الحمدللہ میرے ﷲ نے مجھے بہت اچھا حافظہ دیا ﷲپاک اسے قائم رکھے آمین مجھے یاد ہے میں جب چھوٹی تھی میری والدہ کو ﷲپاک صحت عطا فرمائے محرم شروع ہوتے ہی ہمارے نانا جان کی تقاریر کی کیسٹ ٹیپ ریکارڈر پر لگا دیا کرتی تھیں خود بھی سنتی تھیں ہمیں بھی سناتی تھیں کیونکہ تب سوشل میڈیا کا نام نشان نہیں تھا میرے کانوں میں آج بھی میرے نانا کی گرج دار آواز گونجتی ہے علی اصغر ؑ کا واقعہ سناتے وقت پڑھتے تھے
علی ؑکے گھر کا ہر اک بچہ جہاں پیدا ہوا شیر خدا معلوم ہوتا ہے
اور کیا غضب تھا ساتویں کو بند پانی کر دیا پیاس سے بسمل تھے بچے اور جوانان حسین
یہ یادیں نہیں بھولی آج تک جب میں یہ سب سنتی تو سوچتی تھی کاش میں وہاں ہوتی میں پانی ان کو دے آتی بچی تھی اس ٹائم سمجھ نہیں تھی ﷲ کی حکمت تھی ورنہ تو
حسین انگلی اٹھاۓ فرات رقص کرے
والا معاملہ کچھ مشکل نہیں تھا
مجھے یاد ہے ساتویں محرم سے دسویں محرم تک میری والدہ شربت کی نیاز دلاتی تھیں محلے کے بچے ہمارے گھر آ کے شربت پیتے تھے۔
محرم کا احترام محرم کا ماحول ہمیں والدہ کی گود سے ملا والد صاحب کو ﷲغریق رحمت کرے بوجہ ملازمت شہر سے باہر ہوتے تھے ہفتہ بعد گھر آتے تھے تو والدہ ہی سب بتاتی تھیں۔
امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا اس وقت سن کے جب شعور نہیں تھا تب بھی آنکھ سے آنسو نکلتے تھےشہزادہ علی اصغر ؑ کی شہادت بی بی سکینہ ؑ کی باتیں تڑپاتی ہیں آج بھی اسلام کو صحیح معنوں میں زندہ رکھنے کے لیے امام حسین علیہ السلام نے بہت عظیم قربانی دی ان کا دکھ ان کا صبر شاید ہی ہم سمجھ سکیں
شہیدانِ کربلاکے حوصلے تھے دید کے قابل وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا
جی ہاں ہمارے امام حسینؑ جب ہمارے اعمال میں نمازوں کی کمی دیکھتے ہوں گے تو ان کے ان بے شمار زخموں سے پھر خون جاری ہو جاتا ہوگا۔ جو کربلا کی گرم ریت کی جلن اور تپش برداشت کر چکے تھے۔ ہمارا راتوں کو غفلت کی نیند سونا امام ؑ کو مضطرب کر دیتا ہو گا کیونکہ آپ یہ سب دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ میں نے بھائی قربان کئے ، بیٹے لہو میں لتھڑے ہوئے دیکھے۔ اصغرؑ و اکبرؑ کا خونِ نا حق دیکھا اور تو اور بی بی سکینہ ؑ کی تشنہ لبی اور ہاتھوں میں اٹھایا ہوا خالی کاسہ دیکھا اور اس سے بڑی دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے دشمن غیرت مند نہیں انتہائی کمینے ، سفاک اور بے غیرت دیکھے جنھیں چادر زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت کا علم بھی نہ تھا۔
جی ہاں !
