سر جھکا کے رو پڑا میرا قلم لفظ جب سے یہ لکھا ہے کربلا
آخری سجدہ مرے شبیرؑ کا بندگی کی انتہا ہے کربلا
جس میں شامل تھے بچے بھی عورتیں وہ لٹا اک ، قافلہ ہے کربلا
معرفت کی آنکھ سے دیکھو اگر حق کا سچ کا ، راستہ ہے کربلا
شاعری کے آغاز ارتقا سے ہی اگر تحقیقی وتنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو بالخصوص اردو شاعری میں ہمیں دکن سے ہی حمد و نعت کے بعد سلام منقبت زیادہ تر شعرا کے ہاں ملتی ہے ۔اس سے اگر آپ مزید پیچھے چلے جائیں تو فارسی شعرا ء کے ہاں کربلا کے موضوع پر اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں اس سے اگر آپ اور پیچھے جاکے عربی ادب کی ورق گردانی کریں تو اس میں بھی ہمیں خانوادہ ء رسول کے موضوع پر عربی شعراء بھی قلم کشا نظر آتے ہیں ۔ بر ِ صغیر پاک و ہند ، سے مرثیے اور کربلائی شاعری قیام ِ پاکستان کے ساتھ کراچی اور لاہور میں داخل ہوکر ملک کے طول و عرض میں دکھائی دیتی ہے ۔ ادوار آتے رہے عروج و زوال جاری رہا مگر شاعری کی ہر صنف میں کربلائی شاعری اپنے انقلابات اور جدت کے ساتھ کروٹیں بدلتی رہی جس میں آئے روز اضافہ دکھائی دیتا ہے ۔ ہر شاعر اسے جذبہء ایمانی سے سر شار ہو کر اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے ۔ اگر عاصم بخاری کی بات کی جاۓ تو عاصم بخاری خاندان ِ سادات کے چشم وچراغ ہیں بقول شاکر خان
گھر کے لٹنے کے یہ حالات بتا سکتے ہیں غم کسے کہتے ہیں سادات بتا سکتے ہیں
پروفیسر عاصم بخاری اس بات کا درک رکھتے ہیں کہ حمد نعت سلام نوحہ مرثیہ منقبت لکھتے وقت کون سی زبان استعمال کرنی ہے ۔اس آداب کیا ہیں کن باتوں کو ملحوظ ِ خاطر رکھنا ہے ۔ ان کے چناؤ میں احترام کا پاس رہے ۔ عاصم بخاری کی زبان سادہ ہونے کے باوصف پر اثر شاعری ہے ۔ کربلائی شاعری میں شاعری کاصدق ِ دل سے لکھنا اس میں خشوع و خضوع کا ہونا بنیادی شرط ہے۔۔ عاصم بخاری نے سلام نگاری میں عظمت ِ حسین علیہ السلام کھل کر بیان کی ہے اشعار دیکھیئے ظلمت سراۓ دشت میں تنویر ہیں حسینؑ انسانیت کے نام کی ، توقیر ہیں حسینؑ ۔۔۔۔۔ گرچہ خدا کی راہ میں ، سب کچھ لٹا گئے پھر بھی رضا و شکر کی تصویر ہیں حسین ؑ ۔۔۔۔۔۔۔ عاصم ہوا عیاں کہ ، بھری کائنات میں دینِ خدائے پاک کی تشہیر ہیں حسینؑ کربلائی شاعری کے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو عاصم بخاری کے سلام میں تخیل کی بلندی ہے ۔ مضمون آفرینی ہے ، طرز ِ ادا میں جدت کے ساتھ ساتھ لطف ِ زبان اور حسن ِ بیان بھی ہے ۔ کربلا کے عنوان سےچند اشعار دیکھیۓ ۔ دین ِ خداۓ پاک کی تجسیم کربلا صدق و صفا و مہر ک تعلیم کربلا ۔۔۔۔۔۔ اس سر زمیں پہ سبط ِ پیمبر ہوئے مقیم اس واسطے ہے لائق ِ تعظیم کربلا ۔۔۔۔۔۔۔ بے شک ادائے فرض کی عاصم ہے یہ مثال بے شک بقاۓ دین کی ، تنظیم کربلا
عاصم بخاری کے ہاں بھی حمد و نعت کے بعد سلام و منقبت نوحہ اور مرثیہ شاعری کی ہر صنف میں ملتا ہے ۔ عاصم بخاری کی کربلائی شاعری کا اگر فکری و فنی پہلو کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو ان کے دل و دماغ میں کربلا بستی ہے ۔ ان کی شاعری میں فکر بھی پائی جاتی ہے فلسفہ ء قیام کربلا بھی ملتا ہے اور روح ِ کربلا بھی شعر دیکھیے
ایک دنیا ، جا رہی ہے ، کربلا پوچھتا ہے دل کہ ہم کب جائیں گے
