Tag: گجرات

  • آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار 

    غزل کی تعریف:

    غزل اردو ادب کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔اردو کے قریب قریب سبھی شعرا نے اس صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔لیکن اس صنف نے تمام شعرا کو قبول نہ کر کے اپنی سنگ دلی کا ثبوت دیا۔اگر ہم لغوی اعتبار سے غزل کو دیکھیں تو شان الحق حقی کے مطابق غزل پیار محبت کے بو ل، اظہار ،محبت ،عاشقانہ گفتگو، عشقیہ کلام ہے۔ نظم کی ایک صنف جو ایک ہی زمین میں متفرق اشعار پر مشتمل ہوتی ہے جس میں معنوی ربط ضروری نہیں ۔علمی اُردو لغت کے مولف وارث سرہندی غزل کے معنی یوں بتاتے ہیں: 

    ’’عورتوں سے باتیں کرنا، عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنا، نظم کی ایک صنف جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے ، پہلا شعر مطلع اور آخری مقطع کہلاتا ہے۔‘‘  ۱

    مصباح اللغات کے بہ موجب غزل کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے: 

    ـ’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یاعورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں۔ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو درد ناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اس نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اس میں دردو سوز بہت نمایاں ہو۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیںجن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ ہر شعر اپنا اپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘۲

    حامد حسن قادری غزل کی تعریف اِن الفاظ میں کرتے ہیں :

    ’’غزل کے معنی ہیں عشق و جوانی کا ذکر کرنا شاعری میں غزل اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں حُسن و عشق ، اَخلاق و تصوف وغیرہ مختلف مضامین ہوں اور ہر شعر الگ مضمون کا ہو۔‘‘۳

    درجہ بالا تعریفوں کی روشنی میں جب ہم غزل کو دیکھتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ ایسی نظم جس میں عورتوں سے متعلق بیان ہو اور عشق کی باتیں ہوں غزل کہلائے گی۔ غزل کی یہ تعریف کافی نہیں معلوم ہوتی ہے۔موجودہ دور میں غزل اس تعریف سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔ آج کی غزل میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں۔ معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ہر اعتبار سے غزل کے اشعار موجود ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ لغات کے بعد اب ذرا اصناف ادب میں غزل کی تعریف کو دیکھتے ہیں۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں:

    ’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یا عورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں ۔ ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو دردناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اسی نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اُس میں درد و سوز بہت نمایاں ہو ۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ہرشعر اپنااپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘ ۴

    غزل کی اس تعریف کی روشنی میں پتا چلتا ہے کہ غزل ایک ایسی صنف نظم ہے جس میں بحر ایک ہی رکھی جاتی ہے ۔ اس میں عموماً قافیہ اور ردیف موجود ہوتا ہے لیکن غیر مردف غزلیں بھی شعر ا کے ہاں ملتی ہیں۔ مطلعے ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہے ۔ مقطع کے بغیر بھی غزلیں کہی جاسکتی ہے۔ ابتداسے لے کر تاحال غزل کے اندر تغیر و تبدل نظرآتا ہے لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو ہمیں ولیؔ، میرؔ، سوداؔ، ذوقؔ ، غالب ؔاورداغؔ وغیرہ کے ہاں نظر آتا ہے۔ ہر اس علاقے میں جہاں اُردو ادب نے نمو پائی وہاں غزل کہنے والے موجود رہے ۔ خطۂ کشمیر میں اُردو ادب کی ابتدا کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی روزِ اول سے اس صنف میں طبع آزمائی کی گئی بالخصوص آزادکشمیر میں اُردو غزل نے جو ترقی حاصل کی وہ یقینی طور پر اُردو ادب کے خزانے میں بیش بہا اضافہ ہے۔

    آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت

    آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت بیان کرنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں اُردو زبان و ادب کا آغاز کب ہوا؟ اُردو زبان جب دکن اور گجرات میں پھل پھول رہی تھی تو اسی دوران میں شیخ غلام محی الدین نے مثنوی گلزار فقر رقم کرکے یہاں ادب کا بیج ڈالا ، حافظ محمو د شیرانی کے مطابق:

    ’’گجرات و دکن میں اگرچہ اُردو تالیفات دسویں صدی ہجری سے شرو ع ہوجاتی ہیں ۔لیکن شمالی ہندوستان میں دوصدی بعد تک ان کا پتا نہیں ملتا۔ دہلی میں ابھی اُردو دبستان قائم نہیں ہوچکتاکہ پنجاب میں لوگ اُردو زبان میں مثنوی لکھنی شروع کردیتے ہیں ۔ میرپور (کشمیر ) کے شیخ غلام محی الدین مثنوی گلزا ر فقر۱۱۳۱ہجری میں ختم کردیتے ہیں۔‘‘۵

    میرپور آزادکشمیر کا ایک بڑا علمی وادبی مرکز ہے۔ اس خِطے سے اُردو شاعری کا آغاز گلزا ر فقر (۱۷۱۷ء)کی صورت میں ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس خطے سے اُردو کی شمع روشن ہوئی۔ کشمیر میں اُردو زبان کے حوالے سے پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں کہ ۳۰،۲۹ستمبر۱۹۴۴ء کو نیشنل کانفرنس کا سالانہ اجلاس سوپور میں منعقدکیا گیا جس میں تمام شرکااور مندوبین نے اردو اورکشمیری کو نیشنل کانفرنس کا آئندہ نصب العین قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر منظور کرلیا کہ:

    ’’ریاست کی قومی زبانیں کشمیری ،ڈوگری ، بلتی (پالی)دری ، پنجابی ، ہندی اور اُردو ہوں گی۔ اُردو کو ساری ریاست کی مرکزی قومی زبان کی حیثیت حاصل ہوگی۔‘‘۶

    اس اقتباس کی روشنی میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مہاراجا کشمیر نے تقسیم سے قبل ہی یہاں اُردو کو مرکزی زبان کا درجہ دے دیا۔ اب اس تناظر میں بھی یہاں اُردو ادب کی ترویج و ترقی اچنبھے کی بات نہیں ۔ خطے میں اُردو کی ترقی وترویج کی تاریخ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہندوستان اور پنجا ب کے مختلف علاقوں سے جب لوگ یہاں ملازمت و سیاحت کی غرض سے آنے لگے تو وہ اپنے ساتھ وہاں سے اُردو زبان بھی لائے مقامی زبانوں کے میل ملاپ نے اُردو کو یہاں مزید ثروت مند بنادیا ۔ مواصلات میں بہتری آئی اور اُردو ادب کے فروغ میں یہ چیز نہایت مفید ثابت ہوئی۔ اس حوالے سے کشمیر میں اُردو کے مصنف حبیب کیفوی لکھتے ہیں:

    ’’ریاست کو پڑھے لکھے لوگوں اور ہنرمندوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہندوستان اور پنجاب سے لوگ کشمیر میں آنے لگے ۔ حکومت نے اپنے مفاد کے لیے ان لوگوں کو ملازمتیں دیں اور اچھے اچھے عہدوں پر فائز کیا۔ یہ لوگ اپنی زبان اُردو بھی ساتھ لائے اور مقامی لوگوں کے میل ملاپ سے کشمیر میں اُردو کی سبیل نکل آئی۔‘‘۷

    آزادکشمیر میں اُردو کے حوالے سے یہ اقدامات آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ روزگار اور سیاحت کی غرَ ض سے یہاں آتے ہیں تو مقامی زبان کی بہ جائے اُردو ہی کو رابطے کی زبان بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کے ہر گھراور ہراِدارے کے ساتھ ساتھ کوچہ و بازار میں بھی اُردوہی نظرآتی ہے ۔اُردو یہاں کی مقامی بولیوں پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ نوجوان نسل اُردو تو بہ خوبی جانتی ہے لیکن علاقائی بولیوں کو بھولتی چلی جارہی ہے ۔ ایسے ماحول میں اُردو ادب نے خوب ترقی کی اور بالخصوص اُردو غزل نے جو ترقی کی راہیں طے کیں وہ قبل اس کے نہیں کرسکی۔

    یوں تو تمام آزادکشمیر میں اُردو زبان و ادب نے نمو پائی اور ہر طرح کا ادب تخلیق ہوا۔ لیکن ادب کی ترقی و ترویج میں دو بڑے مراکز مظفرآباد اور میرپور کہلائے۔ مظفرآباد آزاد کشمیر کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ایک بڑا دبی مرکز کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں اُردو کے نام و ر ادبا اور شعرا نے جنم لیا جو نہ صرف ملکی بل کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اُردو کے حوالے سے اہم مقام رکھتے ہیں ۔ مظفرآباد، سری نگر اور اسلام آباد سے قریب ہونے کی وجہ سے بھی یہاں ادبا آتے رہے۔ بہ سلسلہ ٔملازمت بھی آزاد کشمیر کے دوافتادہ دیہات اور چھوٹے اضلاع کے لوگوں نے یہاں کا رُخ کیاجس کے باعث مظفرآباد نے باقاعدہ ایک دبستان کی سی حیثیت اختیار کرلی ۔ یہاں نظم، غزل، مرثیہ، رباعی، افسانہ ، ڈراما اور دیگر اصناف ادب میں طبع آزمائی کرنے والے کئی لوگ اعلیٰ ادبی مقام کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر صابرؔ آفاقی ، ڈاکٹر افتخارؔ مغل، الطافؔ قریشی، زاؔہد کلیم، آزرؔ عسکری، محمد خان نشترؔ ، سیدہ آمنہ ؔبہار ، مخلص وجدانیؔ ، ڈاکٹر ندیمؔ بخاری ،احمد عطاؔ اللہ ،اعجازؔنعمانی، ایم یامینؔاورواحدؔ اعجاز میرسمیت بے شمار لکھنے والوں نے اسی ضلع کی نمائندگی کی ۔ ضلع میرپور میں اگر دیکھیں تو وہاں مظفرآباد کی نسبت ادبی ماحول مدہم ہے لیکن میرپور چوں کہ ایک بڑا شہر ہے پنجاب کے اہم شہروں جہلم اور گجرات سے قریب تر ہے۔ جہلم اور گجرا ت کے اکثر شعرا اور ادیب بھی میرپور کے دبستان سے متعارف ہوئے ۔ میرپور میں ادبی سرگرمیاں بھی بڑھ چڑھ کر ہوتی رہیںجو تاحال جاری ہیں یہاں کے اہم لکھنے والوں میں پروفیسر رفیقؔ بھٹی، پروفیسر صغیرؔ آسی ، نصیر اؔحمد ناصر، احمد شمیمؔ ، زیدؔ اللہ فہیم، پروفیسر نذیرؔ انجم ،مشتاق ؔشاد،اکرم ؔطاہر،ذوالفقار علی اسدؔاور عابد محمود عابدؔ وغیرہ چند نام ہیں اس کے علاوہ نئے لکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ 

    ان دواضلاع کے علاوہ اب دیگر چھوٹے اضلاع میں بھی اُردو غزل کہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی جو اہل زبان ہونے کے ساتھ ساتھ علم عروض پر بھی دستر س رکھتے تھے۔ آپ نے آزادکشمیر کے ضلع سدھنوتی کے شہر پلندری میں اپنے قیام کے دوران میںعلامہ اقبالؔ کے فارسی کلام کا منظوم اُردو ترجمہ کرکے جہاں ایک بڑا کام کیا وہیں آپ نے اس علاقے کے نوجوانوں کے لیے اپنی خدمات و قف کردیں ۔ عبدالعلیمؔ صدیقی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج اس علاقے میں باقاعدہ ادبی نشست ہر پندرہ دن بعد منعقد ہوتی ہے۔اس علاقے میں باقاعدگی سے مشاعرے بھی انعقاد پذیر ہورہے ہیںجن میں پاکستان اور آزادکشمیر بھر سے شعرا حضرات مدعو کیے جاتے ہیں ۔ پلندری کے شعرا میں ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ ایک اہم نام ہے جنھوں نے حقیقی معنوں میں پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کا جاں نشین ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ڈاکٹر ماجدؔ علم ِ عروض پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ فنِ شعر سے بھی آشنا ہیں۔ علاوہ ازیںجمیل اختر جمیلؔ ، آصفؔ اسحاق، ضیا الرحمن ضیاؔ، جاوید الحسن جاویدؔاور صداقت طاہرؔ اس ضلع کے اہم غزل گو ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بھی علم و ادب کی محافل باقاعدہ انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔ باغ میں بھی غزل کے حوالے سے کئی اہم نام دکھائی دیتے ہیںجو اُردو غزل میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔اسلم ؔراجا، پروفیسر شفیق راجا ، زبیر حسن زبیریؔ، سید شہبازؔ گردیزی ،احمد فرہادؔ،عبدالحق مرادؔ،سید علی شاہ باغ کے معروف شعر امیں شمار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں اگر اُردو غزل کہنے والوں کی تعداد دیکھی جائے تو بہت کم ہے عباس پور سے جاوید سحرؔ، راولاکوٹ سے لیاقت ؔشعلان، شوزیب ؔکا شر ،فاروق صابرؔاورڈاکٹر کبیرخان وغیرہ اہم لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ ضلع نیلم سے احمد وقار ؔ ، عبدالبصیر تاجوؔر اور لطیف ؔآفاقی نے غزل گوئی میں نام کمایا ہے۔

    آزادکشمیر کی غزل میں جہاں جدت دکھائی دیتی ہے وہیں یہ روایت کی پاس دار اور امین بھی ہے۔ یہاں کے شعرا کے ہاں موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر کئی طرح کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت کو جانچتے ہوئے ذیل میں چند شعرا کا تعارف اور ان کے کلام کی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا جس سے یہاں اُردو غزل کی روایت کو سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

    آزادکشمیر کے غزل گو شعرا:

    آزرؔ عسکری(اپریل ۱۹۱۴ء تا ۶ مارچ ۱۹۸۳ء ) سکردو ، گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے آپ قادر الکلام شاعر تھے۔ آزرؔ عسکری ابتدائی تعلیم سکردو اور بعدازں سری نگرسے حاصل کرنے کے بعد فارسی اور اُردو میں فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ ۱۹۳۲ء  میں شاعری کا آغاز کیا پروفیسرصغیرؔ آسی کے مطابق:

    ’’آپ نے اُردو شاعری کی ابتدا۱۹۳۲ء میں کی اور کلام کی اصلاح ابوالاثر ،حفیظ ؔجالندھری سے لیتے رہے ۔‘‘۸

    آزرؔ عسکری نے اُردو کے علاوہ پنجابی ، کشمیری اور فارسی میں شاعری کی ۔آپ غزل کے ساتھ ساتھ نظم کے بھی شاعر تھے ۔ آزرؔ عسکری کا بیشتر کلام مزاح پر مبنی ہے۔ "کشت زعفران "کے نام سے ۱۹۷۶ء میں شعری مجموعہ منظر عام پر آیا ۔ مظفرآباد میں وفات پانے والے آزرؔ عسکری کے بیٹے ابراہیمؔ گل بھی پر تاثیر شاعر ہیں۔ آزرؔ عسکری کے کلام سے بہ طور نمونہ چند شعر ملاحظہ ہوں:۔

    دیے جس نے دستِ دعا اور دے گا     

    تجھے جس نے اب تک دیا اور دے گا     

    نہ کر غم تو امروز وفردا کا آزرؔ     

    خدا اور دے گا خدا اور دے گا ۹

    ڈھونڈتے پھرتے ہیں پروانے ضیائے شمع کو

    شمع کو بھی یورشِ پروانہ سے فرصت نہیں ۱۰

    عبدالغنی غنیؔ(۱۸ جون۱۹۱۴ء )آزادکشمیر کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ضلع پونچھ میں آنکھ کھولنے والے عبدالغنی نے ابتدائی تعلیم پونچھ کے اسلامیہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔نویں جماعت میں شعر کہنا شروع کیا۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ میٹرک کے بعد حکومت ِآزاد جموںوکشمیر میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا 1۱۹۵۵ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے بی ۔اے پاس کرنے کے بعد۱۹۵۷ء میں اسی ادارے سے صحافت کا ڈپلوما حاصل کرلیا۔ جگرؔ مراد آبادی اور فیض احمد فیضؔ کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزا ز بھی حاصل رہا ۔ مظفرآباد میں حلقہ اربابِ ذوق قائم کروانے میں پیش پیش رہے ۔ آزاد کشمیر میں اُردو زبان و ادب کی ترقی کے حوالے سے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔۱۹۶۳ء میں عبدالغنی غنیؔ کو انجمن ترقیٔ اُردو کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ اس پلیٹ فارم سے علمی و ادبی سرگرمیاں باقاعدگی سے انعقاد پذیرکروانے کے علاوہ آپ نے ۱۹۴۴ء میں آزادکشمیر میں اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں اہم کردار اداکیا ۔آپ کی دعوت پر ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا ماہر القادری، آغاشورش کاشمیری،استاد قمر جلالوی جیسی نابغہ روزگار شخصیات نے آزاد کشمیر میں قدم رکھا ۔ "ذار ذار”اور "فکر و فن "کے نام سے شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔عبدالغنی غنی ؔکے کلام سے چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔

    نہ پوچھ اس بت توبہ شکن کے کیا ارادے ہیں

    یہ دیکھو عاشقِ دار و رسن کے کیا اردے ہیں  ۱۱

    یہ فصلِ گل ،یہ چاندنی راتیں ،یہ بے کسی    

    اب نغمۂ فرا ق نہ گاؤں تو کیا کروں ۱۲

    غنیؔ سرمستیاں اپنی گزری ہیں گراں ان کو     

    وہ کیا جانیں مرے دیوانے پن کے کیا ارادے ہیں  ۱۳

    جب کوئی لطفِ زندگی نہ رہا       

    زندگی بسر ہوئی نہ ہوئی ۱۴

    آپ بالائے بام آ جائیں        

    ہم کو تابِ نظر ہوئی نہ ہوئی  ۱۵

    پروفیسر نذیر انجمؔ (۱ جنوری ۱۹۴۶ء تا۲۰۱۲ء )کا شمار بھی آزاد کشمیر کے نمائندہ شعرا کی فہرست میں ہوتا ہے۔ میرپور کے قصبے اکال گڑھ میں آنکھ کھولی۔ابتدائی تعلیم اسی قصبے سے حاصل کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ اور بی اے  گورنمنٹ کالج میرپور سے کیا۔ جامعۂ پنجاب،لاہور سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز بحیثیت لیکچرار کیا۔ کئی کالجز میں فرائض منصبی سرانجام دینے کے بعد آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی تک پہنچے جہاں سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں شعری ادب کے حوالے سے نذیرؔ انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ نمودو نمائش کے قائل نہیں گوشہ نشینی کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ پروفیسر صغیر آسیؔ لکھتے ہیں:

    ’’طبیعت میں سادگی ،مزاج میں بے تکلفی اورکردار میں بے باکی، جسمانی اعتبار سے دبلے مگر فکری لحاظ سے عمومی سطح سے بلند اور عمیق تر، ارادے میں چٹان کی طرح پختہ اور قول و فعل میں یک رنگ ، بہت کم شاعروں میں ایسی خوبیاں یک جا ملتی ہیں۔‘‘ ۱۶