امام حسینؑ حالت افسردگی و پیشمانی میں سوچتے ہوں گے کہ میں نے اتنے دکھوں اتنے مصائب و آلام میں بھی نماز اور نمازِ شب کا دامن کبھی نہ چھوڑا اور مجھے ماننے والے ، میرے نانا کے کلمہ گو اور میرے بابا کے شیعہ بے نماز کیوں ہیں اور ہمارے چاہنے والے نمازِ شب کی اہمیت کو کیوں نہیں سمجھتے۔ اللہ کی رحمت سے مستفید کیوں نہیں ہوتے۔ شائد اسی احساس کی قندیل کو روشن کرنے کے لیے امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہے۔
جو شخص نماز شب ادا نہ کرے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے
امام جعفر صادقؑ
اور جسے امام اپنے حلقہءاحباب کی صف سے اور اپنی مجلس سے نکال دیں، اس شخص کی تیرہ بختی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟
نمازِ شب نور کی ایک کیفیت کا نام ہے! نماز شب وجدانِ روح کی عظمت کا نام ہے۔ اسی لیے نماز شب پڑھنے والے کی آنکھوں میں نور اور طبیعت میں سکون نظر آتا ہے نمازِ شب ادا کرنے والا علم و آگہی کا بے کراں سمندر بن جاتا ہے جو علم و آگاہی کے موتی بانٹتا نظر آتا ہے! عمل کی بات ہو رہی تھی۔ ہمارے اعمال کے ساتھ جب ہماری خواتین کے اعمال پر خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور آپ کی طاہرہ بیٹی زینبؑ جنہیں تاریخ محرومتہ المسرت کے نام سے جانتی ہے کی نظر پڑتی ہو گی۔ تو بی بی کو بازار شام ، شرابی فاسق یزید کا دربار اور نانا کی امت کے اعمال کے دیے ہوئے سارے دکھ اور غم یاد آجاتے ہوں گے۔ کیونکہ آج ملت اسلامیہ سے موبائل فون ، فیس بک ، گوگل پر انٹر نیٹ ، ڈش انٹینا اور کیبل پر دکھائی جانے والی بے حیائی نے ہماری نوجوان نسل سے نمازِ شب چھین لی ہے۔ پہلے ہمارے اسلاف جو راتوں کو سجدہ ریزی سے گوہر نایاب چنتے آج شب کی ان ساعتوں میں ہمارے جوان ڈش انٹینا اور کیبل پر طاغونی طاقتوں اور مغرب کی خواتین کے تھرکتے ہوئے عریاں جسم دیکھتے ہیں ۔ اسی ڈش انٹینا، انٹرنیٹ اور کیبل نے ملت اسلامیہ کی خواتین سے حیا کی چادر نوچ لی ہے کھلے عام سڑکوں پر ننگے سر چلنے والی خواتین کو چادر زینب سلام اللہ علیہا کا کیسے احساس ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ ان کی سوچ کا محور تو جدیدیت ہے۔ مغرب کی عریانیت کے ہتھکنڈے کامیاب ہو گئے ہیں !
اس لیے ہماری نو جوان نسل تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے اور روشنی کے مینارہ نور ہستیوں کے درخشاں درس کو بھول گئی ہے نمازِ شب کے متعلق حضرت امام جعفر صادقؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ
خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ خدا کے غضب کا نشانہ وہ شخص ہے جو رات بھر کسی مردار لاشے کی طرح پڑا رہتا ہے اور دن بھی سستی اور کاہلی میں گزار دیتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ
گویا نماز شب ادا کرنا غضب الہی سے بچنے کا بہترین وسیلہ ہے اسی لیے تو حضرت بی بی زینبؑ نے سفر کی صعو بتوں کو آڑے نہ آنے دیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بھی نمازِ شب ادا کی۔ اور مومن خواتین پر واضح کر دیا کہ کھٹن اور حالات کی تیز رو کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور نمازِ شب کا دامن کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔
کسی کے بس میں کہاں ہمسری حسینؑ کی ہے کمال و اوج میں وہ برتری حسینؑ کی ہے یہاں زمانوں کو سیراب ہوتے دیکھا ہے بلا کی فیض رساں تشنگی حسینؑ کی ہے بہشت کی جو طلب ہے تو آ حسینؑ کے پاس تجھے خبر ہے کہ جنت سخی حسینؑ کی ہے فساد، ظلم، جفا، غیر کا تعارف ہے وفا، خلوص، اماں، آشتی حسینؑ کی ہے دیار عقبی کو جاتے ہیں کربلا سے حُر بصد خوشی کہ وہ اقلیم بھی حسینؑ کی ہے پھر ان کے در سے ہمیں تو کہیں نہیں جانا کہ کائنات میں جب خواجگی حسینؑ کی ہے میان باطل و حق امتیاز کی خاطر لکیر خون سے کھینچی گئی حسینؑ کی ہے میرے خدا تیری توحید کے ثبوت میں بھی گواہی سب پہ جو بھاری رہی حسینؑ کی ہے
بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،
اگر ہم دنیا میں ایسی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں کہ جس سے ہماری دنیا بھی آباد رہے , اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ملے تو اس کے لیئے ہمیں اپنے پیارے نبی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ہو گا , آپ کے اُسوہء حسنہ کو اپنا ہو گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ اُسوہءِ حسنہ ہے کیا ؟ اُسوہءِ حَسنہ ہی درحقیقت ندائے حق ہے،
اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے : عفو و درگزر ہے : پیار و محبت و شفقت و مہربانی ہے : نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی،
اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے : اخلاص و تقویٰ ہے : عدل و انصاف و احسان ہے : خشیتِ اِلٰہی ہے،
اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے : امر بِالمعروف ہے : نہی عن المنکر ہے : نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے : اتحادِ مِلّی ہے،
اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے : کسبِ حلال ہے : حرام سے اجتناب ہے : گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے : منافقت سے نفرت ہے : عبادت و ریاضت ہے : ریاکاری سے اجتناب ہے : اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت ہے، اپنی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے دروازے پر رُک کر اجازت طلب کرنا اور اپنی بیٹی کی تعظیم میں کھڑے ہو جانا بھی اُسوہِ حسنہ ہی ہے، اپنے نواسوں کے لیے دورانِ خُطبہ منبر چھوڑ کر نیچے اُترنا اور شہزادوں کو گود میں بٹھا کر خُطبہ دینا اور دورانِ نماز امام حسین علیہ السلام کا پشت پر سوار ہونا اور اللہ کے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا سجدے کو طول دینا بھی اُسوہءِ حسنہ ہی ہے اور قُرآن کا یہ بھی ارشاد ہے کہ
مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ
جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی
اسی لیے اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو اُن کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ
دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ القلم کی چوتھی آیت میں کہنا پڑا کہ وَاِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں،
اور سورۃ الحشر کی ساتویں آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ
اے میرے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ میں (ان تمام خدمات کے بدلے میں) تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میری اہلبیت سے محبت کرنا ،
اللہ کے حکم سے جھوٹوں پر لعنت کے لیے جن سچوں کو ساتھ لے کر گئے تھے وہ تو یقینی سچے تھے نا تو پھر اُن پانچوں سچوں کے ساتھ امت نے کیا کیا وہ سب بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔
کہا یہ جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حدیث ہے کہ علماء انبیاؑء کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور پر نہیں لینا چاہیئے , کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ وہ 28 رجب تھی , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رھے تھے تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اور پھر 8 ذوالحجہ کو حج کے احرام کھول کر کعبہ کی حُرمت کی خاطر مکہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے شہرِ مکہ حجاج اور علماء سے بھرا پڑا تھا تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر کاربند رہے ہیں
رحمتِ عالم ﷺ کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو نور جلالت سے مرعوب ہو کر کانپنے لگا اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ ﷺ کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام ,رضی اللہ عنہم آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم ؐنے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسولؐ کیسے ہوئے ؟ جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ اپنے اُسی مہربان نبی کی اولاد کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنائیں، پانی بند کر دیں ناموسِ نبی کی باپردہ محذراتِ عصمت بیبیوں ، بچوں کو قیدی بنا کر شہر بہ شہر پھرائیں اور علمائے اُمت وارثانِ دین خاموشی اختیار کیے رکھیں، نبی کے مظلوم خانوادے کے غم کو روکنے کے لیے قتل و غارت کے بازار گرم کریں اور آج یہ عالم ہے کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہیں، سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ھے کہ
پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,
بدلہ نہ لینے والے رسول عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی، حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے , ذرا دیر کو رُک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے سراپا رحمت بن جائیں، قُرآن کے فرمان کے مطابق اُسوہءِ حسنہ کی جُزوی نہیں مکمل پیروی کریں، اہلبیت جن کی محبت رسالت کا اجر قرار پایا تھا، اُن پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کریں، اور مظلوموں کا غم منائیں، اور جو لوگ اس غم کے منانے میں رکاوٹ بنیں تمام مسلمان ایسے لوگوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔
نمازِ شب کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو کربلا کے بادشاہ ! جن کے متعلق خواجہ معین الدین اجمیری ؒ نے کیا خوب لکھا ہے