ایک اور فلسفیانہ انداز دیکھیئے
موت کا مفہوم بھی میری سمجھ میں آ گیا کربلا سے میں نے پایا ، ہے سراغ ِ زندگی
امام حسین علیہ السلام کے سر ِ اقدس کی نوک نیزہ پر سورہ ء کہف کی تلاوت کے منظر کو کس دل دوز انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ ایک منظر کشی کرتا فکری شعر دیکھیۓ تَن سے تو جدا کرنے پہ سب ، اس کے تلے ہو نیزوں پہ بھی بولے گا یہ سر ذہن میں رکھنا
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی فرش تا عرش غم اور سوگ کی فضا ہر سمت افسردہ ہو جاتی ہے اور حسینؑ حسین ؑ کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں ۔ قطعہ دیکھیۓ۔
مغموم کائنات کی ، سب ہو گئی فضا چاند آتے ہی نظر ہوا ، کہرام سا بپا ہر قلب ِ درد مند کہ ، پہنچا ہے کربلا آغاز شہر ِ دل میں ، محرم کا ہو گیا
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی فرش تا عرش غم اور سوگ کی فضا ہر سمت افسردہ ہو جاتی ہے اور حسین ، حسین کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں ۔ قطعہ دیکھیۓ۔
مغموم کائنات کی ، سب ہو گئی فضا چاند آتے ہی نظر ہوا ، کہرام سا بپا ہر قلب ِ درد مند کہ ، پہنچا ہے کربلا آغاز شہر ِ دل میں ، محرم کا ہو گیا عاصم بخاری کی کربلائی شاعری میں ایک فکری اور تبلیغی انداز کا شعر ملاحظہ ہو۔
نماز ہر حال میں ہے واجب نہ بھول جانا عمل یہ کر کے دکھا رہا ہے ، حسین ؑ کربل صدائے ھل من سنائی دیتی نہیں ہے تم کو کہ آؤ ہم کو ، بلا رہا ہے حسین ؑ کربل
فلسفہ ء کربلا اور قیام ِ کربلا جس میں فکر ِ حسین اور کربلا کی مقصدیت اور ھَل مِن نَاصر۔۔۔ کے نکتہ کی وضاحت کرتی پروفیسر عاصم بخاری کی ایک نظم بیعت کے سوال کے حوالے سے دیکھیۓ محرم یہ وہ مہینہ ہے جس مہینے یزید فاسق ، یزید فاجر کو میرے مولا حسین ابنِ علی(ع) نے عاصم یہی کہا تھا کہ میرے جیسا کبھی بھی سن لے کہ تیرے جیسے کی کرکے بیعت نہ یہ کہے گا کہ ٹھیک تم ہو نہیں نہیں یہ کبھی نہ ہوگا مدینہ شہرے نبی سے بھی میں چلوں گا مکہ ، وہاں بھی رہنے نہ گر دیا تو ، عراق کربل بساؤں گا میں کٹاؤں گا میں کہ حق کی خاطر یہ سر بھی اپنا زمانہ دے گا ، مثال میری یہ یاد رکھنا، نہ بھول جانا نہ بھول جانا یہ بات میری
منکیرہ میں میلاد حضرت امام حسین علیہ السّلام منعقد ہوا
بھکر (نمائندہ خصوصی) جس کا آغاز نماز جمعہ کے بعد ہوا ۔ مقرین نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان اطہر میں کھل کر فضائل بیان کئے ۔ سٹیج سیکرٹری سید طمہور عباس شاہ باقری تھے ۔ معروف علمائے کرام و ذاکرین نے قرآن و حدیث کی روشنی کے حوالے سے عظمت امام حسین علیہ السّلام پر روشنی ڈالی ۔
جس میں مولانا سید سبطین سبزواری ، ذکر اہلیت تصور عباس شاہ ، مولانا سید علی احتشام نقوی ، ذاکر عزادار حسین شاہ باقری ، معروف مصنف و شاعر اور بزمِ اوج ادب بھکر کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول اور دیگر نے خطاب کیا ۔ مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں ضلع بھکر کی مقامیت کے ساتھ عقیدہ کربلا کا اظہار منفرد انداز میں سامعین نے بہت پسند کیا ۔ منتظمین میں الیاس عباس اور سکندر حیات نے کھلے دل سے اہتمام کیا ۔اللّٰہ پاک یہ محفل میلاد کا اہتمام صدقہ امام حسین علیہ السلام کا قبول فرمائے