    رانا غلام سرور سے مقالہ نگار نے جب پروفیسر نذیرؔ انجم کے بارے میں بات کی تو انھوں نے یوں اپنے تاثرات بیان کیے:

    ’’نذیر انجم یک زندہ دل شخصیت کے مالک تھے ۔نہایت اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے تھے۔صبح سویرے گھر سے نکل آتے اور اپنے چاہنے والوں سے مل کر خوشی محسوس کرتے۔میرپور کے چوک شہیداں میں واقع ارشد بک ڈپو پر اکثر بیٹھا کرتے اور کتابوں کا جائزہ لیتے رہتے۔‘‘ ۱۷

    نذیر اؔنجم کی شاعری ایک ایسے معاشرے کی عکاس ہے جس ظلم و جبر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ آپ کا ایک حرف جذبہ حب الوطنی کا غماز ہے۔ نذیرؔ انجم کا یہ شعر اتنا معروف ہوا کہ کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر آگیا ۔

    نعرہ ہی نہیں ایمان ہے، یہ آزادی کے متوالوں کا

     کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۴۱)

    نذیر انجم کی شاعری میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پر توبہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کے کئی ایک اشعار کشمیر میں روز مرہ محاورے کا درجہ رکھتے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ظلم کو امن ،عداوت کو وفا کہتے ہیں

    کیسے نادان ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۵۹)

    میرے کشمیر ذرا جاگ کہ کچھ جاہ طلب 

    غیر کو تیرے مقدر کا خدا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۹۰)

    کشمیر میں شعری ادب کے افق پر نذیرؔ انجم بیس ویں صدی کے نمایاں اور ممتاز شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ان کے کلام میں مزاحمتی اور ترقی پسند ادب سے وابستگی بھی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر افتخارؔمغل لکھتے ہیں:

     ’’انھوں نے اپنی مزاحمتی آواز کو مؤثر اور مستحکم بنانے کے لیے ترقی پسندوں کی ادبی روایت سے وابستہ علامتی نظام کو نہایت خوش اُسلوبی سے برتا ہے۔ـ‘‘ ۱۸

    جہاں نذیرؔ انجم انقلابی اور مزاحمتی انداز اپناتے ہوئے نظرآتے ہیں وہیں ان کے ہاں خُم و کاکل اور عشق و محبت کی داستانیں ملتی ہیں ۔ وہ انقلابی اندا ز کے علاوہ حسن و عشق میں بھی فراز ؔاور فیضؔ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ۔ محبت کی کیفیات کو وہ یوں اپنے شعر میں سموتے ہیں کہ جیسے کسی پھول کو مالا میں پرویا جاتا ہے۔ وہ دِلی کیفیات کو کِس طرح لفظیات کا جامہ پہناتے ہیں ملاحظہ ہو:

    بجھ گیا دل تو ارمان جلتے رہے

    پردۂ یاس میں سوز عریاں رہا

    (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۹۴)

                آئنہ گر بہت ہوئے لیکن 

    کوئی انجم ؔسا عکس گر نہ ہوا

    (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۱۰۴)

     نذیر ؔانجم کی شاعری کے حوالے سے قدرت اللہ شہاب کے الفاظ دیکھیے:

    ــ’’نذیراؔنجم کا نہایت اعلیٰ او ارفع کلام روح کے احتظاظ کا باعث بنتا ہے۔۔۔آزاد کشمیر کے صاحبانِ علم و ادب کو نازاں ہونا چاہیے کہ ایسا صاحبِ اُسلوب اور منفرد غزل گو شاعر بھی ہم میں موجود ہے۔ ‘‘۱۹

    جاوید الحسن جاویدؔ(ا جنوری ۱۹۶۹ء) بھی آزاد کشمیر کے ادبی منظر نامے کے اہم شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کے شہر پلندری میں ان کی ولادت ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی۔ شاعری میں ابتدا ً پروفیسر عبدالعلیم ؔصدیقی سے اصلاح لی بعدازاں راول پنڈی میں پروفیسر یوسف ؔحسن کو اپنا کلام دکھایا۔ اصغر مال کالج راول پنڈی سے انگریزی ادبیات میں ایم ۔اے کی سند حاصل کرنے کے بعد آزادکشمیر کے ضلع عباس پور میں بہ طور انگریزی لیکچرر تعینات ہوئے اسی زمانے میں پہلا مجموعہ کلام "محبت پھول کی مانند”منظر عام پر آیا۔۱۹۹۹ء میں سول سروسز میں سیشن افسر تعینات ہوئے اس عرصے میں دوسرا مجموعہ کلام "پون”کشمیر کلچراکیڈمی نے شائع کیا جاوید الحسن جاویدؔ ابتدا میں جاوید الحسن نشترؔ کے نام سے لکھتے رہے تاہم جلدی ہی نشتر کی بہ جائے جاویدؔ تخلص کرلیا دمِ تحریر جاوید الحسن جاویدؔ آزادکشمیر حکومت میں بہ طور ایڈیشنل سیکرٹری صحت عامہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں حال ہی میں تیسرا مجموعہ "گل و گل زار کا موسم”شائع ہوا۔

    جاوید الحسن جاوید ؔکے پاس روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری بھی ملتی ہے۔ انھوں نے جس کو دیکھا اسے ویساہی بیان کردیا ۔ کئی حوالوں سے آ پ آزادکشمیر کی شاعری میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وطن سے محبت، کشمیر کا نوحہ اور عشق و محبت آپ کی شاعری کا خاص موضوع ہیں۔ حالاتِ حاضر ہ پر بھی آپ نے قلم کا خوب استعمال کیا ہے۔

    پھر سے تعمیر وطن ہے سب حوداث کا جواب 

    تانہ کوئی ہم نفس حیراں رہے گریاں رہے

    تا قیامت اب نہ کوئی حادثہ گزرے یہاں

    تا قیامت ہر بشر شاداں رہے خنداں رہے

            (جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۲۳)

    جاوید الحسن جاویدؔ نے عام فہم اور سادہ الفاظ میں جان دار شاعری کی ہے اُن کے ہاں دلی کیفیات اور جذبات کی بہت عمدہ عکاسی ملتی ہے۔

    جیتا ہوں ،میں اچھا ہوں یونہی بول دیا ہے

    سچ یہ ہے محبت نے مجھے رول دیا ہے

    پوچھا تھا کسی نے یونہی احوال ہمارا

    ہم سادہ مزاجوں نے تو دِل کھول دیا ہے

    زنجیر ہی دیتا مرے پیروں میں تو کیا تھا 

    اُس نے تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا ہے

            (جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۴۵)

    پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (۱۹۲۵ء تا۳ دسمبر ۲۰۰۹ء) میںضلع سلطان پور اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کی اور آزدکشمیر کے ضلع سدھنوتی میں پلندری کو اپنا مسکن بنایا تمغا ٔامتیاز جیسے اعزازات پانے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کے کئی نام و شاگر ہوئے ۔علامہ اقبالؔ کے سارے کے سارے فارسی کلام کو منظوم اُردو ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ بوستان سعدیؒ، حکایات رومی اور رباعیات عمر خیام کو بھی منظوم اُردو قالب میں ڈھالا۔پلندری میں انتقال کرنے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کی غزلیات کا مجموعہ” نہاں خانہ دِل "کے نام سے ان کی وفات کے بعدشائع ہوا۔

    عبدالعلیمؔ صدیقی کے کلام میں فارسیت کے ساتھ ساتھ عربی رنگ بھی موجود ہے۔ ان کا کلام کلاسیکی اور روایتی غزل سے قریب نظرآتا ہے۔ عبدالعلیم ؔصدیقی کے ہاں فن کمال عروج پر ہے۔ ان کی شاعری بلاشبہ آزادکشمیر کے شعرا میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔

    بیمار شِفا پائے گا اے چارہ گرو کیا      

    دکھ اور طرح کا ہے ، دوا اور طرح کی     

    یہ کون بصد شوق چلادار کی جانب     

    لکھی ہے مشیت نے بقا اور طر ح کی ۲۰

    پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی چوں کہ شاعری میں کئی شعرا کے استاد تھے۔ اہل زبان ہونے کی وجہ سے ان کو شاعری پر مکمل دسترس حاصل تھی جس کا ثبوت وہ اپنے کلام میں دیتے ہیں۔ ان کے ایک غیر مردف غزل کے یہ اشعار دیکھیں۔

    ایسا کمال جاتا ہے میرا فکر و فن

    آجائے حرف و صوت میں فطرت کا بانکپن 

    اِس کارزارزِیست میں سرگرم رکھتی ہے

    مجھ کو دِل حزیں میں اک اُمید کی کرن

    ڈرتا ہوں ایسے آج سے جب میر ے قلب میں

    ایک خوش گوار کل کی لگن ہو نہ مؤجزن ۲۱

    اپنے وطن کی مٹی کو انوکھا خراج پیش کرتے ہوئے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کہتے ہیں۔

    جنت کی حوریں شرمائیں اس سے حسن و جوانی میں

    ایسی بھی تاثیر ہے اپنے دیس کے مٹی پانی میں  ۲۲

    اسلم ؔراجا(۱۳ اکتوبر ۱۹۴۸ء) آزادجموںوکشمیر کے شعری ادب میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں پتراٹہ کفل گڑھ ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ شاعری کے علاوہ "تاریخ نامہ راجپوت "آپ کی علمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔”کونپل کا بدن”اور "آب ریزے "آپ کے فن کا اعتراف ہیں کئی اعزازات آپ کو آپ کی قابلیت کے اعتراف میں دیے گئے۔

    اسلمؔ راجا کے شاگردوں میں بھی ایک بڑی تعدادموجود ہے ۔ آپ کا کلام بھی آزادکشمیر کے شعری منظرنامے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    شفق جب بادلوں کے ساتھ ہم آغوش ہوتی ہے

    مجھے تیری محبت کا زمانہ یاد آتا ہے ۲۳

    یہ لفظ لفظ چن کر سوچوں کے ساتھ بننا

    میرا یہی تو فن ہے ، جولاہا ہوں سخن کا ۲۴

    سخن کا جولاہا سمیت کئی طرح کی نئی تشبیہات اسلم ؔراجا کے کلام کانمایاں وصف ہے اپنے شہر کو بھی کئی خوب صورتی سے عدن بتاتے ہیں ملاحظہ ہو۔

    رنگوں میں میری رنگت ، خوش بو سے میری نسبت

    میں باغ پالتا ہوں ، باسی ہوں میں عدن کا ۲۵

    مخلص و جدانیؔ(۲۱ مارچ ۱۹۴۴ء) ڈاکٹر صابر ؔآفاقی کے چھوٹے بھائی ہیں ۔مظفرآباد کے مضافاتی گائوں گوہاڑی میں پیدا ہوئے ۔ اُردو شاعری کے علاوہ گوجری شاعری آپ کی پہچان بنی۔ شاعری میں ابراحسنی (شاگرد احسن مارہروی) سے اصلاح لی۔آپ کا مجموعہ کلام "صلیبوں کا شہر”منظر عام پر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ ’’نئی بہار نئے پھول ‘‘ آپ کا دوسرا مجموعہ ہے گوجری میں کئی مجموعے آپ کی پہچان بنے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، مخلص وجدانیؔ کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

    ’’آپ کی شاعری میں ذاتی تجربے ، اجتماعی واردات سے گھل مل کر ایک وحدت بن رہے ہیں اور اس تخلیقی عمل سے ایک ایسا امکان سامنے آرہا ہے جو منفرد بھی ہے اور مؤثر بھی۔‘‘ ۲۶

    مخلص ؔوجدانی کی شاعری میں مقامی علامات واستعارات کا استعمال خوب صورتی سے کیا گیا ہے ۔ بہ غور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلص ؔوجدانی کی غزل میں بے شمار نفسیاتی واقعاتی اور وارداتی عوامل کا اجتماع ملتا ہے۔ ان کی غزل میں اُن کی جنم بھومی سے محبت نظرآتی ہے ۔ان کا انداز اس قدر دِل پذیر ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ کبھی ان کے کلام میں قاری خود کو غرق پاتا ہے اور کبھی سطح پر تیرتا ہے۔ مخلص ؔوجدانی کی شاعری کے حوالے سے جگن ناتھ آزاد رقم طراز ہیں:

    ’’نام نہاد جدید شعرا کے ہجوم میں مخلصؔ وجدانی ایسے شاعر کے کلام کا نظرمیں آجانا ایسا ہی ہے جیسے دھوپ میں چلتے ہوئے مسافر کے لیے کہیں سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آجائے۔‘‘۲۷

    مخلص وؔجدانی نے اپنی غزل میں ایسے ایسے جوہر دکھائے ہیںکہ وہ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں۔ان کے شعروں میں ذہن کا کرب ،گردو پیش کا غم ، مجبور یوں ، معذوریوں کا ماتم جابہ جا ملتا ہے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کے دکھ سے اور ان کے مسائل سے پوری طرح آشنا ہیں ان کی فکری سطح جدت کی حامل ہے۔ جبھی تو ڈاکٹر فرمان فتح پور ی نے کہا کہ ۔

    ’’آپ کی شاعری بہ اعتبار فکر نو اور اُسلوب تازہ گوہر نایاب ہیں۔‘‘۲۸

    مخلص وؔجدانی کی شاعری سے کچھ اشعار مثال کے طور پر دیکھیں۔

    آئو سب مل کر فصیلِ شہر کو اونچا کریں

    ہے سلامت شہر تو محفوظ اپنا گھر بھی ہے

          (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۱۷)

    ترا غم ہے ان مول شے اِس جہاں میں

    یہ جنس گراں، جس کو بھی راس آئے

        (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص۳۵)

    زمانے کے کوئی معیار پر اترا نہیں مخلصؔ 

    خرد کو دارپر کھینچا ، جنوں پر سنگ باری کی

                (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۴۳)

    لیاقت ؔشعلان(۱ جنوری ۱۹۷۹ء) آزادکشمیر کے لکھنے والوں میں نووارد ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کا اصلی نام محمد لیاقت خان ہے آپ کیاٹ کلاں راولاکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایم اے اُردو تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک مقامی اسکول میںبہ طور جونیئر مدرس پڑھا رہے ہیں۔لیاقت ؔشعلان ک شاعری وارداتِ قلبی کی شاعری ہے ۔اُن کو غزل میں کمال مہارت حاصل ہے۔ ان کی غزل جان دار اور عمدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی محافل میں و خوب جانے جاتے ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کی غزل سے کچھ اشعار دیکھیں۔

    ہیں وہ حالات کہ خاموش رہوں، اف نہ کروں

    کاٹا جاتا ہوں کہیں میں بھی شجر کے اندر 

    اتنا منصب سے ہوا جاتا ہے غافل انسان 

    روتے دیکھا ہے خدا میں نے بشر کے اندر ۳۴

    تاریخ دکھائے گی زمانے کو یہ منظر 

    طوفانی ہوا سے یہ دیا کتنا لڑا ہے ۳۵

    کتنی بار پیاسے مرے ہیں خوش فہمی کے ہاتھوں

     لیکن اب تک اترے نہیں ہیں دریا سرابوں والے ۳۶

    صحرا نے خود اپنی آگ سے پیا س بجھائی اپنی

    جنگل جنگل برس رہے تھے دور سحابوں والے ۳۷

    علامہ جوادؔ جعفری(۴ جنوری ۱۹۵۶ء)آزادکشمیر کے شعری روایت کے ایک اہم شاعر ہیں۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ جوادؔ جعفری کو جو ماحول میسر آیا اس نے ان کے شعروادب سے دل چسپی پید اکرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کی علمی قابلیت نے ان کو شاعر کے ساتھ ساتھ عمدہ نثر نگار بھی بنا دیا۔ چودھری غلام عباس کی شخصیت، رومیٔ کشمیر میاں محمد بخش کے علاوہ سردار عبدالقیوم خان کی زندگی پر تصانیف ان کے فن کا ثبوت ہیں ۔ شاعری میں آپ کا مجموعۂ کلام’’ احتجاج‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جب کہ ’’فکر ِامروز‘‘ زیر طبع ہے۔ جوادؔ جعفری نے فارسی زبان پر دسترس کے بدولت اِس زبان سے خوب استفادہ کیا ۔انھوں نے ریڈیو آزادکشمیر سے وابستگی کے دوران میں کئی طرح کے اعزازات حاصل کیے۔ علاوہ ازیں کشمیرکلچر اکیڈمی کے صدر نشین کی حیثیت سے بھی انھوں نے اُردو ،فارسی اور کشمیری ادب کو بڑی تعدادمیں شائع کرکے بھی ادب کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

    جواد ؔ جعفری کی شعر و ادب سے وابستگی بچپن سے ہی رہی بارہ برس کی عمر میں "برسات کا موسم”کے عنوان سے نظم لکھی۔ جو شؔ ملیح آبادی، احمد ندیمؔ قاسمی ، احمد فرازؔ، اور افتخارؔ عارف جیسے بڑے شاعر وں کی صحبت میں آپ کے شعر کہنے میں نفاست اور تازگی آئی۔جوادؔ جعفری نے حالاتِ حاضرہ کو اپنے شعروں میں سمونے کا کامیا ب تجربہ کیا ہے۔ ان کا کلام ایک دھرتی کی نمائندگی کرتا ہے ۔جذبات واحساسات ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔وہ اپنے وطن ،اپنی مٹی اور اپنی دھرتی سے جو محبت کرتے ہیں وہ ان کی شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔جواد ؔجعفری اپنی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

    ’’مجھے معلوم ہے کہ یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے یا پھر ایک شبِ تاریک میں ٹوٹے ہوئے مٹی کے چراغ کی لو ،لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس آواز کا اپنا ایک آہنگ ہے جو اپنا وجود ضرور برقرار رکھے گا،اور اس ٹوٹے ہوئے چراغ سے نکلنے والی روشنی گھمبیر اندھیروں میں اجالوں کی نمائندگی کا عظیم فریضہ سر انجام دے گی۔‘‘۳۳

    علامہ جواد ؔجعفری کے کلام سے کچھ اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔

    ابنِ آدم کو ملی کن گناہوں کی سزا 

    لغزشِ آدم کا واجب ہم پہ کفارہ نہ تھا

        (جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)

    جنھیں معلوم نہ ہو فرق الفت اور نفرت کا

    انھیں چاہتے اگر ہیں آپ تو بے کار چاہتے ہیں

      (جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)

    تعلُق کچھ نہ کچھ جواد ؔکا ان سے تو ہے اب بھی

    اسے چاہیں نہ چاہیں اس کے وہ اشعار چاہتے ہیں

      (جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)

    گنوایا تم  نے مجھ کو ہر قدم پر

    تجھے میں ہر قدم پر پا گیا ہوں

        (جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)

    نا زؔ مظفرآبادی (۱ جنوری ۱۹۶۰ء)آزادکشمیر کے شعروادب کی روایت میں نازؔ مظفرآباد ی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر سے ہی شعرگوئی کی طرف رجحان تھا۔ غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ۔ ناز ؔمظفرآبادی کے چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ان کی شاعری پر پروفیسر سحر ؔانصاری لکھتے ہیں۔

