، سماجی ناانصافی  اور ظلم و ستم کے ستائے ہوئے عوام دیوانہ وار ان کے پیچھے ہو لئے ۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو میں نے قریب سے دیکھا ، ان کے ساتھ کام کیا ۔ نہ صرف وہ خود ایک ذہین ترین اور طلسماتی شخصیت کے مالک تھے بلکہ قدرت نے انہیں ساتھی اور کارکن بھی ایسے مہیاء کردئے کہ جو اپنی مثال آپ تھے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا سپنا ، سپنا ہی رہا ، تعبیر نہ مل سکی  بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ تمام جاگیردار اور وڈیرے ، کہ جن کے خلاف ہم نے تحریک چلائی ، سب کے سب اٹھ کر پیپلز پارٹی میں آگئے اور ہم جیسے نظریاتی کارکن منہ دیکھتے رہ گئے ۔

    دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے

    ہم وفاء کرکے بھی تنہاء رہ گئے

    معاشی انقلاب یا تبدیلی کے لئے اٹھنے والی اس اولین تحریک کی ناکامی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، چلتے ہیں عمران خان کی طرف اور دیکھتے ہیں کہ ان دو شخصیات میں کیا فرق ہے ۔ بھٹو صاحب  سماج بدلنے میں کیوں ناکام ہوئے اور کیا خان اپنے مشن میں کامیاب ہوسکے گا ۔ یہ تجزیہ کرنا آسان کام نہیں لیکن ایک حقیر سی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے ۔

    عمران خان اور  ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیات میں پہلا اور بنیادی فرق  یہ کہ ، بھٹو صاحب ایک فیوڈل کلاس یعنی جاگیردار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور اگر آپ نہیں جانتے تو اب جان لیں  کہ ،  جاگیرداری / فیوڈل ازم صرف دنیاوی اور مادی حیثیت ہی کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ بھی ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا ۔ سیاسی فائدے کے لئے عوام عوام کرنا الگ بات لیکن فیوڈل لارڈ / جاگیردار ،  عوام میں سے نہیں ہوتا ۔ اس کی تعلیم و تربیت میں حاکمیت اور فرعونیت کوٹ کوٹ کر بھر دی جاتی ہے ، اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے ، کہ اگر لارڈ ( Lord ) اور عوام کے درمیان کوئی فرق نہ ہو تو لارڈ  حاکم اور عوام ، عوام  کیسے ہوسکتے ہیں  ۔  اس فلسفے کو مزید سمجھنا ہو ،  تو برطانوی سیاست کو پڑھیں جنھوں نے برصغیر ( Subcontinent ) میں یہ کلاس پروان چڑھائی اور انہیں عوام پر حاکمیت کے گر( Art / Skill )  سکھائے ۔ 

    قصہ مختصر ، ذوالفقار علی بھٹو  نے اگرچہ ,  بہ ظاہر عوام کی بات کی ، سوشلزم اور مساوات محمدی کا نعرہ لگایا لیکن اپنے جاگیردارانہ پس منظر کی زنجیروں  سےجان نہ چھڑا سکے اور

    پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

    کے مصداق ، واپس جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے شکنجے میں پھنس کر غلطی پہ غلطی کرتے ہوئے ، غریب عوام کو بند گلی میں چھوڑ کر ، خود پھانسی کے پھندے پہ جھول گئے ۔

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

    عوام کی حالت اور سماج تو نہ بدلا البتہ پاکستان , ایک ذہین و فطین سیاست دان سے محروم ہوگیا ۔ میرے ناقص خیال کے مطابق ، اس ناکامی کی وجہ صرف ان کا فیوڈل / جاگیردار  ہونا ہی نہ تھا ، بلکہ پاکستان بھر کے اکثر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے جب سوشلزم تحریک کے نتیجے میں ،   سماج کے اندر اٹھنے والی تبدیلی کی لہر اور اس کی شدت کو بھانپ لیا ،  تو ایک منصوبے کے تحت ،  جوق در جوق پیپلزپارٹی میں چھلانگیں لگانا شروع کردیں تاکہ عوامی انقلاب کا راستہ ، اندر سے روکا جاسکے اور وہ اپنے اس مشن میں کامیاب رہے ۔ اب یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے ، کہ ،  کیا ایک فیوڈل لارڈ واقعتا سوشلزم کا حامی اور جاگیرداری و سرمایہ داری کا خاتمہ چاہتا تھا ؟ 