اٹک ( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان )حضرت امام حسینؑ اور انکے رفقاء کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے اور فکرِ امام حسینؑ وپیغام شہداء کربلاکو فروغ دینے کے لیے مرکزاہل سنت جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ کے زیر اہتمام عظیم الشان ”سالانہ فکر امام حسینؑ کانفرنس“ مرکزی جامع مسجدخوشبوئے مدینہ اعوان آباداٹک کینٹ میں استاذ العلماء مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی بانی و پرنسپل جامعہ ھذا کی زیرصدارت اختتام پذیر ہو گئی،جس میں تلاوت حافظ محمد شعیب،نعت شریف حاجی عبدالواحد شاہ مرزا، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی،قاضی فیضان سیفی، شفقت محمود، محمد عظیم ودیگر نے پیش کی جبکہ صاحبزادہ محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ(ریسرچ اسکالر بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد)، قاری ڈاکٹر محمد یاسر اعوان اور قاری محمد داؤد رضوی ناظم سٹیج تھے،جامعہ ھذاسے قرآن شریف حفظ مکمل کرنے پر حافظ محمد اسماعیل کی ہار پہناکر حوصلہ افزائی کی گئی.
محقق ابن محقق صاحبزادہ ڈاکٹرقاضی امجد حسین کاظمی سیفی نے کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ذکر امام حسینؑ کے ساتھ ساتھ فکر امام حسینؑ کو بھی سمجھنے اور فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس سال بھی خطبہ حج میں کشمیر، فلسطین ودیگر مظلوم مسلمانوں کے لئے بات نہ کرنا فکرِ حسینی سے روگردانی ہے،حضرت امام حسینؑ نے اپنے خون سے گلشن اسلام کی آبیاری کی،حسینی فکرکے علمبردارہمیشہ سرخرو ہوئے جبکہ یزیدی فکرکے پیروکاررسوا ہوئے، استاذالعلماء ابوطیب رفاقت علی حقانی صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ فکر امام حسینؑ یہی ہے کہ دین اسلام کی خدمت استقامت کے ساتھ کی جائے، زندگی کے ہر پل کو سنت مصطفی سے مزین کیا جائے، اولاد کو محبت مصطفی اور محبت اہل بیت و صحابہ کادرس دیاجائے تاکہ اولاد تابعدار ہو،کانفرنس میں ملک نوازش خان ایکسائز اسلام آباد، سلطان صحافت سردار سلطان سکندر کے دیرینہ ساتھی حاجی شیخ آصف محمود صدیقی پرنسپل(ر) پائیلٹ ہائی سکول،حاجی گلزار حسین ٹیکسلا، حاجی بخشیش الہی، رجب علی حقانی اعوان صدر انجمن نوجوانان الفلاح سمیت کثیر تعداد میں علماء کرام و ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات و عوام نے بھرپور شرکت کی، اختتام پرملک و ملت کی سلامتی ترقی و خوشحالی کے لئے خصوصی دعا کرائی گئی اور لنگر حسینی سے حاضرین کی تواضع کی گئی۔
اٹک (بیورورپورٹ)شہنشاہؑ کربلا سیدناامام حسین علیہ السلام نے ایسا صبر کیا جس کی مثال قیامت تک ملنی ناممکن ہے۔آخری وقت میں سجدہ کرکے دنیا والوں کو درس دیا کہ جان جائے تو جائے لیکن نماز کسی صورت نہیں چھوٹنی چاہیے ۔10روزہ شہنشاہ کربلا کانفرنس کے پروقار اور پرامن طریقے سے اختتام پر ہم الله تعالیٰ کی ذات کا شکر ادا کرتے ہیں۔