    ’’نازؔ مظفرآبادی کہنہ مشق شاعر ہیں ۔۔۔وہ اپنے سخن کو سنوارنا اور نکھارنا چاہتے ہیں۔ شاعری ان کے لیے زندگی کا سنجیدہ مسئلہ ہے اس لیے وہ توجہ اور انہماک سے اپنے فن کا معیار قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘۳۴

    نازؔ مظفرآبادی غزل کے شاعر ہیں اور غزل ہی کا مزاج رکھتے ہیں لیکن ان کی نظمیں بھی کئی طرح سے خصوصیت کی حامل ہیں۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ حقیقت اور جذبات کی غمازی کرتا ہے۔ نازؔ مظفرآبادی نے چوں کہ زندگی کا بڑا حصّہ غریب الوطنی میں بسر کیا اس وجہ سے یہ چیز بھی ان کے کلام میں شامل نظرآتی ہے۔ ان کی شخصیت ان کے کلام میں جھلکتی ہے ناز ؔمظفرآبادی کے کلام سے چند مثالیں دیکھیے۔

    وہ تو ظرف تھا ایک سمندر کا

    ورنہ دکھ دریائوں جیسا تھا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۲۴)

    سوچ کر قدم رکھنا عشق کی عدالت میں 

    عمر بیت جاتی ہے فیصلہ نہیں ہوتا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۳۰)

    جذبہ عشق اگر دل میں نہیں ہے زندہ

    آدمی صاحب ایمان نہیں ہوتا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص۴۵)

    وہ کسی ایک کا بھی ہو نہ سکا 

    ہاں اسی بات کا تورونا تھا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۸۱)

    زکریا شازؔ (۱۹۶۵ء )آزادکشمیر میں زکریا شازؔ بھی غزل کے حوالے سے معتبر نام ہے۔ آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی سے تعلق رکھنے والے زکریا شازؔ اپنی غزل کے داخلی و خارجی دونوں سطحوں پر یکساں توجہ دیتے ہیں ۔آپ کا مجموعہ کلام ’’خاموشی کی کھڑکی سے‘‘ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا۔ زکریا شازؔ کی غزل کلاسیکی روایت کے گہرے مطالعے کا پتا دیتی ہے اُن کی غزل میں تصورات کا عنصر زیادہ ملتا ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُن کا کلام خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مضامین زیادہ تر داخل سے برآمد ہو کر خارج میں وارد ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ دریائے پونچھ کے کنارے زندگی کے شب وروز گزارنے والے زکریا شازؔ کے ہاں محبت نمایاں موضوع ہے جس کو انھوں نے بری کامیابی کے ساتھ نبھایا ہے۔ان کی جزئیات نگاری اور معاشرے کی مختلف قدروں کی عکاسی بھی خاص وصف بن چکی ہے ۔ ان کے ہاں مضامین اور کیفیات میں یکسانیت فنی معیار اور ابلاغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن موضوعاتی پھیلائوکو قدرے محدود کردیتی ہے۔جس کی بِنا پر فکری یکسانیت کے سلسلے میں حبس کا احساس ہوتا ہے۔ محبت کے موضوعات میں زکریا شاز ؔکی ثروت مندی پر محمد اظہارؔ الحق لکھتے ہیں۔

    ’’محبت کے باب میں اُس نے مضامینِ نولانے کی کوشش کی ہے اور یہ کوشش بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ اس نے نقشے کے بغیر محبت کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ہے۔ ۔۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے زمانے سے الگ چلنے کا اہتمام کیا ہے۔‘‘۳۵

    زکریا شازؔخیال و معنی کو شعری سرمایہ سمجھتے ہوئے اس کے تمام تر لوازمات کو نبھاتے ہیں ۔ زکریا شازؔ کے کلام سے یہ اشعار ان کے اُس وصف کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔

    پیار کا ساون برستا ہے تو تھمتا ہے کہاں

    بھیگتا ہوں میں اِدھر اور وہ اُدھر بارش کے بیچ

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۳۳)

    اب لطف کے اسرار نہیں کھلتے ہیں مجھ پر

    کر مجھ سے ملاقات کسی اور طرح سے

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۴۱)

    اس نے اس بار توحیران ہی کر ڈالا ہے

    میں سمجھتا تھا کہ جذبات سمجھتا ہے کوئی

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص۴۹)

    شازؔ خود میں ہی گنواتے ہوئے خود کو رکھنا 

    ہاتھ جب تک نہ کوئی اپنی نشانی آئے

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۵۶)

    ڈاکٹر وزیر آغا کے بہ قول:

    "زکریاؔ شاز کی غزل جدید لب و لہجے کی حامل ہے کہیں بھی 

    شاعر کی بھیگی ہوئی آواز جذباتی خروش میں تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘   ۳۶

    سید شہباز ؔگردیزی (۱۹۷۶ء ) کا تعلق آزادکشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ آپ کی پیدائش حیدر آبادسندھ میں ہوئی۔ شاعری کاشغف ابتدائی عمر سے ہی تھا۔ شہباز ؔگردیزی نے اپنے اس شوق کو پروان چڑھایا اور شاعری میں پروفیسر شفیق رؔاجا اور ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اصلاحِ سخن لی۔ ان کے ہاں جذبات واحساسات کی ملی جلی فضا نظرآئی ہے۔ شہبازؔ گردیزی کے دوشعری مجموعے "حقیقتوں کے عذاب "اور "خواب کون دیکھے گا”منظر عام پر آچکے ہیں ۔اس کے علاوہ شعرائے ضلع پونچھ کا انتخاب "اجلی مٹی”کے نام سے شائع کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ "متاع حسن”کے عنوان سے تاریخ کشمیر اور "جمہوریت کی دیوی”کے نام سے اخباری کالمز کا مجموعہ بھی شہبازؔ گردیزی کی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔طلوع ادب آزادکشمیر کے معتمد اعلیٰ چیئرمین افکار پاکستان ، صدر حسنِ بیان آزادکشمیر ،ممبر کشمیر کلچرل بورڈ کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۵ء میں ان کو کلچرکلچرل اکیڈمی ایوارڈ مل چکا ہے۔۲۰۰۹ء میں امیزنگ فیلڈ کارکردگی ایوارڈ ۲۰۱۱ء میں مرسی کور کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ کئی طرح کے اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ سید شہباز ؔگردیزی دیگر شعرا کی طرح محبت کی جذبوں سے لبریز ہیں جب کہ جذبہ حب الوطنی آپ کی شاعری کا خاصا ہے۔ خواب سید شہبازؔ گردیزی کا ایک کامیاب استعارہ ہے وہ خواب دیکھتے ہیں آزادیٔ کشمیر کا خواب ، امن و قرار کا خواب، محبت وآتشی کا خواب یہی وجہ ہے کہ ان کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کے بعد ان کے یہ خواب کہیں دم نہ توڑ دیں ۔ ڈاکٹر افتخارؔ مغل لکھتے ہیں۔

    ’’سید شہبازؔ گردیزی کی شاعری میں خواب کا استعارہ ایک نئے تصور ، ایک نئی  معنویت ، ایک نئے رنگ ایک نئے امکان اور ایک نئے روپ کے ساتھ آیا ہے سید شہبازؔ گردیزی خواب کا خواب دیکھ لینے پر قادر ہے اس کے ہاں خواب ایک پرچھائی نہیں ایک مکمل امکان ہے وہ اس امکان کے امکان میں جھانک لیتا ہے وہ اپنے وجدان سے اپنے Visionکے کیمرے سے خواب کے پس منظر کی تصویر لے لیتا ہے۔‘‘  ۳۷

    سید شہباز ؔگردیزی کے کلام میں خوابوں کا بیان اس قدر نفاست سے ملتا ہے کہ قاری کے دِل پر ایک کیف و سرور کی سی سرشاری چھا جاتی ہے۔ ان کے کلام سے یہ اشعار بہ طور مثال: 

     عجیب طرح کے خوابوں سے واسطہ ہے مرا

    عجیب ہی مرے دِل میں خیال آیا ہے

    (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۱۶)

     اس اک بات پر اٹکی ہوئی ہے سانس میری

    میں مرگیا تو میرے خواب کو ن دیکھے گا

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۲۶)

    تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے

     اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۳۰)

     اتنے محتاط ہیں ہم لوگ تری دُنیا میں

    اپنی آنکھوں سے بھی کچھ خواب چھپا کر دیکھے

          (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۷۵)

    سرخ آنکھوں کا حال مت پوچھو

    شب گزاری ہے اضطراب کے ساتھ

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۸۱)

    احمد عطا ؔاللہ (۱۰ اپریل ۱۹۶۵ء )خطہ کشمیر سے متعلق ایک اور اہم شاعر احمد عطا ؔاللہ ہیں ۔احمد عطاؔاللہ کے والدین بسلسلہ روزگار لاہور میں مقیم ہیںیہی وجہ ہے کہ انھوں نے لاہور میں ہی جنم لیا۔ اپنی تعلیم لاہور میں ہی مکمل کی۔ ۱۹۸۹ء ؁ میں اُردو زبان و ادب میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ اسی ادارے میں عباس تابشؔ کی صحبت نے آپ کو باقاعدہ شاعر بنادیا۔ عباس تابشؔ آپ کے سینئر تھے۔ احمد عطاؔ اللہ لاہور میں احمد ندیم ؔقاسمی کی صحبت سے بھی مستفید ہوئے۔ یہی وجہ ہے ان کے کلام میں دیہات اور گائوں کی زندگی جا بہ جا موجود ہے۔ ترقی پسندی کے عناصر بھی احمد عطاؔاللہ کی شاعری کا خاصا ہیں۔

    احمد عطاؔاللہ جدید لفظیات کے شاعر ہیں ان کے امکانات بالکل تازہ جب کہ ُاسلوب جداگانہ اور منفرد ہے۔ وہ ایک فطرت شناس اورزندگی کا گہر امشاہدہ رکھنے والے انسان ہیں۔ دیہی خصوصیات اُن کی شاعری میں ملتی ہیں۔ شعری تخیل اور فکری سطح پر ان کے تمام اشعار میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ احمد عطاؔ اللہ گائوں کی فطری محبت کے اسیر ہیں ان کے مطابق گائوں میں محبتوں کا موسم شہروں کی نسبت زیادہ ہے جب کہ فطری حسن بھی گائوں میں ہی ملتا ہے ۔ان کی شاعری میں لہے کا نیا پن اور محبت کا غیر روایتی اظہار بھی انوکھے انداز میں موجود ہے۔ احمد عطاؔاللہ کا خاص اُسلوب جہاں بڑی سے بڑی غیر معمولی بات کو سادہ الفاظ کی لڑی میں پروسکتا ہے۔ وہاںان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ بات کو قاری کی ذہنی سطح کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ وہ خارجیت سے زیادہ داخلیت پر محنت کرتے ہیں۔ احمد عطاؔ اللہ نے غزل کے میدان میں نئے مضامین لانے کی کوشش کی ہے اپنی اس کوشش میں وہ خاصی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ظفرؔاقبال ان کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

    ’’جو لوگ میری نحوست طبع سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا یہ اعتراف کیا معنی رکھتا ہے اور اپنی تمام تر بدلحاظی کے باوجود میرا سے عمدہ ، بلکہ قابل رشک قرار دینے کا مطلب کیا ہے مجھے اس شاعر نے خوش کیا ہے اور واقعتا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔‘‘۳۸

    احمد عطاؔاللہ کے کلام میں سے نمونے کے طور پر کچھ شعر درج ذیل ہیں۔

     سازشی دِل تجھے ہمت نہیں ہونے دوں گا

     دوسری بار محبت نہیں ہونے دوں گا

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۵) 

     بیچ رستے کے روک دوں گا تجھے

     زندگی! میں بھی دیکھ لوں گا تجھے

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۹) 

     پہلے ہی یقین شہر پر گائوں نہیں کرتا

    کیا سوچے گا واپس میں دوبارہ نہ گیا تو

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص۴۶) 

     شہر گائوں کی نیندیں چرالیں جس کی خوش بو نے

     وہ کیسا پھو ل تھا کب بات سے باہر نکل آیا

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۸۷) 

      ایاز ؔعباسی آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پیدا ہوئے بچپن سے ہی شعر و ادب کی طرف رغبت تھی ۔ ابتدامیں نظم اورہائیکو لکھیں تاہم غزل اور نعت میںپہچان بنائی۔ ایاز ؔعباسی مقدار سے زیادہ معیار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایاز ؔعباسی کا مجموعہ کلام "ظہور”کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔ جب کہ دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے۔ ایازؔ عباسی کی شاعری میں حبِ رسولؐ بھی موجود ہے اور حب الوطنی بھی ۔خم وکاکل بھی ہے اور عشق و محبت بھی ایازؔ عباسی اپنے جذبات کو غزل اور نظم کے لبادے میں بہت نفاست کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔تلخی ٔایام اور کربِ محبت ان کا اہم ترین موضوع ہے۔ وہ کبھی چلچلاتی دھوپ میں سفر کرتے ہیں تو کبھی گھنی چھائوں میں پڑائو ڈالتے ہیں۔ یادوں کی اک بستی کے مکین ایازؔ عباسی قلم اور زبان کے ازراں الفاظ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عشق ِمحمدﷺ وہ شے ہے کہ جو زمانے کے ظلم و ستم سے اور اذیتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ایازؔ عباسی کی شاعر ی میں حقیقت نگاری اور واردات قلبی یکساں طور پر ملتی ہیں۔ان کے مجموعہ کلام سے چند اشعار دیکھیے ۔

     عمر تیری بھی ماہ و سال میں ہے

     بادشاہا ! تو کس خیال میںہے

        (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)

    ساربان اُونٹنی پر بیٹھتا تھا

    جب عمرؓ کو مہار دی گئی تھی

          (ایاز عباسی ، ظہور ، ص،۹۹)

    منقبت ہدیہ کروں حضورؐ کے گھرانے کے لیے

    لفظ منت کریں تحریر میں آنے کے لیے

    (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۲۱)

     اس زمانے نے تو بس مار ہی ڈالا ہوتا 

    مصطفیؐ نے نہ اگر ہم کو سنبھالا ہوتا

    (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)

    الطاف ؔعاطف( ۲۲دسمبر ۱۹۵۰)آزادکشمیر کے شعری ادب کی روایت میں کیپٹن (ر) الطافؔ عاطف کا نام بھی جانا پہچانا جاتا ہے ۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ کے مشہور گائوں کفل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ایف ۔اے انٹر کالج باغ اور گریجویشن جامعہ پنجاب ، لاہور سے مکمل کرنے کے بعد آرمی ایجوکیشن کور میں جونیئر کمیشن حاصل کیا ۔ اپنی خدمات ملک و قوم کے لیے پیش کرتے ہوئے۲۰۰۳ء میں بہ طور آنری کیپٹن ریٹائرہوگئے۔

    باغ آزادکشمیر میں پہلی طلبہ تنظیم کا بانی و صدر ہونے کا منفرد اعزاز رکھنے والے الطاف ؔعاطف نے اپنے کالج کے عرصے میں ۱۹۶۷ء سے شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی۔ طویل مشقِ سخن کے بعد ۲۰۱۲ء میں پہلا مجموعہ کلام ’’جھیل کا چاند‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ باغ کی کوئی بھی ادبی محفل آپ کے ذکر اور آپ کی شرکت کے بعد نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی مکمل توجہ شعر و سخن پر مرکوز ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا دوسرا مجموعہ کلام بھی زیر طبع ہے۔

    توانا اور مثبت شعری سوچ کے حامل الطافؔ عاطف کے کلام میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں ۔ ان کے کلام کو دیکھ کرقاری باآسانی اندازہ کرسکتا ہے کہ زندگی کا بیشتر حصہ فوج میں گزارنے والا یہ شاعر موضوعات کی کمی کا ہرگز شکار نہیں رہا۔ وہ محبت کے لازوال جذبے کے مختلف پہلوئوں کو موضوع سخن بناتے ہیں ۔سید شہبازؔ گردیزی کے مطابق:

    ’’انھوں نے زندگی میں بے شمار نشیب وفراز دیکھے ہیں حادثات ِزمانہ پر گہری نظر رکھی ہے اس لیے ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج اور تنوع پایا جاتاہے ۔ ان کی شاعری میں جہاں حال کا عکس نمایاں ہے وہاں ماضی اور مستقبل کی جھلک بھی پائی جاتی ہے۔۳۹

    عزم و ہمت کے جذبات کے حامل الطافؔ عاطف ہمیشہ حالات کے روشن پہلو تلاش کرتے ہیں ۔اِن کے کلام سے چند اشعار نمونے کے طور پر دیکھئے۔

    جلوہ تمھارے حسن کا ہر پھول میں عیاں 

    چرچے ہیں پھر بھی دہر میں تیرے حجاب کے

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)

    جو تو بچھڑا تو لگتا ہے مجھے ایسا

    کہ جیسے میں سمند ر پار بیٹھا ہوئے 

        (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۳۳)

    چپکے چپکے جھانکتی رہتی ہیں جب بھی

    راز کی باتیں بتاتی ہیں یہ آنکھیں

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص۴۱)

    زندگی ہاری ہے عاطفؔ جن کی خاطر

    روپڑے وہ ، بات آئی جب سمجھ میں

        (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۵۲)

    چین آتا نہیں انھیں عاطفؔ

    دوسروں کا جو دِ ل دکھاتے ہیں

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)

    محمد خان نشترؔ(۱۹۲۷ تا ۱۹۸۵) آزادکشمیر کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اُردو شاعری میں آپ روایت کی پاسداری کرتے ہیں۔محمد خان نشترؔ نے آزادکشمیر میں اُردو شعر و ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔محمد خان نشترؔ کے بیٹے زاہد ؔکلیم کے مطابق ۱۹۲۷ میں مظفرآباد شہر میں پیداہوئے۔ ۱۶سال کی عمر میں والدہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ طالب علمی کے زمانے میں سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ مضامین نویسی علم و ادب اور کھیلوں میں دل چسپی لینے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؔ کو بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے ۔ اپنے اس دور میں بال جبریل کو سرخ اور نیلی روشنائی سے خوش خط لکھ کر اپنے ادبی ذوق کا ثبوت دیا۔ معاشی طور پر زیادہ سازگار حالات نہ تھے۔ محکمہ جنگل میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کرتے رہے ۔ زاہدؔ کلیم کے مطابق:

    ’’محکمہ جنگل میں تمام عمر کلرکی کی ، لیکن شرافت اور وضع داری کے سبب افسرانِ بالا بھی ہمیشہ احترام کرتے تھے ۱۹۷۶ء میں ملازمت سے سبک دوش ہو کر ذوق کی تسکین کے لیے کتابوں کی دُکان ’’نیلم بک ڈپو‘‘ کے نام سے کھول لی جو کہ دُکان کم اور مرکزعلم و ادب زیادہ تھی۔‘‘۴۰