    جوابا صرف اتنا عرض کرونگا ،

     دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے ۔ وہ سوشلزم نافذ کرنا چاہتے تھے یا نہیں لیکن ان کے دل و دماغ میں ماوزے تنگ اور معروف انقلابی گوریلا لیڈر  چی گویرا   بننے کی خواہش ضرور موجود تھی ۔

    میں نے  ان کی تقریروں اور نجی گفتگو میں  متعدد بار  ان دو شخصیات کی تعریف اور ذکر سنا ۔

    بھٹو صاحب یا ان کی تحریک ناکام ضرور ہوئی لیکن ایک بات واضح کرگئی ، کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت ، اس وقت سے لیکر آج تک نظام ( System ) کی تبدیلی اور انقلاب کی خواہش دل میں لئے گھوم رہی ہے ۔   یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد جب عمران خان نے وہی بات دہرائی تو منزل کے متلاشی اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع ہوگئے ۔ آئیے دیکھتے ہیں اب کی بار کیا ہونے والا ہے ۔

    عرض ہے کہ ، موجودہ

    ” سماج سدھار ”  تحریک ، کے بانی عمران خان کا تعلق جاگیردار گھرانے سے نہیں بلکہ وہ اپر مڈل کلاس سے ابھرنے والا ایک ایسا شخص ہے ، کہ جس نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا لھذا اس کی سوچ فیوڈل نہیں بلکہ عام آدمی کی سوچ ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ جو کہہ رہا ہے کرکے دکھائیگا بشرطیکہ بھٹو مرحوم کی طرح وہ بھی ، بورژوائی یا سماج دشمن مافیاز کے چنگل میں نہ چلا گیا  ۔  یہاں تک تو سب اچھا ہے لیکن خان کی بدقسمتی کہ اسے بھٹو صاحب کی طرح قابل اور اچھے ساتھی میسر نہیں ۔ میرے خیال کے مطابق  اگر تحریک انصاف سے عمران خان کو منہاء ( Minus ) کردیا جائے تو ،  چند افراد کو چھوڑ کر ،  باقی سارا اسکریپ اور کاٹھ کباڑ ہی نظر آئیگا  ۔

    Imran Khan

    آپ نے غور کیا ، خان کیوں روز روز وزیر مشیر اور ان کی ذمہ داریاں بدلتا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ جو جو اہداف وہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتے لھذا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے  گھوڑے بدلنے پڑتے ہیں ، اپنے ہی فیصلوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ اب  آپ اسے یو ٹرن کہیں یا حصول اہداف کے لئے ایک مخلص انسان کی مسلسل  تگ و دو ( Struggle ) ,  یہ آپ کی مرضی ۔

    ایک بات یاد رکھیں ، سماج ،  سماجی رویے ، عادات ، حالات ، رسومات ،  اور روایات کو بدلنا آسان کام نہیں ۔ صدیوں سے سماج کا خون چوسنے والی جونکیں اور  طاقت کے بل بوتے پر قائم مافیاز کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے بلکہ ان کی طرف سے ہمیشہ شدید مزاحمت ( Resistance ) سامنے آتی ہے ۔ اصلاح کی بات کرنے والوں کو نہ صرف گالی گلوچ ، بد کلامی اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ جان تک دینی پڑ جاتی ہے اور یہی کچھ اس وقت عمران خان کے ساتھ ہورہا ہے کیونکہ وہ نظام کو بدلنا چاھتا ہے ۔