کانفرنس کی تقاریب میں شرکت فرمانے والے پیر صاحبان،علماء،قراء،نعت خوان حضرات،شرکت کرنے والے تمام بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں اور خصوصاً لنگر حسینی ولنگر فاروقی کھلانے والے احباب اور اخباری نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ہمارے قبلہ مرشد گرامی حضور ریاض الملت قدس سرہ العزیز نے اٹک تشریف لانے کے ساتھ ہی ان کانفرنسز کے انعقاد کا سلسلہ شروع فرمایا تھا جو ہم جاری رکھے ہوئے ہیں(قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله تعالیٰ)جس بندے سے الله تعالیٰ راضی ہوتا ہے اسے دولت ایمان عطا فرما دیتا ہے اور اپنے گھر میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔جب اور زیادہ راضی ہوتا ہے تو اپنے محبوبوں کا ذکر کرانا شروع کرادیتا ہے.آپ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ قبلہ پیر ہادی سرکار کی سرپرستی میں 10دن لگاتار اہل بیت علیھم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین خصوصاً شہداء کربلا کی عظیم قربانی،ان کے مقام اور مرتبہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔مسلمان جب وعدہ کرتا ہے تو پھر اس کے لئے وعدہ خلافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔منزل اچھی ہو تو سفر آسان ہو جاتا ہے(پیر محمد عثمان خان واجد قادری)سیدنا امام عالی مقام نے کوفہ والوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا تمھیں پتہ ہے میں کون ہوں مجھے میرے نانا کریم ﷺ نے جنتی جوانوں کا سردار فرمایا ہے اس کے باوجود تم میری جان کے دشمن ہوئے پڑے ہو میں جان دے سکتا ہوں لیکن کسی فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرسکتا۔ہم قبلہ پیر ہادی سرکار کو ہرسال کی طرح اس سال بھی 10روزہ شہداء کربلا کانفرنس منعقد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں (پیر قاری محمد رقیب احمد چشتی)ماہ ربیع الاول شریف میں عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر12روزہ عید میلادالنبی ﷺکانفرنس اور محرم الحرام میں10روزہ شہداء کربلا کانفرنس کا اہتمام کرنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔پیر ہادی سرکار کے مرشد گرامی حضور ریاض الملت قدس سرہ العزیز کی زیرصدارت وزیرسرپرستی اورعم گرامی فیض الملت شیخ القراء قبلہ پیر ابوالفیض غلام محمد خان قادری رحمۃ الله عليه کی زیرنگرانی 1992 میں اٹک شہر کے مرکز ریلوے گراؤنڈ میں منعقد ہونے والی سنی کانفرنس کے اثرات آج تک باقی ہیں جس میں درجنوں علماء ومشائخ کے ساتھ سنی تحریک کے بانی مولانا محمد سلیم قادری رحمۃ الله عليه نے بھی خطاب کیا تھا ۔ان شاءالله عید میلادالنبی ﷺ کانفرنسز،شہداء کربلا کانفرنسز،اہل بیت اطہارؑ ،صحابہ کرامؓ اور اولیاءؒ کرام کی شان میں محافل منعقد ہوتی رہیں گی(مولاناارشد القادری) آستانہ عالیہ ریاض آباد شریف ڈھوک فتح اٹک شہر میں 10روزہ سالانہ شہداء کربلا کانفرنس کی اختتامی تقریب جانشین ریاض الملّت قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله تعالیٰ کی زیر صدارت اورجانشین ریاض الملّت قبلہ پیر مفتی حافظ ابوالفضل محمد خان رضوی مدظلہ العالیٰ سجادہ نشین آستانہ عالیہ فیض آباد شریف اٹک کی زیر سرپرستی عقیدت واحترام کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں جانشین ریاض الملت قبلہ پیر محمد عثمان خان واجد قادری نے خصوصی خطاب فرمایا جس کو حاضرین نے عقیدت و احترام سے سنا اور خوب داد تحسین پیش کیا حافظ محمد ادیب نے تلاوت جبکہ نعت شریف فیصل محمود نقشبندی،محمد حمزہ اسحاق اعوان،عبدالقدوس اعوان اور محسن نثار نقشبندی نے پیش کی۔