    محمد خان نشترؔ نے اپنی زندگی علم و ادب کے لیے وقف کررکھی تھی۔ ان کی یادگار ایک تاریخ ’’رشحات نشتر‘‘  اور ایک مجموعہ شاعری’’ لمحات نشتر ‘‘، ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے محمد خان نشتر ؔاپنے وقت کے اہل سخن سے رابطے میں تھے اس وقت کے تمام رسائل و جرائد باقاعدگی سے آپ کو ارسال کیے جاتے تھے۔

    محمد خان نشترؔ فشار خون کے مریض تھے او اسی سبب ۲۸ مئی ۱۹۸۵ء برین ہیمرج کا شکار ہوکر دُنیا سے رخصت ہوئے۔زاہد ؔ کلیم کے مطابق:

    ’’وفات سے کچھ وقت پہلے میرے چھوٹے بھائی زبیر کو بلا کر آخری شعر لکھوایا جو بعدازاں قبر کے کتبے پر کندہ کیا گیا۔‘‘ ۴۱

    محمد خان نشتر ؔکا یہ آخری شعر ان کی پہچان بن گیا ۔ بلاشبہ یہ ایک زندہ شعر ہے جو صداقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک کرب اور دکھ رکھتا ہے۔یہ شعر اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا بڑے سے بڑا جابر بھی اک روز موت کے چنگل میں آئے گا۔

     نشترؔ بہت دکھاتے تھے دم خم حیات میں

    یہ کیا ہوا کہ ایک ہی ہچکی میں سو گئے

            (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)

    مری نزاکت ِ احساس اس زمانے میں

    ہجوم ِ لالہ و سرووسمن سے روٹھ گئی

    (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص۸۰)

    پھر زندہ ہورہی ہیں روایات ِ دشتِ قیس

    محشر ، خرام لیلی شام و سحر میں ہے

    (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۹۸)

    یہ حادثہ بھی دل نے ہے یک سر بھلادیا

    وہ کب ملے کہاں ملے اور مجھ سے کیوں ملے

          (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)

    اکرم ؔسہیل (۱۹۵۵ء)آزادکشمیر کی شعری روایت میں اکرمؔ سہیل کا نام خاصا معروف ہے۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری حقیقت کی شاعری ہے ۔ جہاں کوئی واقع رہنما ہوتا دیکھا فوراً اسے موزوں کرلیا۔ ترقی پسند تحریک کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ترقی پسندشاعری کو پسند کرتے ہیں۔ کوٹلی آزادکشمیر کے ڈگری کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی سے لاکا امتحان پاس کیا۔ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات رہے ۔ دمِ تحریرپبلک سروس کمیشن ،آزادکشمیر کے ممبر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب کے لیے بھی پھرپور خدمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔۲۰۱۶ء میں اولین شعری مجموعہ ’’نئے اُجالے ہیں خواب میرے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر مقصودؔ جعفری لکھتے ہیں۔

    ’’اکرم ؔسہیل کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے ۔ افکار جدید ہیں اور لہجہ روایتی ہے۔۔۔آزادی اور مساوات ان کا مسلک اور انسان دوستی مذہب ہے۔‘‘۴۲

    اکرم سہیل ؔکی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

    غریب ، مفلس و محکوم کی یہ قسمت ہے

    مرے نہ جو وہ دھماکوں سے مارا جائے گا

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص ۱۸۹)

    بس اہلِ درد ہی جانیں یہ زبانِ درد

    سخن ہے ایسا کہ محتاج قیل و قال نہیں

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۵)

    جھول کر دارپر منصور نے قاتل سے کہا

    ہم کہاں مرتے ہیں مصلوب دوبارہ کیجیے

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۸)

    شفیق ؔراجا (۴فروری ۱۹۵۶ء) آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پید اہونے والے راجا محمد شفیقؔ خان ادبی دُنیا میں شفیق ؔراجا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ شفیق رؔاجا نے ایم اے اُردو تک تعلیم حاصل کی پھر درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔ ضلع باغ میں آپ کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جن میں سید شہبازؔ گردیزی معروف شاعر ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کے مطابق:

    ’’ان کے کلام میں فکر کی ندرت بھی ہے اور اظہار کی دلاویزی بھی۔ شاعری کی فطری استعداد کو وسیع مطالے نے جلا بخشی ہے اور زبان و بیان کو دِ ل کش اور موثر بنایا ہے ۔ وہ قدیم و جدید شعری اسالیب سے بہ خوبی واقف ہیں روایت سے بغاوت نہ کرتے ہوئے رویوں کو اپنایاہے‘‘۴۳

    شفیق ؔراجا کے کلام میں جذبہ حب الوطنی اور حسن و محبت کے موضوعات بہ کثرت ملتے ہیں۔ آسان و عام فہم زبان ان کے کلام کا خاصا ہے۔ شفیق ؔراجا کا پہلا مجموعہ ’’میں حرف حرف سمیٹوں ‘‘ ۱۹۹۸ ء میں منظر عام پر آیا ۔ آپ باغ کی سب سے فعال ادبی تنظیم طلوع ادب کے صدر نشین او ربانی ہونے کے علاوہ پہاڑی ادبی سنگت کے بھی ضلعی صدر ہیں۔ شفیق ؔراجا کے مجموعہ کلام میں سے چند اشعار دیکھیں۔

    ستم کی ، ظلمت کی ماری ہوئی رُتیں کب تک 

    مرے وطن تیری قسمت میں ظلمتیں کب تک 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۴۵)

    ایک حیرت کا سمندر مؤجزن پاتے ہیں ہم 

    جب تخیل میں کبھی کرتے ہیں ہم پیکر شمار 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۶۲)

    مرے خیال کی حرمت اِسی سے قائم ہے 

    کہ تیرے پیار نے کرنا ہے سرخرو مجھ کو 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۸۳)

    احسن ؔسلیمان(۲۸ مئی ۱۹۹۱) آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گائوں تتہ پانی میں پیدا ہوئے۔ احسن ؔسلیمان کو اسکول دور سے ہی شعر و ادب سے دل چسپی پیدا ہو گئی جس کی بنیادی وجہ کم سنی میں ہی کتاب سے محبت ہے۔ پروینؔ شاکر، احمد فرازؔ، جون ؔایلیا اور ساغر ؔصدیقی سے متاثر رہنے والے احسن سلیمان نے سید شہباز ؔگردیزی سے اصلاح لی ۔ لیکن خدا داد صلاحیتوں کی بدولت سر شت میں شاعری کا ملکہ موجود تھا لہذا ستمبر ۲۰۱۶ء میں ہی ’’مجھے تم سوچ کر دیکھو‘‘ کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ کم عمری میں شعری مجموعہ شائع ہوا لیکن اس کے ہاں فکر،پختہ نظر آتی ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے مطابق:

    ـ’’ اس عمر میں ہر شخص زیادہ تر محبت کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن احسن ؔسلیمان کی ایک خاص بات ہے۔ کہ اسے محبت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز سے عشق ہے۔ جو اس کے اشعار اور اس کی نظموں میں نظر آتا ہے۔‘‘۴۴

    احسن ؔسلیمان کم عمر ہونے کے باوجود الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط واقع ہوا ہے۔ وہ اس بات کی ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے کلام میں کوئی فنی سقم نہ رہ جائے۔ زبان و بیان کے حوالے سے بھی اس کی کوشش قابل قدر ہیں ۔ احسنؔ سلیمان ابھی عمر کے اس حصے میں ہے جس میں عموماً فکری سطح کمزور ہوتی ہے۔ لیکن اس کے کلام سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ تخلیق کار ہے۔ جو شاعری کو فرض ِاولین سمجھتا ہے اور پوری دل جمعی سے یہ کام کرتا ہے۔

    احسن ؔسلیمان کی شاعری ابھی ارتقا کی ابتدائی سیڑھیوں پر ہے۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آنے والے وقت میں آزاد کشمیر کا ایک اہم شاعر بن جائے گا۔ احسن وؔقت کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہتر شاعری کر رہا ہے۔احسن ؔکے ہاں باغیانہ روش بھی اس کے خاص اندازکا حصہ ہے وہ اپنی دھرتی سے جنوں کی حد تک پیار کرتا ہے اور اس دھرتی کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے جذبے سے سرشار ہے۔ احسن ؔکی شاعری کے حوالے سے رانا توفیق صدیقی لکھتے ہیں:

    ’’احسنؔ کی عمر کے اعتبار سے ان کی غزلیات بھی بہترین ہیں۔ ان غزلیات میں انھوں نے غزل کی روایت کو ملحوظ رکھا ہے۔ غزلیات احسن کو پڑھ کر قاری محسوس کرتا ہے کہ شاعر کو کسی بھی مقام پر قافیے اور ردیف کی کمی نہیں رہی۔ ان کی غزلیات واردات قلبی کے سادہ اور دل کشں اظہار سے مزین ہیں۔ مجموعی طور ان کا کلام ان کے عمدہ تخیل اور جذبات واحساسات کا حسین مرقع ہے۔‘‘۴۵

    احسن ؔسلیمان کی شاعری میں سے چند مثالیں دیکھیں جن سے اس کے رنگ کا پتا چلتا ہے۔

    مرے سینے میں اے لوگو مرے کشمیر کا غم ہے

    مرے دل میں وطن تیری محبت شعلہ بنتی ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۴)

    کہیں سنی ، کہیں شیعہ ، کہیں دیوبند کا جھگڑا

    کہ میں نے فرقہ واریت کا وہ فتور دیکھا ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۷)

    کسے خبر تھی کہ ہوں میں بھی عشق کا مارا

    کہ ہم کو نیند نہیں رتجگوں نے لوٹا ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۷۵)

    کچھ لوگ میرے شہر کے قارون تھے مگر

    اچکا کے لے گئی انھیں اندھی عدم کہاں

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۱۱۵)

    ظہیرؔ احمد مغل (۵ نومبر ۱۹۹۱ء)آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں جنم لینے والے ظہیر ؔاحمد مغل بھی شاعری میں سید شہباؔزگردیزی کے شاگرد ہوئے۔ظہیر اؔحمد مغل کے ہاں ادبی ذوق اس قدر ہے کہ وہ بیک وقت کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھے ہوئے ہیں۔ ظہیرؔ مغل آزاد کشمیر کی معروف ادبی تنظیم ’’طلوع ادب‘‘ کے معتمد نشرواشاعت ہونے کے ساتھ ساتھ افکار پاکستان کے آزاد کشمیرریجن کے معتمد بھی ہیں۔ ظہیر اؔحمد مغل نے اردو شاعری میں خاص پہچان  بنا لی ہے وہ آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں اپنے ادبی کارناموں کے باعث خاصے مقبو ل ہو رہے ہیں۔ نظم و غزل دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ظہیرؔ احمد مغل کا پہلا شعری مجموعہ ’’میرا چاند‘‘ کے نام سے زیر ِطبع ہے۔ ظہیر اؔحمد مغل کی شاعری اپنے وقت کا نوحہ ہے وہ اپنے احساسات کو بڑے خوب صورت انداز میں شعری قالب میں ڈھالتے ہیں۔ ان کا کلام ملکی اخبارات و جرائد کی زینت بنتا رہتا ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے کلام سے کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:۔

    خواب جب ایڑھیاں رگٹرتے ہیں        

    اشک آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں ۴۶

    کبھی وہ یاد آجائے یا اس کا خواب آ جائے      

    کسی صورت بھی ہو وہ دو بدو تو شعر ہوتا ہے ۴۷

    کیسے دیکھوں میں اسے جی بھر کے        

    جی ہے آخر یہ بھر بھی سکتا ہے ۴۸

    ڈاکٹر ماجدؔ محمود(۱ جنوری۱۹۸۰ء) کاتعلق آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کی تحصیل پلندری ہے۔ آپ کے والد محمد حنیف خود تو زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن انھوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرتے ہوئے ان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔     ڈاکٹر ماجدؔ سدھن قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں یہ قبیلہ افغانستان کے قبائلی علاقوں سے برسوں پہلیآزاد کشمیر میں آ کر آباد ہوا۔

    ڈاکٹر ماجد ؔبچپن سے ہی بہت محنتی اور ذہین واقع ہوئے ہیں۔ اپنی شبانہ روزمحنت کے باعث وہ اپنی ابتدائی جماعتوں میں ہمیشہ اول آتے۔ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ ماجدؔ محمود زمانہ طالب علمی میں ایک اچھے مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ متعدد دفعہ بڑی سطح کے تقریری مقابلوں میں اول انعام کے حق دار ٹھہرے۔

    ماجدؔ محمود کی ابتدائی تعلیم پلندری سے ہی ہوئی بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے بی ایس سی اور ایم ایس سی زوالوجی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پیر مہر علی شاہ یونی ورسٹی راول پنڈی سے ۲۰۱۵ء میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد پونچھ یونی ورسٹی ، راولاکوٹ کے شعبہ زوالوجی میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 

    ڈاکٹر ماجدؔ اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی شعری ذوق رکھتے تھے۔ اسی ذوق کی تسکین کے لیے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے باقاعدہ شاگرد ہوئے اور شعری رموز سیکھے۔ ڈاکٹر ماجدؔ نے شاعری کے ساتھ تنقید اور نثر میں بھی کسی حد تک کام کیا۔ یونی ورسٹی آف آزاد جموں وکشمیرمیں کئی اسٹیج ڈرامے لکھے اور انعام کے حق دار ٹھہرے۔ ڈاکٹر ماجد ؔمحمود کا کلام بے ساختہ اور سائنسی ادراک کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کے حوالے سے بھی خاصااہم ہے۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی اردو کی ادبی تاریخ پر بھی گہری نظر ہے۔ میرؔؔ ، غالبؔ ، داغؔ، فراز ؔتک سبھی شعرا کو شوق سے پڑھا جب کہ نثر میں مشتاق احمد یوسفی اور سعادت حسن منٹو کے مداح ہیں۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی شاعری میں روایت کی واضح جھلک ملتی ہے۔ شوکت اقبال مصورؔ کے مطابق:

    ’’ماجد کی شاعری اپنے عہد کی ایک صاف آواز بن گئی ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے قطعی طور پر غافل نہیں۔  اس کا کلام اپنے ہونے کا خود پتا دیتا ہے۔‘‘۴۹

    ڈاکٹر ماجدؔمحمود آزاد کشمیر کے نئے لکھنے والوں میں ایک نمایاں آواز ہے۔ان کے اکثر اشعارمقبولیت حاصل کر چکے ۔ ملکی اور ریاستی سطح پر جانے جانے والے ماجد ؔمحمود کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا ایک شعر معروف غزل گو اور کالم نگار ظفرؔ اقبال نے اپنے کالم کا حصہ بنایا اور اسے پسندیدگی کا خلعت بخشا۔ظفر ؔاقبال اپنے کالم بہ عنوان ـ’’ سرخی، متن، ٹوٹے، ڈاکٹر ضیا الحسن اور ماجد محمود ماجد ؔکے اختتام میں لکھتے ہیں۔

    ’’اور اب چلتے چلتے پلندری سے ماجدؔ محمود کا یہ لاجواب شعر

    ہوس ہوتی تو پوری کر بھی لیتے   

    محبت تھی ، ادھوری رہ گئی ہے‘‘ ۵۰

    ماجد ؔمحمود نے غزل ہی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور اس میں نام کمایا ۔ ماجدؔ محمود کی شاعری میں مزاج کی نرمی ، حسن و عشق کے مضامین، زبان کی سادگی ، روانی ،برجستگی اور صاف گوئی جیسی خصوصیات موجود ہیں۔ وہ زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ ہیں اورا ن ہی معاشرتی رویوں کو مضمون کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ کے چند اشعار بہ طور مثال دیکھیں۔

    لوگ نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرتے

    تجھ سے بچھڑ کر فوراً مرنا ٹھیک نہیں تھا ۵۱

    ممکن ہی کہاں ہ کہ کبھی تجھ کو بھلادوں

    رہتے ہے ہمیشہ مجھے گھیرے تیری خوش بو ۵۲

    اترنا پڑتا نہ پیغمبروں کو جنگوں میں

    اگر  سمجھتی یہ دنیا زباں محبت کی ۵۳

    ظہور ؔمنہاس (۱۵،مارچ ۱۹۹۶ء)آزاد کشمیر کے شعری ادب کا مستقبل نوجوان شاعر ظہورؔ منہاس کے صورت میں بھی روشن ہے۔ ظہورؔر منہاس کا پورا نام ظہورؔ اللہ منہاس ہے۔ ظہور ؔمنہاس آزادکشمیر کے ضلع مظفرآباد کے ایک خوب صورت گائوں گلی کھیتر، بھیڑی میں پیدا ہوئے۔ ابتدا سے مطالعے کا شوق رہا تا ہم۲۰۱۴ء؁ میں حصول ِمعاش کے لیے باغ گئے جہاں سید شہباز ؔگردیزی اور ظہیرؔ احمد مغل کی صحبت میں مشق سخن جاری رکھی ۔ ظہورؔ کے کلام میں نایاب ردیفیں اور اعلیٰ خیال اس کی خاص پہچان ہیں۔ ظہور ؔمنہاس کے ہاں کئی ایسے اشعار ہیں جو آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو چکے ہیں۔ اس کے کلام میں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں جو اس بات کی امکان ہیں کہ وہ کس قدر باصلاحیت تخلیق کا رہیں۔

    ہزار حیف ہے کوفہ کی وادیوں تم پر

    حسینؓ آنے سے پہلے ہی جل گئی ہوتیں ۵۴

    میرؔ، کشمیراور میں خود بھی    

    درد کے مستند حوالے ہیں ۵۵

    یہ کیا سادہ دلی تھی وصل میں جو

    کلائی کی گھڑی کو روک رکھا ۵۲

    بیجھی تصویر بھی تو آنکھوں کی 

    یعنی آنکھیں دکھا رہی ہو مجھے ۵۷

    آصف ؔاسحاق (۰۴،ستمبر ۱۹۸۰ء)کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی سے ہے۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے ہونہار شاگردوں میں شمار ہونے والے آصف ؔاسحاق کے شعری ذوق کا پتا ان کا ہر ہر شعر دیتا ہے۔ایم ۔اے اسلامیات کرنے کے بعد پرائیویٹ امیدوار کے طور پر جامعہ آزاد کشمیرسے ایم اے اردوکیا اوراب علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھ رہے ہیں۔ آصف اؔسحاق بزم فکر وسخن پلندری کے نہایت فعال کارکن ہیں اور باقاعدگی سے ادبی نشستیں انعقاد پذیرکرواتے ہیں۔آصف ؔاسحاق کی شاعری بھی ان کے خوب صورت خیالات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔ بہت کم لکھتے ہیں لیکن جو بھی لکھتے ہیں وہ سب انتخاب لگتا ہے۔ آصفؔ اسحاق کے لیے یہ اعزاز بھی کیا کم ہے؟ کہ ظفر ؔاقبال نے ان کے ایک شعر پر ان کو اپنے کالم کے ذریعے داد دی۔ ۱۱ جنوری ۲۰۱۷ء کے کالم میں ظفرؔ اقبال نے لکھا۔