    ممکن ہے کچھ  قارئین میری اس رائے سے اختلاف کریں ۔ ایسا کرنے کا انہیں حق حاصل ہے لیکن کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ماضی کے تقریبا تمام حکمران کس لئے یکجاء ہوکر خان کی مخالفت کررہے ہیں ؟ جواب بڑا آسان ہے ۔ خان صاحب نظام بدلنے اور احتساب کا نعرہ ترک کردیں پھر کوئی مخالفت نہ ہوگی لیکن جب تک وہ اپنا مشن جاری رکھے گا , تبدیلی مخالف قوتیں کیونکر خاموش رہ سکتی ہیں ۔ آپ ان کے مفادات کو ٹھیس پہنچائیں ، انہیں احتساب کے کٹہڑے میں کھڑا کریں اور وہ آپ کو بخش دیں ایسا ممکن نہیں ۔

    تبدیلی اور انقلاب مخالف ان قوتوں نے اپنے من پسند اور فرسودہ ( Outdated )  نظام کو بچانے کی خاطر مختلف محاذ کھول رکھے ہیں ۔ زرخرید صحافیوں اور بلاگرز کے ذریعے ، انداز حکمرانی پر تنقید کے ساتھ ساتھ خان صاحب کی ذات کو بھی ہدف تنقید و تضحیک بنایا جاتا ہے ۔

    نااہل اور سیلیکٹڈ کے خطابات دراصل نفسیاتی حربہ ( Psychological Weapon ) ہے ، جس کی مسلسل گردان اور تبلیغ کے ذریعے وہ عام آدمی کو خان سے متنفر کرنا چاھتے ہیں لیکن وہ اپنے اس مشن میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے اور آنے والا ہر دن خان کے لئے کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید لیکر آرہا ہے ۔

    قارئین کرام

    اسے جادوگری کہیں ، کرشمہ ، کرامات  یا  غیبی مدد ، کہ جس شخص کو گزشتہ تین برس سے نا اہل ، سیلیکٹڈ ، نیازی ، یوٹرن کا بادشاہ اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا ، وہ اب تک ،

    1. مرکز میں حکمران ہے

    2. خیبر پختونخواہ میں حکمران ہے

    3. پنجاب میں حکمران ہے

    4. گلگت بلتستان میں حکمران ہے

    5. اب کشمیر میں حکمران بنا

    6. سینیٹ آف پاکستان میں سب سے بڑی پارٹی ، خان کی پارٹی بنی

    7. سندھ میں قائد حزب اختلاف خان کا ورکر

    8. بلوچستان کی مخلوط حکومت میں برابر کا حصے دار ہے ۔

    یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے کہ ایک نا اہل اور سیلیکٹڈ  نیازی یہ سب کامیابیاں کیسے سمیٹ رہا ہے ۔ اگر  نا اہل ہے تو فتحیاب کیوں ؟

    اس کا ایک ہی روائتی جواب آئیگا  ، ان کامیابیوں کے پیچھے وردی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کشمیر کے حالیہ انتخابات میں فوجیوں نے سفید لباس پہن کر ووٹ ڈالے جبکہ وہاں حکومت ن لیگ کی ، الیکشن کمیشن  ان کا مقرر کردہ اور سول انتظامیہ بھی ان ہی کے وزیراعظم کے ماتحت تھی ۔

    میرے خیال سے  کراچی تا کشمیر پاکستان کے عوام ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی خواھش لیکر میدان میں نکل پڑے ہیں اور اگر عمران خان اپنے وعدے پر قائم رہے تو اس بار عوامی انقلاب کو روکنا ممکن نہ ہوگا ۔

    میری رائے سے  اختلاف آپ کا حق ہے لیکن جو نکات میں نے اٹھائے ان پر غور کرتے رہیں ۔

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ای میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 10