محفل میں میں پیرزادہ محمد حامدرضاخان قادری،خلیفہ الحاج محمد اشرف قادری،صاحبزادہ سید معین علی شاہ،سید محمد کلیم شاہ،مولاناحبیب احمد چشتی،محمد شیراز کفیل،قاری عطا محمد،قاری محمد اعظم خان قادری،حاجی محمد زاہد اقبال، افتخار احمد چیمہ،آفتاب احمد چیمہ، ملک کامران اختر، محمد عامر،محمد عمران، محمد عتیق، محمد شفیق چشتی، ملک محمد اکرم اعوان،امیر محمد،نعمان اکرم اعوان، محمد ذیشان اکرم اعوان، محمد منصور اعوان،محمد حمزہ،حمزہ امیر ، حاجی محمد مشتاق ، حاجی محمد اعجاز ، صوفی مسعود الرحمن،محمد فاضل،محمد بلاول، خالد محمود، محمد عابد، آنریری کیپٹن نورمحمد ، محمد عثمان حسن، محمد حمیر، محمد زبیر،محمد ظہور، محمد ذیشان، محمد عمران، محمد ارسلان اور محمد معز علی کے علاوہ درجنوں نوجوانوں نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی ۔درود وسلام ، ذکر شریف،شجرہ مبارکہ کے بعد قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله نے عالم اسلام کی سربلندی استحکام،امن وامان وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دینے والے پاک فوج کے جوانوں اور آفیسرز جو بحالت ایمان اس دنیا سے چلے گئے ان کے درجات کی بلندی اور حافظ نصرت علی خان قادری کے والد کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا فرمائی اور وسیع لنگر حسینی تقسیم کیا گیا
کتاب ” سیرت المومنین "کی سطریں اس لیے اس کتاب میں شامل کی ہیں تاکہ شیعہ اثناء عشری اور جو بھی مسلمان کتابِ ھذا کا مطالعہ کرے اسکو نمازِ شب کی اہمیت کا علم ہو۔ حضرت علیؑ نے اجل کی مشکل گھڑیوں میں بھی درسِ نماز دیا اور آپؑ کے دیے ہوئے درس پر اہل بیتؑ کے بقیہ افراد نے کچھ ایسا عمل کیا کہ تاریخ کا سینہ ان سجدہ ریز جبینوں کے ذکر سے منور ہوا پڑا ہے۔
امام حسینؑ کے جسم پر ایک سو تیرہ سوراخ تیروں کے تھے، تینتیس زخم نیزوں کے تھے اور چونتیس زخم تلواروں کے تھے اتنے زیادہ زخموں اور کربلا کے دکھوں کے باوجود نماز کو ترک نہ کیا بلکہ نمازِ شب کا دامن بھی نہ چھوڑا اور مولا علیؑ کی معظمہ بیٹی اور اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو آخری وقت الوداع کرتے ہوئے نمازِ شب کی تاکید کی۔ بی بی پاک نے آپ کے دیے ہوئے درسِ نماز شب پر اسطرح عمل کیا کہ کہ بہتر شہداء کی لاشیں بے گور و کفن چھوڑنے کے باوجود، ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے ہونے کے باوجود ، اپنے سامنے بھاگتے ہوئے اونٹوں سے گرتے ہوئے معصوم بچوں کو اونٹوں کے پاوں تلے کچلا ہوا دیکھا جانے کے باوجود چار ہزار پانچ سو چھیانوے۔
(4596) میل کی مسافت 36 اور بعض روایتوں کے مطابق 26 شہر ،(72)بہتر بازار 1446 گلیوں اور 288 موڑوں پہ دو دو لاکھ کے ہجوم میں پر نم آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ کوئی آکر مجھ سے کہے گا کہ تیرے علی اکبرؑ کا بڑا افسوس ہے ۔ تیرے علی اصغر ؑکی تشنہ لبی میں حرمل کا تیر ستم پیوست ہونے کا بڑا افسوس ہے،تیرے بھائی عباسؑ کے بازووں کے کٹ جانے کا بڑا افسوس ہے،تیرے مظلوم بھائی حسینؑ کا لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک جانے کا بڑا افسوس ہے اور تیری سکینہ ؑ کا زنداں میں گھٹ گھٹ کر مرجانے کا بڑا افسوس ہے اور تیرے پاک قافلے کے لٹ جانے کا بڑا افسوس ہے تیرے زین العابدین ؑکے اسیر ہوکر آنکھوں سے خون رونے کا بڑا افسوس ہے۔ ان کیفیتوں کے باوجود بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے نمازِ شب کو ترک نہ کر کے ایک درسِ عظیم دیا ہے۔ اور اکثر نمازیں بی بی نے اپنی سواری کی پیٹھ پر پڑھی ہیں۔ پاک بی بی نے یہ قندیل اسی لیےروشن کی تھی کہ زمانے میں ہم جیسے لوگ اللہ جل شانہ سے لو لگانے کی کاوشِ پیہم کریں۔ خوشنودیء رب العزت کے حصول کے لیے صعوبتوں کا برداشت کرنا ہی بندگی کی معراج ہے۔ حضور اکرم صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بہت طویل قیام کرتے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے پائے اقدس پر ورم پڑ جاتے۔ جب صحابہ کرام استفسار کرتے کہ آپ ﷺتو معصوم ہیں اور آپ ﷺکو اس قدر تکلیف و الم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے تو آپ ﷺجواب میں ارشاد فرماتے کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ گویا اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین وقت آدھی رات کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ویسے تو دن کی کسی ساعت میں بھی شکر ادا کرنا رحمت خداوندی کے حصول کا موجب ہے لیکن جو مزہ اور تڑپ رات کے سناٹوں میں ہے۔ وہ دن میں نہیں۔ خون دل سے جو چراغ جلائے جاتے ہیں ان کی روشنی جاوداں ہوتی ہے۔ اس لیے راتوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے جسم کو تکلیف دے کر رضائے الٰہی خریدی جاسکتی ہے۔ جس کا بہترین انعام جنت ہے۔ کیونکہ بقول شاعر
یہ سفرنامہ ءزیارات ِایران و عراق ہے ۔اس کے مصنف قمر عباس گل ہیں۔ ان کا تعلق شیرگڑھ ضلع بھکر سے ہے۔ اس کا انتساب راہ ِکربلا کے پیادہ زائرین کے نام! ہے یہ ایک مذہبی سفر نامہ ہے،جس کا قاری کو مطالعہ کرتے ہوئے خود کو سفر کربلا میں محسوس کرتا ہے،یہ سفرنامہ نگار کاکمال فن بھی ہے اور اللّٰہ پاک کی خاص عطا بھی ہے،قاری کی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایک ہی نشست میں پڑھ کر ہی سانس لیتا ہے۔
Dargah Shah E Nainwa
سفرنامہ کا آغاز 20جون 2019ء کو لاہور ایئرپورٹ سے ہوتا ہے،جہاں زیارات کی فضیلت وثواب سے آگاہ کیا گیا ہے وہاں مقامات مقدسہ کے بارے خوبصورت انداز میں معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں اور شہر شہر کی تاریخ و ثقافت کے بارے میں کھل کر اظہار کیا گیا ہے۔ سفرنامہ نگار کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے۔جس سے ایمان کی تازگی اور روحانیت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کہیں بھی بوریت محسوس نہیں ہوتی مقامات مقدسہ کی رنگین تصویریں میں شائع کی گئی ہیں، حدیث رسول ثقلین (ص)فرمان حضرت امام حسین علیہ السلام ذکر حسین علیہ السّلام فکر حسین علیہ السّلام اور عقیدت اس سفر نامہ میں جابجا خوبصورت انداز میں اپنی خوشبو بکھیرے ہوئے ہےجذبہ سچائی اور خلوص و محبت کی بات کی جائے تو ہر ہر سطر میں نظر آتی ہے،بیک ٹائیٹل پر ڈاکٹر شبیر اسد کی رائے ہے، کتاب دیدہ زیب طباعت سے مزین ہے،136صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 400سو روپے ہے، ملنے کا پتہ مثال پبلشرز امین پور بازار فیصل آباد موبائل نمبر 03006668284