    ’’ آصف ؔاسحاق کا پلندری سے یہ خوب صورت شعر موصول ہوا۔ آپ بھی سنیئے 

    اب دکھائی نہیں دیتا کہ کہاںرکھا تھا

    لوٹ آنے کے لیے ایک نشاں رکھا تھا

    مطلب یہ کہ عمدہ شعر کہیں بھی اور کسی پر بھی اتر سکتا ہے۔  امید ہے موصوف اپنے کچھ اور اشعار بھی بھیجیں گے۔‘‘۵۸

    ظفر ؔاقبال کا اعتراف بلاشبہ آزاد کشمیر کے اس شاعر کے لیے باعث فخر ہے ۔ آصف اؔسحاق کے کلام سے چند مزید اشعار دیکھیں:

    اگر لوح و قلم آصفؔ مجھ تفویض ہو جاتے

    محبت کے قلم سے میں فقط تیری ثنا لکھتا ۵۹

    کوئی آواز مقتل سے نکل کر    

    صدائے دہر ہوتی جارہی ہے ۶۰

    اے مرے شاہ! ملاقات کے قابل ہو ں کہاں 

    مجھ کو جگما ہی کرو تم سردربار طلب ۶۱

    جاویدؔ سحر(۲۶، جون ۱۹۸۰ء) جن کا اصل نام جاوید اقبال ہے مقبوضہ کشمیر کے ضلع سوپور میں پیدا ہوئے۔ نوے کے عشرے میں والدین کے ساتھ ہجرت کا دکھ اٹھایا اور آزاد کشمیر کے ضلع عباس پور میں سکونت  اختیار کی ۔ جاویدؔ سحر کا ایک گوجری مجموعہ ’’گھر‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷ء میں شائع ہو چکا ہے جب کہ اردو شعری مجموعہ’’ دستک‘‘ زیر طبع ہے۔ جاویدؔ سحر نے اردو سے محبت کا ثبوت ایم اے اردو کر کے دیا ۔ جاوید کی شاعری بھی امکانات کی شاعری ہے۔ ان کے کلام میں سے چند اشعار دیکھیں:

    ہزار درپیش اب وجد اندگی پیارے

    اگر یہ درد نہ ہوتے تو میں مر گیا ہوتا ۶۲

    ان دنوںبے خطر ملو مجھ سے 

    ان دنوں پارسا نہیں ہوں میں ۶۳

    ہمارے ہاتھ کی ریکھا میں صرف ہجرت ہے

    ہمارے ساتھ سفر پر اگر گئے  تو گئے ۶۴

    احمد وقارؔ(۷ اکتوبر ، ۱۹۸۶ء) کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کے سرحدی گائوں لیسوا سے ہے۔ آپ کا پیدائشی نام وقار احمد میر ہے۔ لیکن ادبی حلقوں میں احمد وقارؔ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ احمد وقار ؔنے ابتدائی تعلیم لیسوا اور اٹھ مقام کے اداروں سے حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے معاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ آزادکشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے ایم ۔اے اردو کیا۔ احمد وقارؔ نے پی ایس سی کرنے کے بعد بہ طور لیکچرراپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اس وقت وہ گورنمنٹ ڈگری کالج شاردہ میں لیکچرر معاشیات خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ احمد وقارؔ نے اپنی فطری صلاحیتوں کی بدولت شعر وسخن سے بھی ناتا قائم رکھاہے۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھنے والے احمد وقارؔ نے شعرائے نیلم کا ایک انتخاب ۲۰۱۴ء میں شائع کیا۔

    احمد وقارؔ نے سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری میں بھی خود کو منوایا ہے۔ ان کی شاعری حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواریوں کے گرد گھومتی ہے جیسا کہ پروفیسر فرزانہ ناز رقم طراز ہیں:

    ’’سماجی و معاشرتی مسائل و ناہموار یاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ محبوب سے اظہار محبت اور بے التفاتی کو مزاح کی چاشنی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔‘‘ ۶۵

    احمد وقار ؔضلع نیلم کے اچھی شہرت کے حامل شاعر ہیں جن کا اوڑھنا، بچھونا ادب ہی ہے۔ گھر میں ایک ضخیم لائبریری اس بات کا ثبوت ہے۔ مشتاق احمد یوسفی سے عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ شاعری میں احمد فرازؔ، اقبالؔ ، فیضؔ، اور غالبؔ  ان کے پسندیدہ شعرا ہیں تاہم عصر حاضر کے نوجوانوں کا کلام بھی ان کے زیر مطالعہ رہتا ہے۔ احمد وقارؔ کے کلام میں سے چند اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔

    دیکھ لو موت تلک ساتھ نبھایا ہے وقارؔ

    بھری دنیا میں ترا غم ہی ہمارا نکلا ۶۶

     صحرا بھی چھن گئے ہیں سرابوں کے ساتھ ساتھ

    آنکھیں بھی لے گیا ہے وہ خوابوں کے ساتھ ساتھ ۶۷

    آب دینے کی ضرورت نہ رہی قاتل کو

    تیغِ ابرو کے لیے میرا لہو کافی ہے ۶۸

    پروفیسر اعجاز ؔنعمانی(۱۲،مارچ ۱۹۶۹ء) کا اصل نام اعجاز احمد ہے۔ شبلی نعمانی کی نسبت سے نعمانی کا لاحقہ لگا گر اعجاز نعمانی کہلائے۔ اعجاز ؔنعمانی آزاد کشمیرکے شعری منظر نامے میں نمایاں نام ہے۔ غزل سے عشق کی حد تک لگائوہے۔ اعجازؔ نعمانی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں چکار سے حاصل کی۔ اپنے خالہ زاد پروفیسر ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اکتساب فیض حاصل کیا اور ابتدائی عمر سے ہی شعر موزوں کہنے لگے۔ اعجازؔ نعمانی نے ایم اے اردو آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی سے کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس وقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں تدریسی فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اعجازؔ نعمانی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کے لیے مقالہ بھی لکھ رہے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ادبی ماحول کو اعجازؔ نعمانی نے خوب جلا بخشی ہے۔ آزاد کشمیر کی اہم ادبی تنظیم کشمیر لٹریری سوسائٹی جس کا موجود نام کشمیر لڑیری سرکل ہے کے بانی سیکرٹری ہیں اور تا حال اس عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔کشمیر لٹریری سرکل آزاد کشمیر کی ایک فعال تنظیم ہے جو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ۱۹۹۳ء سے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اکادمی ادیبات آف پاکستان کے آزادکشمیر میں فوکل پرسن کے طور پر بھی اعجاز ؔنعمانی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ۱۹۹۵ء سے ملکی سطح کے تمام بڑے رسائل و جرائد میں ان کا کلام باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اعجازؔ نعمانی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد کے مجلے ’’دومیل‘‘ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات بہم پہنچا رہے ہیں۔ جب کہ ان کے ادبی کالم ملکی سطح کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پروفیسر اعجاز ؔنعمانی جہاں ادب کے لیے اپنی خدمات سے بھی بھی گریزاں نظر نہیں آتے وہیں اپنے مجموعے کی اشاعت میں خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں۔آپ کا اولین شعری مجموعہ ’’کہے بغیر‘‘ کے نام سے اشاعت کے آخر مراحل میں ہے تا ہم آپ کا شعری انتخاب ’’اس گلی میں ہے بیل پھولو ں کی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۴ء میں اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ اعجازؔ نعمانی کے کلام سے ان کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

    چاہے چھلنی ہو یہ مشکیزہ کہ پانی جائے

    جبر والوں سے مگر ہار نہ مانی جائے ۶۹

    حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ

    دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ ۶۰

    میں کیسے زندہ و مردہ میں امتیاز کروں

    بنے ہیں قبروں پہ اعجازؔ گھر زیادہ تر ۷۱

    اعجازؔ نعمانی کی شاعری موجود ہ عہد میں ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی مانند ہے جو قاری کو فرحت اور تسکین کی سر شاری عطا کرتی ہے۔ایم یامینؔ کے مطابق: 

    ’’ان کی غزل میں گائوں کی اداسی، شام کے اسرار اور صبح کے نور کے بھیگے ہوئے پھولوں کی شبنمی تازگی باہم آمیخت ہو گئے ہیں۔‘‘۷۲

    شوزیب کاشرؔ(۱۱ نومبر، ۱۹۸۶ء) کا اصل نام شوزیب صادق ہے۔آپ کا تعلق وادی پر ل راولاکوٹ کے گائوں بھیکھ سے ہے۔ شوزیب کاشرؔجب  دسویں جماعت میں تھے تواس وقت انھوں نے پہلا شعر کہا۔

    شوزیب کاشر کا پہلا مجموعہ ۲۰۰۲ء میں ’’ میں نے پیار بیچ دیا‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس وقت شوزیب کاشر ؔ صرف ۱۵پندرہ برس کے تھے۔ ۲۰۰۴ء میں نیشنل چلڈرن ڈے پر اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں مذکور ہ مجموعے کے لیے کم سِن صاحب ِکتاب ہونے پر شوزیب کاشر ؔطلائی تغمے اور سند ِاعزاز کے حق دار ٹھہرے۔ حکومت پاکستان کے جانب سے یہ اعزاز پا کر ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے جس کا ثبوت ۲۰۰۶ء میں ’’نوائے خضر‘‘ کی اشاعت ہے۔ اس کے علاوہ شوزیب کاشر کے زیر طبع مجموعوں میں ’’مسیحائی‘‘ اور ’’مجھے راستے میں نہ چھوڑنا‘‘جلد اشاعت پذیر ہوجائیں گے۔

    شوزیب کاشرؔ غزل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں نعت نگاری کے حوالے سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو کلام کے ساتھ ساتھ آواز کی دولت سے بھی مالا مال کیا ہے جب ترنم سے پڑھتے ہیں تو محفل میں سکوت طاری ہو جاتا ہے اور محفل زعفران زر ہو جاتی ہے۔شوزیب کاشرؔ غزل کے داخلی پہلوئوں کے ساتھ ساتھ اس کے خارج پر بھی دھیان دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی سے آشنائی نے ان کی شاعری میں مزید نکھار پیدا کر دیا ہے۔شوزیب کا شرؔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ ان کا کلام محافل کی زینت بن چکا ہے اور ان کے بنا کوئی ادبی محفل ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ شوزیب کاشرؔ کے کلام میں سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

    کن کہوں اور کم ہو جائیں

    آدمی ہو کوئی خدا ہو ں کیا ۷۳

    مرے نبی ﷺ نے دی سدا دشمن جان کو بھی اماں

    بدلے کی آگ پالنا میری سرشت میں نہیں ۷۴

    زندگی بھوک کے ماروں کی نہ پوچھو کاشرؔ

    غم کی سولی پہ یہ ہر روز لٹک جاتی ہے ۷۵

    فاروق حسین صابرؔ(۱۰ جون ، ۱۹۶۵ء) کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔ ایم۔ اے عربی اور ایم اے اسلامیا ت تک کی تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ فاروق صابرؔؔؔ چوں کہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے بن جونسہ کی جامع مسجد میں خطیب کی ذمہ داری بھی آپ نبھار ہے ہیں۔ آپ کے کلام میں معاشرے کے حساس پہلوئوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کسی محفل میں ہوں تو ان کا ترنم محفل میں ایک سحر کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کا مجموعہ تا حال شائع نہیں ہو سکا تاہم وہ کئی رسائل اور شعری انتخابات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ فاروق صابرؔؔ کے کلام کے نمونے دیکھیں:

    دیواریں ملی ہیں ہر گھی کی پھر بھی ہیں جدا دل آپس میں

    اس شہر میں ہر اک تنہا ہے یوں لوگ ہزاروں رہتے ہیں ۷۶

    امیر شہر نے قبضہ کیا سب کے وسائل پر 

    خبطیب اپنی خطابت میں اس کا حق بتاتے ہیں ۷۷

    غلامی سے نکلتے ہیں زمانے ہیں وہی صابرؔؔؔ

    شعور و آگہی کے جو دیے پہم جلاتے ہیں ۷۸

    حوالہ جات

    ۱۔  وارث سرہندی(مرتبہ)،علمی اردو لغت،علمی کتب خانہ،لاہور،س،ن،ص۷۴۸۔

    ۲۔  عبدالحفیظ بلیاوی،ابوالفضل،مولانا،مصباح اللغات،ادارۃالعلم،نوشہرہ،جون۲۰۱۴ء، ص ۵۹۸۔

    ۳۔ حامد حسن قادری،تاریخ و تنقید،لکشمی نارائن اگر وال پبلشرز،آگرہ،طبع دوم ۱۹۴۷ء، ص۱۰۱۔

    ۴۔ رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر ،اصنافِ ادب،سنگِ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۱ء، ص۳۱۔

    ۵۔ محمود شیرانی ،حافظ،مقالاتِ محمود شیرانی،مظہر محمود شیرانی(مرتبہ)،مجلس ترقیٔ ادب،لاہور،۱۹۶۹ء،ص۴۸۔

    ۶۔ پریم ناتھ بزاز،پنڈت،تاریخِ جدو جہد آزادیٔ کشمیر،عبدالحمید نظامی(مترجم)،ویری ناگ پبلشرز،میرپور،۱۹۹۲ء، ص۲۲۹۔

    ۷۔ حبیب کیفوی،کشمیر میں اردو،اردو سائنس بورڈ ،لاہور،۱۹۷۹ء،ص۱۷۔

    ۸۔ محمد صغیر آسی،پروفیسر،شعرائے کشمیر،الفضل کتاب گھر،میرپور،اپریل ۱۹۹۳ء، ص۱۰۴۔

    ۹۔ ایضاً، ص۱۰۵۔

    ۱۰۔ ایضاً، ص۱۰۶۔

    ۱۱۔ ایضاً،ص ۳۷۲۔

    ۱۲۔ ایضاً،ص ۳۷۴۔

    ۱۳۔ ایضاً۔

    ۱۴۔ ایضاً۔

    ۱۵۔ ایضاً۔

    ۱۶۔ ایضاً،ص ۱۸۱۔

    ۱۷۔ مقالہ نگار کا رانا غلام سرور سے انٹر ویو ،بہ ذریعہ ٹیلی فون ، ۲۱،نومبر،۲۰۱۶ء،

    ۱۸۔ افتخار مغل(دیباچہ) قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،س،ن، ص۱۵۔

    ۱۹۔ قدرت اللہ شہاب(فلیپ) ،قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،۔

    ۲۰۔ شہباز گردیزی، اجلی مٹی(انتخاب)،نکس پبلشرز،میرپور،مارچ ۲۰۱۵ء، ص۱۶۔

    ۲۱۔ ایضاً۔

    ۲۲۔ ایضاً،ص۱۷۔

    ۲۳۔ ایضاً،ص۱۸۔

    ۲۴۔ ایضاً،ص ۱۹۔

    ۲۵۔  ایضاً،ص ۲۶۔

    ۲۶۔ جمیل جالبی،ڈاکٹر(دیباچہ)، صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات،مظفر آباد، س۔ن، ص ۴۔

    ۲۷۔ جگن ناتھ آزاد(دیباچہ) ،صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد،س،ن، ص ۵۔

    ۲۸۔ فرمان فتح پوری،ڈاکٹر(پیش لفظ)، صلیبوں کا شہر ، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد، ص ۷۔

    ۲۹۔ لیاقت شعلان کا  مقالہ نگار کے نام خط، بہ تاریخ ۲۵،نومبر، ۲۰۱۶ء۔

    ۳۰۔ ایضاً۔

    ۳۱۔ ایضاً۔

    ۳۲۔ ایضاً۔

    ۳۳۔ جواد جعفری(پیش لفظ) ،احتجاج، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،مظفر آباد، جون ۱۹۹۴ء، ص۵۔

    ۳۴۔ سحر انصاری، ایک کہنہ مشق شاعر(دیباچہ)، ہم سخن، ناز مظفر آبادی، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۱۵ء، ص۱۷۔

    ۳۵۔ محمد اظہار الحق، شاعرِ خوش امکان(دیباچہ)، خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء، ص۱۷۔

    ۳۶۔ وزیر آغا، ڈاکٹر (فلیپ) خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء۔

    ۳۷۔ افتخار مغل ، ڈاکٹر ، پروفیسر (فلیپ) ، خواب کون دیکھے گا ، سید شہباز گردیزی ، طلوع پبلی کیشنز ، باغ ، دسمبر ۲۰۰۸ء ۔

    ۳۸۔ ظفر اقبال ، شہسوار سخن(دیباچہ) ، ہمیشہ ،احمد عطاء اللہ ،ص ۱۷۔

    ۳۹۔ شہباز گردیزی ، سید (دیباچہ)، جھیل کا چاند، الطاف عاطف ، مہلب پبلی کیشنز ہائوس ، پسنی، ۲۰۱۲ء ۔ص۱۵۔

    ۴۰۔ زاہد کلیم (دیباچہ) ،لمحات نشتر ، نیلم پبلی کیشنز ، مظفرآباد ، نومبر ۲۰۰۲ء ، ص ۱۶۔

    ۴۱۔ مقالہ نگار کا زاہد کلیم سے انٹرویو ، ۱۲،نومبر ۲۰۱۶ء ، بہ مقام ریڈیو سٹیشن مظفرآباد۔

    ۴۲۔ مقصود جعفری ، ڈاکٹر ،ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خوا ب سے (دیباچہ) ،نئے اُجالے ہیں خواب میرے ،   اکرم سہیل ، جمہوری پبلی کیشنز ، لاہور ،۲۰۱۶ء ، ص ۱۱۔

    ۴۳۔ عبدالعلیم صدیقی، پروفیسر (دیباچہ) میں حرف حرف سمیٹوں ، شفیق راجا، طلو ع پبلی کیشنز ،باغ ،ستمبر ۲۰۰۳ء ، ص ۹۔

    ۴۴۔ ظہیر احمد مغل، احسن کا پہلا قدم (دیباچہ) ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، احسن سلیمان ، حویلی پبلیشنگ ہائوس ، کہوٹہ، ستمبر ۲۰۱۶ء، ص ۱۵۔

    ۴۵۔ توفیق صدیقی ،رانا ، احسن کا احسن قدم ، مشمولہ روزنامہ جناح ، اسلام آباد ، ۱۹،جنوری ۲۰۱۷ء، 

    ۴۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۳۷۔

    ۴۷۔ ایضاً ، ص ۱۳۸۔

    ۴۸۔ ایضاً ، ص ۱۳۹۔

    ۴۹۔ مقالہ نگار کا شوکت اقبال سے انٹر ویو،بہ تاریخ،۱۶ دسمبر۲۰۱۶ء،بہ مقا م چھتر دومیل۔

    ۵۰۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۲۱ ستمبر ۲۰۱۶ء۔

    ۵۱۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجد کا خط بہ نام مقالہ نگار،۱۳ جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۲۔ ایضاً۔

    ۵۳۔ ایضاً۔

    ۵۴۔ ظہور منہاس کا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۱ جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۵۔ ایضاً۔

    ۵۶۔ ایضاً۔

    ۵۷۔ ایضاً۔

    ۵۸۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۱۱جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۹۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۵۵۔

    ۶۰۔ ایضاً،ص۵۶۔

    ۶۱۔ ایضاً،ص۵۷۔

    ۶۲۔ ایضاً،ص۷۷۔

    ۶۳۔ جاوید سحرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۰۳جولائی۲۰۱۷ء۔

    ۶۴۔ ایضاً۔

    ۶۵۔ فرزانہ ناز،پروفیسر، آزاد کشمیر میں طنز و مزاح ،علی پرنٹرز،میرپور،۲۰۱۴ء،ص۲۷۳۔

    ۶۶۔ احمد وقار(مرتبہ)،کہکشاں، نکس پبلی کیشنز،میرپور،۲۰۱۴،ص۳۴۔

    ۶۷۔ ایضاً،ص۳۵۔

    ۶۸۔ ایضاً،ص۳۷۔

    ۶۹۔ اعجاز نعمانی(مرتبہ)،اس گلی میںہے بیل پھولوں کی،الرزاق پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۵ء،ص۱۰۵۔

    ۷۰۔ ایضاً،ص۱۰۷۔

    ۷۱۔ ایضاً،ص۱۱۴۔

    ۷۲۔ ایضاً،ص۱۱۷۔

    ۷۳۔ شوزیب کاشرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۳اکتوبر۲۰۱۶ء۔

    ۷۴۔ ایضاً۔

    ۷۵۔ ایضاً۔

    ۷۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۵۶۔

    ۷۷۔ ایضاً،ص۱۵۸۔

    ۷۸۔ ایضاً،ص ۱۵۹

    .