    کیمبل پور سے اٹک تک – 10

    تحریر:سیدزادہ سخاوت بخاری

    عاشق کلیم مرحوم کا اصرار تھا کہ میں امیدوار صاحب کو ان کے پاس لیکر جاوں ، جبکہ موصوف اس بات پہ بضد کہ ٹکٹ پکا کریں تو میں سامنے آوں گا ۔ کافی بحث و تکرار کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ ملاقات ہوگی لیکن اسے خفیہ رکھا جائیگا ، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ امیدوار اور ضلعی صدر کی ملاقات کے بعد ، طے پایا کہ پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت کو اعتماد میں لیکر اس بات کو آگے بڑہایا جائے ۔ کیمبل پور اگرچہ اس وقت بھی صوبہ پنجاب ہی کا حصہ تھا اور اصولی طور پر ہمیں پنجاب ہی کی قیادت سے بات کرنی چاھئے تھی لیکن ہوا یہ کہ ، لاھور سے بہت دور اور پشاور کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ، بھٹو مرحوم نے ہمیں ، صوبائی سطح پہ پشاور سیکریٹیریٹ کے ماتحت کردیا ۔ یاد رہے ، اس وقت صوبہ سرحد کے صدر حیات محمد خان شیرپاؤ تھے ، جو بعد میں صوبے کے گورنر بنے ، وزیر رہے اور بعد ازاں ایک بم حملے میں ھلاک ہوگئے ۔ ان کی وفات کے بعد ان کا بھائی آفتاب شیر پاو سیاست میں آیا ۔ امیدوار صاحب کی ٹکٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے حیات محمد خان مرحوم سے رابطہ کیا گیا ، جواب ملا ، فلاں تاریخ کو بھٹو صاحب پشاور آرہے ہیں ، آپ امیدوار کو لیکر یہاں آجائیں ، بات کر لیتے ہیں ۔ میں ، عاشق کلیم اور امیدوار ، تاریخ مقررہ کی شام یونیورسٹی ٹاون پشاور میں واقع شیرپاو ہاؤس پہنچ گئے ۔ پورے صوبہ سرحد سے کارکن اور راہنماء ذوالفقار علی بھٹو کو ملنے کے لئے وہاں موجود تھے ۔