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
خواجہ معین الدین اجمیری ؒ
وہ بادشاہ جس کے طاہر بدن پر اتنے زخم لگے کہ ہوا زخموں سے باآسانی گزر جاتی تھی۔ زخموں سے چور بدن پر کربلا کی گرم ریت پڑتی تو کربلا کا بادشاہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا تھا۔ وہ کربلا کا بادشاہ جو شہزادہ علی اصغر ؑ کا درد لیے اور علی اکبرؑ کا غمِ فرقت لیے اور نہ جانے کتنے درد سینے میں لیے آخری سجدے کے لیے خیموں میں تیاری کر رہا تھا ۔تمام بیبیوں کو الوداع کر کے مقتل کی طرف چلنے لگے تو آخر میں ایک بوڑھی عورت ملتی ہے امام ؑانتہائی احترام و عقیدت سے فرماتے ہیں۔
یا فضتہ علیک السلام
یعنی اے فضہ تم پر میرا سلام ہو ۔
جنابِ فضہ کو الوداع کر کے امام ؑکچھ قدم آگے بڑھتے ہیں ۔ تو حدِ خیمہ تک محرومتہ المسرت بی بی ( جناب زینبؑ ) ساتھ آتی ہیں بی بی جانتی ہیں کہ ان کا عظیم بھائی عظیم قربانی کے لیے جارہا ہے بی بی کے دل میں غم کے طوفان امڈتے ہیں اور طوفان کیوں نہ ہوں کہ جن کے گھر کے سب افراد شہید ہو جائیں اور آخری فرد اجل کے منہ میں جا رہا ہو ۔ تو اس گھر کی عورتوں کی کیا حالت ہو تی ہے۔ لیکن میں قربان کر دوں اپنی زندگی کی ساری ساعتیں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حوصلوں پر ، آپ کی جرات پر، آپ کے جزبے اور آپ کے ایمان پر کیونکہ دین بچ رہا ہے۔ دین کی پیاس خون حسینؑ سے بجھے گی دین کی تشنہ لبی امام دور فرمائیں گے۔
حدِ خیمہ پر پہنچ کر دونوں بہن بھائی رک جاتے ہیں غموں سے نڈھال تشنہ لب حسینؑ بہن کی غربت اور چادر کی طرف دیکھتے ہیں تو امام جانتے ہیں کہ ان کے شہادت کے بعد یہ چادرِ فاطمہ بنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لٹ جائے گی ۔ امام نگاہیں نیچی کر لیتے ہیں تو بہن مخاطب کر کے کہتی ہے۔ کہ بھیا مجھے پتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت کم ہے اور یہ آخری رخصت ہے بھیا مجھے اماں جان نے حکم دیا تھا کہ جب حسینؑ ! وہ حسینؑ جسے میں نے بڑی محنت سے پالا ہے جب آخری بار الوداع کہے تو زینب ! میری طرف سے اس کا گلا چوم لینا ۔ مجھے ماں کی وصیت کو پورا کرنا ہے بھیا گلا کھولو۔ حسینؑ نے اپنے بند قبا کھول دیے۔ بی بی نے اپنے بھائی کے گلے پر بوسہ دیا اور امام سے لپٹ گئیں۔ اس کے بعد امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی اماں حضور نےحکم دیا تھا کہ جب آخری الوداع کروں اور جانے لگوں تو میری بیٹی زینبؑ کے بازو پر میری طرف سے بوسہ دینا۔ تم بازو کھولو میں تمہارے بازو چوم لوں ۔ حسینؑ بہن کے بازو چوم لیتے ہیں اور جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور اپنی بہن کو وہ وصیت کرتے ہیں ۔ جسے شائد ہم مسلمان شیعہ اور سنی فراموش کر چکے ہیں ۔ وہ وصیت کیا تھی ! ایک درس ہے ، ایک علم ہے ، ایک ضابطہ حیات ہے اور وہ یہ کہ جتنی بھی تکالیف آئیں اس درس کو نہیں بھولنا امامؑ ارشاد فرماتے ہیں ،
امام زین العابدینؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے بعد ہم پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ہماری سواریوں کو دوڑایا گیا جسکی وجہ سے ہمارے کئی بچے اونٹوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے گئے اتنے زیادہ مصائب و آلام ڈھائے جانے کے باوجود میری پھوپھی زینبؑ نے نمازِ شب کو کبھی ترک نہیں فرمایا۔
حضرت امام حسینؑ اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے مصائب کے عالم میں کیا کہتے ہیں میرے لکھے ہوئے قطعہ میں ملاحظہ فرمائیں :۔
شریعت کو ضرورت ہو تو جاں دینا محبت میں
خدا کے دین کی خاطر ہمیشہ رہنا سبقت میں
سواری پر اسیری میں اگرچہ سہل بھی نہ ہو
مجھے نہ بھولنا اپنی نمازِ شب کی کثرت میں
آج ملت اسلامیہ بی بی زینبؑ کی مقروض ہے وہ عظیم بی بی جس کا کچھ نہ بچا لیکن ہمارے پردے اور ہماری عزت و ناموس کو بچا گئی ہے اب وفا کا یہی تقاضا ہے کہ ہم بھی ہر مشکل ہر آسانی بلکہ زیست کی ہر ساعت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں بی بی زینب کا شکریہ ادا کرکے نمازِ شب ادا کریں اور اپنی پیشانی اس رب کعبہ کے سامنے خم کریں جو واحد ہے لم یلد ہے ولم یو لد ہے، جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ وہ عظیم رب جو پتھر میں بھی کیڑے کو رزق دیتا ہے کیو نکہ وہ خیرالرازقین ہے وہ کریم رب ! جو پہاڑوں سے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے جاری کرتا ہے وہ پاک رب! جو ایک ہی مٹی سے چنبیلی بھی اگاتا ہے اور گلاب بھی ، موتیا بھی خلق کرتا ہے اور گل بنفشہ بھی ۔ اسکی ذات پاک ہے ۔ عظیم ہے۔ اعلی ہے۔ رحیم ہے کریم ہے ۔ نمازِ شب ادا کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