  • عبدالستار ایدھی: فرد سے ادارے تک کا سفر

    عبدالستار ایدھی: فرد سے ادارے تک کا سفر

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    پاکستان کی سماجی اور خدمت خلق کے شعبے میں چند ہی نام ایسے ہیں جو کسی عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک فرد تھے بلکہ ایک رویہ، ایک فکر اور ایک فلاحی تحریک کا نام بھی تھے۔

    ایدھی کا تعلق برطانوی ہندوستان کے گجرات کے میمن گھرانے سے تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں تجارت، مذہب اور خدمتِ خلق کا ایک مخصوص امتزاج میمن برادری کی تمیز سمجھا جاتا تھا۔ تقسیمِ ہند نے لاکھوں لوگوں کو اجاڑ دیا۔ اسی اضطراب میں ایک نوجوان ایدھی بھی کراچی پہنچے۔ ہجرت کا کرب اور انسانوں کو بے یار و مددگار دیکھ کر ان کے اندر وہ فلاحی احساس بیدار ہوا جس نے بعد میں پورے ملک کو بدل کر رکھ دیا۔

    اس پس منظر سے پتہ چلتا ہے کہ ایدھی کی خدمتِ خلق کسی سرکاری منصب یا مذہبی ادارے کی پیداوار نہیں تھی۔ یہ ایک ذاتی تجربے سے جنم لینے والا انسانی درد تھا۔

    1957کی ایشیائی فلو کی وبا ایدھی کے لیے فیصلہ کن موڑ تھی۔ پاکستان کے پاس ریاستی سطح پر اتنے وسائل نہ تھے کہ اس ہنگامی صورت حال کو سنبھال سکے۔ ایسے میں ایک عام انسان نے سڑک پر بیٹھ کر لوگوں کی مدد شروع کی۔ یہی وہ عمل تھا جس نے پہلی ایمبولینس، پہلے ڈسپنسری اور پھر بڑے فلاحی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔

    ایدھی کا اندازِ قیادت روایتی نہیں تھا۔ وہ خود کفالت، سادگی اور جواب دہی پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے دفتر، گاڑی یا پروٹوکول نہیں اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شفافیت پر کبھی انگلی نہیں اٹھی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ بات غیر معمولی ہے کہ ایک اتنا بڑا ادارہ مکمل طور پر عوامی عطیات سے چلتا ہو اور اس کے کارناموں کی سچائی پر کوئی اختلاف نہ ہو۔

    آج ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس چلا رہی ہے۔ یہ وہ شناخت ہے جو کئی دہائیوں پر محیط مستقل مزاجی کا ثمر ہے۔

    ایدھی کے فلاحی کام کو بلقیس ایدھی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے بے سہارا بچوں، نومولود کی گود لینے کے نظام، خواتین کے شیلٹرز اور زچگی مراکز میں وہ کردار ادا کیا جس نے اس تحریک کو انسانی سطح پر مضبوط بنایا۔

    عبدالستار ایدھی: فرد سے ادارے تک کا سفر

    پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ناجائز بچے مار دیے جاتے تھے، وہاں بلقیس ایدھی نے "جھولا” رکھ کر ایک نئی روایت قائم کی یعنی زندگی کو بچانے کی روایت۔ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست نے ہمیشہ فلاحی کاموں کے لیے نجی شعبے کا سہارا لیا۔ لیکن ایدھی نے ریاست کا متبادل نہیں، ریاست کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کے مخالف تھے مگر مذہب دشمن نہیں تھے۔ ان کا ایمان عمل تھا، قول نہیں۔ اسی اصولی موقف نے انہیں معاشرے میں ایک اخلاقی اتھارٹی بنا دیا۔

    ایدھی کی کامیابی کا راز "غیر سیاسی خدمت” تھا۔ انہوں نے کسی جماعت، فرقے یا طبقے کو ترجیح نہیں دی۔ یہی آفاقیت انہیں دوسرے فلاحی کارکنوں سے ممتاز کرتی ہے۔

    ایدھی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امدادی کام کیے۔ ایتھوپیا کے قحط زدہ علاقے ہوں یا امریکہ میں طوفانِ کیٹرینا، انہوں نے خدمت کی سرحد کبھی پاکستان تک محدود نہیں رکھی۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر انہیں متعدد اعزازات ملے۔

    نوبیل انعام نہ ملنا ایک الگ بحث ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقام اس سے بڑا تھا۔ انہیں دنیا نے ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھا جو کسی نظریے، کسی قومیت، کسی مذہب کی قید میں نہیں تھا۔

    ایدھی صرف خدمت گزارک ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ضدی، جرات مند اور اصول پسند شخص بھی تھے۔ وہ کرپٹ مذہبی تنظیموں، مسلکی اداروں اور سیاسی مفادات پر مبنی فلاحی پراجیکٹس کے کھلے ناقد تھے۔

    ان کا لباس، ان کی جھونپڑی، ان کی دو جوڑی کپڑے یہ سب علامتیں تھیں کہ فلاحی کام دولت سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔

    ایدھی کے انتقال کے بعد یہ سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ کیا ایک ایسی شخصیت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا ایدھی فاؤنڈیشن اپنی اصل روح برقرار رکھ سکتی ہے؟

    تاریخی تجربے میں یہ حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ بڑے ادارے اکثر بانی کے بعد کمزور ہوتے ہیں۔ تاہم ایدھی فاؤنڈیشن تاحال فعال ہے، مگر اس کے سامنے معاشی اور سماجی چیلنج موجود ہیں۔

    ایدھی کے انتقال نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی معاشرے میں ان کے درجے کی کوئی متبادل اخلاقی قیادت موجود نہیں۔عبدالستار ایدھی نے پاکستانی معاشرے کو دکھایا کہ خدمت حکومت کی محتاج نہیں ہوتی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک فرد نیت اور مسلسل جدوجہد سے پورا نظام بدل سکتا ہے۔ تاریخی، اخلاقی اور سماجی سطح پر ایدھی ایک ایسا باب ہیں جسے پاکستان کی اجتماعی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا ورثہ صرف ادارے کی صورت نہیں بلکہ ایک فکری پیغام کی شکل میں موجود ہے۔ انسان کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ اللہ کریم عبدالستار ایدھی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

  • ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    راولپنڈی( نمائندہ خصوصی) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع راولپنڈی نے ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ منعقد کیا یہ شاندار مقابلہ طلبہ و طالبات کے اندر اعتماد پیدا کرنے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور دینی و اخلاقی تربیت کو فروغ دینے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ضلع بھر کے ساٹھ سے زائد سکولز نے بھر پور شرکت کی شرکت بلاشبہ اس کامیاب انتظام پر اپسکا پوری طرح مبارکباد کی مستحق ہے۔

    ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی میں نعتیہ مقابلہ

    ایسے پروگرام نہ صرف بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ فیصل جنجوعہ (کووارڈینیٹر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات) ہمیں مل کر اس طرح کے پروگراموں کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں بہتر تربیت اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوں۔ پروگرام کے آرگنائزر ملک حفیظ الرحمان، سردار گل زبیر خان ،اویس احمد، چوھدری ارشد صاحب کو کامیاب ایونٹ منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں

  • گجرات پام ٹری کالجیٹ سکینڈل

    گجرات پام ٹری کالجیٹ سکینڈل

    گجرات پام ٹری کالجیٹ سکینڈل

    Dubai Naama

    کنیڈا میں مقیم پاکستانی پروفیسر رضوان خالد چوھدری سے پرانی یاد اللہ ہے۔ چند سال قبل تک ہم میسنجر اور وٹس ایپ پر باقاعدہ رابطے میں تھے، جب وہ گجرات میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ لانچ کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ انہی دنوں انہوں نے میری ایک کتاب "خدا کی سائنسی پہچان” کو شائع کرنے کے لیئے 50 ہزار روپے بھیجنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ مجھ سے ان کا نمبر مس پلیس ہونے کی وجہ سے ہمارا رابطہ کٹ گیا، اور میں بھی ان کے فیس بک کی تحریریں پڑھنے تک محدود ہو گیا۔ اس کو حسن اتفاق کہا جائے کہ تب میں ان سے میسنجر پر بھی رابطہ نہ کر سکا کہ ان سے رابطہ نمبر دوبارہ مانگ لیتا۔

    البتہ ان کی فیس بک پر شائع ہونے والی تحریروں کے ذریعے پتہ چلتا رہا کہ انہوں نے گجرات میں "پام ٹری” تعلیمی ادارے کی واقعی بنیاد رکھ دی، ایک بلڈنگ بھی بن گئی، ہاسٹل بھی بن گیا، اور جہاں طلباء و طالبات کو مفت دینی اور سائنسی تعلیم بھی دی جانے لگی۔ پھر ایک وہ وقت آیا کہ انہی کی تحریروں سے یہ پتہ چلا کہ ان کے اس تعلیمی پروگرام میں کچھ گروپس کی طرف سے روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مکرمی رضوان خالد چوھدری صاحب کے خلاف کچھ جھوٹے (اور خطرناک) مقدمات درج ہوئے اور کچھ طلباء اور والدین کی طرف سے ادارے کے خلاف شکایات بھی آنے لگیں۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف رضوان خالد چوھدری صاحب اور ان کا حامی گروپ ہے اور دوسری طرف اس کے مخالفین ہیں جن کی واضح شکایات سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ میری رضوان خالد چوھدری صاحب سے کبھی روبرو ملاقات نہیں ہوئی مگر بلاواسطہ طور پر میں ان کے بارے میں کافی کچھ جانتا ہوں۔ بلکہ ہم دونوں کے درمیان سوشل میڈیا کے کچھ مشترکہ دوست بھی ہیں جن کی طرف سے رضوان خالد چوھدری صاحب کے بارے کچھ نئے اور حیرت انگیز انکشافات آنا شروع ہو گئے ہیں جن میں امریکہ سے بشری سلمان، متحدہ عرب امارات سے قاری محمد حنیف ڈار اور پاکستان سے ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب وغیرہ سرفہرست ہیں۔ شائد میں اس متنازعہ موضوع پر ہرگز نہ لکھتا مگر چونکہ میں ایک عرصہ سے یہ دو طرفہ تماشہ دیکھنے کا عینی شاہد ہوں تو ضروری سمجھا کہ اپنے تئیں میں قارئین کو حقائق سے آگاہ کر دوں۔

    امریکہ سے محترمہ بشری سلمان نے تو اپنی ایک تحریر میں رضوان خالد صاحب کے خلاف سریع الزامات لگائے ہیں جن میں وہ کہتی ہیں کہ رضوان خالد صاحب نے انہیں بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیا، وہ مفت طلباء کو آن لائن کلاسیں دیتی رہیں، کالجیٹ بلڈنگ کی تعمیر میں ناقابل واپسی مالی مدد بھی کی اور قرض حسنہ بھی دیا جو اب وہ واپس نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ انہیں بلاک کر چکے ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ 2021 اور 2022 میں امریکہ سے آ کر ادارے کا وزٹ کیا تو انہوں نے وہاں بہت زیادہ "بدنظمی” دیکھی۔ یہاں ان کا موقف یہ ہے کہ خالد چوھدری صاحب وہاں موجود سٹاف اور میل و فی میل طلباء کو "کینیڈا ایکسچینج پروگرام” کے زریعے کنیڈا لے جانے کا جھانسا دے کر ان کا استعصال کر رہے ہیں۔ اس جگہ قاری محمد حنیف ڈار صاحب جو پہلے پہل خالد چوھدری صاحب کے معاون کار تھے، ایک کمنٹ میں لکھتے ہیں، "وہ جلد انجام کو پہنچیں گے۔” جبکہ ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب پام ٹری قضیہ کے بارے لکھتے ہیں، "میں ہمیشہ سے دینی اور دنیوی تعلیم کے امتزاج کا حامی رہا ہوں اور مقدور بھر کوشاں بھی. یہ پروگرام جب سامنے آیا تو بہت اچھا لگا. شروع میں ایک بچہ بھیجا تھا لیکن تعلیمی، انتظامی اور ماحولیاتی نظام حسب توقع نہ ہونے کے باعث اسے واپس بلا لیا تاہم یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سارے امور درست کر لیں گے ابھی ابتدائی مراحل ہیں. مجھے اب پتہ چلا ہے کہ یہ کارپوریشن ہے اور کچھ لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے. میرے خیال میں یہ فیس یا ڈونیشنز پر مبنی ادارہ تھا. اگرچہ میرے پاس ان کے خلاف پہلے کوئی ثبوت تھا نہ اب ہے تاہم اپنے طویل تعلیمی اور انتظامی تجربے کی بنا پر میں نے مارچ 2023 میں انہیں ایک خط لکھا جس میں کچھ خدشات کا اظہار کیا تھا، اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو ہمہ وجوہ الگ کر لیا تھا، البتہ اگر کوئی آپ سے رابطہ کرے تو علیک سلیک نہ کرنا بد اخلاقی ہے۔”

    میں خالد رضوان چوھدری صاحب کی تحریریں آج بھی بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ جہاں تک میں انہیں جان سکا ہوں وہ ایک نامور مسلم محقق اور سکالر ہیں اور "خدمت خلق” کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ان کی تقریبا ہر تحریر میں قرآن پاک کی آیات کا حوالہ ہوتا ہے۔ وہ اسلام کو جدید زبان میں سمجھنے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آغاز میں جب شکایت کنندہ محترمہ بشری سلمان پوڈکاسٹ کیا کرتی تھی تو اس میں کبھی کبھار میرا تبصرہ بھی شامل ہوا کرتا تھا۔ لیکن سچی بات ہے جب سے ان کے خلاف شکایت کا یہ پلندہ سامنے آیا تو بہت زیادہ افسوس ہوا ہے۔ کیا پاکستان میں جدید تعلیم کے ساتھ اسلامی عقائد اور تعلیمات کو ساتھ لے کر چلنے کا یہی مستقبل ہے؟

    خاص طور پر علمی دنیا کے خاصان کے علاوہ یہ بیانیہ جاری کرنے کی اس لیئے بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ میرے کچھ سوشل میڈیا دوست پام ٹری پراجیکٹ سے براہ راست وابستہ ہیں، کچھ وہاں ٹیچرز ہیں، کچھ طلباء ہیں اور کچھ نے انوسٹمنٹ کر رکھی ہے، جو مجھ سے بھی خالد چوھدری صاحب کے بارے مشورہ لیتے رہے ہیں۔ اس ادارے پر شروع سے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے کہ یہ اتنا سارا بجٹ کہاں سے آ رہا ہے، اور اس ادارے کے بانی و سربراہ خالد رضوان چوہدری صاحب خود کو نمایاں (سیاسی طور پر) کیوں کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے ان کے کیا مقاصد ہیں؟

    اس ادارے سے وابستہ افراد کو احتیاط کی ضرورت تو ہے ہی، مگر اب طلباء اور والدین کو بھی چھان بھٹک کی سخت ضرورت پیش آن پڑی ہے۔ ہماری قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں ہر میدان میں مسائل تو ہیں ہی، مگر جب اچھے اور نیک کاموں کو بھی "متنازعہ” بنایا جاتا ہے تو اس کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ جب تعلیم ہی متنازعہ ہو جائے تو علم کا فروغ مشکوک ہو جاتا ہے۔ ہم نجانے حقیقت اور تشکیک پسندی میں فرق کرنا کب سمجھیں گے؟ جو بھی ہو ہمیں تعلیم کے فروغ سے پیچھے نہیں ہٹنا چایئے!