    iattock

    صحن اور برآمدے میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ، تھوڑی دیر گزری تھی کہ شیرپاو صاحب باہر آئے ، ہم پہ نظر پڑی ، قریب آئے ، کسی کو بلاکر ہمارے لئے نشستوں کا بندوبست کیا اور ساتھ ہی بتادیا کہ چین کا پشاور میں قونصل جنرل اس وقت ” صاحب ” کے پاس بیٹھا ہے ، وہ جیسے ہی اٹھے گا میں باہر آکر آپ کو اندر لے جاونگا ۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ وہ باہر آئے اور عاشق کلیم کو سرگوشی کے انداز میں کہا کہ امیدوار صاحب یہیں تشریف رکھیں ، آپ دونوں اندر جاکر ” صاحب ” سے مل لیں ۔ میں اور عاشق کلیم شیرپاؤ کے ہمراہ کمرے میں گئے ، بھٹوصاحب عوامی سوٹ میں ملبوس کرسی پہ تشریف فرماء تھے ۔دعاء سلام کے بعد ، کیمبل پور میں پارٹی کی سرگرمیوں اور عوامی رد عمل کے بارے میں پوچھا ، مختصر سی گفتگو کے بعد ، عاشق کلیم نے بتایا کہ ایک صاحب کو لیکر آئے ہیں ، جو شہر کی صوبائی نشست کے لئے موزوں امیدوار ہوسکتا ہے لیکن اس کی طرف سے شرط رکھی گئی ہے کہ ٹکٹ کا پکا وعدہ کریں تو پارٹی میں شامل ہو جاونگا ۔ بھٹو صاحب نے کہا ، ٹکٹ دینگے ، اسے کہیں پارٹی میں شامل ہو جائے ۔ یہ ملاقات زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک جاری رہی اور ہم اجازت لیکر باہر آگئے ۔ بھٹو مرحوم کی عادت تھی کہ اگر ضروری نہ ہو تو کسی کو بھی 5 سات منٹ سے زیادہ وقت نہیں دیتے تھے ۔ باھر نکلے ، شیرپاو صاحب سے اجازت لی اور گاڑی میں بیٹھ کر پیشاور صدر میں واقع گرین ھوٹل آگئے ۔ اب امیدوار صاحب نتیجہ سننے کے لئے اسقدر بے تاب کہ ، دم نہیں لے رہے ، بار بار مجھ سے پوچھ ریے ہیں ، شاہ جی ! کیا ہوا ، بھٹو صاحب نے کیا جواب دیا ۔ میری مجبوری یہ کہ عاشق کلیم نے مجھے منع کردیا تھا کہ اسے بتانا نہیں ۔ گرین ھوٹل کی چھت پہ بنے اوپن ائر ریستوران میں پشاوری باربی کیو سے ہماری تواضع کی گئی ، گپ شپ ہوتی رہی لیکن حضرت نے نتیجہ جاننے پہ اصرار جاری رکھا ۔ اسی سسپینس کو بحال رکھتے ہوئے جب میں ھاتھ دھونے کے لئے واش روم گیا تو وہ آکر میرے عقب میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ باہر نہیں جاسکتے ، بتاو کیا جواب ملا ، میں نے کہا عاشق کلیم کو پتہ نہ چلے کیونکہ انہوں نے منع کررکھا ہے ، کام آپ کا ہوجائیگا لیکن پہلے پارٹی جوائن کرنی ہوگی ۔ امیدوار صاحب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔ عاشق کلیم مرحوم کی تعلیم تو زیادہ نہ تھی لیکن بہت ہی ذہین و فطین شخص تھا ، جب ہم واپس آکر بیٹھے تو کہنے لگے ، بخاری مجھے یقین تھا یہ آپ سے بات پوچھ کر چھوڑے گا ۔ اچھا کوئی بات نہیں ، کل صبح اگلا پروگرام طے کرینگے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں ، وقت کیا کیا منظرنامے پیش کرتا ہے ، مجھے تو ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اجازت ملی لیکن مستقبل کا وزیر باہر بیٹھا ہمارا انتظار کرتا رہا ۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط

  • اقبال کے شاہیں کی پھانسی

    اقبال کے شاہیں کی پھانسی

    عروج جبر کے ہر دور

    میں ہم نے وہی زنجیر

    دیکھی ہے کہ جس نے روشنی

    کو قید کر ڈالا

    کہ جس نے ہاریوں کی

    آس زخمی کی

    کہ جس نے بیڑیوں کے جبر سے

    پنڈلی کو نوچا ہے

    سنا ہے اس کو عادت تھی

    جھکانے کی ، رلانے کی

    ستانے کی ، لہو قطروں کی

    صورت میں بہانے کی

    اسی جابر نے بھٹو کو

    بڑی نفرت سے پھانسی دے

    کے مارا ہے

    کہ باتیں سب کے منہ پہ جا

    کے کرتا تھا

    غریبوں کی محبت کی

    فقیروں پہ عنایت کی

    اسیروں کی حمایت کی

    زمیں جاگیرداروں سے

    چھڑا کر سب

    کسانوں کو دلانے کی

    مگر گندم کے قاتل مل

    گئے سارے

    مروت چھوڑ کر

    ظالم ،ہوئے در پئے

    وہ بھٹو کے

    اگرچہ تھیں وہ سب چڑیاں

    مگر اقبال کے شاہیں

    کو اپنے جبر سے مارا

    دیا مسمار کر کے تیرگی

    چاہی ، وہی ظالم

    بہت اترا کے چلتے تھے

    مگر یہ سب خدا نے

    آسماں پہ غور سے دیکھا

    جسے مفلس کی جھولی بھی

    پیاری تھی

    خیال "کن” سے اس نے

    فیصلہ کر کے گرایا

    منہ کے بل ظالم

    جسے کووں نے کھایا تھا

    وہی اقبال کے شاھیں

    مرے بھٹو کا قاتل تھا

    سید حبدار قائم آف اٹک