    Title Image by Zdeněk Tobiáš from Pixabay

  • مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ تقریب نتائج

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ تقریب نتائج

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ تقریب نتائج

    لالا موسیٰ (پریس ریلیز) مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ کیمپس کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے موقع پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں تقسیم انعامات کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب کے مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ کووارڈینیٹر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات تھے۔

     فیصل جنجوعہ کووارڈینیٹر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ضلع گجرات

    تقریب میں محترمہ عالیہ مبین اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر نے خصوصی شرکت کی جبکہ سابق طلباء و طالبات سمیت دیگر اساتذہ کرام، سٹاف و عملہ، طلبہ و طالبات اور والدین نے کثیر تعداد موجود تھی

    مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ذہین اور قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال نئی نسل قومی امنگوں اور امیدوں کا مرکز و محور ہے اور وطن عزیز کی ترقی کے لئے بچوں کی سائنسی بنیادوں پر تعلیم و تحقیق نہایت اہم اور ناگزیر ہے کیونکہ دنیا میں انہی قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کیا اور اعلیٰ تعلیم ہی دنیا میں بقا اور عزت و عظمت کا واحد راستہ ہے۔

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ تقریب نتائج

    محترمہ عالیہ مبین ایجوکیشن آفیسر نے تعلیم کی اہمیت، والدین کے کردار، اور جدید تعلیمی ضروریات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تعلیم کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور اسکول کے اساتذہ و پرنسپل سائرہ مظفر کی بہترین تدریسی خدمات کو خوب سراہا اور اسکول کے ساتھ تعاون کا یقین دلایا۔
    جبکہ محترمہ ایمان گولڈ میڈلسٹ سافٹویئر انجنیئر فارغ التحصیل اسکول نےتعلیمی وژن اور مستقبل کے منصوبوں پر بات کی۔ اور اپنے اساتذہ و پرنسپل محترمہ سائرہ مظفر کو خراج تحسین پیش کیا

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ

    جبکہ پرنسپل محترمہ سائرہ مظفر نےکہا کہ تعلیم کے فروغ کیلئے ہمہ وقت کوششوں کو وژن بنا کر اس شعبے کو اختیار کیا ہے کیونکہ ملک و قوم کی خدمت کا اس سے بڑھ کر کوئی اور طریقہ ممکن نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر تمام شعبوں کے لئے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد براہ راست تعلیم کے ذریعے ہی تیار کیے جاتے ہیں۔

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ

    پرنسپل سکول ھذا کا مزید کہنا تھا تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ہے اور اپنی قوم کے ہر بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا مشن قومی مشن ہے اور اس پر پورے جوش و جذبہ سے گامزن رہیں گے۔

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ

    تقریب کے مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ نے اسکول انتظامیہ کی کاوشوں کو زبردست سراہا اور انہیں پروقار تقریب کے اہتمام پر خراج تحسین پیش کیا۔

    اس موقع پر سکول ھذا پرنسپل سائرہ مظفر کی جانب سے مہمان خصوصی فیصل جنجوعہ اور محترمہ عالیہ مبین اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو یادگاری شیلڈ بھی دی گئی۔
    اختتام پر محترمہ سائرہ مظفر نے مہمانوں اور والدین کا شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ شرکاء نے تقریب کو یادگار اور کامیاب قرار دیا۔

    مسلم ہینڈز ماڈل سکول لالہ موسیٰ
  • عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو

    مبصر
    (مقبول ذکی مقبول بھکر)

    عاصم بخاری کا غالب تعارف اگرچہ یہی ہے کہ انھوں نے صرف اخلاقی و اصلاحی ، معاشی و معاشرتی اور سماجی پہلووں کو موضوع شعر بنایا ہے۔ جب کہ عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم گوشہ جسے توصیف ِ جمال کا نام دوں تو زیادہ مناسب ہو گا۔وہ قارئین ِ شعر و ادب کی نظروں سے اوجھل رہا۔اس کے مختلف پہلو وں پر بات مقصود ہے۔
    یہ بخاری صاحب کا وہ تازہ کلام ہے جو کہ گلزار احمد نوشی صاحب(چیف ایڈیٹر ، روز نامہ "ٹھنڈی آگ”۔گجرات) صاحب کی علم دوستی اور ادب نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کہ قطعات کی صورت تواتر سے ایک مدت سے روز نامہ” ٹھنڈی آگ” گجرات میں شائع ہوتا رہتا ہے۔

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو
    عاصم بخاری

    عاصم بخاری کے فن ، شخصیت اور ان کی شاعری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ وہ ایک ایسی شخصیت بھی ہیں جن کے سینے میں بھی دھڑکتا اور تڑپتا دل موجود ہے۔ حساسیت شاعر کی صفت ِ اول ہوا کرتی ہے۔حسن اور فطرت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکنا شاعر کی تعریف میں شامل ہے۔
    عاصم بخاری کے فطرت سے متاثر ہوتے اشعار سے اپنے موضوع کو چھیڑتے ہیں

    عاصم محبتوں کے قبیلے کا اصول
    ہوتی نہیں ہے کوئی کبھی ذات چاند کی

    اپنے چمکتے چہرے سے زلفیں ہٹا بھی دو
    واضح کرو زمیں پہ علامات چاند کی

    عاصم بخاری کا تصور ِ محبوب بھی ولی دکنی کے جیسا ہی ہے۔کوئی ماورائی کردار نہیں بلکہ گوشت پوست کا انسان ہی ہے ۔عام معاشرے کا چلتا پھرتا اور بولتا چالتا کردار ہے۔
    قطعہ دیکھیۓ

    ہر ادا دل ربا ، تری قاتل
    تیرا دیوانہ ہو گیا ہوں میں
    لاکھوں دیکھی ہیں پر ،کشش لیکن
    تیری آنکھوں میں کھو ، گیا ہوں میں

    اس کے ساتھ ساتھ انہیں حسن کی ناپائیداری کا احساس بھی جاں گزیں ہے۔عبرت ناک اور سبق آموز قطعہ دیکھیئے۔

    یہ حسیں مہ جبین ، بھی عاصم
    دائمی نیند سو ، ہی جائیں گے
    ایک دن دودھیا ، بدن یہ بھی
    خاک میں خاک ہو ہی جائیں گے

    عاصم بخاری کے ہاں بھی ہمیں جمال پرستی بھی کہیں کہیں ملتی ہے اس سلسلہ ء جمال دوستی میں بھی ولی کے پیرو دکھائی دیتے ہیں۔حسن پرستی ان کی شاعری میں بہ درجہ ء اتم ملتی ہے۔قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔

    ہر ادا ، دل ربا ، تری قاتل
    تیرا دیوانہ ہو ، گیا ہوں میں
    لاکھوں دیکھی ہیں پر کشش لیکن
    تیری آنکھوں میں کھو گیا ہوں
    میں

    عاصم بخاری کی شاعری میں توصیف جمال کا پہلو
    Image by Sofia Iivarinen from Pixabay

    عاصم بخاری کے ہاں حسن پرستی میں پاکیزگی ملتی ہے ۔ہر حسین کی ہر ادا ان کے دل کو لبھاتی دکھائی دیتی ہے
    ایک اور قطعہ اِسی مزاج کا
    غماز ملاحظہ ہو۔

    دل سنبھالے سے بھی سنبھلتا کب
    چشم ِ مخمور وہ ، نہیں دیکھی
    تِل ہی رخسار کے ، فقط دیکھے
    تو نے وہ آنکھ جو ، نہیں دیکھی

    عاصم بخاری کے ہاں حب ِ جمال اور توصیف بڑے دبنگ انداز میں ملتی ہے قدرتی مناظر میں دریا کنارے محبوب کا سراپا کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں
    عاصم بخاری محبوب کے حسن و جمال میں سے آنکھوں سے بہ طور خاص متاثر دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ ان کا ذکر ان کے ہاں مختلف زاویوں سے اور بے ساختہ ملتا ہے
    قطعہ دیکھیۓ
    شوخ تیری ، شرارتی آنکھیں
    دل کو بھَاتی بجھارتی آنکھیں
    حسن پہلے بھی کم ، نہیں تیرا
    اور اِس کو نکھارتی ،آنکھیں

    محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پیشانی کا تذکرہ کس خوب صورت اور منفرد الفاظ میں کرتے ہیں
    قطعہ ملاحظہ ہو

    یوں ہی پڑھتے رہے ، کتابوں میں
    معنی اِس لفظ کے ، مرے بھائی
    اس کی پیشانی جب سے دیکھی ہے
    "مَہ جبیں ” لفظ کی ، سمجھ آئی

    محبوب کے رخسار کے تِل کا نقشہ اکثر شعرا نے کھینچا ہے مگر اس موضوع کی تصویر کشی اور ندرت عاصم بخاری کے لفظوں میں اپنی مثال آپ ہے۔
    قطعہ پیش ِ خدمت ہے
    مختلف پیراۓ میں اشعار دیکھیۓ

    تِل کیا دیکھا کسی رخسار کا
    یاد تیرے ہونٹ کا ، تِل آ گیا

    اِسی مضمون کو ایک اور زاویے سے کس کامیابی کے ساتھ باندھتے دکھائی دیتے ہیں۔
    شعر دیکھیۓ
    ہونٹ کے تِل۔۔۔۔ کو کس خوبصورتی سے باندھا گیا ہے

    جان ِ جاں ہر اک ادا ، قاتل تری
    ویسے تھوڑی تجھ پہ یہ دل آ گیا
    تِل کیا ، دیکھا کسی ، رخسار کا
    یاد تیرے ہونٹ کا ” تِل "آ گیا

    اِسی بات کے بیان کیا باکمال اور اچھوتے انداز میں ملاحظہ ہو

    تم نے رخسار کے ہی دیکھے ہیں
    ہونٹ کا تِل” ابھی، نہیں دیکھا

    آخر میں عاصم بخاری کی فطری و قدرتی مناظر اور محبوب کے حسن و جمال کی غمازی کرتی ایک خوب صورت غزل کے اشعار کے ساتھ اجازت

    فردوس کی خوشبو ہے کہ جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور کھلے گیسو تمہارے

    بے تاب نہیں چاند فقط دید کی خاطر
    جھک جھک کے تجھے تکتے ہیں افلاک کے تارے

    اے حسن کی دیوی تری تعظیم کی خاطر
    دریا کی ہر اک لہر قدم چومے تمہارے

    قاتل ہیں مری جان تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ابرو کے اشارے

    اس دل نے تو ہر حال یہی ٹھان ہی لی ہے
    جینا ہے تو جینا ہے فقط تیرے سہارے

    دل کہتا ہے ساتھ اس کا ہو اور چاندنی راتیں
    آ عمر بتا دیں سبھی اس دریا کنارے

  • ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان

    ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان

    شاہد اعوان، بلاتامل

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں ٹانگوں سے معذور ایک شخص نے اعلان کر دیا کہ وہ ساری دنیا گھومے گا ۔ اس اعلان نے سب کو چونکا دیا اور لوگوں نے طرح طرح کے تبصرے شروع کر دئیے ۔ ایک صحافی نے اس سے سوال کیا کہ آپ تو ٹانگوں سے مفلوج ہیں یہ سب آپ کیسے کریں گے؟ جس پر اس نے جواب دیا ’’میں ذہن سے مفلوج نہیں ہوں!‘‘ دراصل کامیابی اور ناکامی کے سفر میں ہمارے دل ، دماغ اور ارادوں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے بہت سے جسمانی مفلوج دنیا میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر گزر گئے ۔ کامیابی کا سفر ارادوں سے شروع ہوتا ہے، ایک کامیاب شخص نے بہت خوبصورت فقرہ کہا تھا ’’میں کر سکتا ہوں میں کر کے دکھاؤں گا‘‘۔ بالکل یہی بات بظاہر کم گو اور متین طبع نوجوان سیاستدان تلہ گنگ کے عظیم سپوت حافظ عمار یاسر نے کہی اور بالآخر وہ اپنے قول و فعل اور پختہ ارادوں سے وہ کام کر گیا جو بظاہر ناممکن خیال کیا جا رہا تھا ۔ انسان کی شخصیت پر اس کے نام کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے ، موصوف کے والدین نے جب ایک جلیل القدرصحابی رسول کے نام پر اپنے بیٹے کا نام رکھا ہو گا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ہمارا یہ بیٹا بڑا ہو کر اپنے علاقہ کے لئے اتنا بڑا کام کر گزرے گا ۔ اس نوجوان نے اپنے نام کی لاج رکھی اور عام نوجوانوں کی طرح عیش و مستی میں مشغول رہنے کے بجائے بڑے بڑے کام کرنے کی ٹھانی اور پھر اسے سیاسی استاد بھی وہ میسر آئے کہ پہلی ہی بار اسمبلی میں پہنچنے پر اسے وزارت مل گئی ، وہ چاہتا تو وزارت کے مزے اڑاتا سرکاری وسائل کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال میں لاتا مگر اس نے روایتی سیاست کرنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے علاقے کو محرومیوں سے نجات دلانے کے لئے دوڑ دھوپ شروع کر دی جن کی مثال ماضی میں شاید ہی ملے۔ اس ’’سیاسی نووارد‘‘ نے اپنے حلقے میں سڑکوں کا جال بچھا یا، سوئی گیس پائپ لائنیں ہوں یا بجلی کے منصوبے ، ہر موقع پر یہ نوجوان بازی لے گیا ۔ 2018ء کے انتخابات میں چوہدری پرویز الٰہی نے تلہ گنگ کے باسیوں کو ایک بات ببانگ دہل کہی تھی کہ تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ ضرور دلاؤں گا۔ تلہ گنگ والوں سے ایسا ہی ایک وعدہ میاں نواز شریف نے بھی ایک جلسے میں کیا تھا لیکن وہ وعدہ بس وعدہ ہی رہا ۔ دراصل یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہوا کرتی ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ تلہ گنگ ضلع کی بات کی جائے تو اس تحریک کے پیچھے ایک لمبی داستان ہے جس پر لکھتے لکھتے بندہ فقیر کو دودہائیاں ہو چلی ہیں قومی اخبارات اور ماہنامہ اعوان کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ ’’بلاتامل‘‘ ضلع تلہ گنگ تحریک میں عملی اور قلمی جدوجہد میں کبھی پیچھے نہ رہا اور دل میں یہ عہد کر رکھا تھا کہ جب تک تلہ گنگ ضلع نہیں بن جاتا میں اٹک ہی میں رہوں گا اور صد شکر اللہ نے میری زندگی ہی میں یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ ابتدائی دور میں تلہ گنگ کو ضلع بنانے کی خواہش بڑے بڑے عظیم لوگوں کی تھی 1985ء میں ایئر مارشل نورخان نے اپنے بیچ فیلو جنرل جیلانی سے تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا وعدہ لے لیا تھا لیکن اس کی تکمیل سے پہلے ہی ضیاء الحق نے چکوال سے تعلق رکھنے والے اپنے سینئر جرنیل عبدالمجید ملک کو خوش کرنے کے لئے ضلع کا تحفہ دے دیا تھا ۔ خیر یہ تو ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ ہم بات کر رہے تھے ان شخصیات کی جو اپنی زندگیوں میں تلہ گنگ کو ضلع بنتے نہ دیکھ سکیں ان میں میرے محسن و مربی بابائے اعواناں الحاج ملک اللہ یار خان اعوان کا فقیر کے ساتھ عقیدت و احترام کا گہرا رشتہ تھا وہ اکثر ضلع کی بات کیا کرتے تھے آج یقینا ان کی روح کو سکون مل گیا ہو گا۔ اسی طرح درویش صفت بزرگ سیاسی شخصیت و سابق ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن کی ذاتی خواہش بھی رہی ہے کہ تلہ گنگ ان کے دور میں ضلع بن جائے مگر اللہ کی مشیت کے سامنے سب فیصلے ہیچ ہیں اور یہ سہرا تلہ گنگ کے نوجوان سپوت حافظ عمار یاسر ہی کے سر بندھنا تھا جس کی تکمیل چوہدری پرویز الٰہی کے ہاتھوں ہونا تھی ان کا یہ احسان علاقے کے لوگ ضرور یاد رکھیں گے جب وہ وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے اپنے آبائی علاقہ گجرات کو ڈویژن کا درجہ دیا تب فقیر نے لکھا تھا کہ اگر گجرات آپ کا پہلا گھر ہے تو تلہ گنگ دوسرا ، اب دوسرا گھر آپ کے ہاتھوں ضلع بننے کا منتظر ہے۔ خیر اس سفر میں ہمارے علاقے کا مان اور شان سالارِ صحافت جناب خوشنود علی خان نے ہر موقع پر خوب لکھا اور ٹھوک بجا کر لکھا۔ اسی طرح تلہ گنگ کے ہمارے سینئر صحافی دوست جن میں عبدالقیوم شیخ، ملک فاروق خان، ملک میاں محمد، چوہدری غلام ربانی، ملک محمد افضل اعوان کے علاوہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافیوں میں محسن قیوم، نذر محمد چوہدری، شمیض اعوان، ملک لیاقت اعوان، ملک شوکت اعوان، ملک حسن ناصر، ارشد کوٹگلا، برادرِ اکبر مزدور لیڈر ملک محمد حسین اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح تحریک صوبہ پوٹھوہار کے بانی چیئرمین ملک امریز حیدر اعوان جو ان دنوں انگلینڈ میں ہیں انہوں نے جہاں پوٹھوہار کو صوبہ بنانے کی تحریک کا بیڑا اٹھا رکھا ہے وہاں وہ ضلع تلہ گنگ کے لئے بھی پیش پیش رہے ہیں ، انہیں مبارک ہو کہ اب پوٹھوہار کے چار اضلاع کے بجائے چھ اضلاع بن چکے ہیں اور ہم سب اس مطالبے کو پہلے سے زیادہ زور دے کر دہرائیں گے کہ اب راولپنڈی کو صوبہ بنایا جائے تاکہ پوٹھوہار والے لاہور کے بجائے اپنے نزدیک ترین صوبائی ہیڈ کوارٹر میں ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ تھوہامحرم خان کے ملک صفدر علی اعوان ہوں یا شمیض اعوان ، ملک سجاد حیدر، ملک ممتاز حیدر سب نے ضلع بنائو تحریک میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ 1977ء میں جس شخصیت نے سب سے پہلے تلہ گنگ ضلع کی بات کی تھی وہ تلہ گنگ کے ممتاز و سینئر قانون دان محمد صدیق علوی تھے جنہوںنے یہ نعرہ مستانہ لگا یا تھا بعد میں مسلم لیگی راہنما و ممتاز قانون دان ملک محمد کبیر ایڈووکیٹ نے اس مشن کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ ممتاز ٹرانسپورٹر ملک حاکم خان، ڈاکٹر آفتاب حیات کی محنتوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دیارِ غیر میں رہنے والے تلہ گنگیوں میں نثار اعوان ددھیال، جی ایم اعوان اور دیگر احباب بھی اس مشن کی تکمیل میں کارواں کا حصہ رہے ۔ حافظ عمار یاسر کی معاونت کرنے والوں میں ملک رومان احمد اور سعد ملک کی کوششیں بھی قابل تحسین ہیں، حافظ صاحب کے بھائی عمر حبیب اور ان کے خاندان کا ہر فرد اس مشن میں برابر کا شریک رہا ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے والوں میں ملک محمد حسین دھولر نے نہ دن دیکھا نہ رات وہ اپنے علاقے کے ہر مسئلے کو اجاگر کرتے رہے ان کے ہر اول دستے میں جبی سے تعلق رکھنے والے نوجوان دلاور شاہ ، مزدور راہنما ملک شمیض اعوان اور ان کی پوری ٹیم نے اس تحریک میں جان ڈالے رکھی اور بالآخر حکمرانوں نے تلہ گنگ ضلع کا اصولی اعلان کر دیا ۔ تلہ گنگ ضلع تحریک میں ہر وہ شخص جس نے اس مشن میں ایک قدم اٹھایا وہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حال ہی میں یہاں تعینات ہونے والے ہنس مکھ اور محنتی اسسٹنٹ کمشنر عدنان انجم راجہ کا حصہ بھی اس تحریک میں یوں شامل ہو گیا کہ انہوں نے تلہ گنگ کو پنجاب کا مثالی اور خوبصورت شہر بنانے میں پیشرفت کا آغاز کرد یا ہے، میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ ان کا تقرری بطور تلہ گنگ کا پہلا ڈپٹی کمشنر عمل میں لائی جائے تو ان کا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ تلہ گنگ کو مثالی ضلع بنا دیں گے اور یہ کام حافظ عمار یاسر بخوبی کر سکتے ہیں اس کے علاوہ دیگر تقرریوں میں بھی عدنان راجہ جیسے قابل اور ایماندار افسران کو لگایا جائے۔ ہمارے علاقے کا مان سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض جیلانی نے تلہ گنگ ضلع بننے کی خوشی میں ایک تاریخی جملہ کہا کہ ضلع کی تعمیرو ترقی میں صرف سیاسی لوگوں نے نہیں بلکہ ہر تلہ گنگی نے اپنی اپنی جگہ کردار ادا کرنا ہے اور یہاں کے باسیوں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ جس مشن کو انہوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے یقینا وہ اس کے مستحق تھے اب انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس عظیم خطے کے لوگ مزید محنت کر کے اسے ایک مثالی ضلع بنائیں گے ورنہ ہمارا تمسخر اڑایا جائے گا ۔ تلہ گنگ کے سرمایہ کاروں کو بھی چاہئے کہ وہ یہاں سرمایہ کاری کر کے صنعتی اداروں کا قیام عمل میں لائیں اور اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کو مزید چارچاند لگانے میں اپنا بھرپور کردار کریں۔ وفاقی سیکرٹری سردار آصف ٹمن بھی ضلع تلہ گنگ کو فعال بنانے میں پہلے کی طرح اپنا کنٹری بیوشن ڈالتے رہیں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے ہمیں امید ہے کہ وہ اس ضلع میں فوری انڈسٹریل زون کا اعلان کریں جس کے لئے بہترین مقام تراپ اور ملتان خورد کا وسیع و عریض رقبہ موجود ہے جبکہ تاریخی قصبہ ٹمن کو تحصیل کا درجہ دے دیاجائے ۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul

ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان
  • وزیراعلیٰ صاحب! اور اب ضلع تلہ گنگ۔۔۔۔۔

    وزیراعلیٰ صاحب! اور اب ضلع تلہ گنگ۔۔۔۔۔

    شاہد اعوان، بلاتامل

    اللہ کے تقرب کا ثبوت مخلوق سے محبت میں پنہاں ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ سے محبت کرنے والا اللہ کی مخلوق سے محبت نہ کرے ۔ خالق نے اپنی ذات کو مخفی رکھا ہے اور صفات کو آشکار فرمایا ہے ۔ مقربینِ حق کی زندگیوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ہمیشہ انسانوں کی خدمت میں پیش پیش رہے ۔ مولا علی علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ اللہ کی ایک صفت ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اگر ہم دنیا میں دیکھیں کہ جس انسان نے مخلوق کی خدمت کی وہ ہر مقام پر معتبر ٹھہرا چاہے وہ سماجی شعبہ ہو یا سیاست کا میدانِ کارزار ، مخلوق کو اس کا جائز مقام دلانے والے کی شہرت کے چرچے دنیا میں ضرور عام ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا ۔
    ہمارا آج کا موضوعِ سخن وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ہیں جو اس سے قبل بھی مشرف دور میں اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہ چکے ہیں انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں پنجاب کے لوگوں کی بھلائی کے بہت سے منصوبے دئیے جن میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے1122جیسا ادارہ قائم کیا ، مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کا قیام ، شہروں میں وارڈن سسٹم جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں پولیس چوکیاں اور فورس بنائیں۔ 18سال گزر جانے کے باوجود بعد کی حکومتوں نے ان کے قائم کردہ نئے اداروں پر جان بوجھ کر زیادہ توجہ نہ دی اور سرکاری فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ان اداروں کی صلاحیتوں میں کمی آتی چلی گئی تاہم ان اداروں کی اہمیت و افادیت سے بہرطور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں دوبارہ اقتدار میں آئے ہوئے ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا اور وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال نہیں سکے کہ انہوں نے اپنے آبائی ضلع گجرات کو ڈویژن کا درجہ دے کر ثابت کر دیا کہ وہ اپنے علاقے سے کس قدر محبت رکھتے ہیں ان کا یہ اقدام لاکھوں انسانوں کے دل کی آواز تھا۔ ضلع منڈی بہائوالدین جو اس سے قبل گجرات کی ایک تحصیل تھی اس کو ضلع کا درجہ بھی انہوں نے دلایا تھا اسی طرح ضلع حافظ آباد اور گجرات پر مشتمل اس ڈویژن کی بہت سی قدریں یکساں ہیں ، اگر اس ڈویژن میں جہلم کو بھی ملا لیا جاتا تو ڈویژن کی قدر و قیمت مزید دوچند ہو جاتی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وسعت قلب کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی آبائی دھرتی کا قرض اتارکر اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے نئے دروا کرد ئیے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو تلہ گنگ سے بھی کئی بار انتخاب لڑنے کا موقع ملا ہے اور اس علاقے کے لوگوں نے انہیں کبھی مایوس بھی نہیں کیا، موجودہ قومی اسمبلی کی سیٹ بھی انہی کے گھرانے میں چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین کے پاس ہے ۔ 1985ء سے تلہ گنگ کے باسیوں کے ساتھ وعدہ خلافی ہوتی آرہی ہے کہ وعدہ تھا تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا مگر تان چکوال کو ضلع بنا کر ٹوٹی جس میں غیر فطری طور پر تلہ گنگ کو اٹک سے الگ کر کے چکوال میں شامل کر دیا گیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ترقیاتی کاموں میں تلہ گنگ کو ہمیشہ دوسرا درجہ دیا گیا۔ اعوان کاری کے اس تاریخی خطے کو الگ شناخت کی قدرتی طور پر بھی اشد ضرورت ہے یہاں کی زبان ، رہن سہن، کلچر، جغرافیائی حیثیت اس بات کے متقاضی ہیں کہ تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ پر مشتمل ایک نیا ضلع معرض وجود میں آئے جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور اس کے لئے کافی عرصہ سے مقدور بھر کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور اپنی جگہ تلہ گنگ کا ہر باسی ’تلہ گنگ ضلع بنائو تحریک‘ کے لئے اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے اور اس مشن میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس ضمن میں سرفہرست جرنیلِ صحافت خوشنود علی خان سے لے کر تلہ گنگ کے مقامی میڈیا نمائندگان میں ملک میاں محمد، محمد افضل اعوان، فاروق علی خان ، محسن قیوم ، چوہدری غلام ربانی اور نوجوان صحافی دوستوں کی ایک بڑی تعداد اس مطالبے کی بازگشت میں شامل رہی، فقیر بھی اپنی جنم بھومی کے عشق میں اپنے کالموں کے ذریعے اس قلمی جدوجہد کا حصہ بنا رہا۔اسی طرح سماجی شعبے میں ممتاز ٹرانسپورٹر ملک حاکم خان ، ڈاکٹر آفتاب حیات اور ان کے دوست احباب کے علاوہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ملک محمد حسین اور ان کی ٹیم گلے پھاڑ پھاڑ کر ’تلہ گنگ ضلع بنائو مہم‘ میں ہراول دستہ کا کردار ادا کرتے رہے ۔ ضلع کا وعدہ تو میاں نواز شریف نے 2013ء کے انتخابی جلسے میں تلہ گنگ کی سرزمین پر خود کیا تھا جس کے جواب میں تلہ گنگ والوں نے انہیں اس علاقہ سے بھاری مینڈیٹ دے کر اقتدار میں لایا مگر حکومت ملتے ہی میاں صاحب اور ان کی پارٹی کے مقامی لیڈران کو اپنا وعدہ وفا کرنا بھول گیا۔ چونکہ چوہدری پرویز الٰہی تلہ گنگ کو اپنا دوسرا گھر بھی کہتے ہیں اور اپنے اصلی گھر گجرات کوڈویژن کا درجہ دینے کے بعد اب دوسرے گھر تلہ گنگ کی باری ہے جس کے لئے انہیں تکنیکی موشگافیوں میں پڑنے کے بجائے جس طرح گجرات کو آناٌ فاناٌ ڈویژن بنا دیا اسی تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دینے میں دیر نہیں لگانی چاہئے۔ بابائے سیاست سردار ممتاز خان ٹمن ، سردار منصور حیات ٹمن ، بزرگ لیگی راہنما ملک سلیم اقبال، کرنل سلطان سرخرو اعوان، شہریار اعوان اور دیگر سیاسی شخصیات کو ذاتی سیاست سے بالاتر ہو کر صرف تلہ گنگ کی خاطر ایک ہونا ہو گا اور ہر ایک کو اس اجتماعی مقصد کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے سب سے بڑھ کر چوہدری صاحب کے دستِ راست سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کی حقیقی آواز بن کر وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے تلہ گنگ ضلع کا مطالبہ منوانے کی خاطر لاہور میں ڈیرے ڈال لیں اور اس وقت تک تلہ گنگ واپس نہ لوٹیں جب تک ضلع تلہ گنگ کا نوٹیفکیشن ان کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔ یقینا ان کا یہ ’’کارنامہ‘‘ ناصرف ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافے کا باعث ہو گا بلکہ مستقبل کی سیاست میں ان کے لئے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گا ۔ علاقے کی تعمیروترقی تب ہی ممکن ہے جب وہاں کے باسیوں کو اپنے نزدیک ترین انتظامی دفاتر میسر آجائیں۔ ٹمن تحصیل ہیڈکوارٹر کی تمام سہولتوں سے پہلے ہی مزین ہے یہاں صرف ٹی ایچ کیو ہسپتال اور ڈی ایس پی آفس کی سہولت دے کر اسے تحصیل بنانے میں کوئی امر مانع نہ ہے، جبکہ ضلع میں ایک اور مجوزہ تحصیل ہیڈکوارٹر تھوہا محرم خان بھی نئی دریافت ہو سکتا ہے۔ جب ضلع بن جائے اور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو خوشاب اور اٹک اضلاع کے ملحقہ موضع جات بھی ضلع تلہ گنگ میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ یقینا تلہ گنگیوں کے لئے ضلع کی یہ نوید کسی عید سے کم نہ ہوگی ۔ امید واثق ہے کہ تلہ گنگ میں نو تعینات اسسٹنٹ کمشنر اور ہمارے دیرینہ دوست عدنان انجم راجہ اپنی سابقہ شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے ضلع کے لئے درکار دیگر سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اگر وہ ترقی پا کر تلہ گنگ کے پہلے ڈپٹی کمشنر بھی بن جائیں تو ایک خوشگوار اضافہ ہو گا۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul
  • عارف یار سوہلوی گجراتی سے بات چیت

    عارف یار سوہلوی گجراتی سے بات چیت

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، گجرات

    عارف یار سوہلوی گجراتی

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ کا نام  سن پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں۔۔۔۔۔؟

    جواب : میرا نام محمد عارف والد صاحب کا نام محمد صادق اور والدہ صاحبہ کا نام فاطمہ بی بی ہے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ بڑا بھائی ظفر اقبال جو فوت ہو چکا ہے اور چھوٹا میں محمد عارف اور مجھ سے چھوٹا احسان اللّٰہ میرا سن پیدائش 1956ء ہے۔ ہمارے گاؤں کا نام سوہل کلاں اور تحصیل گجرات ہے۔ ہماری قوم جٹ اور ذات جٹ سوہل ہے ۔ میں نے پانچویں جماعت تک بھاگووال خورد میں تعلیم حاصل کی پھر جلالپور جٹاں ہائی اسکول نمبر 2 میں داخلہ لیا اور سال کے آخر میں اسکول چھوڑ دیا۔

    Conversation with Arif Yar Sohlavi Gujarati

     پھر جلالپور جٹاں میں کپڑا بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے لگا کیونکہ ہمارے گاؤں کے پچاس کے قریب لوگ یہی کام کرتے تھے۔ میرا بڑا بھائی ظفر اقبال بھی یہی کام کرتا تھا۔ میں نے جلالپور جٹاں میں اسی دوران مسجد محمدیہ میں قاری عرفان سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا اور اسی دوران میں نے محمد بوٹے گجراتی کے پنج گنج خریدے اور سید وارث شاہ کی ہیر اس وقت 20روپے میں خریدی جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ اسی دوران ایک آدمی سے محبت بھی ہوئی جو کئی برس تک چلتی رہی اور گھر سے بھی بھاگنے کی کوشش کی پھر میں نے قرآن مجید کا ترجمہ قاری سلیمان سے پڑھنا شروع کیا اور پھر کنجاہ قصبے میں چھ ماہ تک ٹیلی فون کے محکمہ میں رہا۔ پھر جلالپور جٹاں میں کچھ عرصہ کام کیا اور پھر ریلوے ورکشاپ میں بھرتی ہوا۔

    رائے ونڈ ریلوے ورکشاپ میں ایک سال تک کام کرتا رہا اور رائے ونڈ میں ہی سسی پنوں اور وفات نامہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مکمل کیا۔ اس وقت میں نوشاہی سلسلہ میں میاں ممتاز نوشاہی کا مرید ہوا۔ پھر دوبارہ جلالپور جٹاں میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی مولانا جمیل احمد پھلروی سے قرآن مجید کا ترجمہ اور بخاری شریف۔ موطا امام مالک، موطا امام محمد اور کئی دوسرے علوم حاصل کیے۔ اس کے علاوہ قاری فضل وحید سے صرف پڑھی، قاری نصر اللّٰہ، قاری اشرف، مولانا خادم، اختر فتح پوری

    سوال : آپ شاعری کے میدان میں کس طرح وارد ہوئے۔۔۔۔۔؟

    جواب : شاعری میرا بچپن کا شوق ہے کیونکہ ہمارے کجھ بزرگوں کو شعر پڑھنے سننے کا شوق تھا۔ ایک بزرگ میرے والد کے ماموں تھے جن کا نام سردار تھا وہ میاں محمد بوٹا گجراتی کے پاس جاتے رہتے تھے۔ان کو اور بھی کئی شاعروں کا کلام یاد تھا۔ ان کے کہنے پر محمد بوٹا گجراتی کے پنج گنج خریدے تھے اور کئی ہمارے بزرگوں کو شعر پڑھنے کا شوق تھا۔ میرے چچا بہاول بخش، کریم الہیٰ کاوانوالی سرکار کے پاس جاتے تھے۔ ایک اور بزرگ تھے جن کا نام داد تھا۔ وہ شعر سخن کے استاد تھے۔ ان محفلوں نے مجھے بھی اس طرف لگا دیا۔

    میں نے محمد بوٹے گجراتی کے پنج گنج اور مرزے صاحبہ اور وارث شاہ کی ہیر اور میاں محمد بخش کے سیف الملوک کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا اور میں بھی ان کی بحر میں شعر کہنے لگا اور آہستہ آہستہ بہت سا کلام جمع کر لیا۔ جو اب زمانے کی دست بردسے ضائع ہو چکا ہے۔

    سوال : آپ نے سرکاری ملازمت کیوں نہیں کی۔۔۔۔۔؟

    جواب : دل مضطر کی وجہ سے اور کچھ شاعری کے جنوں کی وجہ سے دل پابندی میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا اور خلوت مجھے بہت پسند تھی میں اکثر جنگلوں بیابانوں میں رات کو نکل جاتا اور اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور آسمان زمین کی مخلوق پر اور رات اور دن کے آنے جانے پر غور کرتا جب سمجھ میں کچھ نہ آتا تو رونے لگ جاتا کھانا اور سونا بہت کم کردیتا جس کی وجہ سے جسم لاغر اور کمزور ہو گیا اور والدہ میری حالت دیکھ کر رونے لگ گئی اور ملازمت چھڑا دی

    سوال : آپ نے محبت کے موضوع پر شاعری کی۔۔۔۔۔؟

    جواب : میں نے محبت کے موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ جو اب زیادہ تر کلام ضائع ہو چکا ہے۔ علامہ ابنِ خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ عشق اور نشہ شعر گوئی میں بڑی مدد دیتا ہے۔ میں نے عشق کے بارے میں بہت سے شاعروں کا اپنی کتابوں میں حوالہ بھی دیا ہے۔

    مثلاً حضرت سلطان باہو، شاہ حسین لاہوری، مولوی غلام رسول، وارث شاہ، میاں محمد بخش، فرد فقیر، فضل شاہ، محمد بوٹا، دائم اقبال، استاد گاموں، بزدالپشوری، میر تقی میر، ولی دکنی اور علامہ اقبال وغیرہ وغیرہ

    سوال : آپ کا ادبی سرمایہ۔۔۔۔۔؟

    جواب : میری پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

    نمبر 1

    درد اولے(مارچ 2010ء)

    نمبر 2

     دلاں دے سو دے (2013ء)

    نمبر 3

    سی حرفیاں(2013ء)

    نمبر 4

    راوی ریان (مئی 2016ء)

    نمبر 5

    غلام محمد دا فیض (2016ء)

    غیر مطبوعہ کتابیں منظر اشاعت ہیں۔ جن تعداد 17 قریب ہے۔

    سوال: آپ نے فروغِ ادب کے لیے کون سا منفرد کام کیا۔۔۔۔۔؟

    جواب : کوئی خاص کام تو نہیں کیا لیکن ایک یہ کیا ہے کہ راوی ریان کتاب میں تقریباً دو سو چالیس پنجابی گجراتی کے شاعروں کے نام اور پتے بتائے ہیں اور اس کتاب میں سانپ بچھو کے کاٹنے کے کچھ طبی علاج سر درد جاڑھ درد اور آدمی سے جن اتار نے کے کچھ وردوظائف بھی لکھے ہیں اور درد اولے کتاب میں سات لطیفوں پر کھل کر بات کی ہے۔

    پنجابی کے اکھان اور محاوروں کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ جو بہت کم شاعروں نے یہ کام کیا ہے۔

    سوال : آپ صرف مادری زبان پنجابی میں نظمیں کہتے ہیں۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے۔۔۔۔۔؟

    جواب : کیونکہ میں زیادہ پڑھا لکھا ہوا نہیں ہوں۔ اس لئے میں زیادہ تر میں پنجابی میں نظمیں لکھتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پنجابی کلام کو پڑھے ان پڑھے بھی سمجھ لیتے ہیں۔

     کسی کتاب میں کسی شاعر کا قول میں نے پڑھا ہے کہ اس سے سوال ہوا کہ پنجابی شاعری اچھی ہے یا کہ اردو اس نے جواب دیا کہ پنجابی شاعر بہت جلدی لوگوں میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اس لئے پنجابی شاعری اچھی ہے

    Conversation with Arif Yar Sohlavi Gujarati 1

    سوال : مشاعرے کے بارے میں آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

    جواب : مشاعرے میں اگر پارٹی بازی نہ ہو تو مشاعرے خوب است۔

    میں نے اکثر مشاعروں میں دیکھا ہے ۔ کام کی بنیاد پر ایوارڈ نہیں دیئے جاتے بلکہ پارٹی اور دوستی کی بنیاد پر یا اثرورسوخ پر ایوارڈ ملتے ہیں۔ اس لئے میں بہت کم مشاعروں میں جاتا ہوں۔ اگر مشاعروں میں انصاف ہو تو یہ کام بہت عمدہ ہے۔

    سوال : آپ گجرات میں ادبی کام کیسا پاتے ہیں۔۔۔۔۔؟

    جواب : ضلع گجرات میں بڑے بڑے ادیب شاعر دانشور قابل لوگ رہتے ہیں۔ جو ادب کے فروغ میں دن رات کوشش کر رہے ہیں۔ ضلع گجرات ان چند ضلعوں میں سے ہے جو ہمیشہ ادب میں نمایاں رہا۔

    سوال : جدید ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

    جواب : میں اس بارے میں کیا رائے دے سکتا ہوں۔ آج کل لوگوں نے شاعری کو کھیل تماشہ بنا دیا ہے۔ آپ کے اس سوال کے جواب میں میاں محمد بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دو شعر سناتا ہوں۔ آپ کی تسلی ہو جائے گی

    ویکھو ویکھی بیت بناون شعروں خبر نہ پاون

    ایس طرح تے صفتاں سٹھاں بہتے ڈوم بناون

    سخن بھلا جو دردوں بھریا بن دردوں کجھ نائیں

    نڑاں کماداں فرق رہو دا کیا کانے کیا کاہیں

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر